16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 16:81–83

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور اللہ نے اپنی پیدا کردہ بہت سی چیزوں سے تمہارے لئے طرح طرح کے سایوں کا بھی بندوبست کردیا، اور اسی نے تمہارے لئے پہاڑوں سے (مضبوط) پناہ گاہیں بھی بنادیں، اور تمہارے لئے ایسی پوشاکیں بھی مہیا فرما دیں، جو تمہیں بچاتی ہیں گرمی (اور سردی) سے، اور ایسی پوشاکیں بھی، جو تمہاری آپس کی لڑائی کے دوران تمہاری حفاظت کرتی ہیں، اللہ اسی طرح تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے تاکہ تم لوگ فرمانبردار بن جاؤ،1

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

پھر بھی اگر یہ لوگ (راہ حق سے) پھرے ہی رہیں تو یقیناً (اس میں اے پیغمبر ! آپ کا کوئی قصور نہیں کہ) آپ کے ذمے تو بس پہنچا دینا ہے (حق کو) کھول کر، (اور بس)

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ لوگ پہنچانتے ہیں اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو، پھر بھی ان کا انکار کرتے ہیں، اور اکثر لوگ تو ہیں ہی کفر (اور ناشکری) کا ارتکاب کرنے والے،2

167۔ سایوں کی نعمت کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ نے اپنی پیدا کردہ چیزوں سے تمہارے لیے طرح طرح کے سایوں کا بھی انتظام فرمایا۔ مکانوں، چھپروں، پہاڑوں، غاروں اور درختوں اور بادلوں وغیرہ کے ذریعے۔ تاکہ تم لوگ دھوپ کی تپش و تمازت سے بچ سکو اور طرح طرح کے ان سایوں کے اندر تم آرام کرسکو اور ٹھنڈی میٹھی نیند سو سکو۔ ورنہ تمہارا کیا حال ہوتا۔ تپتی دھوپ اور لو کے اندر تم جھلس کر رہ جاتے۔ سو اس گرمی اور لو سے بچنے کیلئے جب کسی ٹھنڈے پر سکون سائے میں بیٹھوتوسوچو کہ اس ٹھنڈے پر سکون اور راحت بخش سائے کی اس نعمت سے ہمیں کس نے نوازا وہ کیسی قدرت وحکمت اور رحمت و عنایت والی ذات ہے ؟ اور اس کا ہم پر کیا حق ہے۔ ؟ اور اسکا وہ حق ہم کس طرح ادا کرسکتے ہیں ؟ سو وہی ہے اللہ خالق ومالک حقیقی اور معبود برحق۔ اور اس کا حق یہ ہے کہ اپنا چہرہ اس مالک کے آگے ڈال دیا جائے اور اپنے آپ کو اس کے حکم وارشاد اور اس کی رضاء و خوشنودی کے تابع کردیا جائے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق وھو الھادی الی سواء السبیل۔ 168۔ پہاڑی پناہ گاہوں میں سامان عبرت و بصیرت : سو اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور اسی نے تمہارے لیے پہاڑوں سے طرح طرح کی پناہ گاہیں بھی بنادی۔ یعنی قسماقسم کی وہ غاریں جو تمہیں سردی و گرمی سے بھی بچاتی ہیں اور دشمن کے وار سے بھی۔ جیسا کہ آج جہاد افغانستان کی زندہ مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ نہتے مجاہدین نے انہی پہاڑوں اور غاروں کی مدد سے اور اپنی ناقابل شکست قوت ایمانی کی بناء پر دور حاضر کی سب سے بڑی شیطانی سپرپاور روس کو ذلیل وخوار کرکے اپنے مالک سے نکال باہر کیا اور اس پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ اس کا وجود ہی ٹکڑے ٹکڑے اور پاش پاش ہوگیا۔ اور وہ دنیا کیلئے نشان عبرت بن گیا۔ والحمد اللہ۔ سو تم لوگ سوچو کہ جگہ جگہ پائے جانے والے عظیم الشان پہاڑی سلسلوں میں پائی جانے والی قسم قسم کی مضبوط ومستحکم اور بےحدوحساب غاروں کو بنایا کس نے ؟ جن سے تمہارے طرح طرح کے عظیم الشان فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ سو وہ کیسی قادر مطلق اور حکیم مطلق ذات ہے جس کی نہ قدرت وحکمت کی کوئی حد و انتہا ہے اور نہ اس کی رحمت و عنایت کی کوئی غایت ونہایت۔ سو وہی اللہ وحدہ لاشریک معبود برحق۔ اور وہی اس کا حق دار ہے کہ اپنی گردن اس کے آگے ڈال دی جائے۔ یہ اس کا حق بھی ہے اور اسی میں بندے کی بہتری بھی ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی۔ وباللہ التوفیق۔ 169۔ تمہارے لباسوں میں سامان عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور طرح طرح کی ایسی پوشاکیں بھی جو تم کو گرمی سے بچاتی ہیں اس نے تم لوگوں کو بخشی ہیں " جو تم لوگوں کو گرمی بھی بچاتی ہیں اور سردی سے بھی۔ کیونکہ جو پوشاک گرمی سے بچائے گی وہ سردی سے بھی بچائے گی۔ لیکن ذکر صرف گرمی کا فرمایا گیا کہ ضدین میں سے ایک کا ذکر دوسرے کو مستلزم ہوتا ہے۔ اور دوسرے اس لئے کہ عربوں کے یہاں جو کہ اس کتاب حکیم کے اولین مخاطب تھے اور ہیں۔ انکے یہاں اصل مسئلہ گرمی سے بچاؤکاہی تھا کہ سردی تو وہاں اتنی شدید ہوتی ہی نہیں۔ الا نادرا۔ (جامع، صفوۃ۔ محاسن، مراغی اور ابن کثیر وغیرہ) بہرکیف طرح طرح کی پوشاکیں مہیا کرنے کی یہ نعمت ایک اور عظیم الشان نعمت ہے جس سے قدرت نے تمہیں نوزا ہے " سرابیل "، " سربال " کی جمع ہے۔ جس کے معنی قمیص کے بھی آتے ہیں اور مطلق لباس کے بھی۔ یہاں پر اس کے یہی معنی مراد ہیں۔ سو لباس کی یہ نعمت بھی قدرت کی ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ والحمد للہ۔ 170۔ تمہاری زرہوں کے اندر بھی درس عبرت و بصیرت ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ایسی پوشاکیں بھی جو لڑائی کے دوران تمہاری حفاظت کرتی ہیں " یعنی لوہے وغیرہ کی وہ زرہیں جو تم لوگ لڑائی میں پہنتے ہو۔ دشمن کے وار سے بچنے کیلئے۔ اور لوہے کے ان لباسوں یعنی زرہ وغیرہ کا استعمال قدیم زمانے میں چلا آرہا ہے۔ سو یہ قدرت کی کتنی عنایت ہے تم پر اے لوگوں۔ سوزرہ سازی میں کام آنیوالے خام مواد کو بھی اسی خالق کل مالک مطلق نے پیدا فرمایا۔ اور اتنی بےحد وحساب مقدار میں پیدا فرمایا۔ اور جگہ جگہ اس کے ذخیروں کے ذخیرے رکھ دیے۔ اور تم کو عقل کے اس جوہر سے بھی اسی نے نوازا جس کے ذریعے تم لوگ یہ سب کام کرتے ہو۔ سو ان تمام نعمتوں کا تقاضایہ ہے کہ تم لوگ دل وجان سے اپنے اس خالق ومالک کے آگے جھک جاؤ اور ہمیشہ جھکے ہی رہو۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید : 171۔ عطاء نعمت کا تقاضا قدر نعمت اور شکرمنعم : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان عظیم الشان نعمتوں کا تقاضا ہے کہ تم لوگ ان کی قدر کرو۔ منعم حقیقی کا شکر ادا کرو۔ تاکہ تم لوگ فرمانبردار بن جاؤ اپنے خالق ومالک اور واہب مطلق کے۔ اور دل وجان سے اس وحدہ لاشریک کے حضور جھک جاؤ۔ اور اس طرح تم دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوجاؤ۔ وباللہ التوفیق وھو المیسر بکل عسیر۔ بہرکیف اس خالق ومالک کی بخشی ہوئی طرح طرح کی ان نعمتوں کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ تم لوگ دل وجان سے جھک جاؤ اس واہب مطلق کے حضور کہ یہ اس کا حق بھی ہے جو اس کے بندوں پر واجب ہوتا ہے اور اسی میں ان کا بھلا بھی ہے۔ اس دنیا میں بھی آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی کہ اس سے ایک طرف تو ان نعمتوں میں خیر وبرکت اور بڑھوتری نصیب ہوگی اور دوسری طرف اس سے آخرت کے اجروثواب کی دولت بھی ملے گی۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 16:84–86

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور (وہ دن بھی یاد کرو، اے لوگو ! جس دن کہ ہم ہر امت سے ایک گواہ کھڑا کریں گے پھر ان لوگوں کو جو کہ (زندگی بھر) اڑے رہے ہوں گے اپنے کفر (و باطل) پر، نہ ان کو (کسی عذر و معذرت کی) کوئی اجازت دی جائے گی، اور نہ ہی ان سے (اپنے رب کو) راضی کرنے کا کوئی مطالبہ کیا جائے گا،3

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جو کہ (دنیا میں) اپنے ظلم پر ہی کمربستہ رہے تھے دیکھ لیں گے (دوزخ کے اس ہولناک) عذاب کو، تو نہ وہ ان سے ہلکا کیا جائے گا، اور نہ ہی ان کو (کوئی) مہلت دی جائے گی

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب دیکھیں گے مشرک لوگ اپنے (خود ساختہ) شریکوں کو، تو وہ (چھوٹتے ہی) کہیں گے، اے ہمارے رب، یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم (دنیا میں پوجا) پکارا کرتے تھے تیرے سوا، تو اس پر وہ (شرکاء) پھینک ماریں گے بات ان پر کہ تم لوگ سراسر جھوٹے ہو،

175۔ روز قیامت کی تذکیرویاد دہانی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” یاد کرو اس عظیم الشان اور ہولناک دن کو کہ جس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ کھڑاکریں گے “ جو ان کے اعمال و کردار کے بارے میں گواہی دیگا تاکہ ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ مل سکے۔ اور اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے اپنی آخری شکل میں اور کامل طور پر پورے ہوسکیں، اور گواہ سے مراد ہر امت کا پیغمبر ہے جو اپنی امت کے بارے میں یہ گواہی دے گا کہ دعوت حق کے جواب میں ان لوگوں نے کیا کیا اور کیا کہا تھا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل جامع البیان اور مراغی و معارف وغیرہ) سو اس ہولناک دن کو ہمیشہ یاد رکھو اے لوگو اور اس کیلئے تیاری کرو کہ اس کیلئے تیاری کا موقع اور اس کی فرصت یہ دنیاوی زندگی ہے اور بس۔ اس کے بعد اس کیلئے تیاری کا پھر کوئی موقع نہیں ہوگا وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید۔ 176۔ قیامت کے روز کسی کے لئے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگئی :۔ سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ وہاں کسی کو کسی عذرومعذرت کی کوئی اجازت نہ ہوگی۔ چناچہ فرمایا گیا کہ ” کافروں کو وہاں پر کسی عذر و معذرت کی کوئی اجازت نہیں دی جائے گی “ کہ ان کیلئے کسی عذر کی کوئی گنجائش ہوگی ہی نہیں۔ (جامع البیان وغیرہ) کیونکہ اللہ ان کے سب کرتوتوں سے پوری طرح واقف وآگاہ ہوگا۔ اور حضرات انبیائے کرام کی گواہی ان کیلئے فیصلہ کن ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (فلنسئلن الذین ارسل الیہم والنسئلن المر سلین۔ (الاعراف : 6) یعنی ” ہم نے ضرور بالضرور پوچھنا ہے ان لوگوں سے جنکی طرف رسولوں کو بھیجا گیا اور ہم نے ضرور پوچھنا ہے رسولوں سے “ اور یہ مضمون اس کے علاوہ اور بھی کئی مقامات پر بیان فرمایا گیا ہے۔ 177۔ اور نہ ہی کسی سے راضی کرنے کو کہا جائے گا :۔ یعنی نہ ہی ان سے اپنے رب کو راضی کرنے کا کہا جائے گا۔ توبہ واستغفار وغیرہ کے ذریعے۔ جیسا کہ دنیا میں ان سے کہا جایا کرتا تھا کہ وہ جہاں ” درالجزاء ہوگا نہ کہ ” دارالعمل “ یہ لفظ ” عتبی “ سے ماخوذ ومشتق ہے۔ جس کے معنی رضاء رجوع کرنے اور لوٹنے کے آتے ہیں۔ اور ” استعتاب “ کے معنی ہوں گے کسی سے راضی کرنے اور رجوع کا مطالبہ کرنا۔ یعنی یہ کہ جس ناراضگی اور دکھ دہی کا تم نے ارتکاب کیا اس سے رجوع کرو اور معافی مانگو۔ اور اس طرح اپنے رب کو راضی کرو۔ (محاسن، صفوۃ، مراغی وغیرہ) ۔ سو قیامت کے روز اس کا کوئی موقع نہیں ہوگا۔ سو اس روز اس طرح کے کسی سوال اور مطالبے کا کوئی موقعہ نہیں ہوگا کہ اس سب کا موقعہ گزر چکا ہوگا۔ جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا ” فمابعد الموت من مستغتب ولابعد الدنیا من دار الا الجنۃ والنار ” یعنی “ نہ موت کے بعد کسی کے لئے رب کو راضی کرنے کی کوئی صورت ممکن ہوگی اور نہ ہی دار دنیا کے بعد کسی کیلئے کوئی گھر ہوگا سوائے جنت کے یا دوزخ کی آگ کے “۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آخرت کیلئے کمائی کا موقع اسی دنیاوی زندگی میں ہے اور بس۔
Ayah 16:87

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور سب جھک جائیں گے اس روز اللہ کے حضور، (اور ختم ہوجائے گی ان کی سب اکڑ فوں) اور رفو چکر ہوجائیں گی ان کی وہ سب افتراء پردازیں (اور حجت بازیاں) جن سے یہ لوگ (دنیا میں) ، کام لیا کرتے تھے،

182۔ اہل کفر وباطل کی تمام افتراء پردازیاں اس روز تتر بتر :۔ سوکشف حقائق کے اس یوم عظیم میں اصل صورت سامنے آجائے گی۔ اور کھو جائیں گی ان کی وہ سب افتراء پردازیاں جو یہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔ کہ یہ ہمرے حاجت روا مشکل کشا ہیں۔ ہمیں کسی کی پرواہ نہیں کہ ہم فلاں فلاں ہستیوں کے نام لیوا اور پیرو کار ہیں۔ ہم ان کے در کے کتے ہیں اور اس بناء پر وہ فخریہ طور اپنے آپ کو ” سگ درگاہ فلاں “ کہا کرتے تھے۔ اور ان کا کہنا ہوتا کہ یہ بڑی پہنچی ہوئی سرکاریں ہیں۔ یہ اڑ کر بیٹھ جائینگی اور ہمارا کام بنا کر چھوڑ دیں گی وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس طرح مشرکوں کی تمام افتراء پردازیاں اس روز ھباء منثورا ہو کر رہ جائیگی۔ اور ان کے لئے کیس عذرومعذرت کی کوئی گنجائش نہ ہوگی۔
Ayah 16:88

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا (دنیا میں) اور انہوں نے روکا ہوگا اللہ کی راہ سے، انھیں ہم عذاب پر عذاب دیں گے، اس فساد (اور فتنہ انگیزی) کے بدلے میں جو وہ (دنیا میں) برپا کرتے رہے تھے،1

183۔ لیڈر ان کفر و شرک کی حق دشمن کاروائیاں :۔ کہ یہ لوگ نورحق و ہدایت سے خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس سے روکتے ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ” جنہوں نے روکا ہوگا اللہ کی راہ سے “ اپنے کفر وباطل کی ظاہری چمک دمک، جھوٹے ٹھاٹھ باٹھ، من گھڑت فلسفہ طرازیوں بہتان بازیوں اور دھونس دھاندلی وغیرہ وغیرہ کے ذریعے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس طرح دوسروں کو بھی راہ حق و ہدایت سے روک کر یہ لوگ اپنی محرومی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی محرومیوں کا باعث بنے ہوں گے۔ اور اس طرح انہوں نے اپنی سیاہ بختی کے داغ کو اور پکا کیا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ضلال کے ساتھ ساتھ اضلال کے دوہرے جرم کے مرتکب ہوئے 184۔ پیشوایان کفر وباطل کے لئے عذاب پر عذاب۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کیلئے عذاب پر عذاب کی سزا ہوگی۔ والعیاذ باللہ۔ ایک گمراہ ہونے کا دوسرا گمراہ کرنے کا۔ اور اس طرح وہ جرم پر جرم کے ارتکاب کی پاداش میں عذاب پر عذاب پا کر رہیں گے تاکہ اپنی کمائی کا پورا پورا صلہ وبدلہ پاس کیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آج تو ایسے لوگ اپنی اس طرح کی لیڈری پر خوش ہوتے اور اس کو اپنی چالاکی قرار دیتے ہیں لیکن یہ بدبخت نہیں سمجھتے کہ وہ ضلال اور اضلال دونوں کے مجرم قرار پا رہے ہیں جس پر ان کو عذاب پر عذاب بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 185۔ جرم افساد کی سنگینی وخطورت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو دوہرا عذاب ہوگا ان کے افساد کے باعث جس کا ارتکاب انہوں نے اپنے کفر و شرک کے ذریعے کیا، سو معلوم ہوا کہ کفر وانکار خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو ایمان و یقین صلاح و اصلاح کی اصل اواساس ہے۔ اور کفر انکار خرابی و فساد کی جڑ بنیاد۔ اگرچہ اس کے علمبردار اپنے طور پر بڑے بلند بانگ دعوے کرتے ہوں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے افساد و بغاوت یعنی کفر و شرک کے جرم کی سنگینی اور خطورت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس سے ان لوگوں کو عذاب پر عذاب بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 16:89–91

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور (وہ ہولناک دن بہر حال یاد رکھنے کا ہے کہ) جس دن ہم اٹھا کھڑا کریں گے ہر امت میں ایک گواہ ان (کے کئے کرائے) پر گواہی دینے کے لئے خود انہی میں سے، اور ہم آپ کو (اے پیغمبر) کتاب کو، کامل بیان بنا کر (ضروریات دین سے متعلق) ہر چیز کے لئے، اور سراسر ہدایت، عین رحمت، اور عظیم الشان خوشخبری کے طور پر، (اس کے حضور) سر تسلیم خم کردینے والوں کے لئے،2

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

بیشک اللہ حکم فرماتا ہے عدل (وانصاف) کا، احسان کرنے اور رشتہ داروں کو دینے کو، اور وہ روکتا ہے بےحیائی، برائی اور زیادتی سے، وہ نصیحت فرماتا ہے تمہیں تاکہ تم لوگ سبق لو، 3

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور پورا کرو تم لوگ اللہ کے عہد کو، جب کہ تم آپس میں کوئی عہد کرو، اور اپنی قسموں کو توڑنا نہیں، ان کو پکا کرنے کے بعد، درآنحالیکہ تم لوگ خود اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو، بیشک اللہ خوب جانتا ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے ہو،

186۔ روز قیامت کی تذکیر مکرر اور اس کی عظمت شان :۔ سو روز قیامت کی تذکیر مکرر کے طور پر فرمایا گیا ” اور یاد کرو اس دن کو کہ جس دن ہم اٹھا کر کھڑا کردیں گے ہر امت سے ایک گواہ انہی میں سے “ یعنی اس امت کے پیغمبر کو جو ان کے بارے میں گواہی دے گا کہ یہ لوگ ایمان لائے تھے یا نہیں۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ ) ” اور آپ ﷺ کو اے پیغمبر ان لوگوں پر گواہ بنا کرلائیں گے “ یعنی آپ ﷺ کی امت کے ان لوگوں پر کہ انہوں نے آپ ﷺ کو کیا جواب دیا تھا۔ (المراغی وغیرہ) سو اس ہولناک دن کیلئے تیاری کرو کہ اس کی تیاری کا موقع اسی دنیاوی زندگی میں ہے اور بس۔ سو اس ارشاد سے قیامت کے اس یوم عظیم کے بارے میں دوبارہ اور مکرر تذکیر ویاد دہانی فرمائی گئی جس سے اس کی عظمت شان واضح ہوجاتی ہے۔ 187۔ حضرت خاتم الانبیاء کی گواہی اپنی امت پر :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور ہم آپ ﷺ کو اے پیغمبر ! گواہ بنالائیں گے ان سب پر “ یعنی آپ ﷺ کی اپنی امت پر (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، وغیرہ) اور گواہ کیلئے جس چیز کی وہ گواہی دے اس کا علم ہونا ضروری ہوتا ہے نہ کہ وہاں موقع پر حاضر اور موجود ہونا۔ جیسا کہ ہم سب جنت اور دوزخ وغیرہ کی گواہی دیتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ الحمد للہ۔ مگر نہ ہم نے ان کو دیکھا نہ موت سے پہلے وہاں ہمارے جانے کا کوئی سوال ہے۔ پس اہل بدعت کا اس آیت کریمی سے اپنے شرکیہ عقائد پر استدلال کرنا باطل و مردود ہے۔ اور آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشاد حق ترجمان سے اس کی مزید تشریح بھی اسی طرح فرما دی ہے۔ چناچہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اس موقع پر میں وہی کہوں گا جو اللہ کے بندے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ اے اللہ میں جب تک ان لوگوں کے اندر موجود رہا ان کی نگرانی کرتا رہا اور جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا۔ اور اب اگر ان کو عذاب دیں تو بھی ٹھیک ہے کہ یہ تیرے بندے ہیں۔ اور اگر تو ان کی بخشش فرما دے تو بھی بجا، کہ تو سب پر غالب اور حکمت والا۔ ہے تجھ سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں “ (وکنت علیہم شھیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم وانت علی کل شیء شہید) (المائدۃ : 117) اس مسئلے کی مزید تفصیل کیلئے سورة بقرہ کی آیت نمبر 143 کی تفسیر و تشریح کی طرف بھی رجوع کیا جاسکتا ہے کہ وہاں اس بارے کافی تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ والحمد للہ۔ بہرکیف قیامت کے اس ہولناک دن میں ہر پیغمبر اپنی امت پر گواہ ہوگا کہ ان لوگوں نے ان کو کیا جواب دیا تھا اور ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا تھا۔ اور حضور ﷺ اپنی امت پر گواہ ہوں گے۔ یہی مضمون بعینہ سورة نساء کی آیت نمبر 41۔ 42 میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے۔ 188۔ کتاب الہی اتمام حجت کا سب سے بڑا ذریعہ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور ہم ہی نے اتارا آپ ﷺ پر اے پیغمبر اس کتاب عظیم کو “ یعنی قرآن حکیم کو۔ جس کی عظمتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔ اور جو سابقہ تمام آسمانی کتابوں کی محافظ اور نگہبان ہے۔ اور جس جیسی دوسری کوئی کتاب نہ دیکھی ہوئی ہے نہ قیامت تک کبھی ممکن ہوسکتی ہے۔ اور جو انسانوں کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے۔ اور جس کی اتباع و پیروی کے بغیر نجات کی اور کوئی صورت اب ممکن نہیں۔ سو اس ارشاد سے اتمام حجت کے ذریعے کی وضاحت فرما دی گئی کہ دنیا میں حق کی گواہی اور اتمام حجت کا ذریعہ یہی کتاب عظیم ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کے اس فرض منصبی کے تقاضے کی تکمیل کیلئے ہم نے آپ پر اس کتاب عظیم کو نازل کیا ہے کہ اس کے نزول اور اس کی تعلیم و تبلیغ کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں خبر نہیں تھی۔ (ان تقولوا ماجاءنا من م بشیر ولا نذیر فقد جاء کم بشیرونذیر واللہ علی کل شیء قدیر) (المائدۃ : 109) اس کے بعد ہر کسی کو اس کے کئے کا بھگتان ہر حال بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 189۔ (بیانا لکل شیئ) کا مطلب ؟:۔ سو اس کتاب عظیم کو ہر چیز کیلئے بیان شافی و کافی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یعنی دین و ہدایت سے متعلق ہر چیز کیلئے کہ اس کتاب حکیم کا اصل موضوع ہدایت و ارشاد ہی ہے۔ اور ہر کتاب کا کمال یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے موضوع سے متعلق ہر چیز کو حاوی اور شامل ہو۔ اور موضوع سے غیر متعلق کوئی چیزوں کو اس میں ذکر کیا جائے۔ اسی لئے حضرات مفسرین کرام ” عموم کل شیء مایناسبہ “ ہر چیز کو عموم وہی معتبر ہوتا ہے جو اس کے مناسب ہو “ کے قاعدہ کلیہ کے مطابق ایسی آیات کریمہ کے عموم کو امور دین و ہدایت ہی کے ساتھ مختص قرار دیتے ہیں۔ اور وہ اس کی تعبیر وادائیگی اس طرح کے الفاظ سے کرتے ہیں۔” ای ما یحتاج الیہ فی امر الدین “ وغیرہ (ابن جریر، ابن کثیر جامع البیان، صفوۃ التفاسیر، قرطبی، معالم، روح المعانی، مدارک، ابو السعود وغیرہ وغیرہ) پس اہل بدعت اور ان کے بعض بڑوں کا اس طرح کی آیات کریمہ کے عموم سے اپنے شرکیہ عقائد کیلئے دلیل کشید کرنا باطل و مردود ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ وضلال سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 190۔ قرآن حکیم سراسر ہدایت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کتاب سراسر ہدایت ہے۔ یعنی صرف یہ کتاب ہدایت دینے والی ہے جس طرح کی عام اردو تراجم میں مذکور ہوتا ہے۔ کیونکہ یہاں پر ” ھادی “ نہیں ” ہدی “ فرمایا گیا ہے کہ جو کہ مصدر ہے۔ جس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ یہ کتاب سراسر ہدایت یا نری ہدایت ہے۔ ہم نے اپنے ترجمہ میں اسی فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ والحمد للہ۔ سو یہ کتاب ہدایت ایک ایسا عظیم الشان اور بےمثال منبع ومصدر ہے ہدایت ونور کا کہ اس کی طرف جو بھی اور جب بھی صدق دل سے رجوع کرے گا یہ اس کو ہدایت کی دولت سے نوازے گی، اور یہ ایسا مصدر فیض اور سرچشمہ ہدایت ہے کہ انسان کو اس کی ایسی پاکیزہ اور عظیم الشان تعلیمات اور ہدایت سے نوازتی ہے کہ اس کی نظیر و مثال تو کیا اس کا عشر عشیر تک بھی دوسرے کسی بھی دین و مذہب اور نظام و قانون میں پایا جانا ممکن نہیں۔ سوکتنے محروم و بدبخت اور کس قدر ظالم وبے انصاف ہیں۔ وہ لوگ جو اس کتاب حکیم کا انکار کرتے ہیں اور اس سے منہ موڑ کر وہ بطن وفرج کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ اور وہ انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوان محض بلکہ شرالبریہ بن گئے ہیں اور ہاویۃ جہنم کے مستحق بن کر رہ گئے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین۔ 191۔ قرآن حکیم عین رحمت اور عظیم الشان خوشخبری :۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ کتاب عیطن رحمت اور عظیم الشان خوشخبری ہے۔ اور ایسی رحمت و خوشخبری کہ جس کی نہ اور کوئی نظیر ہوسکتی ہے نہ مثال۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بھذا الکتاب العظیم وبالایمان بہ وبالاشتغال بہ۔ فزدنا اللہم ایمانام بہ یقینا وخدمہ واشتغالا وحسن الختام۔ سو جو بھی صدق دل سے اس کی تعلیمات مقدسہ کو اپنائے گا یہ کتاب حکیم اس کو اپنی رحمتوں سے نوازے گی اور اس کے لئے عظیم الشان خوشخبری بنے گی کہ اس کو دنیا میں پاکیزہ زندگی ” حیات طیبہ “ کی سعادت نصیب ہوگی۔ اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی۔ وباللہ التوفیق۔ سو جو لوگ اس کتاب حکیم پر صدق دل سے ایمان لاکر اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالے کردیتے ہیں یہ کتاب ان کیلئے عین ہدایت اور سراسر رحمت و بشارت بن جاتی ہے۔ اور ان کو ہاتھ پکڑ کر صراط مستقیم کی اس بےمثال شاہراہ پر ڈال دیتی ہے جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی واحد شاہراہ ہے۔ 192۔ قرآن حکیم سے استفادے کی اولین شرط انقیاد و تسلیم :۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم کی رحمتوں سے سرفرازی کیلئے اولین شرط ہے انقیاد وتسلیم۔ سو یہ ایک اہم اور بنیادی خصوصیت ہے۔ کہ قرآن حکیم کی رحمتوں سے سرفرازی کیلئے اولین شرط ہے انقیاد وتسلیم۔ سو یہ ایک اہم اور بنیادی خصوصیت ہے۔ کہ قرآن حکیم کی اس ہدایت کامل اور رحمت بیکراں سے مستفید ہونے کیلئے اولین شرط اس پر ایمان لانا اور اس کے حضور دل وجان سے جھک جانا ہے۔ سو اس کے ارشادات پر صدق دل سے ایمان لانا اور انکے احکام و فرامین کو اپنانا اور وظیفہ حیات بنانا ہی واحد راستہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا۔ اس کے برعکس جس نے اس سے موڑ اور اعراض برتا، یہ کتاب حکیم اس کے خلاف حجت بنے گی، جیسا کہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ارشاد فرمایا ” القران حجۃ لک او علیک “۔” قرآن ہوگا تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف “۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہ ایک طبعی امر ہے کہ دواخانے میں دوا تو ہر طرح کی اور ہر کسی کیلئے موجود ہوتی ہے لیکن فائدہ اسی کو ہوتا ہے جو دوا لیتا ہے۔ اور ڈاکٹر وحکیم کی ہدایت کے مطابق اس کو استعمال کرتا ہے۔ سو اکڑی ہوئی گردنوں، بگڑے ہوئے دماغوں اور پھرے ہوئے دلوں کیلئے محرومی و ہلاکت کے سوا کچھ نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت میں رکھے آمین۔
Ayah 16:92

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور مت ہوجانا تم اس عورت کی طرح جو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی تھی اپنے سوت کو، مضبوط کاتنے کے بعد، کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد (اور مکرو فریب) کا ذریعہ بنانے لگو، محض اس وجہ سے کہ ایک گروہ بڑھ جائے دوسرے گروہ سے، بات صرف یہ ہے کہ اللہ اس طرح آزمائش میں ڈالتا ہے تم سب کو، اور اللہ ضرور بالضرور کھول کر بیان کر دے گا تمہارے لئے قیامت کے روز ان سب چیزوں کو جن (کے بارے) میں تم لوگ باہم اختلاف کیا کرتے تھے،1

202۔ اپنے کیے پر پانی نہیں پھیرنا :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور تم لوگ اپنے کیے کرائے کو خود اپنے ہاتھوں برباد نہیں کرنا “ بعض حضرات مفسرین کا کہنا ہے مکہ مکرمہ میں ایک ایسی عورت تھی جو کہ دن بھر سوت کا تتی رہتی اور اپنی لڑکیوں سے کتواتی۔ مگر شام کو وہ اس سب کو خود توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیتی۔ اور اس طرح اپنی محنت کو اپنے ہاتھوں خود ضائع کردیتی۔ اور لوگ اس کو کہتے ” ما احمق ھذہ “ کس قدر بیوقوف عورت ہے یہ ؟ “ سو اس بناء پر یہ ایک ایسی ضرب المثال ہوگی جو کہ ہر اس شخص اور ایسے موقع پر چسپاں ہوتی ہے جہاں کوئی اپنے کئے کرائے کو اپنے ہاتھوں خود ضائع کردے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ محض ایک تمثیل ہے کہ تم لوگ اپنی قسموں کو خود توڑ کر ایسی بیوقوف عورت کی طرح نہیں ہوجانا جو ایسا عمل کرتی ہو۔ ابن کثیر، روح، قرطبی، صفوہ۔ معارف وغیرہ) جو بھی ہو عرف اور محاورے کی زبان میں یہ اپنے عمل کو ضائع کرنے کی ممانعت کیلئے ایک موثر وبلیغ تعبیر ہے کہ لوگ اپنے کیے کرائے پر پانی نہیں پھیرنا اور اپنی کمائی کو خود اپنے ہاتھوں برباد نہیں کرنا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین۔ 203۔ عہد شکنی کے اصل محرک کی نشاندہی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ محض اس بناء پر کہ ایک گروہ بڑھ جائے دوسرے گروہ سے مال ودولت یا نفری و تعداد میں۔ عربوں کا طریقہ تھا یہ قسم اٹھا کر ایک قوم یا قبیلے کا ساتھ دیتے، مگر جب دوسری قوم کا پلہ بھاری دیکھتے تو پہلی قسم کو توڑ کر دوسرری قوم کے ساتھ معاہدہ کرلیتے جو کھلم کھلا دھوکہ بازی اور موقع پرستی تھی۔ اس لیے قرآن حکیم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، مراغی، محاسن، اور معارف وغیرہ) مگر آج تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ مغرب ومشرق کی مادہ پرست قوموں کی اکثریت اسی پر عمل کرتی اور اسی ڈگر پر گھومتی ہے کہ جہاں اور جیسے اپنے مفاد کی تکمیل و تحصیل نظر آئے یہ لوگ ادھر ہی پھرگئے۔ اور اسی طرف کے ہو رہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ نام نہاد جمہوریت کے اس دور میں مادی مفادات کے عوض ضمیروں کی خریدو فروخت کا کام کھلے عام ہورہا ہے۔ اور ہماری پارلیمینٹوں میں آج کل کس کاروبار کو ہارس ٹریڈنگ (گھوڑوں کی خریدوفروخت) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دین حنیف نے اس پر پندرہ سو برس قبل اس طرح پابندی لگادی اور اس کا راستہ بند کردیا کہ یہ ابن الوقتی اور موقع پرستی ہے جو مکارم اخلاق اور دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ سے میل نہیں کھا سکتی۔ پس اس طرح دین حنیف نے مفاد پرستی اور ضمیر فروشی کے ایسے تمام مداخل بند کردیے۔ فالحمد للہ رب العالمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں رضاو خوشنودی کی راہوں پر چلنے کی توفیق آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 204۔ اختلاف درجات ذریعہ آزمائش وابتلائ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اللہ آزماتا ہے اس کے ذریعے تم لوگوں کو “ کہ کون اپنے عہد اور ضمیر کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے قول وقرار پر پکا رہتا ہے اور کون مفاد پرستی کے پیچھے لگ کر پہلو بدل لیتا ہے۔ (محاسن، معارف، ابن کثیر، وغیرہ) سو ایک طرف اللہ کے نام پر کیے گئے عہدوپیمان کی وفاداری و پاسداری کا معاملہ ہے اور دوسری طرف وقتی مفادات و منافع کی بات ہے۔ اب پتہ چلے گا کہ اس آزمائش میں کون پورا اترتا ہے۔ سو کسی قوم قبیلے اور گروہ وغیرہ کا عددی اعتبار سے یا دنیاوی مال ودولت وغیرہ کے لحاظ سے کم یا زیادہ ہونا تم لوگوں کیلئے ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ ہے کہ کون اصول و قوانین کا پاس ولحاظ کرتا، اور اپنے عہد و پیمان اور قول پر پکا رہتا ہے، اور کون وقتی فوائد ومصالح اور عارفی منافع کی بناء پر اپنے قول وقرار سے پھرجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سودرجات و مراتب اور احوال وظروف کا یہ اختلاف تمہارے لیے اے لوگوابتلاء و آزمائش کا ذریعہ ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (وجعلنا بعضکم لبعض فتنہ) الایۃ (الفرقان : 20) یعنی ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کیلئے آزمائش کا ذریعہ بنایا :۔ 205۔ اصل اور آخری فیصلہ قیامت کے دن ہوگا :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور قیامت کے دن اللہ کھول کر بیان کردے گا ان تمام باتوں کو جن میں تم لوگ اختلاف کرتے رہے تھے “ اس وقت تمہارا سب کچھاچٹھا تمہارے سامنے آجائے گا اور تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ دنیاوی مفاد کے پیش نظر عہد شکنی دراصل عزت کا سودا اور کامیابی کا ذریعہ نہیں۔ بلکہ ذلت و رسوائی کا سامان تھا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس وقت تمہیں اپنے ایسے کرتوتوں کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ پس اب ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ لے کہ وہ کس راہ پر چل رہا ہے اور فیصلے کے اس دن میں وہ کس نتیجہ وانجام کی توقع وامید رکھتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمادیا گیا کہ قیامت کے اس یوم الفصل میں اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں کو تمہارے لیے کھول کر بیان فرمادے گا جن کے بارے میں تم لوگ دنیا میں اختلاف کرتے تھے۔ تب اصل حقیقت پوری طرح کھل کر اور بےنقاب ہو کر تمہارے سامنے آجائے گی۔ اور جن جن پردہ پوشیوں اور منطق بازیوں سے تم لوگوں دنیا میں کام لیا تھا کشف حقائق کے اس یوم عظیم میں وہ سب ھبا منثورا ہوجائیں گی۔ کیونکہ اس جہاں میں حق اور صدق کی دولت ہی کام آسکی گی وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 16:93

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا (کہ تمہارے اندر کوئی اختلاف ہو ہی نہ) تو وہ یقیناً (بڑی آسانی سے) تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ (اپنے دستور عدل و حکمت کے مطابق) جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت (کی دولت) سے نواز دیتا ہے، اور (یاد رکھنا کہ تمہیں یونہی چھٹی نہیں ملی رہے گی، بلکہ) تم سب سے ضرور باز پرس ہونی ہے، ان سب کاموں کے بارے میں جو تم لوگ کرتے رہے تھے (اپنی زندگیوں میں2)

206۔ جبرواکراہ کا ایمان مطلوب نہیں :۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ جبرا وقہرا اس طرح کہ تمہیں اس کے حکم سے سرتابی اور قوت کی گنجائش اور قوت ہی نہیں رہتی۔ جیسا کہ یہ پوری کائنات اس قادر مطلق کے حکم مطلق کے تابع ہے۔ (کل لہ قانتون) ۔ اور ایسا کرنا اس قادر مطلق کیلئے کچھ مشکل نہیں تھا۔ بلکہ محض اس کے ایک اشارہ و ارادہ کی دیر تھی اور بس۔ لیکن ایسی جبری ہدایت سے امتحان واختیار کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اس لئے اس وحدہ لاشریک نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ تمہارا معاملہ خود تمہارے اپنے ارادہ اختیار پر چھوڑ دیا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ خیر وشر اور ہلاکت و فلاح کے دونوں راستے تمہارے سامنے واضح کرنے کے بعد معاملہ تمہارے اختیار پر چھوڑ دیا تاکہ اس طرح انسان اپنے کیے کرائے پر اجروثواب یا عتاب و عذاب کا مستحق قرار پائے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو مطلوب و مقصود وہ ایمان ہے جو انسان اپنے ارادہ واختیار سے اللہ اور اس کے رسول کے حکم وارشاد کے مطابق لائے۔ ورنہ جبرواکراہ والا ایمان نہ مطلوب ہے نہ مفید۔ کیونکہ اس سے نہ ابتلاء و آزمائش کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اجر وثواب کا استحقاق ثابت ہوسکتا ہے۔ 207۔ انسان کے معاملے کا مداروانحصار اس کی اپنی نیت و ارادہ پر :۔ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اسی کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت سے نواز دیتا ہے “ کہ وہ ہر ایک کی نیت اور اسکے باطن سے پوری طرح آگاہ ہے اور جانتا ہے کہ کس لائق ہے۔ اور اس کی کے مطابق وہ تمہارے ساتھ معاملہ فرماتا ہے۔ سو اصل مدارو معیار انسان کا اپنا ضمیر وباطن ہے۔ ہر کوئی اپنے باطن کو خود جھانک کر دیکھ لے اور اسی کے مطابق وہ اس کے یہاں صلہ وثمرہ کی توقع رکھے۔ فوفقنا اللہم لما تحب وترضی۔ سو ہدایت کا مدارو انحصار انسان کے اپنے باطن اور اس کے ارادہ ونیت پر ہے۔ اور نیت کا حال انسان خود جانتا ہے یا اس کا خالق ومالک جو کہ انسان کے دل کے نیتوں اور اس کے ارادوں سے واقف وآگاہ ہے۔ اور وہ اس کے ظاہر وباطن کو ایک برابر جانتا ہے۔ اور اس سے انسان کی کوئی حالت و کیفیت مخفی نہیں رہ سکتی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 208۔ یوم حساب کی باز پرس کی تذکیر ویاد دہانی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور تم لوگوں سے ضرور پوچھ ہوگی تمہارے کاموں کی “۔ اپنے کئے کا بھگتان تمہیں بہرحال بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وشر۔ سو یوم حساب کے اس عظیم میں سب لوگوں کی باز پرس بہرحال ہوگی کہ تم نے زندگی کس راہ پر گزاری تھی۔ اپنے خالق ومالک کی اطاعت و بندگی کی راہ پر یا اس کی بغاوت و سرکشی کی راہ پر۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اسی کے مطابق وہاں فیصلہ ہوگا۔ سعادت مند اور نیک بخت لوگ اپنے ایمان وعمل کے نتیجے میں جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز و سرشار ہوں گے اور اس کے مقابلے میں بغاوت و سرکشی کی راہ پر چلنے والوں کو دوزخ کے ہولناک عذاب میں جھونک دیا جائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ہدایت و ضلالت کے درمیان فرق وتمیز کیلئے اللہ تعالیٰ نے تمہیں نور عقل و فطرت سے بھی نواز دیا اور اپنے انبیاء ورسل اور وحی و کتاب کی روش سے بھی تمہیں سرفراز فرما دیا اور راہ حق و ہدایت کو پوری طرح واضح کردیا۔ اب آگے معاملہ تمہارے ارادہ واختیار پر ہے۔ تم جونسی راہ چاہو اختیار کرو لیکن یہ بات یاد رکھو کہ تم سے تمہارے ان تمام کاموں کے بارے میں ضرور پوچھ ہوگی جو تم زندگی بھر کرتے رہے تھے۔ سو اب تم اپنے بھلے برے کے بارے میں خود دیکھ لو اور سوچ لو۔ اور اس کے مطابق اپنا راستہ خود منتخب کرلو۔ مگر یاد رکھو کہ جیسا کروگے ویسا بھروگے۔ فباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھو الھادی الی سواء السبیل۔
Ayah 16:94

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور اپنی قسموں کو آپس میں فساد کا ذریعہ بنا لینا کہ کہیں اس سے کوئی قدم ڈگمگا جائے اس کے جمنے کے بعد، اور اس کے نتیجے میں تمہیں بھگتنا پڑے برا انجام، اس بنا پر کہ تم نے روکا اللہ کی راہ سے، اور (اس طرح آخرکار) تمہارے لئے ایک بہت بڑا عذاب قرار پا جائے،

209۔ اپنی قسموں کو فساد کا ذریعہ بنانے کی ممانعت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اپنی قسموں کو فساد کا ذریعہ نہ بنا لینا کہ اس سے کوئی قدم ڈگمگا جائے اس کے جمنے کے بعد کہ کافر جب یہ دیکھے گا کہ مسلمان بھی اس طرح بدعہدی کرتا ہے تو اس کا دین پر اعتماد اٹھ جائے گا۔ والعیاذ باللہ۔ (ابن کثیر۔ معارف للکاندھلوی وغیرہ) اور اس طرح تم لوگ اپنے عمل اور اپنی عہد شکنی سے راہ حق و ہدایت سے دوسروں کو روکنے اور محروم کرنے کا باعث بن جاؤگے جو کہ ایک سنگین جرم ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے ایک اصولی ہدایت مل گئی کہ مومن کی زندگی عملی طور اسلامی تعلیمات کا ایک نمونہ اور مثال ہونی چاہئے۔ تاکہ اس طرح وہ دوسروں کے لئے دین حق کی طرف کشش کا ذریعہ بنے۔ نہ کہ وہ اس سے متنفر کرنے اور دوری کا سبب بنے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر موقعہ پر غلط سوچ وفکر اور غلط قول وعمل سے محفوظ رکھے۔ اللہم فخذنا بنواصینا الی مافیہ حبک والرضابکل حال من الاحوال، و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذوالجلال والاکرام۔
Ayahs 16:95–97

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور (یاد رکھنا کہ) کہیں تم لوگ اللہ کے عہد کے بدلے میں (دنیائے دوں کا) کوئی گھٹیا مول نہ اپنا لینا، بیشک جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ تمہارے لئے کہیں بہتر ہے اگر تم جانو

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے (اے لوگو) وہ بہرحال (ایک نہ ایک دن) ختم ہو کر رہیگا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ (ہمیشہ) باقی رہنے والا ہے اور جو لوگ (راہ حق پر) ثابت قدم رہے ہم ان کو ضرور بالضرور بدلہ دینگے ان کے ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کرتے رہے تھے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو بھی کوئی نیک کام کریگا خواہ وہ کوئی مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ ایمان رکھتا ہو، تو ہم اسے (دنیا میں) ضرور ایک پاکیزہ زندگی سے نوازینگے اور (قیامت کے روز) ہم ایسے لوگوں کو ضرور ان کا اجر عطا کریں گے ان کے ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ (زندگی بھر) کرتے رہے تھے،1

210۔ اللہ تعالیٰ کے عہد کے بدلے میں ثمن قلیل کو اپنانے کی ممانعت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور خبردار تم لوگ اللہ کے عہد کے بدلے میں کوئی گھٹیا مول نہ اپنا لینا “ کہ حق و ہدایت کی دولت ایسی عظیم الشان دولت ہے کہ دنیا کی ساری دولت بھی اس کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ تو پھر اس کے مقابلے میں ان کچھ ٹکوں کی حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے جو انسان حق فروشی کے بدلے اپنائے ؟۔ والعیاذ باللہ۔ فثبتنا اللہم علی صراطک المستقیم دآئماوابدا۔ سو اس ارشاد ربانی کا مطلب یہ ہوا کہ حق کے مقابلے اور اللہ کے عہد کے بدلے میں کوئی بھی مول کبھی نہ لینا کہ یہ سب کچھ ہیچ فانی اور ثمن قلیل ہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 211۔ اللہ تعالیٰ کے اجر وثواب کی عظمت شان کی تذکیر و یادہانی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے کہیں بہتر ہے اس دنیا دوں کی متاع قلیل اور مفاد ضئیل سے۔ جو تمہیں اس کی رحمت ورضاء اور اس کی جنت وعطاء وغیرہ ان عظیم الشان نعمتوں کی شکل میں جن کی عظمت کا تصور و احاطہ کسی بھی بشر کے لئے ممکن نہیں۔ سبحانہ تعالیٰ سو یہ سب کچھ کہیں بہتر ہے اس دنیاوی مال و متاع سے جس کیلئے ابنائے دنیا مرتے ہیں کہ دنیا کا یہ سب مال و اسباب بہرحال فانی اور عارضی ہے۔ اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ کہیں بہتر ہے اور وہ دائمی وابدی ہے۔ سو کس قدر خسارے اور دھوکے میں ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے یہاں سے ملنے والے اس عظیم الشان اور بےمثال اجروثواب اور صلہ وعطاء سے منہ موڑ کر اسی دنیائے دوں کے متاع قلیل وفانی اور حطام زائل ہی کو مقصد حیات اور اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہیں۔ اور وہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل زیغ وضلال۔
Ayah 16:98

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

پس جب تم قرآن پڑھنے لگو، تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو، شیطن مردود (اور اس کے شر) سے،2

216۔ تلاوت قرآن سے متعلق ایک اہم ادب :۔ سو اس ارشاد سے تلاوت قرآن سے متعلق ایک اہم ادب کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ اس موقعہ پر شیطان مردود اور اس کے فتنوں سے اللہ پاک کی پناہ مانگی جائے۔ یعنی قرآت کا فعل یہاں پر ارادہ فعل کے معنی میں ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر، صفوۃ وغیرہ) پس جب تم لوگ قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ اس لیے کہ یہ لعین وہ دشمن ہے جس پر کوئی ظاہری ہتھار اور اسلحہ کارگر نہیں ہوسکتا۔ اس سے بچنے اور اس کے شر سے محفوظ رہنے کی ایک ہی صورت ہے کہ تم اس لعین کے شر سے بچنے کیلئے اس ذات اقدس واعلی کی پناہ مانگ لیا کرو جس کے قبضہ قدرت اختیار میں ہر چیز کی باگ دوڑ ہے کہ اس کے شر سے وہی ذات تم کو بچا سکتی ہے۔ فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم اللعین بکل حال من الاحوال۔ 217۔ شیطان سے پناہ مانگنے کا حکم وارشاد :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے موقعہ پر تم پناہ مانگ لیا کرو اللہ کی شیطان مردود سے کہ وہ ہمیں اس کے شروروفتن سے محفوظ رکھے۔ کہ تمہارا سب سے بڑا، خطرناک اور کھلم کھلا دشمن وہی ہے جس نے رب تعالیٰ کے حضور قسم کھا کر تمہیں گمراہ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ والعیاذ باللہ۔ نیز یہ وہ دشمن ہے جو تمہیں دیکھتا ہے مگر تم اس کو نہیں دیکھ سکتے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس سے متعلق ارشاد فرمایا گیا (انہ یراکم ھو و قبیلہ من حیث لاترونھم) (الاعراف : 27) نیز یہ وہ دشمن ہے تمہاری سب سے بڑی دولت پر ہاتھ ڈالتا ہے یعنی ایمان پر۔ جس جیسی دوسری کوئی دولت نہیں ہوسکتی۔ اور جس کے بغیر انسان کچرا اور دوزخ کا ایندھن ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے اور اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے آمین۔
Ayahs 16:99–100

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

(کیونکہ) اس کا ان لوگوں پر کوئی زور نہیں چلتا جو ایمان رکھتے ہیں، اور وہ اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں،3

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا زور تو بس انھیں لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں، اور وہ اس کے (بہکانے کے) باعث شرک کرتے ہیں،

218۔ اللہ پر بھروسہ شیطان اور اس کے شر سے بچنے کا ذریعہ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والوں پر شیطان کا کوئی زور نہیں چلتا۔ پس ایمان اور توکل علی اللہ اس لعین اور اس کے شر سے بچنے کا اصل ذریعہ ہے۔ مگر افسوس کہ حفاظت اور بچاؤکے اس اصل اور حقیقی سامان سے دنیا کی اکثریت آج غافل و محروم ہے۔ اکثریت بےایمانوں کی ہے۔ یا پھر برائے نام ایمان رکھنے والوں کی۔ اور بھروسہ بھی ان کا اللہ پاک کی بجائے اور طرح طرح کی ضعیف وبے جان مخلوق بلکہ وہمی اور فرضی حیلوں، حوالوں اور بےحقیقت چیزوں پر ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ نے صاف اور صریح طور پر بتادیا کہ جو لوگ ایمان رکھتے اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر شیطان کا کوئی زور نہیں چل سکتا۔ سو مومن صادق کا کام اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ دل کا بھروسہ ہمیشہ اللہ وحدہ لاشریک ہی پر رکھے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید۔
Ayah 16:101

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم کسی آیت کی جگہ اس کے بدلے میں کوئی دوسری آیت اتارتے ہیں، اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ کہ وہ اتارتا ہے، تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ سوائے اس کے نہیں کہ تم خود ہی گھڑ کرلے آتے ہو (نہیں) بلکہ (اصل حقیقت یہ ہے کہ) ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں

220۔ احکام شریعت کی تبدیلی پر دشمنوں کے اعتراض کا ذکر :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور جب ہم کسی آیت کے بدلے میں کوئی دوسری آیت لے آتے ہیں “ کہ حکمت کا تقاضا یہی ہوتا ہے اور مکلفین کی بہتری اسی میں مضمر ہوتی ہے۔ جیسے ایک ڈاکٹر مریض کی حالت میں تبدیلی کے مطابق اس کی دوا تبدیل کرتا ہے کہ وہ مریض کی حالت کو اس سے بہتر جانتا ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر اور مریض دونوں انسان اور مخلوق ہونے میں ایک برابر ہیں تو پھر کیا کہنے حضرت خالق۔ جل مجدہ۔ کی عنایت اور اس کے علم اور اس کی حکمت کے۔ جو کہ سب کا خالق ومالک اور دائرہ مخلوق سے ورا الوراء اور مخلوق کی مشابہت اور اس کے ہر شائبے سے پاک اور اعلی وبالا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے وہ اپنے علم محیط اور حکمت بالغہ کے تقاضوں کے مطابق اپنے بندوں کی بہتری کیلئے اپنے احکام وارشادات میں تبدیلی فرماتارہتا ہے۔ تاکہ اس کے بندوں کا بھلا ہو۔ سو یہ احکام شریعت کی تبدیلی پر دشمنوں اور خاص کر یہود بےبہبود کے اعتراض اور ان کی وسوسہ اندازی کا جواب ہے جو وہ اس بارے میں پھیلاتے تھے اور کہتے تھے یہ صاحب اس کلام کو خود گھڑ کر لائے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنی حرمان نصیبی کو اور پکا کرتے تھے۔ والعیاذ باللہ۔ 221۔ منکرین کے اعتراض کا جواب :۔ سو اس اعتراض کے جواب میں فرمایا گیا ” اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ اتارتا ہے “ کہ اس میں کیا کیا فائدے اور کیا کیا حکمتیں اور مصلحتیں ہیں۔ اور بندوں کی ضرورتوں کی تکمیل کس سے اور کیسے ہوتی ہے کہ وہ خالق ومالک بھی ہے اور رحمن ورحیم بھی۔ اس لیے وہی جان سکتا ہے کہ اس کے بندوں کیلئے بہتر کی ہے۔ اپنے اتارے ہوئے کلام کی حکمت و مصلحت اور اپنے بندوں کی حاجت و ضرورت اور وقت کے حالات اور تقاضوں کو وہ خوب جانتا ہے۔ اس لیے وہ وہی کچھ نازل فرماتا ہے جس میں سرتا سر اس کے بندوں کی بہتری اور بھلائی ہوتی ہے لیکن لوگوں کی اکثریت نہ حق اور حقیقت کو جانتی ہے اور نہ جاننا چاہتی ہے۔ اس لیے وہ ایسے جاتے رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 222۔ قرآن حکیم کی عظمت شان کا ذکر وبیان :۔ سو فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ یہ میرا من گھڑت کلام نہیں بلکہ اس کو تو روح القدس لے کر آتے ہیں۔ یعنی جبریل آمین (علیہ السلام) جو کہ اللہ کی طرف سے وحی کی وہ نعمت لے کر آتے ہیں جس سے بواطن اور روحوں کو زندگی نصیب ہوتی ہے۔ سو اس سے ایک بات تو واضح فرما دی گئی کہ یہ کتاب حکیم ایسی عظیم الشان کتاب ہے جو خالص اتاری ہوئی کتاب ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ اس میں کسی اور کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ اس کو لانے والے روح القدس ہیں۔ یعنی ایسی پاکیزہ روح جو کہ اس میں مداخلت کے ہر شائبہ سے پاک ہے۔ اور تیسری بات یہ کہ جو لوگ قرآن حکیم کی اس روح سے محروم ہیں وہ درحقیقت مردہ ہیں۔ بہرکیف اس سے پیغمبر کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ جو آپ کو مفتری کہتے ہیں ان افتراء پردازوں سے کہو کہ یہ میرا اپنا من گھڑت کلام نہیں بلکہ یہ حضرت حق جل مجدہ کا کلام ہے۔ جس کو خداوند قدوس نے اپنے مقرب فرشتے جبریل امین کے ذریعے مجھ پر نازل فرمایا ہے۔ یہ سراسر حق وصدق ہے۔ جس میں شیاطین ومفسدین کی کسی آمیزش وملاوٹ کا کوئی سوال ہے اور نہ ہی یہود و نصاری اور مشرکین کی کسی ملاوٹ کا کوئی امکان۔ بلکہ یہ خالص کلام حق وصدق ہے جو رب العالمین کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے۔
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

کہو کہ اسکو تو بتدریج اتارتی ہے وہ پاکیزہ روح تمہارے رب کی جانب سے حق کے ساتھ تاکہ وہ ثابت قدم رکھے (اس کے ذریعے) ایمان والوں کو، اور تاکہ یہ ایک عظیم الشان ہدایت اور خوشخبری ہو فرمانبرداروں کے لیے

223۔ قرآن حکیم ثابت قدمی کا ذریعہ و وسیلہ :۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم اہل ایمان کیلئے ثابت قدمی اور پختگی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اپنی عظیم الشان برکات اور عقل وفکر کو جلا بخشنے والے ان دلائل وبراہین کے ذریعے جو وحی کی اس نور کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ اور خیروبرکت کے اس سامان کے باعث جو اس میں پایا جاتا ہے۔ سو اس سے اہل ایمان کے دلوں کو قوت ملتی ہے اور اس کتاب حکیم میں ذکر فرمائے گئے ادلہ قاطعہ اور براہین ساطعہ سے اہل ایمان کا ایمان اس کائنات کے خالق ومالک کی وحدانیت ویکتائی اور اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے بارے میں ایمان و یقین میں مزید قوت آتی اور پختگی نصیب ہوتی ہے۔ اور اس طرح یہ کتاب حکیم اہل ایمان کیلئے پختگی اور ثابت قدمی میں اضافے کا ذریعہ وسیلہ بنتی ہے۔ اور جو لوگ اپنی گردنیں اس کے آگے ڈال دیتے ہیں ان کے لئے یہ سراسر ہدایت و رحمت اور عظیم الشان وبے مثال بشارت ہے۔ فللہ الحمد جل جلالہ۔
Ayah 16:103

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ (آپ کے بارے میں) کہتے ہیں کہ سوائے اس کے نہیں کہ اس شخص کو سکھاتا ہے ایک انسان، حالانکہ جس شخص کی طرف یہ لوگ اس بات کی نسبت کرتے ہیں اس کی زبان (ہی عربی نہیں، بلکہ) عجمی ہے، جبکہ یہ (قرآن حکیم) کھلی عربی زبان ہے،

224۔ منکرین کے ایک اور اعتراض کا جواب :۔ سو اس سے قرآن حکیم کے بارے میں منکرین و معاندین کے ایک بیہودہ اعتراض کا رد فرمایا گیا کہ اس کتاب حکیم کو اس عربی مبین میں اتارا گیا جس کے مقابلے میں تم سب لوگ اپنی ضرب المثل فصاحت و بلاغت کے باوجود عاجز ہو۔ تو پھر یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ ایک ایسا شخص جس کی زبان ہی سرے سے عربی نہ ہو وہ ایک ایسا کلام معجز نظام بنا کر لائے جس کے مقابلے سے تم لوگ اپنی تمام ترفصاحت و بلاغت کے باوجود عاجز ہو۔ اور تم سب ملکر بھی اور اس کے صاف وصریح اور نہایت زور دار چیلنج کے ہوتے ہوئے بھی اس کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت کی بھی کوئی نظیر و مثال نہیں لاسکتے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ شخص آنحضرت ﷺ کو تمہارے کہنے کے مطابق ایسا کلام معجز نظام سکھاتا ہے۔ مگر وہ خود نہ تو کسی نبوت کا کوئی دعوی کرتا ہے اور نہ کسی کو یہ خبر تک دیتا ہے کہ یہ کلام دراصل میری کاوش فکر کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس طرح یہ الزام لگالر تم لوگ خود اپنی حماقت اور عناد وہٹ دھرمی کا کس قدر واضح اور کھلا ثبوت پیش کرتے ہو۔ اور تم لوگ کس قدر ڈھیٹ اور کتنے بےشرم ہو کہ اتنا بڑا جھوٹ بولنے اور دروغ بےفروغ پھیلانے اور قدر بےبنیاد اور بیہودہ الزام لگانے میں کوئی حیا اور عار محسوس نہیں کرتے۔ سو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نور حق و ہدایت سے محروم ہونے کے بعد انسان کس قدر ڈھیٹ اور کتنا بےشرم ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوء وانحرام۔
Ayah 16:104

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں رکھتے اللہ کی آیتوں پر اللہ ان کو ہدایت (کی دولت) سے نہیں نوازتا اور ان کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے،1

225۔ بدنیتوں کیلئے محرومی ہی محرومی۔ والعیاذ باللہ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان نہیں رکھتے اور ایمان نہیں لانا چاہتے اللہ کی آیتوں پر اللہ ان کو نور ہدایت سے نہیں نوازتا ان کی اپنی بدنیتی اور بدباطنی کی وجہ سے۔ کہ ہدایت کیلئے طلب صادق شرط اولین ہے۔ اور کس کے دل میں کیا ہے یہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے۔ اس لیے وہ ایسے بدباطنوں کو حق و ہدایت کے نور سے سرفراز نہیں فرماتا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اپنی محرومی کا باعث یہ لوگ خود ہیں کہ یہ ہدایت چاہتے ہی نہیں۔ اور چاہت کے بغیر جب دنیا کی ایک عام اور معمولی چیز بھی نہیں مل سکتی تو پھر ہدایت جیسی دولت بغیر طلب و جستجو کے کس طرح مل سکتی ہے۔ تو یہی مطلب ہے اس ارشاد ربانی کا کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو نورحق و ہدایت سے نہیں نوازتا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو انسان کی صلاح و فلاح اور اس کے فساد وبگاڑ کا تعلق اصل میں انسان کے اپنے قلب وباطن سے ہے۔ پس بدنیتوں کیلئے محرومی ہی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 16:105–107

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

(پیغمبر کبھی جھوٹ نہیں گھڑتا بلکہ) جھوٹ تو وہی لوگ گھڑتے ہیں، جو ایمان نہیں رکھتے اللہ کی آیتوں پر، اور ایسے لوگ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں،2

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو کوئی اللہ کے ساتھ کفر کرے گا اپنے ایمان کے بعد، مگر جس کو مجبور کردیا جائے بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تو اس پر کوئی گناہ نہیں) ، لیکن جس نے دل کھول کر کفر کا ارتکاب کیا تو ایسے لوگوں پر اللہ کا بھاری غضب بھی ہوگا، اور ان کے لیے ایک بہت بڑا عذاب بھی ہے،3

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ انہوں نے پسند کیا دنیا کی (اس فانی) زندگی کو آخرت کے مقابلے میں، اور (اس لیے کہ) یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ اللہ ہدایت (کی دولت) سے نہیں نوازتا ایسے کافر لوگوں کو،

226۔ جھوٹ گھڑنا بےایمانوں کا کام۔ والعیاذ باللہ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور ” انما “ کے کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ جھوٹ تو وہی لوگ گھڑتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے اللہ کی آیتوں پر کہ ان کو نہ خدا کا خوف ہے نہ آخرت کا ڈر۔ پس ایسے بےایمانوں کا اصل کام جھوٹ بولنا ہے۔ اور سچ اگر یہ لوگ بولیں گے بھی تو وہ عارضی اور وقتی فوائد کے اعتبار سے اور کسی دنیوی مفاد و مصلحت کے پیش نظر کہ ان کے نزدیک اصل چیز متاع دنیا اور اس کا حطام فانی وزائل ہی ہے۔ جس کو دوسرے مقام پر (یستحبوں الحیوۃ الدنیا علی الآخرۃ) کے ارشاد سے بیان فرمایا گیا ہے۔ سوابنائے دنیا کا حال کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ متاع دنیا ہی ان کا اصل مقصود اور کل کائنات ہے۔ یہاں تک کہ دانایان غرب اور دانشوران فرنگ کا تو صاف وصریح طور پر کہنا ہے دیانت داری ایک بہترین پالیسی ہے ( Honisty is the Best Policy) اور ظاہر ہے کہ انسانی پالیساں اپنے اپنے مفادات کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔ آج کچھ کل کچھ۔ آج کا حلال کل کا حرام اور آج کا ناجائز کل کا جائز وغیرہ وغیرہ۔ سو جہاں اور جیسے فائدہ دیکھا ادھر ہی مڑ گئے اور اسی طرح ہوگئے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ دین حق کا کہنا اور بتانا یہ ہے کہ گناہ بذات خود برائی اور قابل نفرت چیز ہے۔ اسے ہر حال میں چھوڑنا ہے اور اس سے بچنا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (وذروا ظاہر الاثم وباطنہ) (الانعام : 121) اور چھوڑ دو تم گناہ کو خواہ وہ ظاہری ہو یا پوشیدہ “ مگر افسوس کہ جاہل مسلمان جو کہ اپنے دین مبین کی تعلیمات مقدسہ سے غافل وبے بہرہ ہے وہ اس سب کے باوجود اپنے دین متین کی تعلیمات مقدسہ کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر ان مادہ پرست دنیا داروں ہی پر اعتماد کرتا اور ان سے تعلق و دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ اور اسی بناء پر آج مسلمان مختلف گرہوں، گروپوں اور بلاکوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اور طرح طرح سے ذلت وادبار کا شکار ہیں۔ جس کے آثار و مظاہر آج جگہ جگہ اور طرح طرح سے دیکھے اور سنے جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ الذی لا الہ غیرہ بہرکیف اوپر آیت نمبر 101 میں دشمنان حق کے پیغمبر اسلام کے بارے میں جو ان کا قول نقل فرمایا گیا تھا کہ یہ لوگ پیغمبر سے کہتے ہیں (انما انت مفتر) کہ ” تم تو محض ایک مفتری انسان ہو “۔ تو اس کے رد میں یہاں ارشاد فرمایا گیا کہ مفتری پیغمبر نہیں بلکہ وہ بدبخت لوگ ہیں جو ایمان نہیں رکھتے اللہ کی آیتوں پر۔ جو کہ ہدایت سے سرفرازی کا واحدذریعہ ہے۔ سو اللہ کی آیتوں کے انکار کے بعد ان لوگوں کے پاس جھوٹ اور افتراء پردازی کے سوا اور رہ ہی کیا جاتا ہے ؟ سوائے جھوٹ اور افتراء پردازی کے پلندوں کے ؟ اس کے بعد یہ لوگ اپنے خالق ومالک اور معبود حق کے بارے میں جھوٹ بولتے اور اس کے دین اور کتاب وغیرہ سب کے لئے جھوٹ ہی بولتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ کی آیتوں کے انکار کے بعد انسان ایسا اندھا اور اس قدر محروم اور بےبہرہ ہو کر رہ جاتا ہے کہ اس کے پاس جھوٹ، افتراء پردازی اور من گھڑت افسانوں، بےبنیاد مفروضوں اور فرضی و خیالی باتوں کے پلندوں کے سوا اور کچھ رہ ہی نہیں جاتا۔ سو ایمان سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:108

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پر، (اور اس نے ڈاٹ رکھدئے) ان کے کانوں میں، اور (پردے ڈال دئے) ان کی آنکھوں پر، (ان کی اپنی بدنیتی اور سوء اختیار کی بنا پر) اور یہی لوگ ہیں بیخبر (و بےفکر اپنی آخرت اور انجام سے،4)

231۔ ہٹ دھرمی باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ :۔ سو اس طرح ہٹ دھرموں کے دل ودماغ پر قدرت کی مہر جباریت لگ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ جس سے ان کے دل ودماغ ماؤف اور ان کے کان وآنکھ وغیرہ بند ہوگئے۔ پس نہ یہ حق بات سن سکتے ہیں نہ حق کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی حق بات ان کو سمجھ آسکتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس طرح یہ لوگ محرومی در محرومی کا شکار اور خسارے پر خسارے میں مبتلا ہیں۔ مگر یہ بدبخت ہیں کہ ان کو اس کا احساس تک نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسے لوگ جو ایمان کی روشنی دیکھ لینے کے بعد محض دینوی مفادات کی خاطر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس لیے ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون اور اس کی سنت کی زد میں آجاتے ہیں۔ ان کے کانوں، آنکھوں اور دلوں، پر ایسے مہر کردی جاتی ہے کہ ایسے لوگ ہدایت کی توفیق سے بالکل محروم ہوجاتے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں وہ اس ہولناک خسارے میں واقع ہوجاتے ہیں جو سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 232۔ غفلت و لاپرواہی محرومی کی جڑ بنیاد۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا یہی لوگ ہیں جو غافل وبے خبر ہیں اپنے حال ومآل سے۔ اور اس طرح یہ لوگ اس دائمی ناکامی اور ابدی خسارے کی طرف رواں دواں ہیں جس کے خاتمہ اور اس سے نجات و رہائی کی پھر کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہیں رہتی کہ اس کا موقع دینوی زندگی کی اس فرصت محدود ہی میں تھا۔ جس کو انہوں نے ضائع کردیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو غفلت وبے خبری اور اپنے انجام اور آخرت سے بےفکری و لاپرواہی، بیماریوں کی بیماری اور دائمی ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو غفلت و لاپرواہی محرومی کی جڑ بنیاد ہے کہ ایسے لوگ نہ خود حق اور حقیقت کے بارے میں غور وفکر سے کام لیتے ہیں اور نہ کسی دوسرے کی بات پر توجہ کرتے ہیں۔