16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 16:24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا اتارا تمہارے رب نے ؟ تو یہ (پوری ڈھٹائی سے) کہتے ہیں کہ اجی ! (بس قصے) کہانیاں پہلے لوگوں کی،

41۔ مستکبرین کے استکبار کے ایک نمونہ اور مظہر کا ذکر وبیان : سو اس سے مستکبرین کے استکبار کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کیا اتارا تمہارے رب نے ؟ یعنی اس قرآن پاک کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس کو محمد ﷺ رب کی طرف سے اتارا ہوا بتاتے ہیں ؟ تو اس کے جواب میں یہ لوگ یوں کہتے ہیں یعنی قرآن مجید جو کہ اسلام کا معجزہ بلکہ معجزوں کا معجزہ ہے اور حضرت محمد ﷺ کی صداقت و حقانیت کا زندہ وجاوید ثبوت ہے اس کے بارے میں یہ لوگ اندھے اور بہرے بن کر اس طرح کہتے ہیں۔ قرآن حکیم کی دعوت حق اور اس کے کلام معجز نظام نے جب لوگوں کو ہلا کر اور ان کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا توعوام الناس نے جا جا کر اپنے لیڈروں اور سرغنوں سے اس بارے میں پوچھنا اور دریافت کرنا شروع کردیا کہ اس کے بارے میں آپ لوگوں کی رائے کیا ہے ؟ اور اس کی دعوت کے جواب میں ہمیں کیا کرنا چاہئے اور اس چیز کو ان لوگوں نے اپنی لیڈری کے لئے خطرہ کا الارم سمجھا۔ تو انہوں نے اپنے ان چیلوں اور عوام کالانعام کو اپنے قابو میں رکھنے اور ان کو اطمینان دلانے کے لیے قرآن حکیم کے بارے میں اس طرح کافرانہ ریمارکس دے۔ تاکہ وہ کہیں ایمان لاکر ان کے چنگل سے نہ نکل جائیں، باطل پرستوں کا حال کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے، آمین۔ 42۔ کفار و منکرین کے ریمارکس قرآن حکیم کے بارے میں : کہ یہ محض پہلی قوموں اور ماضی کے لوگوں کے قصے اور ان کی کہانیاں ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور یہ قصے کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی " جن کو یہ صاحب یعنی پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) دوسروں سے لکھ لکھا کر پیش کردیتے ہیں اور بس۔ ورنہ اللہ کی طرف سے اترنے اتارنے کی کوئی بات نہیں جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا (وقالوا اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تملی علیہ بکرہ واصیلا) ۔ (الفرقان : 5) مطلب یہ کہ عاد اور ثمود وغیرہ قدیم قوموں کی قصے کہانی ہیں اور بس اس لیے ان سے متاثر اور مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم لوگ ٹھیک ہیں، وغیرہ وغیرہ سو اس طرح ایسے لوگ اپنی سیاہ بختی اور محرومی میں اضافہ کرتے جاتے ہیں۔ مگر ان کو اپنی اس محرومی کا کوئی احساس وشعور ہی نہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ۔ جل وعلا۔
Ayah 16:25

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

تاکہ اس کے نیچے میں یہ لوگ پورے پورے اٹھائیں اپنے (گناہوں کے) بوجھ قیامت کے دن اور ان لوگوں کے بوجھوں میں سے بھی، جن کو یہ گمراہ کرتے ہیں پانی جہالت (و بدبختی) سے خبردار ! بڑا ہی برا ہے وہ بوجھ جسے یہ لوگ خود ہی اپنے اوپر لادنے کا سامان کر رہے ہیں،3

43۔ مستکبرین و منکرین کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان مفسدین کی سعی نامراد کا نتیجہ وانجام یہ ہوگا کہ قیامت کے روز یہ لوگ پورے پورے بوجھ اٹھائیں گے اپنے کیے کرائے کے۔ خود گمراہ ہونے اور حق کے مقابلے میں باطل کو اپنانے وغیرہ جیسے سنگین گناہوں کے بوجھ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکر جب قرآن مجید جیسے معجزہ کبری کو بھی انہوں نے قصے کہانیاں قرار دے دیا تو پھر ان کے لئے نورحق و ہدایت سے سرفرازی کی کوئی صورت باقی رہ ہی نہیں جاتی۔ اس لئے اس کے نتیجے میں ان کو اپنی گمراہی اور گمراہی پر اصرار کے بھاری بھر کم بوجھ بہرحال اٹھانا ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور جو شرکاء و سفارشی انہوں نے اپنے طور پر ٹھہرا رکھے ہیں وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے کہ ان کی کوئی حقیقت ہے ہی نہیں۔ وہ محض دھوکہ اور سراب ہے۔ جس کا پتہ ان کو اس روز چلے گا جس روز سب حقائق اپنی اصل میں کھل کر سامنے آجائینگے، تب ان کو پتہ چلے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 44۔ منکرین کے لئے دوہولناک بوجھوں کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے لئے ضلال اور اضلال کے دوہرے بوجھ ہوں گے جن کو وہ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے، سو وہ بڑے ہی برے بوجھ ہونگے۔ والعیاذ باللہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے روز یہ لوگ اپنے (گناہوں کے) بوجھ بھی پورے پورے اٹھائے ہوں اور ان لوگوں کے بوجھوں میں سے بھی جن کو یہ گمراہ کرتے رہے تھے بغیر علم کے کرتے ہیں تاکہ ان کو اپنے بوجھوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کے بوجھ بھی اٹھانے پڑیں، ان کو گمراہ کرنے کے باعث یعنی ضلال اور اضلال کے دونوں سنگین اور ناقابل معافی جرموں کے دوہرے بوجھ ان لوگوں کو اس روز اٹھانے ہونگے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو قرآن حکیم پر ایمان لانے کی بجائے اس کو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں قرار دے کر یہ لوگ قرآن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے لیکن اس طرح یہ اپنی سیاہ بختی کے داغ کو اور پکا کرتے ہیں اور اپنے لئے دوہرے بوجھ کا سامان کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ یہاں پر (من اوزار) کے " من تبعیضیۃ " سے اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا کہ گمراہ لیڈر اور پیشوا اپنے ماتحتوں اور چیلوں کے سب بوجھ نہیں اٹھائیں گے جس سے وہ بالکل بری اور بےقصور ہو کر رہ جائیں۔ بلکہ یہ لوگ ان کے بوجھوں کا کچھ ہی حصہ اٹھائیں گے۔ باقی بوجھ خود انہی کے ذمے رہیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 45۔ مستکبرین و متکبرین کے لئے بڑے ہی برے بوجھ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور الا کے حرف تنببیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بڑے برے ہوں گے وہ بوجھ جن کے اٹھانے کا یہ لوگ سامان کررہے ہیں۔ یعنی کفر انکار اور گناہوں کے وہ بوجھ جو کہ ظاہری اور حسی بوجھوں سے کہیں بڑھ کر بھاری اور خطرناک ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکر گناہوں کے وہ اور خاص کر ضلال اور اضلال کے گناہوں کے بوجھ دوزخ میں لے جانے والے بوجھ ہیں۔ جب کہ دنیا کے دوسرے حسی اور ظاہری بوجھوں میں سے کوئی بھی بوجھ ایسا نہیں جو انسان کو دوزخ میں لے جانے والا ہو۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ضلال اور اضلال کے یہ بوجھ کس قدر ہولناک اور تباہ کن بوجھ ہیں ،۔ جن کے اٹھانے کا یہ لوگ اپنی غفلت اور لاپرواہی کی بناء پر سامان کررہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو غفلت کے مارے ان لوگوں کو اپنے کفر وانکار ضلال واضلال اور معاصی ووذنوب کے یہ ہولناک بوجھ آج نظر نہیں آرہے اس لئے یہ اپنے انجام سے نچنت اور بےفکر ہیں، لیکن کل جب حقائق آشکاراہوں گے تو پتہ چلے گا، اور وہ بھی اس طور پر نہ وہ بوجھ ان کی پیٹھوں سے کسی طرح اتر سکیں گے اور نہ ہی کوئی اس ضمن میں ان کی کوئی مدد کرسکے گا سو یہی ہے سب سے بڑا خسارہ جو کہ خساروں کا خسارہ ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:26

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

(اور ان کے مکرو فریب سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کہ) بلاشبہ ان سے پہلے کے (بہت سے) لوگوں نے بھی (حق کو نیچا دکھانے کے لئے طرح طرح کی) مکاریاں کیں، مگر اللہ نے جڑ سے اکھاڑے پھینکا ان (کے مکرو فریب) کی عمارت کو، پھر خود ان ہی پر آگری (ان کی اس عمارت کی) چھت ان کے اوپر سے، اور آپہنچا ان پر (اللہ کا) عذاب جہاں سے ان کو (وہم و) گمان بھی نہ تھا،

46۔ اہل کفر وباطل کی مکاریوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی طرح طرح کی مکاریوں سے کام لیا یعنی حق اور اہل حق کے خلاف، سو اہل باطل نے اہل حق کیخلاف ہمیشہ ہر طرح کی مکاریاں کیں ان کا راستہ روکنے کی غرض سے اور ان کی یہ مکاریاں بھی ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ہل جائیں اور اپنی جگہوں سے سرک جائیں جیسا کہ دوسرے مقام ارشاد فرمایا گیا وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال (ابراہیم : 46) سودشمنان حق کی، حق اور اہل کیخلاف ایسی مکاریاں ہمیشہ سے ہی رہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ حق کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ سو اس میں اہل حق کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ وہ دور حاضر کے اہل باطل کی فتنہ سامانیوں کی پرواہ کیے بغیر راہ حق پر گامزن رہیں، بھروسہ ہمیشہ اللہ ہی پر رکھیں اور اس کے ساتھ اپنا ربط وتعلق درس رکھیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح آج قریش کے لیڈر اپنے مذموم اغراض و مقاصد کے لئے پیغمبر اسلام اور ان کی دعوت حق کے خلاف طرح طرح کی چالیں چل رہے ہیں اسی طرح ماضی کی کافر قوموں نے بھی اپنے مذموم اغراض و مقاصد کے لئے اپنے دور کے انبیاء ورسل کے خلاف اسی طرح کی چالیں چلیں جس کے نتیجے میں آخر کار وہ قومیں اپنے انجام کو پہنچ کررہی ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 47۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت وحکمت سب پر حاوی اور محیط : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ان (کے مکروفریب) کی عمارت کو سو ان کی مکاریاں اگرچہ بڑی ہولناک تھیں مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت وحکمت سب پر حاوی اور محیط ہے اس کے سامنے ان کی ان مکاریوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی، اس نے اپنے قانون امہال کے مطابق جتنی ان کو مہلت دینا تھی وہ دی مگر آخر کار اس نے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ان (کے مکروفریب) کی عمارت کو۔ سو اس طرح وہ حق اور اہل حق کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے، مگر خود حق سے دور اور محروم سے محروم تر ہوگئے، اور شقاوت و بدبختی کی چھاپ ان پر اور پکی اور گہری ہوتی چلی گئی۔ جو کہ سب سے بڑا اور حقیقی و دائمی خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ۔ پس دارومدار ان لوگوں کی چالبازیوں پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ پس اپنا تعلق اور معاملہ ہمیشہ اس قادر مطلق سے صحیح رکھا جائے کہ ہوگا وہی جو اس کو منظور ہوگا وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اللہ کے رسولوں کے خلاف مکروفریب کے جو جال بنے تھے ان میں وہ خود ہی الجھ کر اور پھنس کر فی النار والسقر ہوگئے۔ اور مکروفریب کی جو عمارتیں انہوں نے حق اور اہل حق کے خلاف کھڑی کی تھی وہ خود انہی پر آگریں۔ اور ان کی سب سازشیں، مکاریاں اور چالیں اکارت گئیں اور وہ حق کا بول بالا ہی رہے والحمد اللہ جل وعلا بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ 48۔ مکاروں کی مکاریاں خود انہی پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار انہی پر آگری ان کے مکروفریب کی چھت ان کے اوپر سے، جس کے نیچے یہ خود آکر اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کررہے۔ اور اس طرح دوسروں کے لئے کھودے جانے والے گڑھے میں وہ خود ہی گر کر اپنے کیفر کردار کو پہنچ گئے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس طرح وہ لوگ حق اور اہل حق کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے، البتہ خود ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں گر کر اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کررہے اور نور حق کو مٹانے کی بجائے خود ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹ گئے۔ اور مکروفریب کی جو عمارت انہوں نے حق اور اہل حق کیخلاف بنائی تھی اور جس کو وہ لوگ اپنے طور پر بڑی مضبوط اور نہایت سخت سمجھ رہے تھے۔ وہ اپنی چھت سمیت اوپر سے خود انہی پر آکر رہی۔ اور یہ لوگ " من حفربئرا لاخیہ وقع فیہ " کا مصداق بن کر ہمیشہ کے لئے قصہ پارینہ بن گئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو بری سازشوں کا نتیجہ خود سازشی عناصر کی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (ولا یحیق المکرالسیء الا باہلہ) یعنی بری سازش نہیں گھیرتی مگر اس کے بننے والے کو ہی۔ والعیاذ باللہ جل علا۔ 49۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی بےپناہی کا ذکر وبیان۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپہنچا ان پر اللہ کا عذاب وہاں سے جہاں ان کو گمان بھی نہ تھا یعنی وہ عذاب جس کے یہ لوگ اپنے کئے کے باعث مستحق ہوچکے تھے۔ والعیاذ باللہ۔ سو حق اور اہل حق سے عداوت اور دشمنی کا نتیجہ وانجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ اور اس ضمن میں ملنے والی ڈھیل سے کبھی دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کہ وہ ڈھیل بہرحال ایک ڈھیل ہوتی ہے۔ جس نے بہرحال ختم ہو کر رہنا ہوتا ہے۔ سو بڑے ہی خسارے میں ہوتے ہیں وہ لوگ جو اس مہلت اور ڈھیل پر مست ومگن ہو کر اللہ کے عذاب سے نچنت اور بےفکر ہوجاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخاسرون) ۔ (الاعراف : 99) یعنی اللہ کے عذاب سے نڈر اور بےخوف نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال لیا ہوتا ہے۔ سو یہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 50۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب بےسان و گمان۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو عذاب وہاں سے آیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا چناچہ قوم وثمود کے لوگ ہوا اور زلزلے وغیرہ سے نیست ونابود ہوگئے۔ نمرود کا مچھر جیسی حقیر مخلوق کے ذریعے کام تمام کردیا گیا (فصدق اللہ القآئل (وما یعلم جنود ربک الا ہو) الایۃ۔ (المدثر : 31) یعنی تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا نہ کوئی جانتا ہے اور نہ جان سکتا ہے۔ اور دورحاضر میں بھی اس کے طرح طرح کے مظاہر جگہ جگہ رونما ہوتے رہتے ہیں کہیں تباہ کن زلزلوں کی شکل میں۔ کہیں ہولناک آتش فشاں کی صورت میں اور کہیں کہ ایٹمی تابکاری کے نتیجے میں وغیرہ۔ مگر غفلت کی ماری دنیا ہے کہ وہ کل کی طرح آج بھی اس سے کوئی سبق نہیں لیتی اور ایسے لوگ اس طرح کے واقعات کو کسی طبعی عمل کا نتیجہ قرار دے کر بات آئی گئی کردیتے ہیں۔ اور وہ اس سے درس عبرت لینے کی بجائے الٹا غفلت کی اور گہری نیند میں محو ہوجاتے ہیں جن کے نتیجے میں آکر وہ ہولناک انجام کو پہنچ کررہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:27

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

(یہ حشر تو ان کے ساتھ دنیا میں ہوا) پھر قیامت کے روز اللہ انھیں (بطور خاص) رسوا کرے گا اور ان سے کہے گا (کہ بتاؤ اب) کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم لوگ (اہل حق) سے جھگڑے کیا کرتے تھے،4 تب کہیں گے وہ لوگ جن کو علم دیا گیا کہ واقعی آج کے دن سخت رسوائی اور بڑی بدبختی ہے ان کافروں کے لئے،

51۔ منکروں کے لئے اصل عذاب آخرت میں۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آخرت میں ان کے لئے ذلت و رسوائی کا عذاب ہوگا یعنی اس دنیاوی عذاب پر ہی بس نہیں بلکہ اصل عذاب تو آخرت کا ہے جو کہ بہت ہی بڑا نہایت ہی سنگین ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا (ولعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون) (القلم : 32) یعنی آخرت کا عذاب یقینی طور پر بہت بڑا ہوگا۔ نیز فرمایا گیا (ولعذاب الاخرۃ اشق وما لہم من اللہ من واق) (الرعد : 34) یعنی آخرت کا عذاب یقینا بڑا ہی سخت ہوگا اور ان کے لئے اللہ کی پکڑ سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ سو نورحق و ہدایت سے محرومی اور راہ حق و صداقت سے روکنے اور منع کرنے کا جرم ایسا ہولناک اور اس قدر سنگین جرم جو انسان کو دارین کی سعادتوں سے محروم کرکے دائمی ہلاکت اور تباہی کے ہولناک گڑھے میں ڈال دیتا ہے۔ مگر آخرت کا وہ عذاب چونکہ عالم غیب میں ہے اس لئے دنیا اس سے غافل و لاپرواہ ہے۔ کل قیامت میں جب کشف حقائق کا وہ جہاں سامنے آئے گا تب ان کی یاس وحسرت کا کوئی کنارہ نہیں ہوگا مگر بےوقت کے اس افسوس سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ سوائے ان کی آتش یاس وحسرت میں اضافے کے تو پتہ چلے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 52۔ قیامت کے روز مشرکین کی رسوائی کا ایک منظر : مفسدین و منکرین تمام ترفساد اور خرابی کا اصل باعث چونکہ ان کا کبرو و غرور اور استکبار تھا۔ اور جزاء چونکہ جنس عمل سے ہوتی ہے۔ اس لیے ان کو قیامت کے روز رسوا کیا جائے گا۔ اور ان کی رسوائی کا ایک منظر یہ ہوگا کہ اس روز ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں تمہارے وہ خود ساختہ شریک جن کو تم لوگوں نے ازخود گھڑ رکھا تھا ؟ اور تم بڑے گھمنڈ اور زور کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ یہ بڑی قوت اور بہت پاور والے ہیں۔ سب کچھ کرسکتے ہیں۔ ہمیں جو کچھ ملا ہے انہی سے ملا ہے۔ " ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے "۔ (ھولاء شفعاؤنا عنداللہ) ۔ یعنی " یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہمارے سفارشی ہوں گے۔ اور ہمارے حاجت رواومشکل کشا ہیں۔ یہ ہمارا ہر کام بناتے اور ہمیں ہر جگہ کام آتے ہیں۔ اور کل آخرت میں بھی یہی ہمارا کام بنائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب کہاں گئے تمہارے وہ شرکاء اور اب وہ تمہارے کام کیوں نہیں آتے ؟ سو یہ ان سے ان کی تذلیل و تحقیر کے لئے کہا جائے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور مشرکین کی اس رسوائی کی کچھ مزید تفصیل آگے آیت نمبر 86 میں بھی آرہی ہے۔ سو یہاں پر اس بارے میں توجہ کی ضرورت ہے کہ قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر بڑا اور کتنا عظیم الشان احسان ہے کہ اس نے عالم آخرت اور غیب کے ان عظیم الشان حقائق کو اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا جن کے جاننے کا دوسرا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں۔ تاکہ جس نے اس سے بچنا ہو وہ بچ جائے قبل اس سے کہ فرصت حیات اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کو ہمیشہ کے لیے پچھتانا پڑے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ 53۔ اہل علم کی عظمت شان اور قیامت کے روز ان کی مسرت کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ علم والے کہیں گے کہ بڑی رسوائی ہے آج کے دن کافروں کے لئے اور وہ ایسا خوشی اور شماتت کے طور پر بھی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل وکرم سے اس ہولناک عذاب سے بچالیا جس سے آج یہ لوگ دوچار ہورہے ہیں۔ اور ایسا یہ حضرات ان بدبختوں کی مزید از مزید تحقیروتذلیل کی غرض سے کہیں گے۔ سو اس سے دولت علم کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اللہم اجعلنا منہم۔ سو علم کی روشنی ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو مہلکات سے بچاتی ہے اور اس کو راہ حق و ہدایت سے سرفراز کرتی ہے۔ اور علم سے مراد وحی اور دین کا علم ہے کہ شان صرف اسی علم کی ہے۔ بہرکیف اوپر ان مفسدین کا ذکر تھا جو لوگوں کو بغیر کسی علم کے گمراہ کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں یہاں پر ان خوش نصیبوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جن کو حق و ہدایت کے علم کی روشنی سے نوازا گیا۔ جس کے مطابق انہوں نے خود بھی اپنے قلب وباطن کو منور کیا اور دوسروں کو بھی حق و ہدایت کی راہنمائی کی۔ سو ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے روز جب ایسے لوگ شرک کے علمبرداروں کی رسوائی کا یہ منظر دیکھیں گے تو خوشی سے پکار اٹھیں گے کہ یقینا اب ذلت و رسوائی ان مشرکوں کے لئے ہے جنہوں نے شرک ہی کی حالت میں جان دی۔ اس لئے اب وہ ذلت و رسوائی کے اس عذاب سے کبھی ہی نہ نکل سکیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے اور اپنی رضاء و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 16:28

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

جن کی فرشتے جان قبض کرتے ہیں، ایسی حالت میں کہ وہ (کفرو باطل پر اڑ کر برابر) ظلم کر رہے ہوتے ہیں خود اپنی جانوں کے حق میں، یہ (فوراً ) صلح کا پیغام ڈالیں گے، کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے، (اس پر فرشتے کہیں گے کہ ہاں) کیوں نہیں، بلاشبہ اللہ پوری طرح جانتا ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ (زندگی بھر) کرتے رہے تھے،1

54۔ ظالموں کی جان کنی کے وقت کا ہولناک منظر : سو اس وقت ایسے ظالم لوگ جان قبض کرنے والے فرشتوں سے صلح کی درخواست کریں گے اور سراپا تسلیم بن جائیں گے۔ اور ان کی وہ سب اکڑفوں فرشتوں کو دیکھتے ہی ہرن ہوجائے گی جس کی بناء پر یہ لوگ دنیا میں حق کا انکار کرتے اور اس کی راہیں روکا کرتے تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جن لوگوں نے اپنی فطرت کو تبدیل کرکے اور دین سے اعراض و روگردانی کی روش کو اپنا کر اور اس سے منہ موڑ کر خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اس روز وہ اپنی موت اور جان کنی کے وقت فرشتوں کو دیکھتے ہی صلح کا پیغام دیں گے اور حق کی مخالفت اور دشمنی کو ترک کرکے اپنی فرمانبرداری کا اعلان کریں گے۔ مگر کہاں ؟ اور کیونکر ؟ (محاسن التاویل و معارف وغیرہ) سو ایسے لوگوں کا سارا غرور وتکبر اور گھمنڈ و طنطنہ اسی وقت تک ہے جب تک کہ ان کو موت کے فرشتوں سے واسطہ نہیں پڑتا۔ جونہی ان سے واسطہ پڑے گا ان کا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا، تب سب کچھ کھل کر ان کے سامنے آجائیگا اور یہ رہ رہ کر افسوس کرینگے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 55۔ اہل کفر وباطل کا اپنے جرم سے انکار : سو جان کنی کے اس موقع پر اہل کفر وباطل اپنے کفر وباطل کا انکار کردیں گے۔ سو یہ ان کے اسی پیغام صلح ڈالنے کا ایک مظہر ہوگا جو یہ جان کنی کے اس موقع پر سراپا عجز ونیاز بن کر ڈالیں گے اور اس انتہائی ناکام ونامرادی ایک نمونہ، جس سے یہ وہاں پر دوچار ہوں گے جس کی بناء پر یہ لوگ اپنی زندگی بھر کی اس کارگزاری کا یکسر اور حلفیہ انکار کردیں گے۔ جس پر دنیا میں وہ فخر جتایا کرتے تھے، جیسا کہ دوسری جگہ ان کا یہ قول نقل فرمایا گیا ہے۔ (واللہ ربنا ماکنا بہ مشرکین) (الانعام : 23) " اللہ کی قسم جو کہ ہمارا رب ہے ہم مشرک تھے ہی نہیں " سو اس سے کفار کی ناکامی ونامرادی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اگرچہ دنیاوی زندگی میں وہ دنیا بھر کے خزانوں ہی کے مالک کیوں نہ رہے ہوں۔ اور انہوں نے برسہابرس تک دنیا میں حکومت بھی کیوں نہ کی ہو۔ پس کتنے نادان ہیں وہ مسلمان جو ان کافروں کے دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ کو للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے ہیں جن کا مآل وانجام یہ ہونے والا ہے۔ سو نور حق و ہدایت سے محرومی سب سے بڑی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان کی جانکنی کے موقعہ پر جب فرشتے سامنے آئیں گے اور وہ ان کی جان نکالنے کے لیے ان کے مونہوں اور ان کی پیٹھوں پر اپنے بھاری بھرکم گرزوں سے ضربیں لگا رہے ہوں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ تو اس وقت ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور انکو سب کچھ پوری طرح نظر آجائے گا۔ تو اس وقت یہ لوگ اپنے جرم و قصور کا انکار کرتے ہوئے نہایت عاجزی اور لجاجت کے ساتھ معافی اور بخشش کی دعائیں کریں گے اور اپنے جرم و قصور کی قسمیں کھا کھا کر انکار کریں گے تاکہ ان پر رحم کیا جائے۔ مگر کہاں اور کیونکر ؟ اس کا وقت تو بہرحال گزر چکا ہوگا۔ (وانی لہم التناوش من مکان م بعید) یعنی کیسے ممکن ہوگا ان کے لئے ایمان کا پانا اتنی دور جگہ سے ؟ 56۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت ان سے کہا جائیگا کہ ہاں، کیوں نہیں بلاشبہ اللہ پوری طرح جانتا ہے ان تمام کاموں کو جو تم لوگ کرتے رہے تھے، سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے سب اعمال کو پوری طرح جانتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ایسے منکرین کو فرشتوں کی طرف سے اس وقت یہ جواب دیا جائے گا، یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے اس کفر وانکار کو پوری طرح جانتا ہے جس سے تم زندگی بھر کام لیتے رہے۔ اور اس سے تمہاری کوئی حرکت مخفی نہیں۔ پس اب تمہارے اس انکار کا کوئی فائدہ نہیں کہ تمہارے کئے کرائے کا سب ریکارڈ حاضر و موجود ہے۔ (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ بہرکیف ان کے انکار پر فرشتوں کی طرف سے ان کو یہ جواب ملے گا کہ کیوں نہیں۔ یعنی تم برائی کیسے نہیں کررہے تھے ؟ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام کرتوتوں سے پوری طرف واقف وآگاہ ہے۔
Ayah 16:29

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

سو اب داخل ہوجاؤ تم سب دوزخ (میں اس کے) دروازوں سے، اس حال میں کہ تمہارا اس میں ہمیشہ کا رہنا مقدر ہوچکا ہے، سو بڑا ہی برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والے کا

57۔ منکروں کے لئے دوزخ میں داخلے کا حکم۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو حکم ہوگا کہ اب تم داخل ہوجائے دوزخ میں ہمیشہ کے لئے جس سے نہ کبھی نکل سکوگے اور نہ ہی وہاں کا عذاب ایسا ہوگا کہ کبھی ختم ہوسکے یا کسی قدر ہلکا ہوسکے۔ اور جب تم لوگ کفر وباطل پر ہی زندگی پھر اڑے رہے اور تم کفر ہی کی حالت میں جان دی تو اب تمہارے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسے بدبختوں کو اس طرح کی کسی اپیل و درخواست کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور ان کو اسی وقت صاف طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ اب داخل ہوجائے تم جہنم کے دروازوں میں، اسی میں رہنا ہے تم کو ہمیشہ کے لئے سو یہ وہ خسارہ ہے جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ممکن ہی نہیں، اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔ 58۔ متکبروں کا ٹھکانہ بڑا ہی برا۔ والعیاذ باللہ : سو بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا کہ اسی تکبر کے باعث وہ حق سے محروم ہوئے۔ اور اسی کے نتیجے میں وہ اس انجام سے دوچار ہوئے۔ اور ایسے کہ اس سے نکلنے اور چھٹکارا پانی کی اب کوئی صورت بھی ان کے لئے ممکن نہ ہوگی۔ سو تکبر یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ محرومیوں کی محرومی اور فساد کی جڑ بنیاد ہے کہ اس کے نتیجے میں انسان حق بات کو سننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اور آخر کار ہلاکت اور تباہی کے دائمی اور انتہائی ہولناک گڑھے میں اور عذاب دوزخ میں گر کر رہتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اسی لئے مشہور اور صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس شخص کے دل میں ذرا برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ " لایدخل الجنۃ من کان فی قبلہ مثقال ذرۃ من کا الکبر " اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے اور اپنی رضا کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 16:30

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور (اس کے برعکس) جب پرہیزگار لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا اتارا ہے تمہارے رب نے ؟ تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ایک بہت ہی بڑی بھلائی، 2 جنہوں نے اچھائی کی اس دنیا میں ان کے لئے بڑی عظیم الشان بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو یقیناً (ایسے لوگوں کے لئے) اس سے کہیں بڑھ کر اچھا ہوگا، اور یقیناً بڑا ہی عمدہ گھر ہوگا پرہیزگاروں کا،

59۔ قرآن حکیم سراسر خیروخوبی : سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے برعکس متقین کے نزدیک قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثال خیر اور بھلائی ہے یعنی (خیرا) کی تنوین تعظیم کی ہے۔ اور فی الواقع یہ بھلائی اتنی بڑی ہے کہ اس کی بھلائی اور خیروبرکت دنیا وآخرت کی سب خیروبرکت کو حاوی و محیط ہے۔ ایسی خیر اور بھلائی جو انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح کی کفیل وضامن ہے۔ بہرکیف ارشاد فرما گیا کہ یہی سوال جب متقی اور پرہیزگار لوگوں سے کیا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا اتارا ؟ تو یہ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ایک بہت ہی بڑی خیر اور عظیم الشان بھلائی کہ یہ سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ والحمد للہ جل وعلا بکل حال من الاحوال۔ 60۔ نیکوکاروں کے لئے دنیا وآخرت کی سعادت کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے اچھائی کی ان کے لئے اس دنیا میں بھی بڑی بھلائی ہے کہ وہ دنیا میں بھی حقیقی عزت، سچی ناموری، پاکیزہ زندگی اور سکون واطمینان کی دولت سے سرفراز ہوں گے۔ اللہم اجعلنا منہم ) ۔ یعنی جن لوگوں نے صدق و اخلاص سے دین حق کو اپنایا اور وہ سچے دل سے اس کی تعلیمات مقدسہ پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور صدق دل سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (المراغی، المحاسن، المعارف وغیرہ) سو ایسے خوش نصیبوں کو آخرت کی اصل حقیقی اور دائمی کامیابی سے پہلے اس دنیا میں بھی عظیم الشان سعادتوں سے نوازا جاتا ہے جس کی ایک عظیم الشان اور جامع تعبیر ہے " حیات طیبہ " یعنی پاکیزہ زندگی جو سب عمدہ اور پاکیزہ صفات کی جامع اور ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ جس عظمت اور لذت کو دولت ایمان سے محروم لوگوں کے لئے سمجھنا بھی ممکن نہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ نیکوکاروں کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی بشارت ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ (من عمل صالحا من ذکراوانثی وھو مومن فلنحییہ حیوۃ طیبۃ ولنجزینہم اجرھم باحسن ماکانوا یعملون) ۔ (النحل : 97) نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (تاتہم اللہ ثواب الدنیا وحسن ثواب الاخرۃ ) ۔ (آل عمران : 128) وباللہ التوفیق لما یحب ویرید جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔ 61۔ اصل صلہ وبدلہ تو آخرت ہی کا ہے : سو فرمایا گیا اور آخرت کا گھر تو یقینا اس سے کہیں بڑھ کر اچھا ہوگا۔ اور اتنا بڑھ کر کہ یہاں پر اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کہ آخرت اور اس کی ہر چیز دنیا اور اس کی ہر چیز سے کہیں اعلی وارفع ہوگی۔ اس لئے مومن کا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین تو آخرت کا اجروثواب ہی ہوتا ہے۔ اور وہی ہونا چاہیے۔ لیکن متقین کے ایمان وتقوی کی برکت سے ان کو آخرت سے پہلے اس دنیا کی نوازشیں بھی نصیب ہوتی ہیں۔ سو تقوی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، کہ اس کے نتیجے میں انسان کو دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ اور آخرت دنیا سے کہیں بڑھ کر بہتر بھی ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی بھی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ولآخرۃ خیروابقی۔ سو اس سے یہ اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ جن لوگوں نے دنیاوی زندگی اور اس کے حطام زائل ہی کو اپنا اصلی مقصد بنایا ہوا ہے وہ کس قدر خسارے میں ہیں۔۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ہی گامزن رہنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ یارب العالمین، ویا ارحم الراحمین۔ 62۔ پرہیزگاروں کے لئے بڑا ہی عمدہ گھر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یقینا پرہیزگاروں کا گھر بڑا عمدہ ہوگا یعنی ان پر پرہیزگاروں کے لئے جنہوں نے زندگی بھر کفر و شرک اور معصیت و نافرمانی اور ہر چیز سے پرہیز کیا ہوگا جو رب تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے غضب کا باعث بنتی ہو۔ سو تقوی و پرہیز گاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ اور پرہیزگاروں کے بارے میں فرمایا گیا کہ ان کا گھر بہت ہی عمدہ ہوگا۔ سو جس طرح متکبروں کے ٹھکانے کی برائی کی کوئی حد اور انتہاء نہیں ہوگی اسی طرح متقیون کے اس گھر کی خوبی و کمال کی بھی کوئی حدوانتہا نہیں ہوگی۔ سو اصل دولت جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرور سرفراز کرنے والی دولت ہے وہ ایمان وتقوی اور پرہیزگاری کی دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت سے سرفراز کرنے والی واحد دولت ہے۔ جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی واحد دولت ہے۔ اللہ نصیب فرمائے اور علی وجہ الکمال والتمام نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ یامن بیدہ ملکوت کل شیء ویامن ھو اکرم الاکرمین وارحم الراحمین۔
Ayah 16:31

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

یعنی ہمیشہ رہنے کے لئے ایسی عظیم الشان جنتیں جن میں وہ (باعزت طور پر) داخل ہوں گے، بہہ رہی ہوں گی ان کے نیچے سے طرح طرح کی نہریں، (اور) ان کے لئے وہاں پر ہر وہ چیز موجود ہوگی جو یہ چاہیں گے، اسی طرح اللہ بدلہ دیتا ہے ان پرہیزگاروں کو

63۔ اہل جنت کے لیے ہر خواہش کی تعمیل کی بشارت و خوشخبری : سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ اہل جنت کی ہر خواہش پوری ہوگی چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو وہاں پر ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے، سو یہ جنت کی ایک امتیازی شان اور عظیم نعمت ہوگی۔ کہ اہل جنت کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ اور اس طرح کہ بغیر کسی محنت ومشقت، تگ ودو اور انقطاع و محرومی کے۔ سو یہ جنت کی وہ عظیم الشان اور منفرد نعمت ہے جو یہاں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتی۔ پس متقی لوگوں نے اس دنیا میں جو رب چاہی زندگی گزاری ہوگی اس کا صلہ وبدلہ ان کو وہاں پر یہی ملے گا کہ وہاں پر یہ خوش نصیب من چاہی زندگی گزاریں گے۔ اور جب یہ صلہ اس اکرم الاکرمین کی طرف سے ہوگا جس کی ہر شان نرالی اور ہر عطا بےمثل ہے تو یہ صلہ بھی ایسا ہی بےمثل ہونا چاہئے فا الحمد للہ رب العالمین۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے اور زندگی کے ہر موڑ پر اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 16:32

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

جن کی فرشتے جان قبض کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ پاکیزہ ہوتے ہیں (اپنے عقیدہ و عمل کے اعتبار سے) ، فرشتے ان سے کہیں گے کہ سلامتی ہو تم پر، داخل ہوجاؤ تم اس جنت میں، اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو تم (زندگی بھر) کرتے رہے تھے،3

64۔ حسن انجام اور خاتمہ بالخیر کی اہمیت : سو اس سے معلوم ہوا کہ اصل اعتبار خاتمے کا ہے۔ خاتمہ اگر بالخیر نصیب ہوگیا تو سب کام بن گیا نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ والعیاذ باللہ فایاک نسال اللہم حسن الختام بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین۔ سو ایسے خوش نصیب حضرات جن کے باطن ایمان و یقین کے نور سے منور ہوں گے اور جو پاکیزہ ہوں گے۔ اپنے عقائد اور اخلاق کے اعتبار سے بھی۔ اور اپنے اقوال و افعال کے لحاظ سے بھی اسی پر انہوں نے زندگی گزاری ہوگی اور اسی پر ان کو موت آئی ہوگی اور وہ حسن انجام اور خاتمہ بالخیر کے شرف سے مشرف ہوئے ہوں گے ان کو فرشتے سلام کریں گے اور جنت میں داخلے کی بشارت سے سرفراز کریں گے۔ (المراغی وغیرہ) سو اس سے خاتمہ بالخیر کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے، اور یہ کہ ایسے لوگ کتنے خوش نصیب ہوں گے، اللہ ہمیں انہیں میں سے کرے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 65۔ متقیوں کے لیے جنت میں داخلے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان خوش نصیبوں سے کہا جائیگا کہ داخل ہوجاؤ تم جنت میں اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے رہے تھے اپنی دنیاوی زندگی میں۔ اور یہ بھی اس اکرم الاکرمین کے کرم بےپایاں کا ایک نمونہ ومظہر ہے کہ وہ جنت کی ان عظیم الشان اور لامحدود نعمتوں کو اہل جنت کے اعمال کا بدلہ قرار دے رہا ہے جو کہ بہرحال ناقص بھی ہیں اور محدود بھی، اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی بھی اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا یہاں تک کہ خود میں بھی نہیں جاسکوں گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت مجھے اپنی آغوش میں نہ لے لے۔ پھر کسی اور کے اپنے اعمال کے بدلے میں جنت حاصل کرلینے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اللہ پاک کا اپنے بندوں پر یہ فضل وکرم چونکہ ان کے اعمال صالحہ کی بناء پر ہی ہوگا اس لیے ان کے یہ اعمال دخول جنت کا سبب اور باعث تو قرار دیے جاسکتے ہیں لیکن جنت اور اس کی لازوال نعمتوں کو ان کا عوض اور بدلہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔ مگر یہ اس اکرم الاکرمین کا کرم اور احسان ہے کہ وہ اس کے باوجود جنت اور اس کی نعمتوں کو اہل جنت کے اعمال کا بدلہ قرار دے رہا ہے فللہ الحمد رب العالمین بہرکیف ان خوش نصیبوں کو فرشتے جنت کی خوشخبری سے نوازیں گے کہ اب تک تو بزرخ میں جنت کی نعمتوں سے متمتع و مستفید ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ اب قیام قیامت پر تم جنت میں داخل ہوجاؤ اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے یہ خوشخبری ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی اس وقت تمہارا جنت میں داخل ہونا مقدر ہوچکا ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ)
Ayah 16:33

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ (جو حق واضح ہونے کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے) اسی انتظار میں ہیں کہ آپہنچیں ان کے پاس فرشتے (موت کے) یا آجائے تمہارے رب کا ؟ (عذاب مقدر، یا قیامت کی صورت میں) اسی طرح (کی ضد بازی اور ہٹ دھرمی کا معاملہ) وہ لوگ کرچکے ہیں جو گزر چکے ہیں، ان سے پہلے، اور (انہوں نے اپنے کئے کا مزہ بھی پالیا، تو کہیں) اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے تھے،1

66۔ آخر کا ہے کی انتظار میں ہیں یہ لوگ ؟ : جو حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود اس پر ایمان نہیں لاتے ؟ کیا یہ لوگ اب اسی کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس آجائیں فرشتے یا پہنچ جائے اللہ کا حکم ؟ یعنی بالکل آخری وقت آجائے۔ کیونکہ اب اس کے سوا کوئی اور کسر باقی نہیں رہی۔ اور اس وقت تو یہ لوگ آپ سے آپ مانیں گے اور چیخ چیخ کر، چلا چلا کر اور خوب خوب مانیں گے۔ اور ایمان لے آئیں گے۔ مگر اس کا فائدہ کیا ؟ کہ اس وقت وہ ایمان قابل قبول نہیں ہوگا۔ بہرکیف اب ان کے سامنے حق کے واضح ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی ؟ اس کے باوجود اگر یہ نہیں مانتے تو اس کے معنی یہی ہیں کہ اب یہ اسی بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے آکر ان کی جان قبض کرلیں۔ یا وہ عذاب آجائے جو ان کی جڑ نکال دے۔ یا قیامت کی وہ آخری اور ہولناک گھڑی ہی آدھمکے جس کے بعد سنبھلنے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔ سو اس ارشاد میں ان لوگوں کو ایمان لانے کے لیے ترغیب وتحریض ہے تاکہ ایسے لوگ اپنے ہولناک انجام سے بچ جائیں۔ (المراغی، المحاسن اور المعارف وغیرہ) اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ہی گامزن رکھے اور زندگی کا ہر لمحہ اور لحظہ راہ حق میں صرف کرنے کی توفیق بخشے، آمین۔ 67۔ حق سے منہ موڑنا خود اپنی جان پر ظلم کرنا ہے۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ نور حق و ہدایت سے منہ موڑنا خود اپنی جان پر ظلم کرنا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہ لوگ اپنے کفر وباطل پر اڑے رہے تھے۔ جس کا بھگتان انہیں بھگتنا پڑا سو وہی انجام آج کے ان منکروں کا بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ کا قانون سب کے لیے یکساں اور بےلاگ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو نور حق و ہدایت سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں دور حاضر کے منکرین کے لئے تاریخ کا درس عبرت ہے کہ اسی طرح کے لچھن جن گزشتہ قوموں کے تھے وہ بالآ اپنے انجام کو پہنچ کررہیں۔ سو اس آئینے میں تم لوگ بھی اپنا مستقبل دیکھ لو اور اپنی روش کے اصلاح کرو۔ ورنہ اسی انجام کے لئے تیار ہوجاؤجس سے ماضی کی وہ بد اطوار قومیں دو چار ہوچکی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں اور ایک برابر ہے، اس کی گرفت وپکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے آمین ثم آمین۔
Ayah 16:34

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

سو آخرکار پہنچ کر رہے ان کو برے نیچے ان کے اپنے ان اعمال کے، جو وہ خود (زندگی بھر) کرتے رہے تھے، اور گھیر لیا ان کو اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑایا کتے تھے،

68۔ برے اعمال کے برے کے برے نتیجے۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار پہنچ کررہے ان لوگوں کو ان کے اعمال کے برے نتائج۔ حق کا انکار کرکے اور اپنے کفر وباطل پر اڑ کر۔ سو کفر وباطل کی راہ بہرحال ہلاکت و تباہی کی راہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور برائی کا نتیجہ بہرحال برا ہے اور اس کے ظہور میں جو تاخیر ہوتی ہے اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑھنا چاہئے کہ قدرت نے ہر چیز کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اور اپنے وقت پر بہرحال ظاہر ہو کر رہے گی۔ پس ان بدبخت قوموں پر جو ہولناک اور تباہ کن عذاب آئے وہ ان کے اپنے اعمال کا طبعی نتیجہ تھا۔ جس کو انہوں نے بہرحال بھگتنا تھا۔ اور بالآخر انہوں نے اس کو بھگتا۔ پس اس سے سبق لے لو اے دیدہ بینا رکھنے والو ! مگر دنیا میں نگاہ عبرت ہی عنقاء ہے، الا ماشاء اللہ ،۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ 69۔ حق اور اہل حق کا مذاق اڑانے والوں کا انجام برا۔ والعیاذ باللہ : سو ایسے بدبختوں کو ڈھیل خواہ جتنی بھی ملے ان کا انجام بہرحال بہت برا ہوتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور گھیر لیا ان کو اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، یعنی اس عذاب نے جس کے وہ مستحق تھے۔ اور جس سے انہیں خبردار کیا جاتارہا تھا۔ مگر وہ ماننے اور اس عذاب سے بچنے کی فکر کرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑاتے تھے، یہاں تک کہ وہ پہنچ کررہے اپنے اس ہولناک انجام کو جس کا مستحق انہوں نے خود اپنے آپ کو بنالیا تھا۔ سو حضرات انبیاء ورسل کی باتوں کی تکذیب اور ان کے مذاق اڑانے کا نتیجہ وانجام بڑا ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ایسے لوگ اپنے دنیوی عیش و عشرت اور بطن وفرج کی شہوات و خواہشات کی تکمیل و تحصیل میں محو ومنہمک ہو کر اپنے مخصوص کافرانہ اور باغیانہ انداز میں کہا کرتے تھے۔ ارے کہاں کا عذاب و عقاب اور اجروثواب ؟ اور کہاں کی جنت دوزخ ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ یہ تو ایسے ہی دل بہلانے کی اور خیالی باتیں ہیں اور بس۔ یہ دنیا اور اس کی عیش کوشیاں ہی سب کچھ ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو وقت آنے پر غفلت کے ایسے ماروں سے کہا جائے گا۔ یہ ہے دوزخ کی وہ آگ جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ (ھذہ النار التی کنتم بھا تکذبون) تب پتہ چلے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 16:35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرک لوگ کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی بھی چیز کی عبادت نہ کرتے، (نہ ہم) اور نہ ہی ہمارے باپ دادا، اور نہ ہی ہم اس کے (حکم) بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے،2 (سو ان کی یہ حجت بازی کوئی نئی چیز نہیں بلکہ) اسی طرح کیا ان لوگوں نے جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے، سو پیغمبروں (کا اس طرح کی باتوں سے کچھ نہیں بگڑا، کہ ان) کے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے کھول کر، (حق اور حقیقت کو، اور بس اور یہ کام وہ کرچکے3)

70۔ مشرکین کے ایک مغالطے کی ترید : یعنی یہ کہ وہ لوگ اپنے کفر و شرک اور اپنے شرکیہ اعمال کے لئے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے استدلال کرتے تھے، یعنی یہ کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ کسی چیز کو از خود حرام ٹھہراتے۔ یعنی " بحیرہ " و " سائبہ " وغیرہ جن چیزوں کو انہوں نے از خود حرام قرار دے رکھا تھا۔ مشرکین کے اس قول باطل کا مدعا ومقصد یہ تھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے حکم وارشاد اور اس کی رضاء اور مشیت سے کرتے ہیں۔ اور اس پر وہ راضی ہے۔ ورنہ ہم ایسا کیوں کرتے۔ اور وہ ہمیں اس کے لیے یہ چھوٹ کیوں دیتا ؟ حالانکہ مشیت خداوندی اور چیز ہے اور رضائے خداوندی بالکل دوسری چیز۔ اس کی مشیت سے اس کی رضاء لازم نہیں آتی۔ وہ کفر و شرک اور معاصی وذنوب پر کبھی راضی نہیں ہوسکتا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کا اپنا ارشاد اور قول فصل ہے۔ (ولا یرضی لعبادہ الکفر) الایۃ (الزمر : 7) سو مشرکین کا یہ قول محض ایک قول باطل، مغالطہ اور محض ایک عذر لنگ ہے جس سے وہ اپنے باطن کی سیاہی کو اور گہرا اور پکا کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ مشرک لوگ کہتے ہیں کہ ہم جن خود ساختہ بتوں اور معبودوں کی پوجا پاٹ کرتے اور " بحیرہ " و " سائبہ " وغیرہ جن چیزوں کو حرام ٹھہراتے ہیں تو یہ سب اللہ کی مرضی سے کرتے ہیں۔ ورنہ وہ ہمیں ایسا کیوں کرنے دیتا۔ ہمیں اپنی قدرت سے ان کاموں سے روک دیتا۔ سو یہ ان لوگوں کی محض کج بحثی اور کٹ حجتی ہے جس کا حق اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ جیسا کہ ابھی اوپر گزر چکا۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء وزیغ وضلال وانحراف۔ 71۔ موجودہ کفار و مشرکین اپنے پیشرؤں کے طریقے پر : چناچہ ان لوگوں کے اس مغالطے کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح کیا ان سے پہلے کے لوگوں نے، سو ان کا ایسا کہنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ اسی طرح کیا ان سے پہلے کے اہل کفر وباطل نے کہ وہ بھی اسی طرح اپنے کفر وباطل پر اڑے رہے۔ اور حق کے مقابلے میں طرح طرح کی حجت بازیوں اور خرمستیوں سے کام لیتے رہے۔ جس کے نتیجے میں وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کررہے۔ تو جب دونوں فریقوں کے جرائم ایک سے ہیں تو ان کے عذاب بھی ایک جیسے ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سودورحاضر کے ان اہل کفر وباطل کو ان گزشتہ اقوام سے سبق لینا چاہیے اور ایسے ہولناک انجام سے بچنے کی فکر کرنی چاہیے۔ قبل اس سے کہ یہ اسی انجام سے دوچار ہوں جس سے وہ لوگ دوچار ہوچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لئے ایک اور بےلاگ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو فرصت عمر کے تمام ہونے سے پہلے ایسے لوگوں کے لئے تلافی مافات کا موقع موجود ہے مگر اس کے بعد اس کا کوئی موقع ممکن نہ ہوگا۔ بلکہ اس کے بعد ہمیشہ کے لئے اپنے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 72۔ پیغمبروں کے ذمے پیغام رسانی اور بس : اس کے بعد ان کی ذمہ داری ختم۔ سوا رشاد فرمایا گیا کہ پیغمبروں کے ذمے تو صرف پیغام حق کو پہنچا دینا ہے کھول کر اور بس۔ آگے منوانا نہ تو ان کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ بلکہ یہ امر تو اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ وہ جس کو چاہے نورحق و ہدایت سے سرفراز فرما دے اور جس کو چاہے اس سے محروم کردے کہ اس چیز کا مدارو انحصار اصل میں انسان کے اپنے باطن اور اس کی نیت و ارادہ پر ہے۔ سو جس میں طلب صادق اور نیت خالص موجودگی ہوگی اس کو وہ اپنے کرم سے نور حق و ہدایت سے نوازے گا۔ اور جو طلب صادق اور نیت خالص سے محروم ہوگا وہ نورحق و ہدایت سے بھی محروم رہے گا۔ والعیاذ باللہ۔ اور لوگوں کے دلوں اور ان میں پوشیدہ نیتوں کا حال اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں سبحانہ وتعالیٰ ۔ وہی جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے کہ کس کے باطن کی کیفیت کیا ہے اور کون کس کے لائق ہے ؟ اس لئے عقل وخرد کا تقاضایہ ہے کہ انسان اپنے اس خالق ومالک سے اپنے ظاہر وباطن کا معاملہ صحیح رکھے کہ اس سے اس کی کوئی بھی حالت اور کیفیت کسی بھی طرح مخفی نہیں رہ سکتی۔ پس ہمیشہ اور حال میں اس کے ساتھ اپنا معاملہ صحیح رکھنے کی کوشش کرے وباللہ التوفیق۔ تبلیغ حق کے بعد قبول حق کی ذمہ داری خود لوگوں کے اپنے ذمے ہے۔ اس کے بعد لوگ اپنے کئے کرائے کے خود ہی ذمہ دار اور جوابدہ ہونگے۔ اور انکے لئے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔
Ayah 16:36

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے ہر امت میں (اس بات کی تعلیم کے لئے کوئی نہ کوئی) پیغام رساں ضرور بھیجا ہے، کہ تم لوگ بندگی کرو اللہ کی اور بچتے رہو طاغوت سے، پھر ان میں سے کسی کو اللہ نے نواز دیا (نورِ حق) ہدایت سے، اور کسی پر ٹھپہ لگ گیا گمراہی کا، سو تم لوگ چل پھر کر دیکھو (اللہ کی) زمین میں، کہ کیسا ہوا انجام (حق) جھٹلانے والوں کا،4

73۔ طاغوت سے اجتناب کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ بندگی کرو ایک اللہ کی اور بچتے رہوطاغوت سے۔ کہ طاغوت سے تعلق اور اس کی بندگی سراسر ہلاکت و تباہی ہے۔ تو پھر مشرکین کا یہ کہنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے کہ اللہ ہمارے شرک سے راضی ہے ؟ اور " طاغوت "، " طغیان " سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ جس کے عموم میں ہر معبود من دون اللہ داخل ہے۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو کہیں کا بھی ہو۔ (معالم، خازن، ابو السعود وغیرہ) لیکن جہاں بھی کسی نے شرک کیا اور غیر اللہ کی پوجا کے جرم کا ارتکاب کیا وہاں اس کے پیچھے شیطان ہی رہا۔ اور شیطان ہی کے اغواواضلال سے ایسے لوگوں کے کفر و شرک وغیرہ جیسے سنگین اور ہولناک جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس لئے طاغوت کا اصل اور سب سے بڑا مصداق شیطان ہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان لوگوں کا یہ کہنا کہ اللہ ہمارے کفر و شرک سے راضی ہے قطعی طور پر غلط اور خلاف واقع ہے،۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ دنیا والوں کو یہی تعلیم و تلقین فرمائی کہ تم لوگ ایک اللہ ہی کی بندگی کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ یہی تقاضا ہے عقل ونقل اور فطرت سلیمہ کا۔ اور اسی میں انسان کا بھلا ہے دنیا اور آخرت دونوں میں، وباللہ التوفیق۔ 74۔ طلب صادق، باعث سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان میں سے کسی کو اللہ نے نور ہدایت سے نوازدیا۔ جو کہ اس کا اہل تھا اور اس کے باطن میں طلب صادق پائی جاتی تھی۔ اور وہ عناد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا نہیں تھا۔ کیونکہ جو عناد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہوتے ہیں وہ دولت حق و ہدایت سے محروم ہوجاتے ہیں کہ ہدایت کی دولت جو کہ سب سے بڑی دولت ہے ملتی تو اس واہب مطلق کی طرف سے مفت اور بالکل مفت ہے لیکن اس کے لئے اولین تقاضا اور بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان کے اندر اس کے لئے طلب صادق پائی جاتی ہو۔ تو محرومی ہی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو صدق نیت اور طلب صادق نورحق و ہدایت سے سرفرازی کی اصل بنیاد اور اولین اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایات اور اس کی نوازشوں کا مداروانحصار اسی پر ہے۔ پس ہمیشہ اس چیز کو ہی اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ 75۔ عناد وہٹ دھرمی باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور کسی پر ٹھپہ لگ گیا گمراہی کا۔ والعیاذ باللہ۔ اس کی اپنی بدنیتی اور سوء اختیار کی وجہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ جب وہ ہدایت چاہنے کی بجائے اس کی مقابلے عناد اور ہٹ دھرمی سے کام لیتا ہے تو پھر اس کو اس دولت بےمثال سے کیونکر نوازا جاسکتا ہے ؟ کہ یہ ایسی چیز ہی نہیں کہ اس کو نہ چاہنے کے باوجود کسی پر یونہی مڈھ دیا جائے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (انلزمکموھا وانتم لھا کرھون) ۔ (ہود : 28) یعنی " کیا ہم اس کو تم پر چپکادیں گے جبکہ تم اس کو نہ چاہتے ہو ؟ " استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا۔ سو حضرات انبیائے کرام کی بعثت و تشریف آوری کے بعد لوگ دو قسموں میں منقسم ہوگئے۔ ایک وہ جو جنہوں نے صدق دل سے ان کی دعوت پر لبیک کہا اور وہ حق و ہدایت سے سرفراز ہو کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند ہوگئے۔ اور دوسرے وہ جنہوں نے ان کی دعوت کے جواب میں عناد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا اور اس کے نتیجے میں ان پر گمراہی کا ٹھپہ لگ گیا اور وہ دارین کے خسارے میں مبتلا ہوگئے اور یہ ہے سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ، جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ہوسکتا ہی نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ 76۔ انکار و تکذیب حق کا آخری انجام ہولناک تباہی۔ والعیاذ باللہ : سو تم لوگ زمین میں چل کر پھر کردیکھو کہ کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا ؟ اور کس طرح وہ بدبخت اپنے کفر وانکار اور عناد وہٹ دھرمی کے نتیجے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹ مٹا کر ختم ہوگئے۔ پس زمین کی سیر و سیاحت اور اس میں چلنا پھر اور آثار قدیمہ کا مطالعہ و مشاہدہ کرنا محمود و مطلوب شئی ہے جبکہ اس سے مقصود عبرت پزیری اور سبق لینا ہو۔ ورنہ عبث و بیکار ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو عبرت انگیز انجام ہوا ان لوگوں کا جنہوں نے حق کی دعوت کو جھٹلایا اور حضرات انبیائے کرام کی تکذیب کی جیسے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، اور قوم لوط وغیرہ وغیرہ۔ سو حق کی تکذیب اور حضرات انبیاء ورسل کی دعوت و تبلیغ کے جواب میں اعراض واستکبار سے کام لینے اور ان کی توہین و تکذیب کے ارتکاب کا آخری نتیجہ وانجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہوتا ہے۔ اور اس سلسلے میں ملنے والی ڈھیل اور مہلت سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے کہ وہ بہرحال ایک ڈھیل اور مہلت ہی ہے جس سے حق تعالیٰ محض اپنی شان کرم و عنایت سے اور تمام حجت اور ازالہ عذر کیلئے نوازتا ہے اور بس سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس ڈھیل اور مہلت نے بہرحال ختم ہو کر اور اپنے آخری نتیجہ وانجام کو پہنچ کر رہنا ہے۔ اس کے بعد بہرحال محرومی اور ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:37

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر آپ (اے پیغمبر ! ) ان کی ہدایت کی طمع بھی کریں تو (اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہدایت تو اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے اور) یقیناً اللہ کسی ایسے شخص کو (نورِ حق) ہدایت سے نہیں نوازتا جس کو وہ گمراہی (کی دلدل) میں ڈال دیتا ہے (اس کی ہٹ دھرمی کی بناء پر) ، اور ایسوں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوگا،

77۔ پیغمبر کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ان کی ہدایت کی حرص اور طمع بھی کریں تو بھی انہوں نے ہدایت قبول نہیں کرنی کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جن کو وہ گمراہی میں ڈال دیتا ہے، پس اب یہ لوگ ہدایت لانے والے نہیں ہیں کہ یہ اپنے خبث باطن اور سوء اختیار کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے قانون ضلالت کی زد میں آچکے ہیں۔ اب یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ پس آپ کو ان کی وجہ سے پریشان ہونے اور غم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پس آپ ان بدبختوں کی محرومی اور پیغام حق و ہدایت سے ان کے اعراض واستکبار اور روگردانی پر افسوس نہ کریں کہ یہ اپنی ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر اس کے لائق ہیں ہی نہیں۔ سو قصور آپ کا نہیں ان کا اپنا ہے، (فلا تذھب نفسک علیہم حسرات) ۔ سو اس میں حضرت امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے جب یہ لوگ اپنے عناد وہٹ دھرمی کی بناء پر ایمان لانے والے نہیں ہیں تو آپ ﷺ ان کی وجہ سے غمگین اور پریشان نہ ہوں۔ آپ کا کام تبلیغ حق اور ادائے رسالت ہے۔ اور وہ آپ کرچکے اور بتمام و کمال کرچکے۔ پس آپ اپنی ذمہ داری سے فارغ و سبکدوش ہوگئے۔ اب ان کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں۔ یہ اپنے حال ومآل اور نتیجہ وانجام کے خود ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ انہوں نے حق اور ہدایت کی دعوت کے مقابلے میں عناد اوہٹ دھرمی سے کام لیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:38

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے نام کی کڑی قسمیں کھا کر کہا کہ جو کوئی مرجاتا ہے اللہ اسے دوبارہ زندہ کرکے نہیں اٹھائے گا (اور قیامت نہیں آئے گی1) ، کیوں نہیں، اللہ نے (دوبارہ زندہ کرنے کا) یہ وعدہ اپنے ذمے لازم کر رکھا ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں،

78۔ کفار کا قسمیں کھا کر آخرت کا انکار کرنا : سو اس سے کفار کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک اور نمونہ ومظہر سامنے آتا ہے کہ انہوں نے کڑی قسمیں کھا کر کہا کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کیوں نہیں ؟ یعنی ضرور اٹھائے گا کہ عدل وانصاف کا تقاضا بھی یہی ہے اور اس کے اپنے وعدے وعید کا بھی جو کہ اس نے اپنے ارادہ واختیار اور کرم و عنایت سے اپنے ذمے لے رکھا ہے تاکہ اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں۔ کیونکہ اس کے بغیر نہ عدل وانصاف کے تقاضے صحیح طور پورے ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اس کائنات کی تخلیق کا مقصد پورا ہوسکتا ہے۔ سو وہ مرنے کے بعد دوبارہ ضرور اٹھائے گا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف ان لوگوں نے تو اللہ تعالیٰ کے نام کی پکی قسمیں کھا کر کہا کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو بھی دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ لیکن اللہ نے سب کو دوبارہ اٹھانے کا حتمی وعدہ فرما رکھا ہے۔ اور وہ وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں فرمائے گا۔ پس قیامت ضروربپا ہوکر رہے گی۔ 79۔ اکثر لوگ نورعلم سے محروم۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں، سو اکثر جانتے نہیں اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت، اس کے علم محیط، اس کی حکمت بالغہ وغیرہ، صفات عالیہ کو۔ اور اس عظیم کائنات کے سروجود اور مقصدتخلیق کو، جس سے وہ طرح طرح کی گمراہیوں کے گڑھے میں گرتے ہیں۔ سو حق و ہدایت سے لاعلمی وبے خبری جڑ بنیاد ہے تمام شروفساد کی۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ غیروں کو چھوڑ کر خود مسلمانوں ہی کو دیکھ لیا جائے کہ ان میں کتنے ایسے ہوں گے جو قرآن وسنت کی تعلیمات مقدسہ کا علم رکھتے ہوں گے۔ جہالت اور بیخبر ی نے ان کا بیڑا غرق کردیا اور اسی سے طرح طرح کے فتنے پھوٹتے اور فساد پیدا ہورہے ہیں کہ مسلمان اپنے دین کو جانتا نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جس کی وجہ سے وہ جہالت اور بیخبر ی کے طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے الا ماشاء اللہ ،۔ والعیاذ باللہ العظیم۔