Ayah 9:13ترغیب قتال از ناقضین عہدہ ودعۂ فتح ونصرت
قال اللہ تعالی۔ الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانھم۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ خبیر بما تعملون۔
(ربط): گزشتہ آیت میں ایمۃ الکفر سے قتال کا حکم تھا اب ان آیات میں مسلمان کو ناقضین عہد سے جہاد و قتال کی ترغیب دی جاتی ہے اور جہاد اور قتال کے فوائد کو بیان فرماتے ہیں جس میں ضمنا فتح اور نصرت کے وعدہ کی طرف اشارہ ہے۔ سب سے اول عجیب فائدہ یہ ہے کہ امم سابقہ پر کفر اور تکذیب کی بناء پر اللہ نے جو عذاب نازل کیا وہ براہ راست خود نازل کیا کسی پر آسمان سے پتھر برسائے اور کسی کو دریا میں غرق کیا اور کسی کو زمین دھنسایا وغیرہ اب اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ آل حضرت ﷺ کی تکذیب اور عداوت پر امم سابقہ کی طرح کوئی آسمانی عذاب نازل نہ ہو کہ دفعۃً پوری قوم کا خاتمہ ہوجائے بلکہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ بجائے بلا واسطہ عذاب نازل کرنے کے اپنے مخلص اور وفا داروں کے واسطہ سے اس کو سزا دلوائے یعنی دوستوں کے ہاتھوں سے دشمنوں کو قتل کرائے یا قید کرائے اور دوم یہ کہ کھلم کھلا مجرمین اور مکذبین کو رسوا اور خوار کرے اور سوم یہ کہ دوستوں کو دشمنوں پر فتحیاب اور غالب اور مظفر ومنصورت کرے اور چہارم یہ کہ خدا کے وفاداروں اور جاں نثاروں کے دل ٹھنڈے ہوں اور پنجم یہ کہ مسلمانوں کے دل کا غیظ وغضب دور رہو اور ششم یہ کہ علی الاعلان حق کا غلبہ اور نصرت لوگوں پر نمایاں ہو جسے دیکھ کر لوگ عبرت پکڑیں اور سمجھیں کہ حق کے مقابلہ کا یہ انجام ہوتا ہے اور جانیں کہ ابھی موقعہ ہے کہ حق کو قبول کرلیں اور اپنی شرارت سے تائب ہوجائیں توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور آسمانی عذاب نازل ہونے کے بعد سوچنے اور سمجھنے اور سنبھلنے کا موقعہ باقی نہیں رہتا اور ہفتم یہ کہ مومنین مخلصین کا امتحان ہوجائے کما قال تعالیٰ ام حسبتم ان تترکوا ولما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم الی آخر ایۃ۔ اس آیت میں اسی حکمت امتحان کی طرف اشارہ ہے چناچہ فرماتے ہیں (اے مسلمانو) کیا تم ان لوگوں سے جہاد و قتال اور جنگ وجدال نہ کرو گے جن سے جہاد و قتال کے اسباب اور دواعی بکثرت موجود ہیں اول تو یہ کہ ان لوگوں نے اپنے قسمون اور عہدوں کو توڑا نہ اللہ کے نام کا لحاظ کیا اور نہ اپنے عہد و پیمان کا پاس کیا گویا کہ ان کو نہ اللہ کی پرواہ ہے اور نہ مخلوق کی۔ اور دوم یہ کہ ان لوگوں نے کہ یا مدینہ سے رسول کے نکال دینے کا ارادہ کیا جو طعن فی الدین سے کہیں زیادہ سخت ہے اس لیے کہ رسول کے نکال دینے کا ارادہ اس امر کی دلیل ہے کہ منبع ہدایت (ذات رسالت) کا بغض اور عناد ان کے دل میں راسخ ہے اور سوم یہ کہ نقض عہد کی ابتداء اور پہل انہی لوگوں نے کی ہے یعنی نقض عہد اور تم سے لڑائی کی ابتداء انہی لوگوں نے کی ہے بس ان لوگوں سے جہاد و قتال کریں گے یہ اسباب اور دواعی موجود ہیں اور مانع کوئی نہیں سوائے اس کے کہ تم ان کی قوت اور شوکت سے ڈرتے ہو پس کیا تم ان کی قوت اور شوکت سے ڈرتے ہو سو اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر درحقیقت تم یقین رکھتے ہو کہ احکم الحاکمین کے حکم کے ترک میں عذاب عظیم کا اندیشہ ہے تم کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی قوت اور قدرت پر نظر کرو اگر تم ایماندار ہو اے ایمان والوں خدا کے دشمنوں سے جہاد و قتال کرو جسے میں بہت سے فائدے اور حکمتیں ہیں اول یہ کہ اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا تاکہ تمہارا غلبہ اور فوقیت اور برتری ظاہر ہو اور لوگوں کو معلوم ہو کہ تمہارے ہاتھ دست قدرت کے مظہر ہیں اور دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو تمہارے ہاتھوں سے رسوا کرے تم ان کو قید کرو اور غلام بناؤ اور سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے مقابلہ میں تم کو فتح ونصرت عطا فرمائے اور چہارم یہ کہ اللہ مومنوں کے سینوں کو شفا بخشے یعنی جب مسلمان اپنے دشمنوں پر غالب آئیں گے تو ان کے دل ٹھنڈے ہوجائیں گے اور پنجم یہ کہ مسلمانوں کے دلوں کے غصہ کو دور کرے یعنی کافروں کی ایذاء رسانی سے جو دل رنجیدہ تھے وہ رنج دور ہوجائے اس لیے کہ انسان جب مقابلہ کی تاب نہ رکھتا ہو تو دشمن کی ایذاء رسانی میں دل ہی دل میں گھٹتا ہے جب مسلمان کمزور تھے تو کافر ان کو بےانتہا تکلیفیں پہنچایا کرتے تھے اس سے مومنوں کے دل میں ان کی طرف سے غصہ اور رن بھرا ہوا تھا۔ خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ کافروں سے لڑو جب تم اپنے دشمنوں پر غالب آؤ گے تو تمہارے دلوں کا غیظ وغضب ہو جو بیماری کی طرح تم کو بےچین کیے ہوئے سب جاتا رہے گا اور تمہارے دل شفا پاجائیں گے کیونکہ اپنے دشمنوں سے انتقام لے کر آدمی کا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور اندر کی ساری گھٹن نکل جاتی ہے اسی طرح فتح اور غلبہ کے بعد تمام مسلمانوں کے دل ٹھنڈے ہوں گے اگرچہ وہ قتال اور معرکہ میں حاضر نہ ہوئے اور ششم یہ کہ ان کافروں میں سے اللہ جس پر چاہے گا توجہ اور عنایت فرمائے گا یعنی اس کو توبہ اور اسلام کی توفیق دے گا۔ جس کا تمہیں ابھی علم نہیں چناچہ ایسا ہی ہوا کہ بہت سے اہل مکہ اسلام لے آئے اور اچھے مسلمان ہوگئے۔ جیسے ابو سفیان اور سہیل بن عمرو اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ حالانکہ یہ لوگ پہلے ایمہ کفر تھے اللہ ان کافروں میں سے ایمان لانے والے ہیں اس کو سب معلوم ہے اور یہ حکم جو اس نے تم کو دیا ہے اس میں حکمت ہے اور ہفتم یہ کہ اے مسلمانو کیا تم یہ گمان کیے ہوئے ہو کہ تم یوں ہی چھوڑ دئے یے جاؤ گے کہ تم تم کو جہاد کا حکم دیا جائے گا اور نہ تمہارے ایمان اور اخلاص کی کوئی جانچ اور پڑتال ہوگی حالانکہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو الگ اور جدا نہیں کیا جنہوں نے تم میں سے جہاد کی اور خدا اور رسول اور اہل ایمان کے سوا کسی کو اپنا دوست رازدار نہیں بنایا۔ یعنی جب تک اس صفت کے لوگ منافقوں سے جدا نہ ہوجائیں گے اس وقت تک تم کو جہاد سے کیسے بری اور سبکدوش کیا جاسکتا ہے جہاد ہی تو مومن اور منافق کے درمیان فرق ظاہر کرنے والا ہے مطلب یہ ہے کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم صرف ظاہری ایمان واسلام کی بنا پر اللہ کے نزدیک مسلمان ہوجاؤ گے نہیں بلکہ تمہارا امتحان لیا جائے گا اور تم جانچے جاؤ گے اور امتحان کا بہترین ذریعہ جہاد ہے کہ جب انسان خدا اور رسول کے لیے اپنے اعزاء اوراقارب اور اپنی قوم اور اہل وطن سے جہاد کرتا ہے تو پورا امتحان ہوجاتا ہے اور اللہ ان باتوں سے خبردار ہے جو تم کرتے ہو یعنی اللہ کو تمہارا ظاہر اور باطن سب معلوم ہے مگر امتحان اور آزمائش اس لیے ہے کہ مومنوں پر تمہارا حال ظاہر ہوجائے ورنہ اللہ کو تمہارے امتحان کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 9:14–24مشرکین عرب کے فخر اور ناز کا جواب اور اعمال فاضلہ کا بیان
قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم۔
(ربط): سورت کا آغاز مشرکین کی براءت اور بیزاری سے فرمایا بعد ازاں ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ اسی قابل ہیں کہ ان سے براءت اور بیزار اختیار کی جائے ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی مرتبہ نہیں۔ چونکہ یہ اعلان براءت ان کی اہانت اور تحقیر پر مبنی تھا اس لیے مشرکین مکہ نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بڑے فخر اور ناز سے یہ کہا کہ ہم بہت سی خاص حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے حامل ہیں ہم سے براءت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں ہم حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں اور انہیں پانی پلاتے اور مسجد حرام کی مرمت اور خدمت کرتے ہیں قریش اس قسم کے محاسن ذکر کرتے اور ان پر فخر کرتے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جس میں ان کے اس فخر اور ناز کا جواب دیا گیا اور بتلادیا گیا کہ تمہارے یہ تمام اعمال سب بےجان اور بےروح ہیں سب سے افضل عمل ایمان باللہ اور ہجرت فی سبیل اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ ہے ایمان باللہ سے حق تعالیٰ کے ساتھ صحیح تعلق قائم ہوتا ہے اور خدا کے لیے وطن اور خویش و اقارب سے ہجرت یہ خدا تعالیٰ سے محبت کی دلیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ سے اس کی وفا داری اور جانثاری کا تمغہ ملتا ہے۔ سقایتہ الحاج اور عمارۃ المسجد الحرام کا عمل اگرچہ اعمال صالحہ میں سے ہے مگر اس کی مقبولیت کی شرط خدا اور اس کے رسول پر اور قیامت کے دن پر ایمان لانا اور نماز پڑھنا اور زکوٰۃ دینا اور دل میں خوف خدا کو جگہ دینا ہے چونکہ قریش میں یہ صفات نہیں اس لیے ان کے عیہ اعمال حبط اور کالعدم قرار دئیے گئے اور اگر بالفرض ان کے اعمال حبط اور کالعدم بھی نہ ہوں تو بھی وہ ایمان اور نماز اور زکوٰۃ اور ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر نہیں ہوسکتے عمارۃ المسجد الحرام اور سقایۃ الحاج۔ ایمان اور ہجرت اور جہاد جیسے عمل کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور مساجد الٰہی کی تعمیر ان لوگوں کا کام نہیں کہ جو کفر اور شرک کی نجاستوں میں ملوث ہوں۔ کفر اور شرک سے تو اچھے اعمال بھی حبط ہوجتا ہے لہذا کفر اور شرک کے ہوتے ہوئے تعمیر مسجد حرام اور مہمان نوازی وغیرہ وغیرہ کا ذکر سب بیکار ہے تمہارے یہ اعمال کفریہ وفخریہ ایمان اللہ اور ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ لایستو ون عندا للہ۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ مشرکین کے لیے لائق اور درست نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں حالانکہ وہ خود اپنی ذاتوں پر کفر اور شرک کے گواہ ہیں کفر اور شرک غیر خدا کی پرستش کے لیے ہے ایسے لوگوں نے اگر کفر اور شرک کرنے سے پہلے نیک عمل بھی کیے تھے تو خفر اور شرک سے ان کے تمام نیک اعمال اکارت گئے اور سب کے سب باطل اور ناپید ہوگئے یعنی ان کا مہمانوں کی ضیافت کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجدوں کو آباد کرنا اور قیدیوں کو چھڑانا اس قسم کے سب اعمال جن پر یہ فخر کرتے ہیں کفر اور شرک کی وجہ سے سب اکارت گئے اور اسی کفر اور شرک کی وجہ سے یہ لوگ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔ جز ایں نیست کہ مساجد الٰہی کو اپنی عبادت اور طاعت سے وہی شخص آباد کرتا ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لایا اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور سوائے خدا تعالیٰ کے کسی سے نہیں ڈرا سو امید ہے کہ ایسے لوگ ہدایت پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ کلمہ عسی ولعل اظہار تعوقع کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس جہ کلمۂ " عسی " مشرکین کی طمع قطع کرنے کے لیے لایا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ کمالات علمیہ اور کمالات عملیہ کے جامع ہیں ان کی ہدایت بھی لعل اور عسی کے درمیان دائر ہے یعنی ان کی ہدایت اور راہ یابی بھی متوقع ہے قطعی اور یقینی نہیں تو جو لوگ کفر اور شرک کی نجاستوں میں ملوث ہیں ان کا تو حال بد مآال کا کیا ذکر، نیز اشارہ اس طرف ہے کہ مسلمانوں کو اپنے اعمال پر مغرور نہ ہونا چاہئے جو شخص اپنے عمل پر مغرور ہے وہ فیض ربانی سے دور ہے
مباش غرہ بعلم وعمل کہ شد ابلیس بدیں سبب زد رِ بارگاہ عزت دور
کیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد حرام کی عمارت کی خدمت بجا لانے والے کو اس شخص کے برابر کردیا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لا یا جو تمام عبادتوں کی جڑ ہے اور جس نے خدا کی راہ پر جہاد کی اور اللہ کے کلمہ کو بلند کیا یہ دونوں فریق اللہ کے یہاں برابر نہیں اور اللہ منزل مقصود کی راہ نہیں دکھاتا ظالموں کو جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور کفر اور شرک کرکے خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم لوگوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر اور حاجیوں کے پانی پلانے کو ایمان اور جہاد کے برابر سمجھ لیا یہ غلط ہے ہرگز برابر نہیں۔ خوب سمجھ لہ کہ جو لوگ اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے اور پھد خدا کے لیے اپنے گھر بار اور خویش و اقارب سب کو چھوڑا اور پھر خدا کی راہ میں اپنی جان ومال سے جہاد کی اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں اپنے خویش و اقارب سے جنگ کی ایسے لوگ اللہ کے نزدیک بڑے درجہ والے ہیں اور ایسے ہی لوگ دونوں جہان میں کامیاب ہیں خوشخبری دیتا ہے ان کو ان کا پروردگار اپنی خاص رحمت کی اور رضا مندی کی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لیے دائمی نعمت ہوگی جو کب بھی منقطع نہ ہوگی وہ ہمیشہ ہمیشہ انہی باغوں میں رہیں گے بیشک اللہ کے پاس بڑا اجر ہے جس کے سامنے تمام دنیا ہیچ ہے اور خدا تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی جنت سے بھی بڑھ کر ہے ان آیات سے مہاجرین ومجاہدین کی فضیلت واضح لائحہ ہے کاش حضرات شیعہ بھی ان آیات کو پڑھیں اور اپنے دلوں کو صحابہ کرام ؓ کی کدورت سے پاک کریں۔
Ayahs 9:25–27ذکر قصۂ غزوہ حنین وتذکیر انعامات و عنایات در سرایا وغزوات
قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ ویوم حنین۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ غفور رحیم۔
(ربط): شروع سورت میں براءت کا ذکر تھا جس کے ضمن میں صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کا ذکر فرمایا۔ اب ان آیات میں غزوہ حنین کا ذکر فرماتے ہیں اور اپنی ان عنایات کو یاد دلاتے ہیں کہ جو اس نے دیگر مقامات مثل جنگ بدر اور فتح مکہ میں دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں پر مبذول فرمائیں۔ تاکہ اس کی عنایات کو یاد کر کے دل اس کے شکر پر برانگیختہ ہوجائیں اور انے منعم حقیقی کے بھروسہ پر بےخوف وہراس دشمنان اسلام سے جہاد کریں اور سمجھیں کہ اصل مددگار وہی پروردگار ہے اور جانیں کہ یہ سارا سازوسامان محض ایک ظاہری وسیلہ اور ذریعہ ہے اصل فتح ونصرت اللہ کی اعانت سے ہوتی ہے نہ کہ فوج اور ظاہری سامان کی کثرت سے کما قال تعالیٰ وان یخذلکم فمن ذالذی ینصرکم من بعدہ۔
لہذا نظر اللہ پر رہنی چاہئے نہ کہ ظاہری سازوسمان پر جنگ حنین میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی اور مشرکین کی تعداد چار ہزار تھی اس وقت بعض مسلمانوں کی زبان سے بطور ناز یہ لفظ نکلا کہ آج ہماری تعداد بہت بڑی ہے ہم کسی سے مغلوب ہونے والے نہیں۔ بارگاہ خداوندی میں یہ ناز پسند نہ آیا کہ بجائے ہماری رحمت اور عنایت کے اپنی قوت اور کثرت پر کیوں نظر کی چناچہ جب مقابلہ شروع ہوا تو مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور سوائے آنحضرت ﷺ اور مخصوص رفقاء کے بہت سے لوگ میدان جنگ سے منتشر ہوگئے آں حضرت ﷺ نے حضرت عباس کو حکم دیا کہ مسلمانوں کو آواز دیں چناچہ آواز سنتے ہی مسلمان دوڑ پڑے اور ناز سے تائب ہو کر نیاز کی طرف آئے اور اللہ کے رسول کے گرد جمع ہوگئے اس وقت خدا تعالیٰ مدد پہنچی آسمان سے مدد کے لیے فرشتے نازل کیے اور اپنی رحمت سے مسلمانوں کی شکست کو فتح سے بدل دیا بیشمار کافر مارے گئے اور چھ ہزار بچے اور عورتیں قید ہو کر آئے اور بیس ہزار اونٹ اور چار ہزار اوقیہ چاندی اور چالیس ہزار سے زائد بکریاں لوٹ میں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں جس سے سب پر واضح ہوگیا کہ لشکر عظیم میں سے بعض افراد کا بھی اپنی قوت اور کثرت پر نظر کرنا کس قدر ضرر رساں ہے۔
یک لحظہ نہ کوئے یار دوری در مذہب عاشقاں حرام است
نکتہ : مکہ مکرمہ اگرچہ قہرا فتح ہوا مگر وہاں سے ادب اور احترام کی بنا پر کوئی چیز غنیمت میں نہیں لی گئی حق جل شانہ نے غنائم حنین سے اس کی تکمیل فرمادی کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے دل میں یسا جوش خروش پیدا فرمادیا کہ وہ اسلام کی دشمنی میں اپنے تمام اہل و عیال اور تمام اموال اور مویشیوں کو لے کر میدان میں آگئے جو بعد میں سب مسلمانوں کے لیے غنیمت بنے اللہ کے رسول نے ان کے بچوں اور عورتوں کو تو واپس کردیا اور اموال اور مویشیوں کو مجاہدین پر تقسیم کردیا۔ چناچہ فرماتے ہیں (اے مسلمانو) تحقیق اللہ نے بہت سے مواقع میں تمہاری مدد کی اکثر وبیشتر مواضع میں تم کو دشمنوں پر غلبہ دیا اور حنین کے دن بھی تمہاری مدد کی جس کا قصہ عجیب و غریب ہے۔ حنین مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ایک مقام کا نام ہے۔ فتح مکہ کے بعد آں حضرت ﷺ کو خبر ملی کہ کفار ہواز وثقیف لڑائی کے لقام حنین میں جمع ہوئے ہیں۔ آں حضرت ﷺ اس طرف متوجہ ہوئے دس ہزار مہاجرین وانصار مدینہ منورہ سے آپ کے ساتھ تھے اور دہ ہزار مکہ کے نو مسلم آپ کے ساتھ اور مل گئے اس طرح بارہ ہزار کی جمعیت لے کر ان کے مقابلہ کے لیے روانہ ہوئے اور کفار کے لشکر کی تعداد چار ہزار تھی اس وقت بعض مسلمانوں کی زبان سے یہ لفظ نکلا۔ لن نغلب الیوم من قلۃ۔ آج ہم قلت تعداد کی وجہ سے مغلوب نہ ہوں گے یہ لفظ حق تعالیٰ کو پسند نہ آیا کہ اپنی کثرت پر نظر کی اور خدا تعالیٰ کی نصرت اور اعانت پر نظر نہ گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے پہلی بار مسلمانوں کو شکست دی تاکہ متنبہ ہوجائیں کہ فتح کا دارومدار تمہاری قوت اور کثرت پر نہیں بلکہ اللہ تائید اور نصرت پر ہے چناچہ مسلمانوں کو اپنی لغزش پر تنبیہ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے تائید غیبی سے شکست کو فتح سے بدل دیا۔ غرض یہ حق تعالیٰ نے جنگ حنین میں عجیب طریقہ سے مدد کی جب کہ لشکر کی کثرت نے تم کو غرہ میں ڈال دیا۔ اور تم اترا کر یہ کہنے لگے کہ آج ہم کفار سے مغلوب نہ ہوں گے تو تم شکست کھا گئے اور لشکر کی کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور باوجود کثرت کے دشمن کے حملہ کو نہ روک سکے اور کافروں کی تیرا ندازی سے سراسیمہ اور پریشان ہو کر تتر بتر ہوگئے اور زمین باوجود فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم کافروں کے مقابلہ میں پشت پھیر کر بھاگے یہ نتیجہ تو اپنی طاقت اور کثرت پر نظر کرنے کا ہوا جو ابتداء تم نے دیکھا پھر اس شکست کے بعد جب تم متنبہ ہوگئے تو تمہارا یہ اعجاب زائل ہوگیا اور بجائے اپنی کثرت کے تم نے خدا تعالیٰ کی نصرت اور اعانت پر نظر کی تو اس کا نتیجہ اسی وقت پردۂ غیب سے یہ ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور اہل ایمان پر اپنی خاص الخاص رحمت اور سکینت نازل فرمائی جس سے مسلمانوں کے دلوں کو تسکین ہوئی اور پریشانی کافور ہوئی اور سکون اور اطمینان نصیب ہوا اور اسی وقت تمہاری مدد کے لیے بہت سی فوجیں آسمان سے اتاریں جن کو تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے تھے مگر ان کے آثار اور انوار کو دل میں اور ظہار میں محسوس کرتے تھے۔
: صحیح قول یہ ہے کہ جنگ حنین میں فرشتوں کا لشکر نازل تو ہوا مگر اس لشکر نے جنگ بدر کی طرح قتال نہیں کیا صرف مسلمانوں کے دلوں کی تقویت اور تسکین کے لیے نازل ہوا۔ اے مسلمانو ! اس لشکر کے نازل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم کو فتح اور غلبہ عطا کیا۔ اور کافروں کو سزا دی۔ کہ وہ قتل اور گرفتار ہوئے اور کافروں کی دنیا میں یہی سزا ہے پھر اس سزا کے بعد اللہ جس پر چاہے گا توجہ عنایت فرمائے گا یعنی اس کو اسلام کی توفیق بخشے گا چناچہ ہوازن اور ثقیف کے بہت سے کافر تائب ہو کر آں حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرف باسلام ہوئے۔ آں حضرت ﷺ نے ان کے کل قیدی احسان رکھ کر چھوڑ دئیے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے اور بڑا مہربان ہے کہ توبہ کے بعد مواخذہ نہیں کرتا۔
Ayah 9:28تتمۂ اعلان براءت وتسلیہ اہل ایمان
قال اللہ تعالیٰ ۔ یا ایہا الذین امنوا انما المشرکون نجس۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم حکیم
(ربط ): شروع سورت میں اعلان براءت کا ذکر تھا اب اسی اعلان کا ایک تتمہ ذکر کیا جاتا ہے وہ یہ کہ ایک سال کے اندر مشرکین حدود حرم سے باہر نکل جائیں تاکہ حرم کی پاک زمین مشرکین کے ناپاک وجود سے پاک ہوجائے کیونکہ مشرک نجس ہیں اس ایک سال گزرجانے کے بعد مشرکین کو حج اور خانہ کعبہ کے طواف کی اجازت نہیں۔ اعلان براءت میں چار ماہ کی مہلت دی تھی اور مسجد حرام کے داخلہ کے لیے ایک سال کی مہلت دی۔
اس حکم سے مسلمانوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ جب حرم میں مشرکین کی آمدورفت بند ہوجائے گی تو اس سے تجارت کو نقصان پہنچے گا اور باہر سے جو لوگ سامان تجارت لاتے تھے وہ نہیں ائے گا اس لیے مسلمانوں کی تسلی کردی گئی کہ تم گھبراؤ نہیں اللہ تم کو دوسرے طریقوں سے غنی اور مالداری عطا کرے گا۔ دولت و ثروت سب اسی کی مشیت پر موقوف ہے۔ فقر سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اگر حرم میں مشرک تاجروں کی آمدورف موقوف ہوجائے تو عرب اور عجم سب اسلام کا باج گزار بن جائیگا اور سب جگہ مسلمانوں کا کاروبار جاری ہوجائیگا۔ اور کافروں سے اتنا جزیہ اور خراج مل جائیگا جو تجارتی منافع سے ہزاروں بلکہ لاکھوں گونہ زیادہ ہوگا۔ چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو۔ جز ایں نیست کہ مشرک لوگ ناپاک اور پلید ہیں جہاں تک ممکن ہو اس گندگی اور پلیدی کے اختلاط سے اپنے آپ کو محفوظ رکھو۔ ایمان بلاشبہ عطر اور مشک ہے لیکن گر گندنگی اور نجاست کے ساتھ عطر کا اختلاط ہوجائے تو کچھ دیر کے بعد وہ عطر عطر نہ رہے گا۔ وہ بھی گندہ اور بدبو دار ہوجائے گا۔ پس جب کہ کفار سرتاپا نجاست ہیں تو حکم دیا جاتا ہے کہ یہ ناپاک لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں یعنی حدود حرم میں داخل نہ ہوں یہ خطہ نہایت مطہر اور معطر ہے کفر اور شرک کی نجاستوں سے اس کی تطہیر واجب ہے نیز اس مبارک خطہ میں ہر وقت ملائکۃ اللہ کا نزول اور ورود ہوتا رہتا ہے۔ جن کو کفر اور شرک کی نجاست اور اس کی عفونت اور بدبو سے تکلیف ہوتی ہے نیز اس خطہ میں ہر وقت طوف کرنے والوں کا ہجوم رہتا ہے۔ مشرکین کی حاضری سے اندیشہ ہے کہ ان کی باطنی نجاست اور اندرونی ظلمت کا اثر اہل ایمان کے انوار کو مکدر اور متغیر نہ کردے صحبت اور اختلاط کا ثر ناقابل انکار ہے۔ جس طرح گلاب اور پیشاب کی طرف دیکھنے کے احکام اور آثار مختلف ہیں اسی طرح ابوبکر وعمر ؓ اور ابو جہل اور بولہب کی طرد یکھنے کے احکام اور آثار بھی مختلف ہیں۔
حکماء نے لکھا ہے کہ نجاست کی طرف نظر کرنا ضعف بصر کا سبب ہے اسی طرح یہ ناچیز کہتا ہے کہ کفر اور شرک کی نجاست کی طرف نظر کرنا ضعف بصیرت کا سبب ہے اور اسی پر تمام اولیاء وعارفین کا اجماع ہے اور کتاب وسنت کے نصوص میں جو کافر اور فاسق کی صحبت اور مجالست کی ممانعت آئی ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے۔
جمہور علماء اسلام اور ائمہ اربعہ یہ کہتے ہیں کہ آیت میں نجاست سے اعتقادی نجاست مراد ہے اور بعض صحابہ وتابعین سے یہ مروی ہے کہ نجاست سے نجاست حسیہ اور ظاہریہ مراد ہے اور کفار اور مشرکین کلب اور خزیر کی طرح نجس العین ہیں جو مشرکو چھو وے اس پر وضو لازم ہے جیسا کہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
من صافح مشرکا فلیتوضا (اخرجہ ابو الشیخ وابن مردویہ)
جیسے حیدث میں مس ذکر سے وضو کا حکم آیا ہے اسی طرح مس کافر سے وضو کے حکم کو سمجھو۔
واخرج ابن مردویہ عن ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن جدہ قال استقبل رسول اللہ ﷺ جبریل (علیہ السلام) فناولہ یدہ فابی ان یتناولھا فقال یا جبریل ما منعک ان تاکذ بیدی قال انک اخذت بید یھودی فکرھت ان تمس یدی یدا قد مسھا ید کافر فدعا رسول اللہ ﷺ بماء فتوضاء فناولہ یدہ فتناولھا۔ (تفسیر در منثور صفحہ 227 ۔ ج 3 اور دیکھو تفسیر روح المعانی صفحہ 68)
خلاصۂ کلام یہ کہ نجاست کی دو قسمیں ہیں ایک نجاست حسیہ اور جسمانیہ جیسے بول وبراز اور گوبر مینگنی اور دوسری قسم نجاست معنویہ وروحانیہ جیسے کذب اور غیبت اور نمیمت کی نجاست جو عقل اور حس کے ذریعہ سے نہیں معلوم ہوسکتی البتہ جب ملائکہ کے ساتھ اختلاط ہوتا ہے اور ان کی مصاحبت کا اتفاق ہوتا ہے تب کفر اور شرک اور اخلاق ذمیمہ کی نجاست منکشف ہوتی ہے۔ فقہائے کرام نے کتب فقہ میں نجاست جسمانیہ کے احکام بیان کیے اور اولیاء وعارفین نے نجاست معنویہ و روحانیہ کے احکام بیان کئے۔ ولکل وجہۃ ھو مولیھا ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ ہر قسم کی نجاست سے اجتناب کرے اور اے اہ ل مکہ اگر تم کو کافروں کے داخلہ حرم کی ممانعت سے محتاجی اور تنگدستی کا اندیشہ ہو تو تم کو اس اندیشہ کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی اور دولت مند کردے گا۔ بیشک اللہ علم والا اور حکم توالا ہے۔
اہل مکہ کذران معاش تجارت پر تھی۔ دوسرے ملکوں سے مشرکین مکہ میں غلہ لاتے تھے جب مسلمانوں کے یہ حکم دیا گیا کہ مشرکین کو حدود حرم حرم میں داخل نہ ہونے دیا جائے تو مسلمانوں کو یہ خوف ہوا کہ تجارت کے بند ہوجانے سے ہم تنگدست ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تسلی فرمادی کہ تم تنگدستی سے نہ ڈرو اللہ تم کو دولت مند بنادے گا۔ چناچہ اہل جدہ اور اہل صنعاء اور اہل جرش سب مسلمان ہوگئے اور غلہ اور قسم قسم کا مال تجارت لانے لگے اور اس کے علاوہ کافروں سے جو جزیہ اور خراج اور فئی کا مال ملا وہ بھی غنا کا سبب بنا۔
مسئلہ : جمہور علماء کے نزدیک کفار کا مسجد میں آنا ممنوع ہے۔ مگر امام اعطم کے نزدیک بطور غلبہ اور تسلط یا بطور اعزاز واکرم مشرک کا مسجد میں آنا جائز نہیں۔ البتہ مسلمان کا کوئی غلام یا خادم یا کوئی ذمی کسی مسلمان کی اجزات سے ادب اور احترام کے ساتھ مسجد میں کسی ضرورت کی وجہ سے آئے تو اس میں مضائقہ نہیں۔ باقی کسی کافر اور مشرک کو بطور اعزاز واکرام مسجد میں مدعو کرنا اور اس کافر سے مسجد کے منبر پر تقریر کرانا یہ بلاشبہ حرام ہے۔
۔۔۔۔
Ayah 9:29حکم جہاد و قتال با اہل کتاب
قال اللہ تعالی۔۔ قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر۔۔۔ الی۔۔۔ وھم صاغرون۔۔۔
(ربط) : گزشتہ رکوعات وآیات میں براءت اور فتح مکہ وحنین کا ذکر تھا جن میں یہ حکم تھا کہ مشرکین سے لڑو اور ان کو ملک سے باہر نکال دو اور جزیرۃ العرب کو مشرکین کے وجود سے بالکل پاک کردو۔ تاکہ جزیرۃ العرب میں سوائے مسلمان کے کوئی باقی نہ رہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جزیرۃ العرب میں دو دین جمع نہیں ہوسکتے خلاصہ یہ کہ گزشتہ رکوعات اور آیات میں مشرکین سے جہاد وقاتل کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل کتاب (یہود ونصاری) سے جہاد و قتال کا حکم ہے کہ یہ بھی دین حق کے منکر ہیں اور اللہ کو اور آخرت کو یسا چاہئے ویسا نہیں مانتے اور ان کا وجود اسلام کی ترقی اور اشاعت میں حائل ہے اس لیے مشرکین کی طرح ان سے جہاد و قتال ضروری ہے یہاں تک کہ یہ لوگ مسلمانوں کی ماتحت رعیت بن کر ذلت کے ساتھ رہنا اور جزیہ دینا قبول کریں تو پھر اسلامی حکومت میں رہ سکتے ہیں بشرطیکہ ادنی اور اعلی سب ذلیل ہو کر جزیہ دیا کریں۔ باقی عرب کے مشرکوں سے جزیہ ہرگز قبول نہیں۔ مشرکین عرب کے لیے صرف دو ہی راہیں ہیں اسلام یا سیف (تلوار) اسی سورت میں مشرکین عرب کے قتل کا حکم تو آیا ہے۔ فاقتلوا لمشرکین حیث وجدتموھم لیکن مشرکین عرب کے لیے جزیہ کا حکم نہیں آیا۔ (دیکھو تفسیر قطبی ص 72 ج 8)
اور یہ آیات درحقیقت غزوہ تبوک کی تمہید ہیں جس میں اہل کتاب سے مقابلہ تھا جیسا کہ تفسیر در منثور میں مجاہد سے منقول ہے کہ ان آیات کا نزول غزوہ تبوک کے بارے میں ہوا۔
خلاصہ کلام : یہ کہ جب آں حضرت ﷺ عرب کے جہاد و قتال سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اہل کتاب سے جہاد کا حکم دیا حسن بصری فرماتے ہیں کہ آں حضرت ﷺ نے عرب سے جہاد و قتال کیا اور ان سے سوائے اسلام کے کسی اور چیز کو قبول نہیں کیا اس کے بعد اہل کتاب سے جہاد کا حکم دی اور ان سے جزیہ بھی قبول فرمایا اور سب سے پہلے اہل نجران نے جزیہ دینا قبول کیا۔ چناچہ فرماتے ہیں (اے مسلمانو) ان لوگوں سے جنگ کرو کہ جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر اور نہیں حرام جانتے ہیں اس چیز کو کہ جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے یعنی جس کی حرمت کتاب وسنت سے ثابت ہے اور نہ دین حق یعنی دین اسلام کو قبول کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جن کو کتاب توریت اور انجیل دی گئی ان سے قتال کرو مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اہل کتاب اور اہل علم ہیں انبیاء سابقین کی بشارتوں اور وصیتوں سے باخبر ہیں حق ان پر واضح ہوچکا ہے یہ لوگ آں حضرت ﷺ کو اپنے گیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں مگر عناد کی وجہ سے حق کو چھپاتے ہیں ان پر اللہ کی حجت پوری ہوچکی ہے اس لیے اے مسلمانو تم ان سے لڑؤ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں در آنحالیکہ وہ ذلیل اور خوار ہوں امام شافعی فرماتے ہیں کہ صغار (ذلت) سے مراد حکم اسلام کا التزام ہے یعنی اسلامی حکومت کی رعایات بن کر رہنا اور جزیہ دینا منظور کرلینا بھی صغار اور ذلت ہے اور عن ید (اپنے ہتھ سے دینے) کے معنی یہ ہیں کہ بزور حکومت و طاقت ان سے لیا جائے جیسے آج کل ٹیکس لیا جاتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ وہ جزیہ بخوشی اور بطیب خاطر بلا جبر واکراہ ادا کریں۔ اور اگر جزیہ لینے میں جبرواکراہ یعنی زبردتی کی نوبت آئے تو پھر عقد ذمہ بای نہ رہے گا یا یہ معنی ہیں کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے جزیہ پیش کریں کسی وکیل کی معرفت نہ بھیجیں
(حاشیہ : اصل عبارت یہ ہے قال ابن الجوزی فی قولہ عن ید خمسۃ اقوال (احدھا) عن قھر وذل قالہ الزجاج (والثانی) انہ القند العاجل قالہ شریک وثمان بن مقسم (والثالث) ان المعنی عن اعتراف للمسلمین بان ایدیھم فوق ایدیھم (والرابع) عن انعام علیھم بذلک لان قبول الجریۃ انعام علیھم حکاھما الزجاج (والخامس) یؤدونھا بایدیھم ولا ینفذونھا مع رسلھم ذکرہ الماوردی (زاد المسیر ص 420 ج 3)
یا یہ معنی ہیں کہ جزیہ ایک طرح کا انعام ہے کہ تم کو قتل نہیں کیا گیا اور زندہ چھوڑ دیا گیا ورنہ تم مستحق قتل کے تھے یا یہ معنی ہیں کہ نقد ادا کریں نہ کہ اداھار وغیرہ وغیرہ یہ تمام اقوال تفصیل کے ساتھ کتب تفسیر میں مذکور ہیں وہاں دیکھ لیے جائیں اور محدث ابن جوزی نے اپنی تفسیر زاد المسیر ص 420 ج 3 میں اختصار کے ساتھ ان اقوال کو ذکر کیا ہے۔
جزیہ وخراج : جزیہ اس مال اور محصول کو کہتے ہیں جو کافروں کے نفوس اور ان کی ذات پر لگایا جائے اور خراج اس محصول کو کہتے ہیں خہ جو کفار کی زمینوں پر لگایا جائے یہ لفظ جزاء سے مشتق ہے۔ یعنی جزیہ قتل کی جزاء اور اس کا بسلہ ہے کہ تم مستحق تو قتل کے تھے لیکن تمہارے ساتھ یہ رعایت کی گئی کہ تمہاری جان بخشی کردی گئی اور دار الاسلام میں تم کو امن کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی گئی نہ تم کو قتل کیا گیا اور نہ تم کو غلام بنایا گیا جیسے دیت سے قصاص ساقط ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جزیہ سے قتل اور استرقاق ساقط ہوجاتا ہے (دیکھو روح المعانی ص 72 ج 10) علاوہ ازیں اسلام نے تمہارے ساتھ دوسرا احسان یہ یہ کیا کہ مسلمانوں کی طرح تمہارے جان ومال و عزت وآبرو کی حفاظت کی ذمہ داری لی تاکہ مسلمانوں کی طرح امن اور حفاظت کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ شریعت نے جان ومال کی حفاٹ میں مسلم اور غیر مسلم سب کو برابر رکھا نیز اس امن کی زندگی سے غیر مسلمنوں کو یہ فائدہ ہوگا کہ مسلمانوں میں رہ کر ان کو اسلام کے احکام اور محاسن کا علم ہوگا اور حق و باطل کا فرق ان پر واضح ہوسکے پس اگر وہ دین حق کو قبول کرنا چاہیں گے تو قبول کرسکیں گے اور اسلامی حکومت وہ حکومت ہے کہ جس کا دستور اور قانون اسلام اور شریعت ہو اور قانون اسلام کو بالادستی اور برتری حاصل ہو۔
فقہاء کرام کی تصریحات سے یہ ثابت ہے کہ جزیہ قتل کی جزء اور اس کا فدیہ ہے حفاظت جان اور امن کا بدلہ اور فدیہ نہیں اس لیے کہ جزیہ صرف آزاد عاقل مردوں پر واجب ہوتا ہے جو لڑنے اور جنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں عورت اور بچے اور مجنون اور غلام اور راہب اور معذور پر جزیہ نہیں ھالان کہ حفاظت ان کی بھی کی جاتی ہے۔ اور باوجود کفر کے ان پر کوئی جزیہ نہیں اسلام میں جزیہ صرف ان لوگوں سے لیا جاتا ہے جو مستحق قتل کے تھے معلوم ہوا کہ جزیہ قتل کا بدلہ اور اس کا فدیہ ہے نہ کہ امن اور حفاظت کا عوض اور بدل ہے۔ چناچہ فقہاء کرام لکھتے ہیں ھی لغۃ الجزاء لانھا جزت عن القتل کذا فی الدر المختار
(حاشیہ : قال الاتقانی ان الجزیۃ لیست بدلا عن تقریری الکفر وانماھی عوض عن القتل والاسترقاق الواجبین فجازت کا سقاط القصاص بعوض اوھی عقوبۃ علی الکفر کالاسترقاق۔ روح المعانی ص 72 ج 11)
مسئلہ : امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب اور بت پرستوں سے جزیہ لینا جائز ہے مگر خاص عرب کے بت رستوں سے جزیہ قبول نہیں کیا جاسکتا۔ مشرکین عرب کے لیے صرف دو راہیں ہیں قتل یا اسلام۔ تقاتلونھم او یسلمون۔ سرزمین عرب میں دو دین جمع نہیں ہوسکتے اس لیے وہاں جزیہ لے کر بت پرستی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عرب کے مشرکوں سے جزیہ نہیں لیا جائے گا وہ یا تو اسلام قبول کریں یا ملک چھوڑ دیں البتہ عرب کے اہل کتاب سے جزیہ لینا جائز ہے قرآن کریم میں مشرکین عرب کے متعلق تقاتلونھم او یسلمون آیا ہے یعنی ان کے حق میں قتل ہے یا اسلام۔ نیز عرب میں آں حضرت سلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا ظہور ہوا اور دلائل نبوت اور براہین رسالت حد اعجاز کو پہنچ گئے اس لیے وہاں اللہ کی حجت پوری ہوگئی نیز عرب آپ کی قوم ہے آپ کی نسبت سے ان کو خاص عزت اور شرف حاصل ہوا لہذا آپ کی قوم پر جزیہ کی ذلت قائم نہیں کی جاسکتی۔
نیز سرزمین عرب مرکز اسلام ہے اور قلب اسلام ہے اس سرزمین میں کسی طرح بھی بت پرستی کی کوئی گنجائش نہیں۔
نیز آپ کی زندگی میں تمام قبائل عرب مسلمان ہوچکے تھے پھر اگر بت پرستی ہوسکتی ہے تو صرف ارتداد سے ہوسکتی ہے اور مرتد باتفاق ائمہ دین جزیہ دے کر قتل سے نہیں بچ سکتا۔