Ayah 10:2138 ۔ انسان کی تنگ ظرفی کا عالم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لوگوں کی تنگ ظرفی اور کوتاہ نظری کا عالم یہ ہے کہ اگر ہم ان کو چکھا دیں کوئی رحمت کسی ایسی تکلیف کے بعد جو ان کو پہنچ چکی ہوتی ہے تو یہ چھوٹتے ہی چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ہماری آیتوں کے بارے میں (من رحمۃ) من تنکیر عموم کا فائدہ دے رہی ہے یعنی کوئی بھی رحمت اور نعت ہو۔ خواہ روپیہ پیسہ اور مال ودولت کی صورت میں ہو یا عزت و اقتدار، جاہ و مرتبہ صدارت ووزارت اور سیادت و قیادت وغیرہ وغیرہ کی کسی بھی شکل میں۔ تو یہ تنگ ظرف اور مادہ پرست انسان ایسے موقع پر خوشی سے پھولا نہیں سماتا اور وہ آپے سے باہر ہوکرناچنے کو دنے اور بھنگڑا ڈالنے لگتا ہے وغیرہ وغیرہ کل بھی اس کا یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے کہ ایسے تنگ ظرف لوگوں کی معراج یہی کچھ ہوتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جبکہ مومن صادق کی نظرآخرت اور انجام پر ہوتی ہے سو انسان کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں پر اس سے مرادوہی انسان جو لذت ایمان و یقین سے محروم ہے جس کے اولین مصداق کفار قریش ہیں جو کہ قرآن حکیم کے براہ راست مخاطب تھے۔ اور اس کے بعد جو بھی ان کے نقش قدم پر ہوں گے وہ سب اس میں داخل ہیں جبکہ مومن صادق کی صفت وشان اس کے بالکل برعکس ہے کہ اس کے نزدیک یہ دنیا پوری بھی مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتی، تو پھر اس کے کچھ ٹکوں کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے تو پھر اس پر اترانے اور تکبر کرنے کا کیا سوال ؟ سو اس طرح ایسے لوگ خود اپنی ہی حرمان نصیبی اور ہولناک خسارے کا سامان کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
39 ۔ انسان کی بےانصافی اور ناشکری کا ایک نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایساشخص چھوٹتے ہی چالبازیاں کرنے لگتا ہے ہماری آیتوں کے بارے میں سو اس طرح اس کے اندر کا چھپا ہوا شر اور شرک ابل کر باہر آجاتا ہے اور وہ ہماری آیتوں اور حق کے مقابلے میں تن کر کھڑاہو جاتا ہے کہیں کہتا ہے کہ یہ سب کچھ تو میری اپنی عقلوتدبیر اور چالاکی و چالبازی کا نتیجہ ہے اور کہیں کہتا ہے کہ یہ فلاں حضرت یا آستانے کی مہربانی یا فلاں بت کی کرشمہ سازی ہے اور اس کے لیے وہ نذروں، نیازوں اور چڑھاو وں، چادروں کا کام شروع کردیتا ہے اور کبھی وہاں سربھی ٹیک دیتا ہے اور جلوسوں کی شکل میں حاضری بھی دیتا ہے اور منعم حقیقی جل جلالہ، کو نہ صرف یہ کہ وہ بھول جاتا ہے بلکہ الٹا اس کی بارگاہ اقدس واعلیٰ اور توحید خالص کی طرف بلانے والوں کو برابھلاکہنے، تنگ کرنے، اور ان کی راہیں روکنے پر اترآتا ہے۔ سو کتنا ناشکر اور کس قدراحسان فراموش ہے یہ انسان ؟ (قتل الانسان مآاکفرہ) اور یہ ناشکرا انسان اپنے اس شروفساد اور اعراض وانکار میں اس قدر آگے نکل جاتا ہے کہ اللہ کی آیات کی تکذیب اور ان کے ساتھ استہزاء کی جسارت تک کرنے لگتا ہے۔ کماقال مجاہد۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی کجی سے ہمیشہ محفوظ رکھے آمین ثم آمین۔
40 ۔ اللہ کی چال بڑی ہی تیز اور انتہائی کارگر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں سے کہو کہ اللہ کی چال اس سے کہیں زیادہ تیز اور کارگر ہے اور ایسی تیز اور اس قدر کارگر کہ تمہیں اس کا پتہ بھی نہیں چل سکتا جبکہ اس کے علم ازلی میں تمہاری سزا بھی مقرر ہوچکی ہوتی ہے۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وشر۔ سو اس وحدہ لاشریک کا معاملہ دنیا والوں کی داروگیر سے مختلف ہوتا ہے کہ دنیاوالے چونکہ تنگ ظرف ہوتے ہیں ان میں صبر و برداشت کا مادہ ایک محدود و مختصر حدتک ہی ہوتا ہے۔ اس لیے وہ برداشت نہیں کرسکتے۔ بلکہ فورا ایکشن لیتے ہیں جبکہ اس مالک الملک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی ہر صفت کی طرح اس کی صفت حلم وکرم بھی لامحدود ہے اس لیے وہ ایسے سرکشوں کو ڈھیل پر ڈھیل دیئے جاتا ہے بلکہ انکو دنیاوی نعمتوں سے بھی نوازتا جاتا ہے جس سے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ ٹھیک ہیں (we are right) ورنہ ہماری پکڑکیوں نہیں ہوتی اور ہمیں یہ دنیاوی مال و متاع کیوں ملتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی سرکشی میں اور بڑھ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ حق بات پر کان دھرنے اور اس کو قبول کرنے کے لیے تیارہی نہیں ہوتے جس کے نتیجے میں وہ اپنے اس آخری انجام اور ہولناک نتیجے کو پہنچ کر رہتے ہیں جو ان کے لیے طے اور مقدرہوچکا ہوتا ہے اور ایسے دھرلیے جاتے ہیں کہ پھر ان کے لیے اس سے نکلنے اور رہائی پانے کی کوئی صورت ممکن ہی نہیں رہتی۔ سو تمہارے رب کی گرفت وپکڑبڑی سخت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ نیز ارشاد فرمایا گیا کہ ہمارے فرشتے ان تمام چالوں کو لکھتے اور ان کا پورا ریکارڈ تیار کرتے جارہے ہیں جو تم لوگ طرح طرح سے اور مختلف شکلوں میں کرتے ہو سو اسی ریکارڈ کے مطابق وقت آنے پر تم سب سے عدل وانصاف کے تقاضوں کے عین مطابق بھرپور طریقوں سے نمٹاجائیگا۔ پس تم لوگ کبھی یہ نہ سمجھنا کہ تم اپنے کیے کرائے کا پھل پانے سے بچ جاؤگے اور تمہاری کوئی پوچھ نہیں ہوگی کہ اس خالق ومالک کے یہاں ایسی اندھیرنگری کا کوئی امکان نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔ اللہ ہمیشہ اور ہر موقع پر اپنی رضاء خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور زیغ وضلال کی ہر قسم اور نفس و شیطان کے ہر دھوکے سے ہمیشہ اور ہر حال میں محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
41 ۔ ظالموں اور مکاروں کے لیے تنبیہ وتحذیر : سو ظالموں اور مکاروں کی تنبیہ وتحذیر کے لیے آگہی بخشی گئی کہ ان کی تمام تر چالبازیوں اور مکاریوں کا باضابطہ طور پر ریکارڈ تیار کیا جارہا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہمارے فرشتے لکھ رہے ہیں وہ تمام مکاریاں جو تم لوگ کررہے ہو۔ سو ہمارے فرشتے تمہارے کرتوتوں کا ریکارڈ تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ پورا دستاویزی ثبوت موجود ہو اور عدل وانصاف کے تقاضے کامل طور پر پورے ہوسکیں۔ (المنار وغیرہ) فرق صرف اتنا ہے کہ ہم چونکہ فورا نہیں پکڑتے تو اس سے تم دھوکے میں پڑے ہو کہ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو اللہ کی گرفت اور پکڑ سے بےفکر اور بےخوف ہونا بڑے ہی سخت خسارے کا سودا ہے (فلایامن مکر اللہ الا القوم الخاسرون) (الاعراف : 99) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ بھی اس مالک کا کتنا بڑا کرم ہے کہ اس نے پیشگی اور اس قدرصراحت و وضاحت سے بتادیا کہ ہمارے فرشتے تمہارے تمام کرتوت لکھ رہے ہیں اور تمہارا ریکارڈتیار ہو رہا ہے سو یہ سب کچھ بتادیا تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے اور وہ کل یہ نہ کہے کہ مجھے خبر نہیں تھی، بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ظالموں کی مکاریاں اللہ سے مخفی نہیں اور ان سب کا ریکارڈ تیار کیا جارہا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:2242 ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت خشکی اور تری دونوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی اللہ تم لوگوں کو چلاتا ہے خشکی میں بھی اور تری میں بھی۔ سو خشکی اور تری دونوں میں اس کی رحمت و عنایت تم لوگوں پر سایہ فگن ہے۔ پس چلانے والا تمہیں حقیقت میں وہی وحدہ لاشریک ہے خشکی میں بھی تری میں۔ اس کی رحمت اور اس کے فضل وکرم کے بغیرتم لوگ کہیں بھی نہیں چل سکتے اور تم کچھ بھی نہیں ہو۔ فسبحٰنہ مآاعظم شانہ ومآاجل واعم احسانہ۔ مگر تم لوگ ہو کہ خشکی اور تری کے اپنے ان سفروں کے دوران اس کو چھوڑ کر اور بھول کر اس کی طرح طرح کی عاجز اور بےبس مخلوق کو پکارتے اور اسی پر تکیہ اور بھروسہ کرتے ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو خشکی اور تری میں سفر کے ذرائع و وسائل خداوند قدوس ہی کے پیدا کردہ ہیں اور وہ تدبیروحکمت بھی اسی کی الہام فرمودہ اور تعلیم کردہ ہے جس سے کام لے کر انسان خشکی اور تری کے سفر کے وسائل ایجاد کرتا اور ان سے فائدہ اٹھاتا ہے پھر سفر کے درمیان مختلف قسم کے حوادث سے بچا کرمنزل مقصود تک پہنچادینا بھی اسی کے فضل وکرم سے ممکن ہوسکتا ہے پس تمہاری نگاہیں ان ظاہری اسباب و وسائل ہی میں اٹک کر اور پھنس کر نہیں رہ جانی چاہئیں بلکہ ان کے ذریعے تمہیں اس ذات اقدس واعلیٰ تک پہنچنا چاہیئے جس کی قدرت و عنایت ان کے پیچھے کارفرما ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ باللہ التوفیق لما یحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوآ السبیل۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
43 ۔ عقیدہ توحیدانسان کی فطرت میں پیوست : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے مشکل وقت میں جبکہ سمندری سفر کے دوران میں ان کی کشتیوں کو ہوا کا کوئی جھکڑ آ پہنچتا ہے اور ان کو ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگنے لگتے ہیں اور ان کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ پوری طرح سے گھرگئے ہیں تو اس وقت یہ لوگ اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ توحید اور رجوع الی اللہ انسان کی فطرت اور اس کے تحت الشعور میں پیوست ہے کفرو شرک اور الحادو بےدینی کی خواہ کتنی ہی تہیں کیوں نہ جم جائیں مگر ایسے کسی مشکل وقت میں، اور آخر ایک نہ ایک دن وہ اپنے خالق اور مالک حقیقی ہی کو پکارنے بلانے پر مجبورومضطر ہوجاتا ہے یہاں اس تلخ اور دکھ دہ حقیقت پر ایک مرتبہ پھر روشنی پڑتی ہے کہ کھلے مشرک تو قرآن پاک کی اس تصریح کے مطابق سختی اور مشکل کی اس حالت میں اپنے تمام شرکاء کو بھول کر اسی وحدہ لاشریک مالک حقیقی کو پکارنے لگ جاتے ہیں جس کے سوا نہ کوئی کارساز ہے نہ حاجت رواومشکل کشا۔ مگر آج کا کلمہ گو مشرک اس حالت میں بھی اس خالق ومالک حقیقی کو چھوڑ کر اس کی کسی مخلوق ہی کو پکارتا ہے۔ اور وہ علی الاعلان کہتا ہے۔ یاغوث مدد، یاپیردستگیر، یابہاؤالحق بیڑا دھک، اور یا خواجہ اجمیری پار لگادے کشتی میری، وغیرہ وغیرہ۔ ببیں تفاوت راہ از کجاست تابکجا۔ فانا للہ وانآالیہ راجعون۔ حالانکہ یہ سب پاکیزہ ہستیاں خود اللہ ہی کو پکارتی تھیں۔ اور ہمیشہ دنیا کو خداوند قدوس ہی کو پکارنے اور اسی کے آگے جھکنے اور اسی کی طرف رجوع کرنے درس دیتی رہیں۔ مگر ظالموں نے ان ہی کے نام سے اور انہی کے نام پر شرک کا ایسا گھناؤنا کاروبار شروع کردیا۔ اور کلمہ گومشرکوں کے اسی شرک کا رونابڑے بڑے مفسرین کرام نے رویا ہے۔ جیسا کہ علامہ مصطفیٰ مراغی مرحوم نے اپنی تفسیر المراغی میں، علامہ آلوسی بغدادی الحنفی نے اپنی تفسیر، روح المعانی، میں صاحب، فتح الرحمن نے اپنی تفسیر میں اور علامہ رشید رضانے اپنی تفسیر " المنار " میں وغیرہ وغیرہ۔ چناچہ صاحب " فتح الرحمن " اس موقع پر اپنے درد بھرے انداز میں لکھتے ہیں کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ کھلے مشرک تو ایسے موقع پر اپنے معبود ان باطلہ کو بھول کر اپنی فطری آواز کے مطابق اللہ وحدہ لاشریک ہی کو پکارتے تھے مگر کتنے ہی نام نہاد مسلمان ایسے ہیں جو ایسے مشکل مواقع میں مختلف مردوں کو پکارتے ہیں۔ سودیکھو ایسے لوگوں کو، ان کے مشرکانہ عقائد نے انکوکہاں پہنچادیا اور شیطان نے انکو ہلاکت کے کتنے گہرے گڑھے میں ڈال دیا۔ اور مفسرمراغی اس بارے لکھتے ہیں کہ کتنے ہی نام نہاد مسلمان ایسے ہیں جو اس طرح کے مواقع پر سید بدوی، رفاعی، دسوقی، اور متبولی وغیرہ جیسے بزرگوں کو پکارتے ہیں اور یہی کچھ علامہ آلوسی نے فرمایا۔ ملاحظہ ہوتفسیرروح المعانی، المراغی ج 11 صفحہ 90 تفسیر سورة یونس طبع داراحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان اور تفسیر المنار، ج 11 صفحہ 329 وغیرہ۔
Ayah 10:2344 ۔ انسان کی ناشکری اور احسان فراموشی کا ایک اور مظہر : کہ ایسے لوگ اس مصیبت سے چھوٹتے ہی شرک کرنے لگتے ہیں کفرو شرک کے اپنے سابقہ طریقوں کے ذریعے۔ پس کفرو شرک اور بت پرستی و مخلوق پرستی درحقیقت بغاوت و سرکشی اور فسادفی الارض ہے۔ اگرچہ اس کے فرزند اور اصلاح و درستگی کے بلند بانگ دعوے ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔ سو یہ بھی انسان کی ناشکری اور احسان فراموشی کا ایک مظہر ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہ بغی و سرکشی لازمی نتیجہ ہے " استکبارفی الارض " یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ کا۔ حالانکہ کبریائی اور بڑائی کا حق اسی کو پہنچ سکتا ہے جس کا خلق و تدبیر میں کوئی حصہ ہو۔ پس جو خودمخلوق اور ہر چیز میں اپنے خالق ومالک کے رحم وکرم کا محتاج ہو اس کو اکڑنے اور تکبر کرنے کا، اور وہ بھی اپنے خالق ومالک کے سامنے کیا حق پہنچ سکتا ہے ؟ سو ایسی ہر بغی و سرکشی ناحق اور سراسرظلم ہے اسی لیے یہاں پر اس کو (بغیرالحق) فرمایا گیا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی سرکشی سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔
45 انسان کی بغاوت و سرکشی کا وبال خوداسی پر : کہ اس کا بھگتان بہرحال خود تم کو ہی بھگتنا ہوگا اور تم جو سمجھ رہے ہو کہ ہم دوسروں کو زک پہنچا رہے ہیں تو یہ تمہاری اپنی حماقت اور جہالت ہے۔ اور یہ ایک بڑا خسارہ ہے کہ نقصان اٹھانے والا اپنے نقصان کو بھی فائدہ سمجھنے لگے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کی بغاوت و سرکشی کا وبال اصل میں خوداسی پر ہوتا ہے مگر وہ اس کو سمجھتا نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو (انما) کے کلمہ حصر سے بیان فرمایا گیا کہ تمہاری اس بغاوت و سرکشی کا وبال اے سرکش لوگوخودتم ہی لوگوں پر پڑے گا ورنہ اس سے نہ خدا اور اس کے رسول کا کچھ بگڑے گا اور نہ ہی اس کے دین حق کا۔ بلکہ تمہاری سرکشی تم پر خدا کی حجت پوری کرے گی اور تم جتنے قدم اس راۃ میں آگے بڑھوگے اتنا ہی خداوند قدوس کے فیصلہ کن عذاب سے قریب ہوتے چلے جاؤگے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور مسندفردوس میں حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن کا وبال خود انہی لوگوں پر پڑتا ہے جو ان کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یعنی مکر، نکث اور بغی یعنی سازش، عہد شکنی اور ظلم و سرکشی پھر اس کے لیے آنحضرت ﷺ نے تین آیات کریمہ کا حوالہ دیا ایک (انمابغیکم علی انفسکم) اور۔ (ولایحیق المکرالسیء الا باہلہ) اور من نکث فانماینکث علی نفسہ) (تفسیر المنار، ج 11 ص 344)
Ayah 10:2446 ۔ دنیاوی زندگی کی مثال کھیتی کی سی : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ دنیاوی زندگی کی مثال کھیتی کی سی ہے۔ یعنی اس کی رنگینی، بےثباتی اور اس سے دھوکہ دہی میں۔ سو جس طرح ظاہری اور معروف کھیتی کی یہ چمک دمک اور زیب وزینت چند رروزہ ہوتی ہے اس کے بعد اس کا فناء وزوال ایک بدیہی قطعی اور لازمی امر ہے، بعینہ یہی حال دنیا کی اس کھیتی کا ہے کہ یہ بھی ایک فانی چیز ہے اس نے اور اس کی چمک دمک نے بھی اپنے وقت مقرر پر بہرحال فنا ہوکررہنا ہے۔ سو بڑے خسارے اور دھوکے میں ہیں وہ لوگ جو اسی دنیاکوسب کچھ سمجھ کر اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس انسان کے لیے راہ نجات یہ ہے کہ وہ اپنی دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود و معدود کو اپنی آخرت کو بنانے سنوارنے اور اس کے لیے تیاری میں صرف کرے۔ اور اس کی چمک دمک سے دھوکے میں پڑ کر اپنی آخرت سے غافل نہ ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس تمثیل سے حیات دنیا کی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ جس دنیا اور اس کی متاع قلیل اور حطام فانی وزائل پر کفار و مشرکین ریجھے ہوئے ہیں اور وہ اس کو بہت کچھ بلکہ سب کچھ سمجھے ہوئے ہیں اور اس کی پوجاپاٹ میں لگے ہوئے ہیں اس کی اصل حقیقت اور اس کا نتیجہ وانجام یہ ہے۔ سو اس کی روشنی میں عقل وخردوالے دیکھ لیں کہ ایسے بدنصیب لوگ کہاں کھڑے ہیں اور کس ہولناک خسارے کی طرف بڑھ رہے ہیں ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ فکروعمل کی ہر کجی سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ رضاء کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
47 ۔ اخروی زندگی کو فراموش کرنا انتہائی ہولناک خسارہ۔ والعیاذ باللہ : سو اس تمثیل سے دنیا کی بےثباتی واضح فرمادی گئی پس ایسے میں دنیاوی زندگی کو اصل مقصد بنالینا اور آخرت کو بھول جانا سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور حیات دنیا کی یہ تشبیہ صرف پانی سے نہیں بلکہ پورے اس منظر سے ہے جس کو یہاں بیان فرمایا گیا ہے مگر زمین کی یہ تمام رونق اور فتنہ سامانی چونکہ حقیقت میں اسی پانی کی رہین منت ہے، شاید اسی لئے حرف تشبیہ کو اسی پر داخل فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف اس مثال سے یہ واضح ہوگیا کہ بڑے خسارے میں ہیں وہ لوگ جو اس عارضی اور فانی دنیا کی وقتی لذتوں اور اس کے حطام زائل کے پیچھے لگ کر آخرت کی اپنی حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کے تقاضوں کو بھولے ہوئے ہیں کہ یہ خسارہ حقیقی بھی ہے اور ابدی بھی اور ایسا کہ اس کی تلافی اور تدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ بلکہ یہ ہمیشہ ہمیش کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ محفوظ رکھے اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
48 ۔ ابنائے دنیا کے لیے تنبیہ و تذکیر : کہ اللہ کا عذاب کبھی بھی اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے اور آجاتا ہے۔ سو اسی طرح ابنائے دنیا بھی اس وقت دھرلئے جاتے ہیں جب کہ وہ اس دنیائے دوں کی ظاہری چمک دمک پر مفتون و فریفتہ ہوکرغفلت و لاپرواہی کا شکارہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان کو قدرت کی اس سنت اور دستور سے مطلع وآگاہ ہونا چاہئے تاکہ وہ غفلت اور لاپرواہی میں مبتلاہوکر ایسے ہولناک انجام سے دوچار نہ ہونے پائیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدروقیمت ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار کی ہے نہ کہ مادی اسباب و وسائل کی۔ اگر کوئی قوم اخلاق و کردار کے اعتبار سے گرچکی ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تو اسباب و وسائل کی فراوانی اس کو سہارادینے کی بجائے اس کے زوال کی رفتارکو اور تیز کردیتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہر طرح کے زیغ و انحراف سے اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں راہ حق پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین
49 ۔ غور و فکر سے کام لینے کی عظمت و اہمیت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اسی طرح کھول کر بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں کہ فائدہ ایسے ہی لوگ اٹھاسکتے ہیں ورنہ ان نشانیوں کا یہ تذکریہ وبیان تو سب لوگوں کے لیے عام ہے۔ مگر جو لوگ غور و فکر سے منہ موڑ کر بطن وفرج کی شہوات کے بندے بن کر رہ جائیں ان کو حکمت و حقیقت کے ان موتیوں سے کوئی فائدہ کیونکر پہنچ سکتا ہے ؟۔ فنسالک اللہم التوفیق والسداد لنا والسائر المسلمین لماتحب وترضیٰ من القول والعمل والتفکیرفی خلفک۔ سو اس سے اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں غور و فکر سے کام لینے کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اپنی نشانیاں اسی طرح کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر سے کام لیتے ہیں۔ سو عقلمندوہی ہے جو دوسروں کے حالات سے سبق لے نہ کہ وہ جو اس وقت آنکھ کھولے جبکہ پانی سر سے گزر جائے کہ بےوقت آنکھ کھولنے سے کچھ فائدہ نہیں سوائے یاس وحسرت میں اضافے کے اور یہ وہ خسارہ ہے جو کہ انتہائی ہولناک اور خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:2550 ۔ اللہ کی دعوت سلامتی کے گھر کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بلاتا ہے سلامتی کے گھر کی طرف۔ یعنی جنت کی طرف جس میں ہر طرح کی اور ہر طرف سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ اور اس تک پہنچنے کا راستہ ایمان و یقین اور اعمال صالحہ کا وہ راستہ ہے جس کی طرف اللہ پاک طرح طرح سے بلاتا اور دعوت دیتا ہے۔ جو کہ تقاضا ہے اس کی رحمت بےنہایت اور عنایت بےنہایت کا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو کتنا بڑا کرم واحسان ہے اس مالک الملک کا کہ وہ اپنے بندوں کو اس طرح سلامتی کے اس عظیم الشان گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اور کس قدر بےانصاف اور ناشکرا ہے یہ انسان جو اس سے منہ موڑتا اور اعراض برتتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف سلامتی اور عافیت کا گھر جنت ہی ہے جہاں ہر طرح سے امن وامان اور سکھ اور چین ہوگا اور وہی جگہ ایسی ہے جہاں پہنچ جانے کے بعد آدمی کو نہ ماضی کا کوئی غم ہوگا اور نہ مستقبل کا کوئی خدشہ اندیشہ بلکہ دائمی چین اور ابدی سکون کی زندگی نصیب ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
51 ۔ ہدایت اللہ کی مشیت کے تابع : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ سیدھے راستے کی ہدایت سے نوازتا ہے جس کو چاہتا ہے، جو کہ راستہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی کا۔ پس ایمان و یقین کی دعوت تو عام اور سب کے لیے ہے مگر اس کی توفیق وسعادت کسی کسی کو ہی ملتی ہے کہ وہ موقوف ہے مشیت خداوندی پر۔ جو کہ ملتی ہے طلب صادق پر۔ جس کا تعلق انسان کے دل اور اس کے باطن سے ہے اور جس سے اللہ پاک پوری طرح واقف وآگاہ ہے۔ اس لئے وہ اسی کے مطابق حکم اور فیصلہ فرماتا ہے۔ پس انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے باطن کی دنیا کو اپنے خالق ومالک سے تعلق ورشتہ کو ہمیشہ صحیح رکھے کہ اسی کے مطابق وہاں سے فیصلہ ہوتا ہے اللہ پاک توفیق بخشے اور ہر حال میں اپنا ہی بناکررکھے آمین ثم آمین۔ سو جو لوگ سنت الہٰی اور قانون خداوندی کے مطابق اس کے اہل اور مستحق ٹھہرتے ہیں وہ ان کو نورحق و ہدایت سے نوازتا ہے کیونکہ وہ مالک الملک حاکم مطلق ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم مطلق بھی ہے۔ اس کا کوئی بھی حکم و فیصلہ حکمت سے خالی نہیں ہوسکتا۔ پس اس کے ہر حکم وارشاد اور ہر قضاء و فیصلہ پر مطمئن رہنا چاہئے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 10:2652 ۔ بھلائی کرنے والوں کیلئے بھلائی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لیے بھلائی ہے جو کہ حقیقی دائمی اور ابدی بھلائی ہے یعنی جنت۔ اور جس کو وہ بھلائی مل گئی اس کو وہاں کی دائمی نعمتوں کے علاوہ اس حیات دنیا کی سعادتیں بھی مل گئیں کہ جنت تو انہی خوش نصیبوں کو ملتی ہے جن کو یہاں حیات طیبہ " پاکیزہ زندگی " نصیب ہوتی ہے پس احسان والوں کے لئے دارین کی سعادتوں کا مژدہ ہے۔ اللہم اجعلنا منہم بمحض منک وکرمک یآارحم الراحمین۔ یعنی جن کی نیتیں اور ارادے بھی درست ہوتے ہیں اور ان کے اعمال واطوار صحیح ہوتے ہیں اور ان کے طور طریقے بھی درست ہوتے ہیں۔ باللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
53 ۔ نیکوکاروں کے لیے کرم مزیدکاوعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے اچھائی کی ان کے لیے اچھائی بھی ہے اور مزید بھی یعنی اللہ پاک کی طرف سے ملنے والا فضل اور اس کی مہربانی۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا (ویزیدہم من فضلہ) جس کی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں۔ جیسے گناہوں کی بخشش اور ایک نیکی پردس سے سات سوگناتک اور اس سے بھی زیادہ اجروثواب سے نوازنا۔ اور سب سے بڑھ کر اہل جنت کو ملنے والی خدائے پاک کی رضامندی۔ جل جلالہ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (ورضوان من اللہ اکبر) یعنی اللہ پاک کی طرف سے ملنے والی رضاسب سے کہیں بڑھ کر ہوگی اور ان سب سے بڑھ کر ہے۔ اور جس کو اہل جنت کے لیے سب سے بڑی معنوی نعمت قراردیا گیا ہے جو کہ تمام حسی نعمتوں سے کہیں بڑھ کر ہوگی اور ان سب سے بڑھ کر اللہ پاک کے دیدار و زیارت کی وہ نعمت جس کے بعد اہل جنت دوسری نعمتوں کو بھول جائیں گے۔ جیسا کہ صحیح مسلم کتاب الایمان وغیرہ میں حضرت نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔ (المنار، المعارف، المحاسن اور المراغی وغیرہ) فشرفنا اللہم برضاک بمحض منک وکرمک یآارحم الراحمین ویآاکرم الاکرمین۔ سو " احسان " یعنی اچھائی کرنے کی خو ایک ایسی عظیم الشان خو ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ وروہمکنار کرتی ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین، اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے اور نفس و شیطان کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے۔ فشرفنا اللہم برضاک بمحض منک وکرمک یآارحم الراحمین ویآاکرم الاکرمین
54 ۔ نیکوکاروں کے لیے خاص انعامات کا ذکر وبیان : سو اس سے نیکوکاروں کے لیے بعض خاص انعامات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ نہ ان کے چہروں پر کسی طرح کی سیاہی کا کوئی اثر ہوگا اور نہ ہی کسی ذلت کا کوئی سوال۔ جیسا کہ کافروں اور فاجروں کا حال ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس کے برعکس ان خوش نصیبوں کے چہروں پر تازگی ومسرت اور ایک خاص کیف وسرور کا دور دورہ ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ (ولقہم نضرۃ وسرورا) (الدہر : 11) نیزدوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (وجوہ یومئذناضرۃ الی ربھاناظرۃ) (القیامۃ : 22۔ 23) اللہ ہمیں انہی میں سے بنائے۔ آمین۔ سو احسان کی خو ایک ایسی عظیم الشان خو اور خصلت ہے جو انسان کو دارین میں سرخروئی اور فائزالمرامی سے سرفراز و سرشار کرتی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف ایمان و یقین اور اعمال صالحہ والے خوش نـصیب لوگوں کے چہرے اس روز خوش باش اور ہشاش بشاش ہوں گے اور ان کے ساتھ ہر قدم پر اعزازو اکرام کا معاملہ کیا جائے گا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہی ہیں جنت والے جو ہمیشہ ہمیش اس میں رہیں گے۔
Ayah 10:2755 ۔ دوزخیوں کے حال بد کا ذکر۔۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ برائیاں کمانے والوں کا حال اس روز بہت برا ہوگا ان کے چہروں پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ ان کے لیے کوئی اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہیں ہوگا۔ اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ گویا ڈھانک دیا ان کی چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں نے وہ یار ہوں گے دوزخ کے اور انہوں نے ہمیشہ اس ہولناک آگ میں رہنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس بدعقیدگی اور بدعملی کی جو سیاہی اس دنیا میں ان لوگوں کے بواطن میں مستور و پوشیدہ تھی وہ کشف حقائق کے اس جہان میں ان کے چہروں مہروں پر امڈآئے گی کہ وہ جہان ہے ہی مشاہدہ اور ظہور کا جہاں۔ جبکہ یہ جہان مجاہدہ اور اخفاء واسرار کا جہان ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل سوء وشر فی الحال والمال۔ سو برائی کا نتیجہ وانجام بہرحال برا اور ہولناک ہوگا۔ اور جس درجے کی برائی ہوگی اسی درجے کی ذلت اور رسوائی ان لوگوں پرچھارہی ہوگی۔ اور ان کی بدحالی کا عالم یہ ہوگا کہ گویا اندھیری رات کے ٹکڑے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر ان کے چہروں پر ڈال دیے گئے ہوں اور ان کو اس ذلت و رسوائی اور ہولناک انجام سے چھڑانے اور بچانے والابھی کوئی نہیں ہوگا۔ اور دنیا میں انہوں نے جن خودساختہ معبودوں اور من گھڑت سفارشیوں کی مدد کی امیدیں باندھ کر ان کی پوجاپاٹ کی ہوگی وہ اس روز سب ہوا ہوچکے ہوں گے ان میں سے کوئی بھی ان کے کچھ کام آنے والانہ ہوگا۔ تب ان کی آنکھیں کھلیں گی مگر اس وقت ان کے لیے ذلت و رسوائی اور یاس وحسرت کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہ جائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 10:28–2959 ۔ معبودان من دون اللہ اپنے پجاریوں کی پوجا سے قطعی بیخبر : سو اس سے تصریح فرمادی گئی کہ مشرکوں کے خود ساختہ شرکاء اور معبود من دون اللہ اپنے عابدوں سے صاف وصریح طور پر کہیں گے کہ ہم تمہاری عبادت و بندگی سے قطعی طور پر بیخبر تھے۔ ان کے جواب کی تاکید ملاحظہ ہو کہ اول تو (ان) تاکید یہ ہے۔ کیونکہ اصل میں یہ نون ثقیلہ ہے یعنی (ان) اور پھر خبر پر لام تاکید بھی داخل ہے۔ سو اس طرح وہ تاکید در تاکید کے ساتھ ان کی عبادت کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے کہ نہ تو ہمیں تمہاری اس عبادت کا پتہ تھا نہ ہم نے کبھی تمہیں اس کا حکم دیا تھا اور نہ ہم اس پر راضی تھے۔ یہ سب کچھ تم لوگوں نے ازخود شیطان کے اغواء واضلال سے کیا تھا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے ایک طرف تو یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جو لوگ اللہ وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر ایسے خود ساختہ معبودوں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں وہ کس قدر بدبخت اور کتنے محروم ہیں جو ایسی بےحقیقت چیزوں کی بندگی اور پوجا پاٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ اور جس کے نتیجے میں ان کو کل حشر میں ایسی ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر عظیم الشان احسان ہے کہ اس نے عالم آخرت کے ان غیبی حقائق کو اس قدر صراحت و وضاحت سے اس دنیا میں ہی بتادیا جن کے جاننے کا دوسرا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں۔ تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے اپنے اس ہولناک انجام سے قبل اس سے کہ فرصت حیات اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ بہرکیف مشرکوں کے خود ساختہ شرکاء اور من گھڑت معبودان من دون اللہ اس یوم حساب میں اپنے ان بچاریوں سے اس قدر تاکید اور صراحت کے ساتھ اپنی برات و بیزاری کا اعلان کردیں گے جس سے ان بدبختوں کی سب کے سامنے تـذلیل ہوگی۔ اور اس کے نتیجے میں ان کو ہولناک عذاب میں دھر لیا جائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ اور راہ حق وصواب پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین۔
Ayahs 10:30–3163 ۔ مشرکین کے دلوں پر ایک دستک : سو مشرکین کے دلوں پر ایک دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ مانتے ہو کہ آسمان اور زمین سے روزی دینے والا بھی اللہ ہے۔ تمہارے کانوں، آنکھوں وغیرہ اعضاء وجوارح کا مالک بھی اللہ ہے۔ زندوں کو مردوں سے اور مردوں کو زندوں سے نکالنا بھی اللہ ہی کا کام ہے اور کائنات کے معاملے کی تدبیر بھی وہی فرماتا ہے۔ تو پھر بھی تم لوگ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کیسے ٹھہراتے ہو۔ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ؟ سو اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مشرکین مکہ کا عقیدہ اور کہنا اور ماننا بھی یہی تھا کہ زمین و آسمان کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس کا حاکم اور مدبر و متصرف اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے جسم وجان بخشنے والا اور زندگی وموت دینے والا وہی اور صرف وہی ہے اور یہ بات قرآن پاک میں بار بار اور جگہ جگہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ مشرکین عرب بھی ان تمام باتوں میں بلا شرکت غیرے اللہ پاک ہی کی کارفرمائی اور کارسازی مانتے تھے۔ پس اہل بدعت کے بعض بڑوں اور ان کے اتباع و اذناب کا (اِذْ نُسَوِّيْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) سے اپنی شرکیات کے لئے تائید پیش کرنا سراسر دھوکہ اور فریب ہے کہ مشرکین عرب اپنے بتوں کو سب باتوں میں رب العالمین کے شریک مانتے ہی کب تھے ؟ بلکہ وہ تو ان کو شفیع اور واسطہ مانتے تھے اور کہتے تھے (هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ ) یعنی ہم ان کی پوجا صرف اس لیے کرتے کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔ اور ان کا صاف کہنا تھا (مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى) پس معلوم ہوا کہ غیر اللہ کو حاجت روا ومشکل کشا سمجھ کر پکارنا ہی دراصل ان کو رب العلمین کے مساوی قرار دینا ہے اور یہی شرک ہے جس میں آج کے بہت سے کلمہ گو مسلمان بھی مبتلا ہیں۔ اور اہل بدعت کے ایسے تحریف پسندان کی پیٹھ ٹھونکنے کے لیے اللہ پاک کی آیتوں کی تحریف تک سے گریز نہیں کرتے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف یہ حقیقت اپنی جگہ واضح ہے کہ توحید ربوبیت کا اقرار و اعتراف مشرکین مکہ کو بھی تھا اور وہ برملا اور صاف وصریح طور پر اس کا اظہار و اقرار کرتے تھے۔ مگر اس کے حضور رسائی کے لیے انہوں نے ایسے خود ساختہ شریک اور سفارشی گھڑ رکھے تھے جن کی نہ کوئی اصل تھی نہ حقیقت سوائے ان کے وہمی اور فرضی مفروضوں کے جس طرح آج کے کلمہ گو مشرکوں نے اسی طرح کے وہمی اور فرضی مفروضوں کی بناء پر مختلف ناموں سے طرح طرح کے خود ساختہ اور من گھڑت وسیلے بنا رکھے ہیں اور قسما قسم کی " سرکاریں " گھڑ رکھی ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان میں سے کچھ بھی اس روز کام نہیں آسکے گا۔ کہ یہ سب کچھ محض ظن و گمان کی کارستانی اور سراسر بےبنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا،
Ayah 10:3264 ۔ مشرکوں کی مت ماری پر تنبیہ : سو مشرکوں کی مت ماری پر تنبیہ کے طور پر اور ان کے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ مقدمات تو سب مانتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی خالقیت، مالکیت، رزاقیت اور تدبیر و تصرف سب کو تسلیم کرتے ہو، لیکن پھر بھی شرک کرتے ہو ؟ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ سو لوگوں کی گمراہی کا ایک بڑا اور بنیادی سبب ان کے گمراہ لیڈر اور پیشوا ہیں واضح رہے کہ ارشاد ربانی میں پھیرنے والے کوئی اور لوگ ہیں اور وہ ان کے گرو اور پنڈت پادری وغیرہ وہ گمراہ کن لیڈر اور پیشوا ہیں جو طرح طرح کی فریب کاریوں سے ان بےزبان بھیڑوں کی اون مونڈتے رہتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو حق اور اہل حق سے دور و نفور کرنے میں طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو لوگوں کی گمراہی کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ ہمیشہ یہی رہی کہ ان کے گمراہ پیشوا ان کو راہ حق سے پھیرتے اور محروم کرتے ہیں۔ اور ان کو اپنی اہواء و اغراض کی خاطر اپنی مرضی و منشاء کے مطابق چلاتے ہیں کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے جس کے مظاہر آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے ملتے ہیں۔ اور ایسے لوگ صاف اور صریح طور پر حق سننے اور جاننے کے باوجود اس کو ماننے اور اپنانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 10:33–3465 ۔ تردید شرک کے لئے ایک ٹھوس عقلی دلیل : کہ جو خود مخلوق ہے وہ خدا اور خدا کا شریک نہیں ہوسکتا سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کیا تمہارے ان شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہو پھر وہ دوبارہ پیدا کرے ؟ اور جب نہیں اور قطعًا اور یقینًا نہیں تو پھر تم لوگ ان کو آخر معبود کیوں اور کیسے قرار دیتے ہو ؟ اور ان کی پوجا پاٹ کیوں کرتے ہو ؟ جو نہ پہلی مرتبہ پیدا کرسکیں اور نہ دوسری مرتبہ۔ آخر تمہاری مت کہاں ماری گئی ؟ اور تمہاری عقلیں کہاں اور کیسی الٹی ہوگئیں ؟ جو تم ان بےبس اور بےحقیقت بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی پوجا پاٹ میں لگے ہو۔ اور اس طرح تم لوگ اپنی تذلیل و تحقیر اور ہلاکت و تباہی کا سامان خود کرتے ہو ؟۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ وضلال وسوء وانحراف۔ سو یہ شرک کی تردید اور اس کی تقبیح کے لیے ایک مسکت عقلی دلیل ہے کہ جو خود مخلوق ہو اور وہ نہ پہلی بار پیدا کرسکے اور نہ دوسری بار وہ کبھی بھی معبود نہیں ہوسکتا۔ سو اس ایک دلیل سے شرک کے سب راستے بند ہوجاتے ہیں۔ اور عقیدہ توحید نکھر کر اور واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے۔ فالحمد للہ جل وعلا الذی لا معبود سواہ ولا نعبد الا ایاہ۔
66 ۔ مشرکین کی مت ماری اور اوندھے پن کا ذکر : سو مشرکین کی مت ماری اور ان کے اوندھے پن کے ذکر اور ان لوگوں کی مت ماری پر تنبیہ کے طور پر ان کے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ پھر تم لوگ آخر کہاں اور کیسے اوندھے ہوئے جارہے ہو۔ جو اس قادر مطلق خالق ومالک حقیقی کو چھوڑ کر ایسی بےحقیقت چیزوں کی پوجا پاٹ کی ذلت اٹھاتے ہو ؟ والعیاذ باللہ۔ جن میں نہ کسی طرح کی کوئی اہلیت ہے نہ صلاحیت نہ وہ پہلی مرتبہ پیدا کرسکتے ہیں نہ دوسری مرتبہ نہ وہ کسی نفع کے مالک ہیں نہ نقصان کے۔ الٹا تم ان کی خدمت و حفاظت کے لیے لشکر بنے دست بستہ کھڑے رہتے ہو۔ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ؟ اور تمہاری مت کہاں اور کیسے مار دی گئی ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جب خلق کا ابداء اور اس کا اعادہ اللہ وحدہ لا شریک ہی کی صفت اور اسی کی شان ہے اور اس میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں ہوسکتا اور اس حقیقت کو تم لوگ خود مانتے اور تسلیم کرتے ہو تو پھر اس کے حق عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو تم لوگ کہاں اوندھے ہوئے جارہے ہو ؟ اور تمہاری مت کہاں اور کیسے ماری جاتی ہے ؟ اور تم ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں کس طرح اندھے اور اوندھے ہو کر گرے چلے جارہے ہو۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ وضلال وسوء وانحراف۔
Ayah 10:3567 ۔ جو حق کی راہنمائی نہ کرسکے وہ معبود کیسے ہوسکتا ہے ؟ کیونکہ حق کی راہنمائی ہی وہ اصل اور حقیقی ضرورت ہے جس کے لیے انسان خدا کی طرف رجوع کرتا ہے اور نور حق و ہدایت کی دولت ہی وہ واحد دولت ہے جو انسان کو انسان بناتی اور اس کو " خیر البریۃ " (بہترین مخلوق) کے شرف و امتیاز سے مشرف و ممتاز کرتی ہے جبکہ اس سے محرومی کی صورت میں۔ والعیاذ باللہ انسان " شر البریۃ " (بد ترین مخلوق) کے ہاویے میں جا گرتا ہے۔ سو اسی بناء پر مشرکوں سے ان کے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئی یہ سوال کیا گیا کہ کیا تمہارے ان من گھڑت اور خود ساختہ شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرسکے ؟ اور جب ایسا کوئی نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ایسوں کو خدا کا شریک بنانے کی آخر کیا تک ہوسکتی ہے ؟ سو معبودان من دون اللہ اور مشرکین کے خود ساختہ شرکاء میں سے کوئی بھی حق کی راہنمائی نہیں کرسکتا۔ سو لکڑی پتھر وغیرہ کے بےجان بت تو سرے سے اس کے اہل ہی نہیں ہیں کہ کسی کو کوئی ہدایت دے سکیں۔ اس لئے ان کا تو مسئلہ ہی خارج از بحث ہے۔ حضرات انبیائے کرام اور ملائکہ عظام۔ علیٰ جمیعہم الصلوۃ والسلام میں سے بھی جن پاکیزہ اور مقدس ہستیوں کے نام پر شرک کیا گیا وہ خود بھی اللہ پاک کی ہدایت کے محتاج ہیں۔ اس کے بغیر وہ بھی از خود راہنمائی نہیں کرسکتے تو پھر خداوند قدوس کے ساتھ کوئی شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ (یھدی) اصل میں یھتدی تھا۔ تعلیل کے بعد " یھدی " ہوگیا سو اللہ پاک کے سوا لوگوں نے بھی دوسرے معبود از خود بنا رکھے ہیں ان میں سے کوئی بھی ہدایت و راہنمائی کا اہل نہیں۔ اس لیے ایسوں میں سے کسی کو بھی اپنا معبود قرار دینا عقل ونقل کے خلاف اور سراسر ظلم ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ معبود کے ساتھ انسان کی جو سب سے بڑی اور سب سے اہم ضرورت وابستہ ہوتی ہے وہ ہے حق کی ہدایت و راہنمائی جو اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے پس معبود برحق بھی وہی وحدہ لا شریک ہے۔
Ayah 10:3668 ۔ لوگوں کی اکثریت ظن و گمان ہی کی پیروی کرتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لوگوں کی اکثریت پیروی نہیں کرتی مگر ظن و گمان کی۔ یہی ہے فساد کی اصل جڑ جس کو قرآن کریم نے مختلف مقامات پر اور طرح طرح سے بیان فرمایا ہے۔ چناچہ آپ غور کرکے دیکھ لیں آپ کو ہر جگہ یہی حقیقت چمکتی دمکتی نظر آئے گی جو قرآن حکیم نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ ایک دنیا ہے جو ظن وتخمین اور بےبنیاد خیالات کی پیروی میں لگی ہوئی ہے۔ آج بھی اگر آپ ان سے پوچھیں کہ تم لوگ جو ان آستانوں پر جھکتے، ان کے گرد پھیر لگاتے اور ان کی پوجا پاٹ کرتے ہو تو آخر اس کی دلیل تمہارے پاس کیا ہے ؟ تو یہ کہیں گے کہ ہمارے خیال میں یہ کہ ہمارا دل یونہی کہتا ہے اور یہ کہ فلاں حضرت نے ہمیں یوں ہی بتایا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ کسی بھی عمل اور قول وقرار کے لئے دلیل وہ ہوتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہو۔ مگر اس طرف وہاں توجہ ہی نہیں ہوتی۔ وہاں پر تو محض ظن و گمان اور اوہام و اہواء کی پیروی ہوتی ہے اور بس۔ جو حق سے کچھ بھی کام نہیں آسکتی جیسا کہ اگلے حاشیے میں اس کی کچھ مزید تفصیل آرہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
69 ۔ ظن و گمان حق کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہیں آسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ظن و گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آسکتا۔ بلکہ کام آنے والی چیز حق اور صرف حق ہی ہے۔ اور حق کا علم و ادراک سوائے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے جو کہ درحقیقت شرح ہے کتاب الہٰی کی اور کہیں سے بھی حاصل ہونا ممکن نہیں۔ کہ اس کے سوا حق کا اور کوئی مصدر و منبع سرے سے ہے ہی نہیں۔ پس جو لوگ اس کتاب حکیم پر ایمان و یقین سے محروم ہیں وہ بہرحال اور سراسر حق و صداقت کے نور اور ایمان و یقین کی دولت سے محروم اور ظن وتخمین کے اندھیروں میں غلطاں و پیچاں ہیں۔ اور متاع عمر کو وہ مختلف بھول بھلیوں میں ضائع کرکے اپنے لئے ابدی ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ اور ظن وتخمین کے اس طرح کے تیر تکے اگر لوگوں کے یہاں چل بھی گئے تو کیا۔ اصل معاملہ تو اللہ تعالیٰ کے یہاں کا ہے جہاں اس طرح کی کوئی بات نہیں چل سکتی۔ اصل حساب اسی کے یہاں دینا ہے اور وہ ان کے ان تمام کاموں کو پوری طرح جانتا ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ پس معاملہ اس کے ساتھ صحیح رکھنے کی ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سوآء السبیل۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و صواب پر قائم اور ثابت قدم رکھے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 10:3770 ۔ قرآن حکیم کوئی من گھڑت کتاب ہو ہی نہیں سکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کتاب حکیم جو تمام ضروری احکام کی تفصیل ہے کوئی ایسی کتاب نہیں جسے وحی خداوندی کے بغیر یونہی گھڑ لیا جائے کہ یہ بات طاقت بشری سے خارج ہے۔ اور یہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ یہ کلام حضرت حق جل مجدہ کا کلام صدق التیام، اور مینارہ رشد و ہدایت ہے۔ کسی بشر کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ ایسا کلام خود بنا کر لائے۔ اگرچہ روئے زمین کے تمام لوگ اس کے لیے مل کر بھی کوشش کریں۔ سو یہ ایک عظیم الشان اور جلیل القدر اور بےمثل کتاب ہے جس کی کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں۔ یہ تمام بنی نوع انسان کے لیے سراسر ہدایت اور عین رحمت ہے۔ نیز یہ کتاب حکیم تفصیل ہے ان تمام ضروری احکام کی جو تم پر لکھ دیے گئے اور جن کا پورا کرنا اور بجا لانا تم لوگوں پر لازم اور ضروری ہے۔ نیز یہ تفصیل ہے ان تمام آسمانی کتابوں کے اصولی مضامین کی جو اس سے پہلے آچکی ہیں سو " الکتاب " کا لفظ ان سب ہی معانی اور مفاہیم کو عام اور شامل ہے۔ (المراغی، المنار، المدارک، الفتح، الصفوۃ اور الجامع غیرہ) سو اس سے اس کتاب حکیم کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے بلکہ ایسی عظمت شان والی دوسری کوئی کتاب نہ آج تک کبھی ہوئی ہے اور نہ قیامت تک کبھی ممکن ہے۔ فالحمد للہ جل وعلا۔ پس جو اس پر ایمان سے محروم ہیں وہ سراسر محروم اور بدنصیب ہیں۔ والعیاذ باللہ۔
71 ۔ قرآن حکیم کی بعض اہم صفات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ قرآن تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے آچکی ہیں اور یہ تفصیل ہے ان تمام ضروری احکام کی جو تم لوگوں پر لکھ دیے گئے ہیں۔ اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ پروردگار عالم کی طرف سے ہے۔ سو یہ کتاب حکیم اہم بنیادی حقائق سے آگاہ کرنے والی اور ضروری احکام کو بیان کرنے والی واحد ایسی کتاب ہے جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلا سورة مائدہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آپ پر اے پیغمبر یہ کتاب اتاری حق کے ساتھ جو کہ تصدیق کرنے والی ہے اس سے پہلے کی تمام کتابوں کی۔ اور جو محافظ و نگہبان ہے ان کے تمام اصولی اور بنیادی مضامین کی۔ (المائدہ : 48) اور جیسا کہ سنن ترمذی وغیرہ میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کتاب حکیم کے بارے میں ارشاد فرمایا " فیہ خبر ما قبلکم ونبا ما بعدکم و فصل ما بینکم " (سنن الترمذی، کتاب ثواب القرآن) اسی لیے اس آیت کریمہ میں وارد لفظ " الکتاب " سے جمہور علماء و مفسرین کرام نے یہی معنی مراد لئے ہیں " ای ما کتب و فرض من الاحکام والشرآئع " (محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، صفوۃ البیان، جامع البیان، المراغی، المعارف، المنار، المدارک، اور ابن کثیر وغیرہ) سو مطلب یہ ہوا کہ اس کتاب حکیم کے ذریعے تمہیں اے لوگو ! عقیدہ وعمل، بود و باش، معیشت و معاشرت اور دنیا و آخرت کے بارے میں ان تمام احکام و شرائع سے آگاہ و باخبر کردیا گیا جو کہ تمہارے لئے سعادت دارین کا ذریعہ و وسیلہ اور کفیل وضامن ہیں۔ پس تم لوگ ظن وتخمین کی پیروی کو چھوڑ کر اس کتاب حکیم کی پیروی کرو۔ پس اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں نے اس موقع پر جو " الکتاب " سے لوح محفوظ مراد لے کر اپنے شرکیہ عقائد کے لئے سند مہیا کرنے کی کوشش کی وہ باطل و مردود اور " بناء الفاسد علی الفاسد " کے قبیل سے ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف یہ کتاب حکیم ان تمام شرعی احکام کی تفصیل ہے جن کی انسان کو اپنی زندگی میں عمل کے لئے اور اپنی معاش و معاد کی اصلاح کے لیے ضرورت ہے، جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں بھی گزرا ہے۔ سو اس سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ کہ اس کے بعد انسان اندھا اور اوندھا ہو کر رہ جاتا ہے اور اس حد تک کہ وہ اپنے بھلے برے کے فہم و ادراک سے بھی عاری اور محروم ہوجاتا ہے۔
Ayah 10:3872 ۔ قرآن حکیم کا اپنے منکروں کو کھلا چیلنج : کہ تم لوگ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ اگر تم سچے ہو اپنے دعوے میں۔ سو یہ اس کی شان اعجاز اور اس کی حقانیت کا ایک واضح اور کھلا ثبوت ہے۔ پس اگر تم لوگو بایں ہمہ فصاحت و بلاغت اور باوجود اسباب و وسائل ایسا نہیں کرسکے، اور قیامت تک نہیں کرسکو گے، تو پھر اس سے بڑھ کر واضح اور کھلا ثبوت اور قطعی دلیل اس بات کی اور کیا ہوسکتی ہے کہ یہ کلام حکیم قرآن مجید انسانی کلام نہیں بلکہ خالق انس و جن کا کلام ہے جو اس نے اپنی رحمت بےنہایت اور عنایت بےغایت سے اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے نازل فرمایا ہے۔ تاکہ وہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح سے مشرف و بہرہ ور ہوسکیں۔ سو اس کی تکذیب اور اس سے منہ موڑنا بڑی بدبختی اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ بہرکیف یہ قرآن حکیم کا اپنے منکروں اور دشمنوں کو کھلا چیلنج ہے کہ تم لوگ اس کتاب حکیم کے بارے میں اپنے اس الزام میں سچے ہو تو تم اس جیسی ایک ہی سورت بنا کرلے آؤ اور اس کے لیے تم اپنے سب مددگاروں کو بھی اپنی مدد اور امداد کے لیے بلا لو۔ اپنے شاعروں، ادیبوں، ساحروں، کاہنوں، جنوں، شیطانوں اور اپنے شرکاء اور معبودوں کو۔ اور پھر تم سب مل کر اس کلام مجید جیسی ایک سورت بنا لاؤ خواہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی سورت ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے خود اس بارے میں فیصلہ ہوجائے گا، سبحان اللہ۔ یہ کتنا بڑا اور منفرد و بےمثال معجزہ ہے اس کتاب حکیم کا جس کی دوسری کوئی بھی نظیر و مثال پوری روئے زمین پر دوسری کسی بھی کتاب میں نہیں پائی جاتی خواہ وہ کوئی آسمانی اور الہامی کتاب ہو یا کسی انسان یا انسانوں کے کسی مجموعے کی تصنیف و تالیف۔ سو اس سے بڑا معجزہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟ سو یہ قرآن حکیم کا وہ سب سے بڑا معجزہ اور اس کی وہ امتیازی شان ہے جو اس کے سوا اور کسی بھی کتاب کو نہ کبھی نصیب ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے۔