Ayahs 37:118–12081 حضرت موسیٰ اور ہارون کی صراط مستقیم سے سرفرازی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان دونوں کو سیدھی راہ کی راہنمائی کی تھی "۔ یعنی اسلام اور توحید کی اس راہ حق و صواب کی جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی اور کامرانی سے ہمکنار کرتی ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ بھی اللہ پاک ہی کی ہدایت و راہنمائی کے محتاج ہیں۔ پس اس ارشاد سے ضمناً ان اتہامات کی بھی تردید فرما دی گئی جو یہود بےبہبود نے اپنی خست اور خباثت کی بنا پر ان حضرات پر لگائے تھے۔ اس ارشاد سے صراط مستقیم کی عظمت و اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ صراط مستقیم سے سرفرازی ہی وہ اصل اور اہم اساس و بنیاد ہے جس پر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا دار و مدار ہے۔ اس سے محرومی کی صورت میں نہ انسان کی دنیا بن سکتی ہے نہ آخرت۔ اور پھر حضرات انبیائے کرام کا معاملہ تو اس ضمن میں اور بھی زیادہ نزاکت و اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کا معاملہ صرف ان کی ذوات قدسیہ ہی تک محدود نہیں ہوتا بلکہ ان کے ساتھ تو ان کی امتوں کا معاملہ بھی وابستہ ہوتا ہے۔ سو صراط مستقیم کی اسی عظمت و اہمیت کی بنا پر اس کو یہاں پر علیحدہ اور مستقل طور پر بیان فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 37:121–12382 نیکوکاری ذریعہ سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم ایسے ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو "۔ کہ دنیا میں بھی بالآخر غلبہ انہی کا ہوتا ہے۔ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی نصرت و امداد انہی کے لئے ہوتی ہے۔ سچی عزت اور حقیقی و ابدی ناموری بھی انہی کو نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں ملنے والے اجر وثواب کا تو کہنا ہی کیا۔ سو احسان کی صفت ایک ایسی عظیم الشان صفت ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنے ایسے بندوں کو اتنی خاص عنایات سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جو لوگ اس کے دین کیلئے صدق و اخلاص کا ثبوت دیں گے انکو وہ ایسے ہی انعامات سے نوازے گا۔ سو نیکوکاری ذریعہ کامیابی اور وسیلہ سرفرازی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور بدرجہ تمام و کمال نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 37:12484 خوف خدا اصلاح احوال کی اساس و بنیاد : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خوف خدا اصلاح احوال کی اساس و بنیاد ہے۔ اسی لیے حضرت الیاس نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑتے ہوئے اور ان کے ضمیروں کو دستک دیتے ہوئے ان سے فرمایا " کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ہو ؟ "۔ اور یہی بات سب سے اہم اور بنیادی بات ہے۔ اس لئے تمام انبیائے کرام اسی کی تذکیر و یاد دہانی کراتے رہے۔ کیونکہ جب خدا کا خوف پیدا ہوگا اور انسان اس کے غضب اور اس کی پکڑ اور ناراضگی سے بچنے کی فکر و کوشش کرے گا تو وہ حق و باطل کو جاننے اور پہچاننے کی طرف متوجہ ہوگا۔ تاکہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے حق کو اختیار کرے اور باطل سے اجتناب کرے۔ اس کے بغیر انسان لاپروا اور بےفکر ہوتا ہے اور وہ حق بات سننے سمجھنے اور اس میں غور و فکر سے کام لینے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا۔ جس کے نتیجے میں حق بات کا اس پر کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا۔ اس لئے حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ نے دعوت الی اللہ کے عظیم الشان کام کا آغاز ہمیشہ اسی نکتہ سے فرمایا۔ اور اس طرح ان حضرات نے غفلت میں پڑی ان قوموں کے دل و دماغ پر دستک دی۔ سو خوف خداوندی اصلاح احوال کی اساس و بنیاد ہے ۔ فکن اللہم لنا واجعلنا لک و وفقنا لما تحب وترضی من القول والعمل بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ -
Ayahs 37:125–13185 حضرت الیاس کی مشرکوں کے دلوں پر ایک دستک : سو آپ نے مشرکوں کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے اور انکے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے فرمایا " کیا تم لوگ اس کو چھوڑتے ہو جو سب سے بہتر خالق ہے ؟ "۔ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کو جو کہ اس ساری کائنات اور اس کی ہر چیز کا بلاشرکت غیرے خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ اسی نے اس کائنات کو اور اس میں موجود ہر شی کو وجود بخشا اور اس کو بلا کسی نمونے اور مثال کے پیدا فرمایا۔ اور اس کو عدم محض سے نکال کر خلعت وجود سے نوازا۔ اور اس کے سوا دوسری کوئی بھی ہستی ایسی نہ ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے جو ایسا کرے۔ باقیوں کی تخلیق تو محض صنعت اور کاریگری کی حد تک ہوتی ہے اور بس۔ سو اس قادر مطلق کو چھوڑ کر بعل جیسی ایسی خود ساختہ اور بےحقیقت چیزوں کو پوجنا پکارنا کس قدر حماقت اور جہالت ہے۔ آخر کہاں اور کیسے ماری گئی تمہاری عقل کہ تم لوگ اس خالق حقیقی کو چھوڑ کر ایسی بےحقیقت چیزوں کی پوجا کرتے ہو ؟ احسن الخالقین کے کلمات کریمہ سے اس اہم حقیقت کا بھی اظہار فرما دیا گیا کہ وہ صرف خالق ہی نہیں بلکہ بہترین خالق ہے۔ اسی نے سب کو پیدا فرمایا اور سب کو تمام ظاہری اور باطنی صلاحیتوں سے مالامال فرمایا۔ وہی ہے جس نے سب کی تربیت و پرورش کے لیے طرح طرح کے سامانہائے تربیت پیدا فرمائے اور محض اپنی رحمت و عنایت سے پیدا فرمائے۔ اور اس قدر پر حکمت طریقے سے کہ ان سامانہائے تربیت کے اندر طرح طرح کے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ حق اور حقیقت کو سمجھنے کی توفیق بخشے ۔ آمین
Ayahs 37:132–13389 ایمان و احسان ذریعہ نجات و سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہ ہمارے خاص ایماندار بندوں میں سے تھے "۔ یعنی تھے تو بندے اور بشر ہی مگر وحی و نبوت کی وجہ سے وہ ہمارے یہاں ایک ایسے خاص مرتبہ و مقام کے مالک تھے جو اور کسی کو نصیب نہیں ہوسکتا۔ یعنی اضافت یہاں پر تعظیم و تشریف کیلیے ہے جیسے " بیت اللہ " میں ہے۔ یہ بات تقریباً سب ہی انبیائے کرام کے تذکروں میں دہرائی گئی ہے کہ وہ ہمارے خاص بندوں میں سے تھے۔ تاکہ یہ بات راسخ اور پختہ ہوجائے کہ نبی کوئی مافوق العادۃ مخلوق نہیں ہوتے بلکہ وہ انسانوں میں سے ہی ہوتے ہیں جن کو اللہ پاک اپنی نبوت و رسالت کے لئے چنتا اور منتخب فرماتا ہے۔ اور وحی اور نبوت کی وجہ سے ان کو ایک ایسا خاص شرف اور امتیاز نصیب ہوتا ہے جو کسی دوسرے عام بشر کو نصیب نہیں ہوسکتا۔ مگر قرآن حکیم کی اس قدر تاکید و تصریح اور اصرار و تکرار کے باوجود آج کے اہل بدعت حضرات انبیائے کرام کو انسان اور بشر ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اور اس کے لئے وہ نصوص قرآن و سنت تک میں طرح طرح کی تاویلات بلکہ تحریفات سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف یہاں پر بھی اس حقیقت کا اعادہ فرمایا گیا کہ ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ سو جو لوگ ایمان اور احسان کو اپناتے ہیں اللہ تعالیٰ انکے نام کو زندہ رکھتا اور ان کو اپنی خاص عنایتوں سے نوازتا ہے ۔ اللہ توفیق بخشے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے -
Ayah 37:13490 نجات دہندہ اور مشکل کشا سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو حضرت لوط کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے نجات دی انکو بھی اور انکے تعلق داروں کو بھی سب کو "۔ سو اس طرح بار بار اس حقیقت کا اعادہ و تکرار فرمایا جا رہا ہے کہ نجات دہندہ سب کا اللہ ہی ہے۔ انبیائے کرام کو بھی نجات دینا ہمارا ہی کام ہے کہ حاجت روا و مشکل کشا ہم ہی ہیں۔ مگر اس کے باوجود آج کے کئی کلمہ گو مشرک اللہ پاک کی مخلوق میں سے خدا جانے کس کس کو حاجت روا و مشکل کشا مانتے اور ان کو پکارتے ہیں۔ اور اس طرح ایسے لوگ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے اور سادہ لوح عوام کو ہلاکت و تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ لوط بھی رسولوں میں سے تھے۔ ان کی قوم نے بھی ان کو جھٹلایا جس کے نتیجے میں بالآخر وہ لوگ ہمیشہ کی تباہی اور ہلاکت سے دوچار ہوئے۔ اور اس موقع پر ہم نے لوط کو اور ان کے تمام ایماندار متعلقین کو اس ہولناک عذاب سے بچا لیا اور باقی ساری قوم کو اس ہولناک تباہی کے گھاٹ اتار کر ہمیشہ کے لیے مٹا کر رکھ دیا گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو نجات دہندہ اور حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 37:135–13791 لوط کی بیوی بھی ہلاک شدگان میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سوائے ایک ۔ بدبخت ۔ بڑھیا کے "۔ یعنی آپ کی بیوی جو کہ آنجناب پر ایمان نہیں لائی تھی اور وہ کافروں ہی کے ساتھ رہی تھی۔ یہاں تک کہ وہ انہی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ اپنا ایمان و عمل صحیح نہ ہو تو کوئی رشتہ کام نہیں آسکتا۔ یہاں تک کہ نبی کی زوجیت جیسا اہم ترین رشتہ بھی کچھ کام نہیں آسکتا۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے۔ ورنہ حضرت لوط کی خود اپنی بیوی اس طرح ہلاکت و تباہی کے گھاٹ نہ اترتی۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کا یہ حال ہے کہ وہ خود اپنی بیوی کو بھی ایسے ہولناک انجام سے نہیں بچا سکے تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو دوسروں کا حاجت روا اور مشکل کشا بن سکے ؟ سو حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس کے سوا اور کسی کی بھی یہ ہستی نہیں ہوسکتی کہ وہ مافوق الاسباب طور پر کسی کا حاجت روا و مشکل کشا ہو سکے۔ اور جو لوگ ایسا کہتے اور مانتے ہیں وہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ کفر و شرک اور زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 37:13892 آثار قدیمہ سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو قریش کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ تم لوگ ان ۔ کے کھنڈرات ۔ پر سے گزرتے ہو دن کو بھی اور رات کو بھی۔ کیا پھر بھی تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟ یعنی تم لوگوں کو عقل سے کام لینا چاہیے اور اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں۔ سو مکہ کے یہ لوگ جو کہ اپنے تجارتی سفروں کے دوران ان تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈرات پر سے گزرتے اور ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے مگر پھر بھی عبرت نہیں پکڑتے تھے۔ اور یہی حال آج بھی ہے کہ لوگ تباہ شدہ قوموں کے کھنڈرات پر سے گزرتے ہیں اور ان کا مشاہدہ بھی وہ بچشم خود کرتے ہیں مگر عبرت نہیں پکڑتے۔ بلکہ عبرت پکڑنے اور سبق لینے کی بجائے الٹا یہ لوگ وہاں پر اپنی غفلت میں اضافے کا سامان کرتے ہیں۔ چناچہ یہ وہاں پر تفریحیں کرتے اور پکنکیں مناتے، رنگ رلیاں کرتے ہیں، فوٹو گرافیاں کرتے اور اپنی غفلت میں اضافہ کا طرح طرح سے سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ عقل و خرد کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ یہ ان پر عقل و بصیرت کی نگاہ ڈالیں۔ سوچیں اور سبق لیں کہ یہ لوگ کیونکر تباہی کے اس ہولناک گھاٹ پر اترے۔ انکا یہ حشر کس نے کیا اور کیوں کیا۔ اور اس میں ہمارے لیے کیا درس عبرت ہے ؟ بہرکیف اس ارشاد سے آثار قدیمہ سے درس عبرت و بصیرت لینے کی ہدایت فرمائی گئی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 37:139–14093 حضرت یونس کی سرگزشت کا حوالہ و ذکر : سو اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کا وہ وقت خاص طور پر قابل ذکر ہے جبکہ وہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی تک پہنچے "۔ " ابق "، " اباق " سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنیٰ غلام کے اپنے آقا سے بھاگ نکلنے کے ہیں۔ حضرت یونس (علیہ السلام) چونکہ اذن خداوندی ملنے سے پہلے ہی اپنی قوم سے مایوس ہو کر چلے گئے تھے اس لئے ان کے لئے یہ لفظ استعمال فرمایا گیا ہے۔ (مدارک، و جیز وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت یونس کو اہل نینوا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ ان کی قوم نے جب مسلسل تکذیب ہی سے کام لیا تو یہ غیرت حق کے جوش میں وہاں سے نکل کھڑے ہوئے۔ راستے میں آپ ایک ایسی کشتی پر سوار ہوگئے جو کسی مقام کی طرف روانگی کے لیے تیار کھڑی تھی۔ آگے چل کر وہ کشتی سمندری طوفان میں گھر گئی۔ جہاز رانوں نے اپنی روایت کے مطابق کہا کہ اس میں کوئی ایسا مجرم شخص سوار ہے جو اپنے مالک سے بھاگا ہوا ہے۔ جب تک اس کو الگ کر کے سمندر میں نہ ڈال دیا جائے یہ اس طوفان سے نہیں نکل سکتی۔ سو اس کے لیے قرعہ اندازی کی گئی جس میں حضرت یونس کا نام نکل آیا اور اس طرح آنجناب کے لیے ابتلاء و آزمائش کا ایک اور موقع پیش آگیا۔
Ayah 37:14194 قرعہ اندازی اور اس کا نتیجہ و فیصلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے لیے قرعہ اندازی کی گئی جس میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام نکل آیا۔ یعنی کشتی ڈولنے اور ڈوبنے لگی۔ تو اس کے ملاح نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کشتی میں کوئی ایسا شخص سوار ہے جو اپنے مالک سے بھاگا ہوا ہے۔ لہذا اس کو معلوم کرنے کے لئے قرعہ اندازی کی جائے۔ چناچہ تین مرتبہ قرعہ ڈالا گیا تو تینوں مرتبہ حضرت یونس ہی کا نام نکلا۔ تب آپ (علیہ السلام) کو دریا میں ڈال دیا گیا (روح، ابن کثیر، صفوۃ اور معارف وغیرہ) ۔ اور بعض روایات کے مطابق حضرت یونس (علیہ السلام) نے خود ہی دریا میں چھلانگ لگالی کہ کنارہ نزدیک ہے تیر کر وہاں تک پہنچ جاؤنگا یا کم از کم باقی لوگ تو زندہ بچ جائیں گے۔ بہرکیف اس کے بعد حضرت یونس سمندر کے حوالے ہو گیے۔
Ayahs 37:142–14395 حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں : سو قرعہ اندازی کے نتیجے میں حضرت یونس کو دریا میں ڈال دیا گیا جہاں ایک بڑی مچھلی نے ان کو نگل لیا۔ یہاں پر " اَکَلَ " نہیں " اَلْتَقَمَ " فرمایا گیا۔ جس کے معنیٰ لقمہ بنا لینے اور نگل جانے کے ہیں۔ یعنی مچھلی نے آپ کو غذا کے طور پر کھایا نہیں تھا بلکہ پورا نگل لیا تھا تاکہ اس کا پیٹ آپ (علیہ السلام) کے لئے ایک قسم کی جیل اور قید خانہ بن جائے۔ بعض روایات میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مچھلی کو وحی کے ذریعے ارشاد فرمایا گیا کہ یونس تمہاری خوارک نہیں بلکہ تمہارے پیٹ کو ہم نے اس کیلئے ایک ظرف اور اس کی حفاظت کیلئے ایک محل بنایا ہے۔ (قرطبی، معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کے نتیجے میں حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں چلے گیے۔ سو اس سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ حضرات انبیاء و رسل ۔ علیہم الصلاۃ والسلام ۔ نہ عالم غیب ہوتے ہیں اور نہ مختار کل۔ ورنہ حضرت یونس ۔ (علیہ السلام) ۔ کے ساتھ ان وقائع میں سے کچھ بھی پیش نہ آتا۔ اور نہ ہی آپ کی اس طرح گرفت و پکڑ ہوتی۔
Ayahs 37:144–14596 تسبیح و استغفار موجب نجات وخلاص : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو انکو اس دن تک وہیں رہنا پڑتا جبکہ لوگوں کو دوبارہ اٹھایا جائے گا "۔ یعنی قیامت کے دن تک کہ اس مچھلی کا پیٹ ہی آپ کے لئے قبر بن جاتا۔ اور جب نبیوں کا یہ حال ہے تو پھر اور کون ایسا ہوسکتا ہے جو مافوق الاسباب طور پر کسی کی مشکل کشائی یا حاجت روائی کرسکے۔ سو معلوم ہوا کہ مشکل کشا وہی ہوسکتا ہے جو خود کبھی کسی مشکل میں نہ پھنسے۔ اور حاجت روا وہی ہوسکتا ہے جسے خود کبھی کوئی حاجت پیش نہ آئے۔ اور وہ صرف اور صرف اللہ رب العزت ہی کی شان ہے۔ پس حاجت روا و مشکل کشا وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ جَلَّ جَلَالُہ وَعَزَّ بُرْہَانُہ ۔ فَلَہُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰی وَالاٰخِرَۃِ ۔ اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا ماننا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور حضرت یونس کی اس تسبیح سے مراد یہ کلمات کریمہ ہیں ۔ { لاَ اِلٰہَ الاَّ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن } ۔ جیسا کہ سورة انبیاء کی آیت نمبر 87 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ سو اس میں اپنی غلطی کا اعتراف بھی ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت و بخشش کی دعا و درخواست بھی۔ سو توبہ و استغفار کے لیے یہ ایک بہترین دعا ہے جو تہ در تہ کے ان اندھیروں کی اندر حضرت یونس کی زبان پر جاری ہوگئی۔ سو تسبیح و استغفار موجب نجات و خلاص ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 37:14697 حضرت یونس کی حفاظت کے لیے قدرت کے خاص انتظام کا ذکر : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد حضرت یونس کی حفاظت کے لیے قدرت کی طرف سے خاص انتظام فرمایا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے اگا دیا ان پر ایک بیلدار درخت "۔ تاکہ آپ (علیہ السلام) اس کے زیر سایہ دھوپ کی تپش و تمازت اور مکھیوں وغیرہ کے ہجوم اور ان کے اثر و مضرت سے محفوظ رہ سکیں۔ بیلدار درخت، جس کے پتے بیل کی طرح کے ہوں۔ جیسے کہ کدو وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ اور اس کا تنا درخت کی طرح ہو تاکہ آپ (علیہ السلام) اس کے سائے سے صحیح طور پر استفادہ کرسکیں۔ سو یہ ایک خاص قسم کا درخت تھا جو آنجناب کے لئے پیدا فرمایا گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ کدو کے بیل کی خاصیت یہ ہے کہ اس کے گرد مکھی نہیں آتی۔ (قرطبی وغیرہ) ۔ سو اس طرح کدو کی بیل اور اس کے پتوں کو آنجناب (علیہ السلام) کیلئے خیمے کی طرح ان پر تن دیا گیا اور آپ کی خوراک کیلئے یہ انتظام فرمایا گیا کہ ایک پہاڑی بکری اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد سے صبح و شام آکر آپ کے پاس پہنچ جاتی اور آپ اسکا دودھ پی لیتے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ اس طرح آہستہ آہستہ حضرت یونس کی کیفیت بدلی اور آپ کی صحت اچھی ہوگئی۔ اور پھر آپکو اپنی قوم کی طرف دعوت و تبیلغِ حق کیلئے بھیج دیا گیا۔ بہرکیف مچھلی کے پیٹ سے آپ کے مضمحل اور نڈھال جسم کی حفاظت کے لیے اس طرح غیبی انتظام فرمایا گیا۔
Ayah 37:14798 حضرت یونس کی رسالت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت یونس کے پھر اپنی قوم کی تبلیغ کے لیے بھیجے جانے کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے انکو پیغمبر بنا کر بھیجا ایک لاکھ یا کچھ زیادہ لوگوں کی طرف "۔ یعنی یہ " او " شک کے لئے نہیں بلکہ یہ " بل " کے معنیٰ میں اور اضراب کے لئے ہے۔ (المراغی، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان وغیرہ) ۔ اور اس سے مراد اسی بستی کے لوگ ہیں جہاں آپ (علیہ السلام) اس سے پہلے مبعوث ہوئے تھے اور اب دوبارہ آپ (علیہ السلام) کو انہی لوگوں کی طرف بھیجا گیا۔ اور انہوں نے سچی توبہ کرلی اور آپ پر ایمان لے آئے اور عذاب سے بچ گئے۔ (حوالہ مذکورہ بالا) بہرکیف آنجناب (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے پاس دعوت کیلئے بھیجا گیا جن کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے بھی کچھ زیادہ تھی۔
Ayah 37:1489 دین و ایمان ذریعہ نجات وبقاء : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے ان کو فائدہ اٹھانے دیا ایک خاص وقت تک "۔ یعنی اس وقت تک جو ان کی دنیاوی زندگی کے لئے مقرر تھا۔ یہاں سے ایک بات تو یہ واضح ہوگئی کہ اعمال کا پورا بدلہ تو اگرچہ آخرت ہی میں ملے گا لیکن ان کا اور کچھ نہ کچھ بدلہ انسان کو اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ اچھائی کا بدلہ اچھائی کی شکل میں اور برائی کا بدلہ ان کا برائی کی شکل میں۔ اور دوسری بات یہ کہ سچی توبہ اور استغفار سے سختیاں ٹلتی اور عذاب دور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ جس نے استغفار کو لازم پکڑا اللہ اس کو ہر تنگی سے آسانی اور ہر غم سے رہائی نصیب فرمائے گا۔ اور اس کو وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہوگا۔ سو ایمان و یقین سے سرفرازی ذریعہ نجات اور وسیلہ فوز و فلاح ہے ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان والیقین ۔ اللہم فزدنا منہا وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام ۔ بہرکیف دین و ایمان کی دولت نجات وبقاء کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ والحمد للہ -
Ayahs 37:149–151100 مشرکوں کے دلوں پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے پوچھو کہ کیا تمہارے رب کیلئے تو ہوں بیٹیاں اور ان کیلئے بیٹے ؟ "۔ یعنی دوہری گستاخی اور ڈبل کفر کہ اول تو اللہ پاک کے لئے اولاد تجویز کی۔ حالانکہ وہ ہر طرح کی اولاد سے پاک، بری اور بےنیاز ہے کہ اس کی شان ہے ۔ { لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ } ۔ " نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی کی اولاد "۔ پھر اولاد بھی وہ تجویز کی جو ان کو خود اپنے لئے گوارا نہیں یعنی بیٹیاں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اول تو اللہ پاک کی طرف اولاد کی نسبت ہی ایک شدید قسم کی جہالت اور کفر ہے۔ اور اس پر مزید جہالت اور کفر یہ کہ یہ لوگ اس کیلئے اولاد بھی وہ تجویز کرتے ہیں جو خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔ سو ایسے لوگوں کے دلوں پر دستک دینے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ تم لوگ جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کی پوجا کرتے ہو آخر تمہارا ضمیر اس بات کو کیسے گوارا کرتا ہے اور تمہاری عقلیں آخر اس درجہ مسخ کیوں ہوگئی ہیں کہ تمہارے لیے تو ہوں بیٹے اور اس کے لیے بیٹیاں ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 37:152–156101 اللہ کے لیے اولاد ماننے والے قطعی طور پر جھوٹے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ محض اپنے من کی گھڑت اور افتراء سے کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد ٹھہرائی ہے۔ سو یہ لوگ قطعی طور پر جھوٹے ہیں۔ تاکید در تاکید ملاحظہ ہو کہ حرف " اِنَّ " کی تاکید۔ پھر جملہ اسمیہ کی تاکید۔ پھر لام تاکید کا اضافہ۔ یعنی یہ لوگ پرلے درجے کے اور قطعی جھوٹے ہیں جو اللہ پاک کے لئے اولاد تجویز کرتے ہیں ۔ { فَتَعاَلَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا } ۔ نہ انکے پاس کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور نہ انہوں نے اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ بلکہ یہ لوگ محض اپنے جی سے گھڑ کر ایسا بڑا جھوٹ بولتے ہیں۔ سو یہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے صاف اور صریح جھوٹ کا بھگتان ان کو بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ فرشتوں سے متعلق ان بدبختوں نے کفر در کفر کا ارتکاب کیا۔ ایک طرف تو انہوں نے اس وحدہ لا شریک کے لیے اولاد تجویز کی حالانکہ وہ ایسے ہر تصور سے پاک ہے۔ اور دوسری طرف انہوں نے اولاد بھی اس کے لیے مونث تجویز کی جس کو یہ اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں۔ اور تیسری طرف انہوں نے فرشتوں کو مونث قرار دے کر اللہ کی بیٹیاں مان لیا۔ تو کیا یہ اس وقت حاضر اور موجود تھے جبکہ اللہ نے ان کو پیدا کیا تھا۔ سو یہ سب کچھ جرم بالائے جرم ہے جس کے بارے میں ان سے ضرور پوچھ ہوگی ان کے اس سنگین جرم کو لکھ لیا جاتا ہے اور وقت آنے پر ان کو اس کی جوابدہی ضرور کرنا ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَ شَہِدُوْا خَلْقَہُمْ سَتُکْتَبُ شَہَادَتُہُمْ وَہُمْ یُسْئَلُوْنَ } ۔ (الزخرف :19) ۔
Ayah 37:157102 مشرکین سے ان کے دعوے پر دلیل کا مطالبہ : سو ان سے صاف وصریح طور پر حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ " لاؤ تم لوگ اپنی کتاب اگر تم سچے ہو اپنے دعوے میں "۔ یعنی دلیل و ثبوت کے لئے یا تو مشاہدہ درکار ہوتا ہے جس کی نفی اوپر آیت نمبر 150 میں ہوگئی۔ یا پھر کوئی سند اور کتاب چاہیئے ہوتی ہے۔ سو اس کی نفی اب یہاں فرمائی جا رہی ہے کہ ایسی کوئی کتاب نہ ہے نہ ہوسکتی ہے۔ تو پھر جب عقل و نقل کی کوئی بھی دلیل تمہارے پاس موجود نہیں ہے اے مشرکو تو پھر تم اتنی بڑی گستاخی اور اس قدر سنگین بات آخر کس برتے اور کس بنیاد پر کہتے ہو جس سے زمین و آسمان پھٹ پڑیں ؟- { تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا، اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنَ وَلَدًا } ۔ " سلطان مبین " یعنی کھلی سند کی توضیح یہاں پر خود کتاب کے لفظ سے فرما دی ہے۔ سو مشرکوں سے فرمایا گیا کہ اگر کسی آسمانی کتاب کی کوئی سند اور دلیل تمہارے پاس موجود ہے تو لاؤ اس کو پیش کرو۔ اور جب ایسی کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم لوگ اتنی بڑی بات منہ سے کس طرح نکالتے ہو۔ خاص کر اس صورت میں جبکہ اللہ کی کتاب صاف اور صریح طور پر ایسی تمام شرکیات کی تردید کرتی ہے ۔ والعیاذ باللہ -