10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 10:108

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

(اعلان عام کے طور پر) کہہ دو کہ اے لوگو، بیشک آچکا تمہارے پاس حق تمہارے رب کی جانب سے، پس اب جو کوئی سیدھی راہ اختیار کرے گا تو وہ اپنے ہی لئے کرے گا، اور جو کوئی گمراہی کو اپنائے گا تو اس کی گمراہی کا وبال بھی خود اسی پر ہوگا، اور میں تم پر کوئی مختار کار نہیں ہوں،

183 ۔ لوگوں کے لیے ایک پرزور تنبیہ و تذکیر : کہ بیشک آچکا تمہارے پاس اے لوگوں حق تمہارے رب کی جانب سے۔ یعنی یہ قرآن حکیم جو کہ اس وحدہ لاشریک نے اپنی رحمت سے، حضرت رحمۃ اللعالمین ﷺ کے ذریعے ساری دنیا کی ہدایت و راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور ہوسکیں۔ سو یہ سراسر حق و صدق اور عین رحمت و عنایت ہے تمہارے رب کی جانب سے۔ اور اسی سے وابستگی میں تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ اس کے ذریعے جو تعلیم تمہیں دی جارہی ہے وہ سراسر حق و صدق ہے اور اس سے اعراض و انکار پر دنیا و آخرت میں جس عذاب کی خبر دی جارہی ہے وہ بھی قطعی طور پر حق اور شدنی ہے۔ بس جو اس حق و ہدایت کو اپنائے گا وہ اپنے بھلے کا سامان کرے گا۔ اور جو اس سے منہ موڑے گا۔ اس کے بھٹکنے کا وبال بھی خود اسی پر پڑے گا۔ اور جب یہ حق تمہارے رب کی جانب سے تمہارے پاس پہنچ گیا تو اب جو اس سے منہ موڑے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے رات کی تاریکی میں نہیں بلکہ نصف النہار کی روشنی میں اپنے آپ کو ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈالا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس ارشاد میں سب لوگوں کو خطاب کرکے یہ آخری تنبیہ فرما دی گئی اور اس قدر موثر انداز میں تاکہ پھر کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ سو اس کے اولین مخاطب اگرچہ کفار قریش اور مشرکین مکہ ہیں لیکن اپنے الفاظ و کلمات کے عموم کے اعتبار سے یہ قیامت تک کے سب ہی لوگوں کو عام اور شامل ہے۔ اور یہ حکم سب ہی کے لیے ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق پہنچ چکا ہے۔ جو اس کو اپنائے گا اس کا اپنا ہی بھلا اور جو اس سے منہ موڑے گا وہ اپنی ہی ہلاکت کا سامان کرے گا۔ کیونکہ نور حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 184 ۔ پیغمبر کا کام پیغام حق کو پہنچا دینا اور بس : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا کام پیغام حق کو پہنچا دینا ہوتا ہے اور بس۔ سو پیغمبر کی زبان سے اعلان کرایا گیا کہ میں تم پر کوئی مختار کار نہیں ہوں کہ تم کو مجبور کرکے تم سے منوا دوں۔ بلکہ میرا کام تو صرف پہنچا دینا ہے پیغام حق و ہدایت کو۔ اور یہ کہ میں ماننے اور نہ ماننے والوں کو ان کے انجام کی خبر کردوں اور بس۔ اور وہ میں نے کردیا۔ والحمد للہ۔ اس سے آگے بڑھ کر اس پیغام حق کو تم لوگوں سے منوا لینا اور تمہارے دل و دماغ میں اس کو اتار دینا نہ تو میرے بس اور اختیار میں ہے اور نہ ہی یہ میرا منصب و ذمہ داری ہے۔ (المراغی وغیرہ) یہ تو اسی مالک الملک کی شان اور اسی کی صفت ہے جس کا میں بندہ و رسول ہوں اور جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہر چیز کی باگ ڈور ہے۔ اگر تم لوگوں نے اس پیغام حق و ہدایت سے منہ موڑا اور اس سے اعراض برتا تو اس کا بھگتان تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا اور اس کی بارگاہ اقدس و اعلی میں جواب دینا ہوگا۔ اب تم لوگ اپنے بارے میں اور اپنے انجام سے متعلق خود سوچ اور دیکھ لو کہ کون سا طریقہ اور کون سا راستہ تمہارے لیے بہتر ہوسکتا ہے۔
Ayah 10:109

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور پیروی کئے جاؤ تم اس (ہدایت وحی) کی جو بھیجی جاتی ہے آپ کی طرف، اور صبر ہی سے کام لیتے رہو، یہاں تک کہ فیصلہ فرما دے اللہ اور وہی ہے سب سے اچھا (اور صحیح) فیصلہ فرمانے والاف 1۔

185 ۔ پیغمبر کا کام اتباع اور پیروی : سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ پس آپ اتباع اور پیروی کیے جاؤ اس وحی کی جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ کہ آپ کا کام اور آپ کی شان اپنے رب کی وحی کی پیروی کرنا ہی ہے اور حق و ہدایت اب بہرحال اور صرف یہی ہے۔ لہذا آپ خود بھی اس پر عمل کرتے رہیں اور اپنی امت کو بھی اسی کی تبلیغ و تلقین کرتے رہیں کہ حق بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔ اور دارین کی سعادت و سرخروئی اسی سے وابستہ ہے اور اس کے بغیر وہ ممکن نہیں۔ سو اصل مقصود اتباع و پیروی کرنا ہے اس وحی کی جو نبی معصوم پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے پیغمبر کو اس سلسلے میں یہ آخری ہدایت فرمائی گئی ہے کہ مخالفین کے رویے سے قطع نظر کرکے آپ اس وحی کی پیروی کرتے رہیں جو آپ کی طرف کی جاتی ہے۔ اور مخالفین خواہ کتنا ہی زور لگائیں آپ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں کہ آپ بہرحال حق پر ہیں۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور آپ کا اصل منصب و مقام پیروی کرنا ہے اس وحی کی جو بھیجی جاتی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 186 ۔ صبر و استقامت کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور صبر ہی سے کام لیتے رہو ان لوگوں کی تکلیفوں اور ایذاء رسانیوں پر کہ صبر کا بیڑا بہرحال پار ہے اور دشمن کے مقابلے میں یہ بڑا ہتھیار ہے۔ اور اللہ کی نصرت و مدد صبر کرنے والوں ہی کے لیے اور ان ہی کے ساتھ ہے۔ (اِنَّ اللہَ مَعَ الصَّابِرِینَ ) یعنی وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اپنی تائید و نصرت اور امداد و اعانت کے اعتبار سے۔ اور جب اس کی امداد و اعانت حاصل ہو تو پھر کسی کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے سو آپ راہ حق و ہدایت پر مستقیم اور ثابت قدم رہیں۔ ان بدبختوں کی ایذاء رسانیوں کی پرواہ نہ کریں اور نہ ہی ان کے عذاب کے لیے کسی جلد بازی سے کام لیں کہ یہ اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر آپ کو اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا (فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ ) (الاحقاف : 35) سو راہ حق پر صبر و اسقامت ایک عظیم الشان صفت ہے۔ وباللہ التوفیق۔ 187 ۔ سب سے اچھا فیصلہ فرمانے والا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہی ہے سب سے اچھا اور صحیح فیصلہ فرمانے والا کہ اس کا فیصلہ ہر طرح سے بےلاگ اور مبنی برحق و صداقت ہوتا ہے۔ اور اس کے سوا اور باقی کسی کی بھی یہ شان نہیں ہوسکتی خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے راہ حق و صداقت پر بےمثال صبر و ضبط اور استقلال و استقامت سے کام لیا۔ اور اللہ پاک کا یہ فیصلہ بھی پورا ہو کر رہا کہ آپ کے پیش فرمودہ دین حق کا بول ہمیشہ کے لیے بالا ہوا۔ مشرق و مغرب میں آج کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں آپ ﷺ کے نام لیوا موجود نہ ہوں اور آپ ﷺ کے پیغام حق و صداقت کا علی رؤوس الاشہاد اعلان و اظہار نہ کیا جاتا ہو پورے کرہ ارضی پر دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں، ہر وقت اذان اور اقامت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور آپ ﷺ کی رسالت کا اعلان ہو رہا ہے اور بلند آواز لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ اور لگاتار اور مسلسل ہو رہا ہے۔ جبکہ آپ ﷺ کے وہ دشمن اور مخالف جو آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے اور ایذائیں پہنچایا کرتے تھے وہ سب مٹ مٹا گئے اور ایسے کہ آج ان کا نام صرف قصوں کہانیوں میں ہی کہیں مل سکے گا اور بس۔ فجعلہم احادیث ومزقہم کل ممزق و اوصلہم الی مصیرہم المحتوم فی دار الجحیم وعذابہ الالیم۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ والحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی النبی الامی الکریم نبینا محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن اھتدی بھدیہ ودعا بدعوتی الی یوم الدین۔