Ayah 9:80160 پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان کے لیے (اے پیغمبر) بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں ان کے لیے ایک برابر ہے کہ اللہ نے ان کی بخشش ہرگز نہیں کرنی۔ سو { اِستَغْفِرْ } کا صیغہ یہاں پر امر کے لئے نہیں خبر کے معنیٰ میں ہے۔ (صفوۃ البیان) ۔ یعنی ان بدبختوں کا کفر و نفاق اتنا سخت اور اس قدر سنگین ہوچکا ہے کہ آپ ﷺ کا استغفار بھی اے پیغمبر ان کے لئے مفید نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا جیسا کہ اہل بدعت وغیرہ کا کہنا ہے کیونکہ جو مختار کل ہوتا ہے وہ استغفار نہیں کیا کرتا کہ استغفار اور اختیار کلی کے درمیان منافات ہے۔ اور پھر اس کے بعد مزید یہ کہ اس کی بھی تصریح فرما دی گئی کہ آپ ان کیلئے بخشش کی دعا مانگیں یا نہ مانگیں ان کی بخشش بہرحال نہیں ہوسکتی کہ کفر و نفاق نے انکو بری طرح جکڑ لیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ان اشقیاء کے لیے استغفار سے روک دیا اور اس شدت اور قطعیت کے ساتھ کہ اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے تب بھی اللہ ان کی بخشش نہیں فرمائے گا۔ اور ستر کا عدد جیسا کہ محاورے کی زبان میں بولا جاتا ہے یہاں پر تحدید اور عدد کے لیے نہیں بلکہ تکثیر کے لیے ہے جیسا کہ عربی زبان میں معروف تھا اور ہے ۔ اور خود ہماری زبان و محاورہ میں بھی پایا جاتا ہے۔ اور ہر زندہ زبان میں پایا جاتا ہے۔ یعنی جتنا بھی استغفار کرو گے ان کی بخشش نہیں کریں گے۔ سو معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہے کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے اور مختار کل وہی ہے اور اس کی کسی بھی صفت میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
161 اختیار کلی وغیرہ کے بدعی عقائد کی تردید و تغلیط : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی استغفار کریں کے تو بھی اللہ نے ان کو ہرگز نہیں بخشنا اور ستر کا کلمہ جیسا کہ ابھی اوپر بھی گزرا یہاں پر تعداد اور تحدید کے لئے نہیں بلکہ تکثیر کے لئے ہے۔ اور سات، ستر اور سو وغیرہ کے بعض اعداد کا تکثیر کے لئے استعمال ہونا کلام عرب میں شائع و ذائع ہے۔ اور خود ہمارے معاشرے اور محاورے میں بھی ایسا پایا جاتا ہے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ اے پیغمبر ! ان کے لئے جتنا بھی استغفار کریں وہ قبول ہونے والا نہیں اور ان لوگوں کی بخشش نہیں ہونے کی۔ (جامع البیان، محاسن التاویل اور کشاف وغیرہ) کہ ان کا کفر بہت سخت اور سنگین حد تک پہنچ چکا ہے۔ اور ان لوگوں نے اپنے سوء اختیار اور خبث باطن کی بناء پر اپنی صلاحیتوں کو ضائع کردیا ہے۔ روایات میں وارد ہے کہ جب { سَخِرَ اللّٰہُ مِنْھُمْ } کا پچھلی آیت کریمہ والا ارشاد نازل ہوا تو ان منافقین نے آنحضرت ﷺ سے اپنے لئے استغفار کی درخواست کی جس کو آپ ﷺ نے اپنی رحمت و شفقت کی بناء پر قبول فرما لیا۔ مگر جونہی آپ ﷺ نے یہ ارادہ فرمایا کہ ان کے لئے استغفار کریں تو اس آیت کریمہ کے نزول سے آپ ﷺ کو اس سے منع فرما دیا گیا۔ (روح، الکبیر، المنار وغیرہ) ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ نہ مختار کل ہوتے ہیں نہ عالم غیب، جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور جب حضرت امام الانبیائ۔ علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام ۔ کی بھی یہ شان نہیں تو پھر اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ سو اس سے اہل بدعت کے اس طرح کے تمام خود ساختہ اور شرکیہ عقائد کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ والحمد للہ ۔ بہرکیف ان کے لیے بخشش کی دعاء سے منع فرما دیا گیا اور { ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَفَرُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہ } سے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی گئی کہ " انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا " اور بخشش ان کے لیے ہوتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور صدق دل سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اور جبکہ یہ اس سے محروم ہیں تو پھر ان کی بخشش ہو تو کس طرح ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ وضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
162 فاسقوں کو ہدایت کی دولت نہیں مل سکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہدایت کی دولت سے نہیں نوازتا ایسے بدکاروں کو کہ ایسے لوگ ہدایت چاہتے ہی نہیں۔ اور ہدایت کی دولت جو کہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والی سب سے بڑی دولت ہے اور جو اس واہب مطلق کی عطا فرمودہ نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ہے وہ ملتی اگرچہ مفت اور بالکل مفت ہے لیکن اس کے لئے اولین شرط اور اصل اساس طلب صادق ہے جس سے یہ لوگ محروم ہیں۔ اور ایسے محروم کہ اس محرومی کا ان کو احساس بھی نہیں۔ جس کا ایک مظہر اور شاخسانہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے رسول کی معیت میں سفر جہاد کے لئے نکلنے کی عظیم الشان سعادت سے محرومی پر بھی بجائے رنج و افسوس کرنے کے الٹا خوش ہوتے اور بغلیں بجاتے ہیں۔ اور بجائے اس کے کہ یہ اپنے کئے پر نادم ہوں اور توبہ و استغفار کے ذریعے صدق دل سے اپنے خالق ومالک کی طرف رجوع ہوں یہ الٹا اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں۔ تو ایسوں کو نور ہدایت کی دولت سے سرفرازی کس طرح نصیب ہوسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کے بناؤ بگاڑ، صحت و فساد اور اس کی صلاح و اصلاح کا اصل اور بنیادی تعلق جیسا کہ پہلے بھی اس بارے گزر چکا ہے اس کے اپنے قلب و باطن سے ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 9:81163 بدنیتی اور سوء اختیار کا نتیجہ محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ خوش ہو رہے ہیں وہ لوگ جن کو پیچھے چھوڑ دیا گیا یعنی یہاں پر { مُتَخِلّف } نہیں { مُخَلّف } فرمایا گیا ہے۔ اور ان دونوں کے معنوں میں بڑا فرق ہے کہ " متخلف " تو وہ ہوتا ہے جو اپنے طور پر اور اپنے ارادہ و اختیار سے خود پیچھے رہ جائے اور " مخلف " وہ ہوتا ہے جس کو ناکارہ اور نااہل قرار دے کر پیچھے چھوڑ دیا جائے۔ یعنی ان منافقوں کو قدرت کی طرف سے پیچھے چھوڑدیا گیا اور یہ لوگ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے پیغمبر کی معیت میں نکلنے کے شرف اور اس کی توفیق سے محروم کر دئے گئے کہ ان کی نیتیں صحیح نہیں تھیں۔ جس کے باعث یہ اس قابل ہی نہ رہے کہ ایسے مبارک اور باعث سعادت سفر میں شریک ہو سکیں جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے { وَلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَھُمْ فَثَبَّطَھُمْ وَقِیْل اقعدُوْا مَعَ الْقَاعِدِیْنَ } (التوبۃ : 46) ۔ سو عام طور پر اردو تراجم میں جو اس لفظ کا ترجمہ " پیچھے رہ جانے والے " کے الفاظ سے کیا جاتا ہے وہ اس کا پورا ترجمہ نہیں لگتا کہ اس سے اس کلمے کے معنیٰ کی پوری طرح عکاسی نہیں ہوتی۔ سو بدنیتی اور سوئِ اختیار کا نتیجہ محرومی ہی ہوتا ہے۔ قدرت کا قانون و دستور یہی ہے کہ جو لوگ اپنی نیت و ارادہ کو درست نہیں کرتے اور اپنے قلب و باطن کی اصلاح نہیں کرتے ان کو قدرت کی توفیق و عنایت سے محروم کردیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں یہ ہر خیر سے محروم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اور ایسے لوگ مخلف (Rejected) ہو کر رہ جاتے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ فکر وعمل کی ہر کجی سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
164 خبث باطن کا نتیجہ خسارے پر خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو گوارا نہ ہوئی یہ بات کہ یہ جہاد کریں اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔ اور اس طرح یہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور ہوں اور وہ بھی حضرت امام الانبیائ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ کی رفاقت و سربراہی میں۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنے سوئِ اختیار کی بناء پر خسارے پر خسارے میں مبتلا ہوئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ خبث باطن اور سوئِ اختیار کے ہر شائبہ سے ہمیشہ اور ہر حال میں محفوظ رکھے ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان لوگوں کی محرومی اور مت ماری کا ایک اور نمونہ سامنے آگیا کہ یہ لوگ رسول سے اس سفر جہاد میں پیچھے رہ جانے پر افسوس کرنے کے بجائے الٹا خوش ہوتے ہیں اور اپنے جھوٹے حیلوں بہانوں کی بنا پر سفر جہاد سے پیچھے رہ جانے پر افسوس کرنے کی بجائے الٹا یہ اس کو اپنی ہوشیاری سمجھتے اور چالاکی قرار دیتے ہیں۔ سو جو بات خوش ہونے کی تھی وہ تو ان کو ناگوار و ناپسند ہوئی اور جو چیز ماتم کرنے کی تھی اس پر یہ خوش ہوئے اور پھولے نہیں سماتے۔ سو یہ سب کچھ ان لوگوں کے " مخلف " ہونے کے آثار بد اور ثمار خبیثہ میں سے ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
165 دوزخ کی آگ بڑی ہی سخت ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ دوزخ کی آگ دنیا کی اس گرمی سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ اور اس کو تم لوگوں نے خود اختیار کرلیا ہے اپنے کفر و نفاق اور اپنی اس معصیت اور نافرمانی کی بناء پر۔ تو تمہاری عقل و سمجھ کو کیا ہوگیا کہ تم اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے ؟ اور دنیا کی اس معمولی گرمی سے ڈرنے اور بچنے کی فکر تو تم کرتے ہو مگر دوزخ کی اس سخت ہولناک اور دائمی آگ سے بچنے کا تمہیں کوئی خیال تک نہیں ؟ بلکہ تم لوگ کفر و شرک کو اپنا کر دوزخ کی اس ہولناک آگ کی طرف ہی بڑھے چلے جارہے ہو اور اپنے اس ہولناک انجام کی تمہیں پرواہ تک نہیں اور خود اس سے بچنے کی بجائے الٹا دوسروں کو بھی اسی میں جھونکنے کی کوشش کرتے ہو۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محروم انسان ایسا ہی اندھا اور اوندھا بن کر رہ جاتا ہے اور اس حد تک کہ اس کو اپنے نفع و نقصان کا بھی شعور نہیں رہتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:82166 تھوڑا ہنس لو، تمہارا انجام بہرحال بہت برا ہے : یعنی دنیا کی اس چند روزہ زندگی میں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ من زَیْغٍ وَّاِنْحِرَافٍ ۔ کہ دنیا کی یہ زندگی، خواہ کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، آخرت کے مقابلے میں تھوڑی، بہت تھوڑی، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ سو اس کی خوشی کیا خوشی ہے اور اس کا ہنسنا کیا حیثیت رکھتا ہے ؟ سو اس میں تم ہنس لو اور عیش کرلو۔ تمہارا انجام بہرحال بہت برا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب یہ لوگ دنیا کی اس گرمی اور دھوپ کی شدت سے بھاگ کر دوزخ کی آگ میں کو دنے کے لیے تیار ہوگئے تو اپنی اس کرتوت کی پاداش میں ان کے لیے حق اور مناسب یہ ہے کہ یہ لوگ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ کہ ان کا انجام بڑا ہی سخت اور نہایت ہی ہولناک ہے۔ لیکن ان لوگوں کی مت ایسی مار دی گئی اور یہ حق و حقیقت کے فہم و ادراک سے اس قدر عاری اور محروم ہوگئے کہ یہ اپنی اس بدبختی پر رونے کی بجائے الٹا خوش ہوتے ہیں۔ سو ان کے عمل اور اس کی جزا دونوں کو ان کے سامنے رکھ دیا گیا تاکہ اس کی روشنی میں یہ اپنا نتیجہ و انجام خود دیکھ لیں۔
167 چند روزہ ہنسی پھر ہمیشہ کا رونا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان کو رونا پڑے گا بہت زیادہ۔ جبکہ ان کو ڈالا جائے گا دوزخ کی آگ میں ابدالآباد تک اور ہمیشہ ہمیش کے لئے۔ (جامع البیان) کہ تم لوگوں نے اپنے کفر و نفاق کی بناء پر اپنی محرومی کی جس راہ کو خود اپنایا ہے اس کا نتیجہ یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو سوچو اور غور کرو کہ دنیاوی زندگی کی اس چند روزہ مہلت کی عیش کوشی کو ہی اپنا نصب العین اور مقصد حیات بنا کر اور آخرت کی اپنی دائمی زندگی کو بھول کر اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر تم لوگ کس قدر ہولناک خسارے کا سامان کررہے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ان کے عمل اور اس کی جزاء دونوں کو نگاہوں کے سامنے مستحضر کردیا گیا تاکہ جس کے اندر بصیرت ہو وہ اپنے عمل کے آئینے میں اپنے انجام اور اپنی جزا کو خود دیکھ لے اور اپنی روش کی اصلاح کرلے قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود و مختصر اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کو ہمیشہ ہمیش کے لیے پچھتانا پڑے۔ اور جو اندھے اور بہرے ہی بنے رہیں گے وہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے اپنی کمائی کے نتیجے میں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 9:83–84168 بدنیتی اور دوں ہمتی کے باعث محرومی کا ٹھپہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ چونکہ تم لوگوں نے پیچھے بیٹھ رہنے کو پسند کیا پہلی مرتبہ۔ سو اب تم لوگ پیچھے رہو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ یعنی بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور عورتوں کے ساتھ کہ تمہاری بدنیتی، بےہمتی، کور باطنی اور سوئِ اختیار کا صلہ وثمرہ یہی ہے۔ سو انسان کی بدنیتی اور اس کی دوں ہمتی اس کو اس حد تک پہنچا دیتی ہے کہ اس پر محرومی اور حرماں نصیبی کا ٹھپہ لگ جاتا ہے اور وہ ہمیشہ کیلئے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ آپ کو واپس لوٹا کر ان میں سے کسی گروہ کے پاس پہنچادے اور یہ لوگ آئندہ کبھی آپ سے کسی جہاد میں شرکت کی اجازت مانگیں تو آپ ان کو اس کی اجازت نہ دینا اور ان سے کہنا کہ تم لوگ چونکہ پہلی مرتبہ پیچھے بیٹھ رہنے پر راضی ہوگئے اس لیے اب آئندہ تم انہی پیچھے بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ اب تم میرے ساتھ کبھی بھی نہیں نکل سکتے۔ سو یہی ہوتا ہے نتیجہ بدنیتی اور سوئِ اختیار کا یعنی ہمیشہ کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ بدنیتی اور سوئِ اختیار کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayahs 9:85–87170 کافروں اور منکروں کا مال و متاع انکے لیے باعث عذاب و وبال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم منکرین کے اموال و اولاد سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا کہ اللہ چاہتا ہے کہ ان لوگوں کو انہی چیزوں کے ذریعے عذاب میں ڈالے۔ دنیا میں اور اس کے نتیجے میں ان کی جانیں بھی نکلیں تو کفر ہی کی حالت میں۔ یہ دراصل بیان ہے اللہ پاک کی ان سنن کونیہ میں سے ایک سنت عظیم کا جو کہ اس کارخانہ ہست و بود میں کارفرما ہیں کہ جب انسان اس وحدہ لا شریک کی طرف سے منہ موڑ کر اسی دنیائے دوں کے متاع فانی اور حطام زائل کے جوڑنے اور جمع کرنے میں لگ جاتا ہے اور اپنے خالق ومالک کو بھول جاتا ہے تو اس کا انجام یہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ وہ نور ہدایت سے محروم ہو کر راہ حق و صواب سے بھٹک جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت بھی کفر ہی کی حالت میں ہوتی ہے اور اس طرح وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے محروم ہو کر ہمیشہ کے عذاب میں جا پڑتا ہے اور وہ ۔ { خَسِرَ الدُّنْیَا وَاْلآخِرَۃَ } ۔ کا مصداق بن جاتا ہے ۔ وَذالِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ۔ یعنی یہی ہے کھلا اور سب سے بڑا اور ہولناک خسارہ۔ سو کفر و انکار کے ساتھ دنیاوی مال و دولت کا ملنا کوئی انعام اور خیر نہیں بلکہ یہ کفار و منکرین کیلئے باعث وبال و عذاب ہے، جیسا کہ دوسری مختلف نصوص میں اس حقیقیت کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ پس اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے جسکے بعد دنیا ملے تو بھی خیر اور نہ ملے تو بھی خیر۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِنِعْمَۃِ الِایْمَانِ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیْہِ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 9:88172 فلاح پانے والے خوش نصیبوں کی نشان دہی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ صدق دل سے ایمان لائے اور انہوں نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد بھی کیا تو ایسے ہی خوش نصیب ہیں جن کے لیے سب بھلائیاں ہیں اور یہی ہیں فلاح پانے والے کہ ایسوں کو دنیا میں فتح و نصرت کی خوشی و مسرت، اِعلاء ِکلمتہ اللہ اور غلبہ دین حق کا شرف و اعزاز اور مال غنیمت اور آخرت میں دائمی اور ابدی نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے۔ سو صدق ایمان اخلاص عمل اور جہاد فی سبیل اللہ وہ بنیادی اوصاف ہیں جو انسان کو خیرات و حسنات کا اہل بناتے اور اس کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار ومالا مال کرتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے سچے پکے اہل ایمان کا کردار اور ان کا انجام بیان فرمایا گیا ہے کہ ایسے لوگ پیچھے رہنے کے لیے اجازت نہیں مانگتے بلکہ اپنے جان و مال کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کرنے کے لیے بصد شوق ورغبت حاضر ہوتے ہیں۔ سو ایسے ہی لوگوں کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائیاں بھی ہیں اور یہی خوش نصیب فوز و فلاح اور حقیقی کامیابی سے سرفراز و سرشار ہونے والے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 9:89173 حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی جنت سے سرفرازی : سو اس سے اصل، حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی کی نشاندہی فرما دی گئی۔ یعنی جنت اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی کی کا میابی جو کہ اصل حقیقی، کامل اور ابدی کامیابی ہے۔ جس کے مقابلے میں دنیا کی ہر کامیابی ہیچ اور نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ اور یہ کامیابی انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے اور ہوگی جو مذکورہ بالا اوصاف سے بہرہ مند اور مالا مال ہوتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس اصل اور حقیقی کامیابی اور فوز و فلاح سے سرفراز اور بہرہ مند ہونے کے لیے فلاں ابن فلاں کی کوئی حیثیت اور حقیقت نہیں بلکہ اصل چیز اپنا ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار ہے۔ سو ایسے خوش نصیبوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی شان کرم و عنایت سے ایسی عظیم الشان جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہ رہی ہونگی جہاں ان خوش نصیبوں کو ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا نصیب ہوگا۔ سو یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنی فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 9:90174 دیہاتی منافقوں اور انکے کردار وانجام کا ذکر : " معذّر " اس کو کہتے ہیں جو خواہ مخواہ کے بہانے بنائے۔ اسی لئے ہم نے اس کا ترجمہ " بہانہ باز " سے کیا ہے ۔ والحمدللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ دیہاتی بہانے باز، جھوٹے حیلے بہانے لیکر پہنچ گئے تاکہ ان کو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھ رہنے کی اجازت دی جائے۔ سو یہاں سے " اَعرابی " یعنی دیہاتی منافقوں کا ذکر شروع ہو رہا ہے جبکہ اس سے پہلے اہل مدینہ کے منافقوں کا ذکر تھا۔ (روح اور صفوۃ وغیرہ) ۔ " اعراب " " اعرابی " کی جمع ہے اور یہ لفظ دیہاتی اور بدوی عربوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ سو اطراف مدینہ اور صحرائی بادیہ نشینوں میں سے جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے ان کی اکثریت ایسی تھی جو دین کی حدود وقیود کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ وہ بالکل جاہل، بیخبر ، اجڈ اور گنوار قسم کے لوگ تھے۔ اور یہی وہ لوگ تھے جو بعد میں اس فتنہ ارتداد کی آگ کے ایندھن بنے جس کو بجھانے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق ۔ ؓ ـ ۔ کو سر دھڑ کی بازی لگا دینا پڑی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے بہانہ باز دیہاتی آپہنچے تاکہ ان کو گھروں میں بیٹھے رہنے کی اجازت دی جائے۔ اور اسی طرح گھروں میں بیٹھے رہے وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ بولا تھا اللہ اور اس کے رسول سے۔ سو عنقریب ہی پہنچ کر رہے گا ایک بڑا ہی دردناک عذاب ان لوگوں کو جو اڑے رہے تھے اپنے کفر وباطل پر ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر قسم کے زیغ وضلال سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 9:91175 صدق نیت کی عظمت شان کا ایک مظہر و نمونہ : ۔ سو اس سے صدق نیت کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ محض صدق نیت کی بناء پر جہاد میں شریک نہ ہونے کے باوجود ایسے مخلص اور خوش نصیب لوگوں کو جہاد کے اجر وثواب میں حصہ دار قرار دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ صاحب عذر ہونے کے ساتھ ساتھ دل کی نیت اور ارادہ کا درست ہونا بھی ضروری ہے۔ یعنی وہ عذر کی بناء پر خوش نہ ہوتا ہو کہ اچھا ہوا مجھے بہانہ مل گیا اور جان چھوٹ گئی۔ پس اسے دل میں اس بات کا افسوس ہو کہ میں شرکت جہاد کے شرف سے محروم رہ گیا ہوں اور اس ارادہ و نیت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کہ دلوں کا مالک تو وہی ہے۔ پس اس سے معاملہ بہرحال درست رکھنا چاہئے ۔ نَسْأَلُکَ اللّٰہُمَّ التَّوْفِیْقَ لِذَالِکَ وَالسَّدَاد والثَّبَاتَ عَلَیْہِ ۔ سو اس طرح یہ لوگ اپنے اعذار کی بناء پر جہاد میں شریک نہ ہوسکنے کے باوجود جہاد کے اجر وثواب میں شریک ہوں گے، جیسا کہ آثار و روایات میں مختلف طور پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ سو یہ صدق نیت کی عظمت شان کا ایک اہم پہلو ہے کہ اس کے نتیجے میں آدمی عمل میں شریک نہونے کے باوجود اس کے اجر وثواب میں حصہ دار بن جاتا ہے۔ بلکہ صحیح حدیث میں تو اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ " مومن کی نیت اس کے عمل سے بھی بہتر ہے۔ " " نِیَّۃُ الْمُوْمِنِ خَیْرٌ مِنْ عَمَلِہ " ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَعَلٰی مَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
Ayah 9:92176 صدق ایمان کی ایک نشانی، نیکی سے محرومی پر رو پڑنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے سچے اور مخلص لوگ جہاد کے لیے سواری نہ ملنے کے نتیجے میں غم اور افسوس کے باعث روتے ہوئے واپس لوٹتے ہیں۔ اور ایسے کہ گویا ان کی آنکھیں حوض ہیں جو کناروں سے بہ پڑے ہیں۔ اس لئے کہ یہاں پر " تَدْمَعُ " نہیں بلکہ { تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ } فرمایا گیا گیا ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایسے حضرات کا لقب ہی " بَکَّائِیْنَ " " بہت زیادہ رونے والے " پڑگیا تھا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور یہی حال ہوتا ہے سچے ایمان والوں کا کہ نیکی اور بھلائی سے محرومی پر وہ روتے اور افسوس کرتے ہیں جبکہ نفاق کے روگی اس کے برعکس اس کو اپنی چالاکی سمجھتے اور اس پر خوش ہوتے ہیں، جیسا کہ ابھی کچھ ہی اوپر گزرا ـ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو شرکت جہاد سے محرومی پر رونا انکے صدق ایمان کی نشانی ہے کہ مومن صادق نیکی کا حریص ہوتا ہے۔ اس لیے نیکی سے محروم ہونے پر رو پڑنا ایک طبعی امر ہے۔ اور یہ رونا ایسے لوگوں کے صدق و اخلاص کی نشانی ہے۔
Ayah 9:93177 منافقوں کے دلوں پر مہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے مہر لگا دی ان کے دلوں پر انکے خبث باطن کی بنا پر۔ سو اس ختم اور مہر کے ذمہ دار یہ لوگ خود ہیں۔ ورنہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے یہاں سے محرومی کسی کے لئے بھی نہیں۔ بلکہ بخشش ہی بخشش اور عطاء ہی عطاء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ کوئی اپنے دل کے دروازے خود ہی بند کر دے۔ اور اس طرح وہ اپنے آپ کو نور حق و ہدایت سے محروم کرنے کا سامان خود ہی کرے کہ " خود کردہ را علاجے نیست " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگ جب اپنی غلط روی سے باز نہیں آتے تو قانون قدرت کے مطابق انکے دلوں پر اسی طرح مہر کردی جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فکر وعمل کی ہر کجی اور ہر قسم کے زیغ و انحراف سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ کے سائے میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 9:94178 قرآن حکیم کا ایک معجزہ اور پیغمبر کی حقانیت کا ثبوت : کہ پیغمبر سے فرمایا گیا کہ جب آپ جہاد کے اس سفر سے واپس لوٹیں تو واپسی کے اس موقع پر ان بہانے بازوں سے کہنا کہ ہم تمہارے ان حیلوں حوالوں پر اعتبار کرنے والے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے بارے میں وحی کے ذریعے خبر دے دی ہے۔ پھر ہم تمہاری ان باتوں کا اعتبار کس طرح کرسکتے ہیں۔ یہ سب خبریں مستقبل کے بارے میں ہیں۔ اور جیسے قرآن نے پیشگی خبر دی تھی ویسے ہی واقع ہوئیں جو کہ قرآن پاک کا ایک اور کھلا ہوا معجزہ ہے ۔ والحمد للہ ۔ سو یہ پیغمبر کی حقانیت و صداقت کا ایک اور ثبوت اور مظہر ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے بارے میں بذات خود بتادیا ہے اور تمہارے حالات سے خبردار کردیا ہے۔ اس لیے ہم تمہارے ان لا طائل عذرات کو باور کرنے والے نہیں ہیں۔ لہذا تم لوگ ہمارے سامنے خواہ مخواہ ایسی بیکار باتیں کرنے اور حیلے حوالے پیش کرنے کی کوشش نہ کرو کہ ایسی باتوں کا اب کوئی فائدہ نہیں۔ تمہارے بارے میں ہمیں سب کچھ وحی کے ذریعے بتادیا گیا ہے۔
179 دعویٰ کا ثبوت عمل و کردار سے، نہ کہ محض زبانی جمع خرچ سے : یعنی آنے والے حالات و واقعات کے ذریعے تمہارے ان حیلوں اور بہانوں کی حقیقت خودبخود کھل جائے گی۔ واضح رہے کہ یہ قصہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کا ہے جیسا کہ اوپر { اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْہِمْ } کی تصریح موجود ہے۔ نہ تو اس کا تعلق انتقال کے بعد والے مرحلے سے ہے اور نہ اس میں ایسا عموم ہے کہ یہ سب امور کو شامل ہو۔ پس اہل بدعت کا اس سے اپنے مذموم مقاصد اور شرکیہ عقائد کے لئے استدلال کرنا باطل و مردود ہے۔ عالم غیب ہونا بہرحال اللہ پاک ہی کی صفت اور اسی کی شان ہے۔ جیسا کہ اسی کے متصل بعد ارشاد فرمایا گیا ہے { ثُمَّ تُرَدُّوْنَ الیٰ عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ } بہرکیف دعویٰ کی تصدیق عمل و کردار ہی سے ہوسکتی ہے نہ کہ محض زبانی جمع خرچ سے۔ اس لیے زبانی کلامی دعوے کرنے کی بجائے تم لوگ اپنے عمل اور اپنے مستقبل کی اصلاح کی فکر و کوشش کرو اور خواہ مخواہ کے عذرات، خود ساختہ بہانوں اور جھوٹی قسموں کو ڈھال بنانے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اس کی بجائے تم لوگ اپنے عمل و کردار سے اپنی راست بازی اور وفاداری کا ثبوت دو ۔ اللہ بھی تمہارے عمل کو دیکھ لیں گے اور اس کے رسول بھی۔ اور اس حقیقت کو بھی اپنے سامنے رکھو کہ ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جس میں تمہاری پیشی اس ذات اقدس و اعلیٰ کے حضور ہوگی جو حاضر و غائب اور ظاہر و باطن سب کو ایک برابر جاننے والی ذات اقدس و اعلیٰ ہے۔ اس وقت تمہارا کیا دھرا سب سامنے رکھ دیا جائے گا اور جس کے عمل کے اندر جتنا صدق و اخلاص یا جتنا کھوٹ ہوگا وہ سب سامنے آجائے گا۔ سو اس کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھو ۔ وباللہ التوفیق وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 9:95180 منافق لوگ نرے پلید ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ۔ { انہم رجس وماواہم جہنم } ۔ کہ یہ نرے پلید ہیں اور ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ سو منافق لوگ حسّی، معنوی اور حکمی ہر طرح کی نجاست سے یہ لوگ آلودہ ہیں۔ اس لئے یہ منہ لگانے کے قابل نہیں۔ اور جب ٹھکانا ان سب کا دوزخ ہے تو پھر تمہیں ان سے الجھنے اور جھگڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ کہ اس آتش سوزاں کا دائمی عذاب ہی ان کے لئے کافی و وافی ہے۔ پس ان سے منہ موڑ لو اور ان کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ یہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے اور اپنے کیے کرائے کا بھگتان انہوں نے بہرحال بھگتنا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تمہاری واپسی پر یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر تمہیں راضی کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرلو کہ جو کچھ ہوگیا وہ ہوگیا۔ اب اس کو نظر انداز کرلو۔ سو اس موقعہ پر تم ان سے صرف نظر اور درگزر ہی کرلینا کہ یہ لوگ نجس اور پلید ہیں۔ اور نجاست سے اعراض اور صرف نظر ہی بہتر ہوتا ہے۔ اور گندگی کے اس ڈھیر کا آخری ٹھکانا بہرحال دوزخ ہی ہے جس میں ان لوگوں کو اپنے اعمال اور اپنی کمائی کی پاداش اور اپنے کیے کرائے کے نتیجے میں بہرحال داخل ہونا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:96181 ابنائے دنیا کے نزدیک اصل چیز مخلوق کی رضامندی اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھا کھا کر ایسا کہیں گے تاکہ راضی ہوجائیں اور ان کو کچھ نہ کہیں۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگوں کا وطیرہ و طریقہ کل کی طرح آج بھی یہی ہے، کہ ان کے پیش نظر مخلوق ہی کی رضامندی ہوتی ہے اور بس۔ جب کہ اہل ایمان کے نزدیک اصل مقصود حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی رضا و خوشنودی ہوتی ہے کہ اگر یہ سعادت نصیب ہوگئی تو سب کچھ مل گیا اور اس کے بغیر اگر سب کچھ مل بھی گیا تو بھی کچھ نہ ملا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جَلَّ و عَلَا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا سے مشرف فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف مسلمانوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر تمہیں راضی کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ان کو اس بات کا خیال و احساس نہیں کہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو کیا کہ اللہ تو بہرحال ایسے لوگوں سے راضی نہیں ہوگا اور اصل مقصود اسی کی رضا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
182 اصل چیز رضائے خداوندی کا حصول ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ ان سے راضی ہو بھی جاؤ تو بھی کیا اللہ تو یقینا راضی نہیں ہوتا ایسے فاسق اور بدکار لوگوں سے۔ تو پھر لوگوں کو راضی کرنے کی فکر سے کیا فائدہ ؟ پس اصل فکر اسی خالق اور مالک حقیقی کی رضا کے حصول کیلئے کرنی چاہئے کہ وہ اگر مل گئی تو سب کچھ مل گیا ورنہ کچھ بھی نہیں۔ خواہ انسان کتنی ہی خوش فہمیوں میں مبتلا کیوں نہ ہو۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مومن صادق کے نزدیک اصل چیز اس خالق ومالک کی رضاء کا حصول ہے جسکے قبضہء قدرت و اختیار میں ہر چیز کی باگ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ یقینا راضی نہیں ہوتا ایسے فاسق اور بدکار لوگوں سے۔ سو اسی سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا سے سرفرازی کا ذریعہ سچی توبہ اور اس کی طرف رجوع ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَہُوَ الْہَادِیْ اِلٰی سَوَائِ السَّبِیْلِ-
Ayahs 9:97–99183 دیہاتیوں کے گنوار پن کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دیہاتی زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ وہ دین کی حدود کو نہ جانیں۔ کیونکہ ایک طرف تو انہیں روٹی پیٹ اور تن و توش کے دھندوں سے ہی فراغت نہیں ہوتی اور دوسری طرف علم اور اہل علم کی مجلسوں میں بیٹھنے اور ان سے استفادہ کرنے کے مواقع بھی ان کو میسر نہیں آتے اور تیسری اور بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بادیہ نشینی اور اس کی کو کھ سے جنم لینے والے اپنے معروف گنوارپن کی بناء پر یہ لوگ علم اور علمی استفادہ کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے ۔ اِلاّماشاء اللہ ولا قوۃ الا باللہ ۔ سو ان لوگوں نے نہ اللہ کے رسول اور صالحین کی صحبت سے فیض اٹھایا اور نہ ہی انہوں نے کتاب الہی سے حدود حلال و حرام سے آگاہ ہونے کی کوشش کی۔ اس لیے یہ کفر و نفاق کی بیماری کے سب سے زیادہ شکار ہوئے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَہُوَ الْہَادِیْ اِلٰی سَوَائِ السَّبِیْلِ ۔ اور یہ کفر و نفاق میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ سخت ہوگئے۔ اس لیے یہ کسی نرمی اور رعایت کے مستحق نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان کے گنوار پن کا یہاں ذکر ان کے لیے کسی رعایت یا عذر کے لیے نہیں بلکہ ان کے روگ کے سبب کے اظہار کے لیے ہے۔
Ayah 9:100187 حضرات صحابہ کرام کے لیے رضائے خداوندی کا مژدہ جانفزا : سو حضرات صحابہ کرام سب کے سب اللہ کے پیارے اور اس کی رضاء و خوشنودی سے سرفراز و سرشار ہیں۔ یہاں پر یہ فرق بھی واضح رہے کہ انصار و مہاجرین کے لئے رضائے حق کے اس مژدہ جانفزا کو تو مطلق اور بغیر کسی شرط و قید کے ذکر فرمایا گیا ہے مگر ان کے اتباع " پیروکاروں " کے لئے اس کو بھلائی کے ساتھ پیروی کرنے { اِتّباع بالْاِحْسان } کی قید کے ساتھ مقید و مشروط کرکے ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام سب کے سب اللہ کے پیارے اس کی رحمت و رضا سے سرفراز و سرشار اور جنتی ہیں۔ اور ان سے بغض وعناد رکھنے والا اور ان پر طعن وتشنیع کرنے والا اس ارشاد ربانی کا منکر قرار پائے گا جو کہ کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں انصار و مہاجرین اور ان کے سچے پیروکاروں سب کو اللہ پاک کی رضاء اور دخول جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ ابو صخر حمید بن زیاد نے حضرت محمد بن کعب القرظی سے پوچھا کہ اصحاب رسول ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ تو اس کے جواب میں آپ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ ابوصخر کہتے ہیں کہ اس وقت مجھے ایسے لگا جیسے میں نے یہ آیت اس سے پہلے پڑھی ہی نہیں تھی۔ (معالم، قرطبی، ابن کثیر وغیرہ) ۔ اور اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیات کریمہ اور نصوص حدیث موجود ہیں جن کی تفصیل اپنی مفصل تفسیر میں عرض کریں گے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 9:101–102188 کچھ منافقوں کو پیغمبر بھی نہیں جان سکتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے آس پاس کے دیہاتیوں میں بھی بہت سے منافق ہیں اور خود اہل مدینہ کے اندر بھی۔ سو کچھ منافق ایسے پکے اور اس قدر منجھے ہوئے ہیں کہ ان کو آپ بھی اے پیغمبر نہیں جان سکتے بلکہ ان کو ہم ہی جانتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے کفر و نفاق اور مکاری و عیاری میں ایسے ماہر ہوگئے ہیں کہ آپ ﷺ بھی اے پیغمبر ﷺ باوجود اپنی اعلیٰ درجے کی زیرکی و فراست اور عظیم الشان فہم و ادراک کے ان کو نہیں جان سکتے۔ ان کو ہم ہی جانتے ہیں۔ ( روح، صفوہ، ابن کثیر اور معارف وغیرہ) ۔ سو اس آیت کریمہ سے اہل بدعت کے علم غیب کلی کے شرکیہ عقیدے کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ والحمد للہ ۔ کہ اس میں صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان منافقوں کو آپ بھی نہیں جان سکتے اے پیغمبر۔ بلکہ ان کو ہم ہی جانتے ہیں۔ سو اس ارشاد میں ایک طرف تو مسلمانوں کے لیے تنبیہ ہے کہ تمہیں ان مکار دشمنوں سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے اپنے کفر و منافقت پر اسلام کا نمائشی رنگ اور بناوٹی خول اس قدر چالاکی، عیاری اور مشاقی سے چڑھا رکھا ہے کہ ان کا پہچاننا بہت مشکل ہے۔ اس لیے ان کے بارے میں تم لوگوں کو خاص طور پر محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے اور دوسری طرف اس میں ان عیار منافقوں کے لیے بھی تنبیہ وتہدید ہے کہ تم لوگ اپنی اس طرح کی مکاریوں سے لوگوں سے تو چھپ سکتے ہو مگر ہم سے تمہارا چھپنا ممکن نہیں۔ اس لیے تم نے ہمارے یہاں اپنی منافقت اور اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہے۔ اپنی اس طرح کی عیاریوں اور مکاریوں سے آخر تم لوگ کب تک چھپے اور بچے رہو گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:103193 توبہ کرنے والوں کے مالوں سے صدقہ لینے کا حکم : اور اس طرح انہیں مخلصین کے مقام رفیع تک پہنچا دیجئے۔ روایات میں ہے کہ جب ان حضرات صحابہ ؓ کی توبہ قبول ہوگئی تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے یہ اموال آپ ﷺ اللہ پاک کی راہ میں صرف فرما دیں کہ انہی کی وجہ سے ہم اس غزؤہ تبوک سے اس طرح پیچھے رہ گئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس بارے مجھے کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ تو پھر اس ارشاد کے نزول کے بعد آپ ﷺ نے ان کے اموال کا ایک تہائی حصہ لے کر ان کے گناہوں کے کفارے کے طور پر اسے صدقہ فرما دیا۔ اور اسی سے علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ گناہوں سے توبہ کے طور پر کچھ صدقہ کرنا بھی مسنون ہے۔ بہرکیف اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے اور توبہ کرنے سے مغفرت سیآت اور رفع درجات کی سعادت نصیب ہوتی ہی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
194 صدقہ دینے والوں کیلئے دعا کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے حق میں دعائے رحمت بھی کیجیے کہ بیشک آپ کی دعا ان کے لیے سکون کا باعث ہے۔ سو اسی سے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ صدقہ دینے والے کے لئے دعاء کرنا فرض ہے اور بعض نے کہا مستحب۔ اور بعض نے تفصیل کی ہے۔ بہرحال آنحضرت ﷺ سے ایسے مواقع پر زکوٰۃ اور صدقہ دینے والوں کے لئے دعا فرمانا ثابت ہے، جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت سے ابھی اوپر حاشیہ نمبر 186 میں بھی گزرا ہے۔ اس کے فرض ہونے یا نہ ہونے میں تو اختلاف ہے (حاشیہ جامع البیان) لیکن اس کے استحباب میں کوئی اختلاف نہیں۔ اور پیغمبر کا اسوئہ کریمہ بھی یہی تھا کہ آپ ﷺ ایسے موقع پر صدقہ دینے والے کیلئے دعا فرمایا کرتے تھے۔ پس نیک عمل اور اچھائی کرنے والوں کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
Ayah 9:104195 اللہ اپنے بندوں کے صدقات کو قبول فرماتا ہے : اور کیسی عظمت شان سے قبول فرماتا ہے اس کا اندازہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی اس روایت سے لگایا جاسکتا ہے کہ صدقہ سائل کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں پہنچ جاتا ہے۔ اور صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہحضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی آدمی اپنے پاکیزہ مال سے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہے اور اللہ پاکیزہ مال ہی قبول فرماتا ہے، تو اللہ پاک اس شخص کے صدقہ کو اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اگرچہ وہ کھجور کے ایک دانے کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ پھر اس کو وہ ایسے بڑھاتا اور پالتا جاتا ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچے کو پالتا پوستا ہے۔ یہاں تک کہ وہ معمولی سا صدقہ احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ اور بعض روایات میں مطلق پہاڑ آیا ہے جس میں ہمالیہ جیسے بڑے پہاڑ بھی داخل ہیں۔ تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ اتنے بڑے پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے ۔ سبحان اللہ ثم سبحان اللہ ۔ کیا کہنے اس شان کرم اور جود و سخا کے ؟ کہاں وہ ذات اقدس و اعلیٰ جو کہ مالک ارض و سما اور { غنِیّ عَنِ العلمین } ہے اور کہاں ہمارے یہ ٹوٹے پھوٹے صدقات جن میں خامیاں ہی خامیاں ہوتی ہیں۔ ان کو وہ ذات پاک قبول فرماتی ہے اور قبولیت بھی ایسی عظمت شان والی جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ہی ممکن نہیں ۔ فلہ الْحَمْدُ وَلَہُ الشکر قبل کل شیِٔ و بعد کل شیئ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayahs 9:105–106196 عمل کی تعلیم و تلقین : " سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ عمل کیے جاؤ۔ تمہارے عمل کو اللہ بھی دیکھے گا، اس کا رسول بھی اور اہل ایمان بھی " اور عمل کی روشنی سے خود واضح ہوجائے گا کہ تم کتنے پانی میں ہو اور کہاں کھڑے ہو۔ پس زبانی کلامی دعو وں کی ضرورت نہیں بلکہ عمل سے اپنی صداقت کا ثبوت پیش کرو۔ اہل بدعت کے جو تحریف پسند { وَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ } سے اپنے شرکیہ عقائد کے لئے استدلال کرتے ہیں وہ یہاں کیا کہیں گے کہ یہاں تو { وَرَسُولُہ } کے ساتھ { وَالْمُؤمِنوُنَ } کا اضافہ بھی موجود ہے۔ تو کیا وہ اپنی اس تحریفانہ منطق کی بناء پر سب اہل ایمان کو بھی حاضر ناظر اور عالم غیب مانیں گے ؟ اگر ایسا مانیں گے تو پھر اس میں پیغمبر کی کیا خصوصیت ہوئی ؟ (علیہ الصلوۃ والسلام) اور اگر نہیں تو کیوں ؟ مَا الفارق بینہما فما ہو جوابکم فہوجو اب اہل الحق فی مثل ہذہ المواقع کلہا ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں نیک اعمال کی کمائی کی ترغیب و تلقین ہے۔ چناچہ مجاہد کہتے ہیں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے وعید ہے کہ تمہارے اعمال قیامت کے روز اللہ، اللہ کے رسول اور اہل ایمان کے سامنے پیش کیے جائیں گے ( محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور قیامت کے روز ایسا بہرحال ہو کر رہے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لاَ تَخْفَی مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ} (الحاقۃ : 18) ۔ نیز فرمایا گیا { یَوْمَ تُبْلَی السَّرَائِر } (الطارق :9) اور کبھی اللہ تعالیٰ انسان کے اعمال کو دنیا میں بھی ظاہر فرما دیتا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی کسی ایسی بند چٹان کے اندر بھی کام کرے جس میں نہ کوئی دروازہ ہو نہ سوراخ تو بھی اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو ظاہر فرما دے گا۔ وہ جیسا بھی عمل ہو۔ (کما رواہ احمد عن ابی سعید مرفوعا محاسن التاویل وغیرہ) ۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے اعمال تمہارے مردہ قریبوں اور رشتہ داروں پر پیش کیے جاتے ہیں۔ سو اگر وہ عمل اچھے ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ اور اگر وہ دوسری طرح کے ہوں تو وہ اللہ پاک کے حضور عرض کرتے ہیں کہ اللہ ان کو اس وقت تک موت نہیں دینا جب تک کہ ان کو بھی اسی طرح ہدایت سے نہ نواز دے جس طرح کہ تو نے ہمیں نوازا ہے۔ ( ابن کثیر، ابن جریر، قرطبی اور محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور امام بخاری نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ " جب تمہیں کسی مسلمان کا عمل اچھا لگے تو تم کہا کرو { اِعْمَلُوْا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہ وَالْمُوْمِنُوْنَ } اور صیح احادیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جب اللہ تعالیٰ کسی انسان کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اس سے موت تک نیک عمل کراتا ہے "۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس سے نیک عمل کس طرح کراتا ہے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ اس کو نیک عمل کی توفیق دیتا ہے۔ پھر اس کی جان قبض کرتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ (رواہ احمد عن انس بن مالک) (ابن کثیر، روح المعانی وغیرہ وکما رواہ احمد عن ابی سعید مرفوعا، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اَللَّہُمَّ ارْزُقْنَا حُسْنَ الْخِتَامِ وَاجْعَلْ خَیْرَ اَعْمَالِنَا خَوَاتِیْمَہَا وَخَیْرَ اَیَّامِنَا یَوْمَ بَقَائِکَ یَا ذَا الْجَلاَلِ وَالاِکْرَامِ-
Ayahs 9:107–109198 ۔ مسجد " ضرار " کا ذکر : اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں نے یہ نام نہاد مسجد بنائی اور انہوں نے یہ مسجد قبا کے نزدیک اپنی انہی اغراض خبیثہ کی تکمیل کے لیے جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے، یہاں تک کہ اس کا نام ہی مسجد " ضرار " مشہور ہوگیا۔ اور حضور نے بذریعہ وحی حقیقیت حال سے آگہی پانے کے بعد اس کی اینٹ سے اینٹ بجوا دی اور اسے جلا کر راکھ کردیا۔ اور اسی سے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ بدمعاشی و برائی کے ایسے تمام ادوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے جو اسلام کے خلاف کارروائیوں کے لیے قائم کیے گئے ہوں، سو ان لوگوں نے اپنی اغراض خبیثہ کی تکمیل کے لیے ڈیڑھ اینٹ کی یہ مسجد الگ بنائی تاکہ اس نام سے یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے لیے ایک اڈا قائم کریں اور اس کو نام مسجد کا دیا تاکہ اس طرح یہ لوگ اللہ کے رسول اور مسلمانوں پر اپنی دینداری کی دھونس بھی جمائیں اور اس کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کا سامان بھی کرسکیں۔ اور منافقوں کا یہی حال رہا کل بھی انکا یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
199 مسجد ضرار کے مقاصد خبیثہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لیے (دعوت حق کو) اور کفر کو فروغ دینے کے لیے۔ اور مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی غرض سے۔ اور اس مقصد کے لیے کہ اس کے زریعے وہ ایسی کمین گاہ مہیا کرسکیں ان لوگوں کو جو اس سے پہلے جنگ کرچکے تھے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ۔ یعنی ابوعامر راہب اینڈ کمپنی جو کہ غزوہ حنین تک کے ہر معرکے میں اسلام اور مسلماموں کے خلاف کمر بستہ رہے اور بالآخر یہ اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ابوعامر نامی یہ شخص زمانہ جاہلیت میں نصرانی بن گیا تھا اور قبیلہ خزرج میں اس کا بڑا مقام تھا۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کی زبردست فتح اور پھر احد میں بالآخر مسلمانوں کو ملنے والی کامیابی سے جل بھن کر یہ شخص قیصرروم کے پاس جاپہنچا اور مسلمانوں کے خلاف مددمانگی جس کا اس نے اس سے وعدہ کرلیا اور اس کے قبیلے کے منافقوں کو پیغام بھیجا کہ میں اس کی مدد کرنے والا ہوں۔ لہذاتم اس کے لیے وہاں ایک ایسا اڈا قائم کرو جہاں سے ہو کر یہ اپنا کام کرسکے۔ تو انہوں نے اس غرض کے لیے مدینہ منورہ کے نزدیک ایک اڈا مسجد کے نام سے تعمیر کیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ ہم نے ان کمزور اور بیمار لوگوں کے لیے ایک مسجد بنائی ہے جو مسجد قباتک نہیں جاسکتے۔ لہذا آپ اس میں نماز پڑھ کر اس کا افتتاح فرما دیں۔ تو آپ نے ان سے یہ وعدہ فرمالیا کہ میں غزوہ تبوک سے واپسی پر ایسے کرونگا۔ لیکن واپسی پر جب مدینہ سے ایک دن کے فاصلے پر رہ گئے توجبریل امین نے وحی کے ذریعے آپ کو اس کی اصل حقیقت سے واقف وآگاہ فرمادیاتو اس کے بعد آپ نے کچھ آدمیوں کو بھیج کر اس نام نہاد مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجوادی۔ (ابن کثیر، روح المعانی اور معارف القرآن وغیرہ) سو پیغمبر عالم غیب نہیں ہوتے۔ ان کو وہی معلوم ہوتا ہے جو وحی کے ذریعے بتایا جائے اور بس۔ سب غیبوں کو جاننا اللہ وحدہ لاشریک ہی کی صفت وشان ہے۔ سبحان وتعالی۔
Ayah 9:110203 برائی کی سزا کی ایک قسط اسی دنیا میں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی اپنی بنائی ہوئی عمارت ایک کانٹا بن کر ان لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ چھبتی رہے گی کہ ان کی غرض مقصود بھی اس سے حاصل نہ ہوئی اور ذلت و رسوائی بھی الگ اٹھانا پڑی اور ان کے اس اڈے کو ان کی نظروں کے سامنے ان کے منافقانہ عزائم و مقاصد اور ارمانوں سمیت جلا کر ڈھیر کردیا گیا سو اس طرح ان کو اپنے کیے کرائے کی سزا کی ایک قسط بطور نقد اسی دنیا میں مل گئی۔ سو اعمال کا بدلہ انسان کو آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ نیکی کا نیک اور اور بدی کا بد۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ساتھ ہی اس سے اس حقیقت کو بھی آشکارا فرما دیا گیا کہ یہ نام نہادمسجد بناکران منافقین نے اپنے اندرنفاق کی جڑ اتنی مضبوط اور مستحکم کردی کہ اب یہ ان کے دلوں سے نکلنے والی نہیں۔ اب اس کو نکالنا اس کے بغیرممکن نہیں کہ ان کے دل ہی پاش پاش ہوجائیں سو اس سے معلوم ہوا کہ عمل عمل کے اثرات و نتائج میں بڑافرق ہوتا ہے۔ یوں تو نفاق کا ہر عمل اپنے اندر بڑے زہریلے اثرات رکھتا ہے لیکن مسجد ضرارجیسا فتنہ کھڑا کردینا ایک ایسا عمل ہے جس کے نتائج و اثرات سے جان چھڑانا انسان کے اپنے بس میں نہیں رہتا اور اس کا زہریلا اثر اس کے رگ وپے میں سرایت کرجاتا ہے۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہر شروفتنہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے آمین۔