10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 10:61–62

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور آپ جس حال میں بھی ہوں، یا کچھ قرآن پڑھ رہے ہوں، اور تم سب لوگ جو بھی کوئی کام کرتے ہو، جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو، اس سب کے دوران ہم تمہیں دیکھ رہے ہوتے ہیں، اور تمہارے رب سے ذرہ برابر کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ زمین (کی تہوں) میں، اور نہ آسمان (کی بلندیوں) میں، اور نہ ہی اس سے کوئی چھوٹی چیز اور نہ بڑی، مگر (یہ سب کچھ ثبت ہے) ایک کھلی کتاب میں1

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

آگاہ رہو کہ اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوتا ہے، اور نہ ہی وہ غمگین ہوتے ہیں،2

107 ۔ اللہ کے ولیوں پر نہ کوئی خوف اور نہ کوئی غم واندوہ : یعنی نہ گزشتہ پر ان کو کوئی غم اور نہ مستقبل کے بارے میں کوئی خوف۔ اگرچہ ایسے پاکیزہ نفوس اور خوش نصیب حضرات کی اس دنیا میں بھی یہی شان ہوتی ہے کہ نہ ان کو ماضی کے بارے میں کوئی حزن و ملال ہوتا ہے اور نہ آئندہ کے بارے میں کوئی فکر و اندیشہ۔ بلکہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں مطمئن اور اپنے خالق ومالک کی رضا پر راضی رہتے ہیں کہ انہوں نے صدق دل سے اپنا سارا معاملہ اللہ پاک ہی کے حوالے کر رکھا ہوتا ہے، جس سے وہ سکون و اطمینان کی ایسی دولت سے سرشار ومالا مال ہوتے ہیں کہ دوسرے کسی کے لئے اس کو سمجھنا اور جاننا ہی ممکن نہیں ہوتا۔ جیسا کہ بعض اسلاف کرام سے مروی و منقول ہے کہ اگر ہمارے اس سکون و اطمینان کا پتہ دنیاوی بادشاہوں کو لگ جائے تو وہ ہمارے خلاف تلواریں سونت لیں " لجلدونا بالسیوف " سو سکون و اطمینان کی اس دولت سے یہ اللہ والے اگرچہ اس دنیا میں بھی سرشار ہوتے ہیں لیکن اس کا کامل ظہور آخرت کے اس جہاں میں اس وقت ہوگا جب کہ ان کو ابدی کامیابی اور دائمی سعادت کی خوشخبری سے نوازا جائے گا اور جہاں ان کو (لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ) کے روح پرور اور کیف آور مژدوں سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ (جعلنا اللہ منہم بمحض منہ وکرمہ وھو ارحم الراحمین) سو ایمان و یقین کی دولت جو کہ ولایت خداوندی کی اولین اساس اور اصل بنیاد ہے پوری کائنات کی سب سے بڑی دولت ہے۔ بس اسی کے حصول کو اولین مقصد بنانا چاہیے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

وہ جو ایمان لائے اور وہ پرہیزگاری کو اپنائے رکھتے ہیں،3

108 ۔ اللہ کے ولی کون ہوتے ہیں ؟: سو اولیاء اللہ کی تعریف میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو ایمان رکھتے ہیں اور تقوٰی و پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں۔ سبحان اللہ۔ اولیاء اللہ کی ایجاز و اختصار کے ساتھ کس قدر جامع و مانع تعریف فرمادی گئی اور صاف وصریح طور پر بتا اور بیان فرما دیا گیا کہ یہ وہ حضرات ہوتے ہیں جو ایمان و یقین اور تقوی و پرہیزگاری کی دولت سے سرشار ومالا مال ہوتے ہیں۔ خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں۔ پس اولیاء اللہ نہ تو کسی خاص قوم، قبیلہ، طائفہ گروہ اور نسل و خاندان کا نام ہوتا ہے اور نہ کسی خاص بناوٹ اور ظاہر داری کا۔ جیسا کہ ہمارے عرف اور معاشرے میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ جو بھی مومن صادق اپنے ایمان و عقیدہ میں اور اپنے تقوی و پرہیزگاری میں سچا اور راست باز ہوگا وہ اللہ پاک کی ولایت کے شرف سے مشرف و سرشار ہوگا۔ جیسا کہ فرمایا گیا (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) اور ایمان وتقوی میں وہ جس قدر بڑھتا اور ترقی کرتا جائے گا اسی قدر وہ درجات ولایت میں آگے بڑھتا اور ترقی کرتا چلا جائے گا سو یہ ہے سیدھا سادا مطلب و مفہوم ولایت اور اولیاء اللہ کا، جو کہ عقل و فطرت کے عین مطابق اور نصوص قرآن و سنت کے مفہوم و مدعا کا صریح و واضح مقتضی ہے اور اسی کی تائید و تصدیق حضرات انبیائے کرام۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ اور خاص کر امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام علیہم الرحمۃ والرضوان۔ اور ان کے تابعین اور اتباع تابعین کے اسوہ حسنہ سے بھی ہوتی ہے۔ سو ہمارے ملک و معاشرے میں ولایت اور اولیاء اللہ کے مفہوم و مدعا کے ساتھ جو غیر ضروری تصورات نتھی کردئیے گئے ہیں وہ تمام تر نتیجہ ہے دینی تعلیمات سے غفلت وبے خبری اور جہالت کا۔ اور اتباع ھوی اور خواہشات نفس کی پیروی وغیرہ دوسرے مختلف عوامل و اسباب کا۔ ورنہ اصل معاملہ بالکل واضح اور صاف ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء وزیغ ومزلۃ وانحراف۔ وھو العزیز الوھاب۔
Ayahs 10:64–65

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے خوشخبری ہے دنیاوی زندگی میں بھی، اور آخرت میں بھی، کوئی تدیلی نہیں ہوسکتی، اللہ کی باتوں (اور اس کے وعدوں) میں، یہی ہے بڑی کامیابی،

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور غم میں نہ ڈالنے پائیں آپ کو (اے پیغمبر) ان لوگوں کی (یہ کفریہ) باتیں، بیشک عزت (اور غلبہ) سب اللہ ہی کے لئے ہے، وہی ہے سنتا (ہر کسی کی) جانتا (سب کچھ)

112 ۔ عزت اور غلبہ اللہ ہی کے لیے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا عزت و غلبہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ پس عزت اسی کی ہے جس کو وہ عزت دے اور اس نے آپ ﷺ کو اے پیغمبر ! ان نعمتوں سے نوازا ہے۔ جو اس کی ساری مخلوق میں کسی کو بھی نصیب نہیں ہوسکیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی پوری مخلوق میں عزت و غلبہ دراصل آپ ہی کے لیے ہے اور آپ کے بعد آپ کے ان پیروکاروں کے لیے جو آپ پر سچے دل سے ایمان رکھتے ہوں اور آپ کی اتباع اور پیروی کرتے ہوں۔ (وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین) اور جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے تصریح اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) (المجادلۃ :21) تو ایسی صورت میں آپ ﷺ کو ایسے محروم اور سیاہ باطن لوگوں کی آخر کیونکر کوئی پرواہ ہوسکتی ہے جو کہ آپ ﷺ کے پیش فرمودہ پیغام حق و صداقت کو اپنانے کی بجائے اس کی تکذیب اور آپ کی ایذاء رسانی میں لگے ہوئے ہیں پس آپ ﷺ ان کی ان ٹامک ٹوئیوں اور ایذاء رسانیوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے خالق ومالک کے بھروسے پر دین حق کی تبلیغ و سربلندی کے لئے اپنا جہاد عظیم جاری رکھیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (وَدَع اَذَاھُم وَتَوَکَّل عَلَی اللہ) ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے کہ وہ سمیع اور علیم ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس دل کا بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھنا چاہئے۔ وباللہ التوفیق۔ 113 ۔ اللہ ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا ہے : اسی کے مطابق وہ ہر کسی کو اس کے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ دے گا اور عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرکے دے گا پس کوئی کبھی یہ نہ سوچے سمجھے کہ وہ اس کی پکڑ سے باہر یا اس کے علم سے خارج ہے کہ وہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور ہر کسی کی فکر و سعی بھی یہی ہونی چاہئے کہ اس سمیع وعلیم رب غفور و رحیم سے میرا معاملہ ظاہر و باطن ہر اعتبار سے ہمیشہ درست اور صحیح رہے۔ وباللہ التوفیق۔ سو سمیع وعلیم کی ان دونوں صفتوں کے حوالے میں ایک طرف تو منکرین و معاندین کے لیے تہدید اور دھمکی ہے کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے مخفی و مستور نہیں وہ ان منکرین کی کافرانہ اور ایذاء رساں باتوں کو بھی سنتا ہے اور ان کے کافرانہ اعمال و افعال کو بھی دیکھتا ہے۔ سو ان چیزوں کا بھگتان ان کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ یہ اس سے بچ نہیں سکیں گے۔ ان کو جو ڈھیل ملی ہوئی ہے اس سے ان کو غلط فہمی میں نہیں پڑنا چاہئے۔ اور دوسری طرف اس میں مومنین صادقین کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان بھی ہے کہ تم لوگ راہ حق و صدق میں جو کچھ کہتے کرتے سنتے سناتے اور برداشت کرتے ہو وہ سب بھی اس سمیع وعلیم کے علم میں ہے۔ سو وہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔ تمہارا کیا کرایا کچھ بھی ضائع نہیں ہوگا اور تمہیں اس سب کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے گا۔ پس تم مطمئن رہو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سوآء السبیل۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر حملے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 10:66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

آگاہ رہو کہ اللہ ہی کے لیے ہیں وہ سب جو کہ آسمانوں میں ہیں، اور وہ سب بھی جو کہ زمین میں ہیں، اور کا ہے کی پیروی کر رہے ہیں وہ لوگ، جو پکارتے ہیں اللہ کے سوا (دوسرے خودساختہ) شریکوں کو، یہ لوگ پیروی نہیں کرتے مگر ظن (و گمان) کی، اور یہ محض اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں،

114 ۔ کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور الا کے حرف تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آگاہ رہو کہ اللہ ہی کے ہیں وہ سب جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ یعنی ملائکہ، انبیاء و رسل اور اولیاء و صلحاء وغیرہ سب کے سب۔ کہ یہ سب اس کی مخلوق و مملوک ہیں نہ کہ اس کے شریک و حصہ دار۔ اور جب یہ عظیم الشان ہستیاں بھی اس کی شریک نہیں ہوسکتیں تو اور کسی شجر و حجر اور جماد لایعقل کے اس کے شریک اور معبود ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو اللہ وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی بھی ہستی کی عبادت کرنا اور اس کے لئے پوجا پاٹ کے مراسم بجا لانا عقل و نقل کے تقاضوں کے خلاف اور بشریت کی توہین و تذلیل اور اس کو شرف انسانیت سے گرا کر قعر مذلت میں پہچانا اور " خیر البریۃ "۔ سب سے اچھی مخلوق کے مرتبہ و مقام سے محروم کرکے " شر البریۃ " بدترین مخلوق کے ہاوے میں دھکیلنا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کہ عبادت خالق ومالک کی ہوتی ہے نہ کہ مخلوق اور مملوک کی (الجامع، المحاسن، المراغی وغیرہ) اور اس خالق ومالک کی عبادت و بندگی اس کا اس کے بندوں پر حق بھی ہے اور اسی میں اس کے بندوں کی عزت و عظمت بھی ہے اور دارین کی سعادت و سرخروئی بھی۔ کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس حقیقت کے ذکر وبیان سے پہلے یہاں پر (الا) کا کلمہ تنبیہ فرمایا گیا ہے کہ خبردار ہوجاؤ اور اس بات کو کان کھول کر سن لو۔ اور اگر اس بارے میں تم لوگ کسی غلط فہمی میں مبتلا تھے تو اس کی اصلاح کرلو اور اس حقیقت کو ذہن نشین کرلو کہ آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔ سب کا خالق بھی وہی اور مالک بھی وہی ہے اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے اور ان میں سے کسی بھی چیز میں اس کا شریک بننے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ہر لحاظ سے یکتا اور وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 115 ۔ کا ہے کی پیروی کرتے ہیں یہ مشرک لوگ ؟ یعنی " ما " استفہامیہ ہے اور یہ نافیہ اور موصولہ بھی ہوسکتا ہے پہلے دونوں احتمالوں کا مآل ایک ہی ہے۔ یعنی کیا ہیں وہ چیزیں اور کیا حقیقت اور حیثیت ہے ان کی جن کی پوجا پاٹ میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں ؟ جب کہ تیسرے احتمال پر اس کا عطف (من فی السموات) الخ پر ہوگا۔ یعنی ان کے یہ معبودان باطلہ جن کو یہ گمراہ لوگ ازخود اس وحدہ لاشریک کا شریک وسہیم ٹھہرائے ہوئے ہیں یہ سب بھی اسی کی مخلوق اور اسی کے مملوک ہیں۔ تو پھر یہ ان کی عبادت و بندگی کس طرح کرتے ہیں ؟ کہ بندگی تو رب کی ہوتی ہے نہ کہ مربوب کی۔ اور مالک حقیقی کی ہوتی ہے نہ مملوک کی۔ اور خالق کی ہوتی ہے نہ کہ مخلوق کی۔ جیسا کہ ابھی اوپر بھی بیان ہوا (جامع البیان، محاسن التاویل وغیرہ) سو اللہ وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی بھی عبادت و بندگی کرنا ظلم وبے انصافی بھی ہے اور شرف انسانیت کی انتہائی تذلیل و تحقیر بھی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس جو لوگ اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کے سوا اوروں کو پوجتے پکارتے ہیں وہ درحقیقت خدا کے شریکوں کی پیروی نہیں کرتے کہ اس کا کوئی شریک تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ بلکہ ایسے لوگ حقیقت میں اپنے ظن و گمان کی پیروی کرتے اور محض اٹکل پچو کے تیر تکے چلا رہے ہوتے ہیں۔ ان کی بات کی نہ کوئی اصل ہوتی ہے نہ اساس۔ نہ عقل و نقل کے اعتبار سے اور نہ فطرت کے لحاظ سے بلکہ ان کا سارا معاملہ محض وہمی اور فرضی اندازوں پر ہوتا ہے اور ایسے لوگ (ضعف الطالب والمطلوب) کے مصداق ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے وحدہ لاشریک ہے۔ وہ واحد و احد اور یکتا و صمد ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 116 ۔ مشرکوں کی اوہام پرستی اور خود راقم کے مشاہدے کے دو قصے : سو مشرکوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ پیروی نہیں کرتے مگر ظن و گمان کی۔ اور یہ لوگ محض اٹکل پچو باتوں سے کام لیتے ہیں۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مشرک لوگ محض ظن و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ کہ صاحب ! یہ مورتیاں تو فلاں فلاں مقدس ہستیوں کے کام کی اور ان کی قائم مقام ہیں لہذا ان کی تاثیرات ان میں منتقل ہوگئی ہیں۔ اس لئے یہ ہمارے خود ساختہ معبود خدا تعالیٰ سے ہمارے کام کروا سکتے ہیں اور یہ اس کے یہاں ہمارے وسیلے اور سفارشی ہیں (ھولاء شفعآونا عند اللہ) وغیرہ وغیرہ۔ افسوس کہ آج کے کلمہ گو مشرک کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے اور وہ بھی اپنی شرکیات کے لیے اسی طرح کی منطق بگھارتا اور ایسے ہی خود ساختہ اور من گھڑت فلسفوں سے کام لیتا ہے۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ وہ لکڑی پتھر وغیرہ کی اس طرح کی مورتیاں تو نہیں گھڑتا۔ جیسا کھلا مشرک گھڑتا تھا اور گھڑتا ہے مگر تکنیک اور سخن سازی و حجت بازی بہرحال اس کی بھی وہی ہے کہ صاحب یہ ہستیاں جن کے آستانوں اور دہلیزوں پر ہم لوگ حاضری دیتے، ان کے طواف کرتے، ان کے آگے سجدے کرتے اور ان کو چومتے چاٹتے ہیں، کوئی معمولی ہستیاں نہیں ہیں۔ بلکہ یہ بڑی پہنچی ہوئی " سرکاریں " ہیں یہ ہمارے ذریعے اور وسیلے ہیں۔ انہی کے ذریعے ہم اس مالک کی بارگاہ تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے، اس لیے ایسے لوگ اپنے ان آستانوں کے لیے نذریں مانتے، نیازیں دیتے، چڑھاوے چڑھاتے، ان کے لیے پھیرے لگاتے، ان کے گرد چکر کاٹتے، ان کے آگے جھکتے، سجدہ ریز ہوتے اور بعض اوقات ان کی تصویریں اور مورتیاں بھی بنا سجا کر رکھتے اور سینوں پر لٹکاتے ہیں چناچہ راقم آثم نے اپنے ملک کے علاوہ 72 ء سے 76 ء تک مدینہ منورہ کے اپنے چار سالہ قیام کے دوران دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے اس طرح کے شرک اور ایسے مشرکوں کے کئی نمونے بھی دیکھے۔ چناچہ غالبا 74 ء کے حج کا موسم تھا کہ ایک روز راقم آثم اپنے معمول کے مطابق مسجد نبوی میں باب الرحمۃ کی اندرونی سائیڈ میں بیٹھا ہوا تھا جہاں راقم آثم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے روزانہ مغرب سے عشاء تک قرآن پاک کا درس بھی دیا کرتا تھا۔ تو ایک آدمی جو حج کے لیے لبنان سے آیا ہوا تھا، وہ مجھ سے ملا۔ اور پھر کچھ بات چیت کے بعد اس نے اپنے سینے پر لٹکایا ہوا ایک تعویز مجھے دکھایا۔ پھر اس کو کھولا تو اس کے اندر ایک فوٹو تھا۔ اس نے وہ مجھے دکھایا اور پھر اس نے ایک خاص سٹائل کی چیخ مار کر مجھ سے کہا کہ یہ میرا پیر ہے۔ اس پر اسی شرک کے ساتھ تو حج بیت اللہ اور حرمین شریفین کی زیارت کے لیے آیا تو تجھے اس آنے کا آخر فائدہ کیا ؟ اور یہاں سے بھی اگر تو شرک کی اس نجاست کو لیے ہوئے واپس لوٹے گا تو پھر تیری تطہیر آخر ہوگی کہاں اور کس طرح ؟ مگر اس کے دل و دماغ میں شرک کی جمی ہوئی تہیں میری اتنی سی بات سے اکھڑنے والی تھوڑی ہی تھیں۔ والعیاذ باللہ۔ اسی طرح کے شرک کے ایک اور نمونے کو دیکھنے کا موقع راقم آثم کو یہاں دبی میں ملا۔ میدان بنی یاس دیرہ دبی کی مرکزی جامع مسجد میں جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے راقم آثم ہر منگل اور بدھ کو نماز فجر کے فورا بعد درس حدیث دیتا ہے اور یہ سلسلہ جو کوئی پندرہ بیس سال قبل شروع ہوا تھا اب تک جاری ہے۔ والحمدللہ۔ تو ایک روز درس حدیث سے فراغت کے بعد ایک صاحب راقم آثم کو مسجد کے قریب ہی واقع ایک بلڈنگ میں اپنے رہائشی فلیٹ میں بڑے اصرار اور چاؤ کے ساتھ چائے کی دعوت پر لے گئے۔ وہاں انہوں نے اپنے ڈرائنگ روم میں رکھا ہوا ایک فوٹو مجھے دکھایا اور کہا کہ یہ میرے پیر و مرشد ہیں۔ اور کہا کہ یہی مجھے صبح کو نیند سے اٹھاتے ہیں جبکہ ان صاحب کو مرے ہوئے کئی سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور ان کی ظاہری شکل و صورت بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں تھی۔ تو میں نے اس شخص سے کہا کہ نہیں بھئی ایسے نہیں ہوسکتا۔ مر کر قبر کے اندر چلے جانے والا کوئی شخص اس طرح کا کوئی تصرف نہیں کرسکتا۔ اور تصرف کرنا تو درکنار اس کو تو باہر کے حالات کا کچھ پتہ بھی نہیں ہوتا۔ ورنہ اس کو زمین میں دفن کیوں کیا جاتا مگر ان صاحب کا پھر بھی کہنا تھا کہ نہیں صاحب ! ایسے ہوتا ہے۔ سو اس طرح کے ظن وتخمین کے مظاہر آپ کو جابجا اور طرح طرح سے نظر آئیں گے۔ والعیاذ باللہ فصدق اللہ القائل۔ (اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى) بہرکیف ایسے لوگ محض ظن وتخمین سے کام لیتے ہیں اور اپنے ان خود ساختہ اور مفروضہ معبودوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ صاحب انہی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی سے ہمارے کام بنتے اور حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔ اور اس کے لیے یہ لوگ طرح طرح کے فرضی بناوٹی اور من گھڑت قصے اور افسانے پھیلاتے جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسوں کا تمام تر کاروبار ظن وتخمین اور وہم و گمان کے سہاروں پر چلتا ہے اور بس (فَتَعَالَی اللہُ عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا) بہرکیف معبود برحق صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور ظن و گمان کی پیروی اللہ تعالیٰ کے یہاں کچھ کام نہیں آسکتی۔ سو محض ظن و گمان کی پیروی کرنے والے بڑے ہی سخت خسارے میں ہیں۔ والعیاذ باللہ۔
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام و سکون حاصل کرو، اور دن بنایا روشنی بخشنے والا (تاکہ تم اس میں کام کرسکو) ، بیشک اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں،

117 ۔ نظام کائنات میں قدرت کی عظیم الشان نشانیاں : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ دن اور رات کی نشانیوں پر مشتمل اس نظام کائنات میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں جیسا کہ سننے کا حق ہے۔ اور پھر ایسے لوگ غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ جب رات و دن کی اس حکمتوں بھری تخلیق میں اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک و حصہ دار نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ نیز یہ کہ حکمتوں بھری اور طرح طرح کی نعمتوں سے مملو و معمور یہ کائنات، جس قادر مطلق نے بنائی کس طرح ہوسکتا ہے کہ اس نے اس کو یونہی بےمقصد اور بےکار پیدا کردیا ہو ؟ نیز جس نے انسان کی جسمانی ضرورتوں کی تحصیل و تکمیل کا اس طرح کا پر حکمت انتظام فرمایا، کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا کوئی سامان نہ فرمائے ؟ جب کہ جسم و روح میں اصل چیز روح ہی ہے۔ نیز جس نے انسان کو اس طرح بےحد و حساب نعمتوں سے نوازا ہے، کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی باز پرس نہ کرے ؟ تاکہ اچھوں کو ان کی اچھائی کی جزاء مل سکے اور بروں کو ان کی برائی کی سزا۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں ؟ سو کائنات کے اس مضبوط و مستحکم نظام میں غور کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں، جن سے وہ اپنے رب کی وحدانیت ویکتائی، دین حق کی صداقت و حقانیت اور روز جزاء کی قطعیت اور معقولیت پر استدلال کرتے اور راہ حق و ہدایت پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح وہ مظاہر قدرت کو معبود قرار دینے کی بجائے ان کو معرفت حق کا ذریعہ بناتے ہیں اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و صواب پر مستقیم و گامزن رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 10:68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد بنالی، پاک ہے اس کی ذات، وہ غنی (و بےنیاز) ہے، اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے، اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے، کیا تم لوگوں کے پاس کوئی سند ہے اس بات کی ؟ یا تم لوگ اللہ پر ایسی بات کہتے ہو جس (کی حقیقت اور سنگینی) کو تم جانتے نہیں ؟1

118 ۔ اللہ تعالیٰ کی شان تنزیہ و تقدیس کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہے ہر شرک اور شائبہ شرک سے۔ سو وہ پاک ہے اس سے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ کیونکہ اولاد کا ہونا مستلزم ہے تجانس اور احتیاج کو۔ اور وہ اس طرح کے ہر شرک اور اس کے ہر شائبے سے بھی پاک اور بالا و برتر ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ خود کسی کی اولاد ہے کہ اس کی شان اس کے اپنے ارشاد کے مطابق (لَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ ) کی شان ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر و شریک ہے۔ وہ ایسے ہر تصور و خیال سے پاک اور اس کی شان اس سے اعلیٰ وبالا ہے۔ پس اس کی نہ کوئی اولاد ہے نہ ہوسکتی ہے کہ یہ چیز شرک فی الذات کے زمرے میں آتی ہے۔ " ولد " کے معنی آتے ہیں۔ کل ما یولد یعنی جو بھی چیز پیدا ہو " خواہ وہ مذکر ہو یا مؤنث۔ اسی لیے ولد کا اطلاق مذکر و مؤنث اور واحد و جمع سب پر ہوتا ہے۔ اور مشرک لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے نر اولاد بھی مانی اور مؤنث بھی۔ اور مشرکین عرب جن کا شرک یہاں پر زیر بحث ہے ان کے یہاں فرشتے خدا کی بیٹیاں تھے۔ والعیاذ باللہ۔ اس لیے جن لوگوں نے " ولد " کو صرف مذکر کے معنی میں لیا ہے، خاص کر ایسے موقع پر تو انہوں نے غلط کیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پاک ہے ایسے ہر تصور سے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 119 ۔ غنی و بےنیازی اللہ تعالیٰ ہی کی صفت و شان ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ غنی اور بےنیاز ہے۔ سو وہ غنی اور بےنیاز ہے ساری کائنات سے اور ہر اعتبار سے۔ جبکہ کائنات کی ہر چیز ہر لحاظ و اعتبار سے اس کی محتاج ہے وہ سب سے اعلیٰ وبالا اور غنی و بےنیاز ہے اور باقی سب ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اسی کے محتاج ہیں اور بیٹے کی طلب ضرورت کے لئے ہوتی ہے کہ وہ کل والدین کی جسمانی اور مالی طور پر مدد کرسکے۔ ان کے دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہوسکے۔ اور یہ اس کے بل بوتے پر دوسروں پر فخر جتلا سکیں اور اپنی نسل برقرار رکھ سکیں وغیرہ وغیرہ جبکہ اللہ پاک اس طرح کی ہر احتیاج اور ہر تصور سے پاک اور ہر اعتبار سے بےنیاز ہے۔ تو پھر اس کی کوئی اولاد کیونکر ہوسکتی ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو دنیا والے تو اولاد کے ضرورت مند ہوتے ہیں کہ ان کی اولاد ان کی نسل کی بقاء کا ذریعہ بنتی ہے اور ان کے کاروبار میں ان کی ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔ کمزوری اور بڑھاپے وغیرہ کے عوارض کے دوران وہ اس کو سہارا دیتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ایسی ہر حاجت و ضرورت سے پاک اور بالا و مستغنی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تو پھر اس کے لیے کسی اولاد کی کیا حاجت و ضرورت ؟ 120 ۔ کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے کہ اس سب کا خالق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور مالک بھی وہی۔ اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ اور جب پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔ تو پھر اس کو کسی اولاد کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ بلکہ اس کے لیے اولاد ماننا تو اس کو گالی دینا ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں صاف اور صریح طور پر فرمایا گیا ہے۔ پس اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو زمین میں ہے کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی وہی۔ اور اس میں متصرف و کارساز بھی وہی ہے۔ پھر اسے ضرورت ہی کیا ہے کہ وہ کسی کو اپنی اولاد تجویز کرے۔ نیز جب یہ سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں تو ان میں سے کوئی اس کی اولاد ہو ہی کیسے سکتی ہے ؟ کہ ملکیت اور ابنیت میں منافات اور تضاد ہے۔ حدیث قدسی میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ انسان مجھے گالی دیتا ہے حالانکہ ایسا کرنا اس کے لیے روا نہیں تھا۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ نے اولاد ٹھہرائی حالانکہ میں یکتا و بےنیاز ہوں۔ نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں خود کسی کی اولاد ہوں۔ اور نہ ہی میرا کوئی ہمسر ہے۔ (بخاری : جلد 2 صفحہ 744) ۔ سو اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کے لیے کسی طرح کی کوئی اولاد ماننا اس کو گالی دینا ہے۔ پس اس سے اس جرم کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے مگر ایک دنیا کی دنیا ہے جس نے اس انتہائی سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے اور آج تک برابر کیے جارہی ہے اور طرح طرح سے کیے جارہی ہے اور اس حد تک کہ اس کو اس کی سنگینی کا کوئی احساس تک نہیں۔ والعیاذ باللہ۔ جل وعلا بکل حال من الاحوال۔ 121 ۔ شرک انتہائی ہولناک اور سنگین جرم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے اے مشرکو ! تمہارے اس شرک کی جس کا ارتکاب تم لوگ کرتے ہو ؟ یا تم لوگ یونہی الٰہ پر ایسی بات کہتے ہو جس کی حقیقت اور سنگینی کو تم جانتے نہیں۔ اور جب تمہارے پاس کوئی سند نہیں اور یقینا نہیں کہ شرک پر کوئی دلیل ہو ہی کیسے سکتی ہے (وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ ) (المومنون :118) تو پھر تم سے بڑھ کر مجرم اور غلط کار اور کون ہوسکتا ہے ؟ جو بغیر کسی سند اور دلیل کے اتنی بڑی بات کہتے ہو کہ جس سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گرپڑیں (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا۔ اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا) (مریم :90 ۔ 91) بہرکیف مشرکوں کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے اور ان کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تمہارے پاس کوئی سند و دلیل موجود ہے ؟ سو تمہاری یہ بات ایسی ہولناک اور اس قدر سنگین ہے کہ اس سے زمین و آسمان کی یہ ساری کائنات پھٹ پڑنے کو ہے۔ یعنی تمہاری یہ بات کہ تم لوگ خدا کی اولاد مانتے ہو۔ یہاں پر دلیل کو سلطان قرار دیا گیا ہے جس کے معنی غلبہ اور حکمرانی کے ہیں کیونکہ غلبہ اصل میں حجت وبرہان اور سند و دلیل ہی کا ہوتا ہے۔ سو جس کے پاس شرعی سند اور دلیل ہوگی غلبہ اسی کا ہوگا۔ سو اس سے شرک کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے جواز کے لیے کوئی سند ہے، نہ ہوسکتی ہے۔ کہ یہ عقل و نقل سب کے تقاضوں کے یکسر خلاف ہے۔
Ayah 10:69

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہو کہ بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتراء باندھتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاسکیں گے

122 ۔ افتراء علی اللہ کی سنگینی اور اس کی مختلف صورتیں : سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کہ بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتراء باندھتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاسکیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنے کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ مثلایہ کہ اس وحدہ لاشریک کی کوئی اولاد ہے یا اس نے اپنے کچھ شریک ٹھہرا رکھے ہیں یا اپنی خدائی میں کچھ ہستیوں کو مافوق الاسباب طور پر تصرف اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے اختیارات سونپ رکھے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کہ یہ سب کچھ افتراء علی اللہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (المراغی، المحاسن، الصفوۃ وغیرہ) اور افتراء علی اللہ بڑا ظلم اور ہولناک و سنگین جرم ہے کہ اللہ ایسے تمام شوائب سے پاک اور بلند وبالا ہے۔ اور بندے کا اس کی مخلوق ہوتے ہوئے اسی کی ذات اقدس و اعلیٰ پر جھوٹ باندھنا بڑا ہی ہولناک جرم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ پر افتراء کرنے والے بڑے ہی ہولناک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں جس کا بھگتان ان کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:70

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

دنیا میں کچھ مزے کرلیں، پھر ان سب کو بہرحال ہمارے ہی پاس آنا ہے لوٹ کر اس وقت ہم انھیں چکھائیں گے مزہ سخت عذاب کا اس کفر کے بدلے میں جس کا ارتکاب یہ لوگ کرتے رہے تھے ف

123 ۔ افتراء پر دازوں کو رجوع الی اللہ کی تذکیر و یاد دہانی : سو افتراء پردازوں کو رجوع الی اللہ کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ دنیاوی زندگی میں کچھ مزے کرلیں آخرکار ان کو لوٹ کر بہرحال ہمارے پاس آنا ہے۔ اور وہاں انہوں نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ تب ان کو سب کچھ خود معلوم ہوجائے گا۔ سو ایسوں کو اگر چند روزہ دنیاوی زندگی میں چھوٹ مل گئی اور انہوں نے عیش کرلیا تو بھی کیا کہ ان کا انجام تو یہ ہونے والا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ پر افتراء کا جرم بہت سخت اور نہایت سنگین جرم ہے۔ اور اس کا نتیجہ و انجام بڑا ہولناک ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو جو لوگ اللہ تعالیٰ پر شرک کی تہمت لگا رہے ہیں اور جو اس کو صاحب اولاد ہونے کی گالی دے رہے ہیں وہ کبھی فوز و فلاح سے سرفراز نہیں ہوسکیں گے کہ شرک کا جرم دراصل بغاوت کا جرم ہے۔ اور باغی لوگ کبھی فوز و فلاح سے سرفراز نہیں ہوسکتے۔ اور بغاوت اور اللہ کو گالی دینے کے جرائم کے مرتکبوں کی فوز و فلاح کا کیا سوال ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 124۔ افتراء پردازوں کے لیے عذاب شدید۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ان لوگوں کو مزہ چکھائیں گے سخت عذاب کا ان کے اس کفر کی بناء پر جس کا ارتکاب یہ لوگ کرتے رہے تھے۔ پس ظالم لوگ دنیاوی زندگی کی چند روزہ فرصت میں کچھ مزے لوٹ لیں اور بس۔ کہ یہاں دنیا کی عمومی متاع حقیر سے بھی یہ لوگ طرح طرح سے فائدے اٹھاتے ہیں اور رنگ رلیاں کرتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ اس طرح کے افتراء ات کے باعث ان لوگوں کی خصوصی دکانیں بھی خوب چمکتی اور چلتی ہیں۔ ان کی جھوٹی سرداری و سربراہی کے ڈنکے بھی خوب بجتے اور ان کے ڈھول بھی خوب پٹتے ہیں۔ مگر دنیا کے یہ سب مزے اور نشے تو بہرحال عارضی وفانی اور چند روزہ ہیں اور بس۔ اور یہ اس قدر حقیر ہیں کہ آخرت کی نعیم مقیم کے مقابلے میں یہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پھر آخرکار ان سب لوگوں کو لوٹ کر تو بہرحال ہمارے ہی پاس آنا ہے اور اپنے کئے کرائے کا پھل انہوں نے بہرصورت پانا ہے۔ اور ان کے اپنے اس کفر کی پاداش میں جس کو انہوں نے زندگی بھر اپنے گلے لگائے رکھا تھا اس کی پاداش میں اور اس کے بدلے اور نتیجے میں ان کو ہم بڑا ہی سخت عذاب چکھائیں گے۔ اور چونکہ یہ مرے بھی کفر ہی کی حالت میں اس لیے ان کے لیے وہاں کے اس عذاب شدید سے نکلنے اور خلاصی پانے کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ سو جس کافر کا انجام یہ ہونے والا ہے اس کو اگر دنیاوی زندگی میں پوری روئے زمین کی دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا ؟ اور اس سے بڑا بدبخت اور کون ہوسکتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 10:71–72

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

2 اور ذرا انھیں نوح کا (عبرتوں بھرا) حال بھی سنا دو ، کہ جب انہوں نے (بڑے درد بھرے انداز میں) اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! اگر تمہیں میرا یہاں رہنا، اور اللہ کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کرنا بہت ناگوار ہو رہا ہے، وہ (ہوا کرے کہ) میں نے تو بہرحال اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے،3 پس تم سب مل کر میرے خلاف اپنی تدبیر پختہ کرلو، اور اپنے شریکوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرلو، پھر تمہاری چالبازی تم پر پوشیدہ بھی نہ رہے، پھر چلا لو تم لوگ میرے خلاف اپنا داؤ، اور مجھے کوئی مہلت بھی نہ دینا،

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر (یہ بھی دیکھو کہ) اگر تم نے منہ موڑے ہی رکھا تو (اس میں میرا کیا نقصان ؟ کہ) میں نے تو تم سے کوئی اجر نہیں مانگا، میرا اجر تو بس اللہ ہی پر ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں بہر حال فرمانبرداروں سے رہوں،

127 ۔ بندے کا کام اپنے رب کے آگے سر تسلیم خم کردینا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ اگر تم لوگ پھرے ہی رہے راہ حق و صواب سے اور تم نے میری بات نہ مانی تو اس میں میرا کیا نقصان ؟ میں نے تم لوگوں سے کوئی اجر نہیں مانگا۔ میرا اجر تو بس اللہ ہی کے ذمے ہے۔ اور مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں سے رہوں۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بندے کا کام ہر حال میں اپنے رب کا فرمانبردار رہنا ہے اور بس۔ کہ یہ اس کے رب کا اس پر حق ہے۔ سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ مجھے تو بہرحال یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے رہوں۔ اس پر ایمان لاکر اور صرف اسی کی عبادت و بندگی کرکے۔ اور اس کے سوا ہر معبود اور اس کی عبادت و بندگی کا انکار کرکے۔ سو تم لوگ ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، حق و صواب کی راہ بہرحال یہی ہے۔ اور میں ہمیشہ اسی پر قائم رہوں گا۔ سبحان اللہ۔ کیسا عمدہ اور پاکیزہ نمونہ ہے پیغمبر کی زندگی کا کہ رب کی فرمانبرداری کرنی ہے اور اسی کی دوسروں کو دعوت دینی ہے۔ اور تم سے کسی طرح کی اجرت اور بدلے کا کوئی سوال نہیں کہ تم لوگوں نے اگر میری بات کو نہ مانا اور میری دعوت کو قبول نہ کیا تو میرا کوئی نقصان ہوجائے گا۔ سو ایسا کوئی خوف و خطرہ مجھے نہیں بلکہ میں تو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری، اس کی رضاء و خوشنودی اور خود تمہارے بھلے اور بہتری کے لیے کر رہا ہوں۔ اگر تم نے مانا تو خود تمہارا بھلا، نہیں تو خود تمہارا ہی نقصان ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنا اور اپنا ہی بندہ بنائے رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

پھر بھی وہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہی رہے، آخرکار (عذاب آنے پر) ہم نے بچا لیا نوح کو بھی اور ان سب کو بھی جو آپ کے ساتھ تھے اس کشتی میں، اور ان کو ہم نے جانشین بنادیا، اور ہم نے غرق کردیا ان سب کو جو جھٹلاتے رہے تھے ہماری آیتوں کو، پس دیکھ لو کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جن کو خبردار کردیا گیا تھا ؟1

128 ۔ تکذیب و انکار حق کا نتیجہ و انجام بہت برا۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار یعنی عذاب آنے پر ہم نے بچا لیا نوح کو بھی اور ان سب کو بھی جو آپ کے ساتھ تھے اس کشتی میں اور ان سب کو ہم نے غرق کردیا جو جھٹلاتے رہے تھے ہماری آیتوں کو۔ پس تم دیکھ لو کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جن کو خبردار کردیا گیا تھا۔ یعنی تکذیب حق کے نتیجہ و انجام سے کہ آخرکار وہ دائمی ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں گر کر رہے۔ والعیاذ باللہ۔ پس اس میں جہاں ایک طرف حضرت امام الانبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ کے لیے تسکین و تسلی کا عظیم سامان ہے وہاں آپ کے مخالفین و معاندین کے لیے بڑی تنبیہ اور سخت تہدید بھی ہے کہ حق کی تکذیب و انکار کا جو نتیجہ و بھگتان ان لوگوں کو بھگتنا پڑا وہ تم کو بھی پیش آسکتا ہے۔ اگر تم لوگ کفر و بغاوت کی اسی راہ پر اڑے رہے جس پر اب چل رہے ہو۔ کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں ہے۔ بہرکیف تکذیب و انکار حق کا نتیجہ و انجام بہت برا ہوتا ہے ایسے لوگوں کو ڈھیل جتنی بھی ملے آخرکار ان کا انجام ایسا ہی تباہ کن اور ہولناک ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح کے بعد ہم نے اور رسولوں کو بھی بھیجا ان کی قوموں کی طرف کھلے دلائل کے ساتھ، مگر جس چیز کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا اسے انہوں نے مان کر نہ دیا اسی طرح ہم مہر لگا دیتے ہیں حد سے بڑھنے والوں کے دلوں پر،2

129 ۔ حد سے بڑھنا موجب ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اسی طرح مہر لگا دیتے ہیں حد سے بڑھنے والوں کے دلوں پر۔ سو حد سے بڑھنے والوں کے دلوں پر قدرت کی طرف سے مہر جباریت لگا دی جاتی ہے۔ اور ہم مہر لگا دیتے ہیں۔ کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا نظام و قانون اور ہماری سنت اور دستور یہی ہے کہ ہم ایسے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں جو حدود بندگی سے تجاوز کرتے اور حق کو قبول کرنے کی بجائے اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو ان لوگوں کی یہ محرومی خود ان کے اپنے ہی کئے کرائے کا طبعی نتیجہ ہوتی ہے ورنہ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ہوتا۔ سو ایسے لوگوں نے اپنی اس بغاوت و سرکشی سے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے تھے (وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ ) سو اللہ وحدہ لاشریک کی آیتوں کی تکذیب اور ان کا انکار بڑا ظلم ہے جو ایسے منکر لوگ ڈھاتے ہیں مگر ان کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا کہ اپنی روش سے ہم اپنا ہی نقصان کرتے اور اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ اور جو بیمار اپنی بیماری کو بھی اپنی صحت سمجھے اس کی بیماری کیسے دور ہوسکتی ہے اور اس سے بڑھ کر محروم اور بدنصیب اور کون ہوسکتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، اپنی نشانیوں کے ساتھ مگر انہوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ سے کام لیا (پیغامِ حق کے مقابلے میں) اور وہ تھے ہی مجرم لوگ3

130 ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی بعثت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھیجا فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ یہاں پر بعثت پیغمبر کے سلسلہ میں فرعون اور اس کے سرداروں کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنی قوم قبط کے بڑے اور ان کے اشراف اور کرتا دھرتا تھے اور انہی کے نقش قدم پر وہ لوگ چلتے تھے۔ ان کی اصلاح ان کے سب پیروکاروں کی اصلاح تھی۔ اور ان کی خرابی ان سب کی خرابی۔ اس لئے ذکر میں ان کی تخصیص فرمائی گئی ہے۔ ورنہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کی بعثت و تشریف آوری تو اس پوری قوم کے لئے تھی نہ کہ کچھ محدود و معدود لوگوں اور افراد کے لئے۔ مگر فرعون اور اس کے سرداروں کی تخصیص ان کی اسی خاص اہمیت کی بناء پر فرمائی گئی کہ حکمرانی ان ہی کی تھی۔ 131 ۔ استکبار باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے پیغام حق و ہدایت کے مقابلے میں استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ سے کام لیا۔ اور وہ تھے ہی مجرم لوگ۔ اس لیے وہ محروم کے محروم ہی رہے۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ محرومی کا سب سے بڑا باعث اور بنیادی سبب ہے۔ والعیاذ باللہ۔ پس اپنی بڑائی کا زعم و گھمنڈ اور وہ بھی حق کے مقابلے میں۔ والعیاذ باللہ۔ ایسی بری اور اتنی بڑی آفت ہے جو کہ انسان کو حق و ہدایت کے نور سے محروم کرکے اسے دائمی خسران و ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان پہلے انبیائے کرام کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے اپنی جھوٹی بڑائی کے زعم اور گھمنڈ میں ان سے منہ موڑ لیا۔ ان کی تکذیب کی اور ماننے کی بجائے ان کو جادو قرار دیا کہ وہ تھے ہی مجرم لوگ۔ اپنے جرم میں وہ بڑھتے ہی چلے گئے۔ یہاں تک کہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو استکبار اور معاصی وذنوب پر اصرار و استمرار باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 10:76–77

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پھر جب پہنچ گیا ان کے پاس حق ہمارے یہاں سے، تو انہوں نے (پوری ڈھٹائی سے) کہا کہ یہ تو یقینی طور پر ایک جادو ہے کھلم کھلا،

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے (ان سے) کہا کہ کیا تم لوگ حق کے لئے ایسا کہتے ہو، جب کہ وہ پہنچ چکا تمہارے پاس ؟ کیا جادو ایسا ہی ہوتا ہے ؟ اور جادوگر تو (اپنی جادو گری کے زور پر دعوائے نبوت کر کے) کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے،

132 ۔ متکبر فرعونیوں کے ضمیر سے سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حق ان لوگوں کے پاس پہنچ گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو یقینی طور پر ایک جادو ہے کھلم کھلا۔ تو اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ کیا تم لوگ حق کے بارے میں ایسے کہتے ہو ؟ کیا جادو ایسا ہی ہوتا ہے اے بدبختو ؟ کہ وہ حق و صدق اور توحید و دین حق کی دعوت دے ؟ اور اسی دعوت حق کی بناء پر وہ فرعون جیسے جابر و ظالم حکمران کو للکارے ؟ ایسا کوئی جادو اور اس طرح کا کوئی جادوگر کہیں تم دکھا سکتے ہو ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے کہ تم لوگ صاف وصریح حق سے منہ موڑ کر ایسی بہکی بھٹکی باتیں کرتے ہو جو کہ عقل کے بھی خلاف ہیں اور نقل کے بھی۔ اور اس طرح تم لوگ حق و ہدایت کی دولت سے محروم ہو کر اپنے لیے دائمی ہلاکت اور تباہی کا سامان کرتے ہو جو کہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو اس سوال سے ان متکبروں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑا گیا تاکہ وہ ہوش کے ناخن لیں لیکن جن پر ان کے سوء اختیار اور خبث باطن کی بنا پر ان کی بدبختی مسلط ہوجاتی ہے ان کو اس کی توفیق وسعادت کیسے نصیب ہوسکتی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 133 ۔ جادوگر حق کے مقابلے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے : حق کے مقابلے میں اور حقیقت کے اعتبار سے کہ وہ تو ایک نری شعبدہ بازی اور چابکدستی کا کھیل ہوتا ہے۔ اس میں اتنا بل بوتا کہاں کہ وہ کسی کو فوز و فلاح اور حقیقی کامرانی سے ہم کنار کرسکے۔ اور حق کے مقابلے میں کھڑا ہوسکے۔ سو تم لوگ بڑے ظالم اور بےانصاف لوگ ہو جو دعوت حق کو جادو کہہ کر اس سے منہ موڑتے ہو اور اپنی بدبختی کی سیاہی کو اور پکا کرتے ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ حق کے مقابلے میں تو جادوگر ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ٹک سکتے۔ بھلا معجزے کے آفتاب تاباں کے سامنے باطل کے ان بےحقیقت دیوں کی حقیقت اور حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ سو جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ ان کے شعبدوں اور کرشموں کی چمک دمک عارضی اور وقتی ہوتی ہے اور وہ صرف اسی وقت تک ہوتی ہے جب تک کہ حق کی چوٹ ان پر نہیں پڑتی۔ حق کے مقابلے میں آنے پر اور حق کی چوٹ پڑتے ہی ان کی اصل حقیقت واضح ہوجاتی ہے اور وہ سب ہباء منثورا ہوجاتے ہیں۔ کہ اس کے اندر حق کے مقابلے میں ٹکنے کی اہلیت اور صلاحیت ہی نہیں۔
Ayah 10:78

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ پھیر دو ہمیں ان طور طریقوں سے جن پر پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ؟ اور تم ہی دونوں کی بڑائی (اور سرداری) قائم ہوجائے اس سرزمین میں، اور (سن لو کہ) ہم کبھی تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں

134 ۔ باپ دادا کی اندھی تقلید باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت حق کے جواب میں کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اسی لیے آئے ہو کہ ہمیں پھیر دو ان طور طریقوں سے جن پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ اور اس طرح تم دونوں کی بڑائی اور سرداری قائم ہوجائے اس سرزمین میں ؟ اور (سن لو کہ) ہم کبھی بھی تمہاری بات ماننے والے نہیں۔ سو یہ اہل باطل کی مشترکہ حجت بازی کا ایک نمونہ و مظہر ہے کہ انہوں نے حق و ہدایت کے مقابلے میں باپ دادا کے طور طریقوں کو ترجیح دی۔ سو یہ اہل حق کے مقابلے میں ایک ہی طرح کی اور مشترکہ حجت بازی کا ایک نمونہ و مظہر ہے۔ یعنی وہی مرغے کی ایک ٹانگ کہ دلیل و حجت تو کوئی ہے نہیں بس بڑوں کی اندھی تقلید کا پھندا ہے جو ایسے لوگوں نے گلے میں ڈال رکھا ہے اور ان کے پاس کوئی معقولیت اور وجہ جواز نہیں سوائے اس کے کہ بڑوں نے ایک مکھی ایک جگہ ماری تھی پس ہم بھی اسی مکھی پر مکھی مارتے چلے جائیں گے اور بس۔ سو ایسوں کی مت ایسے ہی ماری جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو ایسے لوگ اپنی اس ہٹ دھرمی اور خواہ مخواہ کی حجت بازی کی بناء پر نور حق و ہدایت سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 10:79–80

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے حکم کردیا کہ لے آؤ تم میرے پاس ہر بڑے ماہر جادوگر کو،

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

پھر جب وہ سب جادوگر آپہنچے تو (مقابلے کے وقت) موسیٰ نے ان سے کہا کہ ڈال دو جو کچھ کہ تمہیں ڈالنا ہے،1

135 ۔ پیغمبر کی قوت ایمان و یقین کا ایک نمونہ و مظہر : سو جادوگروں کے اس انبوہ کثیر کے مقابلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پورے اطمینان اور سکون و وقار کے ساتھ ان سے کہا کہ ڈال دو جو کچھ کہ تم لوگوں نے ڈالنا ہے۔ سو یہ بات اللہ کے سچے نبی کے ایمان و یقین کی پختگی اور اعتماد علی اللہ کی قوت کا مظہر ہے کہ جادوگروں کی اس کثرت کا اثر اور ان کی اس ہوش ربا شعبدہ بازی کی پرواہ تک نہ کی۔ اور ان کو صاف وصریح طور پر اور واضح انداز میں اس طرح دعوت مبازرت دے رہے ہیں۔ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام۔ سو ایمان و یقین کی قوت تاقابل شکست قوت ہے اور اس سے سرفرازی کے بعد انسان کے لیے خوف و خطر اور ضعف و اضمحلال کی کوئی وجہ باقی نہیں رہ جاتی۔ کیونکہ ایمان و یقین کے نور اور اس کی قوت سے سرفرازی کے بعد انسان کا تعلق اس ذات اقدس و اعلیٰ کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے، جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں اس کائنات کی ہر چیز کی زمام ہے۔ اور نفع و نقصان سب اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اللہم فکن لنا واجعلنا لک۔
Ayah 10:81

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

پس جب وہ ڈال چکے (جو کچھ کہ انھیں ڈالنا تھا) تو موسیٰ نے کہا کہ جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے، یقیناً اللہ اسے ابھی درہم برہم کئے دیتا ہے، بلاشبہ اللہ سدھرنے (اور سنورنے) نہیں دیتا فسادی لوگوں کے کام کو

136 ۔ باطل حق کے مقابلے میں کبھی نہیں ٹھہر سکتا : سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان جادوگروں سے فرمایا کہ ڈال دو جو کچھ کہ تم لوگوں کو ڈالنا ہے۔ یقینا اللہ اس کو ابھی درہم برہم کردے گا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کبھی سدھرنے سنبھلنے نہیں دیتا فسادی لوگوں کے کام کو۔ سو باطل کی یہ جان نہیں کہ وہ حق کے آگے دم مار سکے۔ باطل کی چمک دمک اسی وقت تک ہوتی ہے جب تک کہ اس کا مقابلہ حق سے نہیں ہوتا۔ اور جب حق ظاہر ہوجاتا ہے تو باطل جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے کہ باطل بہرحال باطل ہے اور اس کی یہ جان نہیں کہ وہ حق صریح کے آگے دم مار سکے۔ سبحان اللہ۔ کیا کرشمے دکھاتی ہے ایمان و یقین کی یہ قوت۔ اللہم ارزقنا۔ اور حسن ادب ملاحظہ ہو کہ یوں نہیں فرمایا کہ میں اسے باطل کردوں گا جیسا کہ ابنائے دنیا اس طرح کی بڑیں ہانکتے اور ایسی لن ترانیوں سے کام لیتے رہتے ہیں، بلکہ یہ فرمایا کہ اللہ ایسا کرے گا کہ معاملہ ہر ایک کا بہرحال اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ (والی اللہ ترجع الامور) مگر آج کے کلمہ گو مشرک کی آنکھ پھر بھی نہیں کھلتی۔ اور وہ اس کے باوجود اس قادر مطلق کو چھوڑ کر اس کی طرح طرح کی عاجز و بےبس مخلوق پر بھروسہ کرتا اور اسی کو پوجتا پکارتا اور اسی کی دعوت دیتا ہے۔ والعیاذ باللہ اور اس سلسلے میں وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتا ہے اور اس حد تک کہ وہ اس کے لیے نصوص کتاب و سنت میں تحریف تک سے کام لیتا ہے۔ اور وہ نہیں سمجھتا کہ اس طرح وہ اپنے لیے کس قدر ہلاکت اور کیسی تباہی کا سامان کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:82

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ حق کو حق کر کے دکھاتا ہے اپنے فرامین (و ارشادات) کے ذریعے، اگرچہ یہ برا لگے مجرموں کو2

137 ۔ اللہ حق کو حق کرکے دکھاتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ حق کو حق کرکے دکھاتا ہے اپنے فرامین و ارشادات کے ذریعے اگرچہ یہ برا لگے مجرموں کو۔ سو ثابت اور قائم و دائم رکھتا ہے کہ اس میں انسانیت کی فلاح اور پوری کائنات کی صلاح وبقاء کا سامان ہوتا ہے۔ اسی لیے اس قادر مطلق نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے فرد فرید کو فرعون جیسے طاغوت و سرکش پر فتح و کامرانی سے نوازا۔ اور ان کی قوم کو فرعون کی صدیوں کی غلامی سے نجات و رہائی نصیب فرمائی۔ جس کا ظاہری حالات میں کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔ بلکہ ظاہری صورت یکسر اس کے خلاف تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے یہ سب کچھ کرکے دکھایا۔ سو مجرم اور مفسد لوگ حق کو دبانے کی خواہ کتنی ہی کوشش کریں۔ لیکن اللہ اپنے کلمات کے ذریعے حق ہی کا بول بالا کرتا اور غلبہ انہی لوگوں کو عطا فرماتا ہے جو اس کے کلمہ کی سربلندی کے لیے اٹھتے ہیں۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہئے کہ یہاں پر زیربحث حق و باطل کی وہ کشمکش ہے جو اللہ تعالیٰ کے رسول کی بعثت سے ظہور میں آتی ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے رسول کے لیے بالآخر غلبہ لازم ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر صاف وصریح طور پر اور تاکید کے الفاظ میں ارشاد فرمایا گیا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ) (المجادلہ :21) اللہ ہمیشہ نور حق و ہدایت سے سرفراز و سرشار رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

پھر بھی موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا بجز آپ کی قوم کے کچھ نوجوانوں کے فرعون اور خود اپنی قوم کے بڑے سرداروں (اور کھڑ پینچوں) کے ڈر سے کہ کہیں وہ انھیں کسی مصیبت میں نہ ڈال دیں، اور واقعی فرعون اس ملک میں تھا بھی بڑا زور دار اور وہ یقینی (اور قطعی) طور پر حد سے نکل جانے والوں میں سے تھا،

138 ۔ پھر بھی ان کی قوم کے کچھ ہی لوگ ایمان لائے : یعنی حق کی اس قدر توضیح کے باوجود ان کی قوم کے کچھ ہی لوگ ایمان لائے۔ یہاں پر (قومہ) کی ضمیر مجرور کے مرجع میں دو احتمال ہیں۔ راجح قول کے مطابق جو کہ جمہور کا قول ہے اور جس کو ابن جریر نے اختیار کیا ہے (قومہ) کی ضمیر کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں کہ وہی اقرب مذکور ہیں۔ اور آپ کی قوم اگرچہ نبیوں کی اولاد میں سے تھی اور وہ فی الجملہ ایمان بھی رکھتی تھی مگر انہوں نے چونکہ آسمانی کتابوں اور اپنے نبیوں کی تعلیمات میں طرح طرح سے تاویلات و تحریفات کرکے ان کو بدل دیا تھا اور انہوں نے اپنے ایمان و عقائد میں طرح طرح کی شرکیات کی آمیزش کردی تھی اس لئے ان کا یہ ایمان و عقیدہ معتبر نہ تھا تاوقتیکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات کے مطابق نئے سرے سے اور سچے دل سے ایمان لاتے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ایمان وہی معتبر اور قابل قبول ہے جو آسمانی تعلیمات کے عین مطابق ہو۔ ورنہ اگر ان میں اپنی طرف سے بدعات و خرافات کے اضافے کرکے ان پر ایمان لائے تو وہ ایمان نہ ہونے کے برابر ہے کہ وہ ایمان دراصل اپنی خواہشات اور اغراض و اہواء پر ہوتا ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کے دین خالص پر۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور دوسرا قول اس میں یہ ہے کہ اس ضمیر کا مرجع فرعون ہے۔ یعنی فرعون کی قوم کے کچھ ہی نوجوان حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ مگر راجع اور مشہور قول پہلا ہی ہے جو جمہور کا قول ہے اور جس کو ابن جریر نے ترجیح دی ہے۔ مطلب بہرحال دونوں صورتوں میں صحیح اور دل کو لگنے والا ہے کہ فرعون اور فرعونیوں کے ڈر اور خوف کی وجہ سے شروع شروع میں کچھ نوجوان ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کی ہمت کرسکے (ابن جریر، ابن کثیر، المراغی، صفوۃ التفاسیر، معارف القرآن اور محاسن التاویل وغیرہ وغیرہ) سو یہاں سے بھی اس حقیقت کی تاکید ہوتی ہے کہ عوام کی اکثریت بےایمانوں اور غلط کاروں ہی کی ہوتی ہے۔ ایماندار اور سچے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ لہذا عوام الناس کی قلت یا کثرت معیار حق و باطل نہیں بن سکتی۔ جیسا کہ جہلاء کا کہنا ماننا ہے۔ 139 ۔ قوت شباب اور خطرات کا مقابلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر آپ کے قوم کچھ نوجوانوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ سو قوت شباب قدرت کی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو انسان کو خطرات کے مقابلے پر ابھارتی ہے اور اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ انقلاب عموما جواں خون ہی کا مرہون منت ہوتا ہے۔ پس انقلاب لانے کا کام عموما جواں خون (Young Blood) نے ہی انجام دیا۔ تاریخ و عمرانیات کی شہادت بھی یہی ہے۔ خود حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانے والے جاں نثاروں کی غالب اکثریت بھی ایسے ہی نوجوانوں کی تھی۔ سبحان اللہ۔ قرآن حکیم کا اعجاز ملاحظہ ہو کہ عمرانیات وغیرہ کے نئے علوم صدیوں کی بحث و تمحیص اور تجربات و تحقیقات کے بعد جس نقطہ عروج پر پہنچ سکے ہیں قرآن حکیم نے صدیوں پہلے ہی اس حقیقت کو اس طرح واضح اور آشکارا فرما دیا۔ اور وہ بھی اس قدر اختصار کے ساتھ اور ضمنی طور پر۔ فللہ الحمد رب العلمین۔ بہرکیف دعوت حق کو اس کے ابتدائی مراحل میں جبکہ خطرات ہی خطرات ہوتے ہیں نوجوان نسل ہی نے آگے بڑھ کر قبول کیا۔ اللہ ہمارے جوانوں کو ہمیشہ راہ حق و صواب پر رکھے۔ آمین۔ 140 ۔ کفر و باطل کے سرغنہ راہ حق و ہدایت میں رکاوٹ۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اہل کفر و باطل کے سرداروں اور بڑوں کی مخالفت ہمیشہ راہ حق میں رکاوٹ بنی۔ والعیاذ باللہ۔ اور کفر و باطل کے سرغنوں اور ایسے بڑوں اور سرداروں کا کام بالعموم ہر انقلابی تحریک میں رکاوٹ بننا اور اس کا راستہ روکنا ہوتا ہے اور بس۔ سو ایسے لوگ عموما مصلحت پسند اور راحت طلب لوگ ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ ہر انقلابی تحریک کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کو وہ اپنے آرام و سکون اور دنیاوی فوائد و منافع کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ الا ماشاء اللہ۔ چناچہ ایسے لوگوں نے نوجوانوں اور حق کے علمبرداروں کی قوت کو کچلنے کے لیے ہمیشہ طرح طرح کے مظالم ڈھائے اور آج تک ڈھا رہے ہیں۔ اور آج بھی اس قماش کا برسر اقتدار طبقہ نوجوانوں کو کچلنے اور ان کے جذبہ جہاد کو مٹانے اور ٹھنڈا کرنے کے جگہ جگہ اور طرح طرح سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف طرح طرح کا شیطانی پروپیگنڈا کرتا ہے۔ خذلہم اللہ وقاتلہم وجعل کیدھم فی نحورہم۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ اللہ تعالیٰ مجاہدین حق کی نصرت و امداد فرمائے وہ جہاں کہیں بھی ہوں اور ان کی تائید وتقویت غیبی قوتوں سے فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 141 ۔ فرعون ملک مصر کا ڈکٹیڑ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرعون اس ملک میں تھا بھی سرکش اور زور آور۔ یعنی مصر میں، جہاں کا وہ مطلق العنان حکمران تھا۔ (المحاسن۔ المراغی وغیرہ) ۔ قوت و طاقت کے سب ذرائع و وسائل اسے قبضہ قدرت و اختیار میں تھے۔ کوئی اس کے خلاف آواز اٹھانے کے لائق نہیں تھا۔ بھلا گنجے کو جب ناخن مل جائیں تو اس کے سر کی خیر کس طرح ہوسکتی ہے اور اس کی کھوپڑی کو اس کے ہاتھوں کی دسترس اور اس کے ناخنوں کی چیرہ دستیوں سے آخر کون اور کس طرح بچا سکتا ہے ؟ طاقت وقدرت کے بعد اور ذرائع و وسائل کی موجودگی کے باوجود انسان کو لگام دینے والی اور اس کے ہاتھوں کو ظلم و زیادتی سے روکنے والی چیز ایک ہی ہوسکتی ہے۔ یعنی خوف خداوندی۔ ورنہ وہ نرا ظالم بن کر رہ جاتا ہے۔ کہ اس کے سامنے ظلم و زیادتی اور بربریت روکنے کے لیے کوئی چیز موجود نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ ظلم و جبر اور سفاکی و خونریزی کی راہ ہی کو اپناتا ہے۔ 142 ۔ فرعون حد سے نکلنے والا شخص تھا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ یقینی طور پر حد سے نکلنے والوں میں سے تھا۔ خود طبیعت میں فرعونی تکبر و اسراف اور شیطنت و سرکشی۔ اور پھر مصر جیسے دور کے بڑے ترقی یافتہ ملک کی مطلق العنان حکمرانی اور ڈکٹیڑ شب اور ملکی ذرائع و وسائل پر بلاشرکت غیرے تصرف کے اختیارات وغیرہ۔ سرکشی اور تمردو طغیان کے سب ہی عوامل وہاں موجود تھے۔ تو ایسے میں اس شخص کے کبر و غرور اور اسراف و خرمستی کے کیا کہنے ؟ سو انہی اسباب و عوامل کی بناء پر فرعون حدود عبدیت سے نکل کر خدائی کا دعویدار بن گیا تھا اور اس نے صاف اور صریح طور پر یہ اعلان کردیا تھا (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) کہ میں ہی تم سب کا سب سے بڑا رب ہوں تو ایسے میں اس کے خلاف کوئی آواز اٹھائے تو کس طرح اور کیونکر ؟ اس لیے اس کے دور میں اس کے خوف و رعب اور اس کے مظالم کے ڈر کی وجہ سے کچھ نوجوانوں کے سوا کوئی ایمان لانے کی ہمت و جراءت نہ کرسکا۔ سو جب وہ ظلم کرنے پر آتا تو کسی حد کا پاس ولحاظ اور اس کی پرواہ نہ کرتا اور طرح طرح کے مظالم ڈھاتا۔ اللہ تعالیٰ ہر ظالم اور ہر قسم کے ظلم سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔