Ayahs 37:158–159103 مشرکوں کے ایک اور کفریہ اور شرکیہ عقیدے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے رشتہ داری قائم کر رکھی ہے اللہ اور جنوں کے درمیان "۔ یہاں پر " جن " کے معنیٰ میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں اس لفظ کے وہی مشہور اور متبادر معنیٰ مراد لئے جائیں جو کہ عام طور پر اس لفظ سے سمجھے جاتے ہیں تو بھی صحیح ہے کہ مشرکوں کے اندر یہ شرک بھی موجود تھا۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو خدائے پاک کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور جنوں کو ان کی مائیں کہتے تھے۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ یہاں پر اس لفظ کے لغوی معنی مراد لئے جائیں اور لغت کے اعتبار سے لفظ " جن " کا اطلاق فرشتے پر بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ لغت میں جن پوشیدہ مخلوق کو کہا جاتا ہے۔ یہ قول بھی سلف سے مروی و منقول ہے اور سیاق وسباق کے زیادہ مناسب بھی ہے۔ کیونکہ سلسلہ کلام فرشتوں سے متعلق ہی چل رہا ہے۔ بہرکیف حضرات مفسرین کرام سے یہ دونوں قول مروی و منقول ہیں کہ اس سے مراد جن ہیں یا فرشتے ۔ " وَالْمُرَادُ مِنَ الْجِنَّۃِ الْمَلٓئِکَۃُ سُمُّوْا جِنَّۃً لاِجْتِنَابِہِمْ مِّنَ الاَبْصَارِ " ۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، مدارک، معارف، جامع البیان اور محاسن التاویل وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال -
104 مدعی سست اور گواہ چست کی ایک مثال : سو یہ مدعی سست اور گواہ چست کی مثال ہے کہ یہ لوگ تو جنوں کو خدا کی خدائی میں شریک مانتے ہیں لیکن جن خود عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ خدا کی مخلوق ہیں۔ اور ان میں کے مجرم کل قیامت کے روز پکڑے ہوئے لائے جائیں گے۔ سو یہ مدعی سست گواہ چست والی بات ہوگئی کہ جن جنوں کی یہ لوگ خدا کے ساتھ رشتہ داری ثابت کرتے ہیں ان کا خود اپنا کہنا اور ماننا یہ ہے کہ ہمیں کل میدان حشر میں خدا وند تعالیٰ کے سامنے اپنے کئے کرائے کا حساب دینے کے لئے پیش ہونا ہے اور اپنے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہے۔ اور ہم میں سے جو مجرم قرار پائیں گے انہوں نے دوزخ میں جانا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر یہ عقل کے اندھے اور مت کے مارے ایسے ہیں کہ ان کی خدا سے رشتہ داری مان کر اور انکو خدا کی خدائی میں شریک جان کر ان کی پوجا کرتے ہیں۔ ان سے غیب کی خبریں پوچھتے ہیں اور انکو حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجتے پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 37:160–165105 صدق و اخلاص ذریعہ نجات و فلاح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " مجرم لوگوں کو کل قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی بارگہ میں پکڑا اور جکڑا ہوا حاضر کیا جائے گا سوائے اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے "۔ کہ وہ اس طرح کے شرکیہ عقائد سے بھی بچے رہیں گے اور اس کے نتیجے میں وہ دوزخ کے عذاب سے بھی محفوظ رہیں گے اور نجات سے بہرہ ور ہوں گے۔ (المراغی، الجامع وغیرہ) ۔ سو یہ استثناء ۔ { اِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ۔ سے ہے۔ کیونکہ " محضرون " کے اندر یہ مفہوم موجود ہے کہ مجرموں کو خدا کے حضور گرفتار کرکے پیش کیا جائے گا۔ اس لیے اس استثناء کے ذریعے یہ بات واضح فرما دی کہ اس سے صرف وہی لوگ بچ سکیں گے جن کو اللہ تعالیٰ اپنی توفیق بخشی سے اور اپنی سنت کے مطابق اپنی اطاعت و بندگی کیلئے خاص کرلے کہ وہ شیطان کے فنتوں سے محفوظ رہیں گے۔ اور مخلصین سے مراد اللہ کے وہی خاص اور چنے ہوئے بندے ہیں جو اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں پر ایمان رکھتے اور ان کی پیش کردہ تعلیمات مقدسہ کی اتباع اور پیروی کرتے ہیں۔ ( ابن کثیر اور مراغی وغیرہ ) ۔ سو ایسے ہی نیک بخت اور پاک طینت لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی خاص عنایات اور نوازشات کے لیے چنتا اور منتخب فرماتا ہے اور اللہ پاک ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کا یہ انتخاب ایسے لوگوں کے صدق و اخلاص ہی کی بنا پر ہوتا ہے۔ پس صدق و اخلاص اور ایمان و یقین ہی ذریعہ فوز و فلاح اور باعث نجات ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ تعالیٰ صدق و اخلاص سے ہمیشہ سرشار رکھے، اور اس پیمانے پر جو اس کے یہاں مطلوب ہو ۔ آمین۔
Ayahs 37:166–168109 فرشتوں کا کام اپنے رب کی تسبیح کرنا : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہمارا کام تو تسبیح کرتے رہنا ہے اپنے رب کی "۔ یعنی اللہ پاک کی پاکی بیان کرنا ہر نقص و عیب اور ہر طرح کی خامی و کمزوری سے۔ نیز ہر قسم کے شرک اور اس کے شوائب سے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو خداوند قدوس کی خدائی میں شرکت تو دور کی بات ہے ہم تو ہمیشہ اس کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تسبیح میں اللہ پاک کی تنزیہ کا پہلو غالب ہوتا ہے۔ یعنی اللہ پاک کو ان تمام باتوں سے منزہ اور اعلیٰ وارفع قرار دینا جو اس کی شان کے منافی ہیں۔ پس وہ شرک کے ہر شائبے سے پاک ہے۔
Ayah 37:169110 انسان کی ناشکری اور بےقدری کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تو (آپ کی بعثت سے پہلے اے پیغمبر) بڑا زور دے کر کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی ذکر ہوتا پہلے لوگوں سے تو یقینا ہم بھی اللہ کے چیدہ بندوں میں سے ہوجاتے۔ مگر اس کے باوجود جب ان کے پاس یہ عظیم الشان کتاب ہدایت آگئی تو انہوں نے اس کا صاف اور صریح طور پر انکار کردیا۔ اس سے انسان کی بےقدری اور ناشکری کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے کہ پہلے تو یہ لوگ خود آسمانی کتاب کی آرزو اور تمنا کیا کرتے تھے اور اب جبکہ یہ عظیم الشان کتاب ان کے پاس آچکی ہے یہ اس کے انکاری ہوگئے ہیں۔ جیسا کہ سورة اَنعام کی آیت نمبر 106، 107 اور سورة فاطر کی آیت نمبر 42 میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو یہ انسان بڑا ہی بےقدرا اور ناشکرا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ { اِنَّ الاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ } ۔ کہ جب نعمت نہیں ملی ہوتی تو ایسے لوگ اس کی تمنا اور آرزو کرتے ہیں۔ لیکن جب مل جاتی ہے تو یہ اس کے منکر ہوجاتے ہیں۔ سو یہ ایسے منکرین کے رویہ کفر و انکار کا ایک نمونہ ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 37:170–171111 منکرین کا انکار حق اور کفران نعمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر بھی انہوں نے اس کتاب ہدایت کے آنے پر کفر و انکار ہی سے کام لیا "۔ سو یہ انسانی نفسیات اور خاص کر منکر انسان کی نفسیات اور اس کی طبعی افتاد کا ایک عام مظہر و نمونہ ہے جو ہمیشہ رہا ہے کہ جب اس کو نعمت نہیں ملتی تو یہ اس کی تمنا اور آرزو کرتا ہے۔ مگر جب وہ نعمت اسے میسر آجاتی ہے تو یہ اس کی ناقدری کرتا اور انکار سے کام لیتا ہے۔ اس کی یہی نفسیات اس کی زندگی میں ہمیشہ کارفرما رہی۔ کل بھی یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نعمت کی قدر پہچاننے والے اور اسکا حقِّ شکر ادا کرنے والے کم ہی لوگ ہوتے ہیں۔ پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے پہلے تو یہ لوگ بڑے زور و شور سے کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی تعلیم ہوتی یا ہمارے پاس اللہ کا کوئی رسول آیا ہوتا تو ہم اللہ تعالیٰ کے نہایت خاص بندے بن کر دکھا دیتے۔ لیکن جب اللہ کا رسول ان کے پاس پہنچ گیا اور دین حق ان کو اپنی کامل اور آخری شکل میں مل گیا تو یہی لوگ سب سے بڑھ کر اس کے منکر اور اس کے دشمن بن گیے۔ سو یہ انسان کی ناشکری اور بےانصافی و بدبختی کی ایک تباہ کن نفسیات ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 37:172–173112 اللہ کے رسولوں کی مدد کا قطعی وعدہ : سو اس بارے میں صاف وصریح اور قطعی وعدہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہمارے رسولوں ہی کی مدد ہوگی "۔ تاکید در تاکید ملاحظہ ہو کہ حرف تاکید، لام تاکید اور جملہ اسمیہ جو دوام و استمرار پر دلالت کرتا ہے اور رسل کرام کی یہ نصرت و مدد ہمیشہ رہی۔ حجت وبرہان کے اعتبار سے تو وہ ہمیشہ ہی غالب و منصور رہے۔ ان کے لائے ہوئے پیغام حق میں کبھی کوئی شائبہ نقص ثابت نہیں کیا جاسکا۔ قلوب سلیمہ میں سچی عزت و عظمت بھی ہمیشہ انہی کی رہی۔ ان کی زندگیوں میں بھی اور ان کے بعد بھی قیامت تک۔ اور پھر آخرت میں ان کے مقامات رفیعہ کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے۔ رہ گیا دنیا کا سیاسی غلبہ تو یہ بھی اگرچہ بہتوں کا حاصل ہوا مگر جہاں نہیں بھی ہوا تو وہاں ان دوسری حکمتوں کی بناء پر نہیں ہوا جن کا احاطہ اللہ پاک کا علم کامل ہی کرسکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور انجام کار کامیابی بہرحال رسولوں ہی کی ہے کہ غلبہ بہرحال حق ہی کا ہوتا ہے۔ اور ناکامی و رسوائی انکے مخالفوں اور منکروں کیلئے ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس انجام کی طرف اشارہ فرما دیا گیا جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازما دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اور اس سے مقصود قریش کے منکرین کو تنبیہ کرنا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو اللہ تعالیٰ کی وہی سنت ان کے حق میں بھی ظاہر ہوگی جو اس سے پہلے دوسرے منکرین و مکذبین کے حق میں ظاہر ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکسان ہے ۔ { وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً } ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 37:174114 پیغمبر کو صبر و انتظار کی تعلیم و تلقین : سو پیغمبر کو تسلی دیتے ہوئے اور آپ کو صبر و انتظار کی تعلیم و تلقین کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ پس آپ انکو انکے حال پر چھوڑ دیں ایک خاص وقت تک۔ یعنی ان کی زیادہ فکر نہ کیجئے بلکہ عفو و درگزر ہی سے کام لیجئے اور انکا معاملہ اللہ ہی کے حوالے کرکے اسی پر بھروسہ رکھیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَدَعْ اَذٰہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ } ۔ ( الاحزاب : 48) نیز دوسری جگہ صفح جمیل کا حکم فرمایا گیا۔ سو ارشاد ہوتا ہے ۔ { فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْل } ۔ (الحجر : نمبر 85) یعنی " آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں " کہ یہ لوگ اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے۔ پس آپ ان کی زیادتیوں پر صبر و برداشت ہی سے کام لیں تاکہ اللہ کی حجت ان پر تمام ہوجائے۔ یہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھرلیں پھر اس کے نتیجے میں یہ لوگ اپنے مصیرمحتوم اور انجام اخیر کو پہنچ کر رہیں۔ اور یہ اپنا انجام خود دیکھ لیں گے کہ وہ کس شکل میں ان کے سامنے آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر شکل اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 37:175–178115 انجام کے انتظار کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ دیکھتے رہو ان کے انجام کو عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے اپنے انجام کو "۔ یعنی اپنے وقت مقرر پر۔ اور وہ دور نہیں۔ کبھی بھی آسکتا ہے۔ پس یہ لوگ اس کی جلدی مچانے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر کریں کہ عقل و خرد اور ہوش مندی کا تقاضا یہی ہے اور یہی ہوسکتا ہے کہ انسان اس آخری انجام کے آنے سے پہلے اس سے بچنے کی فکر و کوشش کرے ورنہ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد میں انجام کے انتظار کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جب یہ ہٹ دھرم لوگ ماننے کو تیار نہیں تو ان کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دو کہ عنقریب یہ خود ہی دیکھ لیں گے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ سو اس کے کچھ عرصے بعد انہوں نے حق کے غلبے اور اپنی شکست کو اپنی کھلی آنکھوں سے خود ہی دیکھ لیا۔ چناچہ اس کے کوئی چودہ پندرہ سال بعد ہی انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول فاتحانہ طور پر مکہ میں داخل ہو رہے ہیں اور پھر اس کے چند ہی سال بعد ان لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ اسلام نہ صرف عرب پر بلکہ روم و ایران کی عظیم سلطنتوں پر بھی غالب آ رہا ہے جبکہ وہ ہمیشہ ہمیش کے خسارے میں مبتلا ہو کر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 37:179117 انجام کے انتظار کے لیے تاکید مکرر : سو پیغمبر کو خطاب کر کے دوبارہ تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے "۔ سو تکرار کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ہے تاکہ ان سرکشوں کے لئے تہدید اور آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے لئے تسلی مزید کا سامان ہو سکے ۔ " تہدیۃ و تسلیۃ للرسول صلی اللّہُ علیہ وسلم " ۔ (صفوۃ التفاسیر ج 3 ص 47 وغیرہ) ۔ سو اس میں پیغمبر کو تسلی دی گئی کہ کچھ ہی عرصہ انکے عناد و ہٹ دھرمی اور ان کی ژاژ خائیوں کو نظرانداز کرو۔ عنقریب ہی نتیجہ وانجام سب کے سامنے آجائے گا جس کو آپ بھی دیکھ لیں گے۔ جس سے ظاہر ہے کہ آپ عظیم الشان خوشی اور مسرت سے سرشار ہوں گے۔ اور یہ بھی دیکھ لیں گے جب ان کی ذلت و رسوائی اور حسرت و مایوسی کی کوئی حد باقی نہیں رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس میں کفار و منکرین کے لیے بڑی دھمکی ہے کہ وہ وقت جلد ہی پہنچنے والا ہے جبکہ تم لوگ اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ لو گے جس سے تمہیں خبردار کیا جاتا رہا ہے۔ تب تمہیں سب کچھ خود معلوم ہوجائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 37:180–181118 حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی تنزیہ و تقدیس کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پاک ہے تمہارا رب عزت کا مالک ان تمام باتوں سے جو کہ یہ لوگ بناتے ہیں "۔ یعنی مشرکین عرب اور دوسرے گمراہ لوگوں نے خدا وند تعالیٰ کے لئے جو جو تصورات اپنی عقل و فکر کے مطابق قائم کر رکھے ہیں وہ ان سب سے منزہ و پاک اور وراء الوراء اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جو کہ تمام عزت و اقتدار کا حقیقی مالک ہے اور اس نے ایسے لوگوں کو ان خرافات سے آگاہ اور انکے نتائج سے باخبر کردیا۔ اب اگر وہ ان باتوں سے باز نہیں آئے تو اسکا انجام وہ خود دیکھ لیں گے۔ سو جب وہ رب ہے سب کا اور عزت و عظمت کا اصل اور حقیقی مالک بھی وہی ہے۔ اور یہ شان اس وحدہ لا شریک کے سوا اور کسی کی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے تو پھر اس میں کسی شائبہ نقص و عیب یا کسی شمہ شرک و اشتراک کا کوئی سوال ہی کیسے پیدا ہوسکتا ہے ؟۔ پس جن لوگوں نے اس کے لیے اولاد تجویز کی یا فرشتوں کو اس کی بیٹیاں قرار دیا وغیرہ ان سب نے بکواس کیا اور ظلم کا ارتکاب کیا۔ وہ ایسے تمام تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 37:182120 تعریف کا اصل حقدار اللہ تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا " سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو کہ پروردگار ہے سب جہانوں کا "۔ ہر حمد و شکر کا حقدار و سزاوار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس لیے وہ حق و باطل کی کشمکش میں لازماً حق کا بول بالا کرے گا۔ اور جب وہ ہمارا اور سب جہانوں کا پروردگار ہے تو اس کی پروردگاری کا لازمی تقاضا ہے کہ اس دنیا میں بھی اسکا عدل ظاہر ہو اور آخرت میں بھی اس کے عدل کا کامل ظہور ہو۔ یہی اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے اور اسی بنا پر وہ سزاوار حمد و ثنا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جہاں بھی کوئی خوبی و کمال کسی بھی شکل میں موجود ہے وہ سب اسی کا کمال اور اسی کی ربوبیت مطلقہ کا تقاضا و نتیجہ ہے۔ اس لیے ہر قسم کے شکر و ثنا اور ہر طرح کی عبادت و بندگی کا اصل حقدار وہی اور صرف وہی ہے اس کے سوا کسی کے لیے بھی عبادت و بندگی کی کوئی بھی قسم کسی بھی شکل میں بجالانا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ ۔ اکبر الکبائر۔ اور ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ شرک کے ہر شائبے سے محفوظ اور ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -