Ayah 16:109233۔ غفلت و لاپرواہی باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ۔
سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ آخرت سے غفلت برتنے والے سب سے بڑے خسارے میں پڑے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں سراسر خسارے میں ہوں گے۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ انسان کی مثال اس دنیا میں دراصل اس تاجر کی سی ہے جو نفع کمانے کے لئے شہر اور بازار کا رخ کرتا ہے اور اپنا مال کاروبار میں لگاتا ہے۔ اگر صحیح تجارت کا موقع مل گیا اور صحیح طریقے سے کام کیا تو نفع کما لائے گا اور ایک کے بدلے میں کئی گنا حاصل کرے گا۔ ورنہ وہ خسارے سے دوچار ہوگا اور اپنا اصل سرمایہ بھی گنوا بیٹھے گا۔ والعیاذ باللہ۔ سو انسان اس دنیا میں متاع عمر کی پونجی لے کر آتا ہے اور اس کو تجارت میں لگاتا ہے۔ اگر اس کو اپنے خالق ومالک کی اطاعت و بندگی میں صرف کرنے کی توفیق وسعادت سے بہرہ ورہو گیا تو آخرت کی اصل اور حقیقی کامیابی سے سرفراز ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ سب کو ایسا ہی بننے کی توفیق وسعادت نصیب فرمائے آمین۔ اور اگر اس کے برعکس وہ دنیوی لذت و مفادات ہی کو مقصد حیات بنا بیٹھا اور اپنی آخرت اور انجام سے غافل ہوگیا۔ والعیاذ باللہ۔ یہاں تک کہ عمر رواں کی فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل گئی تو وہ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوگیا۔ اور یہ ایسا ہولناک اور سنگین خسارہ ہے کہ اس سے نکلنے کی اور اس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جو لوگ آخرت کی زندگی اور اس کے تقاضوں سے منہ موڑ کر صرف دنیائے دوں کے وقتی فائدوں اور اس کی عارضی لذتوں کو ہی اپنا مقصود بنالیتے ہیں اور وہ انہی کیلئے جیتے اور انہی کیلئے مرتے ہیں وہی ہیں جو آخرت کے اس ہولناک خسارے میں واقع ہوں گے جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا۔ اور جس کے تدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ خسارے میں تو ایسے لوگ آج بھی پڑے ہیں لیکن آج اس پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے لوگ اس کو سمجھ نہیں سکتے اور یہ کہتے ہیں کہ ایسے لوگ تو بڑے کامیاب اور ایسے عیش کررہے ہیں۔ لیکن کل اس جہان میں جب سب پردے ہٹ جائیں گے اور حقائق اپنی اصلی شکل میں سامنے آجائیں گے۔ تب ایسوں کا وہ ہولناک خسارہ ان کے سامنے آشکارا ہوجائے گا۔ مگر اس وقت اس سے بچنے کی پھر کوئی صورت انکے لئے ممکن نہ ہوگی۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayah 16:110234۔ اللہ تعالیٰ کی مغفرت و عنایت بےنہایت کا مژدہ جانفزا :۔
سو اللہ تعالیٰ کی مغفرت وبخشش بےنہایت اور اس کی رحمت و عنایت بےغایت کا مژدہ جانفزا سنانے کے لئے کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارا رب بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے۔ اتنا بخشنہار اور اس قدر مہربان کہ نہ اس کی مغفرت وبخشش کا کوئی کنارہ ہے اور نہ اس کی رحمت و عنایت کا کوئی ٹھکانہ۔ ایسا غفور و غفار کہ زندگی بھر کے گناہوں کے انباروں کو وہ سچی توبہ پر فورا معاف فرما دیتا ہے۔ اور ایسا معاف فرما دیتا ہے کہ ان کا نشان بھی مٹا دیتا ہے۔ اگرچہ گناہوں کے وہ انبار آسمان کی بلندیوں ہی کو کیوں نہ چھوتے ہوں۔ اور ایسا رحیم و کریم کہ اس کا ایک ایک بندہ اور اس کی ایک ایک مخلوق سر کی چوٹی سے لیکر پاؤں کے تلوؤں تک اس کی رحمتوں اور عنایتوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ فاغفرلی وارحمنی یا غفور ویا رحیم فمغفرتک اوسع من ذنوبی و رحمت ارجی عندی من عملی۔ اغفرلی ولوالدی ولا ساتذتی ومشائخی الکرام ولزوجتی الوفیۃ واولادی الاحبۃ ولسآئر المؤمینین والمؤمنات والمسلمین والمسلمات الاحیاء والاموات انک سمیع قریب مجیب الدعوات۔ پس بندے کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اور دل وجان سے اپنے اس خالق ومالک کی طرف رجوع رہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔
235۔ ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ پر وعدہ بخشش و رحمت :۔
بزدلوں اور پست ہمتوں کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہ ان جانبازوں اور سرفروشوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جنہوں نے اپنے دین کی خاطر دشمنان حق کی طرف سے ہر قسم کے مصائب برداشت کیے مگر اپنے پائے استقامت میں لغزش نہیں آنے دی۔ اور انہوں نے نورحق و ہدایت سے دستبردار ہونے کی بجائے ان کی خاطر ہر قسم کی قربانی دی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے گھر بار کو چھوڑا۔ راہ حق میں ہجرت کی اور جہاد اور صبر سے کام لیا۔ سو ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کا اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑا مرتبہ ومقام ہے۔ اللہ کی رضاء کے حصول اور کلمہ حق کی سربلندی کیلئے۔ یعنی انہوں نے نہ صرف ہجرت پر ہی اکتفا کیا بلکہ اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا۔ اپنے مالوں سے بھی اور اپنی جانوں سے بھی کہ ایسوں کا آپ کے رب کے یہاں بڑا اجر وثواب اور مرتبہ ومقام ہے۔ سو ایسوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی بخشش اور رحمت کی بشارت ہے کہ بیشک آپ کا رب ان کی لغزشوں اور فروگزاشتوں سے درگزر بھی فرمائے گا اور ان کو اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے بھی نوازے گا۔ اس ارشاد ربانی کا اصل اور اولین مصداق اگرچہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی لیکن الفاظ و کلمات کے عموم کے ساتھ یہ ایسے تمام حضرات کو شامل ہے جس کے اندر یہ صفات پائی جائیں۔ سو ایسے سب ہی حضرات اس بشارت کے اہل اور مستحق ہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
236۔ اعمال صالحہ کی عظمت شان :۔
سو اس کے بعد ان اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ کے بعد جن کا ذکر فرمایا گیا، یعنی اللہ کی رضاء کیلئے اور دین و ایمان کی حفاظت کی خاطر، انہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں اور اپنے اہل و عیال کو خیر باد کہا۔ اور اللہ کی راہ میں اور اس کے دین کی سربلندی کی خاطر اپنی ہمت وبساط کے مطابق انہوں نے صبر و برداشت سے کام لیا۔ اور وہ راہ حق پر مسقیم وثابت رہے۔ ان کیلئے تمہارے رب کی خاص رحمتیں اور عنایتیں متوجہ ہونگی کہ بلاشبہ تمہارا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ سو ایسے صادق الایمان لوگوں کیلئے یہ خوش خبری ہے کہ ان کا رب ان کی لغزشوں اور فروگذاشتوں سے درگزر فرمائے گا کہ وہ بڑا ہی بخشنہار اور انتہائی مہربان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب ان بندگان صدق وصفا نے اپنے اعمال و اخلاق اور صبر واستقامت سے اپنے اپنے ایمان و یقین کے دعو وں کا عملی ثبوت پیش کردیا تو یہ رب کی خاص عنایات کے اہل اور مستحق ہوگئے۔ سو اس سے اعمال صالحہ کی عظمت و اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayahs 16:111–112237۔ روز قیامت کی ہولناکی کی تذکیر و یاددہانی :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” جس دن کہ ہر شخص اپنے ہی لیے جھگڑتا ہوا آئے گا “ کہ اس روز ہر کسی کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ کوئی کسی کے کچھ کام نہیں آسکے گا کہ وہ بڑا ہی ہولناک دن ہوگا۔ ایسا ہولناک کہ کسی کو دوسروں کا، یہاں تک کہ اپنے کسی قریبی سے قریبی رشتہ دار کا بھی کوئی ہوش نہیں رہے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (لکل امریء منہم یؤمئذ شان یغنیہ) (عبس : 37) اور یہ ہوشربا پریشانی ایسی اور اس حد تک ہوگی کہ انسان اپنے بہن بھائیوں اپنے ماں باپ اور اپنے بیوی بچوں تک سے دور بھاگے گا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں صاف اور صریح طور پر فرما دیا گیا (یوم یفرالمرء من اخیہ امہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ) (عبس : 34۔ 36) بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس روز مجرم شخص یہ چاہے گا کہ اس روز کے عذاب کے بدلے اس کے بیٹوں، اس کی بیوی، اس کی بھائیوں بہنوں اور اس کے خاندان کو جو اس کو پناہ دیا کرتا تھا اور روئے زمین کے تمام لوگوں کو اس کے بدلے میں لے لیا جائے اور اس کو چھوڑ دیا جائے۔ جیسا کہ سورة معارج کی آیت نمبر 11 سے آیت 14 تک میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ سو اس سے اس دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ پس اس دن کو ہمیشہ یادرکھو اور یاد کراؤ تاکہ آج اس کے لئے تیاری کرسکیں۔ قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود ہاتھ سے نکل جائے اور ہمیشہ کیلئے پچھتانا اور افسوس کرنا پڑے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے روز قیامت کی ہولناکی کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے تاکہ غافل انسان اپنی غفلت سے چونک کر اس یوم عظیم اور اس کے تقاضوں کو پیش نظر رکھے اور اس کے لئے تیاری کرے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
238۔ انسان کو اپنے اعمال کا پورا بدلہ قیامت کے روز ہی مل سکے گا :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز ہر شخص کو اس کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ خیر کا بھی اور شرکا بھی۔ خیر کا جنت کی سدا بہار نعمتوں کی شکل میں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہی انجام خیر نصیب فرمائے۔ جبکہ برائی کا بدلہ دوزخ کے طرح طرح کے ہولناک عذابوں کی صورت میں ملے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔ سو انسان کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ آخرت کے اس یوم جزا ہی مل سکے گا۔ ایک اس لیے کہ ” درالجزا “ وہی ہے جبکہ یہ دنیا ” دارالعمل “ ہے۔ اور دوسرے اس لیے کہ اس دنیا میں کسی کو اس کے کیے کرائے گا پورا بدلہ ملنا ممکن نہیں۔ جس کی وضاحت ہم کئی جگہ کرچکے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں کسی کو اس کے کیے کرائے کا پورا بدلہ تو اگرچہ اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ اچھے اعمال کا اچھا اور برے کا برا۔ والعیاذ باللہ۔ لیکن اس کو اس کے اعمال کا بدلہ آخرت کے اس یوم جزاء ہی میں مل سکے گا جس کی وسعتیں لامحدود ہیں اور جو ہے ہی ” درالجزاء “ اور جہاں انسان کو اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ وبدلہ ملے گا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
239۔ قیامت کے روز پورا پورا عدل وانصاف ہوگا :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا “ نہ کسی کے ثواب میں کوئی کمی ہوگی اور نہ بلاوجہ کسی کے عذاب میں کوئی اضافہ ہوگا کہ وہ دن عدل وانصاف اور پورے، کامل اور حقیقی عدل وانصاف کا دن ہوگا۔ اور ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا عدل وانصاف کے تقاضوں کے عین مطابق پورا بدلہ دیا جائے۔ کسی کمی بیشی کا کوئی سوال نہیں ہوگا۔ پس اس دن کو ہمیشہ یاد رکھو۔ وباللہ التوفیق۔ سو قیامت کے روز پورا پورا عدل وانصاف ہوگا۔ کسی کی حق تلفی نہیں ہوگی نہ کسی کی کوئی نیکی کم کی جائیگی اور نہ کسی کے کھاتے میں کوئی ناکردہ گناہ ڈالا جائے گا۔
Ayah 16:113244۔ بعثت رسول کی نعمت عظمی اور اس کا تقاضا :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور بلاشبہ آچکے ان کے پاس ایک عظیم الشان رسول خود انہی میں سے “ ایسے عظیم الشان کہ ان کی عظمتوں جیسی عظمتیں خداوند قدوس کی ساری مخلوق میں اور کسی کو نہ کبھی ملی اور نہ قیامت تک کبھی ملنا ممکن ہیں۔ صلوات اللہ وسلامہ وعلیہ وعلی الہ وصحبہ وجمعین ومن اھتدی بھدیہ ودعا بدعوتہ الی یوم الدین۔ اور مزید کرم یہ کہ وہ رسول خود انہی میں سے ہیں۔ یعنی قریش مکی ہاشمی اور بشروانسان۔ تاکہ ان کو ان کی اپنی زبان میں اور ان کی ضروریات و طبائع کے مطابق پیغام حق سمجھا سکیں اور زندگی کے ہر دائرے میں ان کی صحیح راہنمائی کرسکیں۔ اس حقیقت کی تاکید و تشریح دوسرے مختلف مقامات کی طرح یہاں پر بھی (منہم) کے کلمہ کریمہ سے فرمائی گئی ہے۔ مگر اس کے باوجود بدعتی ملاں آپ کو بشر ماننے کیلئے تیار نہیں، بہرکیف رسول کی بعثت و تشریف آوری ایک عظیم الشان نعمت ہے جس سے حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے اس کے بندوں کو نوازا جاتا ہے۔ اور اس کا تقاضا ہے ان پر سچا پکا ایمان اور ان کی اطاعت و اتباع کہ یہی طریقہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا۔ وباللہ التوفیق۔
245۔ انکاروتکذیب حق کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار آپکڑا عذاب نے ان لوگوں کو جو اڑے ہوئے تھے اپنے ظلم پر پیغام حق و ہدایت سے منہ موڑ کر۔ یہاں تک کہ انہوں نے جان بھی اسی حالت میں دے دی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ظلم وانکار کا نتیجہ وانجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ان پر یوں ہی بلاوجہ کردیا گیا ہو۔ بلکہ یہ خود ان کے اپنے اختیار کردہ اس ظلم کا منطقی انجام وطبعی نتیجہ تھا جو بالآخر ان لوگوں کو بھگتنا پڑا۔ سو اس سے دو اہم اور اصولی باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ حق کا انکار اور اس کی تکذیب ظلم ہے اور دوسری یہ کہ ظالموں کو ان کے ظلم کا انجام بہرحال بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے آمین۔
Ayah 16:114246۔ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں سے استفاد ہے کا حکم وارشاد :۔
سو ارشاد فرمایا گیا پس تم کھاؤ پیو ان چیزوں سے جو تم کو اللہ نے بخشی ہیں۔ اور محض اپنے کرم سے اور بلاشرکت غیرے بخشی ہیں۔ اس لیے شکر بھی تنہا اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اور جب یہ سب بخشی ہوئی اسی وحدہ لاشریک کی ہیں تو ان میں سے کسی بھی چیز کو از خورد حرام قرار دینے کا حق بھی کسی کو نہیں ہوسکتا۔ بلکہ حلال وہی ہے جس کو وہ حلال بتائے اور حرام وہ ہے جس کو وہ حرام فرمائے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سے اللہ پاک کی بخشی ہوئی نعمتوں سے استفادے کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے مگر دو شرطوں کے ساتھ۔ ایک یہ کہ وہ حلال ہو حرام نہ۔ پس ” میتہ “ ،” دم مسفوح “ وغیرہ جیسی کسی چیز سے استفادہ جائز نہیں کہ یہ حرام ہے۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ چیز طیب اور پاکیزہ ہو۔ کوئی خبیث اور ناپاک چیزنہ ہو۔ جیسے سود جوا اور چوری وغیرہ جیسے کسی حرام ذریعے سے حاصل کی جانے والی کوئی چیز کہ ایسی ہر چیز خبیث اور ناپاک ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
247۔ شکر منعم کی تعلیم و تلقین :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور شکربجالاؤ تم لوگ اللہ کا اگر تم واقعی اسی کی بندگی کرتے ہو “ دل وجان سے۔ نیز ان نعمتوں کو اس کی تعلیمات و ہدایات کے مطابق استعمال کرکے کہ اس طرح اس وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کے تقاضے بھی پورے ہوں گے اور ان نعمتوں میں اضافہ بھی ہوگا اور برکت بھی نصیب ہوگی کہ شکر منعم سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور برکت ملتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا۔ (لئن شکرتم لازیدنکم) (ابراہیم : 7) یعنی اگر تم لوگ شکر ادا کروگے تو یقینا میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔ سو شکر نعمت ایک عظیم الشان سعادت ہے۔ (رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صالحا ترضاہ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین) سو اس ارشاد ربانی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے۔ کہ اللہ پاک کی عبادت و بندگی کا تقاضایہ ہے کہ اس کی بخشی ہوئی نعمتوں پر اسی وحدہ لاشریک کا شکر ادا کیا جائے اور اس کی خلاف کرنا مقتضائے عبادت کیخلاف ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مشرکین مکہ اپنے بتوں کے لئے نذریں مانتے اور چڑھاوے چڑھاتے اور طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے۔ جس طرح آج بھی بہت سے جاہل مسلمان کرتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود ان کا دعوی یہ تھا کہ ہم اللہ ہی کی بندگی کرتے ہیں۔ اور یہ بت اور آستانے وغیرہ ہمارے واسطے اور وسیلے ہیں اللہ تک پہنچنے کے لئے (مانعبدہم الا لیقربونا الی اللہ زلفی) (الزمر : 3) سو ایسے لوگوں کی ان فلسفہ طرازیوں کے جواب میں اور ان کے اس طرح کے مغالطوں کی تردید کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ واقعی اللہ کی عبادت و بندگی کرتے ہو تو اس کی بخشی ہوئی نعمتوں پر اسی کا شکر ادا کرو۔ ان میں کسی اور کو اس کا شریک مت ٹھہراؤ۔
Ayah 16:115248۔ تحریمات الہیہ کا ذکر وبیان :۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر صرف یہ چیزیں حرام فرمائی ہیں جن کو (انما) کے کلمہ حصر سے بیان فرمایا گیا ہے۔ سو وہی حرام ہیں نہ کہ ” بحرہ “ ،” سائبہ “ وغیرہ وہ چیزیں جن کو تم لوگوں نے از خود حرام قرار دے رکھا ہے۔ سو یہ حصر اضافی ہے نہ کہ حقیقی۔ کہ محرمات تو ان چیزوں کے علاوہ اور بھی بہت ہیں۔ سو اس میں ان محرمات کا ذکر فرمایا گیا ہے جن کا تعلق کھانے پینے کی ان اشیاء اور مویشی جانوروں سے ہے جن کو ان لوگوں نے از خود حرام ٹھہرارکھا تھا۔ نہ کہ تمام اشیاء سے۔ سو تحریم وتحلیل اللہ تعالیٰ ہی کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ اس نے اپنے بندوں کیلئے ” طیبات “ یعنی پاکیزہ چیزوں کو حلال ٹھہرایا اور ” خبائث “ یعنی خبیث اور گندی چیزوں کو حرام قرار دے دیا۔ اور وہی جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لئے طیب اور پاکیزہ چیزیں کیا ہیں اور ناپاک اور خبیث کیا۔ اس کے سوا یہ شان اور کسی میں بھی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے تحلیل وتحریم اسی کا حق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
249۔ غیر اللہ کی طرف منسوب چیز کی حرمت کا ذکر وبیان :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور ہر چیز جس پر نام لیا گیا ہو اللہ کے سوا کسی اور کا اس کے تقرب کی نیت سے۔ خواہ اس کے ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو یا کسی اور کا۔ کیونکہ وہ چیز غیر اللہ کے لئے نامزد کردینے کے باعث حرام قرار پاگئی۔ پس اہل بدعت جو اس کے ترجمہ میں کہتے ہیں کہ جس کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور اس طرح وہ اپنی شرکیات کیلئے جو چور دروازہ نکالنا چاہتے ہیں وہ سب باطل و مردود ہے۔ کہ یہاں نص قرآنی میں (اھل) کا لفظ ارشاد فرمایا گیا ہے جس کا معنی باتفاق اہل لغت رفع الصوت ہے۔ یعنی آواز اٹھانا اور نامزد کرنا نہ کہ ذبح کرنا۔ اور جن حضرات مفسرین نے اس موقع پر ذبح کا ذکر فرمایا ہے تو وہ محض ایک کثیر الوقوع صورت کے ذکر کے طور پر کیا ہے نہ کہ حصر کیلئے۔ نیز اس لیے کہ اس کی حرمت اتفاقی اور اجماعی ہے۔ ورنہ (اھل) کا اصل معنی ذبح ہے ہی نہیں۔ بہرکیف جس چیز کو غیر اللہ کے تقرب کیلئے مخصوص کیا گیا اور اس پر اسی کا نام لیا گیا ہو وہ بھی حرام ہے۔ اور اس کی شدت حرمت کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ یہاں پر اس کا ذکرخنزیر کے گوشت پر معطوف کرکے فرمایا گیا ہے۔ مفسراحمد مصطفیٰ مراغی مرحوم اپنی شہرہ آفاق تفسیر میں اس موقعہ پر لکھتے ہیں کہ غیر اللہ سے مراد عام ہے خواہ کوئی جن ہو یا انسان۔ جیسے کوئی نبی یا ولی۔ زندہ ہو یا مردہ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا جس کسی کی طرف بھی اس کو منسوب کیا گیا ہو وہ حرام ہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے۔” ملعون من ذبح لغیر اللہ “ یعنی جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرکے کسی چیز کو ذبح کیا وہ ملعون یعنی لعنتی ہے۔ خواہ ایسے شخص نے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا ہو یا نہ لیاہو۔ سو جس سے سیدبدوی یا ابراہیم دسوقی یا سیدہ زینب وغیرہ کسی بھی نام سے کوئی جانور ذبح کیا وہ حرام ہے۔ اس کا کھانا جائز نہیں۔ (تفسیر المراغی جلد 14 صفحہ 153 طبع بیروت لبنان)
250۔ مضطر کیلئے اکل حرام کی مشروط اجازت :۔
سو (غیرباغ ولا عاد) کی ان دوقیدوں سے واضح فرما دیا گیا کہ نہ تو حرام کو لذت وشوق کی بناء پر کھائے اور نہ حدضرورت سے زیادہ۔ بلکہ اس قدر کھائے جس سے اس کی جان بچ سکتی ہو اور بس۔ مثلا ایک لقمے سے جان بچ سکتی ہو تو دوسرا نہ کھائے وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو مضطر ولا چار شخص بقدر ضرورت اور بمقدار سد رمق کھا سکتا ہے اور بس اور اس سے زیادہ اس کے لئے جائز نہیں۔
Ayah 16:116251۔ تحلیل وتحریم اللہ تعالیٰ ہی کی صفت وشان :۔
سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ خود اور اپنے طور پر کسی چیز کو حلال اور حرام مت قرار دو ۔ اس لئے کہ تحلیل وتحریم اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے کہ خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے۔ پس جو کئی از خود کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہراتا ہے وہ دراصل اللہ پاک کی طرف یہ بات منسوب کرتا ہے کہ یہ تحلیل وتحریم اللہ کی طرف سے ہے۔ جبکہ واقعتا ایسے ہے نہیں۔ اس لئے یہ ظلم اور افتراء علی اللہ ہے یا ایسا شخص درپردہ اس کا دعوی کرتا ہے کہ وہ بھی تحلیل وتحریم کا اختیار رکھتا ہے جو کہ دراصل اپنی خدائی کا دعوی کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دونوں صورتوں میں یہ اللہ تعالیٰ پر افتراء قرار پاتا ہے۔ اور افتراء علی اللہ ایک بڑا ہی سنگین جرم اور ہولناک گناہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بغیر کسی سند کے محض اپنے مزعومات اور مفروضات کی بناء پر از خود کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
252۔ افتراء پرداز کبھی فلاح نہیں پاسکتے :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پر افتراء باندھنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) کیونکہ دنیا میں جو عارضی اور وقتی نوعیت کے نشے اور مزے ان کو حاصل ہوتے رہتے ہیں وہ سب فانی اور آخرت کے مقابلے میں بالکل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (نمتعم قلیلا ثم نضطرہم الی عذاب غلیظ) (لقمن : 24) اور جب دنیاوی زندگی کی یہ مختصر اور محدود فرصت غفلت و بغاوت اور لاپرواہی میں گزار دی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تو پھر آخرت میں ایسوں کیلئے درد ناک عذاب کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ اور اس طور پر کہ پھر ایسے لوگ اس سے کبھی نکلنے بھی نہ پائیں گے۔ سو ایسوں سے بڑھ کر بدبخت اور کون ہوسکتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:117253۔ افتراء پردازوں کیلئے چند روز دنیا کے فائدے اور بس :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے دنیا میں چند روزہ فائدے کا کچھ سامان ہے اور بس۔ جو تھوڑا اور اتنا تھوڑا اور اس قدر قلیل ہے کہ اس کی حیثیت ایک ” ظل ظلیل “ یعنی ڈھلتے اور مٹتے سائے کی سی ہے۔ اور جب اس کے بعد آخرت کی حیات ابدی میں عذاب الیم ملنے والا ہوتا پھر اس متاع دنیا کا وجود نہ ہونے کے برابر بلکہ اس سے بھی کہیں برا ہے کہ اس میں کھو کر اور مست ہو کر محروم انسان نے اتنے برے خسارے کا سودا کیا اور وہ اپنی آخرت اور انجام کو بھول کر اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر ہمیشہ کے خسارے کے انتہائی ہولناک گڑھے میں جاگرا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے (لایفلحون) کی وضاحت فرما دی گئی۔ پس اصل ایمان و یقین اور اطاعت و اتباع کی دولت ہے۔
Ayah 16:118254۔ یہودیوں پر بعض پاکیزہ چیزوں کی حرمت :۔
سو فرمایا گیا کہ ان پر ان چیزوں کو حرام کیا گیا جن کا ذکر اس سے پہلے دوسرے مقامات پر کرچکے ہیں۔ جیسا کہ سورة انعام میں فرمایا گیا (وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر) ۔ (الانعام : 147) سو یہودیوں پر انکے ظلم وعدوان اور انکے عناد و سرکشی کی بناء پر بعض ایسی پاکیزہ چیزوں کو بھی حرام کردیا گیا تھا جو کہ ان کیلئے حلال تھیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیہم طیبات احلت لہم ) ۔ (النساء : 160) سو یہودیوں پر ان پاکیزہ چیزوں کی حرمت ان کی بغاوت و سرکشی کی بناء پر تھی۔ جیسا کہ اوپر ارشاد فرمایا گیا۔ جبکہ اہل ایمان پر انہی چیزوں کو حرام فرمایا گیا جن میں خباثت پائی جاتی تھی۔ اور یہود پر بھی اصل میں یہی چیزیں حرام تھیں جن کا ذکر اوپر آیت نمبر 115 میں فرمایا گیا۔ لیکن انہوں نے جب اپنی بغاوت و سرکشی کی بناء پر کچھ چیزوں کو اپنے اوپر ازخود حرام ٹھہرالیا تو ان کی اس بغاوت و سرکشی کی سزا کے طور پر ان پر ان چیزوں کو حرام ٹھہرادیا گیا۔ سو اس طرح انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
255۔ اللہ تعالیٰ کے احکام سے بغاوت و سرکشی ظلم ہے۔ والعیاذ باللہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ اپنی جانوں پر خود ظلم کررہے تھے “۔ اپنی بغاوت و سرکشی کی بناء پر۔ جیسا کہ اسی ضمن میں مزید ارشاد فرمایا گیا۔ (ذالک جزینا ھم ببغیہم وانا لصادقون) (الانعام : 147) ۔ سو حضرت حق جل مجدہ کے احکام و فرامین سے بغاوت و سرکشی سراسر ظلم ہے۔ اور دوسروں سے پہلے یہ خود اپنے آپ پر ظلم ہے۔ مگر ظالم لوگوں کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ اس سے رجوع اور توبہ کرسکیں اور اس طرح اپنی اصلاح کرسکیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:119256۔ سچی توبہ باعث سرفرازی۔ وباللہ التوفیق :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور انہوں نے صحیح معنوں میں توبہ کرلی “ کہ انہوں نے اپنے جرم و گناہ کی روش کو ترک کردیا اور آئندہ کبھی ایسا نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرلیا۔ دل میں اپنے کئے پر نادم و پشیمان بھی ہوئے۔ اور جو کوئی حقوق ذمے تھے انکو بھی انہوں نے ادا کردیا۔ تو ایسے شخص کی توبہ سچی توبہ ہوگی اور ایسے لوگوں کی توبہ صحیح معنوں میں توبہ قرار پائے گی۔ اور ایسے ہی لوگ سچی توبہ کے فوائد وثمرات سے متمتع و مستفید ہوں گے۔ سو اوپر کی تنبیہات کے بعد اب پیغمبر کو خطاب کرکے ایسے غلط کار لوگوں کے بارے میں ایک بشارت سے نوازا گیا ہے کہ جو لوگ آپ کی بعثت سے قبل کے تاریکی کے دور میں خداوند قدوس کی نافرمانیوں اور غلط کاریوں میں مبتلا رہے ہیں انہوں نے اگر اس دعوت حق کے بعد سچی توبہ کرلی اور حق کی طرف رجوع کرکے انہوں نے اپنی اصلاح کرلی تو تمہارے رب کی مغفرت اور بخشش بھی ان کو اپنی آغوش میں لینے کیلئے تیار ہے کہ وہ بڑا ہی غفور اور انتہائی مہربان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو سچی توبہ اور رجوع الی الحق باعث سرفرازی ہے۔ وباللہ التوفیق۔
257۔ رب تعالیٰ کی عظیم الشان بخشش اور رحمت کا مژدہ جانفزا :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارا رب ان کی ایسی سچی توبہ کے بعد بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ پس سچی توبہ پر وہ ایسے لوگوں کے گناہ بھی معاف فرماتا ہے اور انکو اپنی رحمت سے بھی نوازتا ہے کہ وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی۔ سو اس کے یہاں کسی کے لئے بھی کوئی محرومی اور مایوسی نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اصل ضرورت سچے دل سے اس کی طرف انابت ورجوع کی ہے، ورنہ اس کے یہاں تو کرم ہی کرم اور عطاء ہی عطاء ہے اور آیت کریمہ میں جہالت کے لفظ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ جو بھی کوئی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے وہ جہالت اور نادانی ہی کی بناء پر کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ورنہ وہ اگر اس کے عواقب و نتائج پر غور کرے اور ان کو سامنے رکھے تو کبھی اس کا ارتکاب نہ کرے۔ مگر وہ غلبہ شہوت اور جوش جنون کی بناء پر ادھر توجہ ہی نہیں کرتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (المراغی وغیرہ) سوا رشاد سے رب تعالیٰ کی عظیم الشان بخشش اور رحمت کے مژدہ جانفزا سے بھی آگہی بخش دی گئی اور اس کے حصول اور اس سے سرفرازی کا طریقہ بھی تعلیم و تلقین فرما دیا گیا کہ وہ ہے سچی توبہ اور انابت ورجوع الی اللہ۔ جل وعلا۔ وباللہ التوفیق۔ فاغفرلی وارحمنی یاربی فانک انت الغفور الرحیم واناعبدک الاثیم۔
Ayah 16:120258۔ ابراہیم ایک امت تھے :۔
سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہ تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک وہ اپنی ذات میں پوری ایک امت تھا۔ یعنی ایک امت کی مجموعی صفات تنہا ان کی ذات میں موجود تھیں۔ اور تن تنہا انہوں نے وہ کام کیا جو پوری ایک امت اور جماعت کرتی ہے۔ نیز ” امۃ “ امام کے معنی میں بھی آتا ہے۔ جس کے معنی ہیں پیشوا ومقتداء۔ یعنی ابراہیم ایک عظیم الشان پیشوا ومقتداء تھے۔ کیونکہ ان کی امامت و پیشوائی پر سب متفق ہیں۔ مسلمان تو ہیں ہی ملت ابراہیمی پر، یہود و نصاری بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا مقتداء و پیشوا مانتے ہیں۔ اور مشرکین عرب بھی فخریہ دعوی کرتے تھے کہ ہم ابراہیم کی اولاد، ان کی نسل، انکے وارث اور ان ہی کے پیروکار ہیں۔ سو ایسی دوسری کوئی ہستی نہیں ہوئی جس کو اس طرح یہ تمام ہی بڑے مذہب وادیان اوراقوام وملل والے اپنا پیشوا ومقتداء مانتے ہوں سوائے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے۔ اور آپ کی امامت و پیشوائی ایسی عظیم الشان اور بےمثال کیوں نہ ہوتی جب کہ حضرت حق جل مجدہ نے آپ کو بطور خاص چنا اور اس منصب جلیل کیلئے منتخب فرمایا تھا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ جس کے قبضہ قدرت میں سب کے دلوں کی دنیا ہے اور جس نے اس کا اعلان واظہار اپنے کلام حق ترجمان میں صاف وصریح طور پر واضح وقطعی انداز میں اس طرح فرمایا ہے۔ (انی جاعلک للناس امام) (البقرۃ : 124) یعنی ” میں آپ کو اے ابراہیم (علیہ السلام) سب لوگوں کا امام یعنی پیشوا ومقتدا بنانے والا ہوں “ لہذا آپ کو امام اور پیشوا ماننے والوں پر لازم آتا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی صحیح طور پر اور صدق دل سے اتباع اور پیروی کریں۔ تاکہ اس طرح یہ ابراہیمی ہونے کے اپنے دعوی میں بھی سچے قرار پائیں اور خود انہی کا بھلا بھی ہو۔ ورنہ محض زبانی کلامی دعوؤں کے کچھ نہیں بنے گا ایسے دعوؤں سے انسان خود اپنے آپ ہی کو دھوکہ دیتا ہے، مگر اس کو اس کا شعور ہی نہیں ہوتا۔ والعیاذ باللہ۔
259۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے فرمانبردار اور یکسو تھے :۔
ہرباطل سے کٹ کر اور ہر طرف سے ہٹ کر خالص حق کے لئے ہو کر رہ جانے والے۔ اور وہ باطل سے کٹ کر اور اس کے طور طریقوں سے ہٹ کر صرف دین حق یعنی اسلام کے متبع اور پیرو بن گئے تھے۔ نہ اس کو کبھی چھوڑا نہ کبھی اس کی راہ سے ذرہ برابر ہٹے۔ بلکہ حق و ہدایت کی اسی راہ پر ہمیشہ مستقیم اور ثابت قدم رہے اور اس استقامت کیلئے انہوں نے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا، بتوں کو توڑا۔ کفار سے لڑے اور ریئس الموحد قرارپائے۔ اپنے مشرک اور بت پرست باپ کو چھوڑا اور ایسی بےمثال انفرادیت اور عزت و عظمت سے سرفراز ہوئے کہ ایسے باپ کے گھر میں جنم لینے کے باوجود جو کہ نہ صرف بت پرست تھا بلکہ بت گر اور بت فروش بھی تھا، اس کے گھر میں جنم لینے اور ظلمت کفر و شرک کے اس مہیب ماحول کے اندر آنکھ کھولنے کے باوجود آپ نے نہ صرف یہ کفر و شرک کے کسی داغ دھبے سے اپنے دامن کو آلودہ نہیں ہونے دیا بلکہ کفرو شرک کے ان مہیب اندھیروں میں نور توحید کو پھیلانے اور مشرکین کے ساختہ پرداختہ بتوں اور ان کے من گھڑت خداؤوں کو پاش پاش کرنے میں وہ کارنامے انجام دیے جو قیامت تک دنیا کے لیے نشان راہ کے طور پر چمکتے دمکتے رہیں گے۔ سو یہ انفرادی اور عدیم النظیر شان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوا اور کسی بھی ہستی کی پوری تاریخ انسانیت میں نہ ہوئی نہ قیامت تک کسی کیلئے ہونا ممکن ہے کہ انہوں راہ حق میں بےمثال قربانیاں دی تھیں۔ فصلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی نبینا الی یوم الدین ورزقنا اتباعہم والاقتداء بہم۔
260۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مشرکوں سے کوئی لگاؤنہیں تھا :۔
سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا کہ ان کا مشرکوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ پس مشرکین عرب کا آپ کو پیشوا و مقتداء بنانے کا دعوی جھوٹا اور باطل ہے۔ اور یہی حال یہود و نصاری کا ہے کہ انہوں نے بھی طرح طرح سے اپنے آپ کو اہل کتاب ہونے کے باوجود شرک کی طرح طرح کی آلودگیوں سے آلودہ اور ملوث کردیا تھا۔ اور کر رکھا ہے۔ جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہر طرح کے شرک اور اس کے ہر شائبہ سے پاک اور بری تھے۔ اور آپ کا مشرکوں سے کسی طرح کا کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام۔ یہود و نصاری اور مشرکین کا آپ کی اتباع کا دم بھرنا بالکل باطل و مردود، اور بےبنیاد ہے۔ آپ کے سچے پیرو کار حضرت امام الانبیاء علیہ الصلوہ والسلام اور آپ کی امت ہے جو کہ ملت ابراہمی پر قائم ہے۔ والحمد اللہ جل جلالہ۔
Ayah 16:121261۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے چن لیا تھا :۔
اپنی خلت و رسالت کے لئے کہ آنجناب اپنے صدق و اخلاص اور صفائے باطن کی بناء پر اس کے اہل تھے۔ اور حق تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے آپ کو اس خاص شرف واعزاز سے نواز دیا تھا جو ان کے لائق تھا جسکے نتیجے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ پاک کی خلت کے اہل بن گئے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (ولقد اتینا ابراہیم رشدہ من قبل وکنا بہ عالمین) (الانبیاء : 51) ۔ بہرکیف یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک امتیازی شان تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا خلیل اور دوست بنالیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا) ۔ (النساء : 125) سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مزید تعریف و توصیف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کے شکر گزار تھے۔ ان مشرکوں کی طرح نہیں تھے جو اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتوں کی اپنے طرح طرح کے خود ساختہ اور من گھڑت خداؤوں، بناوٹی بتوں، فرضی ووہمی سرکاروں اور آستانوں وغیرہ کی طرف منسوب کرکے کفران نعمت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور وہ انہیں کے آگے جھک کر اور ان کی پوجاپاٹ کرکے ظلم پر ظلم کا ارتکاب کرتے اور اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے صراط مستقیم پر قائم رکھے آمین ثم آمین۔
Ayah 16:122262۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کیلئے دنیا میں بھی عظیم الشان انعام :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو دنیا میں بھی بھلائی دی۔ نیک نامی، سچی ناموری، امامت و پیشوائی اور نبوت و رسالت جیسے امتیازات سے نوازکر۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ (وجعلنا لہم لسان صدق علیا) ۔ یعنی ہم نے انکو اسحاق اور یعقوب جیسی اولاد سے بھی نوازا ان سب کو اپنی رحمت ونبوت سے بھی نوازا۔ اور ان کو سچی ناموری اور حقیقی سربلندی سے بھی سرفراز کیا۔ ( سورة مریم : 50) نیز فرمایا گیا (وترکنا علیہ فی الاخرین، سلام علی ابراہیم) (صافات : 108۔ 109) وغیرہ، نیزیہ کہ آپ (علیہ السلام) کو اپنے بعد کے تمام انبیاء ورسل کے جدامجد ہونے کے ساتھ ساتھ یہ امتیاز واعزاز بھی رکھتے ہیں کہ آپ کے بیٹے بھی نبی اور پوتے بھی نبی و رسول ہوئے ہیں۔ سو توحید اور شکر خداوند کی نعمت پر انسان کے لیے ایسی ہی عظیم الشان سرفرازیاں نصیب ہوتی ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ان سرفرازیوں کے ذکر کے بعد ارشاد فرمایا گیا۔ (کذلک نجزی المحسنین ) ۔ (الصافات : 11) یعنی ” ہم نیکوکاروں کو اسی طرح نوازتے ہیں “ وہ جو بھی ہوں اور جہاں کے بھی ہوں پس صفت احسان سے سرشار و سرفراز ہوں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، انہ سمیع قریب مجیب وعلی مایشاء قدیر۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
263۔ اور اصل انعام توانکو آخرت میں ملے گا :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور آخرت میں وہ یقینا (ہمارے قرب خاص کے) سزاواروں میں سے ہوں گے “ اور وہاں آپ جنت میں اپنے اعلیٰ درجات پر فائز ہوں گے اور خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے لئے اپنے رب سے اس کی دعا بھی فرمائی تھی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (رب ھب لی حکما والحقنی بالصالحین، واجعل لی لسان صدق فی الاخرین) (الشعرائ : 83۔ 84) سو اللہ پاک سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کی اس دعا کو شرف قبولیت سے نوازا اور آپ کو ان مراتب و درجات سے نوازا اور سرفراز فرمایا جو حضرت واہب مطلق جل وعلا۔ نے آپ کے لئے مختص فرمائے تھے۔ سو عقیدہ توحید صدق و اخلاص اور شکر خدوندی کے اوصاف حمیدہ اور صفات جمیلہ کی دولت وہ عظیم الشان دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے اور علی وجہ الکمال نصیب فرمائے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین۔
Ayah 16:123264۔ حضرت امام الانبیاء کو بھی ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم وارشاد :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور آپ بھی (اے پیغمبر ! ) پیروی کرو ملت ابراہیم کی جو کہ یکسو تھا (ہرباطل سے) “ یعنی آپ کی عظمت شان اور جلالت قدر کے باوجود آپ ﷺ کو بھی ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا جاتا ہے۔ سو اس طرح یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت شان کا ایک اور بڑا ثبوت ہے کہ حضرت امام الانبیاء (علیہ الصلوۃ والسلام) کو بھی آنجناب کی ملت کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے لیکن یاد رہے کہ یہاں اتباع سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا دین اصول و عقائد میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کے ساتھ متفق ہے کہ بنیادی اصول دونوں کے ایک ہی ہیں۔ ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آنحضرت ﷺ پورے دین میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیروکار تھے، کیونکہ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے امتی نہیں تھے۔ بلکہ مستقل دین و شریعت لے کر تشریف لائے تھے ﷺ اور آپ سب انبیاء ورسل سے افضل اور ان کے امام و پیشوا تھے۔ سو اس ارشاد سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ یہود و نصاری اور مشرکین عرب اگرچہ ملت ابراہیمی کی پیروی کے مدعی تو ہیں لیکن اس دعوی وادعاء میں یہ لوگ قطعی طور پر جھوٹے ہیں۔ کہ یہ سب لوگ طرح طرح شرک میں ملوث اور اس کی غلاظت میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ ہاں آپ لوگ ملت ابراہیمی کے اصل پیروکار ہیں کہ ہم نے آپ کی طرف اے پیغمبر اس کی وحی کی ہے والحمد للہ جل جلالہ۔
Ayah 16:124265۔ حکم سبت ملت ابراہیمی کا جزء نہیں تھا :۔
بلکہ یہ یہودیوں کی اپنی اختراع تھی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” سوائے اس کے نہیں کہ ہفتے کا دن تو انہی لوگوں پر مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا “ یعنی یہود پر۔ جنہوں نے جمعہ کی بجائے ہفتہ کے دن کی تعظیم و تقدیس کا مطالبہ کیا۔ تو ان پر تغلیظ وتشدید کے طور پر اسی دن کی تعظیم لازم کردی گئی۔ ورنہ ملت ابراہیمی میں تعظیم جمعہ کے دن ہی کی تھی۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، فتح القدیر وغیرہ) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی ان پر اپنی امت کو جمعہ کے دن ہی کی تعظیم کا حکم دیا مگر یہود نے نہ مانا اور ہفتے کے دن کی تعظیم ہی پر اصرار کیا۔ تو ان پر ہفتے کے دن کی تعظیم کو مقرر اور لازم کردیا گیا۔ اور مزید یہ کہ اس دن ان پر مچھلی کا شکار بھی منع کردیا گیا۔ مگر ان لوگوں نے اس حکم وارشاد کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں ان پر لعنت و پھٹکار کردی گئی اور ان کی شکلوں کو مسخ کردیا گیا۔ (معارف والمراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس سے یہود بےبہبود کے اس اعتراض کا جواب دیا کہ مسلمان یوم سبت کا احترام کیوں نہیں کرتے۔ جیسا کہ ہم کرتے ہیں وغیرہ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ” سبت “ یعنی ہفتے کے دن کی تعظیم کا حکم ملت ابراہیمی میں تھا ہی نہیں۔ بلکہ اس میں بھی جمعہ کی تعظیم ہی کا حکم تھا۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جمعہ کے دن کے بارے میں ہی فرمایا تھا۔ مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ ہفتے کے دن ہی اپنی مخلوق کو پیدا کرنے سے فارغ ہوا تھا اس لیے ہم اسی دن کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے فارغ کریں گے۔ سو ان پر اسی دن کی تعظیم فرض کردی گئی۔ اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جمعہ کے ہی دن کی تعلیم دی۔ مگر انہوں نے کہا کہ نہیں ہم تو اتوار کے دن کی کریں گے کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے کائنات کی خلقت کا آغاز فرمایا تھا۔ تو ان کیلئے اتوار کے دن ہی کو مقرر فرما دیا گیا۔ پھر امت محمدیہ کیلئے بھی جمعہ کے دن کو پیش فرمایا گیا تو انہوں نے بغیر کسی اختلاف کے اس کو قبول کرلیا اور اسی کو صیحیں وغیرہ کی حدیث میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ اور اس میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم لوگ سب سے آخر میں آئے لیکن قیامت کے روز سب سے پہلے اٹھیں گے۔ اور آپ نے مزید فرمایا کہ ہم نے جمعہ کے دن کو اپنایا اور یہود نے اس سے ایک دن بعد یعنی ہفتے۔ اور نصاری نے اس سے بھی ایک دن بعد یعنی اتوار کو۔ سو یہ لوگ ہمارے تابع ہیں۔ یہود ایک دن پیچھے ہیں اور نصاری دو دن۔ (المعارف للکاندھلوی، ابن کثیر، مدارک التنزیل اور روح وغیرہ) سو امت مسلمہ ہر لحاظ سے ملت ابراہیمی پر ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔
266۔ اختلافات کا آخری فیصلہ قیامت کے روز :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور یقینا تمہارا رب فیصلہ فرمائے گا قیامت کے دن انکے تمام اختلافات کا “ یعنی علمی، قطعی اور آخری طور پر۔ اس طرح کہ ہر کسی کو اس کے اپنے اس ٹھکانے تک پہنچا دیا جائے گا جس کا وہ اپنے عقیدہ وعمل کی بناء پر مستحق ہوگا۔ ورنہ علمی طور پر تو فیصلہ اس دنیا میں ہی فرما دیا گیا ہے اور کتاب وسنت کی تعلیمات مقدسہ کے ذریعے پوری طرح واضح فرما دیا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ؟ لیکن نہ ماننے والے پھر بھی نہیں مانتے اور کتنے ہی ایسے ہیں جو اس کے باوجود اپنے کفر وباطل پر اڑے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ٹھیک ہیں۔ سو قیامت کے اس یوم فصل میں ایسے لوگوں کے تمام اختلافات کا آخری اور عملی فیصلہ کردیا جائے گا۔ اور اس طور پر کہ اس کے بعد کسی کیلئے کسی طرح کے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ سو اس یوم الفصل والتمیز میں پوری طرح واضح ہوجائے گا کہ حق پر کون تھا اور باطل پر کون ؟ صحیح کون تھا اور غلط کون ؟ اور اس طور پر کہ کسی کیلئے بھی کسی شک وانکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayahs 16:125–126267۔ دعوت حق کا حکم وارشاد اور اس کے اہم آداب کی تعلیم و تلقین :۔
سو ارشاد فرمایا گیا “ اور بلاتے رہو آپ اے پیغمبر اپنے رب کی راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ “ جس میں نیت بھی خالص ہمدردی و اصلاح کی ہو اور تعبیر واداء بھی درست اور معقول ہو کہ آپ کا کام اور منصب رب کے راستے کی طرف بلانا اور دعوت دینا ہے اور بس۔ اس سے آگے لوگوں کو راہ راست پر لے آنا اور حق بات ان سے منوا لینا نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ البتہ آپ کی یہ دعوت حکمت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ یعنی ایسے دلائل وبراہین پر مبنی ہو جو کہ حق کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ دل کو لگنے والے اور عقل کو اپیل کرنے والے ہوں۔ اور یہ شان قرآن وسنت ہی کی ہوسکتی ہے۔ اسی لیے ابن جریر کہتے ہیں کہ حکمت سے مراد قرآن وسنت ہی ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) سو آپ ان کو قرآن وسنت کے ذریعے راہ حق و ہدایت کی طرف بلاتے رہیں۔ البتہ کلام نرم ہی ہو۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو فرعون کے سامنے دعوت حق پیش کرنے کے سلسلے میں ہدایت فرمائی گئی تھی اس سے نرم بات ہی کرنا کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے (ابن کثیر، محاسن التاویل، اور مراغی وغیرہ) ۔ سو دعوت حق کے سلسلے میں یہ دونوں باتیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ ایک یہ کہ جو بات کہی جائے وہ دلیل اور برہان کی روشنی میں کہی جائے۔ اور دوسری یہ کہ انداز بھی سچے جذبہ خیرخواہی اور ہمدردی کا ہو۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔
268۔ اللہ اپنے بندوں کے ہر حال کو جانتا ہے :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” بیشک آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون راہ راست سے بھٹکا ہوا ہے اور کون ہدایت پر ہے “ اسی کے مطابق ہر ایک کو وہ بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق ہوگا اپنے عقیدہ وعمل اور صدق و اخلاص کی بناء پر۔ سو ہدایت وغوایت اور ضلال وبدی کا معاملہ نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے اور اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے کہ وہی بہتر جانتا ہے کہ کس کے باطن کی کیفیت کیا ہے اور کون حق قبول کرنا چاہتا ہے اور کون نہیں چاہتا۔ آپ کا کام تو حق کی دعوت و تبلیغ ہے اور بس۔ اس سے آگے کا معاملہ آپ اللہ ہی کے حوالے کردیں۔ (ابن کثیر، مراغی اور محاسن وغیرہ) ۔ نیز اس ارشاد سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ بندے کو ہمیشہ اپنے خالق ومالک سے اپنا معاملہ درست رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس سے اس کی کوئی کیفیت چھپی نہیں رہ سکتی کہ وہ بندے کے ظاہر وباطن کو ایک برابر اور پوری طرح جانتا ہے۔ سو اپنے ایمان و یقین اور تقوی و پرہیز گاری کے زبانی کلامی دعوے کرنے کی بجائے اس سے اپنا معاملہ درست رکھنا چاہیے۔ باللہ التوفیق لما یحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل علیہ نتوکل وبہ نستعین فی کل ان وحین۔
Ayah 16:127271۔ صبر کی تلقین اور حصول صبر کے ذریعے کی تعلیم :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور آپ تنگی میں نہ پڑیں ان چالبازیوں کی بناء پر جو یہ لوگ کررہے ہیں “ کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی چالبازیاں اور شرانگیزیاں آپ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گی کہ آپ کا محافظ خود اللہ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جو آپ کو کبھی ساحرکہتے ہیں اور کبھی شاعر۔ کبھی کاہن اور کبھی مجنون وغیرہ۔ تو آپ اس کی پرواہ نہ کریں اور ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے کریں۔ وہ ان سے خود ہی نمٹ لے گا اور عدل وانصاف کے تقاضوں کے عین مطابق نمٹے گا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ (مراغی اور معارف وغیرہ) اور حصول صبر کے ذریعے کی تعلیم کے لئے ارشاد فرمایا گیا (وما صبرک الا باللہ) یعنی ” صبر حاصل نہیں ہوسکتا مگر اللہ کے ذریعے “ یعنی اس کے تعلق سے۔ پس حصول صبر کے لئے انسان پر لازم ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرے۔ اور اس تعلق کا ذریعہ ذکر خداوندی ہے۔ اور ذکر خداوندی کی سب سے کامل شکل اور اعلیٰ ذریعہ و وسیلہ نماز ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا۔ (واقم الصلوۃ لذکری) (طہ : 24) نیز اس کا ذریعہ ہے اشتغال بالقرآن۔ کیونکہ قرآن حکیم ہی اصل ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (انا نحن نزلنا الذکروانا لہ لحافظون) ۔ (الحجر : 9) یعنی اس ذکر کو ہم نے اتارا ہے اور ہم خود ہی اس کے محافظ ہیں جو اس میں مشغول رہیگا وہ اللہ تعالیٰ کے حفظ وامان سے سرشار و سرفراز ہوگا۔ اللہ نصیب فرمائے اور علی وجہ الکمال نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Ayah 16:128272۔ معیت خداوندی کا مژدہ جانفزاء اور اس سے سرفرازی کا ذریعہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ ساتھ ہے ان لوگوں کے جو تقوی اور احسان کا اپنائے ہوئے ہیں اور وہ نیکوکار ہیں۔ یعنی معیت خاصہ جو کہ عبارت ہے اس قادر مطلق کی نصرت و امداد سے۔ ورنہ معیت عامہ جو کہ عبارت ہے اس کے علم اور قدرت سے وہ تو اس خالق ومالک مطلق کی ہر کسی کو حاصل ہے۔ کہ کوئی بھی چیز نہ اس کے علم سے باہر ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کے دائرہ قدرت سے سبحانہ وتعالیٰ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (وھو معکم اینماکنتم ) ۔ اور اس معیت خاصہ اور نصرت خداوندی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ تقوی وپر ہیزگاری اور صت احسان ونیکوکاری ہے سو تقوی و پرہیز گاری اور احسان ونیکوکاری رحمت و عنایت خدوندی اور اس کی معیت ونصرت سے سرفرازی اور اس سے مشرف ہونے کے خاص ذرائع ہیں، اللہ نصیب فرمائے۔ اللہم اجعلنا من المتقین والمحسنین وشرفنا بمعیتک الخاصۃ، فلا حول لنا ولا قوۃ الا بک یا ذالجلال والا کرام، وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وانا عبدک العاصی ولرحمتک الراجی۔