Ayahs 9:67–70منافقین اور منافقات کا اعمال وصفات میں تشابہ اور تماثل مع بیان وعید وتہدید
قال اللہ تعالیٰ ۔ المنفقون والمنفقت بعضھم من بعض۔۔ الی۔۔ ولکن کانوا انفسھم یظلمون۔
(ربط) : گزشتہ آیات میں منافقین کے اعمال فاسدہ اور افعال خبیثہ کو بیان کیا اب یہ بیان فرماتے ہیں کہ تمام منافقین اور منافقات ان قبائح اور فضائح میں مرد اور عورت سب ایک دوسرے کے مماثل اور متشابہ ہیں اور اسلام کی عداوت میں سب ایک ہیں۔ مرد اور عورت سب کا ایک ہی مذہب ہے جو بری خصلتیں ان کے مردوں میں ہیں وہی ان کی عورتوں میں بھی ہیں جس طرح مرد خبیث ہیں اسی طرح عورتیں بھی خبیث ہیں۔ سب کے دل ملتے جلتے ہیں پھر ان منافقوں کو متنبہ کرنے کے لیے گزشتہ امتوں کے کافروں کے حالات یاد دلاتے ہیں کہ دیکھو وہ مال و دولت اور قوت و طاقت میں تم سے کہیں زیادہ تھے مگر جب انہوں نے ہمارے احکام سے سرکشی کی اور ہمارے پیغمبروں کی تکذیب کی تو انہیں اس کا کیا نتیجہ ملا تمہیں معلوم نہیں کہ قوم عاد اور ثمود کا اور ان بستیوں کا جب الٹی گئیں اس سرکشی اور نافرمانی کی بدولت کیا انجام ہوا ذرا سوچو اور عبرت پکڑو آخر تم خدائی قہر سے اس قدر بےفکر کیوں بیٹھے ہو۔
ربط دیگر : گزشتہ آیات میں ان منافقین کا ذکر تھا۔ جن کا نفاق غزوہ تبوک سے متعلق اب ان آیات میں عام منافقین کے حال کا بیان ہے خواہ وہ مرد ہوں یا عورت بد باطنی اور اخلاق ذمیمہ میں سب ایک دوسرے کے مشابہ ہیں گویا کہ مرد اور عورت سب ایک ہی شیئ کے اجزاء ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں منافق مرد اور منافق عورتیں بعض بعض کا جزء ہیں یعنی سب ہم جن سے ہیں اور نفاق اور بد باطنی میں ایکد وسرے کے مشابہ ہیں اور سب کی مت ایک ایک ہے مرد اور عورت سب اسلام اور سملمانوں کی عداوت اور مخالفت پر طبعی طور پر متفق ہیں ان منافقین اور منافقات کا حال یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کو بری بات کا حکم دیتے ہیں یعنی کفر اور شرک اور مخالفت اسلام کی تلقین کرتے ہیں اور معقول اور پسندیدہ کام سے منع کرتے ہیں یعنی ایمان واسلام اور اتباع رسول سے لوگوں کو منع کرتے ہیں اور راہ خدا میں خرچ کرنے سے اپنی مٹھی بند رکھتے ہیں عاجز اور محتاجوں کی مدد سے اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں وہ اللہ کو بھول گئے فنسیھم یعنی ان لوگوں نے اللہ کے حکم کو فراموش کیا اللہ نے ان کو اپنے فضل و رحمت سے فراموش اور نظر انداز کردیا۔ تحقیق جنس منافقین خواہ وہ مرد ہوں یا عورت فاسق کامل یہی لوگ ہیں ہر ایک گناہگار اور ہر کافر فاسق ہے مگر منافقوں کا فسق سب سے بڑھ کر ہے یہ لوگ اگرچہ خدا کو فراموش کرچکے ہیں مگر خدا تعالیٰ ان کے قہر اور انتقام سے فراموش اور خاموش نہیں۔
وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں سے اور تمام کافروں سے مرد ہوں یا عورتدوزخ کی آگ کا وہ ہمیشہ اسی آگ میں رہیں وہ ان کو کافی ہے یعنی ان کے کفر ونفاق کے کافی سزا ہے اور مزید برآں اللہ نے ان پر خاص لعنت کی ہے اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے جو کبھی ان سے جدا نہ ہوگا۔
اے منافقوا ! کفر اور نفاق اور حق کی عداوت میں تمہاری حالت ان لوگوں کے مانند ہے جو تم سے پہلے تھے جیسے وہ رسول کی نافرمانی کر کے دوزخی ہوئے ویسے ہی تم بھی رسول کی نافرمانی کر کے دوزخی بنے وہ پچھلے لوگ بدنی قوت اور مال ولاد میں تم سے بہت زیادہ تھے سو انہوں نے اپنے دنیوی حصہ یعنی مال واولاد سے فائدہ اٹھایا یعنی دنیاوی لذتوں اور شہوتوں میں مبتلا رہے اور آخرت کی کچھ پروانہ کی پس اب ان کے تم نے بھی اپنے دنیاوی حصہ سے فائدہ اٹھایا جیسا کہ تم سے پہلے لوگ دنیا سے فائدہ اٹھا گئے تھے تم اس بارے میں بالکل ان کے مانند ہو اور ان کے نقش قدم پر ہو اور تم بھی بری باتوں میں اسی طرح گھس گئے ہو جس طرح وہ گھسے تھے۔ یعنی جس طرح انہوں نے رسولوں کے ساتھ استہزاء کیا تھا ویسا ہی تم نے بھی کیا ایسے ہی کافروں اور منافقوں کے اعمال حسنہ دنیا اور آخرت میں نیست اور نابود اور تباہ اور برباد ہوئے جن کے اعمال خیر پر بھی دنیا وآخرت میں کوئی ثواب مرتب نہ ہوگا۔ اور ایسے ہی لوگ دنیا اور آخرت میں خسارہ اور نقصان میں ہیں۔ جب کھیتی کاٹنے کا وقت آیا تو ساری کھیتی جل کر تباہ ہوگئی یہی حال ان لوگوں کا ہے ان لوگوں کو چاہیے کہ پچھلوں کے حال اور مآل کا خیال کریں۔
کیا ان منافقوں اور کافروں کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گذرے ہیں اور عذاب ووبال آنے پہلے آنے سے پہلے دنیاوی لذتوں میں غرق تھے اور آخرت سے بےفکر تھے۔ ان کو چاہئے کہ ان کے حال سے عبرت پکڑیں مثلا قوم نوح (علیہ السلام) جو طوفان میں غرق ہوئی اور قوم عاد جو آندھی سے ہلاک ہوئی اور قوم ثمود جو زلزلہ سے ہلاک ہوئی اور قوم ابراہیم (علیہ السلام) جو طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہوئی اور نمرود مردود مچھر کے ڈنگ مارنے سے ہلاک ہوا اور اہل مدین جو شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی وہ یوم ظلہ کے عذاب سے ہلاک ہوئے اور الٹی ہوئی بستیوں والے یعنی قوم لوط کی بستیاں وہ بھی ہلاک ہوئے ان سب کے پاس ان کے رسول اور پیغمبر اپنی نبوت و رسالت کے روشن دلالئل اور صاف صاف نشانیاں لے کر آئے اور عذاب خداوندی سے ان کو ڈرایا مگر ان ظالموں نے ایک نہ سنی بالآخرت تباہ اور برباد ہوئے سو اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور بلا جرم کے ان پر عذاب نازل کردے لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان قوموں پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ ان کی عقوبت میں جلدی نہیں کی پیغمبر بھیج کر ان پر اپنی حجت پوری کردی جب کسی طرح ہمارے پیغمبروں کی تکذیب اور ان کے استہزاء اور تمسخر سے باز نہ آئے تب ان پر عذاب اتارا ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا خود انہی لوگوں نے تمرد اور سرکشی کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا پس اس زمانہ کے کفار اور منافقین کو بھی ان سے عبرت پکڑنی چاہئے کہ انبیاء کرام کی تکذیب کا انجام ایسا ہوتا ہے تم بھی ویسے ہی کرتوت کر رہے ہو تم بھی اسی انجام بد کے مستحق ہو۔
Ayahs 9:71–73مدح اہل ایمان مع بشارت غفران ورضوان
قال اللہ تعالیٰ ۔ وال مومن ون وال مومن ات بعضھم اولیاء بعض۔۔۔ الی۔۔۔ ذلک ھو الفوز العظیم۔
(ربط) قال اللہ تعالیٰ ۔ وال مومن ون وال مومنت بعضھم اولیاء بعض۔۔۔ الی۔۔۔ ذلک ھو الفوز العظیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے فضائح اور قبائح اوصاف قبیحہ اور اعمال شنیعہ کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ سب کے سب ان قبائح اور فضائح میں ایکد وسرے کے مشابہ اور مماثل ہیں۔ اب بطور مقابلہ مومنین کے صفات خیر اور اعمال فاضلہ کو بیان کرتے ہیں کہ ہمارے اطاعت شعار اور مخلص اور وفادار بندوں کا یہ حال ہے جو منافقوں کے حال کے برعکس ہے جس طرح منافقین اور منافقات رذائل میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اسی طرح مومنین اور مومن ات فضائل میں ایک دوسرے کے مشابہ اور مماثل ہیں۔
اور اس کے بعد ان سے جو رحمت اور مغرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس کا ذکر کیا اور یہ بتلایا کہ ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر جو نعمت ان کو ملے گی وہ یہ ہوگی کہ ان محبین مخلصین کو دائمی رضا کا پروانہ ملے۔ اللہم اجعلنا منھم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین یا ذالجلال والاکرام۔ اور خلفاء راشدین کا اوصاف مذکور ہے ساتھ موصوف ہونا احادیث متواترہ سے ثابت ہے لہذا وہ اس بشارت کے اولین مستحق اور سزاوار ہیں غرض یہ کہ اوپر کی آیتوں میں منافقین کے فضائح اور قبائح کا ذکر تھا۔ اب ان آیتوں میں اہل ایمان کے مدائح کا بیان ہے جیسا کہ قاعدہ ہے وبضدھا تتبین الاشیاء۔ ضد کے ذکر کرنے سے اصل شیئ کی حقیقت خوب واضح ہوجاتی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں :
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست اور کارساز ہیں اور صفات فاضلہ میں ایک دوسرے کے مماثل اور مشابہ ہیں زبان سے حکم کرتے ہیں بھلائی کا اور منع کرتے ہیں برائی سے اور فعل ان کا یہ ہے کہ نماز کو ٹھیک طرح سے پابندی کے ساتھ پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور حال ان کا یہ ہے کہ دل وجان سے وہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار ہیں۔ ایسے لوگوں پر جن میں یہ صفات جمع ہوں ان پر اللہ ضرور اپنی خاص رحمت فرمائے گا۔ جس سے ان کی نفسانیت۔ مغلوب اور روحانیت اور نورانیت غالب رہے گی۔ تحقیق اللہ غالب ہے جو چاہے کرے حکمت والا ہے۔ ہر چیز کو اس کے محل پر رکھتا ہے۔
وعدہ کیا ہے اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغوں کا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ہمیشہ انہی باغوں میں رہیں گے اور وعدہ کیا ہے ان سے پاکیزہ گھروں اور نفیس مکانوں کا عدن کے باغوں میں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ عدن وسط جنت کا نام ہے یعنی جنت کے درمیانی حصہ کو عدن کہتے ہیں۔ جو سب سے اعلی اور برتر ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ عدن کے معنی اقامت کے ہیں اور یہ لفظ کسی خاص مقام کا نام نہیں بلکہ جنت کی صفت ہے اور کل جنت عدن ہے یعنی ہمیشگی کی جگہ ہے اور ان سب نعمتوں کے علاوہ اللہ کے طرف سے خوشنودی سب نعمتوں سے بڑھ کر نعمت ہے جنت اسی وجہ سے جنت اور نعمت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی کا ذریعہ ہے یہ یعنی خدا کی رضامندی یہی بڑی کامیابی ہے جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں تمام سعادتوں اور تمام کرامتوں کا مبدا اور منتہا یہی رضائے خداوندی ہے۔ صحیحین وغیرہ میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خدا تعالیٰ اہل جنت کو ندا دے گا کہ اے جنتیو ! وہ عرض کریں گے لبیک ربنا وسعدیک والخیر فی یدیک ہم حاضر ہیں پھر فرمائے گا کہ کیا تم راضی ہوگئے وہ عرض کریں گے کہ اے پروردگار ہم راضی کیوں نہ ہوں تو نے ہم کو وہ کچھ عنایت فرمایا جو آپ نے اپنی کسی مخلوق کو نہیں دیا۔ خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا میں تم کو اس سے بھی افضل اور بہتر نہ عطا کروں عرض کریں گے کہ اس سے افضل اور بہتر کون سی چیز ہے فرمائے گا کہ میں تم پر اپنی رضا مندی نازل کرتا ہوں اب اس کے بعد کبھی تم سے ناخوش اور ناراض نہ ہوں گا۔
نکتہ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خدا کی رضامندی سے افضل کوئی نعمت نہیں رضاء خداوندی کا درجہ بہشت سے بھی بڑھ کر ہے اور صحابہ کرام ؓ کے متعلق دنیا ہی میں اعلان کردیا گیا۔ ؓ ورجو عنہ۔ اس سے بڑھ کر کیا سعادت اور کرامت ہوگی کہ مرنے سے پہلے ہی صحابہ کرام نے اپنے لیے رضاء خداوندی کا مژدہ جانفزا سن لیا اور قرآن میں تصریح ہے ان اللہ لا یرضی عن القوم الفاسقین۔ اللہ فاسقوں سے راضی نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام فاسق نہ تھے۔ بلکہ صحابہ سے ناراض ہونے والا فاسق ہے۔
Ayahs 9:74–84تفصیل جرائم منافقین
قال اللہ تعالیٰ ۔ یحلفون باللہ ما قالو۔۔۔ الی۔۔۔ فاقعدوا مع الخالفین۔
(ربط): گزشتہ آیت میں منافقین سے جہاد کا حکم دیا تھا آئندہ آیات میں منافقین کے نفاق اور کفر کی چند باتیں ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ منافقین کی یہ باتیں ایسی ہیں جن سے ان کا نفاق آشکارا اور ظاہر ہوچکا ہے اس لیے ان کے ساتھ شدت اور غلظت یعنی سختی کی شدید ضرورت ہے اور وہ اسی کے مستحق ہیں
نکوئی بابداں کردن چنانست کہ بد کردن بجائے نیک مرداں
ان کے ساتھ نرمی کا رویہ نہ رکھنا چاہئے اس لیے آئندہ آیات میں منافقین کے چند جرائم کا ذکر کرتے ہیں جو ان سے جہاد اور غلظت کو مقتضی ہیں اس سلسلہ میں حق تعالیٰ نے ان کا ایک جرم تو حلفت کا ذاب ذکر کیا۔ کما قال تعالیٰ یحلفون باللہ ما قالوا۔ الخ۔ یعنی کفر کی باتیں کرتے ہیں اور پھر مکر جاتے ہیں اور قسم کھالیتے ہیں کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی۔
(دوم): احسان فراموشی : کما قال تعالیٰ وما نقموا الا ان اغناھم اللہ ورسولہ من فضلہ۔ جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔
(سوم): بدعہدی : جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔ ومنھم من عھد اللہ لئن اتنا من فضلہ لنصدقن۔ الخ۔
(چہارم): مومنین مخلصین کے صدقات و خیرات پر طعنہ زنی : جو مسلمان زیادہ لاتا اس کو یہ کہتے یہ کہ یہ نام ونمود کے لیے لایا ہے اور جو کم لاتا اس کو یہ کہتے کہ خدا کو اس کے صدقہ کی کیا ضرورت تھی۔ محض انگلی کٹا کر شہیدوں میں داخل ہونا چاہتا ہے جیسا کہ الذین یلمزون المطوعین من ال مومنین فی الصدقات میں اسی کا ذکر ہے۔
(پنجم): منافقین کا غزوۂ تبوک میں خود بھی شریک نہ ہونا اور دوسروں کو بھی شرکت سے منع کرنا کہ گرمی شدت کی پڑ رہی ہے ایسی حالت میں گھر سے باہر نہ جاؤ کما قال تعالیٰ فرح المخلفون بمقعدھم خلاف رسول اللہ الخ۔ پس اس قسم کے جرائم کا مقتضی یہ ہے کہ اس قسم کے مجرمین سے کسی قسم کی نرمی نہ کی جائے۔ چناچہ جرائم کی تفصیل فرماتے ہیں۔
جرم اول۔ حلف کاذب
آں حضرت ﷺ جب غزوۂ تبوک سے واپس آرہے تھے تو بارہ منافق آپ ﷺ کے قتل کے ارادہ سے اپنے چہرے چھپا کر ایک گھاٹی پر کھڑے ہوگئے تاکہ آپ ﷺ کو اس پہاڑ سے گرادیں۔ حضرت حذیفہ اور حضرت عمار ؓ آں حضرت ﷺ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے ان کو مار کر پیچھے ہٹایا۔ چہرے چھپے ہوئے تھے اور رات کی تاریکی تھی اس لیے پہچانے نہیں گئے آپ کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا آپ نے منزل پر پہنچ کر ان کو بلایا اور پوچھا کہ تم نے ایسا ایسا مشورہ کیا تھا اور ایسا ایسا ارادہ کیا تھا سب نے قسمیں کھا لیں کہ ہم نے آپ کی شان میں کوئی کلمہ نہیں کہا اور نہ ہم نے کوئی فاسد ارادہ کیا ان بارہ منافقوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
منافقین اللہ کی جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے وہ بات نہیں کہی جو آپ تک پہنچائی گئی اور حالانکہ انہوں نے یقینا کفر کی بات کہی ہے انہوں نے اپنے کفر کو ظاہر کیا اپنے اسلام کے ظاہر کرنے کے بعد اور قصد کیا انہوں نے اس چیز کا جس کو وہ حاصل نہ کرسکے یعنی ارادہ یہ کیا تھا کہ نبی اکرم ﷺ کو قتل کردیں مگر کامیاب نہ ہوئے یہاں تک کہ منافقین کے جرم اول یعنی جھوٹی قسموں کا بیان ہوا اب آئندہ آیت میں ان کے دوسرے جرم احسان فراموشی کا ذکر کرتے ہیں۔
جرم دوم احسان فراموشی
اور نہیں انتقام لیا ان منافقوں نے مگر اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول نے اپنی دعا سے ان کو مال دار بنادیا۔ اہل مدینہ آں حضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے محتاج اور تنگدست تھے جب رسول اللہ ﷺ کا قدم مبارک یہاں آیاتو اس کی برکت سے خدا تعالیٰ نے ان کی کھیتی باڑی میں اور باغوں کی پیداوار میں برکت دی اور ادھر مال غنیمت ان کے پاس آنے لگا جس سے وہ مالدار ہوگئے ان کو چاہئے تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے اس احسان کے مشکور ہوتے مگر منافقوں نے بجائے شکر گزاری کے آپ کے قتل کا اردہ کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا یہ کینہ اور عداوت اسی وجہ سے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کو مال دار بنادیا جس سے ان کی احسان فراموشدی اور بدبختی عیاں ہے۔ پس اگر منافق اپنے نفاق سے توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہو اور اگر وہ توبہ سے روگردانی کریں اور اپنے کفر اور نفاق پر جمے رہیں تو اللہ ان کو دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا۔ دنیا میں قتل کیے جائیں گے اور ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے اور زمین میں ان کے لیے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار جو ان کو دنیا اور آخرت کے عذاب سے بچا لے بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ جلاس نامی ایک شخص یہ آیتیں سن کر صدق دل سے تائب ہوگیا اور آئندہ زندگی اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردی اور امت کے مخلصین میں اس کا شمار ہوا۔
جرم سوم۔ بد عہدی
ثعلبہ بن حاطب نامی ایک شخص نے آں حضرت ﷺ سے کشائش رزق کی درخواست کی آپ نے ارشاد فرمایا۔
ویحک یا ثعلبۃ قلیل تؤدی شکرہ خیر من کثیر لا تطیقہ
افسوس اے ثعلبہ (کس فکر میں ہے) تھوڑا مال جس پر خدا کا شکر کرے اس کثیر مال سے بہت بہتر ہے جس کے تو حقوق نہ کرسکے۔
اس نے پھر یہی درخواست کی اس پر آپ ﷺ نے یہ فرمایا :
اما ترضی ان تکون مثل نبی اللہ لو شءت ان تسیر معی الجبال ذھبا لسارت۔
اے ثعلبہ کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ تو فقرا اور درویشی میں اللہ کے نبی کے طریقہ پر چلے میں اگر چاہوں تو یہ پہاڑ سونے کے بن کر میرے ساتھ چلنے لگیں۔
ثعلبہ نے کہا خدا کی قسم میں آپ ﷺ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر میں مالدار ہوگیا تو اس کے حقوق ادا کردوں گا آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمادی خدا تعالیٰ نے اس کی بکریوں میں اس قدر برکت دی کہ وہ کیڑوں کی طرح بڑھنے لگیں اور اس کے پاس اتنا ریوڑ ہوگیا کہ وہ مدینہ میں نہ سما سکا نا چار مدینہ چھوڑ کر باہر کسی گاؤں میں جا بسا اور رفتہ رفتہ جمعہ اور جماعت کے لیے بھی آنا چھوڑ دیا کچھ دنوں کے بعد حضور انور ﷺ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے محصل بھیجا تو ازراہ غرور کہنے لگا کہ زکوٰۃ اور جزیہ میں کیا فرق ہے اور زکوٰۃ دینے سے صاف انکار کردیا حضور ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا یا ویح ثعلبۃ۔ افسوس اے ثعلبہ۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں (تفسیر قرطبی ص 209 ج 8)
پھر بعد میں جب اس کے عزیز و اقارب نے اس پر طعن وتشنیع کی تو وہ زکوٰۃ لے کر حضور پر نور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت نے اس کی زکوٰۃ منظور نہیں کی۔ اس شخص نے بہت وویلا کیا اور بدنامی کے خوف سے سر پر خاک بھی ڈالی مگر حضور پرنور ﷺ نے اس کی زکوٰۃ قبول نہیں کی پھر حضور ﷺ کے بعد ابوبکر صدیق ؓ کی خدمت میں زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا انہوں نے بھی قبول کرنے سے انکار کردیا پھر حضرت عمر اور پھر ان کے بعد حضرت عثمان کی خدمت میں زکوٰۃ پیش کی دونوں نے انکار فرمادیا ہر ایک نے یہی کہا جو چیز آنحضرت ﷺ نے قبول نہیں کی ہم اس کو قبول نہیں کرسکتے آخر اسی حالت نفاق پر حضرت عثمان ؓ کے زمانہ خلافت میں مرگیا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر اللہ نے ہم کو اپنے فضل سے مال دیا تو ہم ضرور صدقہ اور خیرات کریں گے اور زکوٰۃ نکالیں گے اور صدقہ اور زکوٰۃ دے کر ضرور نیک بختوں میں سے ہوجائیں گے۔
پھر جب اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کو مال دے دیا تو انہوں نے اس پر بخل کیا اور زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔ اور عہد و پیمان سے منہ پھیر لیادر آنحالیکہ وہ ٹلانے والے تھے۔
پس خدا تعالیٰ سے صریح وعدہ خلافی کرنے اور جھوٹ بولنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے قیامت تک کے لیے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا کہ جس دن وہ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے یعنی قیامت تک ان کو توبہ سے محروم کردیا جب اللہ سے ملیں اس وقت بھی منافق ہوں گے اور ان کو یہ سزا اس وجہ سے ملی کہ انہوں نے خدا سے وعدہ خلافی کی اور اس لیے کہ خدا سے جھوٹ بولتے رہے اس آیت سے معلوم ہوا کہ وعدہ خلافی اور جھوٹ سے آدمی کے دل میں نفاق پیدا ہوا جاتا ہے۔ اس وجہ سے حدیث میں جھوٹ اور وعدہ خلافی کو نفاق خصلتوں میں شمار فرمایا ہے۔
کیا ان منافقوں نے یہ نہیں جانا کہ تحقیق اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے پوشیدہ اسرار کو اور ان کی کانا پھوسی کو جو اسلام کی مخالفت میں کرتے رت ہے ہیں۔ خوب جانتا ہے اس پر ان کی کوئی کارروائی مخفی نہیں اور ان کو یہ معلوم نہیں کہ تحقیق اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے۔ تمہارے مشورے اس پر پوشیدہ نہیں۔
جرم چہارم۔ اہل ایمان کے صدقات پر طعنہ زنی
ایک مرتبہ آں حضرت ﷺ نے مسلمانوں کو صدقہ اور خیرات کی ترغیب دی تو بعض صحابہ تو بہت سا مال لے کر حاضر ہوئے تو منافقین نے کہا کہ یہ تو ریاکار ہے اپنے نام اور شہرت کی خاطر لے کر آیا ہے اور بعض غریب ونادار مسلمان جو محنت و مزدوری کیا کرتے تھے۔ وہ بہت تھوڑا لے کر حاضر ہوئے ایک صحابی ایک صاع کھجور کا لے کر حاضر ہوئے اس پر منافقین نے یہ طعن کیا کہ بھلا خدا اور رسول کو ایک صاع کی کیا ضرورت ہے۔ غرض یہ کہ ان کی زبان طعن سے نہ تھوڑا لانے والا اور نہ زیادہ لانے والا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان منافقوں میں وہ لوگ بھی ہیں جو ان مسلمانوں پر بھی طعن کرتے ہیں جو دل کھول کر صدقات و خیرات کرتے ہیں اور ان غریب مسلمانوں پر بھی طعن کرتے جو سوائے اپنی محنت اور مشقت کے کچھ نہیں پاتے پھر ایسے غریبوں اور ناداروں کا خاص طور پر مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ ان غریب مسلمانوں سے ٹھٹھا کرتے ہیں اللہ قیامت کے دن ان سے ٹھٹھا کرے گا۔ تمسخر کا بدلہ تمسخر سے ملے اور اس کے علاوہ آن کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے جو ان کے لیے قطعی طور پر تجویز ہوچکا ہے۔
لہذا آپ ان مسخرہ پن کرنے والے منافقین کے لیے دعاء مغفرت کریں یا نہ کریں ان کے حق میں بالکل بیکار اور بےفائدہ ہے آپ اگر ان کے لیے ستر مرتبہ بھی خدا سے مغفرت مانگیں گے تب بھی ہرگز اللہ ان کو نہیں بخشے گا ستر کا عدد تحدید اور تعیین کے لیے نہیں بلکہ محض مبالغہ اور کثرت کے لیے ہے مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے معافی مانگنا فضول ہے مانگو یا نہ مانگو کسی طرح نہیں بخشے جائیں گے خواہ تم ان کے لیے کتنی ہی بار معافی مانگو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ ایسا کفر کیا کہ تمسخر کی حد تک پہنچ گئے جس سے مغفرت کی صلاحیت اور اہلیت ہی ختم ہوگئی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ تمسخر دلیل اس امر کی ہے کہ دل پر مہر لگ چکی ہے اور اللہ نہیں راہ دکھاتا ایسے فاسقوں کو جو اپنے کفر میں متمرد اور سرکش ہوگئے ہوں۔
جرم پنجم۔ تخلف از غزوۂ تبوک
ان منافقوں کا ایک جرم یہ ہے کہ برائی اور عیب کے کام سے خوش ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس برائی کی دعوت اور ترغیب دیتے ہیں ایسوں کو نبی کے استغفار سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے جو لوگ ان منافقین میں سے اپنے اصرار کی وجہ سے پیچھے چھوڑ دئیے گئے تھے وہ رسول اللہ ﷺ نے جھوٹے عذروں کی بناء پر جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت دے دی تھی وہ رسول اللہ ﷺ کی خلاف مرضی اپنے گھر میٹھے رہنے سے بہت خوش ہوئے یعنی جن منافقوں کو رسول اللہ ﷺ نے جھوٹے عذروں کی بناء پر جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت دے دی تھی وہ رسول اللہ ﷺ کی خلاف مرضی اپنے گھر بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ خلاف کے بعد آپ ﷺ کے پیچھے اپنے گھر بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ خلاف کے معنی مخالف کے نہیں بلکہ خلف بمعنی بعد کے ہیں یعنی رسول اللہ ﷺ کے چلے جانے کے بعد آپ کے پیچھے اپنے گھر بیٹھے رہنے سے پر خوش ہوئے اور اپنے جان و مال سے خدا کی راہ میں جہاد کرنے کو مکروہ سمجھا۔ خود بھی آرام طلب بنے اور دوسروں کو بھی کہنے لگے کہ گرمی میں جہاد کے لیے نہ نکلو نہ خود گئے اور دوسروں کو بھی روکنا چاہا۔ اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ اس سے کہیں زیادہ سخت گرم ہے۔ کاش کہ یہ منافق سمجھتے ہوتے کہ رسول اللہ کی مخالفت میں کتنی سخت آگ میں جلنا پڑے گا۔
سو یہ منافق جو اس وقت جہاد سے پیچھے رہنے پر خوش ہو رہے ہیں دنیا میں تھوڑے دنوں ہنس لیں اور اس کے بدلے آخرت میں بہت سا روئیں یہ امر بمعنی خبر ہے اور صیغۂ امر اس لیے لایا گیا تاکہ دلالت کرے کہ قیامت کے دن بہت سا روئیں ابد الآباد تک روتے ہی رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا ہنسنا چند روزہ ہے اس کے بعد رونا ہی رونا ہے یہ ان کا آخرت میں رونا بطور بدلہ کے ہوگا جو دنیا میں کماتے تھے۔ دنیا میں کفر اور معصیت کر کے ہنستے اور خوش ہوتے تھے۔ آخرت میں اس کے بدلہ ابد الآباد تک رونا پڑے گا
جب ان کا حال معلوم ہوگیا اگر خدا تعالیٰ آپ کو اس سفر سے صحیح سالم ان میں سے کسی جماعت کی طرف مدینہ واپس لائے پھر یہ لوگ بطور خوشامد ودفع الزام سابق کسی دوسرے غزوہ میں آپ کے ساتھ نکلنے کی اجازت مانگیں تو آپ ان سے کہہ دیں کہ تم میرے ساتھ کبھی ہرگز نہیں نکلو گے اور میرے ساتھ ہو کر ہرگز کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے یعنی اگر آپ غزوۂ تبوک سے صحیح سالم مدینہ واپس آجائیں اور پھر دوسرے غزوہ کی تیاری کریں اور جو منافق اس غزوہ میں آپ کے ساتھ نہیں نکلے وہ اس غزوہ میں آپ کے ساتھ نکلنے کی اجازت مانگیں تو ان کو اجازت نہ دینا اور یہ کہہ دینا کہ تحقیق تم پہلی بار اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے پر خوش رہے سو اب دوسری باری بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں پہلی بار کی طرف اس مرتبہ بھی بچوں اور عورتوں اور ناتواں بوڑھوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔
خلاصہ کلام یہ کہ ان آیات میں حق تعالیٰ نے منافقین کی ازلی شقاوت کی خبر دی اور آئندہ کے لیے ان لوگوں کو جہاد میں ساتھ لے جانے سے منع کیا۔ اور گزشتہ آیات میں یہ بتلایا تھا کہ ان لوگوں کے لیے استغفار بےکار ہے یہ ازلی بد بخت ہرگز اس قابل نہیں کہ ان کی مغفرت کی جائے اب آئندہ آیت میں صراحۃ ان کی نماز جنازہ پڑھنے کی اور ان کے لیے مغفرت کی ممانعت فرماتے ہیں اور آں حضرت ﷺ نے جو عبداللہ بن ابی منافق کی نماز پڑھی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ آں حضرت ﷺ نے جو عبداللہ بن ابی منافق کی نماز پڑھی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ آں حضرت ﷺ پر بدرجۂ کمال شفقت و رحمت کا غلبہ تھا جیسا کہ انبیاء کرام کی شان ہے چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے متعلق یہ فرمایا ومن عصانی فانک غفور رحیم اس لیے آپ ﷺ نے یہ جان کر کہ ان کے حق میں استغفار بےسود ہے ہدایت خلق کی حرص اور طمع میں کمال شفقت و رحمت کی بنا پر استغفار کی جانب کو ترجیح دی کہ شاید آپ کی یہ استغفار دوسروں کے حق میں ہدایت کا ذریعہ بن جائے چناچہ آپ کا یہ تلطف دیکھ کر اور بہت سے یہودی مسلمان ہوگئے۔
بہرحال آپ ﷺ پر شفقت و رحمت کا غلبہ تھا اس کے ظاہری اسلام کی بناء پر آپ نے اس منافق کی نماز جنازہ پڑھا دی اور پیراہن مبارک بھی عطا کردیا۔ اس پر آئندہ آیت یعنی ولا تصل علی احد منھم الخ نازل ہوئی جس میں صراحۃ ممانعت ہوگئی اور بتلا دیا گیا کہ نبی کی نماز جنازہ اور نبی کا پیراہن بغیر ایمان کے ذریعہ نجات کا نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 9:85–89کفار اور منافقین کا ایک شبہ اور اس کا ازالہ
قال اللہ تعالیٰ ۔ ولا تعجبک اموالھم واولادھم۔۔۔ الی۔۔۔ ذالک الفوز العظیم
(ربط): گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کا مبغوض عنداللہ ہونا بتلایا اب اس بارے میں ایک شبہ کا ازالہ فرماتے ہیں وہ یہ کہ ان کے پاس جو کچھ مال اور اولاد ہے وہ ان کے محبوب ہونے کی دلیل نہیں بلکہ ان کے مبغوض ہونے کی علامت ہے اور ان کو جو مال و دولت دیا گیا ہے وہ ان کے حق میں ذریعہ عذاب ہے سو اے مسلمانو تمہیں ان کے مال و دولت سے دھوکہ میں نہ پڑنا چاہئے مال کو اگر خدا تعالیٰ کی اطاعت اور جہاد فی سبیل اللہ کا ذریعہ بنایا جائے تو وہ نعمت ہے اور اگر اس کو معصیت کا ذریعہ بنایاجائے تو وہ مال و دولت عذاب اور مصیبت ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔
اور تعجب میں نہ ڈالیں آپ کو ان منافقین کے مال اور اولاد کہ باوجود مغضوب خداوندی ہونے کے ان کو یہ نعمتیں کیسے عطا ہوئیں سو خوب سمجھ لو کہ ان کو مال واولاد کے عطا کرنے سے انعام و اکرام مقصود نہیں بلکہ جز ایں نیست کہ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ ان مجرمین کو ان کے مال واولاد کے سبب سے دنیا میں عذاب دے کہ دنیا میں تحصیل مال اور اس کی حفاظت کے رنج وتعب میں رہیں۔ اور اولاد کی تربیت میں اور ان کے لیے سامان راحت مہیا کرنے میں ہر وقت محنت اور مشقت کھینچتے رہیں اور جب مریں تو ان کی روحیں نہایت حسرت کے ساتھ اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔ یعنی کفر ہی پر اس جہان سے خالی ہاتھ جائیں اور مال واولاد یہاں چھوڑ جائیں اور حسرتیں اور ندامتیں ساتھ لے جائیں۔
مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کافروں کو مال واولاد میں ترقی دے رکھی ہے یہ اس لیے نہیں کہ وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہیں بلکہ اللہ کا مقصود ان کے مال واولاد بڑھانے سے یہ ہے کہ مال واولاد ہی انسان کی گمراہی کا ذریعہ ہیں۔ باقی خداوند تعالیٰ کے نزدیک مقبول ومحبوب ہونے کا ذریعہ صرف اس کی اطاعت ہے۔ بارگاہ خداوندی میں عزت ایمان اور اطاعت سے ملتی ہے نہ کہ مال و دولت سے۔ وللہ العزۃ ولرسلہ ولل مومنین ولکن المنافقین لا یعلمون۔
در اول چو خواہی کنی مال جمع بسے رنج برخوش باید گماشت
پس از بہر آں تا بماند بجائے شب وروز می بایدت پاس داشت
وزیں جملہ آں حال مشکل تر است کہ آخر بحسرت بباید گذاشت
فائدہ : یہ آیت اس سے چار رکوع پہلے بھی گزر چکی ہے مگر چونکہ ایک عظیم شبہ کے ازالہ پر مشتمل ہے اس لیے بغرض تاکید اس کو دوبارہ ذکر کیا گیا اس لیے کہ عام طبیعتوں میں حرص کا مادہ غالب ہے۔ اس لیے مال و دولت کو دیکھ کر نظریں چکا چوند ہوچاتی ہیں سو بتلا دیا کہ اگر مال و دولت خدا تعالیٰ کی اطاعت کا ذریعہ بنیں تو نعمت ہیں اور اگر اس کی معصیت کا ذریعہ بنیں تو عذاب اور مصیبت ہیں
اور یہ اموال واولاد ان منافقین کے حق میں ذریعہ عذاب اس وجہ سے بنا کہ ان کی حالت یہ ہے کہ جب کوئی سورت اس مضمون کی نازل ہوتی ہے کہ اللہ پر دل وجان سے ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو کر جہاد کرو تو جو ان میں سے صاحب دولت و ثروت ہیں تو وہ آپ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کی اجازت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ ہم کو یہیں چھوڑ جائیے۔ یعنی اپنے ساتھ لشکر میں نہ لے چلیں تاکہ رہیں ہم گھر بیٹھنے والوں کے ساتھ
ان لوگوں پر راحت طلبی اس قدر غالب ہے کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ خانہ نشین عورتوں کے ساتھ رہیں اور مردوں کے ساتھ جہاد میں نہ جائیں۔
خوالف کے معنی پیچھے رہنے والی عورتوں کے ہیں۔ چونکہ مردوں کے پیچھے اپنے گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں اس لیے عورتوں کو خوالف کہتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر کفر اور نفاق کی مہر لگا دی گئی ہے۔ پس اس لیے وہ جہاد کے انوار وبرکات اور اس کی سعادت کو نہیں سمجھتے۔
لیکن رسول خدا اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ شامل ہو کر ایمان لائے ان لوگوں نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا۔ یعنی اگر ان منافقوں نے جہاد نہیں کیا اور پیچھے رہ گئے تو کیا نقصان ہوا۔ ان سے بہتر لوگوں نے جہاد کیا اور ایسوں ہی کے لیے دنیا اور آخرت میں خوبیاں ہیں اور یہی لوگ آخرت میں مراد کو پہنچنے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے درختوں اور مکانات کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ہمیشہ ان ہی باغوں میں رہیں گے یہی بڑی کامیابی ہے اور ان نادانوں نے گھر میں بیٹھے رہنے کو کامیابی سمجھ رکھا ہے۔
فائدہ : امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آدمی کسی سے مکر اور فریب اور نفاق دیکھے تو اس سے قطع تعلق کردے اور اس کی معاونت اور مجالست اور مصاحبت سے بھی احتراز کرے ایسے لوگوں کو جہاد میں ساتھ نہ لے جائے اور اگر مرجائیں تو ان کی نماز جنازہ نہ پڑھے اور نہ ان کی قبر پر جاکر کھڑا ہو۔ لعنۃ اللہ علیھم اجمعین۔
منافقین اعراب کے اعذار کا ذبہ کا ذکر
Ayahs 9:90–93قال اللہ تعالیٰ ۔ وجاء المعذرون من الاعراب۔۔۔ الی۔۔۔ عذاب الیم۔
(ربط): اوپر کی آیتوں میں شہر مدینہ کے منافقوں کے احوال بیان کیے اب اس آیت میں منافقین اور ان کے اعذار کاذبہ کا حال بیان ہوتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اے جنگ تبوک کی روانگی کی وقت دیہاتیوں میں سے عذر کرنے والے جنہوں نے قلت مال اور کثرت عیال کا ذکر کیا تاکہ ان کو جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت دے دی جائے۔ معذرون کی اصل معتذرون ہے جو اعتذار سے مشتق ہے اور اعتذار کا استعمال عذر کاذب اور عذر صادق دونوں میں صحیح ہے اس بناء پر مفسرین میں اختلاف ہے کہ آیا یہ عذر کرنیوالے دیہاتی اپنے عذر میں سچے تھے یا جھوٹے تھے بعض کہتے ہیں کہ سچے تھے اور بعض کہتے ہیں کہ جھوٹے تھے بہرحال انکا عذر سچا ہو یا جھوٹا مطلب یہ ہے کہ ان دیہاتیوں نے جہاد میں جانے سے عذر کیا اور آں حضرت ﷺ سے پیچھے رہنے کی اجازت مانگی اور ان دیہاتیوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ جو عذر کرنے بھی نہ آئے اور انہوں نے اسلام کا جھوٹا دعویٰ کر کے خدا اور رسول سے جھوٹ بولا تھا۔ یہ بلا اجازت مانگے ہی اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور بالکل ہی چھپ کر گھروں میں بیٹھے رہے اور عذر کرنے کے لیے بھی آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے ان میں سے جو آخر تک کفر پر قائم رہے ان کو آخرت میں دردناک عذاب پہنچے گا اور جو توبہ کرلیں گے وہ عذاب سے بچ جائیں گے۔
مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ تو ایسے تھے کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے پیچھے رہنے کی اجازت مانگی آپ ﷺ نے ان کو اجازت دے دی اور بعضے تو اس قدر بےباک نکلے کہ اپنے گھروں ہی میں بیٹھے رہے اور عذر کرنے بھی نہ آئے اور ظاہر داری کا بھی خیال نہ کیا۔
Ayahs 9:94–96قال اللہ تعالیٰ ۔ یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم۔۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین
(ربط): اوپر ان منافقین کا ذکر تھا جنہوں نے غزوۂ تبوک کی روانگی کے وقت طرح طرح کے عذر اور حیلے بہانے تراشے تھے اب ان آیات میں ان منافقین کے متعلق خبر دی جاتی ہے جو اس غزوہ سے واپس آنے کے بعد تمہارے پاس آ کر اپنے نہ جانے کے عذر بیان کریں گے۔ یہ آیتیں غزوۂ تبوک کی واپسی سے پہلے نازل ہوئیں جن میں یہ خبر دے دی گئی کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی واپسی کے بعد آپ ﷺ کے پاس آکر آپ کے ساتھ نہ جانے کے عذر بیان کریں گے اور قسمیں کھائیں گے مگر اے نبی آپ ان سے صاف کہہ دیجئے کہ اب کوئی عذر نہ کرو۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری اندرونی کیفیت سے بخوبی آگاہ کردیا ہے ہم تمہاری کسی بات کا یقین نہیں کریں گے اور نہ تمہاری کوئی بات سنیں گے اور اگر تم اپنے سچے ہونے پر اصرار کرتے ہو تو خیر اب اس قصہ کو چھوڑو آئندہ تمہارا طرز عمل دیکھا جائے گا کہ کیا کرتے ہو ظاہر کے مطابق تم سے معاملہ کیا جائے گا اور باطن کا حال عالم الغیب والشہادۃ کے حوالہ کیا جائے گا ان آیات میں حق تعالیٰ نے نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ تم ان کا عذر قبول نہ کرنا اور نہ ان کے حلف کو سچا سمجھنا بلکہ ان کو گندہ اور ناپاک سمجھ کر اعراض کرنا اور منہ پھیرلینا یہ لوگ خبیث اور گندے اور ناپاک باطن ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے یہ لوگ قابل التفات نہیں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے مسلمانوں کو ان کے جھوٹ کی خبر دے دی تاکہ وقت پر خوب فضیحت اور رسوا ہوں۔ چناچہ فرماتے ہیں 1 ۔
یہ نادان منافق تمہارے سامنے عذر پیش کریں گے۔ جب تم غزوہ تبوک سے ان کی طرف مدینہ واپس آؤگے۔ اے نبی آپ کہہ دیجئے کہ تم حیلے بہانے نہ بناؤ ہم ہرگز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہاری باتوں اور حالات سے ہم کو خبر دے دی ہے اور آئندہ اللہ اور اس کا سول تمہارے کاموں کو دیکھے گا۔ اور اس کے مطابق تمہارے ساستھ معاملہ کرے گا۔ پھر تم قیامت کے دن عالم الغیب والشہادۃ کی طرف لوٹائے جاؤ گے سو وہ تم کو آگاہ کردے گا۔ جو کچھ تم کرتے تھے یعنی تمہارے نفاق کو ظاہر کردے گا۔ جس سے تم سب کے سامنو رسوا ہوؤ گے۔
1 ۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یعتذرون کی ضمیر فھم لا یعلمون کی طرف راجع ہے جس پر گذشتہ پارہ ختم ہوا۔ منہ عفا اللہ عانہ
مسلمانو عنقریب وہ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھائیں گے جب تم سفر سے ان کی طرف واپس آؤ گے کہ ہم مجبور اور معذور تھے۔ تاکہ تم ان سے اعراض کرو یعنی ان پر غصہ اور ملامت نہ کرو یہ لوگ ناپاک اور گندے ہیں ان کو سرزنش بےکار ہے پس اے مسلمانو ! تم ان کی خواہش کے مطابق ان سے اعراض کرو۔ اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو تحقیق یہ لوگ پلید ہیں ان کے پاک ہونے کی امید نہیں تہدید اور ملامت ان کے حق میں مفید نہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے تاکہ ان کو بدلہ ملے اس کفر اور نفاق کا جو کماتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ملامت اور سرزنش سے مقصود اصلاح ہے اور ان گندوں کی اصلاح کی کوئی امید نہیں۔
نیز یہ منافق تمہارے سامنے اس لیے قسمیں کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ اور وہ تمہارے تعرض اور مواخذہ سے بےخوف ہوجائیں۔ ان کی قسم مسلمانوں کی خوشنودی کے لیے ہے اللہ کی خوشنودی کے لیے نہیں سو اے سلمانو ! اگر بالفرض والتقدیر تم ان جھوٹ بولنے والے منافقوں سے ظاہر کے اعتبار سے راضی بھی ہوجاؤ تو ان کو کیا فائدہ ہوگا تحقیق اللہ تعالیٰ بدکاروں سے راضی نہیں ہوتا۔ یعنی خدا کے غصہ اور ناراضی کے ساتھ مسلمانوں کا ظاہری طور پر ان سے راضی ہوجانا ان کے حق میں مفید نہیں آس آت سے مقصود مسلمانوں کو ممانعت کرنا ہے کہ ان سے راضی نہ ہوں اور ان کے جھوٹے عذروں سے ان کے فریب میں نہ آجائیں۔ شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں " جس شخص کا حال معلوم ہو کہ منافق ہے اس کی طرف سے تغافل روا ہے۔ لیکن دوستی اور محبت اور یگانگت روا نہیں
Ayahs 9:97–99مذمت منافقین اعراب اور مدح مخلصین اعراب
قال اللہ تعالیٰ الاعراب اشد کفرا ونفاقا۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ غفور رحیم
(ربط) یہاں تک مدینہ کے منافقین اور مومنین مخلصین کے احوال بیان ہوئے اب ان آیات میں اعراب (اہل دیہات کا کچھ حال بیان کرتے ہیں کہ ان میں بھی کئی طرح کے آدمی ہیں کفار اور منافقین اور مخلصین ان میں جو منافق ہیں ان کی مذمت فرماتے ہیں اور جو ان میں سے مخلصین ہیں ان کی مدح فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ سب اعراب یکساں نہیں بعض ان میں سے سخت منافق ہیں کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کو تاوان سمجھتے ہیں اور مسلمانوں پر مصیبت آنے کی خواہش میں رہتے ہیں اور بعضے ان میں سے سچے ایماندار ہیں اور وہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اسے باعث ثواب سمجھتے ہیں اور ہر وقت اسلام اور مسلمانوں کی عزت اور ترقی کے آرزو مند رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ظاہر فرمائے گا چناچہ فرماتے ہیں
ان منافقین میں جو دیہاتی ہیں وہ کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں یعنی عرب کے دیہاتیوں کا کفر اور نفاق شہر مدینہ کے منافقوں کے کفر اور نفاق سے بڑھا ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ رسول خدا سے اور علماء سے اور عقلاء سے دور رہتے ہیں اور ان کو قرآن وسنن اور مواعظ کے سننے کا بہت کم اتفاق ہوتا ہے اس لیے یہ لوگ مجلس علم سے دوری اور اہل علم کی صحبت سے محرومی کی وجہ سے جہالت میں غرق ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دل اور بھی سخت ہوگئے اور یہ سخت دل وحشی اسی لائق ہیں کہ شریعت کی حدود کو نہ جانیں کہ جو خدا نے اپنے رسول پر نازل کی ہے۔ اسی لیے یہ لوگ جھوٹی قسم کی قباحت کو بھی نہیں جانتے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ ان جھوٹوں کو مہلت دینا حکمت پر مبنی ہے۔
اور اسی لاعلمی اور جہالت کی بنا پر دیہاتی منافقوں میں میں بعض ایسے بھی ہیں کہ جو مال وہ خدا کی راہ میں کبھی خرچ کرتے ہیں اس کو تاوان سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اس خرچ پر ان کو ثواب کی امید نہیں محض دکھلاوے کے لیے کچھ خیرات کردیتے ہیں اور اے مسلمانو ! وہ تمہارے بارے میں زمانے کی گردشوں کے منتظر ہیں کہ مسلمانوں کی عزت ووجاہت کا خاتمہ ہوتا کہ نفاق سے چھٹکارا پائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں انہی پر بری گردش ہوگی کہ اسلام کا عروج ہوگا۔ جس سے ان کے رنج وغم میں اور زیادتی ہوگی اور اللہ تعالیٰ ان کے اقوال کو سننے والا اور ان کی بدباطنی کا جاننے والا ہے۔
اور ان کے برعکس دیہاتیوں میں ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں اور جس چیز کو وہ خرچ کرتے ہیں اور اس کو خدا کے قرب اور رضا کا ذریعہ اور رسول کی دعاؤں کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ آں حضرت ﷺ خیرات دینے والوں کے لیے خیر و برکت کی دعا کیا کرتے تھے۔ چناچہ جب ابو اوفی ؓ آپ ﷺ کے پاس صدقہ لے کر آئے تو آپ نے یوں دعا فرمائی۔ اللہم صل علی آل ابی اوفی (یعنی اے اللہ تو آل ابی اوفی پر اپنی رحمت فرما) آگاہ ہوجاؤ کہ بیش وہ خیرات ان کے لیے خدا کی قربت کا ذریعہ ہے۔ البتہ خدا تعالیٰ ان کو اپنی خاص رحمت میں داخل کرے گا جو ہر طرف سے ان کے ظاہر و باطن کو محیط ہوگی بیشک اللہ تعالیٰ خیرات کرنے والوں کو بخشنے ولاا اور ان پر مہربان ہے۔
یہ آیت قبائل مزینہ اور اسلم اور غفار اور جہینہ کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے تھے اور ثواب کی نیت سے راہ خدا میں خیرات کرتے تھے معلوم ہوا کہ جو شخص صحیح ایمان اور اخلاص اور سدق نیت سے صدقہ اور خیرات کرے گا وہ بلاشبہ خدا کے قریب ہونے کا ذریعہ بنے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس کا موجب قربت ہونا عسی اور لعل کے ساتھ ظاہر نہیں کیا بلکہ الا حرف تنبیہ اور ان حرف تاکید کے ساتھ ظاہر کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایسا مخلصانہ صدقہ بالیقین اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے۔
Ayah 9:100ذکر اعیان مومنین و فضائل سابقین اولین
قال اللہ تعالیٰ ۔ و السابقون الاولون۔۔۔ الی۔۔۔ ذلک الفوز العظیم
(ربط): اوپر کی آیت میں مومنین اعراب کا ذکر تھا جو متوسط درجہ کے مومن تھے اب اس آیت میں اعیان مومنین یعنی چیدہ اور پسندیدہ مسلمانوں کا ذکر ہے جن کو ایمان کا اعلی مرتبہ حاصل تھا۔ یعنی سابقین اولین اور مہاجرین وانصار کے فضائل و مراتب کا ذکر ہے جن کو سبقت اور اولیت کا شرف حاصل ہوا اور یہ طبقہ امت کے تمام طبقوں سے افضل ہے چناچہ فرماتے ہیں
اور مہاجرین اور انصار میں سے قبول اسلام اور ہجرت اور نصرت میں سب امت سے سبقت کرنے والے اور سب سے اول رہنے والے اور جن لوگوں نے ان کے بعد ایمان اور اخلاص کے ساتھ ان سابقین اولین کی پیروی کی اور ان کے نقش قدم پر چلے تو ان سب سے اللہ راضی ہوا کہ ان کی طاعت اور خدمت کو ہجرت اور نصرت کو اور ان کی متابعت کو قبول کیا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے کہ وہ خدا سے دین ودنیا کی نعمتیں پاکر خوش ہوئے۔ اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کیے ہیں جن کے درختوں اور مکانات کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ہمیشہ ان باغوں میں رہیں گے۔ یہی بڑی ہے کامیابی کہ اللہ ان سے راضی ہوا۔
لطائف ومعارف
1 ۔ سابقین اولین کی تفسیر میں علماء تابعین کے مختلف اقوال آئے ہیں ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ سابقین اولین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی بیت المقدس کی طرف بھی اور کعبہ کی طرف بھی یعنی قبلہ بیت المقدس کے منسوخ ہونے سے پہلے جو لوگ ایمان لائے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ لوگ مراد ہیں جو جنگ بدر میں شریک ہوئے امام خر الدین رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ اس جگہ سابقین اولین سے وہ لوگ مراد ہیں جو ہجرت اور نصرت میں سابق اور اول ہیں کیونکہ سابقین اولین کا لفظ مجمل ہے جس میں یہ نہیں فرمایا کہ کس چیز میں سابق اور اول ہیں پھر ان کو مہاجرین اور انصار کے ساتھ موصوف فرمایا معلوم ہوا کہ صفت ہجرت اور صفت نصرت میں سبقت اور اولیت مراد ہے۔
2 ۔ اور والذین اتبعوھم سے وہ لوگ مراد ہیں جو سابقین اولین کے بعد آئے اور ان کے نقش قدم پر چلے خواہ وہ صحابہ ؓ ہوں یا تابعین رحمہم اللہ ہوں یا تبع تابعین یا ان سے بھی بعد۔ غرض یہ کہ والذین اتبعوھم سے تمام وہ لوگ مراد ہیں جو مہاجرین اور انصار کی پیروی کریں۔ خواہ وہ کسی زمانے میں ہوں۔ وہ سب جنت کے مستحق ہیں اور خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش پس یہ آیت قیامت تک جملہ مسلمانوں کو شامل ہے جو صحابہ کے طریقہ پر ہوں اوراقوال وافعال میں ان کے پیرو ہوں بغیر صحابہ کے اتباع اور پیروی کے خدا کی رضا اور جنت نہیں مل سکتی اور اہل سنت والجماعت کا یہی طریقہ ہے کہ انبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی سنت اور جماعت صحابہ کرام کے طریقہ پر چلتے ہیں اس لیے ان کو اہل سنت والجماعت کہا جاتا ہے۔
3 ۔ اس آیت سے صحابہ کا مومن کامل ہونا معلوم ہوا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کافر اور منافق سے راضی نہیں ہوتا۔ کما قال تعالیٰ ان اللہ لا یرضی عن القوم الکافرین۔ ان اللہ لا یرضی عن القوم الفاسقین۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام نہ کافر تھے اور نہ فاسق۔ الغرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین اور انصار کی مدح فرمائی اور انہیں جنت کی خوشخبری دی اور ان کو اپنی خوشنودی کا پروانہ عطا کیا کہ اللہ ان سے راضی ہوا یہ وہ عظیم فائز المرامی ہے کہ اس کے بعد کامیابی کا کوئی درجہ باقی نہیں رہتا اس آیت نے منکرین صحابہ کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوری۔ اس آیت نے تمام مہاجرین اور انصار کا ایمان ثابت کر کے فرقۂ امامیہ کے عقیدہ کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اس لیے کہ آیت میں جس قدر وعدے ہیں وہ سبقت ہجرت پر اور نصرت پر موقوف ہیں ایمان اور اعمال صالحہ کا ذکر نہیں۔
3 ۔ اس آیت میں حق جل شانہ نے صحابہ کرام کے لیے بلا کسی شرط کے اپنی رضا اور مغفرت اور جنت کا وعدہ فرمایا بخلاف تابعین کے یعنی بعد میں آنے والوں کے لیے یہ قید لگا دی گئی کہ بشرطیکہ وہ مہاجرین اور انصار کا اتباع کریں اور اعمال اور افعال میں ان کے طریقہ پر چلیں۔ ازالۃ الخفاء۔