10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے جھٹلایا اس چیز کو جس کے علم کا یہ احاطہ نہ کرسکے، اور جس کی حقیقت (اور آخری انجام) ابھی تک پہنچی نہیں ان لوگوں کے پاس اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے (حق اور حقیقت کو) جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے، سو دیکھ لو کیسا ہوا انجام ایسے ظالموں کا،3

73 ۔ جہالت باعث عداوت و محرومی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جھٹلایا اس چیز کو جس کے علم کا یہ احاطہ نہیں کرسکتے۔ سو جہالت اور لاعلمی عداوت و محرومی کا ایک بڑا اور بنیادی سبب ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور انسان کی فطرت یہ ہے کہ جس چیز کی حقیقت نہ جانے وہ اس کا دشمن بن جاتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ " الناس اعدآء لما جہلوا " پس ان لوگوں کی تکذیب کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ ان کی اپنی جہالت و لاعلمی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ (محاسن التاویل وغیرہ) پس جہالت محرومی کا ایک بڑا اور بنیادی سبب ہے۔ اور علم کی روشنی سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ۔ اور علم سے مراد ظاہر ہے حق و حقیقت کا وہی علم ہے جو کتاب و سنت سے حاصل ہوتا ہے۔ سو قرآن حکیم ان کو کفر و انکار پر جس انجام اور عذاب سے ڈراتا اور خبردار کرتا ہے یہ لوگ چونکہ اس سے آگاہ نہیں اور وہ ان کے احاطہ علم و ادراک سے خارج ہے۔ اور یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ اس کی حقیقت ابھی ان کے سامنے ظاہر نہیں ہوئی۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ یہ اس کو اس وقت تک ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے جب تک یہ اس کو سر کی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ اور اس وقت تو یہ مانیں گے اور چیخ چیخ کر مانیں گے مگر بےوقت کے اس ماننے کا ان کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہ وہ ایمان بالمشاہدہ ہوگا جبکہ مطلوب ایمان بالغیب ہے۔ جس کے حصول کا موقع اسی دنیاوی زندگی میں ہے اور بس۔ اس کے بعد اس کے حصول اور اس سے سرفرازی کی کوئی صورت ممکن ہی نہیں۔ 74 ۔ ظالموں اور ظلم کا انجام برا۔ والعیاذ باللہ : سو درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے پس تم دیکھ لو کہ کیسا ہوا انجام ایسے ظالموں کا۔ سو اس ارشاد میں ان ظالموں کے انجام سے عبرت پکڑنے کی تعلیم و تلقین ہے جنہوں نے حق و ہدایت سے منہ موڑا اور اس کی تکذیب و تحقیر سے کام لیا۔ والعیاذ باللہ۔ سو ان کے اس انجام سے سبق لو اور عبرت پکڑو تاکہ تم لوگ تکذیب و انکار حق کے اس سنگین اور ہولناک جرم سے بچ سکو جس کا ارتکاب ان لوگوں نے کیا۔ اور اس کے نتیجے میں تم اس ہولناک اور اس بھیانک انجام سے بچ سکو جس سے وہ لوگ دوچار ہوئے کہ اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے ایک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کی یہ روش بعینہ وہی روش ہے جو ان سے پہلے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کی روش تھی۔ اور جس کے نتیجے میں بالآخر وہ لوگ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے تھے سو اگر یہ لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئے تو ان کا انجام اور حشر بھی وہی ہوگا جو ان پہلی قوموں کا ہوچکا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ فکر و عمل کی ہر کجی سے ہمیشہ محفوظ رکھے، اور ہمیشہ ہر حال میں ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا اور راہ حق وصواب پر مستقیم وثابت قدم رہنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 10:40

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ تو اس پر ایمان لے آئیں گے اور کچھ نہیں لائیں گے، اور تمہارا رب خوب جانتا ہے فساد مچانے والوں کو،

75 ۔ منکرین کے امہال کی وجہ کا ذکر وبیان : سو منکرین کے امہال کے سبب اور اس کی وجہ سے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو قرآن پر ایمان لا رہے ہیں، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں کچھ صالح عناصر ایسے موجود ہیں جن سے خیر کی توقع ہوسکتی ہے، سو اس کا تقاضا ہے کہ ان کو اتنی ڈھیل دی جائے کہ ایسے صالح عناصر ان سے چھٹ کر الگ ہوجائیں اور وہ کچرا الگ ہوجائے جو آتش دوزخ میں جھونکے جانے کے لائق ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " یومن بہ " میں حال اور مستقبل دونوں کا احتمال ہے، یعنی ان میں سے کچھ اس پر ایمان رکھتے ہیں یا ایمان لائیں گے۔ چناچہ ایسے ہی ہوا، پس یہ قرآن پاک کی ایک پیشینگوئی ہوئی جو بعد میں پوری ہوگئی اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے اور مفسرین کرام نے اس کو بھی بیان فرمایا ہے کہ ان میں سے کچھ اس پر دل سے ایمان رکھتے ہیں اور اس کو سچا جانتے ہیں، مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر وہ اس کا انکار کرتے ہیں، یعنی " یومن " حال کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے اور مستقبل کے معنی میں بھی۔ اور " بہ " کی ضمیر مجرور میں دو احتمال ہیں کہ اس کا مرجع قرآن ہو یا پیغمبر، دونوں صورتوں میں اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں کہ یہ لوگ دل سے تو ان کو سچا جانتے اور ان پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ظاہر میں انکار اور تکذیب سے کام لے رہے ہیں، محض اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر یا آئندہ ایمان لائیں گے یا یہ اس پر اس وقت ایمان لائیں گے جبکہ اپنے انجام اور عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، یہ سب ہی صورتیں اس کے مطلب میں بنتی ہیں یہ سب ہی مراد ہوسکتی ہیں اور یہ سب ہی حضرات اہل علم و فضل سے مروی و منقول ہیں۔ ( المراغی، المدارک، الفتح وغیرہ) اور ان سب ہی میں معنی و مطلب صحیح بنتا ہے۔ واللہ اعلم۔ 76 ۔ فسادیوں کے لیے محرومی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور ان میں سے کچھ اس پر ایمان نہیں رکھتے اور ایمان لانے کی بجائے ایسے لوگ عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں محض اپنی ہٹ دھرمی کی بنا پر۔ سو ہٹ دھرمی باعث محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس یہ لوگ محروم ہوگئے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے کہ میں نہ مانوں (I Never Agree) کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ضد وعناد اور ہٹ دھرمی سراسر خسارہ اور باعث محرومی ہے۔ پس ایسے لوگ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر نور ایمان سے محرومی کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (ابن کثیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ بہرکیف جب ان کی کیفیت یہ ہے کہ ان میں سے کچھ ایمان لانے والے ہیں اور کچھ نہیں تو اس بناء پر ان سب کو ڈھیل ملی ہوئی ہے۔ تاکہ اس مجموعے میں جتنا مکھن ہے وہ نکل آئے اور چھاچھ الگ ہوجائے۔ مگر یہ حقیقت واضح اور ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ جو لوگ کفر و شرک کے ذریعے فساد پھیلا رہے ہیں وہ اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے۔ اور اپنے عذاب سے وہ بچ نہیں سکیں گے۔ اسی لیے ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارا رب ایسے فسادی عناصر اور منابع شر و فساد کو پوری طرح جانتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لئے کہ لوگ اپنے کئے کرائے کے نتیجہ وانجام سے نہیں بچ سکیں گے۔
Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ (ان دلائل کے بعد بھی) آپ کو جھٹلاتے ہی جائیں تو آپ ان سے (آخری بات کے طور پر) کہہ دیں کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل نہ تم میرے کسی عمل کے جواب دہ ہو اور نہ ہی میں تمہارے کسی عمل کا،

77 ۔ منکرین و مکذبین سے اعلان برات و بیزاری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہٹ دھرموں کے لیے آخری جواب اعلان و اظہار بیزاری ہے کہ ہمارا راستہ الگ تمہارا الگ اگر تم لوگ اپنے کفر و تکذیب پر اڑے ہی رہے (المراغی۔ المنار) سو ان سے کہہ اب تمہاری مرضی میرا کام تو بس انذار وتبشیر اور تبلیغ حق ہے اور بس، اور وہ میں کرچکا۔ والحمد للہ۔ اور تمہارا کام یعنی تکذیب جو تم کر رہے ہو۔ کل عدل و انصاف کے اس یوم عظیم میں تم اپنے کئے کرائے کا بھگتان خود بھگت لوگے جبکہ تم سے کہا جائے گا۔ (هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) اور (هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ ) سو یہ ارشاد ربانی ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ ۭ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا) اور یہ ہٹ دھرمی کے لیے آخری جواب ہوتا ہے جو ان کو اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ حق کو پوری طرح واضح کردیا جاتا ہے مگر وہ لوگ پھر بھی نہیں مانتے اور اس کا اصل مقصد اظہار بیزاری ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا گیا کہ تم لوگ میرے عمل سے بری اور میں تمہارے عمل سے بری کہ جب تم لوگ حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے تو پھر اس اعلان برات کے سوا اور چارہ ہی کیا ہوسکتا ہے کہ پتھر پر جونک لگانا کسی کے بس میں نہیں ہوسکتا۔ سو ایسوں کے پیچھے لگنا بےکار اور ان پر محنت کرنا لاحاصل۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ وضلال۔ 78 ۔ ہر کوئی اپنا ذمہ دار اور جواب دہ خود : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نہ تم لوگ میرے کسی عمل کے جوابدہ و ذمہ دار ہو اور نہ میں تمہارے عمل کا جواب دہ اور ذمہ دار۔ بلکہ ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کی جوابدہی خود کرنی ہے کہ آخرت کے اس یوم حساب میں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔ سو اس میں ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے لئے آخری جواب کی تلقین ہے کہ اگر تم لوگ نہیں مانتے ہو تو تمہاری مرضی۔ انجام کار نتیجہ تم خود دیکھ لو گے کہ ہر کسی کو اپنے ہی کیے کرائے کا صلہ اور بدلہ ملے گا۔ کسی کو دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑے گا کہ آخرت کے اس جہاں میں ہر کسی کو اپنی ہی جوابدہی کرنی ہوگی۔ پس تم لوگ اپنے عمل کے ذمہ دار اور جواب دہ ہو اور میں اپنے عمل کا۔ تمہارا راستہ الگ اور میرا الگ۔ سو تم لوگ اپنے بارے میں اور اپنے مآل انجام سے متعلق خود دیکھ اور سوچ لو۔ میں تو تمہاری ہمدردی اور خیر خواہی کے لیے تم لوگوں کو اس راہ حق و ہدایت کی طرف بلاتا اور اس کی دعوت دیتا ہوں جس میں تمہارے لیے دنیا و آخرت کے دونوں جہانوں کا بھلا اور کامیابی ہے۔ مگر تم لوگ ہو کہ اس کو ماننے اور قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے تو اس کا کیا کیا جائے اور اس کا کیا علاج ہوسکتا ہے (ولکن لا تحبون الناصحین) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:42

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو سنتے ہیں آپ کی طرف کان لگا کر، (مگر اپنی بدنیتی کی بناء پر وہ بہرے ہیں) تو کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں اگرچہ وہ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں ؟1

79 ۔ حضور ﷺ کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں اگرچہ وہ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں۔ اور استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی نہیں ایسے نہیں ہوسکتا۔ تو پھر ان کے لیے افسوس کرنے کی کیا ضرورت ؟ سو اس میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی کا سامان ہے۔ کیونکہ آپ کو اپنی اس عظیم الشان رحمت و شفقت کی بناء پر جو کہ آپ کے قلب مبارک میں خلق خدا کے لیے موجود و موجزن تھی اور آپ کو ان لوگوں کے اس کفر وعناد پر جس سے وہ دعوت حق کے جواب میں کام لے رہے تھے سخت صدمہ اور افسوس ہوتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی اسی کتاب حکیم میں جابجا اور طرح طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ آپ اس طرح ان لوگوں کے پیچھے اپنی جان کو ہلکان نہ کریں کہ آپ کا کام تو صرف تبلیغ حق ہے اور بس۔ آگے منوا لینا نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی آپ کے ذمے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا ( فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ) (فاطر : 8) بہرکیف اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ جب یہ لوگ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کے باعث اور اپنی شامت اعمال کے نتیجے میں اندھے بہرے اور گونگے بن کر رہ گئے ہیں تو آپ ان کی محرومی پر افسوس نہ کریں کہ ایسے لوگ نور حق سے سرفرازی کے اہل نہیں رہے۔ سو قصور آپ کی تبلیغ کا نہیں بلکہ ان لوگوں کا اپنا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو دیکھتے ہیں آپ کی طرف (ٹکٹکی باندھ کر، اے پیغمبر ! مگر اپنے خبث باطن کی بناء پر اوندھے ہیں) تو کیا آپ ایسے اندھوں کو راہ دکھا سکتے ہیں، اگرچہ وہ (نور) بصیرت سے بھی محروم ہوں ؟2

80 ۔ اندھوں کو راستہ دکھانا کسی کے بس میں نہیں : سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھا سکتے ہیں ؟ جبکہ ان کو کچھ سوجھتا بھی نہ ہو۔ اور استفہام ظاہر ہے انکاری ہے۔ یعنی نہیں۔ پس اندھوں کو راستہ نہیں دکھایا جاسکتا جبکہ وہ نور بصیرت سے بھی محروم ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ یعنی نہیں ایسے نہیں ہوسکتا کہ ایسے بدنصیب و بدبخت جو اپنی آنکھوں پر تعصب وعناد کی سیاہ پٹی باندھ کر ظاہری بصارت اور باطنی بصیرت دونوں سے محروم ہوجائیں اور وہ اپنی ضد و ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہوں تو ان کو راہ راست کوئی نہیں دکھا سکتا۔ پس قصور آپ کا یا آپ کی دعوت و تبلیغ کا نہیں اے پیغمبر۔ بلکہ ان کی محرومی کا اصل سبب ان لوگوں کی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی ہے جس سے وہ اندھے اور بہرے بن گئے۔ موسلا دھار بارش میں اگر کوئی اپنے برتن کو اوندھا کردے تو اس کے اندر بارش کا پانی اور اس کا کوئی قطرہ آخر کس طرح جاسکتا ہے ؟ سو اس میں حضور ﷺ کے لیے اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے کہ آپ کا کام تبلیغ حق ہے اور بس۔ آگے منوا لینا نہ آپ کے ذمے ہے اور نہ ہی آپ کے بس میں اس کے بعد ان کا معاملہ اللہ کے حوالے۔ ان علیک الا البلاغ وعلینا الحساب۔
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

بیشک اللہ لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہیں کہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں،3

81 ۔ حق سے منہ موڑنا خود اپنی جان پر ظلم کرنا ہے۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر ایسے لوگ خود اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرتے ہیں۔ کیونکہ حق اور حقیقت کے انکار کا یہ جرم ایسا سنگین اور ہولناک جرم ہے کہ انسان کو دارین کی سعادتوں سے محروم کردیتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس طرح حق کا انکار کرکے انسان خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے مگر اس کو اس کا علم و احساس بھی نہیں ہوتا جو کہ خسارہ در خسارہ اور محرومی در محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس طرح ایسے لوگ اپنی جانوں پر خود ظلم کرتے ہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ اور ظلم کے معنی وہاں تو عنایت ہی عنایت، رحمت ہی رحمت اور نوازش ہی نوازش ہے اس نے انسانوں کو بہترین صلاحیتوں سے نوازا۔ پھر کائنات کی حکمتوں اور عبرتوں بھری یہ عظیم الشان اور کھلی کتاب ان کے سامنے رکھ دی۔ پھر اپنے انبیاء و رسل کے ذریعے ان کے لیے دعوت حق و ہدایت کا انتظام فرمایا۔ اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے کام لیتے تو پیغمبر کی دعوت ان کو اپنے دلوں کی آواز معلوم ہوتی۔ لیکن یہ اندھے اور بہرے بن گئے۔ انہوں نے حق کو سن کر اور مان کر نہ دیا اور اس طرح انہوں نے نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو تہ در تہ اور گھٹا ٹوپ اندھیروں کے حوالے کردیا اور سعادت و سرخروئی کی راہ سے منہ موڑ کر انہوں نے اپنے آپ کو ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھوں کے اندر پھینک دیا اور خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھا کر یہ لوگ (خسر الدنیا والاخرۃ) کے مصداق بن گئے اور یہی ہے سب سے بڑا خسارہ (ذلک ھو الخسران المبین) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے آمین۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور (آج تو یہ لوگ جلدی مچاتے ہیں پر) جس دن اللہ ان کو اکٹھا کر لائے گا (تو اس دن ان کو یوں محسوس ہوگا کہ) گویا کہ وہ نہیں ٹھہرے تھے (دنیا میں) مگر ایک گھڑی دن کی اور بس، یہ پہچانتے ہونگے آپس میں ایک دوسرے کو، (تب واضح ہوجائے گا کہ) بڑے ہی خسارے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی ملاقات کو اور وہ راہ راست پر نہ تھے،4

82 ۔ منکرین حق کی جلد بازی کا جواب اور ان کو تنبیہ : سو اس ارشاد سے منکرین قیامت کی جلد بازی کا جواب بھی دیا گیا اور ان کو تنبیہ بھی فرما دی گئی کہ قیامت کے روز اپنی دنیاوی زندگی ان کو ایک گھڑی کے برابر معلوم ہوگی ہول محشر کی وجہ سے اور کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہاں میں۔ سو دنیا کی جس زندگی کو آج یہ لوگ بڑی چیز اور لمبی فرصت سمجھتے ہیں وہاں پر یہ ان کو ایک گھڑی کے برابر معلوم ہوگی۔ تب ان کے افسوس کی کوئی انتہاء نہ ہوگی لیکن بےوقت کے اس افسوس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے یاس و حسرت میں اضافہ کے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ قرآن حکیم کا کس قدر بڑا احسان ہے خلق خداوندی پر کہ غیب کے ان حقائق کو جن کو جاننے کا دوسرا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں اس نے اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا تاکہ دنیا اپنی عاقبت کو سنوارے اور اپنی آخرت کیلئے سامان کرے۔ قبل اس سے کہ فرصت حیات اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور پھر ان کو ہمیشہ کے لیے پچھتانا پڑے۔ مگر اس کے باوجود ایک دنیا کی دنیا ہے کہ خواب خرگوش میں پڑی ہے اور اس قول حق و ہدایت کی طرف کان ہی نہیں دھرتی۔ اور ایسے لوگوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ اس طرح یہ اپنے لیے کس قدر ہولناک خسارے کا سامان کر رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ ایسے بدبخت اور محروم القسمت لوگ ان بندگان صدق و صفا کے پیچھے پڑتے، ان کا راستہ روکتے، ان کو دقیانوسی اور گردن زدنی کے لائق قرار دیتے ہیں اور آج پوری دنیائے کفر و باطل حق و ہدایت کے حامل و علمبردار اس مسلمان کو ختم کرنے اور اس کے وجود خیر برکت کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے درپے ہے۔ اور پوری دنیا میں مسلمانوں پر جگہ جگہ اور طرح طرح سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ خواہ وہ فلسطین و کشمیر ہو یا ہندوستان و پاکستان، بوسینیا و ہر زوگوینیا ہو یا چیچینا و افغانستان وغیرہ۔ ہر جگہ خون مسلم کی ارزانی ہے اور قصور اس کا صرف یہ ہے کہ یہ مسلمان ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ ) اور اس سارے ظلم و ستم کا اس سے بھی بڑھ کر دکھ دہ اذیت ناک اور کرب انگیز پہلو یہ ہے کہ کتنے ہی نام نہاد مسلمان خاص کر مسلمان ملکوں کا حکمران طبقہ ان ظالم و اشرار اور مشرکین و کفار کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔ فانا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہم اجرنا فی مصیبتنا واخلف لنا خیرا منھا والی اللہ المشتکی وھو المستعان ولا حول ولا قوۃ الا باللہ جل وعلا۔ اللہ حق اور اہل حق کو اپنی رحمتوں سے نوازے اور اہل باطل کے شرور و فتن سے اپنی پناہ میں رکھے۔ اور ہمیشہ اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے سرفراز رکھے آمین ثم آمین یارب العالمین۔ 83 ۔ محشر میں یہ لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے : اور یہ پہچاننا بھی ان کے لیے مزید دکھ اور صدمے کا باعث ہوگا۔ کیونکہ ان کا یہ تعارف باہمی توبیخ اور ملامت کا تعارف ہوگا کہ وہ وہاں پر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہوں گے کہ ایک دوسرے سے کہے گا کہ تو نے ہمیں گمراہ کیا اور دوسرا اس سے کہے گا کہ نہیں یہ سارا قصور تمہارا اپنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ (ابن کثیر، فتح القدیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے۔ اور اس طور پر کہ گویا ان کی ملاقات صبح و شام کا قصہ ہے۔ دنیا کی ہر بات ان کے ذہنوں میں اس طرح تازہ ہوگی کہ گویا کوئی زمانہ گزرا ہی نہیں۔ سو انسان کی یہ بڑی بدبختی اور محرومی ہے کہ یہ دنیاوی زندگی کو بہت طویل سمجھ کر آخرت سے بےفکر اور لاپرواہ ہوجائے۔ اور جب اس کو اس بارے خبردار کیا جائے تو کہے کہ لا کر دکھاؤ جس کے ڈراوے تم لوگ ہمیں دیتے ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ فکر و عمل کی ہر کجی سے ہمیشہ محفوظ اور راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 84 ۔ تکذیب و انکار آخرت سب سے بڑا خسارہ۔ والعیاذ باللہ : کہ اس سے انسان بےفکر اور لاپرواہ ہو کر نور حق و ہدایت سے محروم ہوجاتا ہے اور یہ محرومی سب سے بڑی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جن لوگوں نے قیامت کو جھٹلایا اور اس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی زندگی اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو دنیا کی عارضی اور فانی لذتوں کی تحصیل ہی میں گنوا دیا۔ اس طرح وہ ہدایت کے نور سے ہمیشہ محروم ہی رہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور دنیا کی کھیتی سے انہوں نے آخرت کے لیے کچھ نہ کمایا اور کفر و باطل کے اندھیروں میں غلطاں و پیچاں رہ کر انہوں نے اپنی متاع عمر کو تمام کردیا۔ وہ بڑے ہی سخت خسارے میں پڑگئے اور یہ ایسا بڑا اور اس قدر ہولناک خسارہ ہوگا کہ اس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی یہ لوگ رہ رہ کر تمنا و آرزو کریں گے کہ کاش ہم نے ایمان لایا ہوتا۔ مگر اس تمنا و آرزو سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے اپنی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو منکرین آخرت اس ہولناک خسارے میں تو آج بھی پڑے ہوئے ہیں لیکن آج دنیا کی ریل پیل، چمک دمک اور اس کے وقتی فائدوں اور فانی لذتوں کی بناء پر یہ لوگ اس طرف متوجہ ہونے اور اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور دنیا کے دار الابتلاء کی ہیئت کذائی اور امتحان کے تقاضوں کی بناء پر آج اصل حقائق پر پردہ پڑا ہے لیکن کل قیامت اور آخرت کے اس جہان غیب میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہان ہوگا ان لوگوں کا یہ خسارہ اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ ان کے سامنے ہوگا اور اس وقت یہ رہ رہ کر افسوس کریں گے مگر اس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کے ہر خسارے سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور اگر ہم دکھا دیں آپ کو (اے پیغمبر ! ) کچھ حصہ اس عذاب کا جس سے ہم ان لوگوں کو ڈرا رہے ہیں، یا اس سے پہلے ہی ہم اٹھا لیں آپ ﷺ کو تو (اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ) ان سب نے تو بہرحال لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے، پھر اللہ گواہ ہے ان تمام کاموں پر جو یہ لوگ کر رہے ہیں

85 ۔ یوم حساب کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر ان سب نے لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے اور بہرحال آنا ہے۔ پھر یہ حقیقت بھی واضح رہے کہ اللہ گواہ ہے ان تمام کاموں کا جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ سو وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنے کئے کرائے کا بدلہ بہرحال پانا ہے۔ اس سے بچ نکلنے کی کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہ ہوگی۔ تو پھر عمر رواں کی اس فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے، عذاب آخرت سے بچنے کی فکر اور کوشش کرنے کی بجائے الٹا عذاب کی جلدی مچانا، جیسا کہ یہ بےایمان لوگ کرتے ہیں، کس قدر حماقت اور کتنے بڑے خسارے کا سودا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ۔ سو آخرت اور اللہ کے حضور اپنی پیشی کو بھلا کر اور وہاں کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر جینا بڑا ہی ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے آگہی بخشی گئی کہ اگر ان بدبختوں پر عذاب کا کچھ حصہ آپ کی زندگی ہی میں آجائے یا آپ کی وفات کے بعد آئے تو اس سے کچھ فرق پڑنے والا نہیں کہ ان پر عذاب نے بہرحال آکر رہنا ہے۔ اور انہوں نے اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہے۔ یہ ہماری گرفت و پکڑ سے کبھی چھوٹ اور بچ نہیں سکتے کہ ان سب نے آخرکار لوٹ کر بہرحال ہمارے ہی پاس آنا ہے اور انہوں نے جو من گھڑت سفارشی اور خود ساختہ معبود اور کارساز اور حاجت روا و مشکل کشا بنا رکھے ہیں ان میں سے کوئی بھی ان کے کام آنے والا نہیں۔ اور وقت آنے پر یہ حقیقت ان کے سامنے خود پوری طرح آشکار ہوجائے گی کہ ان کے ایسے تمام سہارے محض اوہام اور خرافات تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر امت کے لئے ایک پیغام رساں رہا ہے، پھر جب ان کا وہ رسول آگیا (اور اس نے انکو اس کا پیغام پہنچا دیا اور انہوں نے نہ مانا) تو ان کے درمیان فیصلہ چکا دیا گیا، پورے انصاف کے ساتھ، اور ایسوں پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا،

86 ۔ پیغمبر کی تکذیب کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر امت کے لیے ایک پیغام رساں رہا ہے۔ سو جب ان لوگوں کے پاس ان کا رسول پہنچ گیا اور انہوں نے نہ مانا تو ان کے درمیان فیصلہ چکا دیا گیا پورے عدل و انصاف کے ساتھ۔ اور ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔ پیغام حق پہنچانے کے لیے۔ پھر ماننے والوں کے لیے خلاص و نجات کا اور نہ ماننے والوں کے لیے ہلاکت و بربادی کا فیصلہ کردیا گیا۔ نیز ان کا رسول جب قیامت کے روز حاضر ہو کر تبلیغ حق کی گواہی دے گا تو ان کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ آخری اور عملی فیصلہ کردیا جائے گا جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ( وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ) (الزمر : 69) اور اس طرح ان پر حجت تمام ہوجائے گی اور ان کا معاملہ پوری طرح واضح ہوجائے گا۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر قوم کے اندر اس کا رسول بھیجا گیا ہے تبیین حق اور اتمام حجت کے لیے۔ سو یہ رسول ان لوگوں کے اندر خداوند قدوس کی عدالت بن کر مبعوث ہوئے۔ جو لوگ صدق دل سے ان پر ایمان لائے وہ نجات و فلاح سے سرفراز ہوئے اور جو اپنے کفر و انکار پر اڑے رہے ان کی مدت مہلت پوری ہونے پر ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی اور یہی تقاضا ہے اس مالک الملک کے عدل و انصاف کا سو ظالموں کو ڈھیل اگرچہ ملتی ہے لیکن آخر کار ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جاتی ہے (فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العالمین) سو پیغمبر کی تکذیب کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 10:48–49

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ کب پوری ہوگی تمہاری یہ دھمکی اگر تم سچے ہو ؟

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

کہو (مجھے کیا خبر) میں تو خود اپنے لئے بھی اختیار نہیں رکھتا نہ کسی نقصان کا، اور نہ کسی نفع کا، مگر جو اللہ چاہے،1 امت کے لئے ایک وقت بہر حال مقرر ہے، (پھر) جب آپہنچتا ہے ان کا وقت مقرر، تو وہ نہ لمحہ بھر کے لئے پیچھے ہٹ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں،

87 ۔ نفع و نقصان اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ نفع و نقصان کا مالک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ چناچہ پیغمبر کو حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان سے کہو کہ میں تو اپنی ذات کے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتا ہوں نہ نقصان کا بلکہ ہر قسم کے نفع و نقصان کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ سو یہ ہے پیغمبر کا صاف وصریح اعلان کہ میں خود اپنے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتا ہوں نہ نقصان کا۔ نفع و نقصان سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور مشیت اور اختیار بہرحال اسی وحدہ لاشریک کا ہے جو اس کائنات کا خالق ومالک ہے۔ وہ جو چاہے کرے اور جیسے چاہے کرے۔ اور جو اس کو منظور ہوگا وہی ہوگا کہ اس کون و مکان اور کارخانہ ہست و بود کا خالق ومالک اور بلاشرکت غیرے خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور اس سب کا حاکم و متصرف اور اکیلا و تنہا حاکم و متصرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ پس اس میں مشیت ومرضی بھی اسی وحدہ لاشریک کی چلتی ہے اور اسی کی چلے گی۔ سبحانہ وتعالیٰ اور جب میں اپنے لئے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا تو پھر تم پر تم لوگوں کے مطالبے کے مطابق کسی عذاب کے واقع کرنے یا اہل ایمان کو کسی فتح و نصرت سے ہمکنار کرنے کا کوئی اختیار میں کیسے رکھ سکتا ہوں ؟ یہ تو خدائی صفت اور اسی کی شان الوہیت کا اختصاص و امتیاز ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ میں نے اس طرح کا کوئی دعوی کیا ہی کب ہے جو تم لوگ مجھ سے اس طرح کے مطالبے کرتے اور ایسی توقعات رکھتے ہو ؟ میرا منصب تو منصب رسالت ہے۔ اور میرا کام تو تم کو یہ بتانا ہے کہ وہ عذاب اپنے وقت پر آئے گا اور ضرور آئے گا۔ اس لئے تم لوگ اس سے بچنے کی فکر کرو تاکہ خود تمہارا بھلا ہو۔ کیونکہ جب اس کے آنے کا وقت آپہنچے گا تو نہ اس کو کوئی ٹال سکے گا اور نہ ہی وہ لمحہ بھر کے لیے آگے یا پیچھے ہوسکے گا۔ (روح، قرطبی، مدارک، جامع البیان، فتح البیان، صفوۃ التفاسیر، المراغی، المنار، اور ابن کثیر وغیرہ وغیرہ) مگر افسوس کہ اس طرح کی صاف وصریح نصوص و ہدایات کے باوجود اہل بدعت ہیں کہ اختیار کلی اور علم غیب کلی جیسے شرکیہ عقیدے رکھتے ہیں۔ اور جاہل کلمہ گو قبروں، مزاروں، آستانوں وغیرہ پر طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مفسر مراغی مرحوم اس موقع پر اپنی تفسیر میں عوام الناس کی انہی شرکیات پر نوحہ خوانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کس قدر تعجب اور افسوس کا مقام ہے کہ اس قدر صاف وصریح ارشاد ربانی کے باوجود لوگ ان قبروں پر چپکے بیٹھے ہیں جن کے مردے مٹی کی کتنی تہوں کے نیچے پہنچ گئے ہیں۔ اور وہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح وہ کتنے بڑے شرک کا ارتکاب کر رہے اور اس طرح وہ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ، اور سورة اخلاص کے ارشاد (قل ھو اللہ احد) کے مقتضی کی صریح خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اس سے بھی زیادہ تعجب اور افسوس ان علماء و مشائخ پر ہے جو یہ سب کچھ جاننے کے باوجود ان لوگوں کو اس شرک سے روکتے اور منع نہیں کرتے الی آخر الکلام۔ (تفسیر المراغی) اور یہ بندہ ناچیز ان سطور کا کاتب کہتا ہے کہ اس سے بھی بڑھ کر تعجب اور دکھ کی بات یہ ہے کہ علم و فضل اور مشیخت و بزرگی کے کتنے ہی دعویدار ایسے ہیں جو اپنے بھاری بھرکم جبوں قبوں اور مصنوعی رعب ودعب سے جاہلوں کے اس شرک کو طرح طرح سے تقویت دیتے اور اس طرح کی شرکیات کے لئے سند جواز ڈھونڈتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کے لیے کہ وہ کتاب وسنت کی نصوص صریحہ تک میں تحریف و تاویل سے کام لیتے ہیں۔ فالی اللہ المشتکیٰ وانا للہ وا نا الیہ راجعون۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسے لوگ یہود و نصاری کو شرما دینے والی ایسی ایسی تحریفات کا ارتکاب کرتے ہیں کہ انسان حیرت میں ڈوب کر رہ جاتا ہے کہ یہ کیسی بےباکی اور کس قدر بےخوفی ہے جس سے یہ لوگ کام لیتے ہیں۔ خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا کہئے۔ اور یہ کیسی تحریف ہے جس کا ارتکاب یہ لوگ کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور پھر بھی ایسے لوگ ایمان کا دعوی کرتے اور توحید کا دم بھرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ والی اللہ المشتکی وھو المستعان فی وجہ کل شر وطغیان، بکل حال من الاحوال وفی کل حین من الاحیان۔ وھوالرحیم الرحمان۔
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ تم لوگ اتنا تو سوچو کہ اگر (اچانک) ٹوٹ پڑے تم پر اس کا عذاب رات یا دن کے کسی بھی حصے میں، تو (تم لوگ کیا کرو گے ؟ ) آخر اس میں وہ کون سی چیز ہے جس کی جلدی مچا رہے ہیں یہ مجرم ؟

88 ۔ عذاب الہی کے لیے جلدی مچانا نری حماقت۔ والعیاذ باللہ : سو منکرین و معاندین کے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ بھلا تم لوگ اتنا تو سوچو کہ اگر وہ عذاب تم لوگوں پر رات یا دن کے کسی بھی حصے میں ٹوٹ پڑے تو پھر تم کیا کرو گے اور آخر کون سی چیز ہے وہ جس کے لیے تم لوگ اس طرح جلدی مچا رہے ہو ؟ پس یہ نری حماقت اور عین جہالت ہے کہ انسان عذاب سے پناہ مانگنے اور اس سے بچنے کی فکر کرنے کی بجائے الٹا اس کے جلد لائے جانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ سو جب وہ آگیا تو پھر تمہارے لیے سنبھلنے اور بچنے کا کوئی موقع کہاں رہے گا ؟ وہ تو اچانک اور کسی بھی وقت آسکتا ہے جیسا کہ مختلف زلزلوں سیلابوں اور طوفانوں وغیرہ کی صورت میں جگہ جگہ ہوتا بھی رہتا ہے۔ سو یہ اللہ پاک کی کتنی عظیم الشان رحمت اور عنایت ہے کہ وہ تم کو اس طرح پیشگی اس سے خبردار کر رہا ہے تاکہ تم دین حق کی تعلیمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنا کر اس سے بچاؤ کا سامان کرسکو۔ قبل اس سے وہ اچانک تم پر آپہنچے اور فرصت عمل تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے اور تم دائمی خسارے میں مبتلا ہوجاؤ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مگر تم لوگ ہو کہ اللہ پاک کی اس رحمت و عنایت پر اس کا شکر ادا کرنے اور اس کے حضور دل و جان سے جھکنے کی بجائے الٹا اس کے لیے جلدی مچاتے ہو۔ سو اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کے مقابلے میں کفر و انکار سے کام لینا کتنی بڑی بےانصافی اور کس قدر ظلم و ناشکری اور جہالت و حماقت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ظلم و ناشکری کے ہر شائبے سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 10:51–52

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

تو کیا جب وہ آپڑے گا تو اسی وقت تم اس کا یقین کرو گے (اس وقت تم سے کہا جائے گا کہ) اب ایمان لاتے ہو، حالانکہ اس سے پہلے تم لوگ اس کی جلدی مچایا کرتے تھے ؟2

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر کہا جائے گا ان لوگوں سے جنہوں نے ظلم کیا ہوگا کہ اب چکھو تم عذاب ہمیشہ کا، تمہیں تو صرف انہی اعمال کا بدلہ دیا جا رہا ہے، جو تم خود کما رہے تھے

89 ۔ دین حق سے منہ موڑنا سراسر ظلم۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت اس طرح کہا جائے گا ان لوگوں سے جنہوں نے ظلم کیا ہوگا حق کا انکار اور کفر و شرک کا ارتکاب کرکے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس وقت ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب چکھو اور چکھتے رہو تم لوگ مزہ ہمیشہ کے اس عذاب کا جس نے کبھی ختم نہیں ہونا اور ان لوگوں سے مزید کہا جائے گا کہ تم کو بدلہ نہیں دیا جا رہا مگر تمہارے اپنے ہی ان اعمال کا جو تم لوگ زندگی بھر کرتے رہے تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دین حق سے منہ موڑنا ظلم ہے اپنے خالق ومالک جل وعلا کے حق میں اپنے رسول رؤف و کریم کے حق میں اور خود اپنی جانوں کے حق میں۔ اور اس ظلم کے نتیجے میں ایسے لوگوں کو اس روز اس تذلیل و تحقیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جبکہ ایمان و یقین سے سرفرازی اور دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کی اتباع اور پیروی میں دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ اللہ نصیب فرمائے اور ایسا اور اس طور پر کہ وہ مالک اس سے راضی اور خوشی ہوجائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور پوچھتے ہیں آپ سے کہ کیا واقعی یہ حق ہے ؟ تو کہو، ہاں قسم ہے میرے رب کی، یہ قطعی طور پر حق ہے، اور تم عاجز کردینے والے نہیں ہو،3

90 ۔ پیغمبر کی قوت ایمان و یقین کا ایک نمونہ و مظہر : یعنی ان سے کہو کہ ہاں قسم ہے میرے رب کی یہ قطعی طور پر حق ہے۔ تاکید در تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ ہاں یہ قطعی طور پر حق اور صدق ہے اور یہی شان امتیاز ہوتی ہے قوت ایمان و یقین کی ورنہ محض فلسفہ و منطق کے دلائل سے ایسی قوت یقین کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنور الایمان والیقین بمحض منہ وکرمہ وھو ارحم الراحمین۔ فزدنا اللہم ایمانا بک ویقینا وحبا فیما عندک۔ و وفقنا لما تحب وترضی من قول و عمل۔ بہرکیف اس سے پیغمبر کی قوت ایمان و یقین کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے۔ سو سوال کرنے والوں کے جواب میں صرف سادہ جواب پر ہی اکتفا نہیں فرمایا گیا بلکہ ادوات تاکید اور قسم کے ساتھ مؤکد کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ ہاں یہ قطعی طور پر حق اور سچ ہے اور اس نے اپنے وقت پر بہرحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے۔ تب اس سے بچنے اور بھاگ نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ (وَّلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ ) (ص :3) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 91: اللہ کی گرفت و پکڑ سے بچنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ : سو منکرین کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ عاجز کردینے والے نہیں ہو کہ اس عذاب کو نہ آنے دو اور اس کو روک دو ۔ یا اس سے نکل بھاگو۔ بلکہ تم پوری طرح اس کی گرفت اور اس کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہو۔ وہ جب چاہے اور جیسے چاہے تم کو عذاب میں دھر لے۔ اس لئے عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ اس عذاب کے لئے جلدی مچانے اور اس کی تکذیب و استہزاء کی بجائے اس سے بچنے کی فکر کرو جس میں خود تمہارا پنا بھلا ہے کہ اللہ کا عذاب آجانے کے بعد پھر کبھی نہیں ٹلتا (اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَاۗءَ لَا يُؤَخَّرُ ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (نوح :4) سو مجنون اور دیوانے وہ لوگ نہیں جو قطعی عذاب کے آنے سے پہلے اس سے خبردار کرتے ہیں تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے بلکہ مجنون اور دیوانے دراصل وہ لوگ ہیں جو ان کو جھٹلاتے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اس ہولناک انجام کی طرف بڑھے جارہے ہیں جس سے گلو خلاصی کی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہ ہوگی جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ مگر وہ اپنی بدبختی کی بناء پر اپنے اس جنون اور دیوانگی سے آگاہ نہیں اور اس طرح وہ مسلسل اور لگاتار اپنے اس انتہائی ہولناک انجام کی طرف بڑھے چلے جارہے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر اس شخص کے لئے جس نے ظلم کیا ہوگا (اس روز) روئے زمین کی دولت بھی ہوجائے تو وہ یقیناً اس سب کو اپنے بدلے میں دے ڈالے، اور یہ لوگ رہ رہ کر چھپا رہے ہوں گے اپنی ندامت (و پشیمانی) کو، جب یہ دیکھیں گے اس (ہولناک) عذاب کو، اور فیصلہ چکا دیا جائے گا ان کے درمیان (پورے عدل و) انصاف کے ساتھ، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا،

92 ۔ عذاب آخرت کی ہولناکی کا ایک مظہر و نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت اگر ان ظالموں میں سے کسی کو پوری روئے زمین کی دولت بھی مل جائے تو وہ یقینا اس سب کو اپنے بدلے میں دے دے تاکہ وہاں کے اس ہولناک عذاب سے بچ سکے مگر اس کا موقع کہاں ؟ کہ اس کا وقت تو بہرحال گزر چکا ہوگا جو کہ فرصت عمر کی شکل میں اس واہب مطلق کی طرف سے اس دنیا میں ایسے لوگوں کو ملا ہوا تھا اور اس کو انہوں نے بار بار اور طرح طرح کی تنبیہ و ترغیب کے باوجود ضائع کردیا۔ اور اب اس نے کبھی بھی اور کسی بھی طور پر واپس نہیں ملنا۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہاں سے اس بات کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حیات دنیا کی صورت میں فرصت و فراغت کی جو نعمت و دولت آج ہمیں میسر ہے یہ کس قدر عظیم الشان دولت اور کتنی بڑی نعمت ہے جس سے قدرت نے ہمیں نوازا ہے کہ اس میں ہر طرح کی نیکی کرنے اور آخرت کے لئے ہر قسم کی کمائی کا موقع موجود ہے۔ اور ایسا کہ یہاں پر اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے دیا جانے والا کھجور کے ایک دانے کے برابر کا صدقہ بھی قابل قبول اور باعث اجر وثواب ہے جبکہ وہاں پر روئے زمین کی ساری دولت بھی اگر بالفرض دی جائے تو بھی قبول نہ ہوگی۔ سو عقل و نقل کا تقاضا یہ ہے کہ دنیاوی زندگی کی اس فرصت کے ایک ایک لمحے کو اس کی رضا میں خرچ کیا جائے۔ وباللہ التوفیق۔ اللہ تعالیٰ حیات مستعار کے ایک ایک لمحے کو اپنی رضا کے لیے صرف کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 93 ۔ ظالموں کی طرف ندامت کو چھپانے کی ناکام کوشش : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز جب یہ لوگ اس ہولناک عذاب کو دیکھیں گے تو یہ اپنی ندامت و پشیمانی کو چھپا رہے ہوں گے تاکہ مزید رسوائی سے بچ سکیں اور نقصان مایہ کے ساتھ شماتت ہمسایہ کا شکار نہ بنیں۔ مگر اس قدر سخت ذلت اور اتنی ہولناک ندامت کو چھپا لینا ان کے بس میں کیونکر ہوسکے گا ؟ چھپانے کی ہزار کوشش کے باوجود کبھی ان کے منہ سے اس طرح کی حسرت بھری آہیں پھوٹ پڑیں گی (يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ ) (الزمر : 56) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو قرآن حکیم کا دنیا پر یہ کس قدر بڑا احسان ہے کہ اس نے عالم آخرت کے ان عظیم الشان غیبی حقائق کو اس صراحت و وضاحت کے ساتھ آشکارا فرما دیا جن کے جاننے کا دوسرا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں ہوسکتا تاکہ انسان اس کی روشنی میں اپنی راہ متعین کرسکے اور کل وہ یوں نہ کہہ سکے کہ مجھے خبر نہیں تھی۔ اور اس طرح جس نے جینا ہو وہ حق و ہدایت کی روشنی میں جئے اور جس نے مرنا ہو وہ اس کی روشنی میں مرے۔ مگر غفلت کے مارے اس حقیقت کو جاننے و ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ والعیاذ باللہ۔
Ayah 10:55

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

آگاہ رہو (اے لوگو ! ) کہ قطعی طور پر اللہ ہی کے لئے ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے، یاد رکھو کہ اللہ کا وعدہ قطعی طور پر سچا ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں،1

94 ۔ کائنات میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کے لیے ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ خلق و پیدائش کے اعتبار سے بھی اور ملکیت و مالکیت کے اعتبار سے بھی اور تصرف و حکومت کے لحاظ سے بھی کہ اس سارے کون و مکان اور کارخانہ ہست و بود کا خالق ومالک بھی تنہا وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے۔ پس نہ اس کی خلق و ایجاد میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ اس کے حکم و تصرف میں۔ اس لئے وہ جو چاہے کرے۔ کسی کو جو سزا و جزاء چاہے دے نہ اس کے لیے کوئی بات مشکل ہے اور نہ کوئی رکاوٹ (وَاَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) لیکن چونکہ وہ حکیم بھی ہے اس لیے اس کا ہر حکم و تصرف اور ہر امر و ارشاد حکمت کاملہ پر مبنی ہوتا ہے اور اس قدر اور اس حد تک کہ اس کا کوئی متبادل ممکن ہی نہیں اور اس قدر کہ اس کے خلاف ورزی باعث خرابی و فساد ہے اور اس کی مقرر فرمودہ حدود کی پابندی ہی میں صلاح و فلاح اور سب کا بھلا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر موقع پر اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ 95 ۔ اکثر لوگ جاہل۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید و تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آگاہ رہو (اے لوگو) کہ اللہ کا وعدہ قطعی طور پر سچا ہے۔ لیکن حق اور حقیقت کو اور اپنے مآل انجام کو اور راہ حق و صواب اور فوز و فلاح کو اپنی غفلت اور کوتاہ نظری کے باعث سو نہ تو وہ غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی حضرات انبیائے کرام۔ علیہم الصلوۃ والسلام کی بات کو مانتے ہیں۔ پس غفلت و لاپرواہی بیماریوں کی بیماری اور محرومی و شر و فساد کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ یہاں سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے کہ عوام کی اکثریت کی رائے حق و ہدایت کے فیصلہ کے لیے اساس اور معیار نہیں بن سکتی جیسا کہ مغربی جمہوریت کے پرستاروں کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور جیسا کہ ہمارے یہاں کے اہل بدعت کا کہنا ہے کہ عوام کی اکثریت ہمیشہ ان پڑھ، جاہل، فاسق و فاجر اور ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگوں ہی کی ہوگی۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی جہالت سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور نور علم و آگہی سے منور ومالا مال فرمائے۔ اور ہمیشہ راہ حق وصواب پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین۔
Ayah 10:56

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی زندگی بخشتا ہے، اور اسی کی (صفت و) شان ہے موت دینا، اور اسی کی طرف لوٹایا جائے گا تم سب کو،

96 ۔ سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور اسی کے حضور لوٹایا جائے گا تم سب کو اے لوگو ! تاکہ اس کے یہاں پہنچ کر تم اپنی زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پاسکو۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہوسکیں۔ سو تم چاہو یا نہ چاہو، مانو یا نہ مانو، ایسے بہرحال ہو کر رہے گا۔ (تُرْجَعُوْنَ ) کے اس لفظ سے کئی اہم حقیقتیں واضح ہوجاتی ہیں۔ مثلا یہ کہ تم لوگ آئے اسی کے یہاں سے۔ اس لئے تم نے لوٹ کر جانا بھی اسی کے حضور ہے۔ کیونکہ رجوع کے معنی لوٹنے کے آتے ہیں۔ اور لوٹنا وہیں ہونا ہے۔ جہاں سے کوئی آیا ہو۔ دوسری اہم حقیقت یہ واضح ہوجاتی ہے کہ تم لوگ چاہو یا نہ چاہو تمہیں بہرحال لوٹ کر اس کے حضور پہنچنا ہے۔ کیونکہ یہاں (تُرْجَعُوْنَ ) مجہول کا صیغیہ استعمال ہوا ہے، اور تیسری اہم حقیقت اس سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ تمہارے معاملات آج بھی اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ اور ہوتا وہی ہے جو اس وحدہ لاشریک کو منظور ہوتا ہے اور کل بھی اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور یہ اس لیے کہ یہاں (تُرْجَعُوْنَ ) کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے جو کہ حال اور مستقبل دونوں کو شامل ہوتا ہے۔ نیز یہ کہ تم لوگوں نے جواز خود مختلف ناموں سے طرح طرح کے شرکاء اور شفعاء اور سفارشی گھڑ رکھے ہیں ان میں سے کوئی بھی تمہیں کام نہیں آسکے گا کہ ان فرضی اور وہمی چیزوں کا نہ کوئی وجود ہے نہ ثبوت۔ پس تم سب نے لوٹ کر بہرحال اسی خالق ومالک کے حضور پہنچنا ہے جو کہ سب کا خالق اور مالک حقیقی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( وَرُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىھُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ) (یونس :30) اللہ تعالیٰ اس روز کی سرخروئی سے نوازے۔ اور ہر موقع و مقام پر اپنی خاص رحمت عنایت کا معاملہ فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

اے لوگو ! بلاشبہ پہنچ چکی تمہارے پاس ایک عظیم الشان نصیحت تمہارے رب کی جانب سے، اور شفاء دلوں کی بیماریوں کی، اور سراسر ہدایت اور عین رحمت، ایمان والوں کے لئے،2

97 ۔ قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثال نصیحت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک آچکی تم لوگوں کے پاس ایک عظیم الشان نصیحت تمہارے رب کی جانب سے۔ ایسی عظیم الشان جو کہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرنے والی ہے۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بھا وبالایمان بھا۔ اللہ اس کی قدر پہچاننے اور اس کا حق ادا کرنے کی توفیق بخشے۔ بہرکیف اس میں سب لوگوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تمہارے پاس ایک ایسی عظیم الشان نصیحت آگئی جو تمہارے رب کی طرف سے ہے۔ اور جب وہ تمہارے رب کی طرف سے ہے تو اس میں تمہارے لیے خیر ہی خیر اور برکت ہی برکت ہے اور اس میں کسی غلطی اور قصور کا کوئی امکان نہیں ہوسکتا۔ اور وہ تمہیں ان تمام مہالک و خطرات سے آگاہ کرتی ہے جن سے لوگوں کے لیے بچنا نہایت ضروری ہے اور جن کی طرف ہدایت کے نور سے محروم لوگ آنکھیں بند کیے بڑھے چلے جارہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 98 ۔ قرآن حکیم دلوں کی بیماریوں کی شفاء : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ شفاء ہے دلوں کی بیماریوں کی۔ کفر و شرک الحادو بےدینی، شک و ریب اور شقاق و نفاق کی ان مہلک اور تباہ کن بیماریوں کے لیے شفاء جو کہ ہلاکت و تباہی کے نہایت ہولناک اور گہرے گڑھوں میں پھینک دینے والی بیماریاں ہیں۔ اشخاص و افراد کو بھی اور قوموں اور ملکوں کو بھی۔ والعیاذ باللہ۔ اور جن کی خطورت سنگینی اور تباہی و بربادی کے علم و ادراک اور ان کے لیے دواء و علاج کا مادہ پرست انسان کے پاس نہ آج تک کوئی ذریعہ اور (Source) و ماخذ موجود ہے اور نہ قیامت تک کبھی ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ وحی خداوندی کے اس چشمہ صافی سے منہ موڑ کر محض اپنی قوت عقل و فکر اور مادی ترقی کے بل بوتے پر اس کا کوئی انتظام کرسکے کہ اس چیز کا تعلق دائرہ عقل و فکر سے نہیں۔ عالم بالا سے ہے۔ سو انسان مادی ترقی میں جتنا بھی آگے بڑھ جائے وہ نہ صرف یہ کہ نور وحی اور ہدایت خداوندی سے بےنیاز نہیں ہوسکتا بلکہ اصل اور حقیقت کے اعتبار سے وہ اس کا اور بھی زیادہ ضرورت مند اور محتاج ہوتا جاتا ہے۔ ورنہ وہ دلوں کی ایسی مہلک بیماریوں کے باعث تمام انسانی اوصاف و خصال کھو کر مختوم القلب اور حیوان محض بلکہ بدترین مخلوق " شرالبریہ " بن کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو قرآن حکیم کے اس نسخہ کیمیا میں ایسی تمام تباہ کن بیماریوں کا علاج اور ان سے شفاء موجود ہے۔ سو اس سے منہ موڑنا اور اعراض و روگردانی برتنا کتنی بڑی محرومی اور کس قدر بدبختی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 99 ۔ قرآن حکیم سراسر ہدایت اور عین رحمت ہے ایمان والوں کے لیے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہدایت قرآن سے استفادہ کی اولین شرط ایمان و یقین ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کتاب حکیم دلوں کی بیماریوں کے لیے شفاء سراسر ہدایت اور عین رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن حکیم کے اس چشمہ فیض اور نور ہدایت سے مستفید و فیضیاب ہونے کے لیے اولین اساس اور بنیادی شرط اس پر ایمان و یقین ہے۔ اور یہ ایک طبعی امر اور بدیہی حقیقت ہے کہ شفا خانے میں ہر بیماری کے علاج اور اس سے شفاء حاصل کرنے کا سامان موجود ہوتا ہے مگر فائدہ بہرحال اسی کو پہنچ سکتا ہے جو دوا کو نفع بخش سمجھ کر حسب ہدایت استعمال کرے۔ سو جو دوا کی اہمیت و افادیت کو تسلیم ہی نہ کرے اور اس کو استعمال ہی نہ کرے اس کو اس کا فائدہ کیونکر پہنچ سکتا ہے ؟ پس جو لوگ اس کتاب حکیم پر ایمان رکھتے ہیں یا ایمان رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ سراسر ہدایت اور عین رحمت ہے اور اس کے برعکس جو اس پر ایمان رکھنا چاہتے ہی نہیں ان کے لیے یہ محرومی پر محرومی اور رجسا علیٰ رجس کا باعث بن جاتی ہے۔ سو انسان کے بناؤ بگاڑ اور صحت و فساد کا اصل دارو مدار اس کے قلب و باطن اور اس کے اپنے ارادہ و نیت پر ہے جیسا کہ پہلے بھی کئی جگہ گزرا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ اللہ کے اس فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہونا چاہیے ان لوگوں کو، کہ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جس کو یہ جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں،

100 ۔ نعمت ہدایت متاع دنیا سے کہیں بڑھ کر نعمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اللہ کے اس فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہونا چاہئے ان لوگوں کو کہ یہ کہیں بہتر ہے اس سے جس کو یہ جمع کرنے اور جوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یعنی متاع دنیا کا حطام فانی و زائل کہ وہ بہرحال عارضی اور فانی و چند روزہ ہے۔ جبکہ حق و ہدایت کا یہ نور اور ایمان و یقین کی یہ دولت اس دنیائے فانی کے بعد آنے والے آخرت کے اس عالم جاودانی میں بھی کام آنے والی چیز ہے۔ تو اس کی عظمت کے کیا کہنے۔ فالحمد للہ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ (قل بفضل اللہ) الخ کی ترکیب و تقدیر میں کئی اقوال و احتمال ہیں جن میں سب سے بہتر اور دل لگتا قول و احتمال یہ ہے کہ اس میں " جآء " مقدر مانا جائے۔ سو تقدیر کلام اس طرح ہوجائے گی " قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ جَآءَ " یعنی ان سے کہو کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے فضل اور بےپایاں رحمت کو لے کر نازل ہوا ہے " پس جن کو خوش ہونا ہے وہ اللہ کے اس فضل بےکراں رحمت بےنہایت پر خوش ہوں اور اسی کو اختیار کریں کہ یہ ان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور و ہمکنار کرے گی۔ سو یہ متاع دنیا کے ان خزف ریزوں سے کہیں بڑھ کر ہے جن کو جوڑنے اور جمع کرنے میں ابنائے دنیا اور پرستاران مادہ و معدہ محو و منہمک ہیں کہ وہ سب کچھ فانی، وقتی اور زائل ہے جبکہ اصل دولت اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرخرو و سرفراز کرنے والی دولت یہی دولت قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم و گامزن رکھے اور خدمت قرآن میں محو و منہمک رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 10:59–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اللہ کے اتارے ہوئے رزق میں سے تم لوگ جواز خود کچھ کو حلال ٹھہراتے ہو، اور کچھ کو حرام، تو کیا تم لوگوں کو اللہ نے اس کی اجازت دی ہے یا تم یونہی اللہ پر جھوٹا افتراء باندھتے ہو ؟

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور کیا خیال ہے ان لوگوں کا قیامت کے بارے میں، جو اللہ پر جھوٹ موٹ افتراء باندھتے ہیں ؟ بیشک اللہ بڑا ہی مہربان ہے لوگوں پر، لیکن لوگ ہیں کہ ان کی اکثریت شکر ادا نہیں کرتی،3

103 ۔ اللہ پر افتراء باندھنے والوں کی پکڑ لازمی ہوگی : سو کیا خیال ہے ایسے افتراء پردازوں کا۔ کیا ایسے ایسے جرائم پر ان کی وہاں پر کوئی باز پرس نہ ہوگی ؟ اور ان کو اپنے کئے کا کوئی بھگتان بھگتنا نہ پڑے گا ؟ سو اس طرح کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے کہ ایسوں کی کوئی گرفت و پکڑ نہ ہو کہ یہ اس کے قانون عدل و حکمت کے خلاف ہے۔ پس ایسوں کی باز پرس لازما ہوگی۔ یہاں پر یہ اسلوب کلام بھی ملاحظہ ہو کہ یہاں پر سوال کرنے کے بعد اس کا جواب دیئے بغیر بات کو ختم فرما دیا گیا جو کہ متکلم کے انتہائی غضب کی دلیل ہے۔ مطلب یہ کہ کیا ان کی شامت زدہ لوگوں نے اپنے اس جرم کو کوئی معمولی جرم سمجھ رکھا ہے ؟ اور یہ اس سے اس طرح نچنت اور بےفکر ہو کر بیٹھے ہیں۔ سو قیامت کا روز حساب آنے پر ان کو پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے کس قدر سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا اور ان کو اس کی کیسی ہولناک سزا ملتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 104 ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی تذکیر و یاد دہانی : سو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا ہی مہربان ہے لوگوں پر اور یہ اس کی بےنہایت رحمت و عنایت اور مہربانی ہی کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو بےحد و حساب ظاہری نعمتوں کے علاوہ ہدایت و وحی کی اس عظیم الشان معنوی دولت اور روحانی نعمت سے بھی نوازا اور سرفراز فرمایا ہے، جو دوسری نعمتوں سے بڑھ کر اور دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے اور پھر ناشکرے انسان کی طرف سے ہر طرح کی بےقدری اور ناشکری کے باوجود وہ اس کو مہلت پر مہلت بھی دئیے جارہا ہے۔ فسبحان الذی لا حد لفضلہ ولا نھایۃ لحلمہ واحسانہ۔ سو اگر اس کی یہ شان حلم و کرم اور رحمت و عنایت نہ ہوتی اور وہ لوگوں کو ان کے کیے کرائے پر فوری پکڑنے لگتا جو کسی بھی نفس کو روئے زمین پر باقی نہ چھوڑتا سو ہمیشہ اس کی رحمت و عنایت کی امید رکھنی چاہئے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ 105 ۔ لوگوں کی اکثریت ناشکروں کی۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے تصریح فرمائی گئی کہ اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔ سو لوگوں کی اکثریت اپنے خالق ومالک کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتی اور اس وحدہ لاشریک کے حضور جھکنے اور صدق دل سے اس کی اطاعت و فرمانبرداری کی بجائے اس کے احکام و ارشادات طرح طرح سے مخالفت و نافرمانی کرتی ہے۔ حالانکہ یہ لوگ سر سے پاؤں تک اس کو گوناگوں رحمتوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ظاہری اور باطنی ہر طرح کی نعمتوں میں۔ والعیاذ باللہ۔ یہاں سے پھر اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ عوام کی اکثریت کا کسی طرف ہوجانا اس کے حق اور صدق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ جیسا کہ مغربی جمہوریت کے علمبرداروں کا کہنا ہے، اور جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ماننا ہے۔ کیونکہ عوام کی اکثریت بہرحال غلط کاروں ہی کی رہی۔ پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کی ان کی اکثریت ناشکروں، ناقدروں اور بےانصافوں ہی کی رہی ہے اور شکر گزار، قدرداں اور عدل وانصاف والے لوگ ہمیشہ کم ہی رہے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ الا ماشاء اللہ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔