Ayahs 37:80–8355 نیکوکاروں کے لیے جزائے خیر کے قانون عام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو "۔ کہ دنیا میں بھی ان کی فریاد رسی اور حاجت روائی و مشکل کشائی کرتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کو بےمثال اور لازوال نعمتوں سے نوازتے ہیں ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ مُحْسِنِیْ عِبَادِکَ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا مَنْ لاَّحَدَّ لِکَرَمِہ وَلا نِہَایَۃَ لِمَنِّہِ وَاِحْسَانہٖ ۔ بہرکیف حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنے اس ارشاد سے واضح فرما دیا کہ ہمارا یہ معاملہ صرف حضرت نوح ہی سے خاص نہیں بلکہ تمام نیکوکاروں کیلئے عام ہے۔ اس سے پہلے کے نیکوکاروں کے ساتھ بھی ہمارا معاملہ یہی رہا اور آئندہ بھی یہی رہے گا۔ یہ فضیلت و عنایت کسی ذات کے ساتھ مختص نہیں بلکہ اسکا تعلق صفات سے ہے۔ جو بھی احسان کی صفت اپنے اندر پیدا کریں گے انکو اس صلہ و انعام سے نوازا جائے گا۔ سو احسان کی صفت بڑی عظیم الشان صفت ہے۔ ایسی عظیم الشان جو کہ انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی صفت ہے۔ اور اس صفت کی اساس و بنیاد ہے صدق و اخلاص جس کا مرکز و محل انسان کا قلب و باطن ہے۔ اور اس کے بعد خارج میں اس کا مظہر حسن عمل ہے۔ سو انسان جو کام کرے صدق و اخلاق کے ساتھ اور رب کی رضا و خوشنودی کے لیے کرے۔ اور پھر جو عمل کرے وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات وتعلیمات کے مطابق کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayahs 37:84–8557 حضرت ابراہیم کی حنیفیت کاملہ کا حوالہ و ذکر : سو حضرت ابراہیم کی حنیفیت کاملہ، اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی پوری یکسوئی اور آنجناب کے کمال صدق و اخلاص کے حوالے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جب وہ حاضر ہوئے اپنے رب کے حضور قلب سلیم کے ساتھ "۔ یعنی ہر قسم کے شرک و شک، کفر و نفاق اور بدعت و انحراف سے۔ اور توحید فطرت پر قائم ہر طرح کے دنیاوی شوائب و شواغل سے پاک و صاف اور طاہر و نقی دل کے ساتھ۔ (المراغی، المحاسن اور الصفوۃ وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ حضرت ابراہیم کے کمال صدق و اخلاص اور آپ (علیہ السلام) کی کامل حنیفیت کی تعبیر ہے جس کا ذکر دوسرے مختلف مقامات پر بھی فرمایا گیا ہے۔ مثلاً سورة نحل میں ارشاد ہوتا ہے ۔ { اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِلّٰہِ حَنِیْفًا وَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ } ۔ (النحل : 120) سو قلب سلیم سے مراد ہر وہ دل ہے جو شرک و نفاق وغیرہ کے امراض سے بالکل پاک اور محفوظ ہو۔ اور ایسے ہی دل کی اللہ تعالیٰ کے یہاں قدر و قیمت ہے۔ چناچہ سورة شعراء میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ } ۔ (الشعرائ : 88-89) ۔ مالک الملک ! ہمیں ایسے ہی دل کے ساتھ اپنے حضور حاضری نصیب فرما ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ بہرکیف ان ارشادات سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسے ہی قلوب سلیمہ کی قدر و قیمت ہے جو شرک و نفاق کے امراض سے پاک ہوں کہ ایسے ہی دل ہیں جن کی وفاداری منقسم نہیں ہوتی اور ان کی تمام تر محبت و اطاعت اللہ وحدہ لا شریک ہی کے لیے ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ حق و ہدایت کی دولت سے سرشار و مالامال اور نور علم و معرفت سے منور و معمور ہوتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ وضلال سے کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین -
Ayahs 37:86–8758 حضرت ابراہیم کا مشرکوں سے سوال : سو اس سے حضرت ابراہیم کے اپنی مشرک قوم سے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والے ایک سوال کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت ابراہیم نے اپنی مشرک قوم کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے اور انکے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے فرمایا " آخر تمہارا کیا گمان ہے رب العالمین کے بارے میں ؟ " ۔ اے مشرکو !۔ جو تم ان بےجان و بےحقیقت مورتیوں کو اس کا شریک وسہیم ٹھہرا رہے ہو۔ آخر تم نے اس وحدہ لاشریک کے بارے میں کیا تصورات قائم کر رکھے ہیں اور اس کو تم لوگ کیا جانتے اور مانتے ہو ؟ ۔ ولَنِعْم ما قیل ۔ بتوں کو جو خدا مانتے ہیں وہ خدا کو خدا جانے کیا جانتے ہیں ۔ بہرکیف حضرت ابراہیم نے اپنے اس مختصر مگر نہایت موثر اور دلوں کو جھنجھوڑنے والے ارشاد کے ذریعے ان لوگوں کے دلوں کو دستک دی اور انکو جھنجھوڑا کہ تم لوگ جو اللہ وحدہ لاشریک کے سوا ایسے خودساختہ بتوں اور من گھڑت معبودوں کی پوجا پاٹ پر چپکے بیٹھے ہو آخر تمہارا پروردگار عالم کے بارے میں کیا گمان ہے ؟ اور تم نے اس کیلئے کیا سوچ اور سمجھ رکھا ہے ؟ کیا تم نے اس کے بارے میں سمجھ رکھا ہے کہ وہ تنہا تمہاری ضرورتوں کی کفالت اور تمہاری حفاظت سے عاجز و قاصر ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ جو تم نے اس کے یہ خودساختہ شریک گھڑ رکھے ہیں ؟ یا تم نے اس کے بارے میں یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ اکیلا اپنی اس کائنات کا نظام نہیں چلا سکتا۔ اس لیے تم نے اس کے لیے یہ من گھڑت مددگار فرض کر رکھے ہیں ؟ یا تم لوگ اس خدائے علیم وخبیر کے بارے میں اس وہم میں مبتلا ہو کہ وہ دنیا کے ہر گوشے اور ہر شخص کے حالات سے باخبر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے تم نے اس کے لیے ایسے وسائل و وسائط فرض کر رکھے ہیں ؟ یا تم لوگ اس کے عدل و انصاف اور رحم و کرم سے مایوس ہو جسکی بنا پر تم نے اس کی رحمت حاصل کرنے کیلئے اور اس کی بارگاہ میں بات کرنے کیلئے اپنے یہ سفارشی ٹھہرا رکھے ہیں ؟ مطلب یہ کہ جب تک خداوند قدوس کے بارے میں کسی کی کھوپڑی میں اس طرح کی کوئی بدگمانی اور ٹیڑھی سوچ نہ ہو اس وقت تک وہ ایسے خودساختہ معبود گھڑنے کے ننگ اور انکے آگے جھکنے اور سجدہ ریز ہونے کی ذلت آخر کیسے اور کس طرح برداشت کرسکتا ہے ؟ اور جن لوگوں کی کھوپڑیوں میں اس طرح کی کوئی کج فہمی موجود ہو تو ان کو چاہیئے کہ اپنی ایسی کج فہمی کی اصلاح کرلیں۔ اور اس حقیقت صادقہ اور امر واقعی پر یقین کرلیں کہ وہ خداوند قدوس و قادر ایسے تمام تصورات سے پاک اور ان سے کہیں اعلیٰ وارفع ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر جن لوگوں کی مت مار دی جاتی ہے اور کفر و شرک کی بدبختی اور نحوست ان پر چھا جاتی ہے ان کو سیدھی بات سمجھ نہیں آتی اور وہ اندھے اور اوندھے ہو کر اسی طرح کے کسی ہولناک گڑھے میں جا گرتے ہیں اور پھر وہ کفر و شرک کے ایسے گھمبیر اور ہولناک اندھیروں میں ڈوب کر رہ جاتے ہیں کہ ان کو کچھ سوجھتا ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 37:8859 حضرت ابراہیم کی طرف سے بت شکنی کی سکیم کا ذکر : سو اس سے معبودان باطلہ کے خلاف دستی کارروائی اور بت شکنی کے لیے حضرت ابراہیم کی ایک اس کیم کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر انہوں نے ایک ۔ معنیٰ خیز۔ نظر ڈالی ستاروں میں "۔ جیسا کہ غور و خوض کے وقت عام طور پر ہوتا ہے۔ اور { نَظْرَۃٌ} اور { فِیْ } سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ نیز اس سے ان مشرکوں کو بھی دھوکہ لگا اور ان کی عقلوں پر مزید پردہ پڑا کہ وہ ستاروں میں تاثیر مانتے تھے۔ اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیم کی کوئی پروا نہ کی اور ان کو اپنے ٹھاکروں کی خبر لینے کے لئے پیچھے چھوڑ کر وہ خود اپنے میلے پر روانہ ہوگئے۔ سو حضرت ابراہیم کو جب موقع ملا تو آپ مشرکوں کے ان خودساختہ پیشواؤں اور من گھڑت خداؤں کے اس امام باڑے اور ٹھاکر خانے میں جاگھ سے تاکہ بت شکنی کے اس ارمان کو پورا کرسکیں جو ایک عرصہ سے آپ (علیہ السلام) کے قلب طاہر میں موجود و موجزن تھا۔ سو آج آپ ﷺ کو اسے پورا کرنے کی سعادت بالآخر نصیب ہوگئی۔ اور قدرت کے اس عجوبہ کو لوگوں نے اپنی کھلی آنکھوں دیکھا۔ اور قیامت تک آنے والی دنیا کیلئے یہ نمونہ عبرت و بصیرت قائم ہوگیا کہ آزر جیسے بت گر، بت پرست اور بت فروش مشرک کے گھر میں ابراہیم جیسا بت شکن فرزند جلیل پیدا ہوتا ہے اور نمونہ قدرت ہے اس ربِّ قدیرۃ حکیم کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا جو ۔ { یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ } ۔ کی شان کا مالک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو حضرت ابراہیم نے مشرکوں کے ان خودساختہ مشکل کشاؤں اور حاجت رواؤں پر قوت ایمان و یقین سے بھرپور کچھ ایسی ضربیں لگائیں کہ انکو ریزہ ریزہ اور چکنا چور کرکے رکھ دیا۔ سوائے انکے بڑے ٹھاکر کے کہ اس کو آپ نے چھوڑ دیا کہ اس میں مشرکوں کی تذلیل و تحقیر اور نکبت کا ایک اور پہلو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیش نظر تھا۔ چناچہ حضرت ابراہیم کے بت شکنی کے اس ایمان افروز اور عبرت انگیز واقعے اور عظیم الشان قصے کا ذکر وبیان اس طرح فرمایا گیا ۔ { فَجَعَلَہُمْ جُذَاذًا الاَّ کَبِیْرًا لَّہُمْ لَعَلَّہُمْ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ } ۔ (الانبیائ : 58) ۔ سو ابراہیم نے موقع پاتے ہی ان سب کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا سوائے ان کے بڑے کے تاکہ وہ اس کیطرف لوٹ سکیں۔ بہرکیف ان مشرکوں کے سامنے حضرت ابراہیم کا یہ جواب و ارشاد آپ کی اس سکیم کا ایک حصہ تھا جس کے مطابق آپ مشرکین کے ان معبودان باطلہ کے خلاف دستی کارروائی کرنا چاہتے تھے جو کہ تغییر منکر کا پہلا اور سب سے بڑا درجہ اور مرتبہ ہے۔ سو اس طرح آپ نے عقل کے اندھے اور مت کے مارے ان مشرکوں کے خود ساختہ خداؤں کو چورا چورا کر کے ایک عظیم الشان اور بےمثال کارنامہ انجام دیا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام ۔ اور یہی تقاضا ہے غیرت ایمانی کا ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 37:89–9160 حضرت ابراہیم کی طرف سے خرابیِِ طبع کا عذر اور اس کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ابراہیم نے ان سے کہا کہ میری طبیعت کچھ خراب ہے "۔ اور ظاہر ہے کہ اتنے بڑے موحد بلکہ ابو الانبیاء اور رئیس الموحدین کے لئے اس سے بڑھ کر سقم اور ناسازی طبع اور کیا ہوسکتی تھی کہ ان کی قوم کھلم کھلا بتوں کو پوجتی پکارتی اور ان کو مشکل کشا و حاجت روا مانتی ہو۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ جسمانی طور پر بھی آپ ﷺ کی طبیعت کچھ علیل ہوئی ہو۔ کیونکہ کچھ نہ کچھ عارضہ تو یوں بھی ہر کسی کو رہتا ہی ہے۔ مگر چونکہ ظاہری طور پر آپ (علیہ السلام) ٹھیک تھے اور آپ (علیہ السلام) نے توریہ کے طور پر یہ بات فرمائی تھی جو کہ ضرورت کے موقع پر جائز بلکہ مندوب و مطلوب ہے۔ اس لئے آپ (علیہ السلام) کے مقام رفیع کے اعتبار سے حدیث میں اس کو کذب فرمایا گیا اور اس کو " ثلث کذبات " میں سے ایک قرار دیا گیا۔ جیسا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا گیا ۔ { وَعَصٰی اٰدَمُ رَبَّہ فَغَوٰی } ۔ کہ اس میں حضرت آدم کی اجتہادی لغزش کو معصیت و گمراہی قرار دیا گیا۔ حالانکہ انہوں نے اس کا کوئی ارادہ ہی نہیں فرمایا تھا۔ اور خود قرآن کریم اس کی تصریح کرتا ہے ۔ { وَلَمْ نَجِدْ لَہ عَزْمًا } ۔ اور توریہ کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی ایسا محتمل اور ذومعینین لفظ بولا جائے جس کے دونوں معنوں میں سے متکلم کی مراد معنی بعید ہو۔ اور مخاطب اس کا قریب کا معنی سمجھ رہا ہو۔ جیسا کہ سفر ہجرت کے موقع پر جب کفار نے حضرت صدیق اکبر ؓ سے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے بارے میں پوچھا تھا کہ یہ کون ہیں ؟ تو آپ ؓ نے جواب دیا تھا ۔ " رَجُلٌ یَّہْدِیْنِی السَّبِیْل " ۔ کہ " یہ ایک ایسا شخص ہے جو مجھے راستہ بتاتا ہے "۔ اور ظاہر ہے کہ اس حقیقت میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ پیغمبر تو ہوتا ہی " ہادی " ہے۔ یعنی " راستہ بتانے والا "۔ مگر کفار نے حضرت صدیق ؓ کے اس جواب سے یہ سمجھا کہ یہ ظاہری راستہ بتانے والا کوئی شخص ہے۔ جب کہ حضرت صدیق اکبر۔ ؓ ۔ کا مقصد تھا کہ یہ مجھے حق اور حقیقت کا راستہ بتاتے ہیں جو کہ نبی کے سوا اور کوئی بتا ہی نہیں سکتا۔ پس اب تو " ثلث کذبات " والی حدیث پر کسی رد و قدح اور شک و انکار کی ضرورت و گنجائش ہی نہیں کہ یہ حدیث سند و ثبوت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور ایک بےغبار حدیث ہے۔ اور نہ ہی اس کی بناء پر حضرت ابراہیم ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔ کے مقام رفیع پر اس سے کوئی حرف آتا ہے ۔ والحمد للہ ۔ سو حضرت ابراہیم کا یہ جواب بھی آپ کی اسی سکیم کا حصہ تھا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ جس کے تحت آپ نے بت شکنی کا وہ بےمثال کارنامہ انجام دیا۔
Ayahs 37:92–9461 حضرت ابراہیم کی طرف سے معبودان باطلہ کی زبانی تحقیر و تذلیل : سو حضرت ابراہیم نے انکے ان معبودان باطلہ کے خلاف دستی کارروائی سے پہلے ان کی زبانی کلامی تحقیر و تذلیل کیلئے ان سے کہا " کیا تم کھاتے نہیں ہو ؟ "۔ یعنی ان کی تذلیل و تحقیر کے لئے فرمایا کہ یہ مٹھائیاں اور شیرینیاں جو تمہارے سامنے پڑی ہیں اور نذر و نیاز کے یہ مال اور میوے جو تمہارے آگے رکھے ہیں یہ یونہی پڑے ہیں تم کھاتے کیوں نہیں ہو ؟ اور تم ان پر بیٹھنے والی مکھی کو بھی نہیں ہٹا سکتے۔ تو پھر کتنے احمق ہیں وہ لوگ جنہوں نے تم کو اپنا معبود قراردے کر خدائی کے منصب پر بٹھا رکھا ہے ؟۔ سو یہ مشرکوں کی مت ماری کا ایک کھلا اور واضح ثبوت اور ان کی مت ماری اور اوندھے پن کا اظہار وبیان ہے۔ سو حضرت ابراہیم کے اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جس وقت آپ نے بت شکنی کا یہ انتہائی قدم اٹھانے کا ارادہ فرمایا اور مشرکوں اور بت پرستوں کے اس استھان اور گڑھ میں داخل ہو کر یہ کارروائی کرنا چاہی جس کو ان لوگوں نے بہت کچھ سجا بنا کر رکھا ہوگا اور جس کے ساتھ اس کی عظمت کی بہت کچھ جھوٹی داستانیں اور من گھڑت افسانے وابستہ کر رکھے ہوں گے۔ سو اس سب کے باوجود اس وقت حضرت ابراہیم پر کسی طرح کے خوف، ڈر یا گھبراہٹ کا کوئی اثر نہیں تھا۔ بلکہ آپ نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ اور خوشگوار موڈ میں تھے۔ اور یہی شان ہوتی ہے موحد انسان کی کہ وہ اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں ڈرتا۔ ورنہ ایمان کی اس قوت سے محروم ایک عام انسان ایسے کسی درخت کو کاٹنے یا کپڑے کی ایک جھنڈی کے اکھاڑنے سے بھی ڈرتا رہتا ہے۔ سو کتنی عظیم الشان قوت اور عظمت شان سے سرفراز کرتا ہے انسان کو یہ عقیدئہ توحید اور یہ نور ایمان و یقین ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان والیقین ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ ۔ اللہ تعالیٰ ایمان و یقین کی کمال قوت سے سرفراز فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 37:9562 حضرت ابراہیم کی طرف سے مشرکوں کی تجہیل و تحمیق ان کے منہ پر : سو حضرت ابراہیم نے ان لوگوں کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لیے اور ان کے رو در رو ان کی تجہیل و تحمیق کرتے ہوئے ان سے کہا کہ کیا تم لوگ ان چیزوں کی پوجا کرتے ہو جنکو تم اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو ؟۔ یعنی کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟ اور تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟ کہ اپنے ہاتھوں کی تراشی ہوئی ان مورتیوں کو اپنا حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر ان کو پوجتے پکارتے ہو۔ افسوس کہ آج کا کلمہ گو مشرک بھی اسی جہالت و حماقت میں مبتلا ہے۔ وہ بھی طرح طرح کی بےحقیقت اور بےبنیاد چیزوں کو حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر انکو پوجتا پکارتا اور ان کے آگے جھکتا ہے۔ اور ان خود ساختہ اور فرضی " سرکاروں " کے لئے مراسم عبودیت بجا لاتا ہے جنکی نہ کوئی اصل ہے نہ بنیاد۔ محض مفروضے اور اوہام و تخیلات ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت ابراہیم نے شرک کی بیخکنی کے لیے اپنے اس ارشاد سے ایک اور ضرب لگائی اور ان لوگوں کے مونہوں پر ان کی تجہیل و تحمیق فرمائی۔
Ayahs 37:96–9763 خالق سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو حضرت ابراہیم نے ان سے مزید فرمایا کہ حالانکہ اللہ ہی نے پیدا کیا تم کو بھی اور ان تمام چیزوں کو بھی جن کو تم لوگ بناتے ہو۔ اور دوسرا ترجمہ اسکا یہ بھی ہوسکتا ہے " ان تمام کاموں کو بھی جو تم لوگ کرتے ہو " اور جب ان تمام کا خالق اللہ پاک ہی ہے، تمہاری بنائی ہوئی تمام چیزوں کا بھی اور تمہاے کئے ہوئے سب کاموں کا بھی، تو پھر تمہارے ان خود تراشیدہ بتوں کے معبود اور حاجت روا و مشکل کشا ہونے کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ کیا تمہاری کھوپڑیوں میں اتنی موٹی بات بھی نہیں آتی کہ جن چیزوں کو تم لوگ خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے اور بناتے تراشتے ہو آخر وہ تمہاری معبود کس طرح ہوسکتی ہیں ؟ کیا تم لوگ اپنے خالقوں کے خالق خود ہو ؟ اس پر ان لوگوں نے غصے میں بھڑک کر کہا کہ جھونک دو اس کو آگ میں۔ یعنی حجت وبرہان کے میدان میں عاجز آنے اور ہار جانے کے بعد وہ لوگ قوت و طاقت کے استعمال پر اتر آئے۔ جیسا کہ باطل پرستوں کا طریقہ اور وطیرہ ہوتا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالنے کے اس پروگرام کو ان لوگوں نے خفیہ رکھا تاکہ کہیں ابراہیم انکے قابو سے نہ نکل جائیں اور کہیں ان کی قوم خاندانی عصبیت کی بناء پر حضرت ابراہیم کی حمایت میں اٹھ کھڑی نہ ہو۔ اس لیے انکے اس پروگرام کو یہاں پر " کید " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ لیکن دوسرے مقام پر تصریح فرمائی گئی ہے کہ انکو آگ میں ڈالا گیا۔ مگر وہ اللہ کے حکم و ارشاد سے حضرت ابراہیم کیلئے سراسر سلامتی بن گئی اور حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بحفاظت نکال دیا۔ جیسا کہ سورة انبیاء کی آیت نمبر 69 اور سورة عنکبوت کی آیت نمبر 24 میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جب خالق ومالک سب کا اللہ ہے تو معبود برحق بھی وہی وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 37:9864 حق والوں کو ستانے کا نتیجہ و انجام ذلت و رسوائی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت ابراہیم کے خلاف ایک ہولناک چال چلنا چاہی مگر ہم نے خود ان سب کو نیچ اور ذلیل کردیا۔ کہ انہوں نے تو آپ (علیہ السلام) کو آگ میں بھسم کردینا چاہا مگر ہم نے اس آگ کو آپ (علیہ السلام) کے لئے ٹھنڈا کر کے اور سلامتی والی بنا کر ابراہیم کو صحیح و سلامت اس سے نکال دیا اور ان لوگوں کو ذلیل وخوار اور نامراد و رسوا کردیا ۔ " ای بابْطِالِ کَیْدِھِمْ وَجَعْلِ النّٰار علیہَ برْدًا وَّ سَلاَمًا " ۔ (محاسن التاویل للّد مشقی : ج 14 ص 112 والمراغی والصفوۃ وغیرہ) ۔ سو وہ لوگ اپنے مکروہ پروگرام میں ناکام ہوئے۔ آگ حضرات ابراہیم کیلئے گلزار بن گئی۔ آنجناب کی حقانیت سب کے سامنے واضح اور آشکارا ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نجات دے دی جیسا کہ دوسرے مقام پر تصریح فرمائی گئی ۔ { قُلْنَا یَا نَارُ کُوْنِی بَرْدًا وَّ سَلاَمًا عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ } ۔ (الانبیاء :69) یعنی " ہم نے کہا اے آگ ٹھنڈی ہوجا تو اور سراسر سلامتی بن جا ابراہیم کے لیے "۔ نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاَنْجَاہ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ } ۔ یعنی " اللہ نے بچا لیا ابراہیم کو اس آگ سے "۔ (العنکبوت : 24) ۔ سو ان بدبختوں نے تو اپنی بدبختی کی بنا پر حضرت ابراہیم کو اس ہولناک آگ کے الاؤ میں جھونک دیا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے آنجناب کو اس سے بچا لیا۔ جس سے حضرت ابراہیم کی برتری سب دنیا کے سامنے واضح ہوگئی اور وہ لوگ ذلیل و خوار ہو کر رہے۔ سو حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ حضرت ابراہیم جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر بھی اسی کی حاجت روائی و مشکل کشائی کے محتاج ہیں تو پھر اور کسی کے حاجت روا و مشکل کشا ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟۔ سو اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کو حاجت روا و مشکل کشا ماننے والے گمراہ ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 37:9965 حضرت ابراہیم کا اعلان ہجرت : سو ارشاد فرمایا گیا " ابراہیم نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں۔ وہی میری راہنمائی فرمائے گا "۔ جہاں میں سکون و اطمینان کے ساتھ اس کی عبادت و بندگی کرسکوں۔ معلوم ہوا کہ جہاں پیغام حق قبول نہ کیا جائے وہاں سے ہجرت کر جانا چاہیئے کہ ایسے میں وہاں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ (تفسیر المراغی : ج 23 ص 70) کہ اصل سرمایہ تو دین و ایمان ہی کا سرمایہ ہے۔ اس کی حفاظت سب پر مقدم ہے۔ بہرکیف اس واقعے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر وہاں سے ہجرت کرنے کا فیصلہ فرما لیا۔ اور کسی پیغمبر کا ہجرت کا فیصلہ بہت اہم فیصلہ ہوتا ہے۔ اور اپنے ماحول سے کٹ کر ایک نئے ماحول کو اپنانے کے سلسلے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ یہ نیا ماحول سازگار ثابت ہوگا یا ناسازگار۔ اس لیے انکا تمام تر بھروسہ و اعتماد اللہ وحدہ لاشریک ہی پر ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف پیغمبر کا اصل سرمایہ چونکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ و اعتماد ہی ہوتا ہے اس لیے حضرت ابراہیم نے اپنی ہجرت کے لیے کسی جگہ یا مقام کا کوئی ذکر نہیں فرمایا بلکہ ۔ { ذاہب الی ربی } ۔ کہہ کر اس سلسلے میں اپنا معاملہ اپنے رب کے حوالے کردیا کہ جہاں وہ چاہے گا وہیں جاؤں گا۔ اور جو اس کو منظور ہوگا وہی مجھے منظور ہے اور۔ { سیہدین } ۔ " وہی میری راہنمائی فرمائے گا ۔ " کے لفظ سے آنجناب کے اسی اعتماد اور وثوق کا اظہار ہوتا ہے ۔ سبحان اللہ ! ۔ کیسی عظیم شان ہوتی ہے ان قدسی صفت ہستیوں کی ۔ اللہ ہمیں بھی اس کا کوئی شمہ نصیب فرما دے اور ہمیشہ اپنے ہی اوپر بھروسہ رکھنے کی سعادت و توفیق سے نوازے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 37:10066 حضرت ابراہیم کی اولاد صالح کے لیے دعا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ابراہیم نے عرض کیا اے میرے رب مجھے ایک صالح فرزند عطا فرما دے "۔ کہ فرزند عطا کرنا اور اولاد سے نوازنا تیری ہی شان اور تیرا ہی کام ہے۔ اور جب حضرت ابراہیم خلیل جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اولاد دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے بلکہ وہ بھی اللہ پاک ہی کے حضور دست سوال دراز کرتے ہیں اور اسی سے مانگتے ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو کسی کو اولاد دے سکے ؟ اور جب حضرت ابراہیم جیسی ہستی اپنے لئے بھی اتنی حاجت روائی نہیں کرسکتی تو پھر اور کون ہے جو حاجت روا و مشکل کشا بن سکے اور لوگوں کو اولاد کی نعمت سے نواز سکے ؟ سو کتنے گمراہ اور کس قدر بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اللہ پاک کی عاجز اور بےحقیقت مخلوق کو حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجتے پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ { تَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا } ۔ سو سب کا حاجت روا و مشکل کشا اور وہاب و بخشنہار اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف خویش و اقارب سے اور قوم قبیلہ سے الگ ہوجانے کے بعد حضرت ابراہیم نے اپنے رب سے اچھے ساتھی اور فرزند صالح کی دعا فرمائی کہ سب سے زیادہ ضرورت ایسے عالم غربت میں اسی کی ہوتی ہے کہ کوئی صالح رفیق کار اور شریک سفر مل جائے۔ تاکہ ہموم و غموم کا بوجھ کسی قدر ہلکا ہوجائے۔ اور پھر آنجناب نے دعا بھی ۔ { رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ } ۔ کے عام کلمات سے فرمائی جو صرف اولاد کے لیے خاص نہیں بلکہ دوسرے اچھے اور نیک ساتھیوں کو بھی عام اور شامل ہے۔
Ayah 37:10167 حضرت ابراہیم کو ایک نہایت ہی بردبار بیٹے کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو خوشخبری سنادی ایک بڑے ہی بردبار اور ہونہار بیٹے کی "۔ جب مانگنے والے حضرت ابراہیم جیسے موحد اعظم ہوں اور دینے والی اللہ پاک کی ذات اقدس و اعلیٰ ہو تو پھر قبولیت و عطا کے کیا کہنے ! ! { فَبَشَّرْنَاہُ } کی فاء تعقیب سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا فوری قبول ہوگئی اور وہ بھی اس شان سے کہ بیک وقت ایک ہی جملے میں تین خوشخبریوں سے نواز دیا گیا۔ کہ ایک تو یہ کہ پیدا ہونے والا وہ بچہ لڑکا ہوگا نہ کہ لڑکی۔ دوسرے یہ کہ وہ حلم و بلوغ کی عمر کو پہنچے گا۔ یعنی زندہ رہے گا اور بڑا ہوگا۔ اور تیسرے یہ کہ وہ بڑا ہی متحمل مزاج اور بردبار ہوگا ۔ فَیَا لہ مِنْ کَرَمٍ وَ عَطَائ۔ اور اس فرزند سے مراد حضرت اسماعیل ہیں کہ وہی اس وقت حضرت ابراہیم کی اکلوتی اولاد تھے۔ اور انہی کیلئے حضرت ابراہیم نے دعا کی تھی اور انہی کی قربانی کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اور انہی کے حلم کا یہ نادر و نایاب نمونہ سامنے آیا تھا کہ انہوں نے باپ کے حکم بلکہ ان کے اشارے پر اپنی گردن ان کی چھری کے نیچے رکھ دی تھی جس کے صلے میں انکو " صابر " و " حلیم " اور " صادق الوعد " جیسے القاب سے نوازا گیا۔ سو وہی اس بشارت کے مصداق تھے
Ayah 37:10268 بیٹے کی قربانی کی کڑی آزمائش کا ذکر : سو اس سے حضرت ابراہیم کے لیے بیٹے کی قربانی کے کڑے اور بےمثال امتحان کے مرحلہ کا ذکر فرمایا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " پھر وہ بیٹا جب آپکے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچا "۔ اور روایت کے مطابق یہ کوئی تیرہ برس کی عمر تھی۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ اس عمر میں انسان کو اپنا بچہ طبعی طور پر زیادہ پیارا لگتا ہے۔ اور دوسری طرف وہ ضروری کام کاج میں باپ کی ڈھارس بنتا اور اس کا ہاتھ بٹانے لگتا ہے۔ سو ایسے میں حضرت ابراہیم کو سخت آزمائش میں ڈالا گیا کہ اس بچے کو ذبح کردینے کا ارشاد ہوا۔ سو یہ حضرت ابراہیم کا سب سے بڑا اور بےمثال و کٹھن امتحان تھا جس میں آنجناب کو ڈالا گیا جس سے آپ بالآخر کامیاب نکلے۔ اور آپ نے صدق و اخلاص کا عظیم الشان اور بےمثال نمونہ پیش فرمایا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
69 حضرت ابراہیم کا بیٹے سے مشورہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ابراہیم نے بیٹے سے کہا اب بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ "۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر انہوں نے اس کے حق میں رائے نہ دی تو حضرت ابراہیم اس حکم کی تعمیل چھوڑ دیں گے۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ اس طرح کر کے آپ (علیہ السلام) نے دراصل یہ چاہا کہ اس سعادت مند بیٹے کی سعادت مندی اور اس کا حلم و بردباری بھی اس سے ظاہر ہوجائے۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پیغمبر کا خواب وحی ہوتا ہے۔ اس سے شرعی حکم ثابت ہوجاتا ہے۔ کسی اور کے خواب کی یہ شان نہیں ہوسکتی۔ بہرکیف بیٹے کی قربانی کے سلسلے میں حضرت ابراہیم نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ اپنے اس فرزند حلیم کے حوصلے کا بھی اندازہ کرلینا چاہا۔ اس لیے آنجناب نے اپنے اس بیٹے سے فرمایا کہ پیارے بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ اب تم بتاؤ کہ اس بارے میں تمہاری رائے کیا ہے ؟ تو اس پر حضرت اسماعیل نے اس کے جواب میں فورا کہا ابا جان آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس کی آپ بےدریغ تعمیل کیجیے۔ مجھے آپ انشاء اللہ صابر ہی پائیں گے۔ اور سعادت مندی کا نمونہ ملاحظہ ہو کہ جس بات کو حضرت ابراہیم نے اپنے خواب کے لفظ سے بیان فرمایا اس کو حضرت اسماعیل نے ۔ { بما تؤمر } ۔ کہہ کر اللہ کا حکم قرار دیا ۔ علیہما الصلاۃ والسلام ۔ سو قدرت کی فیاضیوں نے بےمثال باپ کو کیسے بےمثال بیٹے سے نوازا تھا جو باپ کی طرف سے ملنے والے محض ایک اشارے پر اپنی جان کی قربانی کے لیے تیار ہوگیا جبکہ آج لوگوں کی اولاد کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے صاف اور صریح حکم کو بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ خود راقم آثم کا بھی ایک بیٹا ایسا ہے جس کو راقم کی سیدھی بات بھی الٹی نظر آتی ہے اور وہ نصیحت و فہائش کے جواب میں راقم کو دلآزار اور دکھ دہ انداز میں پیش آتا ہے جس سے سخت دکھ بھی پہنچتا ہے اور تعجب بھی ہوتا ہے کہ آخر ایسے کیوں ہے ؟ فانما اشکو بتی وحزنی الی اللہ وہو المستعان وعلیہ التکلان ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے میری دوسری سب اولاد انتہائی فرمانبردار ہے اور ایسی کہ وہ میرے اشارئہ ابرو کی منتظر رہتی ہے ۔ فالحمد للہ وجزاہم اللہ خیرا ۔ اللہ ان کی دنیا بھی اچھی کرے اور آخرت بھی۔ ان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے نوازے۔ ان کو ہر قدم خیر ہی کی طرف اٹھانے کی توفیق بخشے اور ان کو ہر قسم کے شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ اور اپنے اس نافرمان بیٹے کے لیے بھی میری ہمیشہ یہی دعا رہتی ہے اور رات کے پچھلے حصے میں سجدے میں پڑ کر اس کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ اس کا دماغ سیدھا کر دے اور اس کو بدل کر ایسا سیدھا کر دے کہ جتنا اس نے مجھے دکھ دیا ہے اس سے کہیں زیادہ سکھ دے ۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز ۔ وہو علی کل شیء قدیر ۔ مگر یہ ہماری طرف سے دعاء والتجاء اور امید ہی ہے۔ آگے معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے اور اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ میرے اس نافرمان اور سرکش بیٹے کے علاوہ پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں اور ہیں۔ الحمد للہ وہ سب ہی فرمانبردار ہیں ۔ اللہ ان سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ان کو بہتر سے بہتر ہی بننے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayahs 37:103–10470 ذبح اسماعیل کا اصل مرحلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب وہ دونوں اپنے رب کے حکم وارشاد کے آگے سرتسلیم خم ہوگئے اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا "۔ یعنی بالکل اوندھے منہ یا کروٹ کے بل۔ دونوں قول ہیں۔ اور الفاظ میں دونوں کی گنجائش موجود ہے۔ اور یہ اس لئے کہا گیا کہ بوقت ذبح کہیں شفقتِ پدری آڑے نہ آجائے۔ اس ضمن میں باپ بیٹا دونوں کے درمیان ہونے والے کلام کے جو نمونے روایات میں ملتے ہیں وہ بڑے ہی رقت انگیز ہیں ۔ وَالتَّفْصِیْلُ فیِ الْمُطَوّل انشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سبحان اللہ ! بےمثال باپ اور بےمثال بیٹے نے اطاعت و فرمانبرداری کی کیسی نادر و بےمثال یادگاریں قائم فرمائیں ۔ علیہما الصلوۃ والسلام ۔ اور بعض اہل علم نے کہا کہ حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل پر اس لیے لٹایا تھا کہ ان کی قربانی سجدے کی حالت میں ہو۔ کہ یہ حالت بندے کو اپنے رب کے قرب سے سب سے زیادہ مشرف کرنے والی ہے۔ اور بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جبکہ وہ سجدے میں ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں سجدے کو قرب خداوندی سے سرفرازی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس کا صاف اور صریح طور پر حکم دیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور سجدہ کرتے جاؤ اور اپنے رب کے قریب ہوتے جاؤ "۔ اور حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جبکہ وہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید -
Ayah 37:10571 حضرت ابراہیم کی اس امتحان میں کامیابی کا اعلان : سو اس سے حضرت ابراہیم کی اس کڑے امتحان میں بھی کامیابی اور فیروزمندی کا صاف اور صریح طور پر اعلان فرما دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے پکار کر کہا اے ابراہیم بیشک آپ نے سچ کر دکھایا اپنے خواب کو "۔ کہ ہمیں آپ کے بیٹے کی جان لینا مطلوب نہ تھی بلکہ آپ کے دل کی آزمائش مطلوب تھی۔ اور اس میں آپ کامیاب ہوگئے۔ اور خواب میں بھی آپ کو یہ نہیں دکھلایا گیا تھا کہ آپ (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو ذبح کردیا اور اس کی جان نکل گئی بلکہ یہ دکھلایا گیا تھا کہ آپ (علیہ السلام) اسے ذبح کر رہے ہیں۔ سو وہ آپ (علیہ السلام) نے کردیا۔ اور آپ (علیہ السلام) اس عظیم الشان آزمائش میں کامیاب ہوگئے کہ آپ اپنے طور پر اپنے بیٹے کو ذبح کرنے اور اس کی گردن پر چھری چلانے کیلئے پوری طرح تیار ہوگئے۔ اور خواب کا جو منشا اور آزمائش کا جو مقصد تھا وہ پورا ہوگیا۔ اس لیے حضرت ابراہیم کو ان کے صدق و اخلاص اور بےمثال قربانی پر اللہ پاک ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ نے پکار کر اس کڑے امتحان میں کامیابی اور فیروزمندی کی بشارت سے نواز دیا اور صاف وصریح طور پر اور ادوات تاکید کے ساتھ نواز دیا۔ اور دنیا کے سامنے یہ امر پھر واضح ہوگیا کہ حضرت ابراہیم کا دل صرف انکے خالق ومالک کے لیے ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
72 احسان ذریعہ سرفرازی و فیروزمندی : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم ایسے ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو "۔ کہ ابراہیم سے بیٹے کی قربانی بھی نہیں لی گئی اور دائمی اور بےمثال اجر وثواب سے بھی نواز دیا گیا۔ سو یہی ہے سچی عزت اور حقیقی و ابدی ناموری جو کہ ایمان و اخلاص اور صدق و احسان پر ملتی ہے۔ اور اس کے برعکس جس کو دنیا والے صدق و اخلاص اور ایمان و یقین سے محروم لوگ عزت سمجھتے ہیں وہ سراسر دھوکے کا سامان ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو احسان کی صفت ایک عظیم الشان صفت ہے جس سے انسان دنیا میں ایسی آزمائشوں میں بھی سرخرو و آبرو مند ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو احسان کے صلے میں بڑے بڑے امتحانوں میں کامیابی سے مشرف فرماتا ہے۔ اور آخرت میں بھی وہ انکو اپنے فضل و کرم سے وہاں کی ابدی بادشاہی نصیب فرمائے گا۔ اور احسان کا حاصل یہ ہے کہ صدق و اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات کی تعمیل اور انکی بجاآوری کی کوشش کی جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 37:106–11173 ایک عظیم الشان اور بےمثال امتحان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بلاشبہ یہ ایک ۔ بڑی بھاری اور۔ کھلی آزمائش تھی "۔ اور اس سے بڑھ کر کھلی اور بڑی آزمائش اور کیا ہوگی کہ بیٹے کی قربانی کا مطالبہ کیا جائے اور وہ بھی ایک ایسے بیٹے کا جو کہ نہایت ہونہار اور اطاعت گزارو صدق و فاشعار بیٹاہو۔ اور جو کہ خصوصی دعاؤں و التجاؤں سے اور بڑی امیدوں اور تمناؤں کے بعد بڑھاپے میں ملا ہے۔ اور وہ بھی اس وقت جب کہ وہ دوڑ دھوپ کرنے اور کام آنے کی عمر کو پہنچ چکا ہے۔ ایسے بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہوجانا اور وہ بھی رب کی طرف سے محض خواب میں ملنے والے ایک اشارے کی بناء پر، جس کی کئی طرح کی تاویلیں بھی کی جاسکتی تھیں۔ واقعی یہ حضرت ابراہیم خلیل جیسی سراپا صدق و اخلاص وفا شعار ہستی ہی سے ممکن ہوسکتا تھا۔ ورنہ ضعیف الایمان لوگوں کو تو ایک جانور کی قربانی بھی مشکل ہوتی ہے ۔ فصَلَوات اللّہِ وَ سَلامُہ عَلَیْہِ وَعَلیٰ سائر الانبیاء والمرسلین ۔ اور ظاہر ہے کہ جس امتحان کو خود اللہ پاک بڑا امتحان قرار دے، اس کے بڑا ہونے میں کسی شبہ کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے ؟ اور ایسے امتحان میں کامیاب ہونا اور بازی لے جانا حضرت ابراہیم جیسی عظیم الشان اور جلیل القدر ہستی ہی کا کام ہوسکتا ہے۔ اور پھر اس عظیم الشان کامیابی پر جو انعام حضرت ابراہیم کو ملا وہ بھی کسی اور کو نصیب نہیں ہوسکا کہ آنجناب کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے داد ان الفاظ میں ملی کہ " ابراہیم یقینا آپ نے سچ کر دکھایا اپنے خواب کو "۔ سو کیسی عظیم الشان کامیابی تھی جس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سرفراز ہوئے اور کیسا عظیم الشان اور بےمثال انعام تھا جس سے آنجناب (علیہ السلام) کو نوازا گیا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Ayah 37:11275 حضرت ابراہیم کے لیے حضرت اسحاق کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے انکو اسحاق کی خوشخبری دی جو کہ نبی ہوں گے ۔ ہمارے یہاں قرب خاص کے ۔ سزاواروں میں سے "۔ سو اس سے اس امر کی بھی تصدیق ہوگئی کہ ذبیح حضرت اسماعیل تھے نہ کہ حضرت اسحق۔ جیسا کہ بعض اسرائیلی روایات میں وارد ہوا ہے اور انہی کی بنا پر بہت سے اسلاف کرام نے بھی اس قول کو اختیار کرلیا۔ سو ایسی تمام روایات بےبنیاد اور یہود کے افترا کا پلندہ ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ ایک تو اس لئے کہ یہاں حضرت اسماعیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ذکر کے ضمن میں ذبح کا قصہ بیان فرمانے کے بعد حضرت اسحاق کا ذکر آگے الگ اور مستقل طور پر فرمایا جا رہا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ذبیح حضرت اسحاق نہ تھے بلکہ حضرت اسماعیل تھے۔ دوسرے اس لئے کہ حضرت اسحاق کی بشارت میں ان کے نبی بنائے جانے کا ذکر بھی ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی قربانی کا حکم ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ ان کے زندہ رہنے اور نبی بنائے جانے کی خبر تو حضرت ابراہیم کو بذریعہ وحی دے دی گئی تھی۔ نیز دوسری جگہ ۔ { وَمِنْ وَّرَآئِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ } ۔ (ھود : 71) سے اسحاق کے بعد ان کے لئے بیٹے یعقوب کی بشارت بھی دی جا چکی تھی۔ تو پھر ان کے ذبح کے ابتلاء کا قصہ ہو ہی کس طرح سکتا تھا۔ کیونکہ اس امر کی تصریح فرما دی گئی کہ حضرت اسحاق نے بہرکیف زندہ رہنا ہے اور ان کے گھر حضرت یعقوب نے پیدا ہونا ہے۔ تیسرے اس لئے کہ انہی اسرائیلی روایات میں اس کی بھی تصریح موجود ہے کہ حضرت ابراہیم کو اپنے اکلوتے بیٹے کے ذبح کا حکم ہوا تھا۔ اور یہ امر طے شدہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) کے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل ہی تھے جو کہ حضرت اسحاق سے چودہ سال بڑے تھے۔ نہ کہ حضرت اسحاق جو کہ حضرت اسماعیل کے چودہ برس بعد پیدا ہوئے تھے۔ سو حضرت اسحاق ذبیح نہیں تھے بلکہ وہ حضرت اسماعیل کی قربانی کا ایک انعام تھا جس سے حضرت ابراہیم کو قربانی کے اس واقعے کے بعد نوازا گیا تھا۔ پس اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ حضرت اسحاق کے ذبیح ہونے سے متعلق جو روایتیں پائی جاتی ہیں وہ سب من گھڑت ہیں جو یہودیوں نے گھڑی ہیں اور بہت سے سادہ لوح مسلمان بھی انکے فریب میں آ گیے۔
Ayahs 37:113–11476 حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق کے لیے برکات خداوندی کا اعلان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے برکتیں نازل کیں ابراہیم پر بھی اور اسحاق پر بھی "۔ کہ ان کے بعد رسالت و نبوت اور دینی و دنیاوی سیادت و قیادت کے مناصب زیادہ تر انہی کی نسل میں رہے۔ چناچہ ان کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) تک آنے والے تمام انبیاء و رسل کا تعلق انہی کی نسل سے تھا جو بلاشبہ ایک بہت بڑا اور منفرد شرف و اعزاز ہے۔ بہرکیف یہ اس ارشاد ربانی کے معنیٰ و مطلب کا ایک مطلب و احتمال ہے کہ " علیہ " کی ضمیر مجرور کا مرجع حضرت ابراہیم ہیں اور اسی کو اکثر اہل علم نے اختیار کیا ہے۔ (محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان اور معارف القرآن وغیرہ) ۔ جبکہ اس بارے ایک دوسرا قول و احتمال یہ بھی ہے کہ " علیہ " کی اس ضمیر کا مرجع حضرت ابراہیم نہیں بلکہ حضرت اسماعیل ہیں۔ (قرطبی، معارف، موضح اور تدبر وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ دونوں کو ہم نے خوب برکتوں سے نوازا اور ان کی اولاد آگے خوب پھیلی پھولی۔ اور آگے یہ دو قسموں پر منقسم ہوگئی۔ ایک محسن اور دوسری ظالم۔ یعنی ان کی اولادوں میں کچھ تو ان کے نقش قدم پر چلی اور کچھ اس سے منحرف ہوگئی ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر قائم رکھے ۔ آمین۔
77 حضرت ابراہیم کی نسل کو ایک تذکیر و یاددہانی : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم کے ان دونوں بیٹوں یعنی حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل کو تو اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کی برکتوں سے نوازا اور ان کو عظیم الشان عزت و آبرو سے سرفراز کیا۔ لیکن آگے ان کی اولادوں میں کچھ محسن ہیں اور کچھ ظالم۔ پس دین حق کی تعلیمات مقدسہ سے منہ موڑنے والا انسان دراصل خود اپنی ہی جان پر ظلم کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ نبی مختار کل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ آج کل کے اہل بدعت کا شرکیہ عقیدہ ہے۔ کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو حضرت ابراہیم و اسحاق جیسے انبیائے کرام کی نسل میں اپنی جانوں پر کھلم کھلا ظلم کرنے والے لوگ نہ پائے جاتے۔ اور اس سے پہلے ان حضرات کو ہجرت پر مجبور نہ ہونا پڑتا۔ اور اپنے بلاد و اوطان کو ترک نہ کرنا پڑتا۔ جیسا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ محض انتساب اور عالی نسبی سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ اپنا ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار درست نہ ہو۔ اپنا ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار اگر درست ہو تو انتساب اور عالی نسب ہونا بلاشبہ بڑی سعادت کی بات ہے اور ایسے میں انسان نور علی نور کا مصداق بن جائے گا۔ ورنہ یہ چیز خسارہ در خسارہ کا باعث بن جائے گی ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ انسان جتنی اونچائی سے گرتا ہے اس کا حال اتنا ہی برا ہوتا ہے۔ جیسا کہ یہود و نصاریٰ انبیاء در انبیاء کی نسل سے ہونے کے باوجود اپنے کفر و انکار اور تکذیبِ حق کی بنا پر ملعون و مطرود اور ضالین اور مغضوب علیہم بن کر رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی نسلوں میں کچھ نیکوکار بھی ہیں اور کچھ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے بھی۔ سو اس سے انکو تنبیہہ فرما دی گئی اور انکے ضمیروں کو جھنجھوڑا گیا کہ تم لوگ ذرا سوچو اور غور کرو کہ تم کن بڑوں کی اولاد ہو۔ اور اندھے اور اوندھے ہو کر تم لوگ ہلاکت و تباہی کے کس ہولناک گڑھے میں گر رہے ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 37:11578 حضرت موسیٰ اور ہارون کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی بڑا احسان فرمایا۔ اور ہم نے ان دونوں کو اس کرب عظیم سے نجات دی "۔ جس میں وہ اپنی قوم کے کفر و شرک اور ظلم وعناد اور فرعونیوں کی غلامی کی وجہ سے مبتلا تھے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کی زندگیوں کا اصل مشن اور مقصد یہی ہوتا ہے کہ بندوں کو ان کے رب کے حضور جھکایا جائے کہ یہ ان کے رب کا ان پر حق ہے۔ اور اسی میں انکا بھلا اور بہتری ہے کہ یہی شاہ کلید ہے دارین کی سعادت و سرخروئی کی ۔ فَلَا اِلٰہ اِلٓا ہُوَ جَلَّ وَعَلاَ ۔ لَہ الْحَمْدُ وَلَہُ الشکر فی کلّ حالٍ مِّن الْاَحوال وبکُلِ مَوْطنٍ مِّنْ المواطن ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ موسیٰ اور ہارون جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبروں کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور ان دونوں پیغمبروں کی زندگیوں میں بھی بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ اس لیے حضرت ابراہیم کے بعد ان دونوں کا ذکر فرمایا گیا۔ کیونکہ حضرت ابراہیم کے بعد یہ دونوں ہی پیغمبر بڑی عظمت شان اور جلالت قدر والے تھے۔ اور یہ دونوں ہی اس منفرد شان کے مالک تھے کہ بڑے ہی جبار دشمن کو شکست دے کر ایک عظیم الشان امت کے بانی بنے۔ اور ان کی لائی ہوئی شریعت ایک مدت دراز تک ایک دنیا کے لیے مینارئہ نور بنی رہی ۔ علی نبینا وعلیہما الصلاۃ والسلام -
Ayah 37:11679 حضرت موسیٰ اور ہارون بھی اللہ ہی کی مدد کے محتاج ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح لفظوں میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کی مدد کی جس سے وہ غالب ہو کر رہے "۔ معلوم ہوا کہ غلبہ آخر کار حق ہی کا ہوتا ہے اور باطل کی جھاگ بالآخر بیٹھ کر اور مٹ کر ہی رہتی ہے۔ (جامع البیان، صفوۃ وغیرہ) ۔ اور اہل حق کے غلبے کی اصل قوت اور حقیقی بنیاد نصرت خداوندی ہے۔ پس اہل حق کو بھروسہ اللہ وحدہ لاشریک ہی پر ہونا چاہیئے اور ہمیشہ کوشش اسی کی کرنی چاہیئے کہ انکا تعلق اللہ کے ساتھ صحیح، سچا اور پختہ ہو۔ تاکہ اس کی نصرت و امداد انکو حاصل رہے کہ اس کی نصرت و امداد سے سرفرازی کے بعد انکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کی مدد کی جس سے وہ غالب ہو کر رہے۔ اور ان دونوں کی برکت سے بنی اسرائیل کی پوری قوم بھی نصرت و عنایت خداوندی سے سرشار ہوئی۔
Ayah 37:11780 حضرت موسیٰ و ہارون کے لیے کتاب ہدایت سے سرفرازی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان دونوں کو ہم نے ایک روشن کتاب سے بھی نوازا "۔ یعنی تورات سے (جامع البیان، صفوۃ وغیرہ) ۔ جس میں ایمان و ہدایت کی روشنی تھی مگر اب اس کے دعویداروں نے اس کو بدل کر کچھ کا کچھ کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف تورات وہ پہلی روشن کتاب تھی جو کسی امت کو ایک واضح اور مستقل کتاب کے طور پر دی گئی تھی کہ اس سے پہلے لوگوں کو صرف زبانی تعلیم ہی دی جاتی تھی۔ تورات کو یہ خاص امتیاز حاصل ہے کہ اس میں شریعت ایک مرتب اور روشن کتاب کی شکل میں دی گئی۔ اور تورات اگرچہ نازل حضرت موسیٰ پر ہوئی تھی لیکن حضرت ہارون کو بھی چونکہ حضرت موسیٰ کی رسالت میں شریک بنادیا گیا تھا اور آپ (علیہ السلام) کی درخواست پر ہی ایسے کیا گیا تھا اس لیے یہاں اس کی نسبت ان دونوں ہی سے فرمائی گئی۔ " مبین " اور " مستبین " دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ یعنی روشن اور واضح۔ سو حضرت موسیٰ اور ہارون کو کتاب مبین کی اس نعمت سے نوازا گیا تاکہ دنیا کے لیے نور حق و ہدایت سے سرفرازی کا سامان ہو سکے۔ کیونکہ نور حق و ہدایت کی ضرورت انسان کے کھانے پینے وغیرہ کی جسمانی ضرورتوں سے بھی کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔