37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 37:41–42

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

ان کے لئے ایک ایسا رزق ہوگا جو کہ معلوم ہے

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

یعنی لذت کی طرح طرح کی چیزیں اور ان کو عزت سے رکھا جائے گا

27 جنتیوں کے لیے رزق معلوم کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسوں کیلئے رزق معلوم ہوگا "۔ یعنی اس کی اصل اور حقیقت تو اللہ پاک ہی کے علم میں ہے کہ جنت کی تعریف میں ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنِْ قُرَّۃِ اَعْیُن } ۔ مگر اس کی کچھ صفات و خصوصیات قرآن و سنت میں بتادی گئی ہیں تاکہ اہل جنت کو وہاں پر توحش نہ ہو انس ہو۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { وَاُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِہَا } ۔ بطور مثال اس کی صفات و خصوصیات میں سے یہ ہے کہ وہاں کا کھانا پینا بھوک پیاس رفع کرنے کے لئے نہیں بلکہ محض تلذذ کے طور پر ہوگا۔ اسی لئے اس کو " فَاکِہَۃ " اور " فَوَاکِہ " کے الفاظ سے تعبیر فرمایا جاتا ہے۔ وہ صبح و شام ملے گا ۔ { وَلَہُمْ رِزْقُہُمْ فِیْہَا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّا } ۔ وہ تعب و مشقت کے بغیر ملے گا۔ وہ مانگنا نہیں پڑے گا بلکہ خواہش و ارادہ ہوتے ہی مل جائے گا وغیرہ وغیرہ ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو جنت کی نعمتوں کی اصل حقیقت تو وہیں معلوم ہوسکے گی لیکن جو کچھ ان کو دیا جائے گا وہ ان کی پسند اور انکے انتخاب کے مطابق ہوگا۔ اور انہی ناموں کے مطابق ہوگا جن سے یہ لوگ دنیا میں متعارف تھے تاکہ انکو دیکھ کر انہیں کسی طرح کا کوئی انقباض اور توحش نہ ہو کہ ہر چیز ان کی جانی پہچانی ہوگی۔ البتہ معیار ہر چیز کا وہ ہوگا جو جنت اور اہل جنت کیلئے خاص ہوگا۔ اور اپنی جانی پہچانی چیز کو دیکھ کر ان لوگوں کی خوشی دوبالا ہوگی اور یہ پکار اٹھیں گے کہ یہ تو وہی چیز ہے جو ہمیں اس سے پہلے دی گئی۔ جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت نمبر 25 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ جبکہ دوزخیوں کا حال اس کے برعکس یہ ہوگا کہ دوزخ کے داروغے جب اور جو انکے جی میں آئے گا انکے آگے پھینک ماریں گے۔ اور جو چیزیں انکے آگے پھینکیں گے وہ ہونگی بھی ایسی کہ ایک سے ایک بڑھ کر ان کیلئے بری اور اجنبی ہونگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جنت کی ان عظیم الشان اور بےمثال نعمتوں سے سرفرازی ہی کو اپنا اصل مقصد اور مطمح نظر بنانا چاہیے نہ کہ دنیا کے متاع فانی اور حطام زائل کو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال فی الحیاۃ۔
Ayah 37:43

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

ان نعمت بھری جنتوں میں2

28 اہل جنت کے سامانہائے لذت اور ان کے اعزازو اکرام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کیلئے لذت کی طرح طرح کی چیزیں بھی ہونگی اور ان کو خاص اعزازو اکرام سے بھی نوازا جائے گا "۔ سو یہ اس رزق معلوم کی ایک اہم صفت اور امتیازی شان کا بیان ہے کہ وہ بھوک پیاس رفع کرنے کے لئے نہیں کھایا جائے گا کہ وہاں بھوک پیاس ہوگی ہی نہیں کہ اس کی شان ہے ۔ { اَلاَّ تَجُوْعَ فِیْہٰا } ۔ اور نہ وہاں پر صحت اور قوت کے لئے کھایا جائے گا۔ جیسا کہ دنیا میں کھایا جاتا ہے کہ ان کو ضعف و بیماری وغیرہ کا کوئی عارضہ سرے سے لاحق ہی نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان کو ایک نئی پیدائش اور نئی اٹھان کے ساتھ ابدی زندگی اور خلود و دوام کے لئے پیدا کیا جائے گا۔ اس لئے ان کا کھانا محض لذت حاصل کرنے کے لئے ہوگا۔ اسی لئے اس کو قرآن حکیم میں " فاکہہ " اور " فواکہ " کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ " فاکہہ " اور " فواکہ " چونکہ پھلوں کو بھی کہا جاتا ہے اور ہمارے عام اردو تراجم میں اس لفظ کا ترجمہ چونکہ عام طور پر پھلوں اور میووں سے ہی کیا جاتا ہے، اس لئے اس سے عام طور پر یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ اہل جنت کو کھانے کے لئے شاید پھل ہی ملیں گے اور بس۔ حالانکہ پھل اور میوہ وغیرہ " فاکہہ " اور " فواکہ " کے لفظ کا اصل ترجمہ و مفہوم نہیں بلکہ یہ مفہوم اس کے ایک لازمی معنیٰ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ پھل بھی اصل میں لذت اور مزے ہی کے لئے کھائے جاتے ہیں نہ کہ پیٹ بھرنے اور بھوک مٹانے کے لئے۔ اس لئے جنت کی ان نعمتوں کو اس لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ انکا استعمال لذت کیلئے ہوگا۔ ورنہ لفظ " فاکہہ " کا اصل معنیٰ ہے ۔ " کُلُّ طَعَام یُوْکَلْ للتّلَذُّذ لا للقُوّۃ " ۔ (خازن، کشاف، بیضاوی، کبیر، مراغی، جامع اور صفوۃ وغیرہ) ۔ اور " فواکہ " کی جمع تنویع کے لئے ہے۔ اسی لئے اس کے اظہار کے لئے ہم نے اس کا ترجمہ " لذت کی طرح طرح کی چیزیں " سے کیا ۔ والحمد للہ ۔ اور اہل جنت کو یہ سب پیش بھی نہایت عزت و احترام سے کیا جائے گا جبکہ دوزخیوں کو نہایت ذلت کے ساتھ دوزخ کے باڑے میں بھر دیا جائے گا۔ جیسا کہ آیت نمبر 18 میں گزرا۔ اور انکو کھانے کیلئے زقوم اور پینے کیلئے کھولتا ہوا پانی دیا جائیگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 37:44–47

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے عظیم الشان تختوں پر

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

ان کے سامنے دور چل رہا ہوگا ایسے عظیم الشان جامہاے شراب کا جن کو بھر بھر کر لایا جا رہا ہوگا ایک عظیم الشان چشمے سے

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

ایسی شراب جو کہ سفید (اور چمکتی) ہوگی

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

سراسر لذت (و سرور) ہوگی پینے والوں کے لئے نہ تو اس میں کوئی خرابی ہوگی اور نہ ہی اس سے ان میں کسی طرح کا کوئی فتور آئے گا

29 اہل جنت کی باہمی محبت اور خوش دلی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ عظیم الشان تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے "۔ یعنی وہاں کی نعمتوں، راحتوں اور باہمی محبت و الفت کا یہ عالم ہوگا کہ ایک دوسرے کی طرف پیٹھ بھی نہیں کی جائے گی۔ (جامع، قرطبی، صفوۃ وغیرہ) ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی شان ہوگی اس جنت کی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ سو آمنے سامنے بیٹھنے میں باہمی محبت اور خوش دلی کا اظہار ہوتا ہے۔ کیونکہ جہاں ایک دوسرے کیخلاف دل میں رنجش اور کدورت ہوتی ہے وہاں آدمی ایک دوسرے سے منہ پھیر کر بیٹھتا ہے۔ مگر اہل جنت کے دل چونکہ ایک دوسرے سے بالکل صاف ہوں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُوْرِہِمْ مِنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُتَقَابِلِیْنَ } ۔ (الحجر : 47) ۔ اس لیے وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے بیٹھیں گے جس سے باہمی الفت و محبت کا اظہار ہو رہا ہوگا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ اور عظیم الشان تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھنا ان کے انتہائی آرام و سکون اور راحت البالی کا ثبوت ہوگا۔ اور " جنات النعیم " یعنی نعمتوں بھری ان جنتوں میں وہ ہمیشہ اسی طرح آرام و سکون کے ساتھ رہیں گے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین -
Ayah 37:48

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی بڑی خوبصورت آنکھوں والی ایسی (عظیم الشان اور بےمثال) عورتیں ہونگی

32 اہل جنت کی عورتوں اور ان کی عظمت شان کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انکے پاس اپنی نگاہوں کو بچائے رکھنے والی خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہونگی "۔ یعنی وہ حوریں اور اہل جنت کی دنیا والی وہ بیویاں جن کو جنت میں جانا نصیب ہوگا۔ وہ پاک دامن ایسی ہوں گی کہ اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی۔ اور روایات کے مطابق ان کے خاوندوں کو بھی ایسا حسن و جمال نصیب ہوگا کہ ان کی نظروں میں ان سے زیادہ کوئی جمال و کمال والا ہوگا ہی نہیں۔ نیز وہ حسن و جمال کے ایسے مقام پر ہوں گی کہ ان کے شوہروں کی نظریں بھی ان کے سوا کسی اور کی طرف اٹھنے ہی نہ پائیں گی۔ اس طرح وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کے علاوہ اپنے شوہروں کی نگاہیں بھی نیچی رکھنے کا ذریعہ بن جائیں گی۔ اور طرفین سے کامل توافق کی وہ عظیم نعمت حاصل ہوگی جو کہ خوشگوار ازدواجی زندگی میں سب سے اہم اور بنیادی عنصر ہے۔ (زادالمسیر، قرطبی وغیرہ) ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ سو عفت و پاکدامنی اور اپنی نگاہوں کی حفاظت عورت کی اصل قیمت اور اس کی اعلیٰ صفت ہے۔ اور جنتی عورتوں میں یہ صفات بدرجہ تمام و کمال پائی جائیں گی۔
Ayahs 37:49–53

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

کہ گویا کہ وہ انڈے ہیں پردوں میں رکھے ہوئے3

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر وہاں پر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں بات چیت کریں گے

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

(اسی دوران) ان میں سے ایک کہے گا (یار دنیا میں) میرا ایک ہم نشین ہوا کرتا تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

جو مجھ سے کہا کرتا تھا کہ کیا تم بھی (مرنے کے بعد جی اٹھنے کی) تصدیق کرتے ہو ؟

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

کیا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو کیا واقعی ہمیں (دوبارہ زندہ کر کے بدلہ دیا جائے گا ؟

33 حوران جنت کی ایک خاص صفت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " گویا کہ وہ انڈے ہیں پردوں میں رکھے ہوئے " رنگ کی صفائی اور عمدگی میں۔ اور بعض مفسرین نے اس سے شتر مرغ کا انڈہ مراد لیا ہے کہ اس میں یہ وصف زیادہ نمایاں اور واضح ہوتا ہے۔ (روح، قرطبی، کبیر وغیرہ) ۔ اور اس سے شترمرغ کے انڈے مراد لینے کے اس احتمال کی تایید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اہل عرب اپنے کلام میں نازنینوں کو اکثر و بیشتر شترمرغ کے انڈوں ہی سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ اور شترمرغ کے انڈے سے اس تشبیہہ میں ایک اور خاص پہلو یہ ہے کہ عرب لوگ اپنی کنواری لڑکیوں کی حفاظت اور پاکدامنی کے سلسلے میں انکو شترمرغ کے انڈوں سے تشبیہ اس لیے دیا کرتے تھے کہ شترمرغ اپنے انڈوں کی حفاظت کیلئے اپنی جان لڑا دیتا ہے۔ سو اس تشبیہ میں وہ عورتوں کی عفت، صیانت اور رنگ تینوں چیزوں کا لحاظ کرتے تھے اور " مکنون " میں ان کے اچھوتے پن کی طرف اشارہ ہے۔ سو جنت کی وہ عورتیں اپنے حسن ظاہر اور اپنی عفت اور پاکدامنی کی باطنی خوبیوں کے اعتبار سے بےمثال ہونگی ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ سو حسن ظاہر کے ساتھ ساتھ حسن باطن یعنی ان کی عفت و پاکدامنی کا بھی پایا جانا اور بدرجہ تمام و کمال پایا جانا حوران جنت کا ایک ایسا خاص وصف اور ان کی ایک ایسی امتیازی شان ہوگی جو ان کے سوا اور کہیں نہ کبھی پائی گئی ہے اور نہ کبھی پائی جانی ممکن ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 37:54

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

اس پر حق تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کیا تم لوگ اس شخص کو دیکھنا چاہتے

34 اہل جنت کے ایک باہمی مکالمے کا ذکر : سو اس سے اہل جنت کے ایک باہمی مکالمے اور اس پر حق تعالیٰ کے ان سے ارشاد کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو جنتی شخص جب اپنے اس دنیاوی ساتھی کو یاد کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تم لوگ اس کو دیکھنا چاہتے ہو ؟ یعنی ادھر اس جنتی نے یہ بات کہی اور ادھر حق تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد فرما دیا گیا۔ دوسرا حتمال اس میں یہ ہے کہ اس قال کا فاعل و قائل خود وہی جنتی شخص ہو۔ آیت کریمہ کے اندر دونوں احتمال موجود ہیں۔ اور معنیٰ دونوں صورتوں میں صحیح ہے۔ اور حضرات مفسرین کرام سے یہ دونوں ہی قول منقول و مروی ہیں۔ (جامع البیان، خازن اور بیان القرآن وغیرہ) ۔ بہرکیف اہل جنت جب امن و سکون اور آرام و راحت کے ساتھ جنت کے ان تختوں پر ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے تو اس وقت انکے درمیان یہ مکالمہ جاری ہوگا جس کا حوالہ یہاں دیا جا رہا ہے۔ اور دنیا میں حق کی خاطر انکو جن مزاحمتوں سے واسطہ پڑا ہوگا اور اس میں انکو جو کامیابیاں نصیب ہوئی ہونگی انکو یاد کرکے ان پر مسرت و شادمانی کی ایک خاص کیفیت طاری ہوگی۔ اسی کا یہاں ذکر فرمایا جا رہا ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayahs 37:55–56

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

پھر وہ جونہی (اس کو دیکھنے کے لئے) جھانکے گا تو اس کو وہ جہنم کی بھڑکتی آگ کے عین درمیان میں دیکھے گا

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

(اور اس کو خطاب کر کے) کہے گا اللہ کی قسم تو تو قریب تھا کہ مجھے ہلاکت میں ڈال دیتا (راہ حق سے بہکا کر)

35 جنتیوں کے لیے دوزخیوں کو دیکھنے کا موقع : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ شخص اپنے اس ساتھی کو دیکھنے کے لیے دوزخ کی طرف جھانکے گا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ جنت بہت عالی مقام پر ہوگی جہاں سے اہل جنت جھانک کر اہل دوزخ کو دیکھیں گے کہ دوزخ بہت نیچے ہوگی۔ (معارف للکاندھلوی وغیرہ) ۔ سو اہل جنت میں ایک صاحب اپنے پاس بیٹھے ہوئے دوسرے ساتھیوں سے اپنے ماضی کی سرگزشت سناتے ہوئے کہیں گے کہ دنیا میں میرا ایک ملنے والا ہوتا تھا جو مجھ سے بڑے تعجب سے کہا کرتا تھا کہ کیا تم بھی ان لوگوں میں سے ہو جو قیامت کو مانتے ہیں ؟ کیا ہم جب مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو ہمیں اپنے اعمال کی جزا و سزا کیلئے دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا جیسا کہ منکر لوگوں کا کہنا ہمیشہ رہا ہے۔ سو اپنے اس منکر ساتھی کو یاد کرنے اور اس کے حال بد کو دیکھنے اور اس کے حال کا اپنے حال سے مقابلہ کرنے سے جو خوشی اور مسرت اس جنتی خوش نصیب کو ہوگی اس کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے ؟ سو اہل جنت کی خوشیاں ہمیشہ بڑھتی اور دوبالا ہوتی رہیں گی ۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین - 36 منکرِ حق دوزخ کے عین بیچ میں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جونہی وہ جنتی شخص اپنے اس منکر حق ساتھی کو جھانک کر دیکھے گا تو وہ اس کو دوزخ کی دہکتی آگ کے عین درمیان میں پائے گا۔ سو اس سے اہل جنت کی غیر معمولی قوتوں اور صلاحیتوں کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے۔ پس اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اہل جنت کے قویٰ کس قدر عالی و قوی ہوں گے کہ دوزخ کی طرف نہایت دوری سے جھانکتے ہی وہ اس میں پڑے ایک دوزخی کو فوراً دیکھ لے گا ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے جنت اور اس کی نعمتوں کے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو وہ اپنے تختوں پر بیٹھے بیٹھے جسکو چاہیں گے دیکھ لیں گے خواہ وہ کتنا ہی دور کیوں نہ ہو اور اس سے بات بھی کرلیں گے۔ اور وہ دوزخیوں کو ایسے احوال کے مقابلے میں جب ان نعمتوں کو دیکھیں گے جن سے وہ سرشار و مالامال ہوں گے تو ان کا لطف و سرور دوبالا ہوتا جائے گا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayahs 37:57–58

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اور اگر میرے رب (مہربان) کا فضل میرے شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی یقینی طور پر آج ان لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

(پھر وہ جنتی اپنی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ایک کیف کے عالم میں کہے گا کہ) کیا واقعی اب ہمیں موت نہیں آئے گی

37 ہر نعمت اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم سے : سو اس موقع پر وہ جنتی شخص اپنے اس دوزخی ساتھی اور اس کے حال بد کو دیکھ کر اور سراپا شکر وسپاس بن کر خطاب کر کے کہے گا کہ اللہ کی قسم تو تو قریب تھا کہ مجھے ہلاکت میں ڈال دیتا۔ اور اگر میرے رب کریم کا فضل و کرم مجھ پر نہ ہوتا تو یقینی طور پر میں بھی آج ان لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں۔ سو اس ارشاد سے واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کو ہر نعمت نصیب ہوتی اللہ ہی کے فضل وکرم سے ہے۔ پس دین و دنیا کی جو بھی کوئی نعمت کسی انسان کو میسر ہوتی ہے وہ دراصل اللہ پاک ہی کے فضل و کرم اور اسی کی توفیق و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو اپنی کسی لیاقت و قابلیت کا نتیجہ سمجھنے کی بجائے اللہ پاک کا احسان جان کر دل و جان سے اسی کا شکر بجا لانا چاہیئے کہ شکر نعمت کا تقاضا یہی ہے۔ اور اس سے شکر کرنے والے کا خود اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے اور بس ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف ہر نعمت اور ہر خوبی و کمال اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم کا نتیجہ ہوتی ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے حق اور حقیقت یہی اور صرف یہی ہے ۔ اللہ ہمیشہ اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 37:59

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

سوائے ہماری اس پہلی موت کے جو ہمیں دنیا میں آچکی اور بس اور اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہونے کا ؟1

38 اہل جنت کے بےمثال کیف و سرور کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر وہ جنتی شخص کہے گا کہ کیا واقعی اب ہمیں موت نہیں آئے گی۔ یعنی دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ اور وہاں کے اس ہولناک عذاب کو دیکھ کر جس میں اس کا وہ ہم نشیں مبتلا ہوگا اور پھر اس کے مقابلے میں جنت کی ان بےمثال و لازوال نعمتوں پر نظر کرتے ہوئے جن سے وہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے فضل و کرم سے مشرف و مالامال ہوگا۔ وہ کیف و سرور کے ایک عالم میں ڈوب کر بطور استعجاب کہے گا کہ کیا واقعی اب یہ نعمتیں جو ہمیں ملی ہیں ہمیشہ رہیں گی اور ان سے ہم اسی طرح متمتع و مستفید ہوتے رہیں گے اور کبھی ان کا خاتمہ وزوال نہیں ہوگا ۔ فَشَرِّفْنَا بِہَا بِمَحْضِ مَنِّک وَکَرَمِکَ یَا اَکْرَمَ الاَکْرَمِیْنَ وَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحَمِیْنَ ۔ بہرکیف اس سے اہل جنت کے بےمثال کیف و سرور کا ایک منظر سامنے آتا ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 37:60

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بلاشبہ یہی ہے وہ سب سے بڑی کامیابی

39 اصل اور حقیقی کامیابی کی نشاندہی : سو اصل اور حقیقی کامیابی کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہی ہے سب سے بڑی کامیابی۔ یعنی جنت اور اس کی نعمتوں سے سرفرازی جس جیسی دوسری کوئی کامیابی ہو ہی نہیں سکتی۔ اسی لیے یہاں پر حصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ یہی ہے سب سے بڑی کامیابی۔ کیونکہ جنت ہی کی یہ نعمتیں ہیں جو کامل بھی ہیں اور دائمی بھی۔ جبکہ دنیا کی کسی بڑی سے بڑی نعمت کو بھی نہ کمال نصیب ہوسکتا ہے نہ دوام ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے جنت کی ان عظیم الشان اور بےمثال نعمتوں سے بہرہ ور و سرفراز ہونے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف حصر کے اس اسلوب سے واضح فرما دیا گیا کہ اصل اور حقیقی کامیابی یہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ان خوش نصیب بندوں کو حاصل ہوگی جو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی پر ایمان و یقین رکھتے ہوئے اور اس کی کامیابی اور فائز المرامی کو پیش نظر رکھ کر زندگی گزاریں گے۔ سو جس کو بازی کھیلنا ہو وہ اس کیلئے بازی کھیلے نہ کہ دنیا کی اس عارضی اور فانی نعمتوں کیلئے جو کہ بہرحال ایک عارضی اور فانی چیز ہے کہ ہر کسی نے بہرحال مرنا اور دنیا کے اس دارفانی سے کوچ کرکے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا ہے۔ دنیا میں نہ کسی نعمت کو دوام نصیب ہوسکتا اور نہ کسی نعمت پانے والے کو۔
Ayah 37:61

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی کامیابی کے لئے کام کرنا چاہیے کام کرنے والوں کو

40 مسلمان کے لیے مسابقے کا اصل میدان آخرت کی کامیابی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مسلمان کے لیے مسابقے کا اصل میدان آخرت کی کامیابی ہے۔ اس لیے اس سے آخرت کی کامیابی ہی کو اصل مقصد بنانے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسی ہی کامیابی کیلئے کام کرنا چاہیئے کام کرنے والوں کو "۔ نہ کہ دنیا کی ان کامیابیوں کے لئے جو کہ بہرحال عارضی فانی اور ناقص ہیں۔ بلکہ وہ آخرت کی اس کامیابی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لئے اصل کوشش اور محنت آخرت کی اس حقیقی ابدی اور دائمی کامیابی ہی کیلئے کرنی چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو انسان کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین اسی کامیابی کو اپنانا چاہیئے جو اس کو آخرت میں نصیب ہوگی۔ یعنی یہ کہ انسان کو دوزخ کے عذاب سے بچا کر جنت کی ابدی اور سدابہار نعمتوں سے سرفراز فرما دیا جائے۔ یہی ہے حقیقی کامیابی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ } ۔ (آل عمران : 185) ۔ سو عقل اور نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ انسان آخرت کی اس کامیابی ہی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین بنائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 37:62

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

کیا یہ بہتر ہے مہمانی کیلئے یا تھوہر کا وہ درخت2

41 دوزخیوں کی اولین دعوت زقوم کا درخت ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور بطور تنبیہ و تحضیض ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ مہمانی اچھی ہے یا تھوہر کا وہ درخت ؟ اور یہ بھی محض اسمی اور لفظی اشتراک ہے۔ کیونکہ دنیا کے اس تھوہر " حنظل " اور آخرت و دوزخ کے اس تھوہر " زقوم " کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہوگا۔ چناچہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ اگر اس کا ایک قطرہ بھی دنیا کے سمندروں میں ٹپکا دیا جائے تو وہ ان سب کو اس طرح بگاڑ کر رکھ دے کہ تمام اہل زمین کا جینا دوبھر ہوجائے۔ (اخرجہ الترمذی وغیرہ) ۔ اور جب اس کے ایک قطرے کا یہ حال ہوگا تو پھر ان لوگوں کی شقاوت و بدبختی کا اندازہ کون کرسکتا ہے جن کا وہ مستقل طور پر طعام اور کھانا ہوگا۔ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْم الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلّا ہُوَ الَعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۔ فَاَعِذْنَا مِنْ کُلِّ نَوْعٍّ مِنْ عَذَابِ الْجَحِیْمِ وَشَرِّفْنَا بالنَّعِیْمِ الْمُقِیْمِ فِیْ جَنَّاتِ الْخُلْدِ بِمَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں اہل جنت کے بعد اہل دوزخ کی ضیافت کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس کا آغاز سوال سے فرمایا گیا ہے جو کہ بلاغت کے اسلوب بیان کے مطابق زیادہ موثر اور اوقع فی النفوس ہوتا ہے۔ تاکہ انسان اس بات کو کان کھول کر سنے۔ اور اس کو صدق دل سے قبول کر کے اپنے لیے بہتری کا سامان کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل مرحلۃ من المراحل فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام -
Ayahs 37:63–69

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

بلاشبہ اس کو ہم نے فتنہ (اور آزمائش کا سامان) بنادیا ہے ظالموں کے لئے

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک ایسا ہولناک درخت ہوگا جو دوزخ کی تہ سے نکلے گا

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے شگوفے ایسے (ہولناک اور بد منظر) ہوں گے جیسے شیطانوں کے سر

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

سو ان لوگوں کو اس سے کھانا ہوگا اور (کھانا بھی ایسا کہ) اسی سے ان کو پیٹ بھرنا ہوگا

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر (مزید یہ کہ) ان کے لئے اس پر ملونی ہوگی ایک کھولتے ہوئے (ہولناک) پانی سے

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر ان کی واپسی دوزخ ہی کی اس (بھڑکتی) دہکتی ہولناک آگ کی طرف ہوگی

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

(یہ سب کچھ اس لئے ہوگا کہ) ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا

42 شجرئہ زقوم ظالموں کیلئے ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے اس کو فتنہ اور آزمائش کا سامان بنادیا ظالموں کے لیے۔ یعنی دنیا میں ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ کہ ظالموں نے اس کا مذاق اڑایا اور اس کو جھٹلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھلا دوزخ کی دہکتی آگ میں کوئی درخت کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ اور ابو جہل اپنے حواریوں سے کہتا تھا کہ محمد ﷺ تو تمہیں زقوم سے ڈراتا ہے حالانکہ وہ تو پنیر اور کھجور ہے۔ اور پھر وہ بدبخت پنیر اور کھجور لا کر ان کو کھلاتا اور مذاق اڑاتا۔ سو اس طرح یہ درخت آخرت میں ان کے لئے دوزخ کے اس دائمی عذاب کا ذریعہ بن گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (ابن جریر، ابن کثیر اور قرطبی وغیرہ) ۔ سو اس طرح شجرئہ زقوم کا ذکر وبیان ظالموں کے کفر و انکار میں اضافے کا باعث بن گیا اور اس طرح ان پر انکے رب کا مقت و غضب اور بھڑکا اور انکے خسارے میں اور اضافہ ہوا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلاَ یَزِیْدُ الْکَافِرِیْنَ کُفْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ الاَّ مَقْتًا وَلَا یَزِیْدُ الْکَافِرِیْنَ کُفْرُہُمْ اِلَّا خَسَارًا } ۔ (فاطر : 39) ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 37:70

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

(لیکن) پھر بھی یہ لوگ (حق کو چھوڑ کر) انہی لوگوں کے نقش قدم پر دوڑتے چلے گئے

45 گمراہ باپ دادوں کی تقلید باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ان لوگوں کے اس انتہائی ہولناک انجام کے سبب اور اس کے باعث کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا لیکن پھر بھی یہ حق کے مقابلے میں انہی کے نقش قدم پر دوڑے چلے گیے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ گمراہ باپ دادوں کے طریقوں پر چلنا محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ ہے ان کی اس گمراہی اور اس کے نتیجے میں اس تعذیب کی بڑی اور بنیادی وجہ کہ انہوں نے اپنے باپ دادوں کی گمراہی کے باوجود انہی کی پیروی کو گلے لگائے رکھا اور غلط راستے پر چلتے گئے۔ سو گمراہ باپ دادوں کی پیروی ہلاکتوں کی ہلاکت اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے مفہوم مخالف کے طور پر معلوم ہوا کہ باپ دادا اگر ہدایت پر ہوں تو ان کی پیروی و اقتداء جرم و گناہ نہیں، بلکہ وہ تو مطلوب و مامور ہے۔ کہ وہ پیروی دراصل ان کی نہیں ہوتی بلکہ صدق و صواب اور حق و ہدایت کی اس راہ کی ہوتی ہے جس کو انہوں نے اپنایا ہوتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے ۔ { اُوَ لٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ } ۔ (الانعام : 91) ۔ سو اندھی تقلید اور اپنے گمراہ باپ دادوں کے طریقوں پر چلنا محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کے بڑے عوامل میں سے ہے۔ مگر دنیا ہے کہ محرومی اور ہلاکت کی اسی راہ پر کل بھی چلتی رہی اور آج بھی چل رہی ہے ۔ الا ما شاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 37:71–72

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

اور یقینا ان سے پہلے لوگوں میں بھی اکثر گمراہ ہی تھے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے ان میں بھی خبردار کرنے والے (رسول) بھیجے تھے

46 تاریخی دلائل کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ان سے پہلے کے لوگوں کی اکثریت بھی گمراہوں ہی کی تھی "۔ پس نہ تو عوام کی اکثریت کا کسی ایک طرف ہوجانا حقانیت کی دلیل ہوسکتا ہے اور نہ ہی عوام کالانعام کی اس اکثریت کا کسی کے خلاف ہوجانا اس کے باطل اور ناحق ہونے کی دلیل بن سکتا ہے۔ کیونکہ اکثریت تو ہمیشہ غلط کاروں اور باطل پرستوں ہی کی رہی۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ پس اس سے آپ کو اپنے دور کی اکثریت کی گمراہی و باطل پرستی پر کوئی غم اور تعجب نہیں ہونا چاہیئے کہ یہ تو پہلے سے ہی ہوتا چلا آیا ہے کہ اکثریت ہمیشہ غلط کاروں اور باطل پرستوں کی رہی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ یہ لوگ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر گمراہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ { اِنْ ہُمْ اِلَّا کَالْانَعْام بَلْ ہُم اَضَلُّ سَبِیْلاً } ۔ (الفرقان : 44) ۔ سو عوام کی اکثریت کی تایید یا مخالفت کسی امر کے حق یا باطل ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ جس طرح کہ مغربی جمہوریت کے پجاریوں اور ہمارے یہاں کے اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ بہرکیف یہاں سے اب کلام کا رخ تاریخی دلائل و شواہد کی طرف مڑ رہا ہے اور اس حوالے سے دور حاضر کے منکروں کو بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح کی گمراہی میں آج یہ بدبخت مبتلا ہیں اسی طرح کی گمراہی میں اس سے پہلے کی اکثر قومیں بھی مبتلا رہیں اور بالآخر وہ کیفر کردار کو پہنچ کر رہیں۔ سو اس سے ان لوگوں کو درس عبرت لینا چاہیے۔ اور اس حقیقت کو جان لینا چاہیے کہ انکار و تکذیب حق کا نتیجہ وانجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 37:73

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

سو تم دیکھ لو کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جن کو خبردار کیا گیا تھا ؟

47 تکذیب و انکارِ حق کا نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم دیکھ لو کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جن کو خبردار کردیا گیا تھا "۔ سو حق کی تکذیب و انکار کا آخری نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تمہیں ان کے اس انجام بد سے عبرت پکڑنی چاہیئے اے لوگو قبل اس سے کہ عمر رواں کی یہ تھوڑی سی فرصت جو آج تمہیں میسر ہے ہاتھ سے نکل جائے اور پھر تمہیں ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے کہ ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پھر یہ دولت کسی طرح واپس ملنے والی نہیں ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ لما یحب ویرید وَہُوَ الْہَادِیْ اِلَی الصِّرَاطِ الْمُسْتِقِیْمِ وَالْمُیَسِّرُ لِکُلِّ عَسِیْرٍ ۔ سو دعوت حق و ہدایت کو جھٹلانے اور اس کے انکار کا آخری اور لازمی نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ اور اس بارے ملنے والی ڈھیل اور مہلت سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ وہ بہرحال ایک ڈھیل اور مہلت ہی ہوتی ہے جس نے آخرکار بہرحال ختم ہو کر رہنا ہوتا ہے ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 37:74

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

سوائے اللہ کے ان خاص بندوں کے جن کو چن لیا گیا تھا

48 صدق و اخلاص ذریعہ نجات و فلاح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سوائے اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے " جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق و اخلاص کی بنا پر چن لیا کہ وہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے اس انجام و عذاب سے محفوظ رہے کہ انہوں نے راہ حق و صواب کو پا لیا۔ اور اس طرح وہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے سرفراز و بہرہ ور ہوگئے کہ ایسے خوش نصیب لوگ دنیاوی عذاب سے بھی محفوظ رہے اور اس کے بعد اخروی عذاب سے بھی۔ جبکہ اس کے برعکس ہٹ دھرم اور منکر لوگ اپنے کفر و انکار کے نتیجے میں دنیاوی عذاب میں بھی مبتلا ہوئے اور اس کے بعد آخرت کے دائمی عذاب میں بھی جو کہ دنیاوی عذاب سے کہیں زیادہ سخت، رسوا کن اور دائمی عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ قوم نوح کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { مِمَّا خَطِیْئَاتِہِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا فَلَمْ یَجِدُوْا لَہُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْصَارًا } ۔ (نوح : 25) ۔ یعنی " اپنی خطاکاریوں کے نتیجے میں بالآخر ان لوگوں کو غرقاب کردیا گیا اور پھر ان کو ایک بڑی ہی ہولناک آگ میں ڈال دیا گیا۔ پھر وہ اللہ کے مقابلے میں اپنے لیے کوئی مددگار نہ پا سکے۔ " ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو صدق و اخلاص کی دولت ہی ذریعہ نجات و فلاح ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 37:75

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور بلاشبہ نوح نے بھی ہم ہی کو پکارا سو ہم کیا ہی خوب فریاد رسی کرنے والے ہیں

49 حضرت نوح کے حاجت روا بھی اللہ تعالیٰ ہی : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ حضرت نوح نے بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے اللہ ہی کو پکارا۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور " لقد " کی ڈبل تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ نوح نے بھی ہم ہی کو پکارا ۔ اپنی مشکل کشائی اور حاجت روائی کیلئے ۔ جبکہ انہوں نے ساڑھے نو سو برس کی اپنی پیہم اور بےمثال تبلیغ کے بعد اپنی ناہنجار قوم سے مایوس ہونے کے بعد کہا تھا ۔ { اِنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِر } ۔ ( القمر :10) ۔ نیز انہوں نے عرض کیا تھا ۔ { رَبِّ لا تَذَرْ عَلَی الاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا } ۔ (نوح : 26) ۔ تو جب حضرت نوح جیسا اولوا العزم رسول ابوالبشر ثانی بھی مشکلات میں پھنسنے کے بعد حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے ہم ہی کو پکارتا ہے تو پھر ہمارے سوا اور کون کسی کا حاجت روا و مشکل کشا ہوسکتا ہے ؟ اور خود مشکلوں میں پھنسنے والا دوسروں کے لئے مشکل کشا ہو ہی کس طرح سکتا ہے ؟ اور جب حضرت نوح جیسا اولوا العزم پیغمبر اور عظیم الشان رسول بھی حاجت روا و مشکل کشا نہیں بن سکتا تو پھر اور کوئی کس طرح بن سکتا ہے ؟ کہ نبی و رسول کا مرتبہ تو بہرحال باقی ساری مخلوق سے بالا و برتر ہوتا ہے۔ پھر " یا علی مشکل کشا " کہنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے ؟ پھر مدد کے لئے " یا رسول اللہ "، " یا علی "، " یا حسین "، " یا غوث " وغیرہ پکارنا کیونکر روا اور درست قرار پاسکتا ہے ؟ اور آج کے ان کلمہ گو مشرکوں کا حال تو اس اعتبار سے اور بھی عجیب ہے کہ یہ ان اولوا العزم رسولوں سے بھی ان امتیوں کا درجہ بڑا مانتے ہیں کہ ان کو حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے پکارتے ہیں نہ کہ ان کو۔ اور انکے نام کے یہ لوگ مختلف خودساختہ اور شرکیہ نعرے لگاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا خواجہ اجمیری پار لگا دے کشتی میری "۔ کوئی کہتا ہے " بہاء الحق بیڑا دھک "۔ اور کوئی کہتا ہے " یا پیر دستگیر "۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے بھی ہم ہی کو پکارا کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں اور سب ہمارے ہی محتاج ہیں۔ 50 فریاد رس سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ ہی سب کی فریاد رسی اور حاجت روائی کرنے والا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ہی خوب فریاد رسی کرنے والے ہیں ہم "۔ کہ حضرت نوح اور ان کے ماننے والوں کو ہم نے کس خوبی کے ساتھ بچایا اور ان کے مخالفین و معا رضین کو کس انجام سے دوچار کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ وحدہ لاشریک ہی سب کا حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ انبیاء و رسل تک کی پاکیزہ ہستیاں بھی اسی وحدہ لا شریک کی محتاج اور اسی کے در کی سوالی ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت امام الانبیائ ﷺ بھی اسی کے حضور دست سوال دراز کرتے اور اسی کی تعلیم و تلقین فرماتے تھے۔ چناچہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ جب گھر میں نماز پڑھتے اور اس آیت کریمہ سے گزرتے تو ارشاد فرماتے " ہاں اے میرے رب سچ فرمایا تو نے تو ہی سب سے قریب ہے جسے پکارا جائے اور سب سے قریب ہے جس سے امید رکھی جائے۔ تو ہی وہ سب سے عمدہ ہستی ہے جسکو پکارا جائے اور جس سے سوال کیا جائے اور تو ہی سب سے عمدہ کارساز ہے اے میرے رب۔ اور تو ہی ہے سب سے عمدہ مددگار "۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ حضرات انبیاء ورسل بھی اسی کے محتاج ہیں۔ پس جو لوگ ما فوق الاسباب طور پر اللہ کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں وہ شرک کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 37:76

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور ہم ہی نے نجات دی (اور بچا لیا) ان کو بھی اور ان کے تعلق داروں کو بھی اس کرب عظیم سے

51 نجات دہندہ سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے نجات دی نوح کو بھی اور انکے تعلقداروں کو بھی اس کرب عظیم سے "۔ جس میں قوم کی تکذیب و انکار کی وجہ سے آنجناب ﷺ مبتلا تھے۔ سو درد و کرب سے بچانے والے ہم ہی ہیں اور حاجت روائی و مشکل کشائی ہماری ہی شان اور ہمارا ہی کام ہے۔ اور پیغمبروں اور حضرت نوح جیسے اولوا العزم پیغمبروں کے حاجت روا و مشکل کشا ہم ہی ہیں۔ اور یہ سب ہمارے ہی محتاج اور ہمارے ہی در کے سوالی ہیں۔ " اہل " سے مراد یہاں پر آنجناب کے ایماندار اہل و عیال اور دوسرے خاص متعلقین ہیں۔ سو حضرت نوح کو اور آپ کے ان ایماندار ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت و عنایت سے اس ہولناک عذاب سے بچا لیا جس میں نوح کی پوری قوم مبتلا ہوئی اور اپنے انتہائی ہولناک انجام کو پہنچ کر رہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 37:77

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی نسل کو ہی کردیا (ہمیشہ) باقی رہنے والی

52 نسل نوح کو باقی رکھنا بھی اللہ ہی کی شان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم نے ان ہی کی نسل کو باقی رکھا۔ یعنی حضرت نوح کی نسل کو اور آپ (علیہ السلام) کے مخالفین و معارضین سب مٹ کر رہے۔ نیز یہ کہ آئندہ جو نسل چلی وہ آپ ہی کے اہل و اَتباع سے چلی۔ اسی لئے آپ کو " ابوالبشر ثانی " بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے دعا کی تھی کہ " اے میرے رب ان کافروں میں سے کسی کو بھی روئے زمین پر زندہ نہیں چھوڑنا " (نوح : 26) ۔ سو ہم نے آپ (علیہ السلام) کی اس دعا و درخواست کو شرف قبولیت سے نوازا کہ ہم اپنے بندوں کی دعاؤں کو بڑے ہی عمدہ طور پر قبول کرنے والے ہیں۔ سو حضرت نوح کے بعد تمام نسل انسانی آپ (علیہ السلام) کے تینوں بیٹوں سام، حام اور یافث ہی سے چلی۔ باقی سب لوگ اور پوری قوم نوح ہلاکت و تباہی کے گھاٹ پر اتر کر رہی اور ان کو ہمیشہ کے ہولناک عذاب میں مبتلا کردیا گیا۔ اور یہی آخری نتیجہ و انجام ہوتا ہے حق کے منکروں اور تکذیب کرنے والوں کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور آپ کے خاندان کے باقیماندہ ان گنتی کے نفوس میں جنہوں نے صدق دل سے حق کو قبول کیا تھا ان کے وجود میں ایسی برکت رکھی گئی کہ اس کے بعد انہی کی نسل سے پوری روئے زمین بھر گئی ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ سو معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 37:78

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور ہم نے (آپ کی تعریف و توصیف اور) آپ کا ذکر خیر چھوڑ دیا پچھلوں میں

53 حضرت نوح کے لیے ذکر خیر کی عظیم الشان بشارت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے آپ (علیہ السلام) کا ذکر خیر چھوڑ دیا پچھلوں میں "۔ سو دشمنوں کی تمام تر مخالفت کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے حق کی اس دعوت کو فروغ بخشا جس کے لیے آنجناب نے زندگی بھر محنت فرمائی اور مشقت اٹھائی تھی۔ اور آپ کے اخلاف میں حق کے ایسے علمبردار اور مخلص و وفادار اور جاں نثار پیدا ہوئے جو حق کی دعوت ہمیشہ دیتے رہے اور آپ کا ذکر خیر باقی رہا۔ اور ایسا کہ آج تک دنیا آپ کا نام نامی عزت و احترام سے لیتی ہے اور قیامت تک لیتی رہے گی۔ اور صلوۃ وسلام کے تحفے بھی آپ (علیہ السلام) کی جناب میں برابر پیش کئے جاتے رہیں گے ۔ علی نبینا وعلیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ۔ سو حضرت نوح کی اس سرگزشت میں ایک طرف تو حضرت امام الانبیاء کیلئے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے کہ آج جس تکذیب کا سامنا آپ کو کرنا پڑرہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی حضرات انبیائے کرام کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوتا آیا ہے۔ لہذا آپ ﷺ بھی اسی طرح صبر و استقامت سے کام لیں جس طرح کہ ان حضرات نے لیا۔ انجام کار کامیابی بہرحال آپ ﷺ ہی کی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلاَ تَسْتَعْجِلْ لَہُمْ } ۔ (الاحقاف : 35) اور دوسری طرف اس میں صنادید قریش کیلئے یہ درس عبرت ہے کہ اگر تم لوگ کفر و انکار اور تکذیبِ حق کی اپنی اس روش سے باز نہ آئے تو تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو پہلی قوموں کا ہوچکا ہے کہ اللہ کا قانون سب کیلئے ایک اور بےلاگ ہے۔ اور تیسری طرف اس میں حضرت نوح کی کامیابی کی طرف بھی اشارہ ہے کہ آپ کے دشمنوں کے علی الرغم آپ کی دعوت پچھلوں میں باقی رہی اور ایک گروہ اس پر ہمیشہ قائم رہا جبکہ آپ کے مخالفین و منکرین سب کے سب ہمیشہ کے لیے فی النار والسقر ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 37:79

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

سلام ہو نوح پر تمام جہاں والوں میں

54 حضرت نوح کے لیے برکت اور سلامتی کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا " سلام ہو نوح پر سب جہانوں میں "۔ سو اس ارشاد میں حضرت نوح کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم الشان انعام کا ذکر ہے۔ اس ارشاد کا تکرار آگے کے سب انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کے ذکر کے ساتھ بھی آتا جائے گا۔ سو معلوم ہوا کہ " (علیہ السلام) " صرف انبیائے کرام کا حق اور انہی کا امتیاز و اختصاص ہے۔ اس لئے حضرات انبیائے کرام کے سوا کسی اور کے لئے ایسا کہنا درست نہیں۔ اسی طرح " ؓ " صحابہ کرام کے ساتھ خاص ہے۔ لہٰذا صحابہ کرام کے علاوہ اور کسی کے ساتھ ترضی کا یہ لفظ استعمال کرنا درست نہیں۔ پس " علی (علیہ السلام) " اور " حسین (علیہ السلام) " وغیرہ کہنا جس طرح کہ آج کل عام طور پر کہا جاتا ہے جائز نہیں۔ بلکہ " علی ؓ " اور " حسین ؓ " کہنا چاہیئے۔ نیز ہمارے یہاں کے اہل بدعت جو اپنے بڑے حضرتوں اور ان کے اتباع و اَذناب کے لئے " ؓ " کہتے ہیں وہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ یہ صحابہ کرام کا حق ہے کہ اصطلاحاً یہ لفظ انہی کے ساتھ خاص ہوگیا ہے۔ صحابہ کرام کے بعد کے بزرگوں کے لئے " (رح) " وغیرہ الفاظ کہے جاسکتے ہیں اور کہنے چاہئیں۔ لیکن " ؓ " نہیں کہ یہ حضرات صحابہ کرام کے ساتھ خاص ہے۔ بہرکیف یہاں پر اس ارشاد سے حضرت نوح کو دنیا و آخرت دونوں میں سلامتی اور برکت کی عظیم الشان بشارت سے نوازا گیا ہے اور یہ ایک عظیم الشان اور بےمثال بشارت ہے جس سے آنجناب کو نوازا گیا ۔ (علیہ السلام) -