Ayahs 9:123–127ترتیب جہاد وقتال
قال اللہ تعالیٰ ۔ یا ایہا الذین امنوا قاتلوا الذین یلومونکم من الکفار۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ مع المتقین۔
(ربط): نصف پارۂ دہم سے یہاں تک غزوۂ تبوک سے متخلفین کے شنائع اور قبائح کا بیان تھا کہ ان لوگوں نے جہاد سے تخلف کیا پھر گزشتہ آیات میں احکام جہاد کی طرف رجوع فرمایا اور جہاد و قتال کے فضائل بیان کیے اب اس آیت میں جہاد و قتال کی ترتیب بیان کرتے ہیں کہ جہاد و قتال کس طرح ہونا چاہئے وہ ترتیب یہ ہے کہ اول ان کفار سے ہونا چاہئے جو مسلمانوں سے قریب تر ہوں اور پھر جو ان قریب رہنے والوں کے قریب ہوں اس طرح حلقۂ جہاد کو وسیع کرنا چاہئے نبی اکرم ﷺ نے اول مشرکین عرب سے قتال کیا اور پھر بنی قریظہ اور بنی نضیر اور خیبر کے اہل کتاب سے جہاد کیا۔ جو مدینہ کے ارد گرد رہتے تھے اور پھر جب ان سے فارغ ہوئے تو شام کا قصد کیا۔ غزوۂ موتبہ اور غزوہ تبوک یہ سب شام ہی کی طرف اقدام تھا۔ پھر خلفاء راشدین نے بھی اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا اول شام کو فتح کیا پھر عراق کو پھر مصر کو چناچہ فرماتے ہیں اے مسلمانو ! اول ان کفار سے جہاد و قتال کرو جو تمہارے آس پاس رہتے ہیں۔ جیسے بنو قریظہ اور بنی نضیر اور مشرکین عرب قریبی دشمن کو ختم کرنا سب مقدم ہے ورنہ حقیقت کے لحاظ سے تمام کافر مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ کما قال تعالیٰ ان الکافرین کانوا لکم عدوا مبینا۔ ولا یزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم۔ وغیر ذلک من الایات۔
غرض یہ کہ تمام کافر مسلمانوں کے دشمن ہیں اس لیے تمام کافروں سے جہاد و قتال کا حکم آیا۔ قاتلوا لمشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ اور اس آیت میں یہ حکم دیا کہ قریبی کافروں سے جہاد و قتال کو مقدم سمجھیں اور چاہئے کہ وہ کافر تمہارے اندر سختی کو محسوس کریں۔ یعنی جہاد و قتال کے وقت بھی شدت سے ان کا مقابلہ کرو اور زمانہ صلح میں بھی ان سے ڈھیلا پن نہ برتو۔ یہ کافر جس کو ڈھیلا دیکھتے ہیں اس کو ڈھیلا مارتے ہیں اور خوب یقین رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ یعنی اللہ کی حفاظت اور نصرت اور اعانت اور معیت پرہیزگاروں کے ساتھ ہے جب تک تم تقویٰ پر قائم رہو گے خدا کی نصرت اور اعانت تمہارے ساتھ رہے گی۔
نکتہ : حضرات صوفیہ فرماتے ہیں کہ مومن کافر قریبی دشمن اس کا نفس امارہ ہے۔ جو کفران نعمت میں سب سے آگے ہے اور تمام دشمنوں میں سب سے زیادہ یہی قریب ہے اس لیے نفس امارہ سے جہاد و قتال جہاد اکبر ہے۔
جیسا کہ حدیث میں آیا ہے المھاجر من ھجر ما نھی اللہ عنہ والمجاھد من جاھد نفسہ یعنی اصل مہاجر وہ جو معصیت سے ہجرت کر کے طاعت کی طرف آجائے اور اصل مجاہد وہ ہے جو اپنے (قریبی دشمن) نفس سے جہاد کرے۔
ذکر تمسخر منافقین وتنفر شاں از آیات قرآن معہ وعید وتہدید
قال اللہ تعالی۔ واذا ما انزلت سورة فمنھم من یقول۔۔۔ الی۔۔۔ بانھم قوم لایفقھون۔
(ربط): اوپر کے رکوعات اور آیات میں منافقین کے ذمائم کا ذکر ہوا منجملہ ان کے ایک یہ تھا کہ جب کوئی آیت نازل ہوتی تو وہ اس کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں اور تمسخر دلیل ہے غایت تنفر کی۔ اور غایت تنفر دلیل ہے غایت کفر کی۔ دین حق کے ساتھ تمسخر کفر کا آخری درجہ ہے اس آیت میں ان لوگوں کے متعلق خبر دی گئی کہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ بلکہ کفر ہی پر ان کی موت آئے گی۔ اسلام کے ساتھ تمسخر کرنا یہی علامت اس بات کی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے۔
(ربط دیگر): پہلی آیت میں کفار سے قتال کا حکم تھا اب اس آیت میں اس کا سبب بیان کرتے ہیں وہ یہ یہ لوگ آیات خداوندی کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ایسوں سے تو جہاد و قتال بلاشبہ فرض اور واجب ہے۔
چناچہ فرماتے ہیں اور جب قرآن کی کی کوئی جدید سورت نازل ہوتی ہے جس میں منافقین کے نفاق اور عناد کا ذکر ہوتا ہے تو بعض منافقین بطور استہزاء اور تمسخر بعض غریب مسلمانوں سے پوچھتے ہیں کہ بتلاؤ کہ تم میں سے اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کیا اور کس کے ایقان وعرفان میں اضافہ ہوا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان دار ہیں اور پہلے سے ایمان اور تقویٰ کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں اس سورت نے ان کے ایمان میں اور زیادتی کردی اس سورت کے نازل ہونے سے ان کا یقین اور بڑھ گیا کیونکہ قرآن کے دلائل عقلیہ اور براہین قطعیہ کو سن کر ان کے سابق ایقان اور عرفان میں اور میں اور اضافہ ہوجاتا ہے اور قرآن جن چیزوں کی خبر دیتا ہے اس کا آنکھوں سے مشاہدہ ہوجاتا ہے اس طرح سے ان کا ایمان استدلالی ایمان شہودی بن جاتا ہے اور شک اور شبہ کا امکان بھی ختم ہوجاتا ہے اور وہ اس سورت کے نازل ہونے سے غایت درجہ خوش ہوتے ہیں۔ کہ اس سورت کا نزول ان کے ایقان وعرفان کی زیادتی کا سبب بنا اور جو حال پہلے تھا اب اس سے بھی بہتر اور برتر ہوگیا
اور جن لوگوں کے دلوں میں شک اور نفاق کی بیماری ہے اور ان کے دل مکر اور حیلہ کی گندگی سے بھرے ہوئے ہیں تو یہ جدید سورت ان کی سابقہ پلیدی اور گندگی سے بھرے ہوئے ہیں تو یہ جدید سورت ان کی سابقہ پلیدی اور گندگی پر ایک اور نئی گندگی اور پلیدی کا اضافہ کردیتی ہے۔ گزشتہ بغض وعناد کے ساتھ ایک جدید بغض اور عناد کا اضافہ ہوجاتا ہے اور یہ کیفیت دن بدن ترقی کرتی جاتی ہے حتی کہ کفر اور نفاق کا ملکہ ان میں راسخ اور پختہ ہوجاتا ہے اور پھر کفر ہی کی حالت میں ان کی جان نکلتی ہے مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب کبھی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ اسرار بلاغت اور دلائل اعجاز کے ساتھ نازل ہوتی ہے اور دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ کے ساتھ احقاق حق اور ابطال باطل پر مشتمل ہوتی ہے اس لیے اس کے نزول سے اہل ایمان کی ایمانی کیفیت میں اضافہ اور دلائل وبراہین کی روشنی میں ان پر حق واضح اور روشن ہوجاتا ہے اور دین اسلام کے بارے میں انہین شرح صدر ہوجاتا ہے اور منافقین کے غیظ اور عناد میں اضافہ ہوجاتا ہے اگر یہ منافقین عناد اور حسد سے ہٹ کر بنظر انصاف آیات قرآنیہ میں غور وفر کرتے تو ان کی بھی آنکھیں کھل جاتیں مگر عناد کی یہ کیفیت دن بدن ان میں مستحکم ہوتی ہے اور دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ کے ساتھ احقاق حق اور ابطال باطل پر مشتمل ہوتی ہے اس لیے اس کے نزول سے اہل ایمان کی ایمانی کیفیت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور دلائل وبراہین کی روشنی میں ان پر حق واضح اور روشن ہوجاتا ہے اور دین اسلام کے بارے میں انہیں شرح صدر ہوجاتا ہے اور منافقین کے غیظ اور عناد میں اضافہ ہوجاتا ہے اگر یہ منافقین عناد اور حسد ہٹ کر بنظر انصاف آیات قرآنیہ میں غور وفکر کرتے تو ان کی بھی آنکھیں کھل جاتیں مگر عناد کی یہ کیفیت دن بدن ان میں مستحکم ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ کفر ہی کی حالت میں وہ مرگئے۔
آگے ارشاد فرماتے ہیں کہ کیا یہ منافق اس بات کو نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک دو بار آزمائے جاتے ہیں یعنی ہر سال میں ایک دو بار ضرور رسوا ہوتے ہیں اور ان کا نفاق اور جھوٹ مسلمانوں پر ظاہر ہوجاتا ہے پھر بھی اپنے جھوٹ اور نفاق اور بدعہدی سے اور توبہ نہیں کرتے اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں کہ سمجھیں کہ یہ رسوائی ہماری تنبیہ کے لیے رونما ہوئی ہے۔
اور منافقین کا یہ حال جو گزشتہ آیت میں بیان کیا گیا ہے وہ مجلس نبوت سے باہر کا حال تھا اب اندرون مجلس نبوت ان کی فضیحت کا حال سنو وہ یہ کہ جب کبھی کوئی ایسی سورت نازل ہوتی ہے جس میں ان کے نفاق اور فضائح اور قبائح کا ذکر ہو اور وہ خود بھی اس وقت بارگاہ رسالت میں حاضر ہوں تو اس وقت اشارہ سے پوچھتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے کوئی تمہیں کوئی دیکھتا تو نہیں یعنی اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا تو مجلس سے کھسک جاؤ اور اگر کوئی مسلمان تم کو دیکھتا ہے تو نہیں یعنی اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا تو مجلس سے کھسک جاؤ اور اگر کوئی مسلمان تم کو دیکھتا ہے تو تھوڑی دیر اور صبر کرو۔ جب مسلمان غافل ہوجائیں گے تب اٹھ کر چل دیں گے۔ پھر جب دیکھتے ہیں کہ ان کو کوئی مسلمان نہیں دیکھ رہا ہے تو آپ کی مجلس سے پھرجاتے ہیں یعنی اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ ہی نے ان کے دلوں کو اسلام سے پھیر دیا ہے اس لیے وہ آپ کی مجلس سے پھرجاتے ہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ لوگ بےسمجھ ہیں۔ حق اور باطل اور نفع اور ضرر کو سمجھتے نہیں۔
Ayahs 9:128–129ذکر کمال شفقت ورافت نبی اکرمؤ برحال امت واتمام حجت بر اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ لقد جاء کم رسول من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو رب العرش العظیم۔
(ربط ): اس سورت کی آخری آیت ہے جس میں حق تعالینے نبی اکرم ﷺ کی کمال شفقت ورافت کو بیان کیا۔ اور بتلا دیا کہ ایسے عظیم الشان اور شفیق ومہربان رسول کی آمد سے تم پر اللہ کی حجت پوری ہوگئی اور جہاد جیسے حکم سے جو نفس پر شاق اور گراں ہوتا ہے اس سے گھبرانا نہیں چاہئے اس لیے کہ جس طرح طبیب حاذق اور مشفق ومہربان کسی وقت مریض کو تلخ دوا کے استعمال کا حکم دیتا ہے اور مہربان باپ اولاد کو بغرض تادیب وتربیت بعض ناگوار خاطر چیزوں کا حکم دیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کار سول برحق بعض اوقات تم کو ایسے امور کا حکم دیتا ہے جو نفس پر گراں ہوتے ہیں اور عقل سلیم کے مطابق ہوتے۔ انسان کا فائدہ ان پر عمل کرنے میں ہے اور ان کی خلاف ورزی میں اس کی ہلاکت ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسسورت کے اخیر میں آں حضرت ﷺ کے اوصاف جمیلہ اور آپ کا امت پر شفیق اور مہربان ہونا بیان کیا تاکہ خاتمۂ کلام اس بات پر دلالت کرے کہ ایسے شفیق اور مہربان رسول کی دعوت وتبلیغ کے بعد حجت پوری ہوچکی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر یہ لوگ اپنی ضد اور عناد پر قائم رہیں تو آپ اللہ پر توکل کیجئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے اور ان کے شر سے محافظ اور نگہبان ہے ان معاندین کی ذرہ برابر پرواہ نہ کیجئے۔ ﷺ وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم
(یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیت میں منافقین کے عناد اور تکبر کا ذکر تھا کہ وہ آں حضرت کے اتباع کو اپنے لیے باعث عار سمجھتے تھے۔ اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ وہ رسول تمہارا غایت درجہ ہمدرد اور تم پر شفیق اور مہربان ہے ایسے شفیق اور مہربان سے ضد اور عناد کا معاملہ کرنا سراسر خلاف عقل اور خلاف فطرت ہے تم کو چاہیے کہ اس کے ظل عاطفت میں داخل ہوجاؤ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے مشفق اور مہربان سے عداوت رکھو۔ اور اس کی بات کا مذاق اڑاؤ۔ چناچہ فرماتے ہیں اے الوگو ! تحقیق آیات ہے تمہارے پاس ہماری طرف سے ایک پیغمبر جو تمہاری ہی جنس سے جس سے بوجہ جنسیت کے استفادہ اور استفاضہ آسان ہے۔ ع " بوئے جنسیت کند جذب صفات "
مطلب یہ ہے کہ اے نبی آدم تمہارے پاس تمہاری جنس سے ایک رسول آیا ہے جس طرح تم انسان ہو وہ بھی انسان ہے اور یہ تم پر اللہ کا احسان ہے اگر وہ تمہارے پاس کسی جن یا فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا تو تم بوجہ عدم جنسیت اس سے مانوس نہ ہوتے اور روہ رسول علاوہ تمہارے ہم جنس ہونے کے اس درجہ تمہارا ہمدرد اور خیر خواہ ہے کہ اس پر تمہاری تکلیف شاق اور گراں ہے۔ اور ایک صفت اس رسول کی یہ ہے کہ وہ تمہاری بھلائی اور اور ہدایت پر غایب درجہ حریص ہے یہ حالت تو سب کے ساتھ ہے اور خاص کر اہل ایمان پر تو حد درجہ کا شفیق مہربان ہے ایسے شفیق اور مہربان رسول کے اتباع سے انصراف اور انحراف تو کمال ابلہی ہے۔
پس اگر اس رافت و رحمت کے مشاہدہ کے بعد بھی آپ کے اتباع سے روگردانی کریں اور اپنی دیرینہ عداوت پر قائم رہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اللہ کافی ہے وہ تمہارے شر سے کفایت کرے گا اور مجھے تم پر غالب کرے گا وہ میرا کافی معین اور مددگار ہے مجھے تمہاری عداوت کی کوئی پرواہ نہیں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو نفع اور ضرر کا مالک ہو میں اسی کی ذات پاک پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ میں نے اپنا سب کام اسی کے سپرد کردیا ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ اور عرش عظیم تمام کائنات کو محیط ہے پس جو عرش عظیم کے مالک پر بھروسہ کرے اسے کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا۔
ازوا خواہ یاری کہ یار دو اوست بدو التجان کن کہ اینہا از واست
الحمد للہآج بروز شنبہ یکم شعبان المعظم 1387 ھ بوقت اذان عصر سورة توبہ کی تفسیر سے فراغت نصیب ہوئی۔
فالحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات رب تقبل توبتی واغسل حوبتی واجب دعتوتی واکتب لی براءۃ من النار انک انت التواب رالرحیم آمین یا را العالمین و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وعلی آلہ و اصحابہ اجمعین۔