Ayah 9:60125 زکوٰۃ اللہ کا مقرر فرمودہ فریضہ ہے : جس میں نہ کسی نبی کا کوئی اختیار ہے نہ کسی اور کا۔ جیسا کہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے خود اپنی زبان صدق ترجمان سے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ چناچہ سنن ابوداؤد وغیرہ میں حضرت زیاد بن حارث۔ ؓ ۔ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا " اَعْطِنِیْ مِنَ الصَّدَقَۃِ " " صدقہ سے مجھے بھی کچھ دیجئے "۔ تو آپ ﷺ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ صدقات کے بارے میں اللہ پاک نے نہ نبی کو کوئی اختیار دیا ہے اور نہ کسی اور کو بلکہ ان کیلئے تمام مصارف خود ہی متعین فرما دئیے ہیں اور ان کو آٹھ حصوں پر تقسیم فرما دیا ہے۔ سو اگر تم ان آٹھ قسموں میں سے کسی میں آتے ہو تو تمہیں بھی تمہارا حق دے دیا جائے گا۔ (ابوداؤد، کتاب الزکوۃ باب من یعطی من الصدقۃ وحد الغنی) ۔ سبحان اللہ ۔ لسان نبوت سے کس صراحت و وضاحت سے اپنی شان عبدیت کا اظہار و اعلان فرمایا جا رہا ہے۔ مگر اس کے باوجود کلمہ گو مشرک کہتا ہے کہ نبی مختار کل ہوتا ہے۔ جو چاہے کرے ۔ فَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی ۔ بہرکیف زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر فرمودہ فریضہ ہے جس میں کسی کمی بیشی یا تغییر و تبدیلی کا حق کسی کو بھی نہیں۔ پھر یہ حصے چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر فرمائے گئے ہیں جو کہ " علیم وحکیم " ہے یعنی کامل علم اور بےپایاں حکمت والا۔ اس لیے اس کے کسی حکم و ارشاد کا کوئی متبادل ممکن ہی نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ وتعالی ۔ اور بندے کی بندگی کا تقاضا بلاچون و چرا اس کی تعمیل کرنا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 9:61–62126{ ھُوَ اُذُنٌ } کا مطلب ؟ : یعنی یہ ایسے ہیں کہ جو سنا، مان لیا۔ پس ہماری یہ باتیں اگر ان کو پہنچ بھی گئیں تو ہم ان کے سامنے قسمیں کھا کر اپنی صفائی پیش کردیں گے اور ان کو منوا لیں گے۔ یہ باتیں منافق لوگ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے بارے میں اپنی مجلسوں میں کیا کرتے تھے۔ اور وجہ اس کی یہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ اپنے کریمانہ اخلاق کی بناء پر ان لوگوں کی بری باتوں سے درگزر فرما لیتے۔ کوئی گرفت نہ فرماتے۔ تو اس سے یہ بد باطن لوگ اس سے ایسے مطلب نکالتے اور اس کی طرح باتیں چھانٹتے اور اس طرح اپنی بدبختی میں اضافے کا سامان کرتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ان بدبختوں کا آنحضرت کے بارے میں کہنا تھا کہ " یہ صاحب تو نرے کان ہیں "۔ ہر کسی کی بات سن کر اس پر اعتبار کرلیتے ہیں۔ یعنی یہ کان کے کچے ہیں۔ ہر ایرے غیرے کی بات سن کر مان لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال و سوء و انحراف ۔
127 پیغمبر کا وجود سراسر رحمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تمہارے لیے خیر کے کان ہیں کہ تمہاری بھلائی کی بات ہی مانتے ہیں نہ کہ برائی کی۔ جو کہ ایک طرف تو آپ ﷺ کے قلب مطہر کی انتہائی صفائی کی دلیل ہے اور دوسری طرف تم سب کے لئے رحمت و بھلائی کی علامت بھی۔ مگر تم لوگ اپنے سوئِ باطن کی بنا پر اس کا غلط مطلب لیتے ہو۔ سو یہ تمہاری اپنی کور ذوقی اور کج فطرتی ہے ورنہ پیغمبر کا وجود تو سراسر رحمت ہے مگر تم لوگ اپنی کج فطرتی کی بناء پر اپنے لیے عذاب کا سامان کرتے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو پیغمبر اگر سراپا گوش ہیں تو تمہاری ہی بھلائی کے لیے اور تمہاری ہی خیر خواہی کے باب میں ہیں۔ ان کے کان ہر وقت اس تمنا میں کھلے ہوئے ہیں کہ ان میں تمہاری اچھی باتوں، اچھے کاموں اور اچھے ارادوں کی خبریں پڑیں اور وہ ان سے مسرور ہوں۔ وہ تمہاری بری خبریں اور بری سرگوشیاں سننے کے لیے کان نہیں لگائے ہوئے ہوتے کہ کوئی آئے اور تمہاری کسی بری حرکت کی خبر سنائے اور وہ اس کو سنتے ہی اپنے حافظے میں محفوظ کرلیں۔ باپ اپنے بیٹے پر جتنا شفیق ہوتا ہے پیغمبر اس سے کہیں بڑھ کر اپنی امت کے لیے رحیم اور شفیق ہوتا ہے۔ وہ ان کی خرابیوں کی ٹوہ میں نہیں بلکہ ان کی بھلائیوں کی ٹوہ میں رہتا ہے اور وہ ہر وقت یہی چاہتا ہے کہ ان کے کان میں تمہارے بارے میں کوئی اچھی بات ہی پڑی اور خوشی کی خبر ہی ملے۔ مگر تم لوگ اپنی بد باطنی کی بنا پر اس کو غلط معنوں میں لیتے اور غلط انداز سے سوچتے ہو ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا من کل زیغ و ضلال -
128 پیغمبر کا اصل اعتماد اہل ایمان پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تمہارے لیے خیر کے کان ہیں وہ ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اعتماد کرتے ہیں ایمانداروں پر۔ یعنی " ایمان " کا صلہ جب " باء " آئے تو اس وقت اس کے معنی اقرار و یقین کے ہوتے ہیں جو کہ کفر و انکار کا مقابل ہے۔ اور جب اس کا صلہ " لام " آئے تو اس وقت اس کے معنی اعتماد اور بھروسہ کرنے کے ہوتے ہیں۔ (ابوالسعود، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بہرکیف پیغمبر کا اصل اعتماد اہل ایمان ہی پر ہوتا ہے اور وہی اس قابل ہیں کہ ان پر اعتماد کیا جائے۔ پس تم لوگوں کا یہ کہنا اور گمان رکھنا کہ وہ ہر ایرے غیرے کی بات سن کر اس پر اعتبار کرلیتے ہیں، غلط ہے۔ ان کا ایمان تو اللہ پر ہے اور وہ باور صرف اسی بات کو کرتے ہیں جو ان کو سچے پکے اہل ایمان کے ذریعے پہنچتی ہے۔ اگر اللہ تمہارے بارے میں ان کو کوئی خبر دے تو اس سے سچی اور پکی بات اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اسی طرح اگر سچے ایمان والے تمہارے بارے میں ان کو کوئی خبر دیں تو آخر وہ اس پر باور کیوں نہ کریں ؟ سو وہ خداوند قدوس کی ہدایت و راہنمائی میں چلتے اور سچے اور پکے اہل ایمان کی باتوں پر کان دھرتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ سب سے اچھا، صحیح اور معقول طریقہ یہی ہوسکتا ہے۔
129 ایمان سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ سراسر رحمت ہیں تم میں سے ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ اور جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول کو ان کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب ہے۔ سو پیغمبر سراسر رحمت ہیں اہل ایمان کے لیے۔ اور ظاہر ہے کہ فائدہ اس رحمت سے ایسے ہی حضرات اٹھا سکتے ہیں ورنہ آپ ﷺ کی بعثت و رحمت تو سب جہانوں کے لئے ہے { وَمَآ اَرْسَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ }۔ سو جو محروم ہیں وہ اپنی اس محرومی کے ذمہ دار خود ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد عالی سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر آشکارا ہوجاتی ہے۔ نور ایمان و یقین دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے محرومی دنیا و آخرت کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے جو لوگ سچے ایمان والے ہوں گے پیغمبر کا وجود ان کے لیے سراپا رحمت و شفقت ہے۔ وہ تمہاری اصلاح اور خیر چاہتے ہیں۔
Ayahs 9:63–64130 اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ دوزخ کی دائمی آگ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں کو یہ اہم اور طے شدہ حقیقت معلوم نہیں کہ جو کوئی مخالفت کرے گا اللہ اور اس کے رسول کے تو اس کے لیے دوزخ کی وہ آگ تیار ہے جس میں اس کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ واضح رہے کہ لفظ " یُحَادِدُ " حد سے ماخوذ ہے جو کہ کنارہ، انتہاء اور سائیڈ (SIDE) کے معنیٰ میں آتا ہے۔ چونکہ دو متحارب و مقابل شخص آپس میں دو مختلف اور دو متضاد سائیڈوں پر کھڑے ہوتے ہیں اس لئے یہ لفظ دشمنی کے لئے بولا جاتا ہے۔ اور یہی حال " یشَاقِقُ " اور " یُعَادِی " وغیرہ جیسے الفاظ و کلمات کا ہے کہ یہ بھی " شق " اور " عدا وہ " سے ماخوذ ہیں جن کے معنیٰ طرف اور کنارہ کے آتے ہیں۔ اسی طرح " مُجَانَبَۃ " " مُحَایَدَۃ " اور " مُخَالَفۃ " وغیرہ جیسے الفاظ بھی ہیں ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے عربی زبان کی باریکیوں، نزاکتوں اور لطافتوں کے ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ الّذِیْ شَرَّفَنَا بَہٰذَا الدِّیْنِ الْمُبَارَکِ الْمَجِیْدِ وَبِہٰذَا اللِّسَانِ الْعَظِیْمِ ۔ اَللّٰھُمَّ زِدْنَا اِیْمَاناً وَّیَقِیْنًا وَّخِدْمَۃً وَّاِشْتِغََالاً بِہٰذَا الدِّیْنِ ۔ بہرکیف یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ دوزخ کی آگ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
131 اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں کیلئے بڑی سخت رسوائی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کے لیے دوزخ کی وہ ہولناک آگ تیار ہے جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ یہی ہے بڑی رسوائی۔ اتنی بڑی اور ایسی ہولناک رسوائی کہ اس دنیا میں اس کا تصور بھی ممکن نہیں۔ اور اتنی مخلوق کے سامنے کہ اس کو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کے سوا کوئی جان ہی نہیں سکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہر ذلت و رسوائی اور خاص کر اس بڑی رسوائی سے اپنے کرم اور اپنی عنایت سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا ارحم الراحمین ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت ۔ والعیاذ باللہ ۔ کس قدر سنگین جرم اور کتنی ہولناک آفت ہے۔ بھلا جس اللہ نے نعمت وجود سے نوازا اور جسکی عنایات میں انسان سر سے پاؤں تک ڈوبا ہوا ہے اور جس رسول نے آکر اس رب کی معرفت سے سرفراز کیا اور دوزخ کے کنارے سے ہٹا کر جنت کی راہ پر ڈالا، اس کی مخالفت سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہوسکتا ہے اور ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم آخر اور کون ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل شائبۃ من شوائب ہذا الظلم والحرمان والخزی والخسران ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 9:65133 منافقوں کے نفاق کا ایک اور مظہر : کہ یہ لوگ اللہ، اس کے رسول اور اس کی آیتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ چناچہ سفر تبوک کے دوران منافقین کی ایک جماعت نے حضرت رسالت مآب۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین حق کے بارے میں اسی طرح کی کچھ بےہودہ اور گستاخانہ باتیں کیں۔ پھر اطلاع ملنے پر جب آنحضرت ﷺ نے ان سے اس بارے دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب میں کہا نہیں جناب ! ہم تو یونہی سفر کاٹنے کے لئے دل لگی اور گپ شپ کر رہے تھے اور بس۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس سے ان لوگوں کی منافقت کے اس قصے کو آشکارا کرکے ان کی ہمیشہ کی رسوائی کا سامان کردیا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لئے اس سورة کریمہ کا ایک نام " فاضحہ " بھی ہے۔ یعنی " رسوا کرنے والی " اور " منبہہ " بھی یعنی " خبر دینے والی "۔ (المراغی، المحاسن، ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف اس میں منافقوں کے نفاق کا ایک اور مظہر پیش فرمایا گیا ہے اور یہ سورة کریمہ جس طرح مشرکین اور اہل کتاب کے بارے میں خاتمہ بحث کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح یہ منافقوں کے بارے میں بھی فیصلہ کن سورت ہے۔ اس میں طرح طرح سے ان کے نفاق سے پردہ اٹھایا گیا اور اس کو بےنقاب کیا گیا اور ان کو پوری طرح ننگا کر کے رکھ دیا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
134 اللہ اور اس کے رسول سے استہزائ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ کیا تم لوگوں کو اللہ اس کی آیتوں اور اس کے رسول ہی سے دل لگی کرنا تھی ؟ یعنی اس طرح کی گپ شپ اور دل لگی تو حقیقت میں تمسخر و استہزاء ہے تو کیا تمہیں اس کے لئے اللہ اور اس کے رسول ہی ملے تھے ؟ یہ کس قدر احمقانہ جسارت ہے جس کا ارتکاب تم لوگوں نے کیا ہے ؟ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے نور ایمان اور دولت یقین سے محرومی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان منافقوں کے " عذر گناہ بدتر از گناہ " کی ایک مثال تھی جس کو یہاں پیش فرمایا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور انسان جب دولت ایمان و یقین اور صدق و اخلاص سے محروم ہوتا ہے تو اس کا حال یہی ہوجاتا ہے کہ اس کو نہ سیدھی راہ نصیب ہوتی ہے اور نہ صحیح بات سوجھتی ہے ۔ الا ما شاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 9:66135 ارتکاب کفر کا جرم سب سے سنگین اور ہولناک جرم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ تم لوگ بہانے مت بناؤ (اے منافقو) کہ بلاشبہ تم ارتکاب کرچکے ہو کفر کا اپنے ایمان کے بعد۔ پس تم لوگوں کا یہ جواب " عذر گناہ بدتر از گناہ " کا مصداق ہے۔ اس لئے تمہارا کوئی عذر و بہانہ اب قابل قبول نہیں۔ اس لیے تمہیں اب ایسے حیلے بہانے کرنے سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ تم لوگ کفر کے اس سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کرچکے ہو جسکے بعد نہ کسی تاویل کا کوئی فائدہ و اعتبار ہے اور نہ کوئی عذر و معذرت قابل قبول۔ سو اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے استہزا و مذاق ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِِ جَلَّ وَعَلَا ۔ ایک نہایت سنگین جرم اور کھلا کفر ہے۔ اور ایسے کفر کے جرم کا ارتکاب سب سے بڑا اور انتہائی سنگین اور ہولناک جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایسا کرنا صریحا ایمان کے اظہار کے بعد کفر کا اعلان ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں نے اپنے ایمان کا دعویٰ تو کیا لیکن اپنے عمل سے تم نے ثبوت کفر کا دیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین
136 ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کیلئے کوئی معافی نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کردیں تو بھی ہم دوسرے گروہ کو ضرور عذاب دے کر رہیں گے کہ وہ پکے مجرم ہیں۔ کہ انہوں نے اس جرم کا ارتکاب بھی کیا ہے اور یہ اس سے توبہ کرنے کی بجائے الٹا اس پر اڑے ہوئے بھی ہیں۔ اس لئے ایسے لوگ اپنے کئے کرائے کا بھگتان ہر حال میں بھگت کر رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ضدی اور ہٹ دھرم کافروں کی معافی کی کوئی صورت نہیں کہ وہ اپنے جرم کو تسلیم کرنے اور اس سے باز آنے کیلئے تیار ہی نہیں۔ اور اس طرح کے منافقین کے بعض گروہ ایسے تھے کہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی سخت اور ہولناک چالیں چلیں۔ سو اس طرح کی ٹولیوں اور منافق گروہوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم نے تمہارے بعض گروہوں سے دنیا میں درگزر بھی کیا اور ان کے معاملے کو آخرت ہی پر رکھ دیا تو بھی ایسے بعض گروہ لازما اسی دنیا میں ہمارے عذاب کی زد میں آ کر رہیں گے اور ان کو اپنے کیے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:67137 منافق مرد اور عورتیں آپس میں ایک ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منافق مرد اور منافق عورتیں ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں اور یہ سب آپس میں ایک ہی ہیں۔ یعنی کفر و نفاق اور دین حق سے دوری اور نور ایمان سے محرومی جیسی خصال شر میں یہ سب ہی شریک اور ایک برابر ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لہذا یہ اپنے جرم کی سزا میں بھی باہم شریک ہوں گے خواہ مرد ہوں خواہ عورتیں۔ کیونکہ جب یہ جرم میں ایک ہیں تو اس کے انجام اور سزا میں بھی ایک اور باہم شریک ہوں گے۔ سو یہاں پر منافق مردوں کے ساتھ منافق عورتوں کا بھی صریح طور پر ذکر فرمایا گیا ہے اور دونوں کو برابر کا شریک جرم قرار دیا گیا ہے تاکہ عورتوں کو بھی اس کی تنبیہ ہوجائے کہ اگر انہوں نے اپنے آپ کو خدا کے غضب سے بچانے کی فکر و کوشش نہ کی تو یقینا ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان کے مردوں کا ہونے والا ہے۔ کیونکہ دین کے معاملے میں تبعیت اور ما تحتی کوئی عذر نہیں بلکہ اپنی نجات کے لیے کوشش اور جدوجہد ہر نفس کی ذمہ داری ہے۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
138 منافق ہر خیر سے محروم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں اور یہ بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھوں کو ہر خیر سے۔ یعنی { یقبضون } کا مفعول چونکہ مذکور نہیں، یعنی یہ نہیں ذکر فرمایا گیا کہ یہ لوگ اپنے ہاتھ کس سے بند رکھتے ہیں تو اس سے اس کے عموم کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ یعنی یہ محروم القسمت لوگ اپنے ہاتھوں کو ہر خیر سے بند رکھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور " قبضِ ید " یعنی " ہاتھ کو بند رکھنا " محاورے کی زبان میں دراصل کنایہ ہے نہایت بخل اور کنجوسی سے۔ سو اس اعتبار سے مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ نہایت بخیل اور کنجوس ہیں۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے ایمان و یقین سے محرومی کا کہ اس کے بعد انسان مکارم اخلاق سے محروم ہو کر رذائل میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو منافقوں کی ہر بات دین حق کی تعلیمات مقدسہ کے خلاف اور ان کے برعکس ہوتی ہے۔ یہ لوگ برائی سے روکنے اور نیکی کی تعلیم دینے کی بجائے برائی کی تعلیم دیتے اور نیکی سے روکتے ہیں اور اللہ کی راہ میں اور دوسروں کی بھلائی کے لیے خرچ کرنے کی بجائے یہ لوگ اپنے ہاتھوں کو روکتے اور بند رکھتے ہیں اور دوسروں سے بھلائی اور ان کی نفع رسانی کے برعکس بخل اور کنجوسی سے کام لیتے ہیں اور بھلائی سے منہ موڑتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو منافقوں کے اس آئینے میں دور حاضر کے ان مسلمانوں کو بھی اپنا چہرہ دیکھ لینا چاہیے جو اسلام اور ایمان کے دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر ان کی زندگی ان ہی منافقانہ خصال سے پر ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی منافقانہ خصلت سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
139 خدا فراموشی کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ کو بھول گئے جس کے نتیجے میں اللہ نے ان کو بھلا دیا۔ اور اللہ کے بھلا دینے سے مراد اس کا نظر انداز کردینا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یعنی جب انہوں نے اس کے حق شکر و اطاعت کو بھلا دیا تو اس نے ان کو اپنے لطف و انعام سے محروم فرما دیا کہ ایسے ناشکروں اور بدبختوں کی سزا یہی ہوتی ہے۔ اور یہ اسی کے لائق اور مستحق ہوتے ہیں۔ سو نسیان سے یہاں پر مراد ترک ہے۔ یعنی لازم بول کر ملزوم مراد لیا گیا ہے۔ سو اللہ پاک کی یاد دلشاد سے محروم، بڑا ہی محروم ہے۔ کہ اس کی یاد دلشاد سے سرفرازی زندگی ہے اور اس سے محرومی موت ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان کی محرومی اور بےتوفیقی کے سبب کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ جب خدا کو بھلا بیٹھے تو ان پر شیطان مسلط کردیا گیا جس نے ان کی راہ مار دی۔ اور وہی ان کا ساتھی بن کر رہ گیا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْطَانًا فَہُوَ لَہ قَرِیْنٌ } (الزخرف : 36) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو خدا فراموشی کا نتیجہ اللہ کی نظر عنایت سے محرومی اور ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
140 یاد الہی سے محرومی سب سے بڑی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اللہ تعالیٰ کی یاد دلشاد سے محرومی کا نتیجہ و انجام ہولناک خسارہ اور دارین کی ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ یہ تمردو سرکشی میں کامل ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " فسق " کے اصل معنیٰ جیسا کہ پہلے بھی کئی جگہ گزر چکا ہے " خروج " کے آتے ہیں۔ اس لئے اس کا اطلاق کافر و منافق پر بھی ہوتا ہے کہ یہ بھی ایمان و اطاعت سے نکلے ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کی یاد دلشاد سے محرومی کا نتیجہ اور انجام یہ ہوا کہ یہ لوگ پکے بدکار ہوگئے۔ اور اس طرح ہولناک خسارے میں مبتلا ہوگئے کہ خدا فراموشی کا طبعی نتیجہ و اثر خود فراموشی ہے جس کے باعث ایسے لوگوں کو خداوند قدوس کی طرف سے نظرانداز اور توفیق خیر سے محروم کردیا جاتا ہے۔ ان کی نکیل شیطان اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور یہ پکے بدعہد اور نافرمان ہو کر رہ جاتے ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ کی یاد دلشاد سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اَللّٰہُمَّ فَاِعِنَّا عَلٰی ذِکْرِکَ وَ شُکْرِکَ وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالاِکْرَامِ ۔ سو یاد الہی دلوں کی زندگی اور باعث سرفرازی ہے۔
Ayah 9:68141 کفار و منافقین کیلئے جہنم کا دائمی عذاب اور ہمیشہ کی لعنت و پھٹکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے وعدہ فرما رکھا ہے منافق مردوں، منافق عورتوں اور دوسرے کھلے کافروں سے دوزخ کی اس ہولناک آگ کا جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ ان پر لعنت و پھٹکار ہے اللہ کی اور ان کے لیے عذاب ہے ہمیشہ قائم رہنے والا اور وہی کافی ان لوگوں کو۔ ان کے کفر و نفاق کے جرم کے لئے۔ ایسی کافی کہ اس کے ساتھ کسی اور سزا کی ضرورت نہیں۔ نیز یہ کہ ان کے اس سنگین جرم کی پوری سزا دوزخ کے سوا دوسری کوئی ہو بھی نہیں سکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جن کفار و مشرکین اور منافقین کا آخری انجام یہ ہونا ہے ان کو اگر دنیا میں کچھ مہلت مل بھی گئی تو اس سے انکو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ ان کا انجام بہرحال بہت برا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصل چیز دین و ایمان کی دولت اور عمل و کردار کی پونجی ہے جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کام آنے والی دولت ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 9:69142 ایمان کے بغیر دنیاوی مال و متاع کی کوئی حیثیت نہیں : سو ان سے فرمایا گیا کہ تم بھی انہی لوگوں کی طرح ہو جو گزر چکے ہیں تم سے پہلے۔ سو تم سے پہلے کی منکر قومیں مال و اولاد وغیرہ میں تم سے کہیں بڑھ کر تھیں ۔ پس یہ چیزیں نہ تو متاع فخر و غرورہوسکتی ہیں اور نہ ہی دلیل حق و صداقت۔ اور نہ ہی یہ کسی کو اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے بچا سکتی ہیں۔ سو محض ان کی بناء پر حق سے منہ موڑنا پرلے درجے کی حماقت اور بڑا ہی ہولناک خسارہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِِ-ِِ پس اصل چیز دین و ایمان کی دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرتی ہے اور جس کے نتیجے میں مومن کے لیے ہر حالت خیر ہی خیر بن جاتی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
143 دین و ایمان سے محرومی کا نتیجہ غفلت و لاپرواہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم انسان غافل و لاپرواہ اور غیر ذمہ دار و لا ابالی بن جاتا ہے۔ اور وہ کفر و نفاق اور کذب و باطل کی کج بحثیوں اور بھول بھلیوں میں لگ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (جامع البیان، صفوہ وغیرہ) ۔ سو تم کو بھی پہنچ کررہے گا وہ عذاب اور برا انجام جس سے وہ لوگ دو چار ہوچکے ہیں۔ سو بچو تم لوگ اس سے اور باز آجاؤ اپنی روش سے قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے کہ وہاں ایسے لوگ دوزخ کے درک اسفل میں ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محرومی ایسی محرومی ہے جو انسان کو غیر ذمہ دار، لا ابالی اور غیر سنجیدہ بنادیتی ہے اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے مآل وانجام سے بےفکر و لاپرواہ بن کر بطن و فرج کی خواہشات کا غلام اور حیوان محض بن جاتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی نیچے گر کر ہلاکت و تباہی کے درک اسفل میں پہنچ جاتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے -
144 ایمان و یقین سے محرومی باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اکارت چلے گئے ایسے لوگوں کے تمام اعمال دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور یہی لوگ ہیں خسارے والے۔ سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ ایسے لوگوں کے سب کام اکارت چلے گئے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ آخرت میں تو ان کے اعمال کا ضائع ہوجانا ظاہر و باہر ہے مگر اس سے پہلے اس دنیا میں بھی ان کے لئے عزت و احترام کی بجائے ذلت و خواری سکون واطمینان کی بجائے قلق و اضطراب اور آرام و راحت کی بجائے فتنہ و فساد اور اصلاح و تکمیل نفس کی بجائے ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں گرتے چلے جانا وغیرہ وغیرہ ان لوگوں کا گویا مقدر بن گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس کے برعکس ایمان و اخلاص کے ساتھ کئے جانے والے نیک اعمال آخرت کی حقیقی کامیابی اور دائمی سعادت سے سرفرازی سے پہلے اس دنیا میں بھی خیر و صلاح کا ذریعہ بنتے ہیں، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا { وَلَقَدْ اٰتَیْنَاہُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّاِنَّہٗ فِی الْآخِرَۃِ لَمِنَ الصَّالِحِیْنَ } سو ایمان و یقین سے محرومی باعث ہلاکت و تباہی اور خسارہ دارین ہے، جبکہ ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ-
Ayah 9:70145 پیغام حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس آیت کریمہ میں قوم نوح وعاد اور قوم ثمود وابراہیم وغیرہ مختلف قوموں کا حوالہ دے کر ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب کے پاس ان کے رسول کھلے نشانیاں لے کر آئے مگر انہوں نے نہ مانا اور آخر کار وہ قومیں اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ ان پر کوئی ظلم کرتا مگر وہ لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کر رہے تھے۔ سو اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ نور حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی ۔ والعیاذ باللہ ۔ کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ہوتا ہے۔ اور اب نور حق و ہدایت کا منبع ومصدر صرف قرآن حکیم ہی ہے جس کی طرف رجوع واجب ہے۔ پس دین حق اور اس کی تعلیمات مقدسہ سے اعراض برتنا خود اپنی جانوں پر ظلم کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کی پیش فرمودہ تعلیمات مقدسہ سے منہ موڑنا اور نور حق سے محروم رہنا خود اپنی جانوں پر ظلم کرنا ہے اور اس کا انجام ہلاکت اور تباہی ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے۔ تسلیم کرے یا نہ کرے۔ حق اور حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔ اور گزشتہ قوموں کے یہ قصص و واقعات اس کے شاہد صدق و عدل ہیں۔ اور حق و صداقت کا یہ نور عظیم اب صرف قرآن و حدیث کی تعلیمات مقد سہ میں منحصر ہے۔ اس کے سوا نور حق سے بہرہ وری اور سرفرازی کی اور کوئی بھی صورت اب ممکن نہیں۔ کیونکہ سابقہ انبیاء و رسل کی تعلیمات و شرائع اول تو اس دین حق کے طلوع کے بعد منسوخ ہوگئیں اور دوسرے اب ان کا اپنی صحیح شکل و صورت میں کہیں وجود ہی نہیں۔ کیونکہ ان کو تبدیل کردیا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ ان میں سے بعض کتابیں جس زبان میں نازل ہوئی تھیں وہ زبان ہی اب دنیا سے ناپید ہوگئی ہے۔ جیسے انجیل آرامی زبان میں نازل ہوئی تھی مگر اب دنیا میں اس زبان کا سرے سے کوئی وجود اور نام و نشان ہی باقی نہیں۔ جبکہ قرآن حکیم جوں کا توں باقی ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا۔ سو اب نور حق و ہدایت کا منبع ومصدر یہی کتاب حکیم ہے۔ اس کی حق و ہدایت کی دولت کا اور کہیں سے ملنا اب ممکن نہیں۔ سو جو لوگ اس کتاب حکیم پر ایمان سے محروم ہیں وہ یقینا نور حق سے محروم ہیں اور نور حق و ہدایت سے محرومی کا نتیجہ وانجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:71146 مومن آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں۔ یعنی ظاہری اسباب و وسائل کے درجے میں نہ کہ مافوق الاسباب طور پر۔ کہ یہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کی شان و صفت ہے۔ پس اہل بدعت کا اس طرح کی آیات کریمہ سے اپنے شرکیہ عقائد کے لئے استدلال کرنا باطل و مردود ہے۔ کیونکہ ماتحت الاسباب مدد کرنا اور چیز ہے اور مافوق الاسباب مدد بالکل دوسری چیز۔ اور دونوں کے درمیان بڑا فرق اور بون بعید ہے۔ اور ان دونوں کو ایک برابر سمجھنا جہالت اور خرد باختگی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِِ-ِ بہرکیف اہل ایمان کی صفات کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ دین و ایمان کی مقتضیات اور مطالبات کی تعمیل و تکمیل کے سلسلہ میں ایک دوسرے کے معاون و مددگار، دست وبازو اور ہمدرد و غمگسار ہوتے ہیں۔ مومن بندے جب اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو مومن بندیان ان کے لیے پاؤں کی زنجیر اور گلے کا پھندا نہیں بنتیں بلکہ وہ اس کے برعکس ان کی تایید وتقویت کا ذریعہ بنتی ہیں اور وہ اپنے ایثار، اپنی دعاؤں اور اپنی بےلوث وفاداری اور امانت داری سے ان کے جہاد میں ان کا تعاون کرتیں اور اس طرح وہ انکے ساتھ حصہ دار بن کر خود انکے اجر وثواب میں شریک بنتی ہیں۔ اور یہی تقاضا اور نتیجہ ہے ایمان و یقین اور دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
147 اہل ایمان کی خاص صفات اور ان کے انعام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ حکم دیتے ہیں نیکی کا اور روکتے ہیں برائی سے وہ قائم کرتے ہیں نماز کو اور ادا کرتے ہیں زکاۃ اور وہ حکم مانتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کا۔ سو ایسوں پر اللہ ضرور رحم فرمائے گا۔ سو حرف ِ " سین " یہاں پر تاکید کے لئے ہے اور حضرات علمائے کرام کا کہنا ہے کہ حرف سین اثبات میں ایسے ہی ہے جسے کلمہ " لن " نفی میں۔ یہاں تک کہ اس سے استقبال کے معنی کا لحاظ ختم ہوجاتا ہے اور یہ محض تاکید کے لئے رہ جاتا ہے جیسا کہ یہاں پر ہے۔ (الفتوحات الالہیتہ، جامع البیان وغیرہ) ۔ سو اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اہل ایمان کی بہرحال مدد کرتا ہے بشرطیکہ ایمان والے اپنے ایمان میں سچے ہوں۔ سو منافق مردوں اور عورتوں پر تو اللہ تعالیٰ کی لعنت و پھٹکار اور اس کی رحمت سے دوری و محرومی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایماندار مردوں اور عورتوں کے لیے اس کی رحمت و عنایت ہے ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 9:72148 اہل ایمان کے لیے عظیم الشان جنتوں کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے وعدہ فرما رکھا ہے ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں سے ایسی عظیم الشان جنتوں کا جن کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی طرح طرح کی نہریں جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا۔ سبحان اللہ کیا کہنے حضرت ِحق ۔ جل مجدہ ۔ کے اس کرم بےنہایت اور رحمت بےغایت کے کہ وہ جنتیں ایسی عظیم الشان اور وہاں کی وہ نہریں ایسی بےنظیر و بےمثال کہ اس جہاں میں ان کا تصور کرنا بھی کسی کے لئے ممکن نہیں۔ اور اس پر مزید عنایت اور کرم بالائے کرم یہ کہ ان دائمی اور ابدی نعمتوں بھری جنتوں میں رہنا بھی ہمیشہ ہمیش کے لئے نصیب ہوگا ۔ فَیَا لَہُ مِنْ کَرَمٍ وَاِحْسَانٍ ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ اَہْلِہَا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو اللہ تعالیٰ تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، لیکن اس کا خطرہ و خدشہ بہرحال ہے کہ اہل ایمان اس معیار پر پورے نہ اتر سکیں جو کہ اس کیلئے ضروری اور درکار ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رحمتوں اور عنایتوں کی راہوں پر مستقیم و گامزن رکھے ۔ آمین۔ سو اس سے جہاں ایک طرف ایمان کی عظمت شان کا پتہ چلتا ہے وہیں اس سے دوسری طرف یہ اہم اور بنیادی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جنت اور اس کی نعیم مقیم سے سرفرازی و بہرہ مندی کا تعلق حسب و نسب جیسی کسی غیر اختیاری چیز سے نہیں بلکہ اس کا دار و مدار انسان کے اپنے ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار پر ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
149 جنت سے سرفرازی سب سے بڑی کامیابی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی ہے بڑی کامیابی جو کہ حقیقی اور ابدی کامیابی ہے۔ جس جیسی دوسری کوئی کامیابی ممکن و متصور ہی نہیں۔ اور یہی وہ فوز عظیم ہے جس کے لئے انسان کو ہمیشہ اور ہر طرح سے سعی اور کوشش کرتے رہنا چاہیئے { لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ } ۔ { وَفِی ذَالِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَا فسسُوْنَ } ۔ اللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا التَّوْفِیْقَ لِذَالِکَ وَ السَّدَادَ وَالثَّبَاتَ عَلَیْہ ۔ سو یہاں پر حصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی ہے سب سے بڑی کامیابی، یعنی اس کے سوا دوسری کوئی کامیابی سرے سے کامیابی ہی نہیں ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف یہاں پر فرمایا گیا کہ جنت سے سرفرازی ہی اصل اور حقیقی کامیابی ہے۔ سو جن لوگوں نے دنیا کی دوسری مختلف کامیابیوں کو اصل مقصد سمجھ رکھا ہے اور وہ انہی کے لیے جیتے اور مرتے ہیں وہ سراسر دھوکے میں ہیں اور دنیا کی ان کامیابیوں کی حیثیت آخرت کے مقابلے میں بچوں کے کھیل سے زیادہ کچھ نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:73150 کفار اور منافقین دونوں سے جہاد کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جہاد کرو تم ان کافروں اور منافقوں سے اور سختی برتو ان سب کے ساتھ ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے وہ مگر یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ کھلے کفار سے جہاد تو توپ و تفنگ اور سیف وسنان وغیرہ وغیرہ سامان حرب و ضرب سے جہاد کرو اور چھپے کافروں یعنی منافقوں سے زبان وبیان اور تغلیظ کلام وغیرہ سے۔ نیز ان سے بھی سیف وسنان سے جہاد کرو جب کہ وہ اپنے کفر و نفاق کو ظاہر کردیں۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ بہرکیف کفار و منافقین سے جہاد کرنا مامور و مطلوب ہے کہ جرم کفر میں یہ دونوں ہی گروہ شریک وسہیم ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک کا کفر ظاہر و مکشوف ہے اور دوسرے کا مخفی و مستور۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:74151 جھوٹی قسمیں کھانا منافقوں کا وطیرہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے ایسے نہیں کہا حالانکہ انہوں نے یقینا کفر کی بات کہی اور انہوں نے کفر کیا اپنے اسلام کے بعد اور انہوں نے ٹھان لی تھی ایک ایسی بات کی جس کو یہ پا نہ سکے۔ جیسا کہ نیلگونی (بلی) آنکھوں والے ایک منافق نے حضور ﷺ کے پوچھنے پر جھوٹی قسم کھا کر کہا تھا۔ نیز جلاس بن سوید نے اپنی ایک کفریہ بات کا انکار کرتے ہوئے کہا تھا۔ اور جیسا کہ رئیس المنافقین ابن ابی بن سلول نے ایک موقع پر کہا تھا۔ مفسرین کرام نے ان مختلف واقعات کو اس آیت کریمہ کی شان نزول کے بیان میں ذکر فرمایا ہے مگر یہ سب ہی واقعات آیت کریمہ کے عموم میں داخل و شامل ہیں ۔ والتفصیل فی المفصلات ۔ و نذکرہ فی المفصل انشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف جھوٹی قسمیں کھانا منافقین کا ایک امتیازی وصف ہے۔ اور یہ ایک طبعی اور منطقی امر بھی ہے کہ ان کے دلوں کا چور ان سے کہتا ہے کہ تمہاری بات کا دوسروں کو چونکہ اعتبار نہیں۔ اس لیے تم قسمیں کھاؤ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ مومن صادق اپنے طور پر مطمئن ہوتا ہے۔ سو ایمان سکون واطمینان کا ذریعہ و وسیلہ ہے جیسا کہ کفر و نفاق کھٹکے کا باعث جیسا کہ صحیح حدیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
152 منافقوں کی منافقت کے ایک نمونے کا ذکر وبیان : سو اس سے منافقوں کی منافقت اور ان کی منافقانہ باتوں کا ایک مظہر اور نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔ روایات میں وارد ہے کہ ایک مرتبہ ایک جہنی اور ایک انصاری کی آپس میں لڑائی ہوگئی جس میں وہ جہنی اس انصاری پر غالب آگیا۔ تو اس موقع پر رئیس المنافقین ابن ابی بن سلول نے کہا کہ کیا تم لوگ اپنے ساتھی کی مدد نہیں کرتے ؟ قسم بخدا ہماری اور محمد کی مثال ایسے ہے جیسے کسی نے کہا تھا " سَمِّنْ کَلْبَکَ یَأکُلُکَ " " اپنے کتے کو موٹا کرو تاکہ کل وہ تم ہی کو کاٹ کھائے "۔ اور اب ہم جب مدینہ میں واپس پہنچیں گے تو ہم میں سے جو زیادہ عزت والا ہے وہ زیادہ ذلت والے کو وہاں سے نکال باہر کرے گا جیسا کہ سورة منافقون میں مذکور ہے { لَیُخْرِجَنَّ الاَعَزُّ مِنْہَا اْلاَذَلَّ } تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (روح، ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، محاسن اور صفوہ وغیرہ) ۔ سو یہ ہے منافقوں کی منافقانہ باتوں کا ایک نمونہ اور مظہر جس کا اظہار یہ لوگ اپنی مجلسوں میں کیا کرتے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہی حال کافروں اور منافقوں کا کل کی طرح آج بھی ہے ۔ اللہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
153 منافقوں کی بےانصافی اور نمک حرامی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے بدلہ نہیں لیا مگر اس بات کا کہ ان کو غنی بنادیا اللہ نے اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے۔ یعنی اللہ نے غنی کردیا ان کو اپنے فضل سے کہ فضل حقیقت میں اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اور اس نے اپنا یہ عظم الشان پیغمبر بھیج کر اس کے توسط اور اس کی بعثت کی برکت سے ان لوگوں کو تنگی سے نکال کر غنی بنادیا۔ اور نور ہدایت کی عظیم الشان اور بےمثال دولت کے علاوہ غنیمت وغیرہ کے مختلف ذرائع سے ظاہری اور مادی دولت سے بھی ان لوگوں کو مالا مال کردیا۔ روایات میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خود انصار کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا " اَ لَمْ تَکُونُوْا عَالَۃً فَاَغْنَاکُمُ اللّٰہُ بِیْ " الخ " کیا تم لوگ تنگ دست نہیں تھے، پھر اللہ نے تم کو میرے ذریعے غنی بنادیا ؟ "۔ سو یہ آپ ﷺ کی حیات طیبہ کا ذکر ہے جبکہ آپ ﷺ نے اس طرح کے ذرائع سے ان لوگوں کو مالدار اور غنی بنادیا تھا۔ جیسا کہ سلف و خلف کے تمام ثقہ مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ اور اسی جلاس بن سوید منافق کو، جو کہ بعد میں تائب ہو کر سچے مسلمان بن گئے تھے، اس سلسلہ میں خاص طور پر نوازا تھا کہ اس کو دیت کی ایک بھاری رقم دلوائی تھی۔ سو اس سے اہل بدعت کا اپنے شرکیہ عقائد کے جواز کے لئے دلیل کشید کرنا سراسر باطل و مردود ہے اور رسول اللہ ﷺ کا اپنا ارشاد جو ابھی اوپر بیان کیا گیا ہے وہ اس ارشاد ربانی کی بہترین شرح و تفسیر ہے۔ اس میں آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم لوگ تنگدست تھے تو میں نے تم کو غنی کردیا بلکہ یوں فرمایا کہ میرے ذریعے اللہ پاک نے تم کو غنی بنادیا " لَاغنَاکُمُ اللّٰہِ بِیْ " پس فضل بھی اللہ ہی کا ہے اور غنی بنانا بھی اسی وحدہ لاشریک کی شان اور اسی کی صفت ہے۔ پس اس میں مافوق الاسباب طور پر کسی اور کو شریک ماننا صحیح نہیں بلکہ یہ شرک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس آیت کریمہ میں جس اغناء و انعام کا ذکر ہے اس کا تعلق دراصل حیات دنیا میں اور ظاہری اسباب کے اعتبار سے ہے، جیسا کہ تمام ثقہ مفسرین کرام کی تفسیروں میں موجود و مذکور ہے۔ (روح، مدارک، خازن، ابن جریر اور ابن کثیر وغیرہ وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد میں ان بےانصاف اور ناشکرے منافق لوگوں کی تنگ ظرفی، کمینگی، بےانصافی اور ناشکری کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تو ان پر ایسے اور ایسے انعامات اور احسانات فرمائے گئے مگر انہوں نے اس کا حق یہ ادا کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے اور دن رات اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
154 توبہ کا فائدہ خود بندے کو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ توبہ کرلیں تو خود ان ہی کیلئے بہتر ہوگا : کہ اس کا فائدہ خود انہی کو پہنچے گا کہ اس سے ان کے یہ سنگین جرم معاف کر دئے جائیں گے۔ اور اس طرح یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی آغوش میں آجائیں گے کہ " تاب یتوب توبا و متابا " کے اصل معنیٰ لوٹنے اور رجوع کرنے کے آتے ہیں۔ سو بندہ جب کسی جرم و قصور کا ارتکاب کرلیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے اور اس کی رحمت و عنایت اس سے منہ موڑ لیتی ہے۔ لیکن جب وہ صدق دل سے توبہ کرکے اس کی بارگہ اقدس و اعلیٰ کی طرف لوٹتا ہے تو اس کی رحمت اس کو پھر اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ سو باب توبہ قدرت کی طرف سے ایک عظیم الشان عنایت اور رحمت ہے جو اس کے بندوں کو عطاء فرمائی گئی ہے۔ سو توبہ خود توبہ کرنے والے کے حق میں بہتر ہے کہ اس سے اس کے گناہوں کی وہ میل دھلتی اور صاف ہوتی ہے جسکے دھلنے اور صاف ہونے کا اور کوئی طریقہ ممکن ہی نہیں۔ اور توبہ کرنے کے بعد وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ جیسا کہ نبی معصوم کے ارشاد عالی میں فرمایا گیا۔ یعنی " گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں " بشرطیکہ توبہ صحیح معنوں میں توبہ ہو ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَہُوَ الْہَادِیْ اِلٰی سَوَائِ السَّبِیْلِ ۔ بہرکیف توبہ قدرت کی ایک عظیم الشان رحمت و عنایت ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ تاکہ وہ معاصی وذنوب کی میل سے پاک ہو سکیں ۔ والحمد للہ -
Ayahs 9:75–76155 ایک سبق آموز اور عبرتناک قصے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے شخص نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اللہ نے اپنے فضل سے ہمیں نواز دیا تو ہم خوب خیرات کریں گے اور بڑے نیک بن جائیں گے اپنے مال کو نیک کاموں میں صرف کر کے۔ کہ اس طرح ہم خوب ثواب کمائیں گے۔ روایات کے مطابق یہ آیات کریمہ ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئیں۔ عام روایات میں اسی کا ذکر ہے۔ جبکہ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ اس سے مراد وہ انصاری صحابی نہیں بلکہ یہ اسی نام کا کوئی اور شخص تھا (حاشیہ صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ جو بھی ہو ثعلبہ نامی اس شخص نے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! میرے حق میں اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بہت سا مال دے " اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَّرْزُقَنِیْ مَالاً " تو اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فہمائش کرتے ہوئے اس سے فرمایا کہ ثعلبہ تم پر افسوس ہے۔ وہ تھوڑا مال جس پر تم اللہ کا شکر ادا کرسکو اس کثیر مال سے کہیں بہتر ہے جس کا تم شکرنہ ادا کرسکو " وَیْحَکَ یَا ثَعْلَبۃَ قَلِیْلٌ تُؤَدِّیْ شُکْرَہٗ خَیْرٌ مِّنْ کَثِیْرٍ لَا تْطِیْقُہٗ " مگر اس کے باوجود اس شخص نے نہ مانا اور وہ پھر اپنی وہی طلب و درخواست دوہراتا گیا۔ تب آنحضرت ﷺ نے اس کے لئے یہ دعاء فرما دی۔ اس کے بعد اس شخص کی بکریاں بڑھنا اور پھیلنا شروع ہوگئیں اور ایسے جیسے کیڑے بڑھتے اور پھیلتے ہیں یہاں تک کہ اس کے لئے مدینے میں جگہ تنگ ہوگئی۔ تو اس نے مدینے سے باہر جا کر ایک وادی میں ڈیرہ ڈال دیا اور وہیں رہنے لگا۔ صرف جمعہ اور جماعت کے لئے مدینہ آتا یہاں تک کہ وہ جگہ بھی اس کے لئے تنگ ہوگئی تو وہ شخص اس سے بھی آگے نکل گیا اور صرف جمعہ کے لئے مدینے آتا اور بس۔ اور یہاں تک کہ اس سے جمعہ کی حاضری بھی چھوٹ گئی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور پھر زکوٰۃ فرض ہونے پر جب اس سے زکوٰۃ کا مطالبہ کیا گیا تو اس نے یہ کہہ کر زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا کہ " یہ تو جزیہ ہے " تو اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں۔ جب اس شخص کو اس کا پتہ چلا وہ چیختا چلاتا زکوٰۃ لے کرحضور ﷺ کی خدمت میں پہنچا تو آپ ﷺ نے اس کے لینے سے انکار کردیا۔ یہاں تک کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے انتقال فرما لیا۔ تو آپ ﷺ کے بعد یہ شخص اپنی زکوٰۃ لے کر حضرت صدیق اکبر ؓ اور پھر حضرت عمر فاروق ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان دونوں میں سے بھی کسی نے اسے قبول نہ کیا اور فرمایا کہ جس چیز کوحضور ﷺ نے قبول نہیں فرمایا اس کو ہم ایسے کیسے لے سکتے ہیں جبکہ اللہ کے رسول نے اس کے لینے سے صاف انکار فرما دیا ؟ یہاں تک کہ حضرت عثمان غنی ؓ کے دور خلافت میں یہ شخص مر کر اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ سو یہ ہے انجام اس مال کا جس کے لئے دنیا پرست انسان جیتا اور مرتا ہے اور دنیائے دوں کی اسی متاع قلیل کو سب کچھ سمجھ کر وہ عمر رواں کی اپنی پونجی اور فرصت محدود کو اسی کے لئے تج دیتا ہے۔ اور اس طرح وہ اپنی آخرت اور اس کی حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کے تقاضوں کو بھول کر دارین کی سعادت و سرخروائی سے محروم ہوجاتا ہے اور اس طرح خسران مبین میں مبتلا ہو کر رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے زیغ و ضلال اور انحراف سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ سو دنیا کے مال و دولت کی بنا پر مست و مگن اور مغرور ہو کر اپنے مآل و انجام کو بھول جانا بہت بڑے خسارے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 9:77156 برا عمل برے انجام کا باعث۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق کو بٹھا دیا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ برا عمل برے انجام کا باعث بنتا ہے۔ اور برائی کی نقد سزا کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ اس سے انسان نیکی اور بھلائی سے محروم ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ نیکی اور بھلائی کی ایک فوری اور نقد جزا یہ بھی ہے کہ اس سے انسان کو مزید نیکی اور بھلائی کا موقع ملتا ہے۔ روایات میں وارد ہے " اِنَّ مِنْ جَزَائِ الْحَسَنَۃِ الْحَسَنَۃ بَعْْدَہَا وَاِنَّ مِنْ جَزَائِ السَّیَّئَۃِ السَّیَّئَۃُ بَعْدَہَا " اور اسی لئے کہا جاتا ہے کہ گناہ کفر و نفاق کا ذریعہ اور راستہ ہیں " المعاصی برید الکفر " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں نیکی ہی نصیب فرمائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں برائی سے محض اپنے فضل و کرم سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے اللہ سے کیے ہوئے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی اور وہ برابر جھوٹ ہی بولتے گئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عمل کی پاداش میں ان کے دلوں کے اندر نفاق کی ایسی جڑ جما دی جو خداوند قدوس کے حضور ان کی پیشی تک اسی طرح جمی رہے گی اور وہ اسی وقت اکھڑیگی جبکہ جزائے اَعمال کا مرحلہ بالکل سامنے ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ بری نیت اور برے عمل کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
157 کذب بیانی کے ہولناک انجام کا ایک نمونہ : سو ایسے لوگوں کے اس ہولناک انجام کے سبب اور باعث کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا اس بنا پر ہوا کہ انہوں نے خلاف ورزی کی اللہ سے کیے گئے اپنے وعدی کی اور اس بنا پر کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے تھے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وعدہ خلافی کرنا اور جھوٹ بولنا کس قدر بڑے برے اور سنگین جرم ہیں کہ ان کا نتیجہ و انجام اس قدر برا اور ہولناک ہوتا ہے۔ اسی لئے صحیح احادیث میں ان باتوں کو منافقانہ خصلتوں میں شمار کیا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کذب بیانی کئی طرح کے مفاسد کی جڑ بنیاد ہے اور یہ نفاق کی علامتوں میں سے ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ چیز ان لوگوں کے اندر اتفاقا اور اچانک نہیں گھس آئی بلکہ یہ ان کے ایک دانستہ نقض عہد، طویل جھوٹ اور فریب کاری کا نتیجہ ہے۔ ان لوگوں نے اپنے اس نفاق کی رضاعت و پرورش اور اس کے پالنے پوسنے پر ایک مدت صرف کی جس سے نفاق کے اس شجرئہ خبیثہ کی جڑیں انکے اندر ایسی گہری ہوگئی ہیں کہ اس سے ان کی جان اب مر کے ہی چھوٹ سکے گی۔ لہذا تم ان کے بارے میں کسی اصلاح اور توبہ کی کوئی توقع نہ رکھو۔ ان کے دلوں کا یہ کثیف اور دبیز پردہ اسی وقت ہٹے گا جبکہ یہ اصل حقیقت کو سورج کی طرح اپنے سامنے دیکھیں گے اور پھر اس کے انجام بد سے ان کی گلو خلاصی کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 9:78158 علم غیب خاصہ خداوندی ہے : سو { وَاَنَّ اللّٰہَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ } کے جملے میں قاعدے کے مطابق مبتداء و خبر دونوں کی تعریف مفید حصر ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ ہی ہے سب غیبوں کو جاننے والا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ سب غیبوں کو جاننے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہذا اس کے سوا کسی بھی اور ہستی کو عالم غیب جاننا اور ماننا خواہ وہ کوئی نبی ہو یا ولی اس طرح کی آیات کریمہ کے خلاف اور شرکیہ عقیدہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو علم غیب خاصہ خداوندی ہے۔ اس میں کسی اور کو شریک ماننا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ شرک اور ظلم کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہر قدم اپنی رضا کے مطابق اٹھانے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 9:79159 منافقوں کے لیے بڑا ہولناک عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ سچے اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں مگر اللہ خود ان کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے بڑا دردناک عذاب ہے۔ اور اپنی اسی محرومی اور بےایمانی کی بنا پر یہ لوگ سچے مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ چناچہ غزوئہ تبوک کے موقع پر جب بعض صحابہ کرام اپنی ہمت و استطاعت کے مطابق اور اپنے جذبہ ایمانی کی بناء پر ڈھیروں مال لے کر حاضر ہوتے تو منافقین کہتے کہ یہ لوگ اپنی ناموری اور دکھلاوے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ اور جو غریب صحابہ اپنی گنجائش کے مطابق تھوڑا سا کچھ سامان پیش کرتے تو تب یہ لوگ ان پر اس طرح کے آوازے کستے کہ لو جی ! یہ صاحب بھی انگلی کٹاکر شہیدوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ منافقین کا یہ گروہ ایمان و اخلاص کی دولت سے خود محروم تھا اس لئے یہ دوسروں کے لئے بھی یہی کچھ سوچتا تھا کہ " الَاِنَائُ یَتَرَشَّحُ بِمَا فِیْہِ " " برتن سے باہر وہی کچھ ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے " اور بدظنی و بدگمانی ان کے دل و دماغ میں ایسی پیوست ہو کر رہ گئی تھی کہ کسی کے بارے میں بھی یہ لوگ حسن ظن سے کام نہیں لیتے تھے اور دوسروں کے ہر عمل کو خواہ وہ کتنے ہی صدق و اخلاص سے کیوں نہ کیا گیا ہو یہ لوگ غلط معنی پہناتے اور اس کا غلط مطلب نکالتے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ انسان ہمیشہ دوسروں کو اپنے اوپر قیاس کرتا ہے کہ جیسا میں ہوں اسی طرح دوسرے بھی ہیں۔ اور یہ منافق لوگ چونکہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم تھے اس لیے ان کی نگاہ میں ہر بات الٹی ہوگئی تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔