Ayah 16:3980۔ اختلافات کا آخری فیصلہ قیامت کے دن ہی ہوگا : سواختلافات کا آخری اور عملی فیصلہ قیامت کے یوم فصل ہی میں ہوسکے گا۔ یعنی عملی طور پر اور ان کی آخری شکل میں، ورنہ علمی طور پر تو وہ حق اور حقیقت کو اس دنیا ہی میں آشکارا فرما چکا ہے۔ اور اپنے اس آخری اور ابدی کلام حق کو جو قول فصل بنا کر اتارا ہے تو اس کے بعد تو اس بارے کوئی خفاء وغموض باقی رہ ہی نہیں جاتا۔ حق وباطل سب کچھ پوری طرح واضح ہو کر اور نکھر کر سامنے آگیا ہے۔ لیکن کتنی دنیا ہے کہ حق کو پھر بھی نہیں مانتی اور اس کے بارے میں طرح طرح کی حجت بازیوں سے کام لیکر وہ اس سے گریز و فرار پر اڑی ہوئی ہے۔ سو اس سب کا فیصلہ آخری اور عملی طور پر قیامت کے اس یوم فصل میں کردیا جائے گا جبکہ ہر کوئی اپنے انجام کو پہنچ کررہے گا۔ اور ایسا کہ اس کے بعد کسی کے لئے کسی شک وانکار اور حیل وحجت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرضی۔
Ayah 16:4081۔ اللہ تعالیٰ کی شان کن فیکون کا حوالہ وذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت حق جل مجدہ کی شان کن فیکون کی شان ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور انما کے کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم جب کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے ہمیں صرف اتنا ہی کہنا ہوتا ہے کہ ہوجاپس وہ ہوجاتا ہے۔ کہ اہل دنیا کی طرح ہم کوئی اسباب و وسائل یا وقت اور مہلت کے محتاج نہیں۔ بلکہ ہماری شان تو کن فیکون کی شان ہے کہ جو چاہا ہوگیا۔ جس کے ہونے کا حکم فرمایا گیا وہ وجود میں آگیا۔ سو اس کی اسی شان اقدس واعلیٰ کے مطابق قیامت اس کے حکم وارشاد کے مطابق پل بھر میں واقع ہوجائیگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (وما امرنا الا واحدۃ کلمح بالبصر) " اور ہمارا معاملہ تو ایک کلمے کی طرح ہے جس نے پل بھر میں ہوکررہنا ہوتا ہے " (القمر : 50) ۔ نیز ارشاد فرمایا گیا (فانماھی زجرۃ واحدۃ فاذاہم بالساھرۃ) ۔ یعنی " قیامت کو بپا کرنے کے لئے تو محض ایک ڈانٹ اور جھڑکی ہوگی جس کے نتیجے میں یہ سب کے سب حشر کے اس کھلے میدان میں موجود ہوں گے " (النازعات : 13۔ 14) ۔ نیز فرمایا گیا۔ (ماخلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ ان اللہ سمیع بصیر) یعنی " تم سب لوگوں کا دوبارہ زندہ کرکے اٹھانا ایک ہی شخص کے اٹھانے کی طرح ہے۔ بیشک اللہ سب کچھ سنتادیکھا ہے۔ " سبحانہ وتعالی۔ (لقمان : 28) سو تمہارے نزدیک اے منکرومرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا اگرچہ ایک انہونی اور ناممکن چیز ہے لیکن اللہ کے لئے یہ کچھ بھی مشکل نہیں۔ اس قادر مطلق کے صرف ارادہ واشارہ کی دیر ہے اور بس۔ پس تم لوگ جو اس قادر مطلق کو اپنے اوپر قیاس کرکے ایسے عظیم الشان اور جلیل القدر حقائق کا انکار کرتے ہو تو یہی دراصل باعث اور سبب ہے تمہاری محرومی کا۔ جس کا نتیجہ وانجام تم لوگوں کو بڑی ہولناک صورت میں بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:4182۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کے لئے عمدہ ٹھکانے کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی، اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا ان کو ہم ضرور عمدہ ٹھکانا دینگے دنیا میں بھی اور آخرت کا اجروثواب تو یقینا اس سے کہیں بڑھ کر ہے، سو اس میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کے لئے صاف اور صریح طور پر عمدہ ٹھکانے سے نوازنے کا وعدہ فرمایا گیا ہے اور بالفعل ایسا ہوا بھی۔ جیسا کہ حضور کے صحابہ کرام کو مدینہ طیبہ میں ٹھکانہ دیا۔ اور اس کے علاوہ دنیا میں آج تک بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس سے مظاہر نظر آتے ہیں۔ بشرطیکہ ہجرت دین کیوجہ سے اور دین کی خاطر اور خالص اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے ہو۔ اور اگر کہیں اس کے خلاف نظر آئے تو وہاں یا تو ان شرائط میں کوئی قصور وخلل ہوگا یا ایسا کسی ابتلاء و آزمائش کے طور پر ہوگا۔ یا کچھ استثنائی واقعات کے طور پر کچھ دوسری حکمتوں کی وجہ سے جن کا احاطہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ صاف اور صریح طور پر اپنے عموم وشمول کے ساتھ ان سب ہی لوگوں کے لئے موجود ہے کہ جنہوں نے ظلم سہنے اور مظالم برداشت کرنے کے بعد اللہ کی راہ میں ہجرت کی کہ ان کو ہم اس دنیا میں بھی عمدہ ٹھکانہ دیں گے۔ سو اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں اور گھر بار وغیرہ سب کچھ کی قربانیاں دینے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے اجروثواب سے ضرور نوازے گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے ہجرت ایک بڑا ہی مبارک عمل ہے۔
83۔ علم حق کی عظمت و اہمیت کا ایک مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کاش کہ لوگ جان لیتے، یعنی جان لیتے اس حقیقت کو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کس قدر عظمت شان والا ہے اور اس طرح یہ لوگ سکون واطمینان سے رہتے اور یہ کبھی پریشان نہ ہوتے کہ اخلاص واستقامت کے نتیجے میں انسان کو اس دنیا میں بھی عمدہ ٹھکانا اور پاکیزہ زندگی ملے گی۔ اور دنیا کے بعدآخرت کے اس ابدی جہان میں بھی اس کو جنت کی وہ عظیم الشان ابدی اور سدا بہار نعمتیں نصیب ہوں گی جن کا یہاں پر کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔ سو اگر لوگ اس حقیقت کو جان لیتے اور وہ اس کے بموجب عمل پیرا ہوجاتے تو ان کی زندگی کے طور طریقے یکسر مختلف ہوتے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ کاش کہ یہ لوگ جان لیتے اللہ کے وعدے کی قدروقیمت اور آخرت کے اجر وثواب کی عظمت شان کو۔ تو اس وقت ان کو اس حقیقت کا بخوبی احساس اور اندازہ ہوجا تاکہ جن لوگوں کو یہ لوگ محروم سمجھتے ہیں انہوں نے دنیا وآخرت دونوں کی کتنی بڑی بازی جیتی ہے۔ سو حق و حقیقت کے علم کی روشنی انسان کے لئے سعادت دارین کی راہیں روشن اور منور اور منور کرنے والی راہ ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔
Ayah 16:4284۔ صبر واستقامت وسیلہ سرخروئی وسعادت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے صبر سے کام لیاراہ حق وصواب پر اور اس راہ میں پیش آنے والے مصائب و مشکلات پر اور انہوں نے اپنے ہی رب پر بھروسہ رکھا وہی مستحق ہیں ان وعدوں اور ان انعامات کے۔ سو صبر واستقامت اور اپنے رب پر بھروسہ وتوکل شہ کلید ہے دارین کی سعادت و سرخروئی کی اگرچہ ہجرت کے یہ فضائل و برکات ہر زمانے کے مہاجرین کے لئے ہیں اور الفاظ کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے۔ لیکن اس کے اولین اور سب سے اہم مصداق حضور ﷺ کے وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے اپنے دین کے لئے اور اپنے رب کی رضاء کی خاطر مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی۔ (معارف القرآن للکاندھلوی (رح) بہرکیف راہ حق و ہدایت پر صبر واستقامت بڑی عظیم الشان اور دارین کی سعادت سے سرفراز کرنے والے چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں راہ حق پر مستقیم وثابت قدم رکھے۔ آمین۔
85۔ اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں نہ مخلوقات میں سے کسی عاجز اور فانی سہارے پر۔ جس طرح کہ عام ابنائے دنیا کا حال ہے۔ اور کلمہ گو مشرک تو ایسے شرکیہ اور خود ساختہ سہاروں کے لئے قرآن وسنت کی نصوص مقدسہ میں تاویل و تحریف سے بھی نہیں چوکتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ان مومنین صادقین اور مہاجرین فی سبیل اللہ کی ایک صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ وہ مصائب و مشکلات کے ہر دور اور ہر حال میں اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں کہ وہی خالق ومالک ہے سب کا۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ سو اس توکل اور اعتماد علی اللہ کی بدولت وہ ہمیشہ مطمئن رہتے ہیں کہ اللہ ان کو تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ ہر موڑ پر اور ہر مشکل کے موقعہ پر ان کی مدد فرمائے گا۔ سو حالات خواہ کتنے ہی ناموافق اور نامساعد کیوں نہ ہوں ایسے بندگان صدق وصفا اپنے اس اعتماد اور توکل علی اللہ کی بناء پر مطمئن رہتے ہیں۔ اور یہی صبر وتوکل راہ حق میں اور خاص کر ہجرت الی اللہ کی راہ میں ان کے لئے اصل زاد راہ ہوتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 16:4386۔ سب پیغمبر بشر اور مرد ہی ہوئے ہیں : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصروقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آپ سے پہلے (اے پیغمبر ﷺ کسی کو بھی رسول بناکر نہیں بھیجا سوائے مردوں کے۔ کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے انسان ہی کا رسول بن کر آنا عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ پس ان مشرکین کا آپ ﷺ کی بشریت کاملہ کی بناء پر آپ رسالت حقہ پر اعتراض کرنا سراسر ان کی جہالت و حماقت ہے۔ والعیاذ باللہ۔ معلوم ہوا کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے بشر ہی رسول بن کر آئے ہیں۔ نہ کوئی فرشتہ آیا نہ جن۔ اور نہ ہی کبھی کسی عورت کو اس منصب پر سرفراز فرمایا گیا ہے کہ وہ فطرۃ مرد کے مقابلے میں کمزورمخلوق ہے۔ پس اہل بدعت کا بشریت پیغمبر سے بدکنا اور اس کا انکار کرنا ان لوگوں کی اپنی جہالت کا ثبوت ہے۔ والعیاذ باللہ۔ ضحاک حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر مبعوث فرمایا تو مشرکین عرب نے اس کا انکار کیا اور کہا کہ اللہ کی شان اس سے بہت بلند اور بالا ہے کہ اس کا رسول بشر اور انسان ہو۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منہم ان انذر الناس) (یونس : 2) اور اسی بارے میں قرآن حکیم کی یہ آیت بھی نازل ہوئی۔ (المراغی، ابن کثیر، وغیرہ) ۔ اور اس مضمون کی اور بھی مختلف آیات کریمات مختلف مقامات میں وارد وارشاد ہوئی ہیں۔ مثلا سورة انعام آیت 8، سورة فرقان آیت 7، سورة ابراہیم آیت 10، اور آیت نمبر 11، سورة الکہف آیت نمبر 110، حم السجدہ 6، التغابن 6، المؤمنون 42، الشعراء 33۔ 154 اور سورة ہود 27، وغیرہ وغیرہ۔ تعجب ہوتا ہے کہ ان بیشمار نصوص کے باوجود اہل بدعت بشریات انبیاء کا انکار کیسے اور کیوں کرتے ہیں ؟۔
87۔ اہل ذکر کیطرف رجوع کرنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم پوچھ لو (اے منکرو) اہل ذکر سے اگر تم خود نہیں جانتے وہ تم کو یہی بتائیں گے کہ اس سے پہلے جو بھی نبی اور رسول آئے وہ سب کے سب مرد اور بشر وانسان ہی تھے۔ اور ان میں کوئی بھی فرشتہ یا کوئی اور مخلوق نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور ہمیشہ سے یہی رہا کہ اس نے انسانوں کی راہنمائی کے لئے ہمیشہ بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجا۔ اسی لئے منکرین کو ہمیشہ رسولوں کی رسالت پر اچنبھا اور اعتراض ہوا کہ کیا اللہ نے بشر ہی کو رسول بناکر بھیجنا تھا ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (وما منع الناس ان یؤمنوا اذ جاء ہم الھدی الا ان قالوا ابعث اللہ بشرا رسولا) (بنی اسرائیل : 94) اسی لئے حضور ﷺ کو اس حقیقت کے اعلان واظہار کا حکم فرمایا گیا کہ کہو میں تو صرف ایک بشر ہوں جس کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور صاف وصریح طور پر اور کلمات حصر و تاکید کے ساتھ ارشاد ہوتا ہے۔ (قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا) ۔ (بنی اسرائیل : 93) مگر اہل بدعت ہیں کہ اس سب کے باوجود پیغمبر کو بشر ماننے کیلئے تیار نہیں۔ اور اس طرح کی صاف وصریح نصوص کریمہ میں یہ لوگ طرح طرح کی تاویلات و تحریفات سے کام لیتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:4488۔ پیغمبر کا کام حق کو کھول کر بیان کردینا اور بس : اور پیغمبر کا وہ بیان ہی حدیث کہلاتا ہے۔ سو اس سے واضح ہوگیا کہ حدیث رسول قرآن کی سب سے پہلی اور سب سے اہم تفسیر ہے۔ پس معلوم ہوا کہ پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام۔ کی تعلیم وتبین کے بغیر قرآن پاک کو از خود نہیں سمجھا جاسکتا۔ اور پیغمبر نے اس کتاب حکیم کی جو تعلیم وتبیین فرمائی وہی حدیث رسول ہے۔ خواہ وہ قول وعمل سے ہو یا تقریر واثبات سے کہ یہ سب ہی حدیث کی مختلف قسمیں ہیں۔ جیسا کہ حضرات اہل علم کے یہاں مشہور و معروف ہے۔ سو حدیث رسول قرآن حکیم کی سب سے پہلی۔ سب سے بڑی اور سب سے اہم اور یقینی تفسیر ہے اس لئے حدیث رسول قطعی طور پر حجت ہے۔ پس جو لوگ استاد کے بغیر محض اپنے ذاتی مطالعہ (self study) سے قرآن پاک سمجھنا چاہتے ہیں اور اسی طرح وہ لوگ جو حدیث رسول کی حجیت کے منکر ہیں وہ راہ حق وصواب سے ہٹے ہوئے ہیں اور گمراہی کی راہ پر چلتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ اور جس سے آگے طرح طرح کے فتنے اور فساد جنم لیتے۔ سو قرآن پاک اگر محض ذاتی مطالعہ سے پڑھنے اور سمجھ لینے کی کتاب ہوتی تو آنحضرت ﷺ کو اپنی نبوت کے پورے تیئس سال کے طویل عرصے میں نازل کرنے کی بجائے ایک لکھی لکھائی کامل کتاب کی شکل میں اتار کر بیت اللہ میں رکھ دیا جا تاکہ لوگ خود پڑھ سیکھ لیے جو کہ فصیح وبلیغ عربی دان تھے۔ اور قرآن پاک عربی مبین کی کھلی اور صاف زبان میں نازل ہوا تھا۔ مگر ایسے نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے برعکس اس کتاب کو نازل کرنے سے پہلے اس پڑھانے اور سکھانے والے استاد کامل کو انتخاب فرما دیا گیا۔ اور پھر ان ہی کے ذریعے لوگوں کو اس نسخہ کیمیا کی تعلیم دی گئی اور اس کتاب کامل کا استاذکامل نے بذات خود پڑھایا سو جب حضرات صحابہ کرام بھی خالص عرب ہونے کے باوجود اور عربی زبان وادب میں امامت و پیشوائی کا درجہ ومقام رکھنے کے باوصف اور خیرالقرون کے زمانہ خیروبرکت میں ہوتے ہوئے بھی قرآن حکیم کو از خود نہیں سمجھ سکے جب تک کہ استاد کامل کے سامنے زانوئے تلمذتہ نہیں کئے اور سالہا سال تک اس کو باقاعدہ طور پر پڑھا نہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو یہ کہے کہ میں استاد کی تعلیم و راہنمائی کے بغیر از خود محض ذاتی مطالعہ سے قرآن پاک کو سمجھ سکتا ہوں ؟ خاص کر ایسا کوئی عجمی شخص جس کی اپنی زبان ہی عربی نہ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء زیغ و انحراف پس قرآن حکیم کو کسی ماہر اور مستند استاذ ہی سے پڑھا اور سیکھا جاسکتا ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔
Ayah 16:4589۔ منکرین کے مطالبہ عذاب پر اظہار تعجب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بری چالیں چلنے والے لوگ نڈر اور بےخوف ہوگئے اس سے کہ اللہ ان کو دھنسا دے زمین میں۔ جیسا کہ اس نے دھنسایا قارون کو اس کے خزانوں سمیت۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ اور اس کے علاوہ بھی مختلف قوموں کے ساتھ ایسے ہوچکا ہے۔ اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی۔ سو ایسے لوگوں کو بھی اس طرح کے کسی عذاب میں پکڑا جاسکتا ہے کہ کفروانکار اور حق اور اہل حق سے عداوت و دشمنی کے جس جرم میں وہ لوگ مبتلا تھے اسی میں یہ بھی مبتلا ہیں۔ سو جو انجام ان کا ہوا وہ ان کا بھی ہوسکتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور زمین میں دھنسا دینے کے ایسے ہولناک عذاب جو پہلے کی ان بدبخت قوموں پر آئے ہیں اور انکے بعد بھی آتے رہے اور اب تک جگہ جگہ اور طرح طرح سے آتے رہتے ہیں تو پھر یہ لوگ عذاب الہی سے اس طرح بےخوف اور اتنے لاپرواہ کیوں ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ لوگ اس کے مطالبات کس طرح کرتے ہیں۔ سو اس سے ان لوگوں پر اظہار تعجب بھی ہے اور اظہار ملامت بھی کہ ان کا رویہ ہے ہی ایسا، مگر ان کو اس کا شعور و احساس ہی نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
90۔ عذاب بےگماں سے تحذیروتنبیہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ نڈر اور بےخوف ہیں اس سے کہ آپہنچے ان پر عذاب وہاں سے جہاں سے ان کو گمان بھی نہ ہو۔ جیسا کہ قوم لوط اور قوم عاد وغیرہ پر آیا۔ اور جیسا کہ آج بھی دنیا میں جگہ جگہ زلزلوں، سیلابوں اور دوسرے طرح طرح کے عذابوں کی شکل میں ہوتا رہتا ہے۔ اور ایسا کہ چند لمحوں اور سیکنڈوں میں شہروں کے شہر اجاڑ اور بیاباں ہو کر رہ جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جیسے کچھ ہی عرصہ قبل امریکہ کی بعض ریاستوں میں ایسے زلزلے اور سیلاب آئے کہ کئی شہروں کو اجتماعی قبرستان قرار دے دیا گیا۔ اور جیسا کہ ترکی اور ایران میں آنے والے زلزلوں نے چند سیکنڈوں میں کئی شہروں کو اجاڑ کر رکھ دیا اور ہزاروں لوگ آنا فانا لقمہ اجل بن گئے۔ اور جیسا کہ چند ہی سال قبل روس میں چرنوبل کے ایٹمی پلانٹ کا حادثہ پیش آیا اور ایٹمی تابکاری اثرات پھیلنے سے ہزاروں انسان موت کے گھاٹ اتر گئے اور ہزاروں ہمیشہ کے لئے اپاہج اور معذور ہوگئے۔ اور جیسا کہ ہندوستان میں بھوپال کے شہر میں کارخانے سے زہریلی گیس لیک ہونے سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور ہزاروں ہمیشہ کے لئے معذور اور بیکار ہوگئے وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 16:4691۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب چلتے پھرتے ،۔ والعیاذ باللہ : ارشاد فرمایا گیا کہ وہ پکڑ لے ان کو چلتے پھر تے جب کہ ان کو اس کا خواب وخیال بھی نہ۔ اور عین اپنی غفلت اور خرمستی میں یہ دھر لئے جائیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس طرح کا کوئی بھی عذاب ایسے لوگوں پر کبھی بھی صورت میں آسکتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے کبھی بھی نڈر اور بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ایسا آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہوتا رہتا ہے۔ کبھی کوئی ہوائی جہاز کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے تو اس میں سوار لوگوں کے چیتھڑے اڑ جاتے ہیں اور کبھی کوئی جہاز کسی شہری آبادی پر یا نیچے جمع شدہ لوگوں پر گرتا ہے تونیچے کے یہ لوگ بھی اچانک اور یکایک شعلوں کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ جیسا کہ ابھی کوئی دو ہفتے قبل سابق سوویت یونین کی ریاست یوکرائن میں ہوا۔ اور اس سے پہلے بھی کئی ملکوں میں ہوا یا جیسے کوئی بحری جہاز کسی گہرے سمندر میں ڈوبتا ہے تو اس کے اندر کے سب لوگ سمندر کی ہولناک موجوں کے حوالے ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ کچھ ہی عرصہ قبل ایک امریکی ریاست میں ایک ٹرین پل کے اوپر سے گزرتے ہوئے نیچے سمندر میں جاگری۔ اخبارات کے مطابق یہ سمندر دلدلی پانی پر مشتمل تھا جس میں بڑے خوفناک مگر مچھ ہوتے ہیں اور بڑی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ سو اس طرح دیڑھ دو ہزار کے لگ بھگ اس ٹرین میں سوار یہ امریکی ان خوفناک مگر مچھوں کی خوراک بنے وغیرہ وغیرہ۔
92۔ منکرین کی بےبسی کا حوالہ و ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور وہ ان کو پکڑنے اور قرار واقعی سزا دینے سے عاجز آجائے۔ سو ایسے نہیں ہوسکتا کہ اس کی قدرت لامحدود، اس کا ملک و اقتدار نہایت وسیع اور اس کا علم سب پر حاوی و محیط ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کی گرفت وپکڑ سے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کوئی بھی نکل اور بھاگ نہیں سکتا۔ پس اس کی ڈھیل سے کبھی بھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے کہ اس کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ اور حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑتا ہے تو پھر اس کے لئے نکل بھاگنے کی کوئی صورت ممکن نہیں رہتی۔ (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) سو اس کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (ان اخذہ الیم شدید) سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Ayah 16:4793۔ اللہ کا عذاب خوف درخوف کی حالت میں۔ والعیاذ باللہ : یعنی اللہ اس طرح بھی پکڑ سکتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان کو پکڑے ایسے حال میں کہ یہ خوف پر خوف کھا رہے ہیں عذاب کے آثار و نشانات دیکھ کر۔ یا ایک کے سامنے دوسری قوموں کو ہلاک کرکے کہ اس طرح عذاب کی شدت اور سختی کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور المعارف وغیرہ) یعنی اللہ کا عذاب کسی بھی صورت میں آسکتا ہے۔ بالکل اچانک بغیر کسی اثر ونشان کے جیسا کہ زلزلوں وغیرہ میں مختلف صورتوں میں اب تک ہوتا رہتا ہے اور وقتا فوقتا اور جابجا اس کے مظاہر اور نمونے سامنے آتے رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ اس وقت جب کہ راقم اثم ان سطور کی پروف ریڈنگ کررہا ہے۔ روس چین، بھارت، نیپال، اور یورپ کے ملکوں میں طوفانی بارشوں کے باعث ہولناک سیلابوں کا دور دورہ ہے جس سے شہروں کے شہر غرقاب ہوگئے ہیں۔ سینکڑوں مرگئے۔ لاکھوں بےگھر ہوگئے۔ اور اربوں کھربوں کے مالی نقصانات ہوگئے۔ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ بلڈنگوں کی بلڈنگیں زمین بوس ہوگئیں۔ لاکھوں فوجی اور سویلین جگہ جگہ مصنوعی بند باندھنے اور پانی کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ عذاب کے آثار و نشانات کے ظاہر ہونے اور انکے ذریعے وارننگ ملنے کے بعد آئے۔ جیسا کہ آتش فشانوں، سیلابوں اور طوفانوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ پاک کے عذاب سے کبھی بھی اور کسی بھی طور پر نڈر اور بےخوف نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش میں رہنا چاہیے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔
94۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ورافت کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف ان کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ جو اپنے بندوں کی طرح طرح کی نافرمانیوں اور ان کے ہولناک و سنگین جرائم کے باوجود ان کو فوری طور پر نہیں پکڑتا بلکہ ان کو ڈھیل پر ڈھیل دئے جاتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ صحیحین وغیرہ کی حدیث میں حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے بڑھ کر صبر والا کوئی ہوسکتا۔ ان تکلیف دہ باتوں پر جو اس کو سننا پڑتی ہیں۔ لوگوں نے اس کے لئے اولاد تجویز کرنے جیسے جرم کا بھی ارتکاب مگر وہ اس کے باوجود ان کو روزی بھی دے رہا ہے اور عافیت سے بھی نواز رہا ہے (ابن کثیر وغیرہ) سبحانہ وتعالی۔ اور یہ بھی اس کی شفقت بےنہایت اور رحمت و عنایت بیکراں کا ایک نمونہ ومظہر ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مختلف قسم کے عذابوں سے اس طرح خبردار کرتا ہے کہ وہ ان سے بچنے کی فکر کرسکیں۔
Ayahs 16:48–4995۔ خلق خدا کے احوال میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ سوچتے اور غور نہیں کرتے اللہ کی پیدا کردہ کسی بھی چیز کے بارے میں۔ اور اس بات میں کہ کس طرح ہر چیز کا سایہ بھی اللہ کے حضور جھکتا ہے ؟ اور خود ان لوگوں کے اپنے سائے بھی جو کہ ان کے پاؤں میں زمین پر پڑے رہتے ہیں اور عاجزانہ طور پر اپنے رب کے حضور جھکے رہتے ہیں۔ تو جب اس کی قدرت کاملہ اور استحقاق عبودیت کا یہ عالم ہے کہ ہر چیز اس کے حضور اس طرح سراپا وعجز ونیاز بن کر جھکی ہوئی ہے تو یہ انسان ضعیف البنیان اپنے اختیار و ارادہ سے اس کے آگے کیوں نہیں جھکتا ؟ تاکہ اس سے ایک طرف تو اس وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کا حق ادا ہوسکے اور دوسری طرف یہ انسان اس کے حضور سجدہ ریز ہوکردارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ وروسرفراز ہوسکے۔ سو اس ارشاد ربانی میں انسانی ضمیر کے لئے ایک دستک اور مہمیز ہے کہ وہ صدق دل سے اپنے رب کے حکم پر اس کے حضور جھک کر اپنے خالق ومالک کا حق بندگی ادا کرے اور اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔
Ayah 16:5098۔ فرشتوں کی شان خوف وخشیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یعنی بایں ہمہ قرب واتصال خداوند قدوس کی بارگہ اقدس واعلیٰ سے ان کا مقام نیچے اور بہت نیچے ہے اور وہ ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب سے جو کہ ان کے اوپر ہے۔ اپنی عظمت شان اور جلالت مکان، علم محیط اور قدرت کاملہ کے اعتبار سے، نہ کہ حسی اور ظاہری اعتبار سے کہ وہ مکان اور مکانیات اور اس طرح کی تمام حدود وقیود سے پاک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس کی یہ فوقیت اس کی قدرت اور اس کے اس غلبہ وقہر کے اعتبار سے ہے جو اس کی شان اقدس واعلیٰ کے لائق ہے۔ اور فرشتوں کا اس سے ڈرنا اس کے اعظام واجلال کی بناء پر ہے نہ کہ اجرام کے لحاظ سے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، مراغی اور معارف وغیرہ) اور ظاہر ہے کہ فرشتوں سے بڑھ کر اس کی عظمت شان سے واقف اور کون ہوسکتا ہے ؟ سو خدا وندقدوس کی اس فوقیت سے مراد وہ فوقیت ہے جو اس کی شان اقدس واعلیٰ کے لائق ہے اس کی حقیقت اور کیفیت ہمارے علم و ادراک سے باہر ہے۔ سبحانہ وتعالی۔
99۔ فرشتوں کی شان اطاعت وامتثال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ کے ہراس حکم کو بجا لاتے ہیں جو ان کو اسی کی طرف سے دیا جاتا ہے کہ وہ حکم عدولی اور نافرمانی کے جملہ شوائب سے پاک وصاف ہیں۔ اس لیے وہ پوری طرح بجا لاتے ہیں ان اوامر واحکام کو جو ان کو دیے جاتے ہیں کہ ان کی فطرت وجبلت ہی اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو وہ اس کی عبادت و بندگی اور اس کے حقوق کو پوری طرح بجا لاتے ہیں۔ سو وہ اپنی اس مسلسل و لگاتار اور بےمثال اطاعت و فرمانبرداری کی بناء پر کبھی کسی طرح کے ناز اور تدلل کے فتنے میں مبتلا نہیں ہوتے اور اپنے رب کی طرف سے انکو جو بھی حکم ملتا ہے اس کو وہ بلا کسی چون وچراں اور پس وپیش کے فورا بجالاتے ہیں۔ جو کہ تقاضاونتیجہ ہے کمال عبدیت و بندگی کا۔ سو فرشتے کمال اطاعت کرنے والی مخلوق ہے اور بس۔
Ayah 16:51100۔ معبود برحق صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : اس کے سوادوسرا کوئی بھی معبود نہ ہے، نہ ہوسکتا ہے اس لئے اس نے صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم سب مجھ ہی سے ڈرو اے لوگو ! کہ سب کچھ میرے ہی قبضہ قدرت میں ہے۔ پس تم میرے سوا اور کسی سے مت ڈرو۔ اور امر واقع یہی ہے کہ جو اس سے ڈرتا ہے وہ اور کسی سے نہیں ڈرتاخواہ وہ کوئی بھی ہو اور کیسا بھی ہو اور کہیں بھی ہو۔ اور اس کے برعکس جو اس سے نہیں ڈرتا وہ ہر کسی سے حتی کہ وہمی اور فرضی چیزوں سے بھی ڈرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ سے ڈرنے والا انسان ایسا قوی القلب، مطمئن الضمیر اور مرتاح البال ہوجاتا ہے کہ اس کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء ورسل اور صحیفوں اور کتب کے ذریعے دنیا کو یہی پیغام دیا کہ معبود برحق اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی بھی نہیں۔ لہذا سب کو عبادت و بندگی بھی اسی کی بجا لانی چاہئے اور ڈرنا بھی اسی سے چاہیے۔ کہ اطاعت مطلقہ اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر مشکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔
Ayah 16:52101۔ کائنات ساری اللہ وحدہ لاشریک ہی کی ہے : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصروقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ خلق وملک اور حکم وتصرف کے اعتبار سے کہ سب کا خالق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے مالک بھی وہی۔ اور اس پر تصرف اور حکم بھی اسی کا اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب یہ شان اس وحدہ لاشریک کی ہے اور اس میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس عبادت کی ہر شکل اور اس کی ہر قسم اسی کا حق اور اس کا اختصاص ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ پس سب کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کے لئے بجا لانا شرک اور ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
102۔ اطاعت مطلقہ اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کا حق ہے لازمی اور دائمی اطاعت عبادت، کہ معبود برحق وہی اور صرف وہی ہے۔ اس کائنات اور اس کی ہر نعمت کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ پس اطاعت مطلقہ بھی اسی کا حق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ " واصب " کے معنی لازم کے بھی کیے گئے ہیں (محاسن التاویل) اور اس کے معنی دائم کے بھی گئے ہیں۔ (المراغی) سو ان دونوں معنوں کے ملانے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اسی کا حق ہے لازمی و دائمی اطاعت کہ معبود برحق اور مطاع مطلق بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب آسمانوں اور زمین کی اس ساری کائنات اور اس کی تمام نعمتوں کا خالق ومال بھی وہی ہے اور اس سب میں حکم وتصرف بھی اسی کا چلتا ہے تو اطاعت مطلقہ کا حقدار بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی جو اس دنیا کے بعد آنے والا ہے۔
103۔ منکرین ومنحرفین کے دلوں پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین ومنحرفین کے قلوب وضمائر پر ایک زورداردستک کے طور پر بطوراستفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا پھر بھی تم لوگ غیر اللہ سے ڈرتے ہو ؟ یعنی جب تم یہ جان چکے کہ خالق ومالک اس پوری کائنات کا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور عبادت و بندگی اور اطاعت مطلقہ بھی اسی کا حق ہے۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ تو پھر بھی اوروں سے ڈرنے اور خوف کھانے کی آخر کیا تک اور کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ۔ پس عقل ونقل کا تقاضا یہی ہے کہ انسان ہمیشہ اور ہر حال میں اسی وحدہ لاشریک سے ڈرے اور ہمیشہ اسی کی رضاء کے حصول کو اپنا مطمح نظربنائے اور اپنے پیش نظر رکھے کہ وہ اگر راضی ہوجائے تو پھر کسی اور کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے ؟ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف استفہام یہاں پر انکاری ہے کہ جب معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ ہر قسم کا نفع و نقصان بھی اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے تو ڈرنا بھی اسی سے چاہیے اور مغفرت وبخشش سے نوازنا بھی اسی کا کام اور اسی کے شان ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (ھواہل التقوی واہل المغفرۃ) ۔ (المدثر : 56) یعنی " وہی ہے جس سے ڈرا جائے اور وہی ہے بخشش فرمانے والا " اور اس کانہ کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے۔ اس لئے ہر طرح کی عبادت و بندگی خالص اسی کا حق ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (الاللہ الدین الخالص) (الزمر : 3) یعنی آگاہ رہو کہ اللہ ہی کا حق ہے خالص دین اور عبادت، کہ معبود برحق اور مطاع مطلق بہرحال وہی اور صرف وہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 16:53–54104۔ ہر نعمت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو بھی کوئی نعمت تمہیں حاصل ہے (اے لوگو) وہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ خواہ کوئی ظاہری نعمت ہو یا باطنی۔ حسی یا معنوی۔ چھوٹی ہو یا بڑی۔ تمہیں معلوم ہو یا نہ ہو کہ کتنی ہی نعمتیں اس کائنات میں اور خودہمارے جسموں کے اندر ایسی ہیں جن کا انسان کو علم بھی نہیں تھا۔ اور جوں جوں اس کا علم و تجربہ ترقی کرتا گیا اس کو ان کا علم ہوتا گیا۔ سو کتنی ہی نعمتیں اور عظیم الشان نعمتیں ایسی ہیں جن کا علم و ادراک انسان کو ماضی میں نہیں تھا مگر آج وہ ان کو اپنے علم و تجربے کی بناء پر جانتا اور اس سے طرح طرح متمتع و مستفید ہورہا ہے۔ اور نت نئے انکشافات اور تجربات سے کام لے رہا ہے۔ اور جوں جوں اس کے علم و ادراک کا دائرہ بڑھتا اور وسیع ہوتا جائے گا توں توں اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا جائے گا اور اس کے انکشافات کا دائرہ بھی وسیع ہوتاجائیگا۔ اور خدا ہی جانے کہ کتنی ہی نعمتیں ایسی ہیں جن سے انسان متمتع ہوتا رہا ہے اور ہورہا ہے مگر اس کو ان کا پتہ ابھی تک بھی نہیں۔ اور یہ سب کچھ قدرت نے انسان کی طرف سے کسی اپیل و درخواست کے بغیر ازخود اپنے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت سے کیا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سے باوجود اس کی اطاعت و بندگی اور اس کے حق شکر سے منہ موڑنا اور غفلت برتنا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اس واہب مطلق کی بخشش وعطاء میں ایسی دوسری ہستیوں اور خود ساختہ چیزوں کو شریک ماننا جن کا ان نعمتوں کے وجود اور ان کی بخشش میں سرے سے کوئی دخل ہی نہیں کتنا بڑا ظلم اور کس قدر ناانصافی ہے ؟ اور یہ سب کچھ سوائے توہم پرستی اور خود ساختہ تصورات ومفروضوں کے کسی بھی اساس و بنیاد پر نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ کفر و شرک کی کوئی اساس و بنیاد ہو ہی نہیں سکتی ہے ؟ (ومن یدع مع اللہ الہا اخر لابرھان لہ بہ فانما حسابہ عندربہ) سو ایسے میں اس طرح کہنا اور ماننا کہ یہ نعمتیں اللہ نے نہیں فلاں نے دی ہیں کس قدر زیادتی اور کتنا بڑا ظلم اور کتنی بڑی بےانصافی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ رب اوزعنی ان اشکرنعمتک التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صالحا ترضہ لی یا ارحم الراحمین ویا ذالجلال والاکرام۔ بہرکیف نعمت تمہیں ملی ہے اے لوگو وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ پس تم ہمیشہ اسی کا شکر ادا کرواسی کے حضور جھکو اور اسی کی عبادت و بندگی سے سرفراز وشاد کام رہو۔ وباللہ التوفیق۔ یہی ان نعمتوں کا حق اور اسی میں تمہارا بھلا ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 16:55–56106۔ مشرک انسان کی احسان فراموشی اور بےانصافی کا ایک نمونہ ومظہر : کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کرم اور اس کی رحمت و عنایت سے چھٹکارا پاتے ہی شرک کرنے لگتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرما گیا کہ پھر یکایک ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ جس کی بنا پر کوئی اس نعمت کو اپنی کسی دیوی دیوتا اور اپنے بتوں میں سے کسی بت کی طرف منسوب کرتا ہے۔ کوئی اسے اپنی کسی دوسری خود ساختہ سرکار کی کارستانی قرار دیتا ہے۔ کوئی اسے اور کسی درگاہ اور آستانے کا فیض بتاتا ہے اور کوئی اسے اور کسی زندہ یا مردہ ہستی کی حاجت روائی ومشکل کشائی کا ثمرہ قرار دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور پھر ایسے مشرک لوگ اپنے اس منعم حقیقی اور واہب مطلق۔ جل جلالہ۔ کی بجائے اپنے ان ہی فرضی معبودوں اور من گھڑت دیویوں، دیوتاؤں اور خود ساختہ سرکاروں کی طرف رجوع کرتے اور ان کو خوش کرنے کے لئے ان کے نام کی نذریں مانتے نیازیں دیتے چڑھاوے چڑھاتے، دیگیں پکاتے اور جھوٹے من گھڑت اور بناوٹی قصے بناتے اور پھیلاتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اس رب غفور ورحیم نے اپنے حلم وکرم بےپایاں اور اپنی رحمت بےنہایت سے اس انسان کو ڈھیل دے رکھی ہے۔ فسبحانہ وتعالیٰ اکرم الاکرمین وارحم الراحمین۔ سو کس قدر بےانصاف، ظالم اور ناشکرا ہے یہ انسان جو کہ اپنے خالق ومالک سے منہ موڑ کر اس طرح کی فرضی اور وہمی چیزوں کے آگے جھکتا اور اپنی تذلیل و تحقیر کا سامان خود کرتا ہے۔ اور اپنے رب کے حق بندگی سے غفلت برتتا ہے فصدق اللہ القآئل (ان الانسان لربہ لکنود) یعنی بلاشبہ انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
107۔ منکرین کے لئے ایک تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین و مشرکین کو خطاب کرکے ان کی تنبیہ و تذکیر کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ یعنی دنیا کی اس چند روزہ زندگی میں جو کہ بہرحال عارضی اور فانی ہے۔ اور اصل اور حقیقی زندگی تو بہرحال آخرت ہی کی زندگی ہے۔ جس کو نہ فنا ہے نہ زوال اور جس کی نعمتیں دائمی اور ابدی ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں دنیائے دوں کی یہ فانی زندگی کچھ بھی نہیں۔ خواہ یہ کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہوجائے آخرت کے مقابلے میں بہرحال قلیل اور اتنی قلیل ہے کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ سو بڑے ہی خسارے میں ہیں وہ لوگ جو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کے مقابلے میں دنیائے فانی کی اس عارضی زندگی کو ہی اپنا مقصود اور نصب العین بنائے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے مشرکوں کے شرک کا نتیجہ بیان فرمایا گیا ہے اس طرح ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئے نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرکے کفران نعمت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور اپنے خود ساختہ مشکل کشاؤں اور من گھڑت حاجت رواؤں کی کارستانیوں سے متعلق من گھڑت اور جھوٹے قصے سنا سنا کر اپنے کاروبار کفر و شرک کو اور بڑھاتے پھیلاتے ہیں۔ اپنی دکانیں چمکاتے اور طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہیں۔ سو فرمایا گیا کہ تم لوگ یہ چند روزہ فائدے اٹھالو کہ حیات دنیا کی یہ فرصت خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں یہ ہیچ اور نہ ہونے کے برابر ہے عن قریب تم کو خود معلوم ہوجائے گا کہ تمہارے ان کرتوتوں کا نتیجہ وانجام کیا نکلتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
108۔ منکرین کا معاملہ ان کے انجام کے حوالے : سو منکرین و مشرکین سے فرمایا گیا کہ دنیا کی عارضی، فانی اور ناقص وبے حقیقت لذتوں اور شہوتوں کے پیچھے لگ کر اور آخرت کی حقیقی اور دائمی نعمتوں کو بھلا کر تم نے اپنا کس قدر نقصان کیا تھا۔ والعیاذ باللہ۔ اور اس طرح تم لوگوں نے کتنے بڑے خسارے کا سودا کیا تھا اور متاع زندگی کو تم نے کس قدر غلط اور ناقص مقصد میں لگایا تھا مگر اس وقت کے اس علم سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے آتش حسرت و افسوس میں اضافے کے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ علامہ جمال القاسمی الدمشقی فرماتے ہیں کہ اس ابہام میں بہت بڑی ہولناکی مضمر ہے کہ اس میں اس طرف اشارہ اور تعریض سے کہ غیب میں پوشیدہ وہ انجام اتنا ہولناک ہوگا کہ الفاظ کہ و کلمات اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ (محاسن التاویل) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayahs 16:57–58112۔ مشرکوں کی مت ماری کا ایک اور نمونہ ومظہر : سو اس سے مشرکوں کی مت ماری اور شرک کے گھناؤنے پن کے ایک اور مظہر و نمونہ کو پیش فرمایا گیا ہے۔ کہ یہ اللہ کے لئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں مگر اپنے لیے یہ لوگ وہ کچھ مقرر کرتے ہیں جو خود چاہتے۔ یعنی لڑکے۔ سو اس طرح یہ لوگ بدتمیزی پر بدتمیزی کا ارتکاب کرتے ہیں کہ اول تو اس وحدہ لاشریک کے لئے کسی طرح کی اولاد تجویز کرنا ہی کفر وباطل ہے کہ وہ اس طرح کہ ہر تصور سے پاک وبالا ہے۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ کہ اس کی شان (لم یلد ولم یولد) کی ہے۔ اور " اس کی نہ کوئی بیوی ہے نہ اولاد ‘۔ (ما اتخذ صاحبۃ ولاولدا) ۔ پھر اس کے لیے اولاد بھی وہ تجویز کرتے ہیں جو انکو خود اپنے لئے گوارا نہیں۔ یعنی بیٹیاں، سو یہ کتنی بڑی حماقت اور کس قدر بڑی جہالت ہے ان لوگوں کی جس کا ارتکاب یہ لوگ اس لاپرواہی سے حضرت حق۔ جل جلالہ۔ کی ذات اقدس واعلی کے بارے میں کرتے ہے۔ (الکم الذکر ولہ الانثی، تلک اذ قسمۃ ضیزی) فتعالی اللہ عما یقولون علوا کبیرا۔ سو یہ ان مشرکوں کی مت ماری اور ان کے کردار کے گھناؤنے پن کا ایک کھلا مظہر اور نمونہ ہے۔ سو کفر و شرک کی نحوست سے انسان کی مت ایسے ماری جاتی ہے کہ وہ اندھا اور اوندھا ہو کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:59113۔ برے لوگوں کے برے فیصلے۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑے ہی برے ہیں وہ فیصلے جو یہ لوگ کرتے ہیں کہ بچی کی پیدائش کو اللہ تعالیٰ کی ایک رحمت وبخشش سمجھنے کی بجائے اسے عذاب مصیبت قرار دیتے ہیں۔ اور پھر جس کو یہ خود اپنے لیے گوارا نہیں کرتے اس کو خدائے پاک کے لیے تجویز کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ اول تو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا ہی بہت برا اور نہایت سنگین جرم ہے کہ وہ ایسے ہر تصور سے پاک اور اعلی وبالا ہے پھر ظلم بالائے ظلم اور حماقت در حماقت کہ اس کے لیے یہ لوگ اولاد بھی وہ تجویز کرتے ہیں جس کو یہ خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔ یعنی بیٹیاں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کتنا برا اور کس قدر ظالمانہ فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:60114۔ ایمان سے محروم لوگوں کے لیے بڑی بری مثال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی بری مثال ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر۔ سو ایمان بالآخرت سے محرومی شروفساد کا وہ منبع ومصدر ہے جس سے آگے طرح طرح کی برائیاں پھوٹتی ہیں۔ جس کی ایک مثال ان کا یہی اعتقاد ہے کہ وہ اللہ پاک کے بارے میں بیٹیاں تجویز کرتے ہیں پس یہاں سے معلوم ہوا کہ عقیدہ آخرت سے محرومی ہر شروفساد کی جڑ بنیاد اور اس کا اصل باعث و محرک ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ اس محرومی کے نتیجے میں انسان پٹڑی سے اتر جاتا ہے اور وہ راہ راست سے بھٹک کر طرح طرح کی پگڈنڈیوں میں دھکے کھانے اور ذلیل ہونے لگتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور خاص کر جب یہ لوگ آخرت کا انکار کرکے صرف دنیا ہی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں تو پھر ان میں کسی خوبی و کمال کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ کیونکہ دنیا کے بارے میں فرمایا گیا " الدنیا جیفۃ وطالبھاکلاب، کہ دنیا ایک مردار ہے اور اس کے طالب کتے " بلکہ یہ لوگ تو ان دنیاوی کتوں سے بھی کہیں بڑھ کر اور بدتر ہیں۔ کیونکہ دنیا کے معروف کتوں کو تو عقل کا جوہر نہیں بخشا گیا۔ اس لیے وہ حقیقی خیروشر کے فہم و ادراک سے قاصر ہیں۔ جبکہ بطن وفرج کی شہوات و خواہشات کے مارے ان ابنائے دنیا کو عقل وفکر کے اس گوہر نایاب سے نوازا گیا تاکہ یہ اس کو اس کے صحیح مصرف میں لگاکر اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کریں اور اس پر ایمان لاکر اور اس کی ہدایات وتعلیمات کو اپنا کر اپنے لیے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان کریں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس عقل کے اس جوہر نایاب کو بھی بطن وفرج کی خواہشات کی تحصیل و تکمیل کے تقاضوں میں صرف کرکے اس کا بھی بیڑا غرق کردیا۔ اور اس طرح یہ بدبخت انسان ایسا اندھا اور اس طرح اوندھا ہوگیا کہ اس نے اپنی فطرت کے نور کو بھی گل کردیا اور یہ مہیب گھٹا ٹوپ اندھیروں میں (خسرالدنیا والاخرۃ) کا مصداق بن گیا جو کہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ دنیا کا معروف کتا تو اپنے مالک مجازی کو پہچانتا ہے اور اس کی وفاداری میں کبھی وہ اپنی جان تک کی بازی لگا دیتا ہے لیکن انسانی اشکال و لباس میں چھپے ہوئے یہ کتے تو اپنے خالق ومالک حقیقی کے بھی باغی وسرکش بن کر " شرالبریہ " بدترین مخلوق بن جاتے ہیں۔ سو اس سے بڑھ کر بری مثال اور کیا ہوسکتی ہے جو ان منکرین آخرت پر چسپاں ہورہی ہے ؟ سو نور ایمان و یقین سے محرومی ہر خیر سے محرومی اور انتہائی ہولناک محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
115۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے سب سے عمدہ مثال : کہ کمال مطلق اسی کے لیے ہے۔ اور وحدہ لاشریک ہی ہے جو ہر نقص وعیب سے پاک اور ہر خوبی و کمال سے متصف ہے۔ اور اس کون ومکان میں جو بھی اور جہاں بھی کوئی خوبی و کمال موجود ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کے وجود باجود اور بخشش وعطا ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ فسبحان اللہ وبحمدی سبحان اللہ العظیم۔ وہ اپنی ذات میں آپ محمود اور ہر تعریف کا حق دار ہے۔ سو ایسی حکمتوں بھری عظیم الشان کائنات کی تخلیق اور اتنی گوناں گوں اور بےحدوحساب مخلوق کو پیدا کرنا اس کے لوازمات زندگی کو اس کے لیے مہیا کرنا اور اس کثرت وبہتات سے مہیا کرنا کہ ہر چیز اپنے وجود کے تقاضوں کو بسہولت پورا کرسکے وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے کمال مطلق قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ وغیرہ صفات علیا اور اسماحسنی کے عظیم الشان مظاہر ہیں۔ جو حکمتوں بھری اس کائنات میں ہر چہار سو پھیلے بکھرے دعوت غور و فکر دے رہے ہیں۔ تو کیا اس کمال مطلق کا وجود کسی بھی درجے میں اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کے لیے ممکن ہوسکتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ قطعا نہیں۔ فصدق اللہ القائل۔ (وللہ المثل الاعلی) سو وہی معبود برحق ہے۔ (ولہ الحمد فی الاولی والاخرۃ) سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 16:61116۔ اللہ تعالیٰ کی شان عفو و درگذر کا ایک نمونہ ومظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ان کے ظلم پر پکڑنے لگتا تو زمین پر چلنے والے ایک جاندار کو بھی باقی نہ چھوڑتا۔ مگر وہ ایسے نہیں کرتا بلکہ لوگوں کو ڈھیل پر ڈھیل دئے جارہا ہے جو محض اس کا کرم ہے۔ ورنہ ایساکون ہے جو قصور وعیب سے پاک ومبرا ہو ؟ پس یہ اس کا کرم واحسان اور عفو وحلم ہے کہ اس نے سب کو چھوڑا ہوا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ اس وحدہ لاشریک کی شان کرم اور عفو و درگزر کا ایک عظیم الشان نمونہ ومظہر ہے جس کے شکر میں بندوں کو دل وجان سے اس کے حضور جھک جانا چاہیے۔ اور ظالموں اور سرکشوں کو اس کے اقبال سے کبھی کسی غلط فہمی میں نہیں مبتلا ہونا چاہئے کہ ظلم اور سرکشی کا نتیجہ وانجام بہرحال بہت برا ہے۔ والعیاذ باللہ۔
117۔ اللہ تعالیٰ کی ڈھیل ایک مقرر وقت تک کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان کو ڈھیل پر ڈھیل دیئے جارہا ہے کہ ایک مقررہ وقت تک کے لیے جو اس کی حکمت بےنہایت کا مقتضی ہے۔ لیکن ان کے لیے یہ ڈھیل بھی ایک خاص مدت تک کے لئے ہے جو کہ اس نے ان لوگوں کے انجام کیلئے مقرر فرما رکھی تھی۔ سو وہ جب ان کا وہ مقرر وقت آپہنچے گا تو یہ ایک لمحہ کے لیے نہ اس سے آگے ہوسکیں گے اور نہ پیچھے رہ سکیں گے۔ سو وہ لوگوں کو ان کے ظلم کے باوجود ڈھیل پر ڈھیل دیے جارہا ہے تاکہ جنہوں نے توبہ واستغفار سے اپنی اصلاح کرنی ہو وہ کرلیں اور جنہوں نے نہ کرنی ہو وہ اپنا پیمانہ بھر کر اپنے آخری انجام کے لیے تیار ہوجائیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔
Ayah 16:62118۔ مشرکوں کی حماقت و جہالت کا ایک اور نمونہ اور مظہر : کہ یہ لوگ اللہ کے لئے وہ کچھ تجویز کرتے ہیں جو خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے۔ جیسے بیٹیاں اور طرح طرح کے شریک۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جبکہ خود اپنے لئے یہ لوگ نہ بیٹیاں پسند کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی حکومت و ریاست اور اپنی ملکیت میں دوسرے کسی کی شرکت گوارا کرتے ہیں۔ سو یہ ان لوگوں کی جہالت در جہالت اور حماقت پر حماقت ہے جس کا ارتکاب یہ اس طرح کرتے ہیں اور اپنی مت ماری کی بناء پر یہ نہیں سمجھ رہے کہ اس طرح یہ لوگ اپنے لئے کتنی بڑی ہلاکت و تباہی کا سامان کررہے ہیں۔ اور اس کا بھگتان ان کو کس قدر ہولناک شکل میں بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین۔
119۔ اہل باطل کا ایک دعوائے باطل : سو یہ اہل باطل کا ایک باطل اور بیہودہ دعوی ہے کہ آخرت کی وہ بھلائی بھی ہمارے ہی لئے ہے جو کہ سب سے بڑی اور حقیقی بھلائی ہے کہ دنیاوی مال ودولت اور جاہ ومنصب وغیرہ بالعموم انہی کو ملا ہوا ہے پس اگر وہ اللہ کے یہاں محبوب اور اس کے پیارے نہ ہوتے توانکو یہ سب کچھ آخرکیوں ملتا ؟ جیسا کہ ان کا کہنا تھا۔ (ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی) ۔ الایۃ (حم السجدۃ : 50) سو اس طرح دنیاوی مال ودولت کا یہ پہلو انسان کے لئے سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہوتا ہے کہ اس سے وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتا ہے اور اس طرح وہ راہ حق وصواب سے اور دور اور بالآخر ہمیشہ کے لیے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہلاکت و تباہی کے اس دائمی گڑھے میں جاگرتا ہے۔ جس سے نکلنے کی اس کے لئے پھر کوئی صورت ہی ممکن نہیں رہتی اور وہ دائمی خسارے میں مبتلا ہو کر رہتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
120۔ منکرین و مشرکین کے لئے عذاب دوزخ لازم : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ ایسوں کے لئے لازما دوزخ ہے چناچہ فرمایا گیا کہ ایسا نہیں جیسا کہ انہوں نے سمجھ رکھا ہے۔ بلکہ ان کو لازما سب سے پہلے دوزخ میں جھونکا جائے گا۔ یعنی (مفرطون) کا یہ لفظ " فرط " سے ماخوذ ہے جس کے معنی آتے ہیں " پانی کے گھاٹ پر پہلے پہنچنے والا " (ابن کثیر صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو یہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ دنیاوی مال ودولت کا حاصل ہوجانا ان کے اللہ تعالیٰ کے یہاں محبوب اور مقبول ہونے کی دلیل ہے۔ اور اس بناء پر ان کو وہاں پر جنت کی نعمتیں ملیں گی۔ نہیں بلکہ اس کے برعکس انکو وہاں سب سے پہلے اور لازما دوزخ میں جانا ہوگا کہ جس طرح دنیا میں ایسے لوگ اپنے کفر وباطل میں پیش پیش اور سب سے آگے تھے اسی طرح وہاں پر بھی یہی سب سے آگے ’ گے دوزخ میں داخل ہونگے۔ جیسا کہ فرعون کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ قیامت کے روز اپنی قوم کے آگے آگے چلتا اور ان کی پیشوائی کرتا ہوا ان کو سیدھا لے جاکر دوزخ کے اس ہولناک گڑھے میں ڈالے گا جو سب سے ہولناک گڑھا اور بدترین گھاٹ ہوگا۔ (یقدم قومہ یوم القیامۃاور ہم الناروبئس الورد المورود) (ھود : 98) سو بروں کی پیشوائی بھی بری اور ان کی پیشوائی میں چلنا بھی برا اور ان کا نتیجہ وانجام بھی نہایت برا اور انتہائی ہولناک۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین۔
Ayah 16:63121۔ اہل کفر وباطل کے لئے شیطان کی تزیین وتسویل ذکر وبیان۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پہلی امتوں کو بھی انبیائے رسل کے ذریعے حق کی دعوت دی گئی مگر شیطان نے ایسا خوشنما بنادیا ان کے لئے ان کے اعمال کو یہ وہ قبول حق کے لئے تیار نہ ہوئے۔ معلوم ہوا کہ برائی کو اچھائی کی شکل میں دکھانا شیطان کا کام اور اس کا پرانا اور معروف حربہ ہے۔ خواہ وہ جنوں میں ہوں یا انسانوں میں سے۔ سو اس سے ان اہل زیغ وضلال اور اصحاب فتنہ و فساد کو اپنے بارے میں سوچنا اور غور کرنا چاہئے جو کہ طرح طرح کی بدعات و خرافات اور شرکیات کو دین ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی تحریفات وتلبیسات سے کام لیتے ہیں۔ اور انہوں نے سادہ لوح عوام کو اپنے پیچھے لگا رکھا ہے۔ ان کو اپنے بارے میں سوچنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں ؟ کس راہ پر گامزن ہیں ؟ اور انجام کار وہ کہاں پہنچنے والے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف لوگوں کی گمراہی کا ایک بڑا اور بنیادی سبب یہی رہا کہ شیطان نے ان کے برے اعمال کو ان کے لئے خوشنما بنادیا۔ جس کی بناء پر اہل باطل اپنے آپ کو ٹھیک کہتا اور درست سمجھتا ہے تو ایسے میں وہ اپنی برائی کو چھوڑے تو کیسے اور کیونکر ؟ سو تزیین شیطان ضلالت و گمراہی کا ایک سبب رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے اور اس کی بناء پر کتنے ہی لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں۔ سو دعوت حق و ہدایت سے منہ موڑنا اور اعراض و روگردانی برتنا خساروں کا خسارہ اور دائمی ہلاکت و تباہی کا پیشہ خیمہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔