Ayahs 9:101–105زعماء منافقین کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ وممن حولکم من الاعراب منافقون۔۔ الی۔۔۔ عذاب عظیم۔
(ربط): اوپر کی آیت میں اعیان مومن ین۔ یعنی مومنین کاملین کا ذکر تھا اب اس آیت میں زعماء منافقین کا ذکر ہے جو مدینہ میں اور مدینہ کے آس پاس رہتے تھے اور سرتاپا نفاق میں غرق تھے اور فن نفاق میں ایسے ماہر وحاذق اور پختہ تھے کہ نبی اکرم ﷺ باوجود کمال فراست کے ان کے نفاق پر مطلع نہ ہوسکے چناچہ مردوا علی النفاق کے بعد جو لفظ لا تعلمھم بڑھایا گیا وہ اسی طرف اشارہ ہے اعیان مومنین کے ذکر کے بعد اعیان منافقین کا ذکر نہایت مناسب ہے جس طرح مہاجرین اور انصآر کو ہجرت اور نصرت میں سبقت اور اولیت کا شرف حاصل تھا اسی طرح ان منافقین کو اسلام کی عداوت میں پیش پیش ہونے کا نشان ملا تھا چناچہ فرماتے ہیں :
اور اے مسلمانو ! تمہارے آس پاس کے دیہاتیوں میں سے کچھ لوگ منافق ہیں یعنی مدینہ کے گرد جو اعراب آباد ہیں ان میں سے بعض منافق ہیں اور مدینہ کے باشندوں میں سے بھی بعض منافق ہیں جو نفاق پر اڑے ہوئے اور جمے ہوئے ہیں۔ لفظ مردوا میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ لوگ شیطان کے مانند متمرد اور سرکش ہیں یہ لوگ اپنے نفاق سے توبہ کرنے والے نہیں اور یہ نفاق میں اتنے ماہر اور پختہ ہیں کہ آپ ﷺ بھی باوجود کمال فراست کے ان کو نہیں جانتے آں حضرت ﷺ کی کمال فراست سے منافقوں کو ان کے انداز گفتگو سے معلوم کرلیا کرتے تھے مگر یہ منافق ایسے چال باز تھے کہ ان کا نفاق آں حضرت ﷺ پر بھی مخفی رہا جب تک خدا تعالینے آپ کو نہ بتلایا اس لیے فرمایا کہ آپ ان کے نفاق کو نہیں جانتے ہم ان کے ناق کو خوب جانتے ہیں کیونکہ دلوں کے بھید ہم پر مخفی نہیں ہم ان کو دھرا عذاب دیں گے ایک بار جان کندنی کے وقت کہ فرشتے جان نکالتے وقت ان کے مونہوں اور پیغھوں پر آگ کے چابک ماریں گے اور ایک مرتبہ قبر میں پھر قبر کے بعد وہ آخرت میں بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے یا یہ مطلب ہے کہ ایک بار دنیا میں فضیحت کر کے اور دوسری بار قبر میں عذاب دے کر جیسا کہ ابن عباس اور ابن مسعود کی ایک روایت 1 میں ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے روز حضور پر نور ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر تقریبا چھتیس آدمیوں کو نام بنام پکار کر فرمایا۔ اخرج فانک منافق۔ یعنی تو منافق ہے مسجد سے نکل جا یہ فضیحت اور رسوائی بھی ایک قسم کا عذاب تھا یا مرتین کا مطلب یہ ہے کہ دنیا ہی میں بار بار عذاب اور مصیبت میں مبتلا ہونے کے ہیں اور عذاب آخرت یعنی ورک اسفل وہ اس دنیا سے گذرنے کے بعد ہوگا اور مرتین کا لفظ فقط دو کا عدد بیان کرنے کے لیے نہیں تعدد اور تکثر کے بیان کے لیے ہے جیسے ثم ارجع البصر کر تین میں تعدد اور تکثر کے معنی مراد ہیں۔
Ayah 9:106ذکر قسم دوم
قال اللہ تعالیٰ ۔ واخرون مرجون لامر اللہ الایۃ۔
ان آیات میں مومنین متخلفین کی قسم دوم کا کر ہے یہ تین آدمی تھے کعب بن مالک اور ہلال بن مایہ اور مرارۃ بن ربیع ؓ ان تینوں آدمیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے تو نہیں باندھا تھا مگر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے گناہ کا اقرار کیا آپ ﷺ نے حکم دیا کہ کوئی مسلمان ان سے بات نہ کرے اور نہ ان کے پاس بیٹھے۔ ان کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم پر موقوف رکھا گیا یعنی جن کا معاملہ اللہ کے حکم کے انتظار میں التواء میں رکھا گیا ہے یا تو اللہ ان کو سزا دے یا ان پر مہربانی فرمائے کہ ان کی خطا کو معاف کرے اور ان کی توبہ کو قبول کرے یعنی ان کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے چاہے ان کو جہاد سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے سزا دے یا ان کو اپنی رحمت سے معاف کرے اللہ جاننے والا ہے نیتوں کو حکمت والا ہے ہر ایک کے ساتھ اس کی نیت کے مطابق معاملہ کرتا ہے۔
Ayahs 9:107–110ذکر مسجد ضرار ومسجد تقوی
قال اللہ تعالیٰ ۔ والذین اتخذوا مسجدا ضرار۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم۔
(ربط): اوپر سے مسلسل منافقین کا ذکر چلا آرا ہے اب ان آیات میں منافقین کی ایک خاص خباثت کا ذکر ہے وہ یہ کہ انہوں نے مسجد قباء کے مقابلہ میں اور ضد میں ایک مسجد بنائی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسجد کے نام سے منافقین کا ایک دفتر اور ایک اڈہ قائم ہوجاے۔ جس میں جمع ہو کر آں حضرت ﷺ کے خلاف مشورے کیا کریں نام اس کا مسجد ہو اور حقیق اس کی منافقین کی ایک انجمن ہو جس کا قصہ یہ ہوا کہ آں حضرت ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے آئے تو اول مدینہ سے باہر قباء میں فروکش ہوئے چند روز وہاں قیام کر کے مدینہ میں تشریف لے گئے اور مسجد نبوی کی تعمیر کی۔ قباء والوں نے بھی ایک مسجد تیار کرلی۔ جو مسجد قباء کے نام سے مشہور ہوئی۔ آں حضرت ﷺ اکثر ہفتہ کے روز وہاں جاتے اور دو رکعت نماز پڑھتے منافقین نے چاہا کہ ہم بھی اہل قباء کی ضد پر ایک مسجد بنائیں اور اس میں جمع ہو کر اسلام کی ضرر رسانئی کے مشورے کیا کریں اور بعض سادہ دل مسلمان بھی قریب ہونے کی وجہ سے اس مسجد میں نماز پڑھنے آجایا کریں گے اس طرح سے مسلمانوں کے کچھ آدمی ٹوٹ کر ادھر آجائیں گے۔
اس ناپاک تجویز کا اصل محرک حضرت حنظلہ صحابی کا باپ ابو عامر راہب خزرجی تھا۔ جو ہجرت سے پہلے نصرانی بن گیا تھا اور راہبانی زندگی اختیار کرلی تھی مدینہ کے آس پاس کے لوگ اس کے زہد اور درویشی کے بڑے معتقد ہوگئے تھے اور اس کی بڑی تعظیم و تکریم کرتے تھے۔ اور اس کو اپنا رئیس اور سردار کہنے لگے تھے آں حضرت ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آفتاب رسالت کے سامنے اس کی ریاست کا چراغ مردہ بالکل گل ہوگیا اس لیے اس کو اپنی ریاست کے زائل ہونے کی وجہ سے آں حضرت ﷺ سے خاص عداوت اور حسد پیدا ہوگیا بہت ہاتھ پیر مارے مگر کچھ نہ ہوسکا جنگ بدر میں جب اسلام کو غلبہ نصیب ہوا تو یہی ابو عامر قریش کو اکسا کر احد میں آپ ﷺ کے مقابلہ میں لایا اور خود بھی ساتھ آیا اس کے بعد بھی برابر سازشیں کرتا رہا اور جو جماعت بھی مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے اٹھی ابو عامر نے اس کا ساتھ دیا اس نے یہ عہد کیا تھا کہ جو قوم بھی محمد (ﷺ) کے ساتھ لڑے گی اس کے ساتھ ہو کر میں بھی لڑوں گا بالآخر جب جنگ حنین میں ہوازن کو شکست ہوئی تو وہ بھاگ کر شام چلا گیا اور وہاں سے مدینہ کے منافقوں کو یہ پیغام بھیجا کہ جہاں تک ہو سکے محمد (ﷺ) کے مقابلہ کے لیے قوت اور ہتھیار جمع کرو اور میرے لیے ایک مسجد بناؤ میں عنقریب قیصر روم کے پاس جاتا ہوں اور اس کو مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے آمادہ کرتا ہوں اور وہاں سے ایک لشکر جرار اپنے ساتھ لاؤں گا اور محمد (ﷺ) کو اور ان کے اصحاب ؓ کو مدینہ سے نکال دوں گا اس کے اشارہ سے منافقوں نے مسجد قباء کے مقابلہ میں مسجد بنائی تاکہ مسجد قباء کے نمازی ٹوٹ کر اس میں آنے لگیں اور یہ لوگ اس میں جمع ہو کر اپنے کفر اور نفاق کے متعلق مشورے کیا کریں چناچہ ان لوگوں نے یہ مسجد بنائی اور ابو عامر کے منتظر رہے کہ وہ آئے اور اس مسجد میں ٹھہرے۔
یہ مسجد اس وقت بنائی گئی جب آں حضرت ﷺ جنگ تبوک کے لیے روانہ ہونیکا عزم فرما رہے تھے منافقوں نے آکر عرض کیا یارسول اللہ ہم نے لوگوں کے لیے بارش وغیرہ میں آرام کی غرض سے یہ مسجد بنائی ہے تاکہ نمازیوں کو اور خاص کر بیماروں اور ناتوانوں کو سہولت رہے اس لیے ہماری یہ درخواست ہے کہ حضور پر نور ﷺ ایک مرتبہ وہاں جا کر نماز پڑھ لیں تو ہمارے لیے موجب برکت وسعادت ہوگا اور بالفاظ دیگر سادہ دل مسلمانوں کو جال میں پھنسانے کا موقعہ مل جائے گا آں حضرت ﷺ اس وقت پا برکاب تھے آپ نے یہ فرمایا کہ اب تو میں جا رہا ہوں انشاء اللہ واپسی کے بعد ایسا ہوسکے گا۔ چناچہ آپ ﷺ تبوک سے واپس ہو کر مدینہ کے قریب پہنچے تو جبرئیل امین یہ آیات لے کر نازل ہوئے جن میں آپ کو منافقین کے ناپاک اغراض پر مطلع کردیا گیا اور آپ کو وہاں نماز پڑھنے بلکہ کھڑے ہونے کی بھی ممانعت کردی گئی اور بتلا دیا گیا کہ اس مسجد کی اصل غرض ضرار ہے یعنی مسلمانوں کو ضرر پہنچانا ہے اسی وجہ سے یہ " مسجد ضرار " کے نام سے مشہور ہوئی اور بتلادیا کہ مسجد قباء وہی مسجد تقوی ہے جو اس لائق ہے کہ آپ ﷺ اس میں جا کر کھڑے ہوں آپ ﷺ نے اسی وقت مالک بن دخشم اور معن بن عدی کو حکم دیا کہ اس مکان کو جس کا نام مکروفریب کی راہ سے مسجد رکھا گیا ہے جا کر جلا دیں اور خاک کردیں اور پیوند زمین بنا دیں چناچہ فوراً حکم نبوی کی تعمیل ہوئی اور اس عمارت کو جلا کر خاک سیاہ کردیا گیا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور انہی منافقین 1 میں سے وہ لوگ بھی ہیں جنہوں ایک مسجد بنائی اسلام اور مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کے لیے اور کفر کرنے لیے کہ اس میں بیٹھ کر اسلام کے خلاف مشورے کیا کریں گے اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لیے کیونکہ جب دوسری مسجد بنے گی لا محالہ نمازیوں کی جماعت منتشر اور متفرق ہوجائے گی اور اور اس شخص کے لیے کمین گاہ اور جائے پناہ بنانے کے لیے جو اس مسجد کے بنانے سے پہلے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرچکا ہے اس سے مراد ابو عامر راہب ہے جو جنگ احد اور جنگ حنین میں مسلمانوں کے مقابلہ میں لڑ چکا ہے منافقین نے یہ مسجد دشمن اسلام ابو عامر راہب کو پناہ دینے کے لیے بنائی تھی کہ جب وہ آیا کرے تو یہاں قیام کیا کرے منافقوں نے یہ مسجد مسلمانوں کو ضرر پہنچانے اور مسجد قباء کے اجاڑنے کے لیے نائی تھی اس لیے یہ مسجد ضرار کے نام سے مشہور ہوئی اس وجہ سے علماء نے لکھا ہے کہ جو مسجد مسلمانوں کی مسجد کے مقابلہ میں بنائی جائے جیسے قادیانیوں اور شیعوں کی مسجدیں تو ایسی مسجدیں۔ مسجد ضرار کے چکر میں ہیں اور اے نبی ! جب آپ ﷺ ان منافقین سے پوچھیں گے کہ تم نے بلا ضرورت یہ مسجد کیوں بنائی تو وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے اس کے بنانے میں سوائے بھلائی اور نیکی کے کوئی ارادہ نہیں کہ ضعیفوں اور عاجزوں کو دور جانے کی تکلیف اٹھانی نہ پڑے محض آسائش اور گنجائش کے لیے بنائی اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ اپنی قسم میں جھوٹے ہیں۔
1 ۔ اشارہ اس طرف ہے کہ والذین اتخذوا کا عطف ماقبل پر ہے اور یہ مبتدا ہے جس کی خبر منہم محذوف ہے (روح المعانی ص 16 ج 11)
آپ اس مسجد میں کبھی جا کر کھڑے بھی نہ ہوں چہ جائیکہ اس میں نماز پڑھیں۔ البتہ وہ مسجد کہ جس کی بنیا اول روز سے تقوی پر رکھی گئی بہت لائق ہے کہ اپ اس میں کھڑے ہوں اور اس میں نماز پڑھیں اس سے مراد مسجد قباء ہے آں حضرت ﷺ ہر شنبہ کے روز سوار یا پیادہ مسجد قباء تشریف لے جاتے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھتے۔ اس مسجد میں ایسے مرد ہیں کہ وہ خوب پاک صاف رہنے کو پسند کرتے ہیں اس مسجد کے نمازی طہارت کا بہت اہتمام رکھتے ہیں ڈھیلے کے بعد پانی سے استنجاء کرتے ہیں اور برابر طہارت ہی پر رہتے ہیں اور کبھی ناپاک نہیں سوتے اور اللہ دوست رکھتا ہے پاک صاف رہنے والوں کو جو اپنے ظاہر و باطن کی طہارت اور پاکی لگے رہتے ہیں۔
پس جب دونوں مسجدوں کا حال معلوم ہوگیا تو جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی ہو وہ بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایسی کھائی کے کنارہ پر رکھی ہو جو گرنے والی ہو پھر وہ اس کو لے کر آتش دوزخ کے گڑھے میں جا گرے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں عمارتیں برابر نہیں مسجد قباء کی بنیاد تقویٰ اور اخلاص پر ہے اور مسجد ضرار کی بنیاد نفاق اور مکر ہے اور ایسی عمارت ناپائیداری اور نجام بد کے لحاظ سے ایسی ہے جیسے کوئی عمارت پانی کی کمزور کھائی کے کنارہ پر بنائی جائے کہ جب پانی کے ذرا تھپیڑ لگے تو ساری عمارت ایکدم سے گرے اور اس کے رہنے والے سب کے سب تباہ اور برباد ہوں اسی طرح مسجد ضرار کی بنیاد جہنم کے کنارہ پر ہے وہ ان کو اپنے ساتھ لے کر جہنم میں گرے گی اور اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں بتاتا کہ جس سے وہ منزل مقصود تک پہنچ جائیں یا کم از کم گرنے سے تو محفوظ ہوجائیں۔
ہمیشہ رہے گی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ان کے دلوں میں حسرت یا غیظ قلب یا قلق اور اضطراب کا سبب کیونکہ جس غرض سے وہ مسجد بنائی تھی وہ پوری نہ ہوئی اور قلعی کھل گئی اور آپ نے اس کے گرانے کا حکم دیا جو ان کو غایت درجہ ناگوار گذرا اور ان کی حسرت اور پشیمانی کا سبب بنا اور ان کے غیظ قلب اور قلق اور اضطراب میں مزید اضافہ ہوا جب تک زندہ رہیں گے یہ حسرت اور قلقل اور اضطراب ان کے دلوں میں رہے گا۔ مگر یہ کہ ان کے دل پارہ پارہ ہوجائیں یعن مرجائیں یا قتل ہوجائیں اس وقت یہ ارمان ختم ہوجائیں گے مطلب یہ ہے کہ مرتے دم تک یہ حسرت اور یہ قلق ان کے دلوں میں قائم رہے گا جب ان کی جان نکلے گی تب یہ حسرت بھی ختم ہوگی اور اللہ جاننے والا ہے کہ انہوں نے کس نیت سے عمارت بنائی تھی۔ حکمت والا ہے مسجد ضرار کے انہدام کا جو حکم دیا وہ عین حکمت اور عین مصلحت ہے اس سے منافقین کے نفاق کا پردہ چاک ہوا۔
Ayahs 9:111–112فضائل مجاہدین وبشارت مومنین کاملین وترغیب بر تجارت آخر
قال اللہ تعالیٰ ۔ ان اللہ اشتری من ال مومنین انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وبسر ال مومن ین۔
(ربط): اوپر کی آیتوں میں ان منافقین کے فضائح اور قبائح کا بیان تھا۔ جنہوں نے جہاد سے کنارہ کشی کی تھی۔ اب ان آیات میں مجاہدین کے فضائل اور ان کی صافت فاضلہ کو بیان کرتے ہیں۔ جنہوں نے راہ خداوندی میں اپنی جانبازی اور سرفروشی کے جوہر دکھائے جس سے مقصود جہاد کی ترغیب دینا ہے اور یہ بتلانا ہے کہ تم نے منافقین کا حال سن لیا۔ اور اس کے بعد مومنین مقصرین کا بھی حال معلوم کرلیا جن کی توبہ قبول ہوئی اب سنو کہ مومنین صادقین اور محبین مخلصین کیسے ہوتے ہیں ان کی صفات یہ ہیں جو اس آیت میں مذکور ہیں اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ ایسے مومنین کو بشارت سنا دیں اور مبارک باد دے دیں اور بتلادیں کہ جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر کوئی سد مند تجارت نہیں۔ کما قال تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم۔ تؤمنون باللہ ورسولہ وتجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم۔
تحقیق خرید لیا ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو کہ جان سے جہاد کریں اور مال کو راہ خدا میں خرچ کریں اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے اور چونکہ اہل ایمان اپنی جانیں اور اپنے مال بمعاوضۂ جنت خدا تعالیٰ کے ہاتھ فروخت کرچکے ہیں اس لیے وہ خدا کی راہ میں قتال کرتے ہیں پھر کبھی تو دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور کبھی ان کے ہاتھوں سے قتل کیے جاتے ہیں تاکہ اپنی جانیں خدا کے سپرد کر کے ان کی قیمت یعنی جنت حاصل کرسکیں۔ اللہ نے اس خرید وفروخت پر جو جنت کا وعدہ فرمایا ہے وہ اللہ پر لازم ہے اور پکا اور سچا ودہ ہے۔ جس میں زرثمن کے مارے جانے کا کوئی خطرہ نہیں خدا تعالیٰ نے پختہ دستاویز لکھ دی ہے۔ توریت میں اور انجیل میں اور قرآن میں جنت کا یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بڑی بڑی کتابوں میں لکھ دیا ہے۔ مطلب ی ہ ہوا کہ مجادہین کے لیے جنت کا قبالہ رجسٹری شدہ ہے اور خدا تعالیٰ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کو ان ہے پس اے اہل ایمان تم خوش رہو اپنی اس خرید وفروخت پر جو تم نے خدا تعالیٰ سے کی ہے اور یقین رکھو کہ اگر تم نے اپنی جان ومال خدا کے سپرد کردی تو تم کو اس کی قیمت جنت ضرور ملے گی مطلب یہ ہے کہ تم کو اس خرید وفروخت پر خوشی منانی چاہئے کہ ایک عیب دار اور فانی چیز دے کر ایک بےعیب اور باقی رہنے والی چیز تم نے حاصل کرلی اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے تاجران آخرت کو چاہئے کہ طغیان و غرور ہے ان دو ناقص اور معیوب چیزوں کے بدلہ میں جنت کا سودا کرلینا جو سراسر خیر اور بےعیب ہے انتہائی کامیابی ہے
امید کہ از فضلت مرد ود نگر دم من چون شد بہمہ عیبی لطف تو خریدارم
چناچہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے مسجد میں لوگوں کو سنائی تو ایک مرد انصار چادر کھینچتا ہو کھڑا ہوا۔ اور کہا کہ بیشک یہ برے نفع کا سودا ہے ہم اس بیع کا اقالہ نہ کریں گے۔ یعنی اس بیع کو کبھی فسخ نہ کریں گے یعنی اس سے بہتر کون سا موقعہ ہوگا کہ رب العزت ہم سے ایک ناقص اور معیوب چیز لے کر ہم کو اپنے فضل سے ایسی چیز دے دے جو ہمارے وہم و گمان سے بھی بڑھ کر ہو
آں بیع را کہ روز اول با تو کردیم اصلاً دریں حدیث اقالت نمی رود
اس شعر میں عہد الست کی طرف اشارہ ہے کہ وہ بھی در پردہ اسی قسم کی ایک بیع تھی۔
یہاں تک تو ان مومنین کی صفت جہاد و قتال کا ذکر تھا جنہوں نے اپنی جانوں اور مالوں کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ فروخت کیا اب ان کی دیگر صفات فاضلہ کو بیان کرتے ہیں کہ ان مومنین میں خدا کی راہ میں جانبازی اور سرفروشی کی صفت کے علاوہ یہ صفات جمیلہ بھی ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ یہ مسلمان جن سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے گناہوں سے توبہ کرنے والے ہیں اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں اور اللہ کی حمد و ثنا کرنے والے ہیں اور روزہ رکھنے والے ہیں۔ یا یہ معنی ہیں کہ اللہ کی راہ میں سفر کرنے والے ہیں جس میں علم دیں کے لیے سفر کرنا بھی شامل ہے اور رکوع اور سجدہ کرنے والے ہیں اور لوگوں کو اچھی بات کی ہدایت کرنے والے اور بری بات سے روکنے والے ہیں۔ اچھی بات وہ ہے جس کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے اور بری بات وہ ہے جس کے کرنے کی شریعت نے ممانعت کی ہے اور احکام الٰہی اور حدود شریعت کی حفاظت کرنے والے ہیں کہ شریعت کی حدود سے باہر نہیں جاتے اور اے نبی ! ان مومنوں کو جو ان صفتوں کے ساتھ موصوف ہوں جنت کی خوشخبری سنا دیجئے تاکہ بشارت سن کر خوش ہوں اور شاداں وفرحاں جنت کی طرف اور دوڑیں۔ اور یہ کوشش کریں کہ اڑ کر جنت میں پہنچ جائیں۔
Ayahs 9:113–116مشرکین اور کفار کے لیے دعاء مغفرت کی ممانعت
قال اللہ تعالی۔ ما کان للنبی۔ ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغروا للمشرکین۔۔۔ الی۔۔۔ من ولی ولا نصیر۔
(ربط ): شروع سورت میں کفار اور مشرکین سے براءت اور بیزاری کا ذکر تھا۔ بعد ازاں منافقین کے ذمائم اور مجاہدین کے فضائل بیان کیے اب اسی تبری اور بیزاری کی تاکید کے لیے یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جس طرح زندگی میں کفار اور مشرکین سے براءت اور بیزار ایمان کے لواز میں سے ہے اسی طرح ان کے مرنے کے بعد ان سے تبری اور بیزاری ایمان کے لوازم میں سے ہے کہ مرنے کے بعد نہ کافر کا جنازہ پڑھنا جائز ہے اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہونا جائز ہے اور نہ اس کے لیے دعاء مغفرت جائز ہے اگرچہ وہ مسلمانوں کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں کما قال اللہ تعالیٰ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء۔ خلاصہ میں مردہ کافروں سے براءت اور بیزاری کا حکم ہے اہل ایمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکوں اور کافروں کے لیے ان کے مرنے کے بعد دعاء مغفرت کریں اگرچہ وہ ان کے قریبی رشتہ دارہی کیوں نہ ہوں بعد اس کے کہ ان پر یہ ظاہر ہوگیا کہ یہ مشرک دوزخ والے ہیں کفر کا ٹھکانہ ہی دوزخ ہے۔ مشہور قول یہ ہے کہ یہ آیت اپ ﷺ کے چچا ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ کفر اور شرک پر مرگئے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ جب آں حضرت ﷺ نے اپنے والدین کے لیے مغفرت کی دعاء مانگی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور شیخ جلال الدین سیوطی نے ایک ضعیف حدیث نقل کی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ آں حضرت ﷺ کے والدین زندہ کیے گئے اور وہ آپ پر ایمان لائے اور پھر انتقال کر گئے اور علماء کی ایک جماعت نے اس بارے میں سکوت کیا ہے اور سکوت ہی اولی اور اسلم معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم بحقیقۃ الحال وعلمہ اتم واحکم۔
اور اگر کسی حضرت ابراہیم کے قصہ سے شبہ ہو کہ انہوں نے اپنے مشرک باپ کے لیے دعاء مغفرت کی تھی سو اس کا جواب یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے مشرک باپ کے لیے داء مغفرت کی تھی سو اس کا جواب یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے مشرک باپ کے لیے دعاء مغفرت کی تھی سو اس کا جواب یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے مشرک باپ کے لیے دعاء مغفرت کرنا محض ایک وعدہ کی بناء پر تھا جو انہوں نے اپنے باپ سے کرلیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے حال میں بیان فرمایا ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا تھا سلام علیک ساستغفرلک ربی۔ (اے باپ تم پر سلام ہو میں تمہارے لیے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگوں گا) سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ دعا مانگنا باپ کی زندگی میں تھا اور ایک وعدہ کی بناء پر تھا۔ کیونکہ ان کو یہ طمع تھی کہ شاید میرا باپ اسلام لے آئے زندہ مشرک کے لیے دعاء مغفرت کے معنی دعاء ہدایت کے ہیں کہ اللہ اس کو ہدایت دے اس امید اور طمع پر باپ سے جو عدہ کیا تھا اس کو پورا کیا پھر جب ابراہیم کو ظاہر ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے یعنی کفر پر مرا اور ایمان کی توفیق نہ پائی یا بذریعہ وحی کے معلوم ہوگیا کہ آزر ایمان نہ لائے گا تو ابراہیم اس سے بیزار ہوگئے اور دعائے مغفرت موقوف کردی۔ کیونکہ مرنے سے ایمان اور ہدایت کا وقت ختم ہوا مطلب یہ ہے کہ ابراہیم کا اپنے مشرک باپ کے لیے دعاء مغفرت کرنا اس وعدہ کے پورا کرنے کے لیے تھا جو وہ کرچکے تھے پھر جب ان کو بذریعہ وحی کے یا ان کے کفر کے حالات پر مرنے سے ان کا ناری ہونا معلوم ہوگیا تو انہوں نے اس کے لیے دعا کرنی چھوڑدی اور فوراً ان سے بیزار ہوگئے۔ تحقیق ابراہیم (علیہ السلام) بڑے نرم دل اور بردبار تھے۔ باپ نے تو ابراہیم (علیہ السلام) کو دھمکی دی لارجمنک میں ضرور سنگسار کروں گا۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا ساستغفر لک ربی۔ میں تیرے واسطے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا۔ غرض یہ کہ بعض مسلمانوں نے جب اپنے مشرک اموات کے لیے استغفار شروع کی تو اس کی ممانعت کے لیے یہ ایت یعنی ماکان لانبی والذین امنوا الخ۔ نازل ہوئی تو ان مسلمانو کو ڈر ہوا کہ کہیں ہم پر مواخذہ نہ ہو تو اس پر تسلی کے لیے اگلی آیت نازل ہوئی جس میں یہ بتلا دیا گیا کہ جو لوگ ممانعت سے پہلے مشرکین کے لیے استغفار کرچکے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہیں لیکن اب نزول حکم کے بعد ایسا کرنا گمراہی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔
اور اللہ ایسا نہیں کہ کسی قوم پر ہدایت دئیے پیچھے گمراہی کا حکم لگائے تا وقتیکہ وہ ان پر اس چیز کو واضح نہ کردے جس سے وہ بچیں جن مسلمانوں نے اپنے مشرک رشتہ داروں کے لیے استغفار کی تھی ان کو یہ خیال ہوا کہ ہم گمراہ ہوگئے خدا تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کے وہم کو دور کردیا اور بتلا دیا کہ تم گمراہ نہیں اللہ ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد بغیر اس کے کہ ان پر وہ چیز ظاہر کرے جس سے وہ بچیں ان پر گمراہی کا حکم نہیں لگاتا۔ اللہ تعالیٰ نے تم کو ایمان دیا اور ہدایت دی اور ابھی تک یہ حکم نہیں دیا تھا کہ مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرو تو ہم تم کو اس فعل پر کیسے گمراہ قرار دے سکتے ہیں جو تم نہی سے پہلے کرچکے ہو۔ بیشک اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ یعنی تمہارے دلوں میں جو خطرہ گذرا ہے وہ اسے معلوم ہے۔
تحقیق اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمینوں کی وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے لہذا تم کو چاہئے کہ اس مالک الملکوت کے احکام پر چلو جس کی سلطنت تمام آسمانوں اور زمینوں کو محیط ہے اور اور اس کے دشمنوں سے بری اور بیزار رہو ان کی زندگی میں بھی اور ان کے مرنے کے بعد بھی اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی یار و مددگار ہے جو تم کو اس کے قہر سے بچا سکے ممانعت سے پہلے جو کرچکے وہ معاف ہے البتہ نہی اور ممانعت کے بعد اگر تم نے حکم کی خلاف ورزی کی تو کوئی بچانے والا نہیں اگر خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنا چاہتے ہو تو اس کے دشمنوں سے تعلق نہ رکھو۔
Ayahs 9:117–118ذکر توجہات و عنایات خداوندی بر مجاہدین غزوۂ تبوک و ذکر قبولیت توبۂ آں سہ کس کہ فیصلہ اوشاں ملتوی داشتہ بود
قال اللہ تعالی۔ لقد تاب اللہ علی النبی والمہاجرین والانصار۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ ھو التواب الرحیم
(ربط) چونکہ مسلمانوں کو غزوۂ تبوک میں بڑی محنت اور مشقت اٹھانی پڑی کیونکہ گرمی کی شدت تھی اور سفر بہت دراز تھا اور سازوسمان بھی نہ تھا اور کچھ تھا بھی تو وہ برائے نام تھا اس لیے ایسی حالت میں اگر کسی وقت بمقتضائے بشریت وبنا بر ضعف طبیعت کچھخیالات اور وسوسے آئیں تو وہ اگرچہ گناہ اور قابل مؤاخذہ نہیں مگر مقربین اور محبین مخلصین کے شایان شان نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اپنے محبین مخلصین کو اس قسم کے خطرات کی معافی کا تمغہ عطا فرمایا اور بتلا دیا کہ جن مخلصین نے ایسے مشکل وقت میں ہمارے نبی ﷺ کا ساتھ دیا اور از اول تا آخر آپ کے ہمرکاب رہے ان پر ہماری خاص الخاص توجہات اور عنایات نازل ہوئیں اور ان کی سابق لغزشوں اور خطاؤں کو معاف کیا۔
اور چونکہ ان توجہات و عنایات کا نزول سب آپ ﷺ ہی کی اتباع اور پیروی اور معیت اور ہمرکابی کے سبب تھا اس لیے سب سے پہلے بطور تمہید کے آں حضرت ﷺ کا ذکر فرمایا اور بعد میں مہاجرین وانصار کا ذکر فرمایا جو سید الابرار کے جاں نچار تھے اور عجب نہیں کہ اس مقام پر لقد تاب اللہ علی النبی میں عفا اللہ عنک لم اذنت لھم کی طرف اشارہ ہو کہ آپ نے جو ان منافقوں کو پیچھے رہنے کی اجازت دی وہ مناسب نہ تھی اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے اس کو معاف کیا۔ اور پھر بالاجمال بعض مہاجرین وانصار کے خطرات قلبیہ کی معافی کا ذکر فرمایا۔ اور بعد ازاں خاص طور پر ان تین اشخاص کی توبہ کی قبولیت کا ذکر فرمایا جن کا معاملہ کچھ مدت کے لیے تادیباً ملتوی رکھا گیا تھا اور آں حضرت ﷺ نے مسلمانوں کو ان کی ساتھ سلام و کلام کرنے کی ممانعت کردی تھی اسی حالت میں ان پر پچاس دن گذر گئے یہاں تک کہ غایب پریشانی میں زمین ان پر تاریک ہوگئی اور زندگی تلخ ہوگئی تب یہ آیت یعنی وعلی الثلثۃ الذین خلفوا نازل ہوئی جس میں ان تین شخصوں کو قبول توبہ کی بشارت دی گئی۔ اس وقت آں حضرت ﷺ ام ال مومنین ام سلمہ ؓ کے پاس تھے اور اخیر شب تھی آپ نے ان سے ذکر کیا کہ کعب وغیرہ کی خطا معاف ہوئی کعب کہتے ہیں کہ اس روز میری خوشی کا حال بیان میں نہیں آسکتا۔ جس شخص نے آکر مجھے یہ بشارت سنائی، میں نے اپنے کپڑے اتار کر اس کو دے دئیے پھر میں مسجد فجر کی نماز کے لیے حاضر ہوا تو صحابہ مجھے مبارکباد دینے لگے اور آں حضرت ﷺ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا تو آپ ﷺ نے لطف اور مہربانی سے کلام فرمایا۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت اور عنایات کے ساتھ متوجہ ہوا پیغمبر پر اللہ تعالیٰ کی توجہات اور عنایات نبی کریم ﷺ پر بیشمار ہیں اس نے اپنی رحمت سے آپ ﷺ کے ما تقدم وما تاخر کو معاف کیا اور اس غزوہ میں جو آں حضرت ﷺ نے منافقین کو تخلف یعنی پیچھے رہنے کی اجازت دے دی تھی اس کو بھی معاف فرمادیا جیسا کہ عفا اللہ عنک لم اذنت لھم کی تفسیر میں گذرا۔ اور مہاجرین اور انصار پر بھی خاص توجہ اور مہربانی فرمائی جنہوں نے سختی کی گھڑی میں یعنی مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دیا یعنی خدا تعالیٰ نے ان مہاجرین وانصار کو ایسے مشکل وقت میں سفر جہاد میں آپ کی معیت ورفاقت پر ثابت قدم رکھا اور تزلزل سے ان کو محفوظ رکھا بعد اس کے کہ قریب تھا کہ مسلمانوں کے ایک فریق کے دل سفر کی سختی اور مشقت کی وجہ سے ڈگمگا جائیں اور اپنی جگہ سے ہل جائیں یعنی جادۂ استقامت سے کچھ ہٹ جائیں اس وقت ان کے دل میں یہ خطرے گذر رہے تھے کہ ایسی سختی کے وقت میں جہاد میں نہ نکلو اور اپنے گھر بیٹھے رہو اللہ تعالیٰ نے ان پر توجہ فرمائی اور ان کی دستگیری کی کہ ان کو ایسے خطرات پر عمل کرنے سے محفوظ رکھا اور ہمت ہارنے سے ان کو بچا لیا بلکہ بلکہ ایسی توفیق بخشی کہ ہمتیں اور ارادے اور بلند ہوگئے اور بمقتضائے بشریت جو پیچھے رہ جانے کے خیالات دل میں آئے تھے وہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے معاف کردئیے۔ تنگی اور پریشانی کے حالات میں ساتھ دینا کمال اخلاص اور غایت محبت کی دلیل ہے۔
بوقت تنگدستی آشنا بیگانہ می گردد صراحی چوں شود خالی جدا پیمانہ می گردد
ایسے مشکل وقت میں جہاں ہر طرف سے مشقتوں اور صعوبتوں کا ہجوم ہو ضعف بشری کی بناء پر دل میں وساوس کا آجانا اگرچہ گناہ نہیں مگر محبین صادقین کے شایان شان نہیں قانون محبت کے لحاظ سے ان پر گرفت ہوسکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے خیالات اور خطرات سے در گزر فرمایا بلکہ اس تنگدستی اور سختی کے وقت میں ساتھ دینے کی وجہ سے ان کی تمام لغزشوں اور خطاؤ کو معاف کردیا جیسا کہ اہل بدر کے بارے میں فرمایا تھا۔ اعملو ماشئتم فقد غفرت لکم۔ بدر پہلا غزوہ اور تبوک آخری غزوہ تھا جو عسرت اور شدت میں غزوہ بدر سے کہیں زیادہ تھا اس لیے اس آخری غزوہ میں شریک ہونے والے حق تعالیٰ کی خاص الخاص عنایات اور توجہات کے مورد بنے چناچہ فرماتے ہیں پھر دوبارہ اللہ تعالیٰ ان مہاجرین وانصار پر اپنی رحمت اور عنایت سے متوجہ ہوا۔ یعنی رحمت پر رحمت اور مہربانی پر مہربانی فرمائی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر مہربان ہوا اور پھر مہربان ہوا مہربانی پر مہربانی کی کہ آئندہ کے لیے دلوں کو اس قسم کے خطرات سے محفوظ کردیا اور ممکن ہے کہ ثم تاب علیھم کی ضمیر۔ عام مہاجرین اور انصار کی طرف راجع نہ ہو بلکہ صرف فریق منھم کی طرف راجع ہو۔ جو قریب میں واقع ہے اور مطلب یہ ہو کہ جس گروہ کے دل میں کچھ تزلزل آچلا تھا اور جہاد میں ہمت ہارنے کو تھے ان پر اللہ نے توجہ فرمائی یعنی ان کو سنبھال لیا۔ اور اپنی توفیق سے ان کی دستگیری کی کہ جب ان کے دل میں اس قسم کے خطرات آئے تو فوراً نادم ہوئے اور بالآخر تائب ہو کر آپ کے ساتھ ہوئے۔ بیشک وہ ان پر نہایت شفیق اور مہربان ہے کہ گرتے ہوؤں کو سنبھال لیا۔
اور نیز اللہ تعالیٰ نے ان تین شخصوں کے حال پر بھی توجہ فرمائی کہ موقوف اور ملتوی رکھے گئے تھے یعنی جن کا معاملہ نزول وحی کے انتظار میں موقوف اور ملتوی رکھا گیا تھا ان کی بھی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی یہاں تک کہ اس التواء کی وجہ سے ان کی بےچینی اور اضطراب کی یہ حالت ہوئی کہ ان تین شخصوں پر زمین باوجود کشادہ ہونے کے تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر دو بھر ہوگئیں۔ یعنی انتظار کی شدت اور غم کی وحشت سے ان کی جانیں بھی ان پر تنگ ہوگئیں۔ اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ کے غصے سے کہیں پناہ نہیں مگر اسی کی رحمت اور مغفرت کی طرف جب وہ پریشانی اور پشیمانی کی اس منزل پر پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر توجہ فرمائی اور ان کی توبہ قبول کی۔ بعد ازاں دوبارہ ان پر اپنی مہربانی کی اور اپنی رحمت سے ان پر متوجہ ہوا تاکہ آئندہ بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے رہا کریں۔ اور سمجھ لیں کہ فقط یہی توبہ قبول نہیں ہوئی بلکہ جب کبھی بھی خدائے تعالیٰ کی طرف اس طرح رجوع کریں گے تو خدا تعالیٰ بھی اپنی خاص رحمت سے ہماری طرف متوجہ ہوں گے مطلب یہ ہے کہ خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوں آئندہ بھی ایسا ہی معاملہ وہ گا بیشک اللہ بڑا توبہ بھی قبول فرمائیں گے۔
Ayah 9:119صادقین کی معیت اور صحبت کا حکم
قال اللہ تعالی۔ یا ایہالذین امنوا اتقوا للہ وکونو مع الصدقین
(ربط) چونکہ کعب بن مالک وغیرہ کی معافی محض پرہیزگاری اور سچ بولنے کی وجہ سے ہوئی اس لیے عام مسلمانوں کو تقوی اور پرہیزگاری اور صادقین کی معیت اور صحبت کا حکم دیا جاتا ہے کہ صادقین کی معیت اور صحبت اختیار کرو اور منافقین کی صحبت سے پرہیز کرو اس لیے کہ نبوت کے بعد درجہ صدق کا ہے۔ فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین الی آخرہ۔
چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ کے غصہ سے ڈرو اور اس کی معیت اور نافرمانی سے بچو اور توقی کی حفاظت کے لیے سچوں کے ساتھ رہو راستبازوں کی معیت اور صحبت تقوی کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔
فائدہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمان کے بعد تقوی ضروری ہے اور پھر صادقین اور صالحین کی معیت یعنی صحبت بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اتقوا للہ کے بعد وکونوا مع الصدقین کا حکم دیا جو وجوب اور لزوم کے لیے کوئی کمال بدون کامل کی صحبت کے حاصل نہیں ہوسکتا محض مطالعہ کتب کافی نہیں جب تک کسی عالم کی صحبت اور خدمت میں رہ کر علم حاصل نہ کیا جائے صحابیت کی حقیقت ہی شرف صحبت ہے روافض اس کے منکر ہوئے خوافض ہوگئے۔
صحبت اور مرافقت کا اثر تمام عقلاء کے نزدیک مسلم ہے طبیعت میں سرقہ (چوری) کا مادہ موجود ہے ایک ساتھی کی طبیعت دوسرے ساتھی کے اخلاق اور عادات کو چراتی ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ظالموں اور فاسقوں سے دوستی اور ان کے پاس بیٹھنے سے منع کیا ہے فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین تاکہ ہمنشین کے ظلم اور فسق کے جراثیم اس تک متعدی نہ ہوں۔ مجذوم خواہ جسمانی ہو یا روحانی شرعاً وطبعاً اس سے اجتناب ضروری ہے۔
شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں اور کیا خوب فرماتے ہیں۔
گل خوشبوئے در حمام روزے رسید از دست محبو بےبدستم
بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری کہ از بوئے دلآویزے تو مستم
بگفتا من گلے ناچیز بودم و لیکن مدتے با گل نشستم
جمال ہمنشیں در من اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم
Ayahs 9:120–121ملامت متخلفین بضمن فضیلت مجاہدین
قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا۔۔۔ الی۔۔۔ احسن ماکانوا یعملون
(ربط): ان آیات میں متخلفین پر عتاب عام فرمایا ہے کہ جن اہل مدینہ اور اعراب نے اس غزوہ میں آرام طلبی کی بناء پر رسول کا ساتھ نہیں دیا اور ان خیرات وبرکات سے محروم رہے کہ جو آپ کے رفقاء سفر کو نصیب ہوئیں اور آئندہ کے لیے نصیحت کی کہ مسلمانوں کو یہ سزا وار نہیں کہ جب کوئی موقعہ جاں نثاری کا آئے تو رسول اللہ ﷺ سے علیحدہ ہوجائیں اور اپنی راحت اور حفاظت کو رسول اللہ ﷺ کی حفاظت پر مقدم سمجھیں چناچہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ہمراہ جہاد میں جانے سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ روا تھا کہ اپنی جانوں رسول اللہ ﷺ کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں کہ اپنی جان کی تو فکر کریں اور سول خدا تکلیفیں اٹھائیں اور ان کو آپ کی تکلیف اور مشقت کا خیال نہ آئے اپنے لیے تو عیش و آرام پسند کریں اور رسول اللہ ﷺ کو جہاد کی شدت اور مشقت میں چھوڑ دیں۔ اور یہ یعنی جہاد میں آپ ﷺ کے ساتھ جانا اس لیے بھی ضروری تھا کہ علاوہ ادائے حق محبت کے اگر یہ لوگ جہاد میں حضور پر نور ﷺ کے ساتھ رہتے تو ان کو اجر عظیم ملتا۔ کیونکہ جو لوگ سفر جہاد میں آپ کے ساتھ رہتے ہیں ان کو راہ خدا میں یعنی جہاد میں جو پیاس اور رنج و محنت اور بھوک کی تکلیف پہنچتی ہے اور جو قدم وہ دشمن کی زمین پر رکھتے ہیں۔ جس سے کافر غیظ اور طیش میں آتے ہیں اور جو چیز وہ دشمن سے چھینتے ہیں اور اس اس کو تکلیف پہنچاتے ہیں یعنی ان کو گرفتار کرتے ہیں یا قتل کرتے ہیں یا شکست دیتے یا ان سے مال غنیمت حاصل کرتے ہیں۔ ان سب پر ان کے لیے نیک عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے باوجودیکہ ان میں بعض افعال غیر اختیاری ہیں۔ لیکن جہاد فی سبیل اللہ اس درجہ عظیم ہے کہ اس کے ضمن میں افعال اختیاریہ اور غیر اختیاریہ سب ہی پر ثواب لکھا جاتا ہے حتی کہ جہاد کے گھوڑے کے کودنے اور پھاندنے اور لید کرنے پر بھی اجر ملتا ہے اور اس وعدے میں تخلف کا احتمال نہیں اس لیے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کے ثواب کو ضائع نہیں کرتا۔
مطلب یہ ہے کہ مجاہدین کو ان کے ہر عمل پر اجر ملتا ہے کسی حالت میں ان کا ثواب ضائع نہیں جاتا۔ پس ایسی حالت میں جہاد سے جان چرانا اور رسول کا ساتھ چھوڑنا کسی طرح مناسب نہ تھا
اور جو خرچ وہ راہ خدا یعنی جہاد میں کرتے ہیں خواہ وہ تھوڑا ہو یا بہت اور جو میدان وہ سفر جہاد میں جاتے اور لوٹے وقت قطع کرتے ہیں خواہ وہ تھوڑا ہو یا بہت اور جو میدان وہ سفر جہاد میں جاتے اور لوٹتے وقت قطع کرتے ہیں وہ سب ان کے لیے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا بہتر سے بہتر بدلہ دے۔ یعنی ان کے نفقات اور آثار قدم اس لیے لکھے جاتے ہیں کہ اللہ ان کو ان کے تمام اعمال کا بہترین بدلہ دے گا۔
Ayah 9:122فرض کفایہ بودن جہاد وفرض کفایہ بودن تحصیل علم دین
قال اللہ تعالیٰ ۔ وما کان ال مومن ون لینفروا کافۃ۔۔۔ الی۔۔۔ لعلھم یحذرون
(ربط): گزشتہ رکوعات میں میں جہاد سے تخلف پر جو ملامت کی گئی اس سے بعض مسلمانوں کو یہ شبہ ہوا کہ ہر جہاد میں مسلمانوں پر نفیر یعنی خروج فرض عین ہے اس لیے اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ہر جہاد میں جانا فرض عین نہیں بلکہ فرض علی الکفایہ ہے اور یہ بتلاتے ہیں کہ جس طرح جہاد فرض علی الکفایہ ہے اسی طرح تفقہ دی الدین یعنی تحصیل علم دین بھی فرض کفایہ ہے جب کوئی لشکر جہاد کے لیے روانہ ہو اور آں حضرت ﷺ شہر میں مقیم ہوں تو ایک جماعت کا آنحضرت ﷺ کے پاس موجود رہنا ضروری ہے تاکہ وہ آں حضرت ﷺ کی خدمت بابرکت میں رہ کر تفقہ فی الدین حاصل کریں یعنی دین سکیکھیں تاکہ مجاہدین کا لشکر جب جہاد سے واپس آئے تو اس عرصہ میں جو دین سیکھا ہے اس سے ان کو آگاہ کریں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جب آں حضرت ﷺ جہاد کے لیے کوئی شلکر روانہ کریں اور خود مدینے میں مقیم رہیں تو مسلمانوں کے لیے یہ روا نہیں کہ سب کے سب ایک دم سے جہاد کے لیے نکل جائیں سب کا ایک دم سے جہاد میں نکل جانا مناسب نہیں ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ہر بڑی جماعت میں سے کچھ آدمی تو جہاد کے لیے نکل جائیں اور کچھ آدمی دین سیکھنے کے لیے آں حضرت ﷺ کے پاس ٹھہر جائیں اور آں حضرت کی خدمت میں رہ کر دین سیکھیں تاکہ یہ باقی ماندہ لوگ حضور پر نور ﷺ کی خدمت میں رہ کر دین میں سمجھ حاصل کریں اور فقہ سیکھیں اور تاکہ ڈرائیں یہ فقہاء اپنی قوم کو جو جہاد میں گئی ہے جب وہ قوم سفر جہاد سے ان کی طرف واپس آئے شاید وہ لوگ بری باتوں سے بچتے رہیں اور احتیاط برتیں اور جس چیز سے ان کو ڈرایا گیا ہے اس سے حذر کریں۔
اس آیت کی تفسیر میں زیادہ مشہور دو قول ہیں ایک قول تو وہ ہے جس کے مطابق آیت کی تفسیر کی گئی اس قول پر آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ مناسب نہیں سب کے سب ہی جہاد میں نکل کھڑے ہوں اور رسول خدا کی صحبت میں کوئی بھی نہ رہے بلکہ مناسب یہ ہے کہ کچھ لوگ جہاد میں جائیں اور کچھ رسول خدا ﷺ کے پاس رہ کر دین کے مسائل سیکھیں اور دین میں سمجھ پیدا کریں۔ پھر جب مجاہدین جہاد سے ان کے پاس لوٹ کر واپس آئیں تو وہ ان مجاہدین کو احکام خداوندی سے آگاہ کریں اور خدا کی معصیت سے ڈرائیں تاکہ وہ ان احکام سے واقف ہو کر (جو ان کے پیچھے رسول خدا ﷺ پر نازل ہوئے ہیں) اللہ کی نافرمانی سے ڈریں۔ امام قرطبی اور جلال الدین سیوطی اور علامہ آلوسی نے اسی قول کو اختیار فرمایا۔
اس قول کی بنا پر طائفہ نافرہ سے وہ جماعت مراد ہے جو جہاد کے لیے نکلی اور لیتفقھوا اور لینذروا کی ضمیریں ان باقی ماندہ لوگوں کی طرف راجع ہیں جو جہاد کے لیے نہیں نکلے بلکہ تحصیل علم کے لیے آپ کی خدمت بابرکت میں ٹھہرے ہے اور اذا رجعوا کی ضمیر طائفہ نافرہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی اس جماعت کی طرف راجع ہے جو جہاد میں جا کر اب واپس آئی ہے۔
(دیکھو تفسیر قرطبی ص 294 ج 8 ۔ روح المعانی ص 43-44 ج 11 ۔ صاوی حاشیہ جلالین ص 175 ج 2)
دوسرا قول یہ ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ سب لوگ طلب علم کے لیے اپنے گھروں سے نہ نکل جائیں بلکہ تھوڑے سے لوگ جایا کریں اور وہ علم حاصل کر کے اپنی قوم کو فائدہ پہنچائیں یعنی ان کو تعلیم دین اور وعظ وتلقین کریں۔
پہلے قول کی بناء پر آیت ہذا احکام جہاد کا بقیہ اور تتمہ تھی اور اس قول کی بناء پر آیت بقیہ احکام جہاد نہیں بلکہ ایک مستقل حکم ہے جس سے مقصود طلب علم دین کے لیے گھر سے نکلنے کی مشروعیت بیان کرنا ہے اور اس حکم کو احکام جہاد کے ساتھ متصل ذکر کرنے میں اشارہ اس رف ہے کہ سفر دو طرح پر ہوتا ہے ایک سفر جہاد کے لیے اور ایک سفر طلب علم دین کے لیے دونوں میں خروج فی سبیل اللہ ہے اور دونوں کی غرض احیاء دین اور اعلاء دین ہے۔ ایک میں سیف وسنان سے دوسرے میں زبان اور قلم اور برہان سے اس قول کی بناء پر فلولا نفر میں طلب علم کے لیے نفیر اور خروج مراد ہے اور لیتفقہوا میں اور لینذروا کی ضمیریں اسی طائفہ نافرہ کی طرف راجع ہوں گی جس نے طلب علم دین کے لیے نفیر اور خروج کیا ہے۔ (دیکھو روح المعانی ص 44 ج 1)
اور مطلب یہ ہے کہ تحصیل علم دین کے لیے ہر بڑے قبیلہ میں سے کچھ آدمیوں کو ضرور نکلنا چاہیے کیونکہ علم دین کا حاصل کرنا رض کفایہ ہے اگر کوئی بھی حاصل نہ کرے تو سب گنہگار ہوں گے۔
اور فقہ سے مراد احکام شریعت کا علم ہے جس میں عقائد اور اعمال ظاہرہ اور اعمال باطنہ سب داخل ہیں سب ہی کا جاننا فرض ہے اول ایمان یہ علم عقائد ہوا۔ دوم۔ علم اسلام یہ علم فقہ ہوا۔ سوم علم احسان یہ علم تصوف ہوا اور دین ان تینوں کے مجموعہ کا نام ہے اور علم صرف ونحو اور علم لغت و اصول کا جاننا بالذات فرض نہیں بلکہ واجب بالغیر اور فرض بالغیر ہے اس لیے کہ فرض اور واجب کا ذڑیعہ اور وسیلہ ہے۔
جاننا چاہئے کہ فقاہت فی الدین کا درجہ مطلق علم سے بالاتر ہے علم کے معنی جاننے کے ہیں اور فقاہت کے معنی لغت میں فہم اور سمجھ کے ہیں " فقیہ " لغت اور شریعت کے اعتبار سے اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو شریعت کے حقائق اور دقائق کو اور اس کے ظہر اور بطن کو سمجھا ہوا ہو محض الفاظ یاد کرلینے کا نام فقاہت نہیں۔ جن لوگوں نے خدادا حافظہ سے کتاب وسنت کے الفاظ یاد کیے اور امت تک ان کو بلا کم وکاست پہنچایا وہ حفاظ قرآن اور حفاظ حدیث کا گروہ ہے جزاھم اللہ عن الاسلام والمسلمین خیرا۔ آمین۔
اور جن لوگوں نے خدادا عقل سلیم اور فہم مستقیم سے کتاب وسنت کے معانی اور شریعت کے حقائق اور دقائق اور اس کے اصول و فروع امت کو سمجھائے تاکہ امت ان احکام پر عمل کرسکے ان کو فقہاء کہتے ہیں خواہ فقہاء ظاہر کے ہوں یا باطن کے اصل مقصود اطاعت خدا و رسول ہے اور اطاعت کا اصل دارومدار معانی پر ہے محض الفاظ یاد کرلینے سے فریضۂ اطاعت کا اصل دارومدار معانی پر ہے محض الفاظ یاد کرلینے سے فریضۂ اطاعت ادا نہیں ہوسکتا۔ اصل عالم وہ جو شریعت کے معانی اور مقاصد کو سمجھتا ہو کما قال تعالیٰ وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العالمون۔
شریعت کی حفاظت امت پر فرض ہے حضرات محدثین نے الفاظ شریعت کی حفاظت کی اور حضرات فقہاء نے معانی شریعت کی حفاظت کی دونوں ہی اللہ تعالیٰ کے مقبول گروہ ہیں جس طرح انبیاء کرام میں درجات اور مراتب کا فرق ہے۔ کما قال تعالیٰ تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض منھم من کلم اللہ ورفع بعضھم درجت۔ اسی طرح وارثین انبیاء یعنی علماء میں بھی درجات اور مراتب کا فرق ہے۔
حضرات محدثین اور حضرت فقہا میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کہ لفظ اور معنی میں درجہ اور مراتب کا فرق ہے۔ حافظ قرآن الفاظ قرآنی کا حافظ ہے اور ایک مفسر قرآن معانی قرآن کا عالم اور فاہم ہم ہے۔
بہرحال اس آیت سے طلب سے علم دین اور تفقہ فی الدین کی کمال فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عالموں پر بےعلموں کو عذاب الٰہی سے ڈرانا فرض ہے اور بےعلموں پر عالموں کی تقلید فرض ہے ناقص پر کامل کی تقلید عقلاً فرض ہے جو شخص درجہ اجتہاد کو نہ پہنچا اس پر کسی مجتہد کامل کی تقلید فرض ہے۔