10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 10:84

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم لوگ (سچے دل سے) ایمان رکھتے ہو اللہ پر، تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم واقعی فرمانبردار ہو3

143 ۔ ایمان کا تقاضا کہ بھروسہ اللہ ہی پر کیا جائے : سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم لوگ اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تم لوگ واقعی ایماندار اور مسلمان ہو کہ اللہ پر ایمان و یقین اور اس کی فرمانبرداری کا لازمی تقاضا یہی ہے کہ مومن کا توکل اور بھروسہ اللہ وحدہ لاشریک ہی پر ہو۔ مگر آج کا کلمہ گو مشرک ہے کہ ایمان کا دعویدار بھی ہے اور بھروسہ بھی اس نے اللہ کی بجائے اس کی مخلوق میں سے طرح طرح کی بےحقیقت و بےجان چیزوں پر کر رکھا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور اس نے طرح طرح کی فرضی وہمی اور بےحقیقت و بےبنیاد چیزوں اور مردہ ہستیوں میں نفع و نقصان کے اختیارات فرض کر رکھے ہیں جس کی بناء پر وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور اس نے طرح طرح کے من گھڑت ناموں سے جگہ جگہ مختلف " سرکاریں " بنا رکھی ہیں۔ " کانواں والی سرکار " بلیوں والی سرکار " اور " کمبل والی سرکار " وغیرہ وغیرہ۔ ان کا بھروسہ انہی پر ہے اور وہ ان کے لیے طرح طرح کے مراسم عبودیت بجا لاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ شرک و شک کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔ بہرکیف ایمانداری کا تقاضا یہی ہے کہ بھروسہ ہمیشہ اللہ ہی پر ہو۔ وباللہ التوفیق۔
Ayahs 10:85–86

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

اس پر انہوں نے کہا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے، اے ہمارے رب ہمیں فتنہ (اور ذریعہ آزمائش) نہ بنانا ظالم لوگوں کے لئے،

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور ہمیں نجات دے دے اپنی رحمت (و عنایت) سے ان کافر لوگوں (کے ظلم و ستم) سے4

144 ۔ حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سچے ایمانداروں نے اپنے خالق ومالک کے حضور عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہمیں نجات دے دے ان کافر لوگوں کے ظلم و ستم سے کہ نجات دہندہ اور حاجت روا و مشکل کشا ہر کسی کا تو ہی تو ہے اے ہمارے مالک۔ سو قرآن حکیم جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ حاجت روا و مشکل کشا ہر کسی کا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مگر آج کا قبر پرست پھر بھی کہتا ہے اور دھڑلے سے کہتا ہے " بہاؤ الحق بیڑا دھک "۔ " خواجہ اجمیری پار لگا دے کشتی میری "۔ " یا پیر دستگیر "۔ اور " یا علی مدد " وغیرہ وغیرہ۔ اور دعوی اس کے باوجود وہ ایمان و یقین اور توحید و اسلام کا کرتا ہے۔ اس طرح کی شرکیات کے باوجود نہ اس کا ایمان بگڑے اور نہ اس کے اسلام میں کچھ فرق آئے۔ فانا اللہ وانآ الیہ راجعون۔ والی اللہ المشتکی۔ وھو اعلم بما یعملون۔ بہرکیف حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے کہ کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حکم و متصرف وہی وحدہ لاشریک ہے اور ہر چیز اپنے وجود اور اپنے ہر عمل و تاثیر میں اسی کی مشیت اور اس کے حکم و ارشاد کی پابند اور اس کے تابع ہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے ایماندار لوگوں نے کہا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے اس لیے انہوں نے اسی کے حضور عرض کیا کہ ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنانا اور ہمیں اپنی رحمت و عنایت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما کہ نجات دہندہ اور حاجت روا و مشکل کشا سب کا تو ہی ہے اے ہمارے مالک۔ حضرات انبیاء و رسل اور ان کے سچے پیروکار سب اسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف، کہ اپنی قسم کے لئے مصر میں کچھ گھر بنا لو، اور اپنے گھروں کو مسجد قرار دے دو ، اور نماز کی پابندی کرو، اور خوشخبری سنا دو ایمان والوں کو،1

145 ۔ اپنے گھروں کو مسجدیں بنانے کی ہدایت و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے وحی بھیجی موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف کہ اپنی قوم کی لیے مصر میں کچھ گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو مسجد قرار دے دو ۔ کیونکہ اپنے کنیساؤں میں وہ فرعون اور اس کی قوم کے ڈر کی وجہ سے نماز نہیں پڑھ سکتے تھے۔ اس لیے ان کو یہ حکم دیا گیا۔ (ابن کثیر، قرطبی، صفوہ، محاسن، اور جامع البیان وغیرہ) ۔ سو اس سے نماز کی اہمیت اور اس کی تاثیر کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی قوم کو اس کی پابندی اور التزام کا اس طرح حکم دیا جاتا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غلامی کے بندھنوں کو توڑنے اور اس کی زنجیروں کو کاٹنے میں بھی اس عبادت مقدسہ کا خاص اثر ہے اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ اس سے انسان کو حضرت۔ جل مجدہ۔ کی توجہ اور عنایت حاصل ہوتی ہے جو اس کو خاص قوت سے سرفراز کردیتی ہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ مصر کے مختلف حصوں میں کچھ مقام نماز باجماعت کے لیے مخصوص کردیں جن میں بنی اسرائیل مقررہ وقتوں میں نماز کے لیے جمع ہوا کریں اور تم اپنے گھروں کو قبلہ قرار دیکر نماز باجماعت کا اہتمام کرو۔ سو یہ بعینہ اسی طرح کی ہدایت ہے جس کی ہدایت نبی ﷺ کو مکہ کی پر مصائب زندگی میں دی گئی تھی۔ سو صبر و ہدایت اور نماز کے درمیان باہم خاص تعلق اور ربط و ضبط ہے۔ اس لیے ان کے بارے میں خاص اہتمام و انتظام کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ والحمد للہ جل و علا۔ 146 ۔ نماز ایک انقلاب آفرین عبادت : سو ان کو مزید ہدایت فرمائی گئی کہ پابندی کرو نماز کی کہ اپنے خالق ومالک سے قرب اور اس کی نصرت و مدد حاصل کرنے کا سب سے بہتر اور سب سے عمدہ و کارگر ذریعہ نماز ہی ہے۔ اسی لیے امت محمدیہ کو بھی اس کی تلقین وتعلیم فرمائی گئی کہ تم صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ کی مدد حاصل کرو۔ ارشاد ہوتا ہے (اسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ) اور آنحضرت ﷺ کو جب کوئی مشکل پیش آتی تو آپ نماز ہی کی طرف لوٹتے اور رجوع فرماتے تھے۔ سو نماز کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کو بندے کی طرف متوجہ کرنے کی خاص تاثیر ہے۔ اور یہ ایک انقلاب آفرین عبادت ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ نماز قائم کرو ایک ہی قبلے کی طرف متوجہ ہوکر۔ کیونکہ قبلہ اور جہت کا اتحاد و اتفاق دلوں کے اتحاد و اتفاق کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے نماز کے لیے تسویہ صفوف کے بارے میں ارشاد فرمایا " ولا تختلفوا فتختلف قلوبکم " یعنی تم آپس میں اختلاف نہیں کرنا کہ اس کے نتیجے میں تمہارے دلوں کے اندر اختلاف پیدا ہوجائے "۔ والعیاذ باللہ۔ اور ان لوگوں کے اس قبلے کے بارے میں حضرات مفسرین کرام کے درمیان اختلاف واقع ہوا ہے جس کے استقبال اور اس کی طرف متوجہ ہونے کا ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا۔ لیکن یہ بات کسی نص کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتی۔ اور یہاں پر ایسی کوئی نص موجود نہیں۔ (تفسیر المنار، اور تفسیر المراغی وغیرہ) اس لئے اس بارے میں کسی بات سے متعلق قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ 147 ۔ ایمان والوں کے لیے خوشخبری سنانے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا اور صاف وصریح ارشاد فرمایا گیا کہ خوشخبری سنا دو ایمان والوں کو کہ دنیا میں بھی بالآخر کامیابی انہی کو ملے گی اور آخرت میں بھی جنت اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی انہی کو نصیب ہوگی۔ بشرطیکہ وہ دولت ایمان سالم و پختہ میں ہوں۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی کی شاہ کلید ہے اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ اور اس عام بشارت میں عموم بشارت کے علاوہ خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے اہل ایمان کے لیے بشارت ہے کہ انہوں نے جو اللہ پر بھروسہ کرکے اس کے حضور دعا کی تھی کہ ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ و آزمائش نہ بنانا اور ہمیں اپنی رحمت و عنایت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے دے۔ سو ان کے لیے بشارت ہے کہ ان کی یہ دعا قبول فرمائی گئی۔ ان کو ان ظالموں سے نجات بھی دے دی گئی اور ان کے اس سب سے بڑے طاغی اور سرکش دشمن فرعون اور اس کے حواریوں کی ہلاکت اور تباہی کا سامان بھی کردیا گیا جیسا کہ آگے آیت نمبر 92 میں آرہا ہے اور اس خوشخبری کے سنانے کا حکم و ارشاد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا گیا۔ کیونکہ نبوت و رسالت میں اصل وہی تھے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ان کے تابع تھے۔ جن کو ان ہی کی دعا و درخواست پر شرف نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا گیا تھا۔ (محاسن التاویل، فتح القدیر، قرطبی، مراغی اور المنار وغیرہ) سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے۔ اس کے بغیر محرومی ہی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (بڑے ہی دو بھرے انداز میں اپنے رب کے حضور) عرض کیا کہ اے ہمارے رب تو نے جو فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیاوی زندگی میں سامان زیب وزینت اور طرح طرح کے مال و دولت سے نوازا ہے، (تو کیا یہ سب کچھ ان کو اسی لئے دیا ہے کہ) کہ تاکہ یہ لوگ بہکائیں (بھٹکائیں لوگوں کو) تیری راہ سے ؟ اے ہمارے رب، غارت کر دے ان کے مال (دولت) کو، اور ایسا سخت کر دے ان کے دلوں کو کہ یہ ایمان نہ لانے پائیں، یہاں تک کہ یہ دیکھ لیں اس دردناک عذاب کو (جس کے یہ مستحق ہوچکے ہیں)2

148 ۔ کافروں کی دنیاوی ترقی ان کی ہلاکت و تباہی میں اضافے کا باعث۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کافروں کو دنیاوی دولت ملنے سے ان کے کفر اور خسارے ہی میں اضافہ ہوتا ہے کہ ایسے کفر و سرکشی پر اس ظاہری دولت کے ملنے کا انجام بہرحال یہی ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اپنے ساتھ دوسروں کی بھی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ اسی لیے حضرات اہل علم اس لام کو لام عاقبت کہتے ہیں۔ جیسا کہ (فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا) کی آیت کریمہ میں ہے (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) یعنی فرعون اور اس کے سرداروں کو مال و دولت کے ملنے کا نتیجہ و انجام بہرحال یہی ہے کہ یہ اس کے ذریعے اللہ کے راستے سے دوسروں کو بھی بہکاتے بھٹکاتے ہیں اور اس طرح یہ دوہرے جرم اور ڈبل خسارے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو کافروں کو دنیاوی مال و دولت کے ملنے سے ان کے کفر وعناد اور ان کی سرکشی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح ان کا مال و دولت ان کے خسارے ہی میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور اس سے وہ لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم ٹھیک ہیں۔ جب ہی تو ہمیں یہ سب کچھ مل رہا ہے۔ ورنہ اگر ہم غلط ہوتے جیسا کہ اہل ایمان کہتے ہیں تو ہمیں یہ سب کچھ کیوں ملتا وغیرہ وغیرہ۔ سو اس طرح وہ نور حق و ہدایت سے اور دور اور محروم ہوتے جاتے ہیں ان کی دنیاوی ترقی ان کی ہلاکت و تباہی میں اضافے کا ذریعہ اور ان کے لیے عذاب دوزخ کا ذریعہ بنتی رہتی۔ والعیاذ باللہ۔ سو اصل دولت ایمان و یقین ہی کی دولت ہے جس کے بعد ہر حالت میں خیر ہی خیر ہے۔ 149 ۔ کفر و انکار کا نتیجہ و انجام دردناک عذاب۔ والعیاذ باللہ : سو کافروں کا عذاب ان کے اپنے کفر و انکار کا طبعی نتیجہ انجام ہے۔ والعیاذ باللہ۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا ان کے اپنے کفر مسلسل اور ظلم وعدوان پہیم کی بناء پر۔ والعیاذ باللہ۔ واضح رہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا اس وقت فرمائی تھی جبکہ آپ پر ان کا کفر وعناد واضح ہوچکا تھا کہ اب ان لوگوں نے کسی بھی صورت ایمان نہیں لانا۔ اور اب ان کا باقی اور موجود رہنا اللہ کی دھرتی پر ایک ناروا بوجھ اور دوسروں کی تباہی اور ہلاکت کا باعث ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور اس طرح عرض کیا تھا (وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا، اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا) (نوح : 26، 27) اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک زمانے کی محنت اور دعوت و تبلیغ کے بعد جب دیکھا کہ یہ ایمان لانے والے نہیں تو اس وقت آپ نے یہ دعا فرمائی کہ چونکہ ان لوگوں سے اب خیر و برکت اور اصلاح کی کوئی امید اور توقع نہیں اس لیے اب یہ باقی رہنے کے لائق نہیں کہ اب ان کا وجود اس دھرتی پر ایک ناروا بوجھ بن گیا ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کی اس دھرتی کو پاک اور صاف کیا جانا ضروری ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 10:89–90

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

جواب ملا کہ قبول کرلی گئی دعاء تم دونوں کی پس تم دونوں ثابت قدم رہنا اور پیروی نہیں کرنا ان لوگوں کے راستے کی جو علم نہیں رکھتے (حق اور حقیقت کا)3

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور پار کردیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے، پھر پیچھا کیا ان کا، فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم اور زیادتی کی بناء پر، یہاں تک کہ جب آپکڑا اس کو غرقابی نے تو وہ پکارا اٹھا کہ میں ایمان لے آیا اس حقیقت پر کہ کوئی معبود نہیں سوائے اسکے، جس پر ایمان لائے ہیں بنی اسرائیل، اور میں بھی فرمانبرداروں میں سے ہوں،

153 ۔ فرعون کے آخری اور ہولناک انجام کا ذکر : سو فرعون بنی اسرائیل کا پیچھا کرنے کو نکلا اور اس کا نتیجہ و انجام نہایت ہی ہولناک شکل میں اس کے سامنے آیا۔ وہ تو ان کے پیچھے اس لیے نکلا تھا کہ وہ ان کو پکڑ کر تہ تیغ کردے۔ یا ان کو واپس لے جاکر مصر میں غلامی کی زنجیروں میں پھر سے جکڑ دے۔ (المراغی) مگر وہ خود غرق آب ہو کر اپنے آخری انجام کو پہنچ گیا کہ اس کو دی گئی مہلت کی مدت پوری ہوگئی تھی۔ اس لیے اس کا مقدر اس کو خود ہی وہاں کھینچ لایا۔ سو یہ اللہ پاک کی بےآواز لاٹھی کی ضرب کا ایک نمونہ اور مظہر ہے کہ فرعون نکلا تو تھا بنی اسرائیل کو پکڑنے کے لئے لیکن خود غرقاب ہو کر فی النار والسقر ہوگیا۔ اور وہ اپنے اس آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہا جس کا اس کو خیال بھی نہیں تھا۔ سو ایسے ہی ہوتی ہے قدرت کی بےآواز لاٹھی کہ انسان خود چل کر اس کی چوٹ کھانے کو پہنچتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(جواب ملا کہ) تو اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمانی ہی پر کمر بستہ رہا، اور فساد برپا کرنے والوں ہی میں شامل رہا

154 ۔ فرعون کو اس کے دعوائے ایمان کا جواب : سو غرقابی کے اس موقع پر فرعون نے اپنے ایمان کا اعلان کیا لیکن اس کو جواب ملا کہ اب ایمان لاتے ہو جبکہ اس سے پہلے تم کفر ہی کرتے رہے تھے ؟ اور اس کو یہ جواب اللہ پاک کی طرف سے یا جبریل امین کی جانب سے دیا گیا۔ (جامع البیان وغیرہ) سو اس کے بارے میں یہ دونوں ہی احتمال موجود ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ مطلب بہرحال ایک ہی ہے کہ تو اب ایمان لا رہا ہے جبکہ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا موقع ہاتھ سے نکل گیا اور اللہ کے عذاب نے تجھے دبوچ لیا۔ سو یہ وقت ایمان لانے کا نہیں بلکہ اپنے کفر و انکار اور تمردو سرکشی کے بھگتان کے بھگتنے کا ہے۔ سو اس میں اس لعین کی نہایت تذلیل و تحقیر ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ہوسکتا ہے کہ اس سے یہ بات قولا ہی کہی گئی ہو جیسا کہ ظاہر اور متبادر ہے اور جیسا کہ ابھی گزرا۔ لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مقصود صورت حال کی تصویر ہو۔ جو بھی اس کے اس بےوقت کے دعوائے ایمان کو اس کے منہ پر مارا گیا کہ تم اب ایمان لاتے اور اپنے اسلام کا دعوی کرتے ہو جبکہ عذاب نے تم کو آدبوچا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے تم نافرمانی کرتے اور فساد ہی مچاتے رہے ہو۔ سو اب تمہارا یہ دعوی قابل قبول نہیں۔ کیونکہ یہ ایمان، ایمان مشاہدہ ہے نہ کہ ایمان بالغیب جو کہ اصل مطلوب ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 155 ۔ اعتبار صرف ایمان بالغیب کا ہے : یعنی پوری زندگی کفر انکار کے ساتھ گزارنے کے بعد اب مشاہدہ عذاب کے بعد کا تیرا یہ ایمان معتبر نہیں کہ یہ ایمان باس یا ایمان یاس کہلاتا ہے۔ جو کہ معتبر و مقبول نہیں کہ معتبر و مقبول ایمان وہ ہے جو کہ انسان اپنی مرضی و اختیار سے لاتا ہے۔ اور اس کا وقت موت سے پہلے ہے۔ اور جس کو ایمان بالغیب کہا جاتا ہے کہ وہ بن دیکھے حضرات انبیاء و رسل۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ کی دعوت پر لایا جاتا ہے۔ سو وہی ایمان معتبر ہے۔ اسی کی قدر و قیمت ہے اور وہی ایمان انسان کے کام آسکتا ہے دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی کہ دنیا میں اس سے انسان کو حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی نصیب ہوتی ہے جو کہ سعادتوں کی سعادت اور اپنے اندر کئی سعادتیں اور رحمتیں و برکتیں رکھتی ہے۔ اور اسی انسان کو آخرت کے اس جہان نادیدہ میں جنت کی سدا بہار نعیم مقیم سے سرفرازی نصیب ہوگی جبکہ ایمان بالمشاہدہ نہ مفید ہے اور نہ مطلوب و معتبر۔ کہ اس پر نہ ثواب و عقاب کا ترتب ہوسکتا ہے اور نہ انسان ان انعامات کا مستحق ہوسکتا ہے، جو ایمان بالغیب کی بناء پر اہل ایمان کو ملتے ہیں، پس اصل چیز ایمان بالغیب ہی ہے۔
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

پس اب تو ہم تیری لاش ہی کو بچائیں گے، تاکہ تو نشان عبرت بن جائے اپنے پیچھے آنے والوں کے لئے، اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہماری آیتوں سے بالکل غافل ہیں،1

156 ۔ فرعون کی لاش کی حفاظت نشان عبرت کے طور پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اب ہم تیری لاش کو ہی بچا لیں گے تاکہ تو نشان عبرت بن جائے اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے کہ یہ ہے انجام اس شخص کا جو کہ (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) کا دعویدار تھا تاکہ اس طرح ایک طرف تو بنی اسرائیل کو اس کی موت کا یقین ہوجائے جو کہ صدیوں سے اس کی غلامی میں جکڑے ہوئے طرح طرح سے اس کے ظلم و ستم سہہ رہے تھے کہ ان کو ایسے جابر و ظالم کے مرنے کا یقین ہی نہیں آرہا تھا (ابن کثیر وغیرہ) اور دوسری طرف خود اس کی اپنی قوم قبط کی آنکھیں بھی کھل جائیں کہ جس کی وہ پوجا کر رہے تھے اس کا آخری انجام یہ ہے۔ اسی لیے حضرات علمائے کرام فرماتے ہیں کہ (نجینا) یہاں پر " نجوہ " سے ماخوذ و مشتق ہے۔ جس کے معنی بلند جگہ کے آتے ہیں۔ یعنی اس کی لاش کو اس کی موت کے بعد ہم نے سمندر کے کنارے ایک اونچی جگہ پر ڈال دیا تاکہ وہ دیکھنے والوں کے لئے نشان عبرت بن جائے۔ چناچہ وہ جگہ جزیرہ نمائے سینا کے مغربی ساحل پر آج تک موجود اور معروف ہے جہاں فرعون کی لاش پڑی ہوئی پائی گئی تھی۔ اس کو موجودہ زمانے میں جبل فرعون کہا جاتا ہے۔ اس کے نزدیک گرم پانی کا ایک چشمہ بھی موجود ہے جس کو مقامی آبادی نے حمام فرعون کے نام سے موسوم کر رکھا ہے اور علاقے کے باشندے اسی جگہ کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فرعون کی لاش یہیں پڑی ہوئی ملی تھی۔ سو اگر یہ ڈوبنے والا وہی فرعون ہے جس کا نام تاریخی روایات اور اثریات میں منفتہ ذکر کیا گیا ہے تو اس کی لاش آج تک قاہرہ کے میوزیم میں موجود ہے جس کو حنوط کے ذریعے محفوظ کرلیا گیا تھا۔ 1907 ء میں حفریات اور آثار قدیمہ کے ایک ماہر مسڑ ایسٹ سمتھ نے جب اس کی ممی پر سے پٹیاں کھولیں تو اس کی لاش پر نمک کی ایک تہہ جمی ہوئی پائی گئی تھی جو کہ اس کے کھارے پانی میں غرق ہونے کی ایک کھلی علامت تھی۔ اور حسن اتفاق یہ ہے کہ اس وقت جبکہ راقم آثم دبی میں بیٹھا یہ سطور تحریر کر رہا ہے فرعون کی وہ لاش اس وقت دبی میں موجود ہے جہاں اس پر اس کو سالانہ تجارتی میلہ (المہرجان السنوی للتسوق 97 ء) (Anual Trading Festive l-97) میں مصری بازار میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے اور اس کو دیکھنے کے لیے پانچ درہم کا ٹکٹ بھی لگایا گیا ہے۔ اور یہ تحریر جو اس وقت راقم آثم کے قلم سے ہو رہی ہے 26 اپریل 1997 ء کی تحریر ہے۔ سو دنیا پانچ درہم کا ٹکٹ خرید کر اس کو دیکھ تو رہی ہے لیکن یہ نہیں سوچتی کہ یہ شخص اس انجام کو کیوں پہنچا اور اس میں دنیا والوں کے لیے کیا درس عبرت و بصیرت ہے۔ الا ماشاء اللہ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف فرعون کی غرقابی کے بعد اس کی لاش کو محفوظ رکھ دیا گیا تاکہ وہ دیکھنے والوں کے لیے عبرت بن سکے۔ اور دنیا دیکھ سکے کہ اپنی خدائی کا دعویدار کس انجام سے دوچار ہوا ؟ 157 ۔ اکثر غافل و لاپرواہ۔ والعیاذ باللہ۔ جل و علا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ہماری آیتوں سے بالکل غافل ہیں۔ اس لیے وہ ان نشانیوں سے کوئی سبق نہیں لیتے۔ سو غفلت و لاپرواہی بیماریوں کی بیماری اور خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ۔ پس غفلت کے مارے ایسے لوگ نہ تو ان میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور نہ ان سے عبرت پکڑتے ہیں۔ سو غفلت و لاپرواہی بیماریوں کی بیماری اور فساد کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ۔ لیکن افسوس آج امت مسلمہ کی بھاری اکثریت اسی مرض میں مبتلا اور اسی بیماری کا شکار ہے۔ اور وہ غور و فکر کے اس گوہر مقصود سے غافل و بےفکر ہو کر بطن و فرج کی خواہشات کی تکمیل کے لیے جی رہی ہے اور بس۔ الا ماشاء اللہ العزیز۔ ورنہ اگر یہ لوگ ہماری ان نشانیوں میں غور و فکر سے کام لیتے تو ان کو عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ملتے۔ ان کی آنکھیں کھل جاتیں اور ان کے دل و دماغ روشن ہوجاتے۔ مگر غفلت و لاپرواہی نے ان کا ایسا بیڑا غرق کردیا ہے کہ یہ اندھے کے اندھے ہی رہے۔ سو اسی طرح فرعون کی لاش کو ہم نے نشانی عبرت کے طور پر باقی رکھا جو آج تک کے فرعونوں کی آنکھوں کے سامنے موجود ہے مگر اس کو دیکھنے کے لیے جن عبرت پذیر نگاہوں کی ضرورت ہے وہ آج بھی کم یاب بلکہ نایاب ہیں۔ الا ماشاء اللہ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید جل وعلا۔
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل کو بہت عمدہ ٹھکانا دیا اور انھیں طرح طرح کی پاکیزہ چیزیں عطا کیں، پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچ گیا علم (حق اور حقیقت کا) یقیناً تمہارا رب (قطعی اور عملی طور پر) فیصلہ فرما دے گا ان کے درمیان ان تمام باتوں کا جن میں یہ لوگ اختلاف کرتے رہے تھے،2

158 ۔ بنی اسرائیل کے لیے عمدہ ٹھکانے کی فراہمی : سو ارشاد فرمایا گیا اور بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل کو بہت عمدہ ٹھکانہ دیا۔ یعنی بلاد شام و فلسطین میں جو کہ نبیوں، پیغمبروں کی سر زمین ہے۔ اور جیسے قرآن حکیم میں ارض مقدس اور ارض مبارکہ فرمایا گیا ہے۔ جو کہ اپنی ظاہری و باطنی اور حسی و معنوی خیرات و برکات کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے اور جس کو شہد اور دودھ کی سر زمین " ارض العسل والحلیب " کہا جاتا ہے جبکہ بعض حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ اس سے مراد ارض شام و مصر ہے کہ فرعون کی غرقابی کے بعد ارض مصر بھی ان حضرات کی زیر نگین آگئی تھی۔ (المراغی وغیرہ) ۔ والعلم عنداللہ تعالیٰ ۔ سو اس میں بنی اسرائیل پر کیے گئے ایک عظیم الشان انعام و احسان کا ذکر ہے کہ صدیوں تک غلامی کی زنجیروں میں بندھی جکڑی اور ظلم و زیادتی کی چکی میں پسنے والی اس قوم کو ہم نے آزادی کی نعمت سے سرشار کرکے ایسی سرزمین کا وارث بنایا لیکن اس ناشکری قوم نے کفران نعمت ہی سے کام لیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ کفران نعمت کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 159 ۔ بنی اسرائیل کے لیے پاکیزہ چیزوں سے روزی کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کے لیے عمدہ روزی کا انتظام کیا اور ان کو طرح طرح کی پاکیزہ چیزیں عطا کیں۔ چناچہ وادی تیہ میں ان کے لیے آسمان سے من وسلوی اتارا۔ لق و دق صحرا میں ان کے لیے پانی کے چشمے جاری کردئیے۔ وہاں کی چلچلاتی دھوپ میں ان پر بادلوں کے سائے کردیئے اور اس کے بعد ارض فلسطین میں جس کو ان کی کتابوں میں " دودھ اور شہد کی سرزمین " کہا گیا ہے اس میں ان کو ٹھکانا دیا۔ ان کے لیے طرح طرح کے غلے پیدا کئے اور پیداواریں اگائیں اور ان کی خشکی و تری کی قسما قسم کی نعمتوں سے نوازا مگر اس ناشکری قوم کے اطوار پھر بھی درست نہ ہوئے بلکہ یہ لوگ ٹیڑھے کے ٹیڑھے ہی رہے جس کا خمیازہ انہیں دنیاوی ذلت و خواری اور اخروی عذاب کی شکل میں بھگتنا پڑا۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے کفران نعمت کا۔ اور اس طرح وہ نعمتیں نقمت اور وبال بن جاتی ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو شکر نعمت باعث خیر و برکت اور سرفرازی مزید کا ذریعہ و وسیلہ ہے جبکہ کفران نعمت موجب ہلاکت و خسران۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ شکر نعمت کی توفیق بخشے اور کفران نعمت کے ہر شائبے سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 160 ۔ بنی اسرائیل کا اختلاف نور علم سے سرفرازی کے بعد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ پہنچ گیا ان کے پاس علم، یعنی علم وحی کہ علم درحقیقت وہی ہے جو وحی کے ذریعے میسر آئے۔ پس اس عظیم الشان روشنی سے مشرف و سرفراز ہونے کے بعد اصلاح پانے کی بجائے یہ لوگ اور بگڑ گئے۔ سو یہی حال ہوتا ہے ان بدبختوں کا جن کی نیتیں بری، ارادے فاسد اور مزاج خراب ہوچکے ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس ان کا اختلاف جہالت اور لاعلمی کی بناء پر نہیں تھا بلکہ دیدہ و دانستہ اور نور علم کے آجانے کے بعد ہے۔ اور یہ جانتے بوجھتے حق کی مخالفت کرتے ہیں جس سے ان کا جرم اور بھی سنگین ہوجاتا ہے۔ سو یہ وہ بدبخت قوم ہے جس نے رات کے اندھیرے میں نہیں دن کے اجالے میں ٹھوکر کھائی۔ اور گہرے کھڈے کو دیکھنے کے باوجود اس میں چھلانگ لگائی، جس سے ان کا جرم ڈبل اور مزید سنگین ہوجاتا ہے۔ اس لیے ان کے انجام بد کی ذمہ داری خود انہی کے کندھوں پر ہے۔ اور اس کا خمیازہ ان کو بھگتنا ہوگا۔ 161 ۔ اصل اور آخری فیصلہ قیامت ہی کے روز : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے روز تمہارا رب ان کے درمیان فیصلہ فرمادے گا۔ یعنی عملی اور آخری طور پر کہ اس روز وہ اہل حق کو جزا خیر سے نوازے گا اور اہل باطل کو جزا شر سے۔ ورنہ علمی طور پر فیصلہ تو ہدایت وحی کے ذریعے اسی دنیا میں فرما دیا گیا لیکن عملی اور آخری طور پر ان کا فیصلہ آخرت کے اس یوم حساب ہی میں ہوگا جو کہ فیصلے کا دن ہوگا اور جس میں ہر کسی کو اپنی زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پورا صلہ اور بدلہ پانا ہوگا تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی اصلی اور آخری شکل میں پورے ہوسکیں۔ اور اس کائنات کے مقصد تخلیق کی تکمیل ہوسکے۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست و بود عبث اور بےمقصد قرار پائے گا جو کہ اس کے خالق حکیم کی حکمت بےپایاں کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ کے دین کے بارے میں ان لوگوں نے جو دھاندلی مچائی ہے اور کتاب الہی کی جن حقیقتوں پر انہوں نے پردہ ڈالا ہے ان سب باتوں اور تمام اختلافات کا آخری اور عملی فیصلہ قیامت کے اس یوم فصل وتمیز میں ہوگا جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے مقرر فرما رکھا ہے جس روز ان کا سب کچا چٹھا ان کے سامنے آجائے گا۔ اس روز ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا پھل پائے گا اور ہر کوئی اپنے جرم و قصور کے مطابق اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہے گا۔ اس دنیا میں آخری فیصلہ نہ ہوگا نہ ہونا ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دن کی رسوائی سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 10:94

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

سو اگر آپ کو کوئی شک (وشبہ) ہو اس (وحی و کتاب) کے بارے میں جس کو ہم نے اتارا ہے آپ کی طرف، تو آپ پوچھ لیں ان لوگوں سے جو کتاب پڑھتے ہیں آپ سے پہلے بلاشبہ آچکا آپ کے پاس حق آپ کے رب کی طرف سے، پس آپ کبھی شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا،

162 ۔ خطاب پیغمبر سے اور عتاب مکذبین پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ کو اے پیغمبر اس وحی و کتاب کے بارے میں کوئی شک و شبہ ہو جس کو ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ دیکھیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں۔ سو اس ارشاد میں خطاب اگرچہ بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے اور یہ بلاغت کا ایک خاص اسلوب ہے کہ خطاب کسی سے ہو اور سنانا کسی اور کو مطلوب ہو۔ پس یہاں پر خطاب اگرچہ بظاہر حضرت رسالت مآب ﷺ سے ہے کہ وحی کے اولین اور اصل مخاطب تو بہرحال آپ ﷺ ہی ہیں مگر سنانا درحقیقت دوسروں کو ہے۔ اور یہ بلاغت کا ایک خاص اور مشہور و معروف اسلوب ہے اور اس طرز خطاب اور اسلوب بیان میں جو قوت اور زور ہے وہ اس کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ ورنہ آنحضرت ﷺ کو کوئی شک تھا ہی نہیں۔ چناچہ حضرت قتادہ ؓ اور ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ اس آیت کریمہ کے نزول پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے نہ تو لمحہ بھر کے لیے کبھی کوئی شک کیا ہے اور نہ ہی میں کسی سے پوچھتا ہوں۔ (جامع البیان، روح، القرطبی، المراغی، المحاسن، وغیرہ) سو یہ اسلوب ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے سے کہے کہ " اگر تم میرے بیٹے ہو تو بہادر بنو "۔ ان انت ابنی فکن شجاعا " یا جیسے کوئی کہے کہ " اگر پانچ کا عدد جفت ہے تو دو مساوی حصوں پر تقسیم ہوجائے گا۔ " ان کانت الخمسۃ زوجا فینقسم بین اثنین " سو اس انداز میں بات بطور فرض کہی جاتی ہے جس سے معنی کے اندر ایک خاص زور اور قوت پیدا ہوجاتی ہے جیسا کہ ظاہر اور واضح ہے۔ ورنہ ایسا کہنے والے شخص کو نہ تو اپنے بیٹے کے بیٹا ہونے میں کوئی شک ہوتا ہے اور نہ پانچ کے طاق ہونے میں کسی طرح کا کوئی شک ہوسکتا ہے۔ سو یہ خاص انداز و زور بیان و بلاغت کلام کا ایک مشہور و معروف اسلوب ہے۔
Ayah 10:95

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ہی ان لوگوں میں سے ہونا جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو، کہ اس کے نتیجے میں آپ ہوجائیں خسارہ اٹھانے والوں میں سے،

163 ۔ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کا انجام ہولناک خسارہ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا پس تم کبھی ان لوگوں میں سے نہیں ہونا جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو کہ اس کے نتیجے میں تم خسارے میں پڑجاؤ کہ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کا نتیجہ ہولناک خسارہ ہے۔ جس طرح کہ وہ لوگ ایمان کی دولت سے محروم ہو کر دنیا و آخرت دونوں کی سعادت اور فوز و فلاح سے محروم ہوگئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں بھی وہی اوپر والا اسلوب بیان اختیار فرمایا گیا ہے کہ خطاب پیغمبر سے ہے لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے۔ یعنی مشرکین مکہ کو۔ اور اس میں دراصل ان کے اس طمع اور لالچ کو ختم کرنا ہے کہ پیغمبر بھی ہماری بات مان سکتے ہیں۔ سو اس اسلوب بیان سے ان کو یہ بتادیا گیا ہے کہ ایسے کبھی نہیں ہوسکتا کہ اس میں دارین کا خسارہ و نقصان ہے جس کو پیغمبر معصوم کبھی نہیں اختیار کرسکتے (قرطبی، بیضاوی وغیرہ) بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اور نہ ہی آپ ان لوگوں میں سے ہوجانا جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا کہ اس کے نتیجے میں تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (المنار، المراغی، الفتح اور القرطبی وغیرہ) سو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کا نتیجہ انجام نہایت ہولناک خسارہ ہے جس کی سزا ایسے لوگوں کو بھگتنا ہوگی اور نہایت سخت انداز میں بھگتنا ہوگی، تب ان کو اس کی سنگینی کا علم اور احساس ہوگا اور اس وقت ان کی آنکھیں کھل سکیں گی۔
Ayah 10:96

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں پر پکی ہوگئی بات آپ کے رب کی، وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے

164 ۔ عناد و ہٹ دھرمی کا نتیجہ و انجام دائمی محرومی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں پر آپ کے رب کی بات پکی ہوگئی وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ پس ایسے محروم القسمت لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ صدمے میں نہ پڑیں کہ انہوں نے اپنے خبث باطن اور سوء اختیار کی بناء پر اپنے آپ کو خود اس شرف کی اہلیت اور صلاحیت سے محروم کردیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس ایسوں سے ایمان کی توقع ہی نہیں رکھنی چاہیے کہ انہوں نے ایمان لانا ہی نہیں۔ تاکہ اس قطع طمع کے بعد آپ کو پریشانی نہ ہو۔ سو اس ارشاد ربانی میں اس سنت الہی کا حوالہ ہے جو اللہ پاک کی اس کائنات میں کارفرما ہے کہ جو لوگ عناد اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں وہ شدہ شدہ ایمان باللہ اور قبول حق کی اہلیت و صلاحیت ہی سے محروم ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں ان پر مہر جباریت لگ جاتی ہے اور وہ ہمیشہ کے خسارے اور محرومی میں مبتلا ہو کر رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (المنار، الفتح اور المراغی وغیرہ) اللہ تعالیٰ ہمیشہ عناد و ہٹ دھرمی سے بچا کر انابت و رجوع کی سعادت سے نوازے۔ اور شیاطین جن و انس کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 10:97

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

اگرچہ ان کے پاس آجائے ہر نشانی یہاں تک کہ وہ دیکھ لیں اس بڑے دردناک عذاب کو

165 ۔ ہٹ دھرموں نے کبھی ایمان نہیں لانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ہٹ دھرم لوگ کبھی ایمان نہیں لائیں گے اگرچہ ان کے پاس ہر نشانی بھی آجائے کہ ضد اور ہٹ دھرمی کا لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کے دلوں پر ایسی مہر لگ جاتی ہے کہ وہ حق اور ہدایت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو بات صرف معجزہ اور نشانی کی نہیں بلکہ اصل مدار طلب صادق اور آمادگی قبولیت پر ہے۔ اس کے بغیر اگر وہ ہر نشانی دیکھ لیں تو کبھی انہوں نے ایمان نہیں لانا۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومی کی جڑ اور بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو انسان کے بناؤ بگاڑ اور اس کی صحت و فساد کا اصل دارومدار اس کے اپنے قلب و باطن پر ہے۔ اگر اس کی نیت درست اور ارادہ صحیح ہو اور اس کے اندر طلب صادق کا جذبہ پایا جاتا ہو تو اس کے لیے حضرت واہب مطلق۔ جل شانہ۔ کی طرف سے عنایات ہی عنایات اور نوازشیں ہی نوازشیں ہیں۔ لیکن اس کے برعکس اگر وہ عناد اور ہٹ دھرمی سے کام لے تو پھر اس کے لیے محرومی کے سوا کچھ نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین۔ 166 ۔ اعتبار ایمان بالغیب کا ہے نہ کہ ایمان بالشہود و المشاہدہ کا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ دیکھ لیں اس دردناک عذاب کو جس کے یہ مستحق ہوچکے ہیں سو اس وقت ایسے لوگ ایمان تو لائیں گے اور چیخ چیخ کر اپنے ایمان لانے کا اعلان کریں گے مگر اس وقت کا ان کا وہ ایمان معتبر نہیں ہوگا کہ اضطرار اور مجبوری کا ایمان معتبر نہیں ہوتا کہ وہ ایمان بالمشاہدہ ہوتا ہے۔ جبکہ معتبر اور مطلوب وہ اختیاری ایمان ہے جو کہ بالغیب اور بن دیکھے ہو۔ جس کو ایمان بالغیب کہا جاتا ہے اور جو حضرات انبیائے کرام کی دعوت و تبلیغ کے مطابق لایا جاتا ہے۔ سو اس میں بھی اصل میں ہٹ دھرموں کی ضد وعناد اور ان کی ہٹ دھرمی کے نتیجہ و انجام کو بیان فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اب بہرحال ایمان نہیں لانا۔ یہاں تک کہ یہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس وقت یہ لوگ ایمان لائیں گے اور چیخ چیخ کر ایمان لائیں گے مگر اس وقت کے اس ایمان کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہ وہ مجبوری اور اضطرار کا ایمان ہوگا جو کہ نہ مطلوب ہے اور نہ ہی مفید۔ (وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ ) یعنی ان کے لیے اس دولت کو پانا کس طرح ممکن ہے اتنی دور جگہ سے ؟ پس اصل مطلوب و مفید وہ ایمان بالغیب ہے جو بن دیکھے اور اپنے ارادہ و اختیار سے ہو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

سو کیوں نہ ہوئی کوئی ایسی بستی جو ایمان لاتی پھر اس کو اس کا ایمان فائدہ دیتا، سوائے قوم یونس کے، کہ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ٹال دیا ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں، اور ان کو فائدہ اٹھانے دیا متاع دنیا سے ایک خاص وقت تک1

167 ۔ قوم یونس کے استثنائی قصے کا ذکر وبیان : سو قوم یونس کی اس استثنائی صورت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جب وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے ٹال دیا ذلت و رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں اور ان کو متاع دنیا سے فائدہ اٹھانے دیا ایک خاص وقت تک کہ اس قوم کا ایمان دراصل عذاب آنے کے بعد نہیں بلکہ اس کی علامتوں اور نشانیوں کے ظہور کے فوری بعد کا تھا۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ ان لوگوں کی مسلسل تکذیب کے بعد جب یونس (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ تم پر اتنی مدت کے بعد عذاب آنے والا ہے اور اس کے بعد آپ ان لوگوں کے درمیان سے نکل گئے جس سے ان کے دلوں میں واقعۃ خوف پیدا ہوگیا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کا ہمارے درمیان سے نکل جانا فی الواقع اس کی علامت ہے کہ اب وہ عذاب آیا ہی چاہتا ہے۔ اور عذاب کی کچھ نشانیاں بھی ظاہر ہونے لگیں تو وہ سب فورا باہر نکل کھڑے ہوئے۔ اپنے چھوٹے معصوم بچوں اور جانوروں سمیت اپنے گھروں سے نکل کر باہر کھلے میدان میں پہنچ گئے۔ انہوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے اور نہایت عجز و انکسار کے ساتھ توبہ کرنے میں مصروف ہوگئے۔ یہاں تک کہ ان کے صدق و اخلاص اور تضرع و الحاح کی بناء پر خدائے رحیم و کریم کی رحمت شاملہ اور عنایت کاملہ نے ان کو اپنی آغوش میں لے لیا اور وہ عذاب ان سے ٹل گیا جو کہ ان پر سایہ فگن ہوچکا تھا۔ اور اس کے منڈلاتے بادل ان کے سروں سے چھٹ گئے۔ سو ہلاک شدہ قوموں میں کوئی دوسری قوم اس طرح کی نہ ہوئی جو اس طرح صدق دل سے توبہ اور رجوع الی اللہ کے شرف سے مشرف ہوتی تاکہ اس طرح وہ اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے بچ جاتی۔ سوائے قوم یونس کے۔ (طبری، قرطبی، مراغی، محاسن، اور معارف وغیرہ وغیرہ) سو تاریخ کے اس حوالے سے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان کی قومیں عذاب دیکھنے سے پہلے ایمان نہ لائیں۔ اس لیے ان کے اس مجبوری اور اضطراری ایمان سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ سوائے قوم یونس کے کہ وہ لوگ عذاب کے ظہور سے پہلے ایمان لے آئے تو اس عذاب سے محفوظ رہ گئے جس کے ظہور میں اب زیادہ دیر باقی نہیں رہ گئی تھی۔ سو ایسے وقت کی توبہ قبول ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں آنے والا عذاب ٹل جاتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہر قسم کے عذاب سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 10:99

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر تمہارا رب چاہتا تو جتنے بھی لوگ روئے زمین پر آباد ہیں وہ سب کے سب ایمان لے آتے ایک ساتھ، تو کیا آپ مجبور کریں گے لوگوں کو کہ وہ مسلمان ہوجائیں ؟2

168 ۔ جبری ایمان نہ مطلوب ہے نہ مفید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تمہارا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ ایمان لے آتے۔ سو اگر سب کو بالجبر مسلمان بنانا مقصود ہوتا تو یہ کام اس قادر مطلق کے لیے کچھ مشکل نہ تھا بلکہ اس کے لیے محض ایک اشارہ ہی کافی تھا۔ اور اس کے لیے محض ارادہ خداوندی کی دیر تھی۔ مگر ایسا ایمان تو مطلوب و مقصود ہی نہیں۔ بلکہ مقصود و مطلوب تو وہ ایمان ہے جو انسان کی اپنی مرضی و اختیار سے ہو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ (اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ ) (الشعراء :4) یعنی " اگر ہم ایسا ایمان چاہتے تو اس کے لیے آسمان سے ایک نشانی اتار دیتے جس کے آگے ان سب کی گردنیں بلا اختیار جھک جاتیں " لیکن ایسا جبری ایمان تو سرے سے مطلوب ہی نہیں۔ سو جب اس قادر مطلق کے حکم و ارشاد اور اس کی مشیت و ارادہ سے آسمان و زمین اور سورج و چاند کے یہ عظیم کرے بلا کسی چون و چرا کے لگاتار مصروف سفر اور محو گردش ہیں۔ اور لمحہ بھر کے لیے آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ تو پھر چند فٹ کے اس انسان کی کیا مجال تھی کہ یہ اس کے حکم و ارشاد سے ذرہ برابر کوئی سرتابی کرسکتا ؟ لیکن ایسا جبری ایمان تو سرے سے مطلوب ہی نہیں۔ ورنہ پھر ثواب و عقاب کے کیا معنی ہوتے اور جنت و دوزخ کا استحقاق کس بناء پر ہوتا ؟ مطلوب و مفید وہ ایمان بالغیب ہے جو انسان اپنے ارادہ و اختیار سے لائے اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضاء کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 169 ۔ پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا تو کیا آپ لوگوں کو مجبور کریں گے کہ وہ سب ایمان لے آئیں ؟ اپنی انتہائی درجے کی ہمدردی اور غایت حرص کی بناء پر۔ اور استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی آپ ایسا نہ کریں کہ یہ آپ کی ذمہ داری نہیں۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا گیا (لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ) (البقرۃ نمبر 272) بلکہ آپ کا اصل کام ہے پیغام حق پہنچا دینا اور بس۔ اور وہ آپ نے پہنچا دیا۔ بس آپ کا فرض پورا ہوگیا۔ باقی آگے ان سے نمٹنا اور حساب لینا سو وہ ہمارا کام ہے۔ ان علیک الا البلاغ وعلینا الحساب۔ سو اس ارشاد میں ایک طرف تو پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ آپ کا کام منوانا نہیں بلکہ کلمہ حق کی تبلیغ اور تعلیم و تلقین ہے اور بس۔ اور وہ آپ کرچکے۔ اب آپ کا ذمہ فارغ۔ دوسری طرف اس میں منکرین و مکذبین کے لیے تنبیہ و تہدید ہے کہ اب آگے خدا کے یہاں پرسش خود تمہاری ہونی ہے اور اپنے کیے کرائے کے ذمہ دار تم خود ہو۔ اب تم لوگ اپنے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لو کہ تم کہاں کھڑے ہو اور کس نتیجہ و انجام کے مستحق ہو ؟ اور اپنی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ فرصت عمل تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:100

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

اور کسی شخص کے بس میں نہیں کہ وہ ایمان لے آئے مگر ان کے اذن سے، اور اللہ ڈال دیتا ہے گندگی (کفر و شرک اور الحادو بےدینی کی) ان لوگوں پر جو عقل سے کام نہیں لیتے3

170 ۔ گمراہ لوگوں کی گمراہی کی ذمہ داری خود انہی پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ گندگی ڈال دیتا ہے ان لوگوں پر جو عقل سے کام نہیں لیتے اور وہ صحیح طور پر سوچ و بچار نہیں کرتے جس سے وہ نور حق و ہدایت سے اور بھی دور اور محروم ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اندھے اور اوندھے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ سو گمراہوں کی گمراہی کی ذمہ داری خود انہی پر ہوتی ہے۔ سو اس سے غور و فکر کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ پس جو لوگ اپنی عقل سے صحیح کام نہیں لیتے وہ بڑے خسارے میں ہیں کہ وہ اللہ پاک کے قائم فرمودہ دلائل وبراہین میں غور و فکر نہیں کرتے تاکہ نور حق و ہدایت سے بہرہ ور و سرشار ہوسکیں۔ انہوں نے اس کے برعکس نور عقل کو مادہ اور معدہ کی خدمت اور بطن و فرج کی ملذات کی تکمیل میں لگا کر اس کی اصل اہمیت و افادیت کو ختم کردیا اور یہ اندھے بہرے بن گئے۔ اور اس طرح یہ لوگ ایک بڑے ہی سنگین اور ہولناک خسارے میں مبتلا ہوگئے جس کی پھر تلافی وتدارک بھی ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایمان لانے والوں اور نہ لانے والوں کے بارے میں قدرت کی طرف سے مقرر سنت الہی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ جو بھی ایمان لاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے اذن ہی سے لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اذن و توفیق سے سرفرازی انہی کو نصیب ہوتی ہے جو عقل و فکر سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں۔ اور جو لوگ عقل و فکر سے کام نہیں لیتے ان پر ان کے اعمال کی نحوست و نجاست مسلط ہوجاتی ہے جس سے وہ اندھے ہو کر رہ جاتے ہیں اور حیوانوں کی طرح اپنی خواہشات نفس کے پیچھے ہی بھٹکتے رہتے ہیں اور ایسے لوگ حق و ہدایت کے نور سے محروم رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

ان سے کہو کہ ذرا دیکھو تم لوگ کہ کیا کچھ (سامان عبرت و بصیرت) ہے آسمانوں اور زمین میں ؟ مگر نشانیاں اور تنبیہات ان لوگوں کے کچھ کام نہیں آسکتیں جو ایمان لانا چاہتے ہی نہیں،

171 ۔ کائنات میں غور و فکر کی دعوت : سو اس ارشاد سے آسمانوں اور زمین میں موجود سامان عبرت میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ دیکھو ان میں کیا کچھ ایسے عجائب قدرت اور دلائل حکمت موجود ہیں، جو کہ دامن دل کو کھینچتے اور دعوت غور و فکر دیتے ہیں اور اپنے خالق ومالک کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور وحدانیت مطلقہ کی طرح طرح سے عکاسی کرتے ہیں۔ یہیں سے علامہ سیوطی وغیرہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کی مخلوق میں غور و فکر سے کام لینا واجب ہے (محاسن التاویل وغیرہ) مگر افسوس کہ انسان کائنات کی ان عظیم الشان نعمتوں سے طرح طرح سے مستفید ہونے کے باوجود اپنے خالق ومالک کا ناشکرا اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہے۔ اور ان میں صحیح طور سے غور و فکر نہیں کرتا۔ الا ماشاء اللہ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ بہرکیف اس سے اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی یہ عظیم الشان کائنات نشانیوں اور معجزات سے بھری پڑی ہے مگر ضرورت اس میں غور و فکر کی ہے۔ اور غور و فکر بھی صحیح زاویہ نگاہ سے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ 172 ۔ ہٹ دھرموں کے لیے تنبیہات اور نشانیاں بےسود و بےکار۔ والعیاذ باللہ : اس لیے ضدی اور ہٹ دھرم لوگ دولت ایمان و یقین سے محروم رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ نشانیاں اور تنبیہات ان لوگوں کے کچھ کام نہیں آسکتیں جو ایمان لانا چاہتے ہی نہیں۔ اس لئے کہ ایسے لوگ ان تنبیہات کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور ان سے کام لینا چاہتے ہی نہیں۔ اور طلب و جستجو کے بغیر ان سے فائدہ ملنے کا سوال ہی نہیں۔ جیسا کہ فرمایا گیا (اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ ) یعنی نہیں ایسا نہیں ہونے کا کہ تمہاری خواہش اور چاہت کے بغیر حق اور ہدایت کی دولت کو تم سے یونہی چپکا دیا جائے۔ اس دولت بےمثال سے تو صرف ان اور ایسے ہی لوگوں کو نوازا اور سرفراز کیا جاتا ہے جو اس کے لیے طلب صادق رکھتے ہیں اور جو طلب صادق سے محروم ہوتے ہیں وہ نور ایمان و یقین سے سرفراز نہیں ہوسکتے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر جو ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں وہ کس طرح سرفراز ہوسکتے ہیں ؟ سو ضدی اور ہٹ دھرم لوگ نور حق و ہدایت سے محروم ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (یؤمنون) کا فعل یہاں پر ارادہ فعل کے معنی میں ہے۔ یعنی جو لوگ ایمان لانا چاہتے ہی نہیں ان کو زمین و آسمان میں پھیلی بکھری ان نشانیوں اور ایسی تنبیہات سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ اور وہ اپنے ٹیڑھے پن ہی پر اڑے رہیں گے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayah 10:102

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

تو کیا اب یہ لوگ ان لوگوں کے برے دنوں جیسے دنوں کی انتظار میں ہیں ؟ جو گزر چکے ان سے پہلے ؟ ان سے کہو کہ اچھا تو پھر تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

173 ۔ ہٹ دھرموں کی حرماں نصیبی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اب یہ لوگ انہی لوگوں کے برے دنوں جیسے دنوں کے منتظر ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ یعنی کیا اب یہ لوگ اپنے آخری انجام ہی کے منتظر ہیں ؟ یعنی ان عذابوں کے ا نتظار میں ہیں۔ جو ان لوگوں پر واقع ہوئے اور " ایام " بول کر عذاب مراد لینا عربوں کا عام طریقہ اور ان کے معروف اسالیب کلام میں سے ہے۔ من قبیل اطلاق الظرف و ارادہ المظروف۔ اور ظرف بول کر مظروف مراد لینا ایک عام اسلوب و محاورہ ہے جو کہ ہر زندہ اور مروج زبان و محاورہ میں پایا جاتا ہے۔ چناچہ ہمارے یہاں بھی ظہر بول کر نماز ظہر، عصر بول کر نماز عصر، اور مغرب بول کر نماز مغرب مراد لی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے ہی یہاں پر " ایام " سے مراد وہ عذاب ہیں جو ان دنوں کے اندر دوسری قوموں پر واقع ہوئے۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وشر۔ سو مطلب یہ ہوا کہ کیا اب یہ لوگ اسی کے منتظر ہیں کہ ان پر بھی ویسے ہی عذاب آئیں جیسے کہ پہلی قوموں پر آچکے ہیں۔ یعنی حق کی توضیح و تشریح میں اب کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی سوائے اس کے کہ اب یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں کہ اب یہ لوگ کسی بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ اور ایسے میں ان کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 174 ۔ منکروں کے لیے آخری تنبیہ اور دھمکی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اچھا تو پھر تم لوگ انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ یعنی اب آخری بات یہی ہے کہ تم لوگ اپنے انجام کا انتظار کرو۔ نتیجہ خود تمہارے سامنے آجائے گا۔ سو یہ منکروں کے لیے تنبیہ اور دھمکی ہے کہ یہ مرحلہ قوموں کی ہلاکت و تباہی کا مرحلہ ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اگرچہ بظاہر یہ لوگ اس کی انتظار نہیں کر رہے تھے مگر ان کے احوال واطوار سے مترشح یہی ہو رہا تھا کہ وہ لوگ اب اپنے اسی آخری انجام ہی کے منتظر ہیں کہ اب اور کسر اس کے سوا باقی نہیں رہ گئی۔ حق پوری طرح ان کے سامنے واضح اور منقح ہوچکا ہے مگر اس کے باوجود اس سے منہ موڑنے اور اعراض کرنے کا صاف طور پر مطلب یہی تھا کہ اب وہ لوگ گویا اپنی زبان حال سے یوں کہہ رہے ہیں کہ آنے دو اس عذاب کو جس کے مستحق ہم ہوچکے ہیں اور جو پہلی قوموں پر آچکا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور یہ قوموں کی بدبختی کا وہ مرحلہ ہوتا ہے جس میں ان کو دھر لیا جاتا ہے اور وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتی ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ اسی قسم کے فیصلہ کن عذاب کے منتظر ہیں جس طرح کے عذاب اس سے پہلے عاد اور ثمود وغیرہ جیسی بدبخت قوموں پر آچکے تو ان سے کہو کہ پھر تم لوگ انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں شامل ہوں۔ یعنی اس قسم کے کسی عذاب کا لانا نہ میرے بس میں ہے اور نہ ہی میرے علم اور اختیار میں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے علم اور اسی کی قدرت کے ساتھ خاص ہے۔ میرا کام تو صرف تمہیں خبردار کرنا ہے تاکہ تم اس کے آنے سے پہلے اس سے بچنے کی فکر و کوشش کرسکو اور بس۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہہ دو کہ اگر تم لوگ اب بھی ماننے کو تیار نہیں ہو تو پھر تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں لگا ہوں۔ جب نتیجہ اور انجام سامنے آئے گا تو تم بھی دیکھ لینا ہم بھی دیکھ لیں گے۔
Ayahs 10:103–105

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر (جب ایسا وقت آجاتا ہے تو) ہم بچا لیتے ہیں اپنے رسولوں اور ان لوگوں کو جو ان پر ایمان لے آئے ہوتے ہیں اسی طرح ہمارے ذمے ہے، کہ ہم بچا لیں ایمان والوں کو،

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

کہو اے لوگو، اگر تمہیں کوئی شک (و شبہ) ہے میرے دین کے بارے میں تو (تم اچھی طرح سن لو کہ) میں کبھی بندگی نہیں کرسکتا ان کی جن کی بندگی تم لوگ کرتے ہو اللہ کے سوا، بلکہ میں تو بہر حال بندگی اس اللہ (وحدہ، لاشریک) ہی کی کرتا رہوں گا جو تمہاری جان قبض کرتا ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رہوں ایمان والوں میں سے1

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور (مجھے یہ بھی فرمایا گیا کہ) تم سیدھا رکھو اپنا رخ اس دین (حق) کے لئے یکسو ہو کر، اور کسی بھی طور مشرکوں میں سے نہ ہوجانا

179 ۔ رب کی عبادت و بندگی کے لیے یکسوئی کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ کہ سیدھا رکھو تم اپنا رخ دین حق کے لیے یکسو ہو کر اور کسی طور پر مشرکوں میں سے نہیں ہوجانا۔ بہرکیف اس میں پیغمبر کو خطاب کرکے حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم سیدھا رکھو اپنا رخ اس دین حق کے لیے یکسو ہوکر۔ اس طرح کہ دل کی توجہ اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی طرف، کسی بھی قسم کی عبادت میں نہ ہونے پائے۔ خاص کر اس عبادت میں جو کہ سب عبادات کا مغز اور نچوڑ ہے۔ یعنی دعا و پکار۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ (فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا) مگر افسوس کہ اس قدر تاکیدی حکم اور مکرر تعلیم کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک دھڑلے سے غیر اللہ کو پکارے جارہا ہے۔ " یا رسول اللہ "۔ یا علی مدد " اور " یا غوث دستگیر " وغیرہ وغیرہ کے طرح طرح قسما قسم کے نعرے اس نے ایجاد کر رکھے ہیں۔ انہی کو وہ جپتا اور اپناتا ہے مگر " یا اللہ مدد " کہنے کو وہ تیار نہیں ہوتا۔ الا ماشاء اللہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور گمراہ کن ملاں اور جاہل پیر ہیں کہ طرح طرح سے اس جاہل کی پیٹھ ٹھونکتے اور اس کو اس طرح شرکیات میں پختہ تر کرتے جارہے ہیں۔ فالی اللہ المشتکی۔ بہرکیف اس حکم و ارشاد سے اوپر والی بات کی مزید تاکید فرما دی گئی کہ ایمان کی اصل خصوصیت اللہ واحد کی طرف یکسوئی اور شرک اور اس کے تمام شوائب سے پورا پورا اجتناب ہے کہ اصل مسئلہ " ہی " کا ہے نہ کہ " بھی " کا یعنی اللہ " ہی " کی بندگی کرو نہ کہ اللہ کی " بھی " سو " ہی " اور " بھی " کے یہ دو چھوٹے سے لفظ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اللہ وحدہ لاشریک کا حق ہے اس لیے اس کو ہمیشہ اسی کے لیے بجا لانا چاہئے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayahs 10:106–107

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور کبھی نہیں پکارنا اللہ کے سوا کسی ایسی ہستی کو جو نہ تمہیں کوئی نفع پہنچا سکے، نہ نقصان، سو اگر تم نے ایسا کرلیا تو یقیناً تم ہوجاؤ گے ظالموں میں سے،2

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچانے پر آجائے تو کوئی نہیں جو اسے ٹال سکے سوائے اس کے، اور اگر وہ تم سے کوئی بھلائی کرنا چاہے تو کوئی نہیں جو روک سکتا ہو اس کے فضل کو وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے، اپنے فضل (وکرم) سے اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، نہایت مہربان3

181 ۔ نفع و نقصان کا مالک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : کہ یہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہی مالک و مختار اور متصرف و کارساز ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور عطائی وغیر عطائی کے جو فلسفے تم لوگوں نے اپنے چور دروازوں کے لئے گھڑ رکھے ہیں وہ سب تمہارے اپنے دماغوں کی اختراع اور نفس کے دھوکے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اصل حقیقت اور امر واقع یہی ہے کہ نفع و نقصان کا مالک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کوئی نہیں ہے جو اس کو دور کرسکے۔ سوائے اس وحدہ لاشریک کے۔ اور اگر وہ تمہیں کسی خیر اور بھلائی سے نوازنا چاہے تو کوئی نہیں جو اس کے اس فضل و مہربانی کو روک دے۔ سو اس ارشاد سے اوپر والی بات ہی کی تاکید و وضاحت دوسرے اسلوب و انداز میں فرمادی گئی جس سے ان تمام تصورات کی نفی ہوجاتی ہے جن کی بناء پر مشرک لوگ طرح طرح کے اور شفعاء گھڑتے اور ان کو پوجتے پکارتے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں ایسے لوگ اس انتہائی ہولناک خسارے میں مبتلا ہوتے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 182 ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو اس میں تصریح فرمائی گئی کہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے اور محض اپنی رحمت و عنایت سے نوازتا ہے نہ کہ کسی کے واسطے اور وسیلے سے۔ یا کسی لاڈلے اور پیارے کے کہنے اور مجبور کرنے اور اس کے اڑ کر بیٹھ جانے سے۔ جیسا کہ مشرک لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔ اور اس کے لیے انہوں نے طرح طرح کے مفروضے اور خود ساختہ فلسفے گھڑ رکھے ہیں کہ ہماری وہ سنتا نہیں اور ان کی رد نہیں کرتا۔ اس لیے ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ مشرک لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ یہ ہمارا وجود اور اس کے اندر اور باہر کی بیشمار عظیم الشان نعمتیں اور زمین و آسمان کی یہ حکمتوں بھری عظیم الشان کائنات اور اس کے اندر کی بےحد و حساب اور عظیم الشان نعمتیں آخر اس نے کس کے کہنے مانگنے اور اڑ کر بیٹھ جانے سے عطا فرمائی ہیں ؟ اور جب یہ عظیم الشان اور بےحد و حساب نعمتیں اس نے ازخود محض اپنے فضل و کرم سے عظا فرمائی ہیں تو پھر وہ تمہیں تمہاری یہ معمولی معمولی چیزیں کیوں نہ دے گا جن کے لیے تم لوگ جابجا پھرتے، وسیلے پکڑتے اور طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہو ؟۔ وباللہ العیاذ والعصمۃ۔ سو وہ اپنے فضل و کرم سے جس کو چاہتا ہے اور جب اور جیسے چاہتا ہے نوازتا ہے کہ اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے۔ ہمیشہ اور ہر طرح سے نوازنا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ آخر میں " غفور " اور " رحیم " کی دو صفتوں کا حوالہ دے کر اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جب وہ خود بخشنے والا اور انتہائی مہربان بھی ہے تو پھر بندے کو اسی کے دامن رحمت ہی میں پناہ لینی چاہئے۔ اس کو چھوڑ کر اسے دوسروں کا سہارا ڈھونڈنے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے ؟ پس رجوع ہمیشہ اور ہر حال میں اسی وحدہ لاشریک کی طرف کرنا چاہئے۔ رب اغفرلی وارحمنی انک انت الغفور الرحیم۔