Ayah 16:64122۔ حدیث رسول کے توسط کے بغیر قرآن حکیم کو سمجھنا ممکن نہیں : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہا ہم نے اس قرآن کو آپ کی طرف اس لئے اتارا، تاکہ آپ کھول کر بیان کریں لوگوں کے لئے (اے پیغمبر ﷺ اس کی مراد گو کہ آپ کی تبیین وتعلیم کے بغیر قرآنی مطالب ومعانی تک رسائی کسی کے لئے ممکن نہیں۔ اور پیغمبر کی اس تعلیم و تلقین اور توضیح و تشریح کو حدیث رسول کہا جاتا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ حدیث رسول حجت قطعی ہے۔ اس کے بغیر قرآن پاک کو صحیح طور پر سمجھنا ممکن ہی نہیں۔ سو قطعی گمراہ ہیں وہ لوگ جو حدیث رسول کی حجیت کا انکار کرکے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم حدیث رسول کے توسط کے بغیر قرآن کو از خود سمجھ سکتے ہیں اور وہ لوگوں کو قرآن پاک پر اکتفاء کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ سو قطعی گمراہ ہیں وہ لوگ جو حدیث رسول کی حجیت کا انکار کرکے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم حدیث کے توسط کے بغیر قرآن کو از خود سمجھ سکتے ہیں۔ اور وہ لوگوں کو قرآن پاک پر اکتفاء کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو اہل قرآن جیسے خوشنما اسماء والقاب کے ساتھ موسوم وموصوف کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ نہ اہل اسلام۔ بلکہ کھلے اہل کفر اور اصحاب زیغ وضلال ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن حکیم صرف ذاتی مطالعہ (self study) سے سمجھنے کی کتاب نہیں بلکہ استاذ سے پڑہنے یا کم از کم استاذ کی نگرانی میں اور اس کی ہدایت کے مطابق اس کا مطالعہ کرنے سے ہی انسان صحیح طور پر اس کتاب حکیم سے مستفید اور فیضاب ہوسکتا ہے ورنہ اس کے بغیر اس کے نور ہدایت سے فیضیابی کے مقابلے میں گمراہی کے خطرات زیادہ ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ یہ کتاب حکیم اگر خود پڑھنے اور ذاتی مطالعہ سے سمجھنے کی کتاب ہوتی تو اللہ کے رسول کو اپنی حیات طیبہ میں اور نور نبوت سے سرفرازی کے بعد پورے تئیس سال اس کی تعلیم وتبیین میں صرف کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی صلوات اللہ وسلامہ، علیہ۔ اس لئے حدیث رسول کی مددوساطت اور استاذ کی تعلیم و نگرانی کے بغیر اس کتاب حکیم کو سمجھنا اور اس سے صحیح معنوں میں استفادہ کرنا ممکن نہیں۔ جب حضرات صحابہ کرام پڑھے اور سیکھے بغیر نہیں سمجھ سکے تو اور کون سمجھ سکتا ہے ؟
123۔ قرآن ہدایت سے سرفرازی کے لئے اولین شرط ایمان ہے : پس اس کے نورہدایت سے سرفرازی انہیں لوگوں کو نصیب ہوسکتی ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہوں۔ یا کم از کم ان کے دلوں میں اس پر ایمان کے لئے طلب صادق اور تڑپ ہو۔ کیونکہ (یؤمنون) کا کلمہ کریمہ ایمان اور ارادہ ایمان دونوں کو عام اور انکو شامل ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کتاب سراسر ہدایت اور عین رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔ سو اس ارشاد ربانی سے معلوم ہوا کہ قرآنی ہدایت و رحمت سے فیضیاب ہونے کیلئے اولین شرط اس پر سچا پکا ایمان ہے۔ کم از کم ایمان کی نیت اور اس کا ارادہ موجود ہو۔ اور ایمان کی یہ دولت جس قدر پختہ ہوگی اسی قدر یہ کتاب ہدایت و رحمت انسان کو نوازے گی۔ اللہم ارزقنا التوفیق والسداد بمنک وکرمک یا ارحم الراحمین۔ بہرکیف یہی کتاب حکیم ہے جو لوگوں کے اختلاف کا صحیح فیصلہ کرسکتی ہے۔ اس پر ایمان سے بدایۃ ہدایت و راہنمائی نصیب ہوتی ہے۔ اور راہ حق پر آجانے کے بعد اس کی رحمتیں اور عنایتیں انسان کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہیں جو زندگی کے ہر مرحلے پر اس کو راہ حق و ہدایت پر قائم و مستقیم رکھتی ہیں اور آخرت میں اس کو جنت کی نعیم مقیم سے مشرف کردے گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (یھدیہم ربہم بایمانہم تجری من تحتہم الانہار فی جنت النعیم) (یونس : 9) ۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے۔ جبکہ اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:65124۔ وہی زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد : سو اسی طرح وہ تمہیں بھی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ (کذلک تخرجون) سو زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرنے کے اس عمل میں عظیم الشان دلائل ہیں اس کی قدرت وحکمت کے۔ سو تم لوگ ذرا سوچو اور غور کرو کہ کس طرح وہ بارش کے اس آب حیات کے ذریعے مردہ پڑی ہوئی اس زمین کو حیات تازہ سے نوازتا اور سرفراز کرتا ہے جس سے آگے طرح طرح کی انگوریاں نکلتیں اور پیداواریں ابھرتی ہیں۔ جن تم لوگ طرح طرح سے فیضیاب و مستفید ہوتے ہو۔ سو تم لوگ ذرا سوچو اور غور کرو کہ وہ کیسا قادر مطلق، حکیم مطلق اور کتنا وہاب و کریم ہے۔ اور جو اس سب کے باوجود اس کے آگے نہ جھکے وہ کس قدر ظالم اور کتنا بےانصاف ہے۔ والعیاذ باللہ۔ نیز اسی سے اس کی توحید اور وحدانیت ویکتائی اور حیات بعد الموت کے امکان اور اس کی ضرورت وقوع کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ نیز جب اس قادر مطلق نے تمہاری جسمانی، مادی اور ظاہری ضرورتوں کی تکمیل و تحصیل کے لئے اس قدر حکمتوں بھرا انتظام فرمایا تو پھر یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری ایمانی روحانی اور باطنی ضرورتوں کی تکمیل کا کوئی سامان نہ کرے ؟ جب کہ وہ ان ظاہری اور مادی ضرورتوں سے کہیں بڑھ کر اہم ہیں۔ سو اسی کیلئے اس نے انبیاء ورسل مبعوث فرمائے۔ ان پر اپنی کتابیں اتاریں۔ اور اس سلسلے کی تکمیل اس نے اب حضرت خاتم الرسل کی بعثت اور خاتم الکتب قرآن حکیم کو اتار کر فرمادی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
125۔ سننے والوں کے لئے بڑی بھاری نشانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اس سب میں بڑی بھاری نشانی ہے ان لوگوں کیلئے جو سنتے ہیں گوش ہوش سے نہ کہ محض ظاہری کانوں سے بہائم کی طرح۔ سو جس سننے میں غور وفکر اور عبرت پذیری کا جذبہ کارفرما نہ ہو وہ سننا بہائم کا سننا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس غور وفکر اور عبرت پذیری کے نقطہ نگاہ سے سننے والوں کے لئے بڑی بھاری نشانی ہے اس کائنات کے خالق ومالک کے وجود باجود، اس کی وحدانیت ویکتائی اور اس کی قدرت وحکمت کی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ سب کچھ انہی لوگوں کیلئے جو صحیح طریقے سے سنتے ہیں جو اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر خداوند قدوس کے قانون کی زد میں ہوتے ہیں۔ ان کے کانوں کو کوئی بھی چیز نہیں کھول سکتی اور وہ (کالانعام بل ہم اضل) کا مصداق بن چکے ہیں یعنی چوپایوں جیسے بلکہ ان سے بھی کہیں بڑھ کر گمراہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:66126۔ مویشوں میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے لئے (اے لوگو ! ) تمہارے ان مویشیوں میں بھی بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے۔ یعنی تمہارے انہی مویشیوں میں جو کہ تمہارے آگے پیچھے چرتے پھرتے ہیں۔ اور اس طرح غور وفکر کا یہ سامان ہر وقت تمہارے سامنے موجود ہوتا ہے مگر تم لوگ ہو کہ نہ اس طرف کوئی توجہ دیتے اور نہ اس سے کوئی سبق لینے کی کوشش کرتے ہو۔ ورنہ اگر تم لوگ صحیح معنوں میں ان میں غور وفکر سے کام لوجو کہ ہر وقت تمہارے سامنے ہوتے ہیں اور جن کو تم دن رات دیکھتے اور ان سے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو تو تمہیں انہیں سے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ملیں۔ اور ایسے کہ تمہاری کا یا پلٹ ہوجائے۔ مگر برا غفلت کا کہ اس کے باعث تم لوگ اندھے اور اوندھے ہوتے جاتے ہو۔ یہاں تک کہ تمہارے ہی اندر ایسے لوگ بھی موجود جو انہی جانوروں کی پوجا تک کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو تم لوگ آنکھیں کھول کر ذرادیکھو تو سہی کہ کس طرح یہ سرتاپانفع وخیربنے تمہارے کام آرہے ہیں۔ ان کے دودھ، ان کے گوشت، ان کی کھالیں، انکے بال اور ان کی روئیں، ان کی لید اور ان کی گوبر اور مینگنیوں وغیرہ میں کونسی چیز ہے جو تمہارے کام نہ آتی ہو۔ اس سے تمہارے طرح طرح کے فوائد و منافع وابستہ نہ ہوں اور ان سے تمہارے طرح طرح کے کاروبار نہ چلتے ہوں ؟ تو پھر تم لوگ سوچتے اور غورکیوں نہیں کرتے کہ اس پر حکمت طریقے اور اس کثرت کے ساتھ کس نے پیدا کرکے تمہارے لیے مسخر کردیا ؟ اور اس کا تم پر کیا حق بنتا ہے ؟ اور وہ حق کس طرح ادا کیا جاسکتا ہے۔ سو وہی اللہ ہے جو تم سب کا خالق ومالک اور وہاب و کریم ہے اور اس کا حق جو تم لوگوں پر واجب ہوتا ہے وہ ہے اس کی اطاعت مطلقہ اور اس کی عبادت و بندگی خالصہ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
127۔ دودھ کی نعمت میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور انہی کے پیٹوں سے ہم تمہیں خالص اور خوشگوار دودھ کی نعمت سے نوازتے ہیں " اور ایسا عمدہ، خوشگوار اور اس قدر مفید و مزیدار کہ اپنی منفرد وممتاز لذت و شیرینی اور طرح طرح کے وٹامنوں سے بھرپور مالا مال۔ اور ایسا صاف ستھرا کہ گوبر اور خون کی ان دونوں نجاستوں کے کسی شائبے کی بھی اس میں کوئی آمیزش نہیں۔ سو یہ اس وحدہ لاشریک قدرت اور حکمت بالغہ کے سوا اور کس کی کارستانی ہوسکتی ہے ؟ مگر پھر بھی اس انسان کی ناشکری اور بےانصافی ملاحظہ ہو کہ یہ اس کی اس عظیم الشان نعمت کو دوسروں کی طرف منسوب کرتا، اور اس طرح وہ اس کو شکر کے بجائے شرک وکفر کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کوئی اس کو خود ساختہ اور بےحقیقت بتوں کی طرف منسوب کرتا ہے۔ کوئی اس کو کسی دیوی اور دیوتا کی کارستانی قرار دیتا ہے۔ کوئی کسی آستانے یا اپنی ساختہ پرداختہ کسی سرکار کی فیض رسانی سمجھتا ہے اور کوئی کسی زندہ یا مردہ پیر فقیر کی عنایت و مہربانی اور حاجت روائی ومشکل کشائی کا نتیجہ قرار دتیا ہے۔ اور وہ انہی کو راضی کرنے کی فکر کرتا ہے اور ایسے لوگ ان کیلئے طرح طرح کے ناموں سے نذر ونیاز اور ڈالیاں پیش کرتے ہیں۔ اور گیا رہویں، بارہویں دیتے اور انہی کے گن گاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ۔ سو ذرا سوچو کہ دیا کس نے اور نام کس کا لیا جارہا ہے ؟ لیکن اس پر بھی وہ ایسے بےانصافوں کو ڈھیل اور چھوٹ دئے جارہا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 16:67128۔ کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں میں دعوت غور و فکر : سو یہ دونوں عظیم المنافع اور کثیر الفوائد پھل بھی اسی وحدہ لاشریک نے پیدا فرمائے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ساتھ انسانی برتاؤکی دو صورتیں ہیں۔ جائز اور ناجائز۔ اور ان دونوں کا نتیجہ وانجام بھی مختلف ہے۔ یعنی ان عظیم الشان اور پاکیزہ نعمتوں کے استعمال کرنے کیلئے تمہارے سامنے دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ تم ان کو پاکیزہ روزی کے طور پر استعمال کرکے دل وجان سے اس واہب مطلق کا شکر بجالاتے۔ تو یہ نعمتیں تمہارے لئے نور علی نور کا مصداق بن جاتیں۔ اور دوسری صورت ان کے استعمال کی یہ تھی کہ تم ان سے نشہ آور چیزیں بناکر اپنی خواہشات اور نفس پرستی کا سامان کرتے۔ جس کے نتیجے میں یہ تمہارے لئے وبال عذاب بن جاتیں۔ اب یہ دونوں صورتیں تمہارے سامنے اور تمہارے اختیار میں تھیں اور ہیں۔ ایک جائز ہے اور ایک ناجائز۔ جس نے ان میں سے جس کو بھی اپنایا اور اختیار کیا اس کو اس کا صلہ وثمر ملے گا۔ ان نعمتوں کو جائز اور صحیح طریقے سے استعمال کرنے والوں کیلئے انعام و اکرام ہوگا۔ اور غلط اور ناجائز طریقوں سے برتنے والوں کو اس کا بھگتان بھگتنا پڑے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو (رزقاحسنا) کے کلمات کریمہ سے اللہ تعالیٰ کی دی بخشی ہوئی نعمتوں کو ان کے صحیح مصرف میں لگانے اور صحیح طور پر خرچ کرنے کا درس بھی ہے اور ان کو برے مصرف میں لگانے اور برے طریقے سے خرچ کرنے کی ممانعت بھی ہے کہ یہ سب کچھ رزق حسن کے تقاضوں کے خلاف حضرات واہب مطلق کی ناشکری اور اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کی بےقدری ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
129۔ عقل سے کام لینے والوں کیلئے بڑی بھاری نشانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے۔ ان لوگوں کیلئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ جو اپنی عقل سے صحیح کام لیکر سوچتے ہیں۔ اور اس بارے میں غور کرتے ہیں کہ مٹی سے ان عظیم الشان اور طرح طرح کی قوتوں اور وٹامنوں سے صحیح سے بھرپوران نعمتوں کو ہمارے لئے پیدا کس نے کیا ؟ اور یہ کہ کتنی عظیم اور کس قدر مہربان ہے وہ ذات جس نے ہمیں ان طرح طرح کی عظیم الشان نعمتوں سے نوازا۔ اور ہماری طرف سے کسی اپیل و درخواست کے بغیر از خود اور محض اپنی رحمت و عنایت سے نواز۔ سو کس قدر مہربان اور کتنی وہاب و کریم ہے وہ ذات اور اس کا ہم پر کیا حق ہے اور اس کا یہ حق واجب کس طرح ادا کیا جاسکتا ہے۔ نیز جب ان نعمتوں کی بخشش وعطاء میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا سہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ان سب نعمتوں میں عظیم الشان نشانی ہے ان لوگوں کیلئے جو اپنے نورعقل و بصیرت سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں اور جو عقل سے کام لینے کی بجائے صرف جانوروں کی طرح اپنا پیٹ بھرتے ہیں ان کیلئے کسی درس عبرت کا کوئی سوال نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 16:68–69130۔ شہد کی مکھی میں درس عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ تم گھر بنا " یعنی وحی کا لفظ یہاں پر اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی القاء اور الہام کے معنی میں۔ نہ کہ اصلاحی معنوں میں۔ کہ وہ حضرات انبیاء ورسل کے ساتھ خاص ہے۔ اور نبوت و رسالت کی یہ معروف اور اصلاحی وحی حضرات انبیاء ورسل ہی کیلئے مختص ہے۔ اور ان کے سوا کسی اور کو نہیں ہوسکتی۔ بہرکیف یہ امر بھی قدرت کے عجائبات میں سے ایک ہے کہ اس نے شہد کی مکھی کے اس چھوٹے سے وجود کے اندر یہ بات ڈال دی اور اس کو یہ امر القاء کردیا کہ وہ پہاڑوں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی چھتوں میں ایسے عظیم الشان گھر بنائے جن سے انسان کی عقل رہ جاتی ہے۔ بہر کیف وحی سے یہاں پر مراد وہ جبلی اور فطری وحی ہے جو ہر مخلوق کو اس کی طبیعت و فطرت میں ودیعت فرمودہ صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے بارے میں فاطر فطرت وجبلت کی طرف سے فرمائی گئی ہے۔ جس میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔
Ayah 16:70136۔ خالق سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہی نے پیدا فرمایا تم سب کو (اے لوگو) اور تمہیں عدم کے اندھیروں سے نکال کر وجود کی روشنی سے سرفراز فرماتا ہے۔ اور خلق و ایجاد اسی کی صفت اور اسی کی شان ہے۔ اور جب اس کی اس صفت وشان میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کے حق عبودیت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس وہ ہر شریک اور شرک کے ہر شائبے سے پاک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو تمہارا وجود خود دلیل ہے۔ اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کا، تم اگر اسی میں صحیح طور پر غور کرلوتوسب کچھ واضح ہوجائے گا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔
137۔ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی نے پیدا فرمایا تم سب کو پھر وہی تمہاری جان قبض کرتا ہے اپنے وقت مقررہ پر۔ پس نہ زندگی دینا اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی کے بس میں ہے اور نہ موت دینا۔ پس جھوٹ کہتے ہیں وہ جو یہ کہتے ہیں کہ اگر پیرصاحب کے نام کی گیارہویں نہ دی تو تمہاری بھینس کو مار دیں گے وغیرہ۔ نہ پیر صاحب ایسا کرسکتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس طرح کی کوئی بات کہی۔ یہ سب کچھ بعد کے لوگوں نے از خود گھڑا اور اپنے پیٹ کی پوجا کیلئے گھڑا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو زندگی بخشنا اور موت دینا اسی کا کام ہے اور (یحیی ویمیت) اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کے سوا کسی بھی اور ہستی میں یہ صفت ماننا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
138۔ ازذل عمر کی تذکیر ویاددھانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے کچھ وہ ہوتے ہیں جن کو لوٹا دیا جاتا ہے سب سے زیادہ نکمی اور بیکار عمرکیطرف، جس میں انسان کے اعضاء وقوی سب جواب دے جاتے ہیں۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ قرآن پڑھنے والا اس عمر کو نہیں لوٹایا جاتا (زادالمسیر) سبحان اللہ۔ کیا کہنے قرآن حکیم کی عظمتوں اور اس کی برکتوں کے، اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بہ وبالاشتغال بہ۔ بہرکیف تمہارا وجود خود ایک عظیم الشان مخزن ہے دلائل وبرائین قدرت کا اے لوگو۔ سو تمہارا وجود خود گواہی دے رہا ہے اس خالق ومالک کے وجود باوجود کی۔ اور اس کی عظمت شان اور جلالت قدر کی اور اس بات کی کہ تم لوگ اول سے آخر تک اس کے محکوم اور اس کے حکم وارشاد کے پابند ہو۔ اپنی پیدائش میں۔ اپنی جوانی اور بڑھاپے میں۔ اپنی صحت ومرض میں۔ اور اپنی موت و انتقال میں، تو پھر اس کے آگے سرکشی کیسے اور کیونکر ؟
139۔ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کی تذکیر و یادھانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور ان کے حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ اور یہ اس کی قدرت کاملہ ہی کا ایک مظہر ہے کہ وہ انسان پر اس طرح کے مختلف احوال طاری کرتا ہے۔ اور اس طور پر کہ انسان کے بس میں نہیں کہ وہ ان میں سے کسی کا بھی انکار کرسکے۔ نہ وہ پیدا ہونے سے انکار کرسکتا ہے نہ بچپن کی عمر سے۔ نہ لڑکپن کے دور سے نہ جوانی اور اس کی بہاروں کے ڈھلنے سے اور نہ ہی ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کے آنے سے۔ اور نہ ہی اس آخری عمر میں پہنچنے سے جس میں وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ بھی نہیں جان رہا ہوتا۔ اور نہ ہی مرنے اور قبر میں جانے سے۔ اسی طرح قبر سے اٹھ کر دوبارہ زندہ ہونے سے انکار کرنا بھی اس کے بس واختیار میں نہیں ہوگا۔ سو کس قدر محروم اور بدنصیب ہے وہ انسان جو اس حقیقت سے غافل اور آخرت اور بعث بعد الموت کا منکر ہے اور اس کے لئے تیاری کرنے کی بجائے متاع عمر کو یونہی ضائع کررہا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:71140۔ رزق وروزی بھی خداوند قدوس ہی کا عطیہ واحسان ہے : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہی نہ تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے روزی میں کسی کو امیر بنایا تو کسی کو فقیر، کسی کو بہت مالدار اور کسی کم۔ کسی کو آقا ومالک اور کسی کو غلام ومملوک وغیرہ وغیرہ۔ سواحوال وظروف کا یہ اختلاف جہاں اس قادر مطلق کی قدرت کاملہ کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ وہاں یہ تمہارے لئے اے لوگو اس کی ایک عظیم الشان رحمت اور عنایت بھی کہ اس سے تمہارے باہمی تعاون وترابط کا سلسلہ بھی قائم ہے اور تمہیں ایک دوسرے کے کام آنے، خدت کرنے اور خدمت لینے اور اجروثواب کمانے کا موقع بھی ملتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ (ورفعنا بعضہم فوق بعض درجات لیتخذ بعضہم بعضا سخریا) الایۃ (الزخروف : 32) سو اگر یہ سب لوگ ایک ہی برابر ہوتے تو ایسے کبھی نہ ہوسکتا۔ اور یہ درجہ بندی بھی اس قادر مطلق نے اس درجہ کمال حکمت سے فرمائی کہ ہر کوئی اپنی جگہ خوش اور مست ومگن ہے۔ اور وہ ایک ہی وقت میں دوسروں کے کام بھی آتا ہے اور اپنی طرح طرح کی چیزوں کی تکمیل کے سلسلے میں ان کا محتاج بھی ہے۔ فسبحانہ من خالق عظیم قادر قیوم جل وعلا۔ بہرکیف اس سے واضح فرمادیا گیا کہ رزق وروزی بھی اللہ ہی کا عطیہ واحسان ہے۔ پس نہ تو انسان اس کو اپنے کمال کا نتیجہ سمجھے اور نہ ہی اس کو دوسروں کی طرف منسوب کرکے ناشکری اور کفران نعمت کا ارتکاب کرے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
141۔ توحید کیلئے ایک فطری دلیل کی طرف راہنمائی : سو اس سے انسانی فطرت میں موجود توحید کی ایک اہم دلیل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا پھر یہ لوگ ایسے نہیں کہ روزی کو اپنے ماتحتوں پر اس طرح پھیر دیں کہ وہ سب برابر ہوجائیں حالانکہ تم سب آپس میں مخلوق اور انسان ہونے میں برابر ہو۔ تو جب اس کے باوجود تمہیں یہ شرکت گوارا نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کی شرکت کیسے گوارا کرتے ہو ؟ اور کس طرح اس کیلئے طرح طرح کے شریک ٹھہراتے ہو۔ (مالکم کیف تحکمون ؟ ) سو اس اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مشرک لوگوں کی مت کیسی ماردی جاتی ہے کہ وہ مالک کے غلاموں اور اس کے ماتحتوں کا اپنے مالک اور بڑے کے برابر اور اس کے مساوی ہونا گوارا نہیں کرتے لیکن خداوند قدوس جو کہ سب کا خالق ومالک ہے اس کے ساتھ اس کی مخلوق کو شریک جانتے اور اس کی خدائی میں حصہ دار مانے ہیں۔ سو کتنے اندھے اور کس قدر اوندھے ہوگئے یہ لوگ ؟ بہرکیف اس ارشاد سے فطرت انسانی میں پیوست ایک اہم دلیل کی طرف انسان کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے تاکہ وہ سوچے اور غور وفکر سے کام لے کر شرک کے اندھیروں سے نکل کر نور اور حق و ہدایت کے طریق مستقیم کی طرف آسکے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
142۔ منکرین و مشرکین کے دلوں پر ایک دستک : سو منکر اور مشرک انسانوں کے قلوب وضمائر پر ایک دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور بطور استفہام ارشاد رمایا گیا کہ بخشی تو یہ سب نعمتیں ان کو اللہ تعالیٰ نے دی ہیں اور محض اپنے کرم واحسان سے بخشی ہیں مگر یہ لوگ ان کو اوروں کی طرف منسوب کرکے انکو ان کی مہربانی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اور انہی کے نام کی نذریں مانتے اور نیازیں دیتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ نیز حق صریح کے آجانے اور راہ ہدایت کے واضح ہوجانے اور ایسے قطعی دلائل کے قائم ہوجانے کے بعد بھی تم لوگ راہ حق کے خلاف گامزن ہو اور نعمت حق و ہدایت کی قدر نہیں کرتے، حالانکہ حق و ہدایت کی نعمت سب سے بڑھ کر عظیم الشان اور جلیل القدر نعمت ہے۔ جس جیسی دوسری کوئی بھی نعمت نہیں ہوسکتی (محاسن التاویل) سو اس سے امر کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی دی اور بخشی ہوئی نعمتوں میں کسی بھی اور کو شریک کرنا اور اس کو اس میں ساجھی اور حصے دار ماننا کھلا ہوا جو شرک اور صریح انکار ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:72143۔ بیوی بچوں کی نعمت سے متعلق تذکیر و یاددہانی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور اس نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا فرمائیں خود تمہاری جنس سے، تاکہ تم انکے ذریعے سکون حاصل کرو اور پرکیف زندگی گزارو۔ تاکہ تمہاری نسل چلے اور تمہارا نام باقی رہے۔ اور اس رشتہ ازدواج کے ذریعے تمہیں طرح طرح کی مزید نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہو۔ سو تمہارے لئے تو تمہاری بیویوں کو پیدا کرنا اس کی ایک عظیم الشان نعمت ہے جس سے اس نے تمہیں اپنی خاص رحمت و عنایت سے نوازا ہے۔ پھر مزیدکرم یہ فرمایا کہ اس نے تمہاری ان بیویوں کو خود تمہاری ہی جنس سے پیدا فرمایا ہے۔ تاکہ تمہارے درمیاں باہمی انس و محبت کا تعلق قائم ہو۔ کیونکہ اگر تمہاری بیویاں کسی اور جنس سے ہوتیں تو تمہارے درمیاں باہم انس و محبت کا یہ تعلق اور رشتہ کس طرح پیدا ہوسکتا تھا ؟ پھر اس نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے زوجین یعنی بیوی اور خاوند میں سے ہر ایک کو ایسا بنادیا ہے کہ اس میں سے ایک کی تکمیل دوسرے پر موقوف ہے اور ایک کی سعادت اور اس کا سکون دوسرے سے وابستہ ہے۔ سو تم لوگ اگر اس سلسلے میں غور و فکر سے کام لوتو تمہیں زوجیت اور انکے باہمی رشتہ میں قدرت کے عظیم الشان دلائل نظر آئیں گے اور تم لوگ دل وجان سے پکاراٹھوگے للہ الحمد رب العالمین۔
144۔ اور اسی نے تمہیں بیٹوں اور پوتوں سے نوازا : سو بیٹوں پوتوں کی اس عظیم الشان نعمت سے نوازنا بھی حضرت حق۔ جل مجدہ۔ ہی کی شان اور اسی کا کام ہے۔ سو اسی نے انسان کو اس نعمت سے نوازا اور از خود نوازا۔ مگر اس انسان کی بےانصافی اور ناشکری ملاحظہ ہو کہ اس نے اس کی اس نعمت میں بھی شرک کا ارتکاب کیا یہاں تک کہ کلمہ گو مشرک نے اپنی اولاد کو غیروں کی طرف منسوب کرکے ان کے نام بھی شرکیہ رکھ دیئے جیسے۔ " پیربخش "۔ " علی بخش "۔ ، " امام بخش "۔ " نبی داد "۔ " علی داد "۔ " حضور بخش "۔ " رسول بخش "۔ " عبدالحسین "۔ " عبدالنبی "۔ " عبدالرسول "۔ اور " پیراں دتہ " وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جو لوگ جہالت اور نادانی سے ایسا کرتے ہیں وہ تو پھر بھی معذور ہوسکتے ہیں لیکن جو جان بوجھ کر ایسا کرتے اور ایسے نام رکھتے ہیں وہ شرک کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور پھر اس رحیم و کریم اور ستاروحلیم خدائے ذوالمنین کا کرم واحسان ملاحظہ ہو کہ اس طرح کی تمام شرکیات کے باوجود وہ ان لوگوں سے اپنی یہ نعمت چھینتا نہیں فتعالی اللہ الملک الحق لا الہ الا ھو) بہرکیف بیٹوں اور پوتوں کی نعمت بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جس سے قدرت اپنے بندوں کو نوازتی ہے کہ بیٹوں اور پوتوں کے اس سلسلے سے اس کا نام اور اس کے وجود کا تسلسل باقی رہتا ہے۔ اور یہی وہ نعمت ہے جو انسان کو اس کی موت اور انتقال کے بعد بھی کام آتی ہے۔ اور انہی کی دعاؤں اور نیک اعمال کے نتیجے میں انسان کو مرنے کے بعد بھی اجروثواب ملتارہتا ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں حضرت نبی معصوم ﷺ سے وارد و منقول ہے۔ سو اولاد کی یہ نعمت مرنے کے بعد بھی کام آتی ہے جبکہ یہ راہ حق و ہدایت پر قائم ہوں۔ باللہ التوفیق لما یحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل۔
145۔ پھر بھی اللہ کی نعمتوں کا انکار ؟ : یعنی اللہ پاک کی یہ اور نعمتیں جن سے یہ لوگ ہر وقت اور طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہیں، تو کیا پھر بھی یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں ؟ کہ یہ نعمتیں ان کو بخشی اسی وحدہ لاشریک نے ہیں۔ مگر یہ ان کو منسوب دوسروں کی طرف کرتے ہیں۔ (ابن کثیر) کوئی لکڑی پتھر وغیرہ کے کسی خود ساختہ بتوں کی طرف، کوئی کسی زندہ یا مردہ ہستی کے آستانے اور قبر کی طرف اور کوئی کسی " بلیوں والی سرکار " اور " کانوں والی سرکار " وغیرہ کی طرف۔ سو یہ کتنا ظلم اور کس قدر بےانصافی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ۔ اور آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا اور جن وانس کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ پیدا سب کو میں کرتا ہوں مگر یہ بندگی دوسروں کی کرتے ہیں۔ اور روزی سب کو میں دیتا ہوں مگر یہ شکر دوسروں کا بجالاتے ہیں (تفسیر مظہری) ۔ والعیاذ باللہ من کل سوء و شرک وضلال۔ سو اللہ پاک کی بخشی ہوئی نعمتوں کا انکار کرنا بڑا ظلم اور سخت بےانصافی ہے۔ اور اس کا نتیجہ وانجام بھی بہت برا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:73146۔ مشرکوں کی حماقت کا ایک اور نمونہ ومظہر : کہ بخشا تو ان کو اور سب دنیا کو اللہ وحدہ لاشریک ہی نے ہے اور وہی وحدہ لاشریک ہے جو سب کو دیتا ہے اور سب کو بخشتا ہے۔ مگر یہ لوگ ہیں کہ اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کو جو وہاب مطلق ہے یہ اپنے خود ساختہ اور من گھڑت معبودوں کی پوجا کرتے ہیں۔ جو نہ آسمان سے کسی طرح کی روزی کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین سے کوئی انگوری وغیرہ نکالنے کی۔ یعنی نہ تو وہ اس کا کوئی اختیار رکھتے ہیں کہ ان کے لئے آسمان سے بارش اتار سکیں جس سے زمین کو زندگی ملتی ہے۔ اور نہ ان میں اس کی کوئی ہمت اور سکت ہے کہ وہ بارش کے اتر جانے کے بعد زمین سے کوئی انگوری اور پیداوارنکال سکیں۔ تو پھر ایسوں کو معبود بنانا اور ان کے مراسم عبودیت بجا لانا کس قدر حماقت ہے۔ اور اس واہب مطلق معبود برحق کی عبادت و بندگی سے منہ موڑنا کس قدر ظلم ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین۔
147۔ معبودان باطلہ کے بس میں کچھ بھی نہیں : سو وہ نہ کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ اس کی کوئی سکت رکھتے ہیں کہ وہ ہیں ہی عاجز وبے بس۔ پھر وہ کیا کرسکتے ہیں۔ (محاسن التاویل وغیرہ) یعنی کبھی ایسے ہوتا ہے کہ کوئی شخص کوئی کام کرتا تو نہیں لیکن اس کے اندر اس کیلئے ہمت اور طاقت تو موجود ہوتی ہے۔ مگر یہ اس سے بھی عاجز اور گئے گزرے ہیں (المراغی وغیرہ) ۔ سو بات صرف اتنی ہی نہیں کہ وہ کچھ کرتے نہیں بلکہ وہ کچھ کرسکتے ہی نہیں۔ وہ اگر چاہیں بھی اور اس کے لئے زور بھی لگائیں تو بھی کچھ نہیں کرسکتے کہ وہ بےحقیقت اور بےجان محض ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جو ایسوں کو اپنا معبود مان کر ان کے آگے مراسم عبودیت بجالاتے ہیں وہ کیا ہوں گے (ضعف الطالب والمطلوب) سو کفر و شرک ذلتوں کی ذلت اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:74148۔ اللہ پاک کیلئے مثالیں بیان کرنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا " پس تم لوگ اللہ کیلئے مثالیں مت بیان کرو " کہ وہ نظیرومثال سے پاک ہے۔ (لیس کمثلہ شیء ج وھو السمیع البصیر) پس نہ تم اللہ کیلئے کوئی مثل بناؤ اور نہ تم اس کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے ساتھ تشبیہہ دو کہ اس کی کوئی نظیر و مثال سرے سے ہے ہی نہیں۔ اور وہ اس طرح کے تمام تصورات سے پاک اور اعلی وبالا ہے۔ سو اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کیلئے اپنی طرف سے مثالیں بیان کرنے سے صاف اور صریح طور پر منع فرما دیا گیا۔ اور طرح طرح کے شرکیات کے ایک بڑے دروازے کو ہمیشہ کیلئے بند فرما دیا گیا۔ کیونکہ انسان اپنی عقل وفکر سے جو بھی کوئی مثال بیان کرے گا وہ مخلوق ہی سے متعلق اور اسی کے دائرے میں ہوگی۔ اس سے آگے وہ نکل سکتا ہی نہیں۔ کیونکہ اس کی کھوپڑی بہرحال مخلوق اور محدود ہے۔ جبکہ حضرت حق جل مجدہ۔ مخلوق سے وراء الوراء ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اس کو ویسے مانا جائے جیسے وہ اپنے بارے میں خود بتائے یا اس کا رسول بتائے۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔
149۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا بیشک اللہ (سب کچھ) جانتا ہے اور تم لوگ کچھ بھی نہیں جانتے۔ حق اور حقیقت کے بارے میں۔ مگر اتنا ہی جتنا کہ نور وحی سے معلوم ہو اور بس۔ سو تم جو بھی مثال بیان کروگے وہ مخلوق کے دائرے ہی میں ہوگی کہ تم اور تمہاری کھوپڑی سب کچھ مخلوق و محدود ہے جبکہ اللہ تعالیٰ خالق اور دائرہ مخلوق سے وراء الوراء ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس طرح اس ارشاد ربانی سے ایک ایسے دروازے کو بند کردیا گیا جس سے طرح طرح کی گمراہیوں نے جنم لیا اور جنم لیتی ہیں۔ کیونکہ بہت سے لوگوں نے اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرکے طرح طرح کی گمراہیوں کا ارتکاب کیا۔ پہلے بھی یہی تھا اور اب بھی یہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس لئے یہاں پر صاف اور صریح طور پر اس سے منع فرما دیا گیا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی مثالیں مت بیان کیا کرو کہ وہ مخلوق کی مثالوں سے پاک اور وراء الوراء ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تم اس کو ویسے ہی مانو جیسے وہ اپنے بارے میں خود بتائے اور جیسے اس کے بارے میں اس کے رسول بتائیں۔
Ayah 16:75150۔ ابطال شرک کے لئے ایک مثال کا ذکر وبیان : اور توحید کے بارے میں صحیح مثال وہی ہوسکتی ہے جو وہ خود بیان فرمائے۔ سو اللہ تعالیٰ نے ابطال شرک کیلئے ایک مثال بیان فرمائی۔ یعنی وہ آزاد شخص چاہے اور جیسے چاہے اور جہاں چاہیے اور جس قدر چاہے خرچ کرتا ہے کہ وہ آزاد اور خود مختار ہے۔ تو ایسا شخص اور دوسرا وہ شخص جو عاجز ہو اور کچھ نہ کرسکتا ہو، کیا یہ دونوں شخص باہم ایک برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم لوگ خداوند قدوس کے ساتھ اس کے مملوکوں کو برابر کس طرح مانتے ہو ؟ جب وہ خالق کل اور مالک مطلق ہے۔ اور باقی سب اس کی مخلوق اور اس کے مملوک ہیں۔ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا اور تم کہاں اور کیسے اندھے اور اوندھے ہورہے ہو ؟۔
151۔ مشرکوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والا سوال : کہ کیا یہ دونوں شخص باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟ جب نہیں اور یقینا وہرگز نہیں۔ حالانکہ یہ دونوں بشر، انسان، اور مخلوق ہیں، تو پھر حضرت خالق، جل مجدہ۔ کے ساتھ کسی کی برابری کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ (مراغی، صفوۃ اور معارف وغیرہ) جبکہ وہ خالق کل مالک مطلق دائرہ مخلوق سے وراء الوراء ہے۔ تو پھر کیسے اندھے اور کس قدر اوندھے ہیں وہ لوگ جو اپنے خود ساختہ معبودوں کو اس کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ (لایقدرعلی شیء) کہ " کسی چیز پر قدرت نہ رکھتا ہو " کی صفت کا شفہ سے اس غلام کی بےاختیاری کو اور واضح کردیا گیا۔ کیونکہ غلاموں میں ایک غلام وہ بھی ہوتا ہے جس کو کسی قدر تصرف کی اجازت ہوتی ہے۔ جس کو " عبد ماذون " کہا جاتا ہے۔ اور ایک وہ ہوتا ہے جو " مکاتب " کہلاتا ہے۔ جسے مالک نے بقدر ضرورت وحاجت کمائی کیلئے اجازت دے رکھی ہوتی ہے۔ جو فقہ کی اصطلاح میں " بدل کتابت " کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ کتب فقہ میں مذکور ہے۔ مگر یہ غلام اس طرح کا کوئی اختیار بھی نہیں رکھتا۔ سو اس سوال سے مشرکوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑا گیا ہے تاکہ وہ باز آجائیں شرک کے گھناؤنے جرم سے۔ مگر کہاں ؟ الا ماشاء اللہ۔
152۔ سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں : کہ وہی ہے جو ہر نقص وعیب سے پاک اور ہر خوبی و کمال سے متصف ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ وبحمدہ۔ اور وہی معبود برحق ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے جبکہ تمہارے خود ساختہ معبودوں میں سے اے مشرکو ! نہ کسی کے اختیار میں کچھ ہے۔ اور نہ ان کیلئے کسی طرح کی تعریف و توصیف کا کوئی حق ہے کہ وہ سب سراسر بےبنیاد ہیں۔ جبکہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور جس کو جو کچھ ملا، یا ملنا ہے یا آئندہ ملے گا، وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:76153۔ جہالت باعث محرومی و ہلاکت : اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ لوگوں کی اکثریت جانتی نہیں (حق اور حقیقت کو) اس لئے وہ طرح طرح کی گمراہیوں میں مبتلا ہوتے اور اندھیروں میں بھٹکتے ہیں۔ سو جہالت اور دین حق کی تعلیمات مقدسہ سے غفلت وبے خبری جڑ، بنیاد سے تمام خرابیوں اور محرومی و ہلاکت کی۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہاں یہ حقیقت پھر آشکارا ہوجاتی ہے کہ عوام الناس کی رائے کسی معاملے کے صحیح یا غلط ہونے کیلئے فیصلہ کن نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ عوام کی اکثریت بہرحال جاہل ہے۔ اور جاہل کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں ہوسکتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
154۔ ابطال شرک کیلئے ایک اور مثال کا ذکر وبیان : سو حق کی توضیح مذید کیلئے ایک اور مثال کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور جب یہ دونوں باہم برابر نہیں ہوسکتے اور ہرگز نہیں ہوسکتے تو پھر معبود برحق۔ جل جلالہ۔ اور تمہارے خود ساختہ معبودان باطلہ باہم برابر کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ پس یہ مثال معبود برحق اور معبودان باطلہ کے درمیان فرق وتمیز کی توضیح و تشریح کے لئے بیان فرمائی گئی ہے (صفوۃ، ابن کثیر، مراغی، جواہر اور معارف وغیرہ) ۔ اور بعض حضرات مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ مثال کافر اور مومن کے درمیان فرق کی توضیح کیلئے ہے۔ سو کافر اندھے، بہرے اور گونگے غلام کی طرح ہے۔ وہ نہ حق کو دیکھتا ہے نہ سنتا ہے۔ اور وہ ایسا نکما اور اس قدر ناکارہ ہے کہ وہ جہاں بھی جائے اس سے خیر کی کوئی توقع نہیں ہوسکتی۔ اور اس کے مقابلے میں مومن حق کو سنتا، مانتا اور وہ راہ حق و ہدایت پر گامزن رہتا ہے۔ اس کا وجود خیر کا وجود ہے اور وہ اپنے قول وفعل سے دوسروں کو بھی راہ حق و ہدایت کی دعوت دیتا ہے۔ (معارف وغیرہ) والحمد للہ جل وعلا۔
Ayah 16:77155۔ علم غیب خاصہ خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا۔ " اور اللہ ہی کیلئے ہے غیب آسمانوں اور زمین کا " پس وہی جانتا ہے کہ مشرکین و مکذبین پر عذاب کب آئے گا۔ اور کس شکل میں آئے گا۔ اور یہ کہ قیامت کی وہ گھڑی کب بپا ہوگی۔ لہذا ان لوگوں کا اس بارے میں جلد بازی سے کام لینا اور اس کے لئے جلدی مچانا اور خواہ مخواہ کی حجت بازی اور قیل وقال کرنا ان کی اپنی حماقت کی دلیل ہے۔ پس پیغمبر کیلئے عالم غیب اور مختار کل ہونے کا عقیدہ رکھنا جس طرح کہ آج کے کلمہ گو مشرک کا کہنا اور ماننا ہے اس طرح کی نصوص صریحہ کے خلاف اور باطل و مردود ہے۔ اور اللہ پاک کی صفات مختصہ میں اس کی مخلوق کا شامل کرنا ہے جو کہ شرک اور ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ ہی کیلئے ہے غیب آسمانوں اور زمین کا۔ اور وہی جانتا ہے کہ منکرین و مکذبین پر عذاب کب اور کس شکل میں آئے گا۔ اور قیامت کی وہ ہولناک گھڑی کب آئے گی، اور عقل ونقل کا تقاضایہ ہے کہ اس کیلئے جلدی مچانے کی بجائے اس کے لئے تیاری کی جائے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید وعلی مایحب ویرید۔
156۔ قیامت کا وقوع پل بھر میں یا اس سے بھی جلدتر : سو ارشاد فرمایا گیا اور قیامت کا معاملہ پل جھپکنے کے برابر یا اس اسے بھی قریب تر ہے کہ پل جھپکنا بھی زمانے کا محتاج ہے کہ یہ ایک زمانی چیز ہے۔ جبکہ اللہ جل جلالہ، ہر طرح کی احتیاج سے پاک وبے نیاز ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔۔ اس کا کام اور اس کی شان تو " کن فیکون " کی ہے کہ جو کہا ہوگیا اور جس کا حکم دیا وہ وجود میں آگیا۔ سو قیامت کا جو معاملہ منکرلوگوں کی نگاہوں میں بہت بڑی چیز ہے وہ اللہ پاک کے حکم وارشاد کے مطابق پل بھر میں یا اس سے کہیں جلد وقوع پذیر ہوجائیگا کہ اس کیلئے محض اس کے حکم وارشاد کی دیر ہوگی اور بس۔ ورنہ وہ ایک ہی جھڑکی کا محتاج ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ (ان ھی الا زجرۃ واحدۃ فاذاھم بالساھرۃ) (النازعات : 13۔ 14) نیز ارشاد فرمایا گیا کہ تم سب لوگوں کا دوبارہ اٹھانا ایک شخص کے اٹھانے کی طرح ہوگا۔ سو ارشاد ہوتا ہے۔ (ماخلقکم ولابعثکم الا کنفس واحدۃ) ۔ (لقمان : 29) سو قیامت کو بپا کرنا لوگوں کے اعتبار سے اگرچہ بہت بڑی چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے اعتبار سے یہ کچھ مشکل نہیں۔ بلکہ وہاں پر اس کیلئے صرف ایک حکم وارشاد کی دیر ہوگی۔ اور بس، سو اس کی شان اور اس کا معاملہ مخلوق سے یکسر مختلف ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 16:78157۔ دلائل انفسی میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور اللہ ہی نے تم سب کو نکالا تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے (اے لوگو ! ) "۔ جو ایک بڑا ثبوت ہے اس کمال قدرت اور بےنہایت رحمت و عنایت کا سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو نوماہ تک تم لوگ اپنی ماؤں کے پیٹوں میں رہے جہاں حیض اور خون تمہاری غذا تھی۔ تو اس قادر مطلق نے اپنی قدرت بےپایاں اور رحمت و عنایت بےنہایت سے تم کو وہاں سے نکالا۔ جبکہ تم لوگ کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور جاننے کے قابل بھی نہیں تھے کہ تم محض گوشت کی بوٹی کی طرح تھے تو اس نے تمہیں وسائل علم و ادراک سے نوازا اور تم کو بتدریج اور آہستہ آہستہ کہاں سے کہاں پہنچایا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پھر اس کی قدرت و عنایت کو بھلا کر اس کا باغی بن جانا کس قدر اور کتنی بڑی بےانصافی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے زیغ وضلال سے ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔
158۔ کانوں اور آنکھوں کی نعمت کے بارے میں غور و فکر کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسی نے تمہیں کان بخشے اور آنکھیں عطاکیں۔ جو کہ عظیم الشان ذرائع و وسائل ہیں علم و ادراک کے حصول کے۔ جن سے اس نے محض اپنے فضل وکرم سے تمہیں نوازا ہے۔ اور اس نے تمہاری طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر تمہیں نوازا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ان عنایات کا تقاضا تھا کہ تم لوگ ان ذرائع و وسائل علم و ادراک سے صحیح طور پر کام لیکر نور علم و معرفت سے سرشار ہوتے اور اپنے خالق ومالک کے حضور دل وجان سے جھک جاتے۔ اور اس طرح تم اس کا حق شرک ادا کرنے کی سعادت سے بھی بہرہ ور ہوتے اور خود اپنے لئے بھی سعادت دارین کی سرفرازی کا سامان کرتے۔ مگر تم لوگوں نے اس کے برعکس اسی وحدہ لاشریک کے ساتھ کفر و شرک جیسے سنگین اور گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا۔ جو کہ دارین کی ہلاکت و تباہی اور ابدی اور ہولناک خسارے کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
159۔ نعمت دل کی عنایت اور اس کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی نے تمہیں دل دیئے تاکہ تم لوگ شکرادا کرسکو " پس اس واہب مطلق کا جس نے تم کو ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا اس کا شکر ادا کرودل وجان سے۔ اس کے ان عظیم احسانات کو پہچان کر۔ اور ان کا احساس کرکے۔ اور اس طرح کہ تم ان نعمتوں کو اس کی اطاعت و بندگی اور رضاء و خوشنودی میں صرف کرو کہ یہ اس کا حق شکر بھی ہے جو تم لوگوں پر واجب ہے۔ اور اسی میں خود تمہارا بھلا ہے کہ اس سے ایک طرف تو تمہاری ان نعمتوں میں برکت آئے گی اور دوسری طرف تم اپنے خالق ومالک کی رضاء و خوشنودی سے سرفراز ہوسکو گے جو کہ اصل مقصود اور سب سے بڑا شرف و انعام ہے۔ وباللہ التوفیق۔ مگر تم لوگوں نے الٹا اس واہب مطلق کی بخشی ہوئی ان انمول اور عظیم الشان نعمتوں کو اس کی معصیت و نافرمانی میں صرف کیا اور کفر و شرک جیسے جرائم کا ارتکاب کیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضاء و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے آمین ثم آمین۔
Ayah 16:79160۔ فضاؤں میں اڑتے پھرتے پرندوں میں سامان عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کون ہو جو فضاء میں اڑتے ان پرندوں کو روک سکے سوائے اللہ کے ؟ " کوئی بھی نہیں۔ بلکہ یہ اسی کی قدرت ہے جو ایسے ثقیل جسموں کو بغیر کسی ظاہری اور مادی سہارے کے فضاء میں اس طرح تھامے رکھتی ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو قدرت کا یہ نشان جو ہر وقت تمہارے سامنے رہتا ہے آخر تم لوگ اس کے بارے میں غور کیوں نہیں کرتے کہ نہ اس پرندوں کے نیچے کوئی سہارا ہے اور نہ ہی ان کو اوپر سے کوئی چیز پکڑنے والی ہے تو ان کی اس طرح اس فضاء میں کون گرنے سے روک سکتا ہے سوائے اللہ کے۔ ان کو یہ اڑنا کس نے سکھایا ؟ پھر فضاؤں میں اڑتے پھرتے ان گوناگوں پرندوں کی روزی کا انتظام کون اور کیسے کرتا ہے۔ ان سب کو اپنی مرضی اور مزاج کے مطابق روزی ملتی ہے۔ تو پھر تم لوگ اس سے یہ سبق کیوں نہیں لیتے کہ روزی رساں سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ تو پھر تم لوگ اپنی روزی روٹی کے پیچھے لگ کر طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہو یہاں تک کہ اپنے خالق ومالک اور اس کے حق عبادت و بندگی تک سے غافل ہوجاتے ہو، آخر کیوں ؟ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔
161۔ دولت ایمان ایک عظیم الشان اور بےمثال دولت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دولت ایمان و یقین دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ایمان والوں کیلئے کہ ایمان و یقین ہی کی دولت سے فکروفہم کو صحیح سمت کی طرف راہنمائی ملتی ہے۔ اور اسی کے نتیجے میں انسان کو راہ حق وصواب اور منزل مقصود و مراد سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے۔ ورنہ وہ ٹوٹی ہوئی پتنگ کی طرح حیرانی و پیشمانی اور ضلالت وغوایت کی وادیوں میں بھٹکتارہتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایمان و یقین کی دولت انسان کو دارین کی سعادت وسرخرائی سے بہرہ وروسرفراز کرنے والی دولت ہے کہ اسی سے انسان کو اپنی منزل مقصود سے آگہی نصیب ہوتی ہے۔ اور وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوتا ہے۔ اور ایمان کی بدولت وہ آخرت کی اپنی حقیقی اور ابدی زندگی کیلئے تیاری کرتا ہے اور ایک بامقصد فکرمند اور صحیح معنوں میں ذمہ دار شخص بن کر زندگی گزارتا ہے اور سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان کرتا ہے۔ فالحمد اللہ الذی شرفنا بنعمۃ الا ایمان۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یاذالجلال والاکرام۔
Ayah 16:80162۔ تمہارے گھروں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور اللہ ہی نے رکھ دیا تمہارے گھروں میں تمہارے لئے سکون (واطمینان) کا سامان۔ جس سے تم لوگ دن رات مستفید ہوتے رہتے ہو۔ مگر تم یہ نہیں سوچتے کہ یہ کس کا کرم ہے اور اس کا ہم کیا حق ہے ؟ سو تمہارے رب نے تم پر کیسا کرم فرمایا کہ تم لوگ جب اپنے کام کاج سے تھکے ماندے واپس لوٹتے ہو تو تمہیں اپنے گھروں میں خاص راحت ملتی ہے اور تم آرام پاتے ہو۔ اور یہ گھر بھی دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو مٹی پتھر اور سیمنٹ سریا وغیرہ کے مستقل گھر ہوتے ہیں۔ جو ایک ہی جگہ برقراررہتے ہیں۔ اور دوسرے خیموں وغیرہ کے وہ گھر جن کو تم جہاں چاہو اپنے ساتھ لے جاسکتے ہو۔ ان سب میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے سکون واطمینان کا عظیم الشان سامان رکھا ہے۔
63۔ چوپایوں سے متعلق ایک نعمت کی تذکیرویاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے تمہارے لیے چوپایوں کے چمڑوں کے گھربنائے۔ جو کہ قدرت کا تم پر ایک اور کرم واحسان ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی نے تمہارے لیے چوپایوں کے چمڑوں سے بھی گھربنادیئے " یعنی قسما قسم کے خیمے وغیرہ جن سے تم لوگ طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو۔ سو اپنے ان ہلکے پھلکے گھروں کو تم لوگ جہاں چاہو اٹھا کرلے جاتے ہو، اور جہاں چاہوخیمہ زن ہوجاتے ہو۔ سو تم لوگ اگر سوچو اور غورفکر سے کام لوتوتم کو اپنے انہی مکانوں کے اندرعظیم الشان درس ہائے عبرت و بصیرت ملیں جنہوں نے تمہیں چاروں طرف سے آغوش مادر کی طرح اپنے گھیر میں لے رکھا ہے کہ یہ سب کچھ پیدا کس نے کیا ؟ اور تم کو اس عقل وفکر اور علم و تجربہ سے کس نے نوازا ؟ سو وہی اللہ وحدہ لاشریک جو کہ معبود برحق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
164۔ تمہارے لیے ہلکے پھلکے مکانوں کا انتظام : یعنی قابل انتقال ایسے خاص مکان جن کو تم ہلکا پاتے ہو اپنے سفروحضر میں اور تمہیں ان کے اٹھانے اور نصب کرنے میں کوئی زیادہ مشقت اٹھانا پڑتی ہے اور نہ کوئی دقت ودشواری۔ سو یہ کتنی بڑی نعمت ہے جس سے اس منعم حقیقی نے تم کو نوازا ہے۔ سو ایک طرف تمہارے وہ مستقل اور ثابت گھر ہیں جو ایک ہی جگہ رہتے ہیں اور دوسری طرف تمہارے یہ عارضی اور قابل انتقال گھر ہیں جن کو تم جہاں چاہولے جاسکتے ہو۔ سو اس طرح اس خدائے مہربان نے تمہارے سکون واطمینان کے کیسے کیسے سامان پیدا فرمائے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو طرح طرح کے ان سامان ہائے زیست میں رہنا بسنا اور سکون وراحت کی دولت سے سرفراز ہوتے رہنے کے باوجود اس خالق ومالک کو بھول جانا کتنی بڑی ناشکری اور کس قدر ظلم وبے انصافی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ظلم اور ناشکری کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے آمین ثم آمین۔
165۔ آثات منزل میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسی نے تمہارے گھروں کیلئے طرح طرح کے سامان اور فائدے کی چیز پیدا فرمائیں جن سے تم لوگ طرح طرح سے متمتع اور مستفید ہوتے ہو۔ لیکن یہ نہیں سوچتے کہ یہ کس کا کرم واحسان ہے ؟ چناچہ تم لوگ بھیڑوں کی اونوں، اونٹوں کی روؤں اور بکریوں کے بالوں وغیرہ سے زینت وزیست کے طرح طرح سامان بناتے اور قسم قسم کی تجارت اور کاروبار کرتے اور دولت کماتے ہو۔ مگر تم نے کبھی یہ بھی سوچا کہ قسما قسم کا یہ خام مال تمہارے لئے پیدا کس نے کیا ؟ اور اس خدائے مہربان کا تم پر حق کیا ہے ؟ اور اس کے اس حق کی ادائیگی کس طرح ہوتی ہے ؟ سبحانہ وتعالی۔
166۔ یہ سب کچھ عارضی وفانی : سو ارشاد فرمایا گیا ــ " یہ سب کچھ ایک مدت مقررہ تک کے لئے ہے اور بس " یعنی موت تک۔ قالہ ابن عباس۔ یا اس وقت تک کہ یہ چیزیں فائدہ پہنچانے اور کام دینے کے قابل ہوتی ہیں (قالہ المجاہد، جواہر، ابن کثیر، محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) الفاظ کا عموم ان دونوں کو شامل اور عام ہے۔ سو اس مدت محدود تک فائدہ اٹھانے کے باوجود اگر تم لوگ واہب مطلق کو بھول جاؤتویہ کتنی بڑی ناانصافی اور کس قدر ظلم ہوگا۔ بہرکیف یہ سب کچھ عارضی اور ایک خاص وقت تک کیلئے ہے اور بس۔ سو بڑی گمراہی اور حماقت میں مبتلا ہیں وہ لوگ جو اسی متاع فانی اور حطام زائل کو اصل مقصد قرار دے کر اسی کیلئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے ہیں۔ اور اس کا نتیجہ وانجام بڑا ہی ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔