Ayahs 9:50–52منافقین کے حسد اور ان کی باطنی عداوت کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ ۔ ان تصبیک حسنۃ تسؤ ھم۔۔۔ الی۔۔ انا معکم متربصون۔
(ربط): اس آیت میں منافقین کے حسد اور ان کی ایک باطنی خباثت اور اندرونی عداوت ذکر ہے جو سارے فتنوں کی جڑ ہے چناچہ فرماتے ہیں اگر آپ کو کسی لڑائی میں کوئی بھلائی مثلا فتح یا غنیمت پہنچے تو حسد اور عداوت کی وجہ سے ان کو بری معلوم ہوتی ہے اور اگر کسی لڑائی میں کوئی بھلائی مثلا فتح یا غنیمت پہنچ تو حسد اور عداوت کی وجہ سے ان کو بری معلوم ہوتی ہے اور اگر کسی لڑائی میں آپ کو کوئی مصیبت پہنچے مثلا شکست یا زخم وغیرہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنا انتظام کرلیا تھا یعنی ہم پہلے ہی سے جانتے تھے کہ اس لڑائی میں نہیں گئے اور یہ کہتے ہوئے خوش وخرم اپنی مجلسوں سے اپنے گھر میں واپس ہوجاتے ہیں اے نبی آپ ان منافقوں سے کہہ دیجئے کہ تم ہماری مصیبت سے کیا خوش ہوتے ہو ہمیں یقین ہے کہ ہم کو ہرگز نہیں پہنچے گی مگر وہ چیز جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے وہی ہمارا کارساز ہے اور ہمارا آقا اور مولی ہے اور ہم اس کے بندے ہیں " بندہ رابا مصلحب بینی چہ کار " اس کی طرف سے جو فتح ونصرت یا ہزیمت ونکبت آئے اسی میں ہمارے لیے خیر ہے اور اہل ایمان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم ہمارے حق میں سوائے اس کے اور کس بات کا انتظار کرتے ہو کہ ہم کو دو بھلائیں میں سے ایک بھلائی ضرور ملے یعنی لڑائی میں ہمارا نجام یہی ہوسکتا ہے کہ ہم یا تو فتح اور غنیمت حاصل کریں یا شہادت اور اجر حاصل کریں۔ دو نوں صورتوں میں دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہم کو ضرور حاصل ہوگی پس تم ہمارے حق میں سوائے اس کے اور کس بات کے منتظر ہوسکتے ہو اور ہم بھی تمہارے حق میں دو باتوں میں سے ایک بات کے یا تو یہ کہ اللہ تعالیٰ تم پر براہ راست اپنے پاس سے کوئی عذاب نازل کرے جیسے کڑک اور زلزلہ اور طوفان وغیرہ تاکہ تم اس عذاب الٰہی سے ہلاک ہوجاؤ یا یہ کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ہاتھوں سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے۔ یعنی ہمارے ہاتھوں سے تم کو قتل کرائے اور ذلیل و خوار کرے مطلب یہ ہے کہ ہم بھی تمہارے لیے ان دوبرائیوں میں سے ایک برائی کے منتظر ہیں یا تو خود خدا تمہیں کسی سماوی آفت اور غیبی مصیبت سے ہلاک کرے یا ہمارے ہاتھوں کے ذریعے تم کو عذاب اور مصیبت پہنچائے پس تم ہمارے انجام کے منتظر رہو ہم بھی تمہارے ساتھ تمہارے انجام کے منتظر ہیں اور وہ وقت دور نہیں کہ جب انجام تمہارے سامنے آجائے گا۔
یہ تو جد بن قیس کے حسد اور عداوت اور فتنہ زنان روم کا جواب ہوا ابآئندہ آیت میں اس کی اسبات کا جواب ہے کہ میں اپنے مال سے آپ کی مدد کو حاضر ہوں اور آئندہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ تم فاسق اور منافق ہو اور بدون صدق اور اخلاص کے کوئی عمل اس کی بارگاہ میں قبول نہیں۔
Ayahs 9:53–57بیان غیر مقبول بود صدقات ونفقات منافقین
قال اللہ تعالیٰ ٰ قل انفقوا طوعا او کرھا لن یتقبل منکم۔۔۔ الی وھم یجمحون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں جد بن قیس کے اس قول کا یعنی لاتفتننی کا جواب تھا جس میں اس نے رومی عورتوں کے فتنہ کا بہانہ بنا کر غزوہ میں جانے معذوری ظاہر کی تھی اب اس آیت میں اس کے دوسرے قول کا جواب ہے جو اس نے یہ کہا تھا کہ میں بذات خود تو جہاد میں نہیں جاسکتا لیکن روپیہ پیسہ سے اعانت کرسکتا ہوں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ خدا تعالیٰ کے یہاں اس کا خرچ مقبول نہیں۔ قبول کے لیے ایمان اور اخلاص شرط ہے جو ان میں مفقود ہے ہے جن لوگوں کے دلوں میں ایمان نہ ہو اللہ کے یہاں ان کی عبادت قبول نہیں اے نبی آپ منافقین سے اور خاص کر جد بن قیس سے جو یہ کہتا ہے کہ میں مال سے آپ کی مدد کرسکتا ہوں ان کے جواب میں یہ کہہ دیجئے کہ تم خوشی سے راہ خدا میں اپنے مال خرچ کرو یا ناگواری اور ناخوشی سے تمہاری طرف سے کوئی خیرات ہرگز ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ تحقیق تم لوگ حد سے زیادہ نافرمان ہو۔ اور اسلام کے دائرہ سے بالکلیہ باہر ہو اور ادب سے بالکل بےبہرہ ہو ہم سے تمہارا کوئی تعلق نہیں محض اپنی نمود اور شہرت کے لیے زبان سے امداد کا ذکر کرتے ہو ایسی امداد کی اسلام کو ضرورت نہیں۔
اور ان کے خیرات کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں بجز اس کے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو نہیں مانا اور خدا اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لائے اور جس طرح کافر ظاہر میں زندہ اور معنی مردہ ہیں اسی طرح کافر کا عمل اگچہ ظاہر میں خوبصورت ہے مگر درحقیقت مردہ اور بےجان ہے اور وہ نہیں حاضر ہوتے مسجد میں نماز کے لیے مگر کاہلی کے ساتھ اور نہیں خرچ کرتے وہ راہ خدا میں مگر بادل ناخواستہ اس لیے کہ چواب و عقاب پر ان کا ایمان نہیں بخلاف مسلمانوں کہ وہ خدا اور رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں ایسے لوگوں کی خیرات اللہ کے یہاں مقبول ہے اور جو کافر اور منافق ہیں ان کا کوئی عمل قبول نہیں جب تک خدا اور رسول سے تعلق نہ قائم کریں گے اس وقت تک کوئی عمل ان کا اقابل قبول نہیں اور خدا اور اس کے رسول کے ساتھ تعلق ایمان کے ساتھ قائم ہوتا ہے پس جب یہ ایسے مردود اور مطرود ہیں تو ان کے مال اور ان کی اولاد آپ کو تعجب میں نہ دالے یعنی آپ ان کے مال و دولت اور اولاد کی کثرت کو دیکھ کر تعجب نہ کریں کہ یہ کیوں ہے۔ اور یہ خیال نہ کریں کہ اللہ ان سے راضی ہے کیونکہ یہ سب استدراج ہے ظاہر میں انعام ہے اور درپردہ وبال ہے۔ پس اللہ یہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں کے باعث ان کو دنیاوی زندگی میں مبتلائے عذاب رکھے۔ ہر وقت مال و دولت کی محبت میں سرگرداں رہیں اور اس کے حصول کے لیے طرح طرح کی مشقتیں اور سخت سے سخت مصیبتیں اور ذلتیں اٹھاتے رہیں غرض یہ کہ جب تک زندہ رہیں تو دنیا کے بکھیڑوں میں پھنسے رہیں اور مرنے کے وقت ان کی جانیں ان کے بدن سے کفر کی حالت میں نکلیں تاکہ عذاب دنیا کے بعد وہ عذاب آخرت میں پھنس جائیں اور یہ منافق تمہارے آگے اللہ کی جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں کہ تحقیق وہ تم ہی میں سے ہیں یعنی مسلمان ہیں اور حالانہ وہ تم میں سے نہیں بلکہ وہ پکے کافر ہیں و لیکن وہ ڈرپوک لوگ ہیں ڈر کے مارے اپنے کفر کو پوشیدہ رکھتے ہیں اس لیے وہ اپنے نفاق کو چھپانے کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں ان کو ڈر یہ ہے کہ اگر وہ اپنے اندرونی کفر کو ظاہر کریں تو مشرکین کی طرح وہ بھی قتل اور قید کیے جائیں اگر یہ لوگ پائیں کوئی جائے پناہ یا غار اور تہہ خانے یا کوئی سر گھسانے کی جگہ تو تیزی کے ساتھ اس طرف بھاگ جائیں اور تمہیں چھوڑ جائیں مگر بیچارے مجبور ہیں کہ کہاں جائیں کوئی جگہ ان کو ایسی نظر نہیں آتی جہاں جا کر اپنے دل کی بھڑاس نکالیں مطلب یہ ہے کہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں یعنی مسلمان ہیں اور تمہاری جماعت میں شامل ہیں۔ لیکن وہ نفس الامر میں تمہاری جماعت میں شامل نہیں ان کا قسم کھانا ڈر کی وجہ سے ہے آج اگر ان کو کوئی جائے پناہ غار یا تہہ خانہ مل جائے تو تم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں ان کا تم سے ملنا جلنا ناخوشی اور ناگواری کے ستھ ہے نہ کہ محبت کی راہ سے یہ تو اپنی غرض اور ضرورت سے نلتے ہیں ان کو اسلام کی روز افزوں عزت و رفعت سخت ناگوار ہے ان کو مسلمانوں سے اس قدر بغض اور نفرت ہے کہ ان کی صورت بھی دیکھنا نہیں چاہتے یہ چاہتے ہیں کہ اگر کوئی غار یا تہہ خانہ یا سر چھپانے کی مل جائے تو وہاں چل دیں اور مسلمان کی صورت بھی نہ دیکھیں۔
Ayahs 9:58–59تقسیم صدقات وغنائم پر بعض منافقین کا طعن اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ ومنھم من یلمزک فی الصدقات۔۔۔ الی۔۔۔ انا الی اللہ راغبون
(ربط) ان آیات میں تقسیم صدقات کے باے میں منافقین کے ایک طعن ک اذکر کرتے ہیں۔ جس کا منشاء صرف حرص اور طمع تھا۔ بعض منفاقین نے تقسیم صدقات کے بارے میں آپ پر ناانصافی کا الزام لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ لوگوں کا یہ طعن محض حرص اور طمع پر مبنی ہے کہ اگر ان لوگوں کو ان کی خواہش اور حص کے مطابق دیدیا جائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور کوئی اعتراض نہیں کرتے اس لیے آئندہ آیات میں صدقات کے مصارف بیان فرمائیں گے تاکہ معلوم ہوجائے کہ کون صدقہ دینے کے قابل ہیں اور کون نہیں اور ان منافقین میں کی ایک نع وہ ہے جو آپ پر تقسیم صدقات کے بارے میں نافصافی کا عیب لگاتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ معاذ اللہ آپ تقسیم صدقات میں عدل و انصاف کا لحاظ نہیں رکھتے۔ بخاری وغیرہ کی روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ طعن کرنے والا ذوالخویصرہ تمیمی تھا جو خارجیوں کا راس الرئیس اور اصل اصول تھا اور بعض نے اس کا شان نزول اور لوگوں کو بتلایا پس خوب سمجھ لو کہ ان کا یہ طعن خود غرضی کی راہ سے ہے سو ان صدقات میں سے اگر ان کو ان کے حسب منشاء دے دیا جائے تو وہ راضی ہوجاتے ہیں۔ اور پھر آپ کی تقسیم پر ان کو کوئی اعتراض نہیں رہتا اور اگر ان صدقات میں سے ان کو اور ان کی خواہش کے موافق نہ دیا جائے تو فورا ہی بگڑ بیٹھتے ہیں اور زبان طعن دراز کرتے ہیں پس معلوم ہوا کہ اس حرف گیری کا منشاء صرف خود غرضی ہے جو خود اس کے باطل ہونے کی دلیل ہے اور اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ اور اس کے رسول نے خیرات اور سدقات نافلہ اور مال غنیمت میں ان کو دیا اور یہ کہتے کہ ہمیں کافی ہے اللہ کا فضل قریب ہے کہ آئندہ اللہ ہم کو اپنے ضل وکرم سے اور اس کا رسول اپنے لطف و عنایات سے عطا کرے گا۔ تحقیق ہم دل وجان سے اللہ کی طرف راغب ہیں اور اس کے فضل وکرم کے امیدوار ہیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔
Ayah 9:60بیان مصارف صدقات
قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ انما الصدقات للفقراء۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم۔
(ربط) منافقین حرص اور طمع کی بناء پر یہ چاہتے تھے کہ ہم جس وقت آپ سے جتنا مانگیں اتنا ہی مال آپ ہم کو دے دیا کریں۔ اسی لیے وہ آپ کی عادلانہ تقسیم پر طعن کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی جس میں صدقات کے مصارف بیان فرمائے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ صدقہ دینے کے قابل نہیں اور یہ بتلا دیا کہ اللہ کے نبی کی تقسیم حکم خداوندی کے مطابق ہے جس میں ذرہ برابر خیانت کا احتمال نہیں کیونکہ زکوٰۃ اور صدقات نبی پر اور اس کے اہل و عیال پر اور اس کے خاندان پر بکہ اس کے آزاد کردہ غلاموں پر بھی حرام ہے۔ ایسی حالت میں خود غرضی کا تو کوئی امکان ہی۔ حضور پرنور ﷺ کے پاس جو زکوٰۃ اور صدقات کا مال آتا ہے وہ حسب حکم خداوندی فقراء و مساکین پر خرچ کردیتے ہیں تم جیسے حرص مالدار اس کے مستحق نہیں۔ منافقین کے قبائح اور فضائح کے درمیان مصارف صدقات کا بیان اس لیے فرمایا تاکہ منافقین کی طمع منقطع ہوجائے۔ چناچہ فرماتے ہیں صڈقات و خیرات یعنی زکوٰۃ صرف فقیروں اور مسکینوں کا حق ہے اور ان لوگوں کا حق ہے جو اس کے وصول کرنے پر تعینات ہیں یعنی جو صدقات کی تحصیل کا کام کرتے ہیں ان کو اس مال سے بطریق عمالہ یعن بطریقہ صلہ کار گزاری کچھ دیا جائے اگرچہ وہ غنی ہوں لیکن نہ بطریق زکوٰۃ و صدقہ اور بطریقہ عمالہ میں یہ شرط ہے کہ بقدر کفافا اور بقدر ضرورت دیا جائے گویا کہ شریعت نے عاملین کو جو دینے کا حکم دیا ہے وہ درحقیقت ان کا سفر خرچ ہے نہ کہ زکوٰۃ اور صدقہ۔ جیسا کہ عنقریب اس کی تفصیل آئے گی اور یہ صدقات ان لوگوں کے لیے ہیں جن کی تالیف قلب کی جائے اس سے وہ ضعیف الایمان مسلمان مراد ہیں جو ابھی اسلام پر پختہ نہیں اور افلاس اور تنگدستی کی وجہ سے ان کے اسلام سے پھرجانے کا اندیشہ ہے تو ایسے لوگوں کی تالیف قلب اور دلجوئی کے لیے اس مال میں سے ان کی مدد کی جائے اس حصہ کے متعلق جمہور ائمہ دین کا مذہب یہ ہے کہ یہ پہلے تھا اور اب ساقط ہوگیا کیونہ اللہ نے اسلام کو غنی کردیا۔ لہذا اب مؤلفۃ القلوب کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ صدیق اکبر ؓ کے عہد خلافت میں اس پر تمام صحابہ کا اجماع اور اتفاق ہوگیا۔ (دیکھو روح المعانی ص 109 ج 10)
مطلب یہ ہے کہ اب تالیف قلب کی بناء پر زکوٰۃ دینا جازئ نہیں یہ حکم پہلے تھا اور اب منسوخ ہوگیا۔ اب زکوٰۃ صرف حاجت اور ضرورت کی بناء پر جائز ہے۔
اور نیز ان صدقات کو غلاموں کی گردن چھڑانے میں صرف کیا جائے یعنی وہ لونڈی اور غلام جنہوں نے اپنے آقاؤں سے یہ معاملہ کرلیا ہے کہ کما کر اتنی رقفم ادا کریں تو ہم کو آزاد کردیا جائے۔ اصطلاح شریعت میں ایسے غلاموں کو مکاتب کہتے ہیں۔ جس مال زکوٰۃ سے ان مکاتبین کی امداد جائز ہے۔ اور امام مالک اور امام احمد یہ کہتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مال سے لونڈی اور غلام کو خرید کر آزاد کرنا بھی جائز ہے اور صدقات قرضداروں کے قرضہ ادا کرنے کے لیے بھی ہیں۔ غارمین سے وہ قرضدار مراد ہیں جن کے پاس اتنا اثاثہ نہیں کہ جس سے وہ قرضہ ادا کرسکیں بشرطیکہ وہ قرضہ انہوں نے جائز ضرورت کے لیے لیا ہو۔ معصیت اور فسق اور فجور جیسے شراب خوری اور فضول خرچی کے لیے نہ لیا حدیث میں ہے کہ جس نے معصیت کے کاموں کے لیے قرض لیا ہو اس کو صدقات میں کچھ نہ دیا جائے اور نیز یہ صدقات اللہ کی راہ میں صرف کیے جائیں اللہ کی راہ سے جہاد مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ غازی فقیروں اور حاجتمند مجاہدوں کی اس مال سے مدد کی جائے تاکہ وہ اس مال سے سفر جہاد کرسکیں اور سامان جہاد ہتھیار وغیرہ خرید سکیں اور نیز یہ صدقات بےسروسامان مسافروں کی امداد میں خرچ کیے جائیں جو اپنے گھر سے خر چمنگانے پر قادر نہیں اور نہ قرض لینے پر قادر ہیں تو ایسے بےسروسامان مسافروں کو زکوٰۃ وصدقات میں اتنی رقم دے دینی چاجئز ہے کہ جس سے وہ اپنے گھر پہنچ سکیں یہ حکم اللہ کی طرف سے مقرر ہے لہذا اللہ کے نبی نے اللہ کے حکم کے مطابق جس طرح صدقات کو تقسیم کردیا اس میں کسی کے لیے اعتراض کی گنجائش نہیں اور اللہ بندوں کی حاجتوں اور مصلحتوں کو جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اس کو مناسب اور نامناسب کا علم ہے صدقات کے متعلق اس نے جو حکم دیا وہ عین حکمت اور عین مصلحت ہے
حق تعالیٰ چون درحکم کشاد ہر کسے را آنچہ می بائیداد
نیست واقع اندراں قسمت غلط بندہ را خواہی رضا خواہی سخط
چونکہ منافقین نے آنحضرت ﷺ کی تقسیم پر اعتراض کیا تو اللہ تعالیٰ نے خود صدقات کی تقسیم کا طریقہ مقرر کردیا۔ اور اس کے مصارف متعین فرما کر ان کی فہرست نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ میں دے کہ کہ آپ اس کے مطابق تقسیم کریں تاکہ کوئی حریص اور خود غرض آپ کی تقسیم پر اعتراض نہ کرسکے اللہ تعالیٰ نے صدقات کی تقسیم کو کسی کی مرضی پر نہیں چھوڑا بلکہ بذات خود اس کے مصارف متعین کردئیے جو آٹھ ہیں ان کے سوا کسی اور مصرف میں ان کا صرف کرنا جائز نہیں اب ہم ان آٹھ مصفروں کو جدا جدا تفصیل دار بیان کرتے ہیں۔
تفصیل مصارف صدقات
1 ۔ الفقراء۔ 2 ۔ المساکینَ
ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فقراء اور مساکین یہ دونوں محتاجین کی دو علیحدہ، علیحدہ قسمیں ہیں ان کی تفسیر میں علماء سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ جمہور علماء یہ کہتے ہیں کہ فقیر وہ ہے کہ جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو اور مسکین وہ ہے کہ جس کے پاس بقدر ضرورت و کفایت نہ ہو غرض یہ کہ سخت افلا اس اور بدحالی کا نام فقر ہے چناچہ سخت مصیبت کو عربی زبان میں فاقرہ کہتے ہیں اور فقیر اصل میں فقار سے مشتق ہے جس کے معنی کمر کی ہڈی کے ہیں۔ فقیر کو فقیر اس لیے کہتے ہیں کہ سخت افلاس نے اس کی فقار (کمر) توڑ دی ہے۔
اور مسکین وہ ہے کہ جس کے پاس مال میں سے کوئی ادنی سی چیز موجود ہو مگر اس کی ضرورت کے لیے قطعاً کافی نہ ہو یہ لفظ سکون سے مشتق ہے چونکہ اس کے پاس سکون قلب کا ذریعہ موجود نہیں اس لیے اس کو مسکین کہتے ہیں یا یہ وجہ ہے کہ بےسروسامانی کی وجہ سے ساکن ہے متحرک نہیں۔
بہرحال احتیاج فقیر میں بھی پائی جاتی ہے اور مسکین میں بھی مگر جمہور علماء کے نزدیک فقیر محتاجی میں سب سے بڑھ کر ہے اور مسکین محتاجی میں فقیر سے کم درجہ میں ہے اس لیے حق جل شانہ نے مصارف صدقات میں سب سے پہلے فقراء کا ذکر فرمایا کیونکہ فقراء بہ نسبت دیگر اصناف کے محتاج تر ہیں اور امام ابو حنفہ کے نزدیک معاملہ بر عکس ہے امام اعظم کے نزدیک مسکین فقیر سے زیادہ بدتر ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک فقیر وہ کہ جس کے پاس مقدار نصاب مال نہ اور مسکین وہ ہے کہ پاس کچھ بھی نہ ہو۔ کما قال تعالیٰ او مسکینا ذا متربہ۔ مسکین وہ ہے کہ جس کے پاس سوائے مٹی کے کچھ نہ ہو۔
3 ۔ عاملین : مصارف صدقات کی تیسری قسم عاملین ہے۔ عاملین سے وہ لوگ مراد ہیں جو اسلامی حکومت کی طرف تحصیل صدقات کے کام پر تعینات ہوں ان کو بھی اس مال سے بقدر ضرورت و کفایت دے دیا جائے اگرچہ وہ غنی ہوں جاننا چاہیے کہ عاملین کو جو کچھ دیا جائے گا وہ بطریق زکوٰۃ نہیں بلکہ بطریق عمالہ ہے اور پھر یہ عمالہ بقدر کفاف اور بقدر ضرورت و کفایت ہے۔ یعنی ضرورت اور کفایت کے مطابق ان کو دیا جائے۔ جس کی مقدار کوئی معین ہیں اس لیے اس کو اجرت اور معاوضہ نہیں کہا جاسکتا جیسا کہ علامہ ابن جوزی فرماتے ہیں قولہ تعالیٰ والعاملین علیھا وھم السعاۃ الجبایۃ الصدقۃ یعطون منھا بقدر اجور امثالھم ولیس ما یاخذونہ بزکوۃ (زاد المسیر ص 457 ج 3)
غرض یہ کہ عامل اور محصل کو جو کچھ دیا جاتا ہے وہ درحقیقت اس کی آمدورفت کا خرچ ہے زکوٰۃ اور صدقہ نہیں کیونکہ زکوٰۃ میں شرط یہ ہے کہ کہ وہ کسی عمل کے عوض اور مقابلہ میں نہ و بلکہ زکوٰۃ کی حقیقت ہی تملیک المال بغیر عوض ہے (دیکھو بنایہ شرح ہدایہ ص 115 ج 1 کنز الدقائق ص 55) حضرات اہل علم تفصیل کے لیے بدائع الصنائع ص 44 ج 2 دیکھیں۔
قرآن و حدیث سے یہ بداہۃً معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ وصدقات در اصل حق فقراء کا ہے مگر چونکہ عاملین صدقات نے تحصیل صدقات میں فقراء کی خدمت انجام دی ہے اس لیے عاملین کو حکماً فقراء کے زمرہ میں شمار کر کے یا ان کا خاد ہونے کی حیثیت سے صدقات میں سے بطور عمالہ اور بطور صلہ خدمت فقط بقدر ضرورت و کفایت کچھ دے دینے کیا جازت دے دی گئی کیونکہ زکوٰۃ اصل حق فقراء کا ہے عامل کو فقراء کی طرف سے بطور حق الخدمت دے دیا گیا نہ بطور زکوٰۃ۔
خلاصۂ کلام یہ کہ عاملین کو جو کچھ دیا جاتا ہے وہ بطور عمالہ ہے نہ کہ بطور صدق وزکوۃ کیونکہ یہ امر سب کے نزدیک مسلم ہے کہ غنی کو صدق اور زکوٰۃ کا مال حلال نہیں اور عاملین کے لیے صدقات میں سے لینا جائز ہے اگرچہ وہ غنی ہوں پس معلوم ہوا کہ عاملین کو جو کچھ دیا جاتا ہے وہ ان کی دینی خدمت کا صلہ اور انعام ہے نہ کہ اجرت اور معاوضہ اور پھر یہ عمالہ اور صلہ بھی بقدر کفاف و ضرورت ہے لہذا اس عمالہ اور صلہ کو یہ سمجھنا کہ یہ عاملین صدقات کا مشاہرہ اور ان کی تنخواہ تھی اور پھر اس پر یہ قیاس کرنا کہ اسی طرح مدرسہ کے مدرسین اور ملازمین کی تنخواہیں بھی زکوٰۃ کے روپیہ سے دینا جائز ہے قطعاً (بلکل) غلط ہے مدرسین اور ملازمین کو جو مشاہرہ ملے گا وہ ان کے عمل کا عوض اور اسکی اجرت ہوگی اور زکوٰۃ میں یہ شرط ہے کہ تملیک بلا عوض ہو اور خدمت کا معاوضہ اجارہ ہے نہ کہ صدقہ۔
اور عہد رسالت اور زمانہ خلافت راشہ میں قاضیوں اور مفتیوں کو جو وظیفے دئیے جاتے تھے وہ مال غنیمت کے خمس اور جزیہ اور خراج کی آمدنی سے دئیے جاتے تھے اور زکوٰۃ اور صدقات کی مد سے کبھی بھی قاضیوں اور مفتیوں کو تنخواہیں نہیں دی گئیں اور آج کلہ مدارس اسلامیہ میں جو زکوٰۃ کی رقم آتی ہے وہ صرف نادار طلبہ کے وظائف میں خرچ کی جاتی ہے اور ان کو اس کا مالک بنادیا جاتا ہے اس رقم میں سے نہ مدرسین اور ملازمین کو تنخواہ دی جاتی ہے اور نہ مسجدوں اور مدرسہ کی تعمیر میں صرف ہوتی ہے اس لیے کہ زکوٰۃ میں فقراء کو مالک بنانا شرط ہے بغیر تملیک زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔
4 ۔ مؤلفۃ القلوب : مؤلفۃ القلوب سے وہ نومسلم مراد ہیں کہ جنہوں نے اسلام تو قبول کرلیا مگر ہنوان ان کا اسلام کمزور ہے اور غریب اور نادار ہیں اندیشہ ہے کہ پھسل نہ جائیں اسلیے ان کو صدقات میں سے دیا جائے۔ تاکہ اسلام پر قائم اور ثابت رہیں اکثر علماء کے نزدیک آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد یہ مد باقی نہیں رہا۔ صدیق اکبر ؓ کے عہد خلافت میں صحابہ کا اس پر اجماع ہوگیا کہ اب زکوٰۃ اور صدقات میں سے مؤلفۃ القلوب کا سہم ساقط ہوگیا۔ تفسیر قرطبی ص 181، ج 8 اور دیکھو زاد المسیر ص 485 ج 3
البتہ مؤلفۃ القلوب میں سے جو لوگ حاجتمند اور غریب ہوں تو فقراء میں ہونے کی وجہ سے اب بھی ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے کیونکہ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک عاملین صدقات کے علاوہ باقی تمام مصارف میں فقر اور حاجتمندی شرط ہے اس لیے مؤلفۃ القلوب کو اسی شرط کے ساتھ دیا جاسکتا ہے کہ وہ فقراء اور حاجتمند ہوں جیسے رقاب اور غارمین اور ابن سبیل کو اسی شرط کے ساتھ زکوٰۃ دی جاتی ہے کہ وہ حاجتمند ہوں اور کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ آنحضرت صلی للہ علیہ وسلم نے کسی کافر کو تالیف قلب کے لیے زکوٰۃ اور صدقات میں کچھ دیا ہو جن روایتوں میں صفوان بن امیہ وغیرہ کو دینے کا ذکر آیا ہے۔ سو وہ مال غنیمت کے خمس میں سے دیا گیا ہے نہ مال زکوٰۃ سے (دیکھو تفسیر مظہری صفحہ 236 ج 4)
5 ۔ وفی الرقاب : رقاب سے مکاتبین مراد ہیں اور مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں کہ جس نے اپنے ا آقا سے عیہ وعدہ کیا ہو کہ اتنا معاوضہ ادا کرنے پر آزاد ہوجاؤں گے۔ سو ایسے عغلاموں کو بھی صدقہ دیا جائے تاکہ وہ بدل کتابت ادا کرکے اپنی گردنوں کو غلامی کے پھندے سے نکال لیں یا کسی مسلمان قیدی کو دیا جائے کہ وہ اس مال سے اپنا فدیہ دے کر رہائی حاصل کرے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ گردنوں کے چھڑانے سے مراد یہ ہے کہ زکوٰۃ کے روپے سے غلام خرید کر آزاد کیے جائیں مگر راجح پہلا ہی قول ہے۔
6 ۔ والغارمین : غارمین سے وہ مفلس قرضدار مراد ہیں جنہوں نے جائز ضرورت کے لیے قرض لیا تھا مگر بعد میں ادا نہ کرسکتے ایسے قرضداروں کی زکوٰۃ وصدقات کے پیسہ سے امدا کرنی چاہیے۔ مگر جس نے معصیت کے کاموں کے لیے قرض لیا ہو۔ اس کو صدقات میں سے کچھ نہ دیا جائے اور فتاوی ظہیریہ میں ہے کہ قرضدار کو زکوٰۃ دینا بہ نسبت فقیر کے زیادہ بہتر ہے۔
7 ۔ فی سبیل اللہ : فی سبیل اللہ سے بےسروسامان مجاہدین کی اعانت کرنا مراد ہے مطلب یہ ہے کہ غازی فقیروں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے تاکہ وہ اس مال سے ہتھیار و سامان جہاد خرید کرسکیں اور جہاد کے لیے سفر کرسکیں جو مجاہد غنی ہو اس کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی اور بعض فقہاء یہ کہتے ہیں کہ فی سبیل اللہ سے دین کے طالب علم مراد ہیں جو خالص دین کی تعلیم میں مشغول ہوں اور ان کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہ ہو تو ایسے حاجت مند طالب علموں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ خالص دینی تعلیم کی قید اس لیے لگائی کہ جو خاص دنیوی تعلیم کا طالب ہو وہ تو ظاہر ہے کہ وہ کسی طرح بھی فی سبیل اللہ کا مصداق نہیں ہوسکتا البتہ جو دینی اور دنیوی مخلوط تعلیم کا طالب وہ بھی صحیح طور پر فی سبیل اللہ کا مصداق نہیں اور تمام فقہاء کا اجماع ہے کہ فاسق وفاجر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔
8 ۔ ابن السبیل : ابن السبیل سے وہ مسافر مراد ہے جس کے پاس سفر خرچ نہ رہا ہو اور وہ اپنے گھر سے خرچ منگانے پر بھی قادر نہ ہو اور نہ قرض لینے پر قادر ہو تو ایسے مسافر کو بقدر سفر خرچ زکوٰۃ دے دینا جائز ہے جس سے وہ اپنے گھر پہنچ جائے۔
مسئلہ تملیک : فقہاء کرام کے نزدیک تمام مصارف زکوٰۃ میں تملیک شرط ہے یعنی جس کو زکوٰۃ دی جائے اس کو پورا مالک بنادیا جائے کہ وہ جو چاہے اس میں تصرف کرے بغیر تملیک کے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی اس لیے کہ صڈقہ اور زکوٰۃ کی حقیقت ہی تملیک ہے۔ یعنی اپنے مال کا ایک حصہ اپنی ملک سے بالکلیہ نکال کر فقراء اور مساکین کو بلا کسی عوض اور بلا کسی فائدہ اور منفعت کے محض اللہ کے لیے مالک بنادینے کا نام صدقہ اور زکوٰۃ ہے۔
قرآن کریم میں جا بجا یتاء زکوٰۃ کا حکم مذکور ہے اور ایتاء کے معنی لغۃ وشرعا اعطاء کے ہیں اور اعطاء کے معنی یہ ہیں کہ کسی شیئ کو اپنی ملک سے نکال کر کسی کو اس طرح عطا کردینا کہ وہ اس کا مالک اور مختار بن جائے یعنی لینے والا اس پر قابض بھی ہوجائے کہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکے اس لیے کہ تملیک جب ہی مکمل ہوگی کہ جب تفویض و تسلیم بھی اس کے ساتھ مقرون ہو جب تک مالک وہ مال اپنی ملک سے اور اپنے قبضہ سے نکال کر فقیر کے ھوالہ اور سپرد نہ کرے گا تملیک تمام نہ ہوگی۔ قرآن کریم میں ادائیگی مہر کے لیے لفظ ایتاء استعمال ہوا ہے کما قال تعالیٰ واتوا النساء صدقاتھن نحلۃ اور ظاہر ہے کہ مہر کی ادائیگی جب ہی ہوگی کہ جب مہر کی رقم پر عورت کا مالکانہ قبضہ ہوجائے جب تک کسی چیز کو اپنے قبضہ سے نکال کر دوسرے کے قبضہ میں نہ دیدے اس کو عطیہ نہیں کہا جاسکتا۔
صدقہ ہو یا ہبہ ہو یا عطیہ ہو بغیر تملیک و تسلیم کے عقلاً ونقلاً بےمعنی ہے اگر کوئی شخص کسی کو اپنے گھر دعوت دے اور ایوان نعمت کا دستر خوان اس کے سامنے بچھا دے تو یہ اباحت اور ضیافت کہلائے گی۔ تملیک نہیں کہلائے گی اس لیے کہ دعوت اور ضیافت کے معنی محض اجازت کے ہیں کہ جتنا چاہیں تناول فرمائیں مگر یہ تملیک نہیں اس لیے مہمان کو اس میں تصرف کا اختیار نہیں کہ جس کو چاہے دسترخوان سے کھانا اٹھا کر ہبہ کردے یہی وجہ ہے کہ محض دعوت و ضیافت سے بالاجماع زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی اور اگر کھانا پکا کر کسی شخص کے دے دیا جائے کہ وہ اس کھانے کو اپنے گھر لے جائے اور جس کو چاہے کھلائے تو تملیک ہے۔
غرض یہ کہ زکوٰۃ کے لیے تملیک شرط ہے یہی وجہ ہے کہ تمام ایمہ دین کا اس پر اجماع ہے کہ زکوٰۃ کے روپے مسجد اور مدرسہ اور خانقاہ اور مسافر خانہ کی تعمیر درست نہیں اور علی ہذا زکوٰۃ کے روپیہ سے کسی مردہ کی تجہیز وتکفین اوراقبار و تدفین جائز نہیں اس لیے کہ ان تمام صورتوں میں کسی فقیر و مسکین تملیک متحقق نہیں مسجد اور مدرسہ کی تعمیر میں ظاہر ہے کہ تملیک نہیں اور کفن اور دفن سے مردہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوجاتا اور اگر کسی کو چند روزہ استعمال کے لیے کوئی چیز دے دی جائے تو وہ عاریت کہلائے گی ہبہ اور عطیہ شمار نہ ہوگی اس لیے کہ اس میں تملیک نہیں اور زکوٰۃ اور صدقہ کا درجہ تو تملیک میں ہبتہ اور عطیہ سے بھی بڑھ کر ہے تو صدقہ میں بدرجۂ اولی تملیک ضروری ہوگی غرض یہ کہ صدقہ اور زکوٰۃ کے لیے یہ ضروری ہے کہ حکم خداوندی کے مطابق کسی مسلمان فقیر کو بلا کسی عوض اور بلا کسی فائدہ اور منفعت کے مال زکوٰۃ کا اس طرح مالک بنادیا جائے کہ اس مال سے مالک بنانے والے کی منفعت بالکلیہ منقطع ہوجائے۔
یہ دو قیدیں اس لیے لگائی گئیں کہ اگر کسی کسی کسی خدمت کے معاوضہ میں مال دیا گیا تو عقلاً اور شرعاً یہ زکوٰۃ اور صدقہ نہیں کہلائے گی۔ بلکہ اجرت اور تنخواہ کہلائے گی اس لیے کہ صدقہ اس تملیک کو کہتے ہیں جو بلا کسی عوض اور بلا کسی فائدہ اور منعفت کے محض اللہ کے لیے ہو اور گر کسی خدمت کے معاوضہ میں کچھ دیا جائے تو وہ اگرچہ تملیک ہے مگر وہ تملیک بالعوض ہے تملیک بلا عوض نہیں اس للیے وہ صدقہ نہیں کہلائے گی بلکہ اجرت اور تنخواہ کہلائے گی۔
اور دوسری قید یعنی تملیک اس طرح ہو کہ اس مال سے مالک بنانے والے کی منفعت بالکلیہ منقطع ہوجائے اس کا ثمرہ یہ ہے کہ اپنی اصول و فروع یعنی باپ دادا نانا نانی وغیرہ اور بیٹا بیٹی پوتا پوتی نواسہ نواسی کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں کیونکہ اصول و فروع کو زکوٰۃ دینے میں زکوٰۃ دینے والے کی اس مال سے منفعت بالکلیہ منقطع نہیں ہوتی بلکہ من وجہ باقی رہتی ہے بلکہ ایک حیثیت سے اپنے پاس ہی رہتی ہے عرف میں ماں باپ اور اولاد ایک ہی سمجھے جاتے ہیں۔
حدیث میں ہے انت ومالک لابیک تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے اور قرآن کریم میں ہے ووجدک عائلا فاغنی اور اللہ نے آپ کو محتاج پایا۔ پس خدیجہ ؓ کے مال سے آپ کو غنی کردیا۔
یہی وجہ ہے کہ جمہور ایمہ دین کے نزدیک میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں سے سکتے۔ اس لیے کہ منافع زوجین مشترک ہیں ایک دوسرے کی ملک سے منتفع ہوتا ہے حتی حدیث میں اپنے دئیے ہوئے صدقہ کو خریدنے کی بھی ممانعت آئی ہے کیونکہ ایسی صورت میں بائق ضرور صدقہ دینے والے کی رعایت کرتے اور بہ نسبت اوروں کے اس کو کم قیمت میں دے گا تو ایسی صورت میں فی الجملہ اپنے صدقہ سے نفع اٹھانا ہوگا اور اسی فائدہ اور منفعت کے لحاظ سے شریعت نے باپ کی بیٹے کے لیے اور شوہر کی بیوی کے لیے شہادت معتبر نہیں مانی۔
مسئلہ تملیک کے متعلق ہم نے یہ مختصر سا لکھ دیا ہے تاکہ مسلمان اپنی زکوٰۃ میں احتیاط برتیں اور جو لوگ زکوٰۃ میں تملیک کے قائل نہیں ان کو زکوٰۃ دینے سے پرہیز کریں تفصیل کے لیے کتب فقہ کی مراجعت کریں اور اس وقت جو مختصر کلام ہدیہ ناظرین کیا وہ تمام تر امام علاء الدین کا سانی کے کلام کی توضیح وتشریح ہے۔ حضرات اہم علم بدائع الصنائع ص 39 ج 2 کی مراجعت کریں۔
اسرار حکم
نکتہ اولی : مصارف صدقات کی آٹھ قسموں میں سے اول کی چار قسموں کو لام کے ذریعے بیان کیا یعنی للفقرائ والمساکین فرمایا اور اخیر کی چار قسموں کو یعنی وفی الرقاب والغارمین الخ کو لفظ فی کے ذریعے بیان کیا گیا وجہ اس کی یہ ہے کہ اول کی چار قسمیں ذاتی طور پر مستحق ہیں اور اسی ذاتی استحقاق کے بیان کرنے کے لیے کلمہ لام لایا گیا اور اخیر کی چار قسمیں لفظ فی کی ذریعہ سے بیان کی گئیں وجہ اس کی یہ ہے کہ لفظ فی سببیت اور علیت بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے جیسے کہا جاتا ہے عذب فلان فی سرقۃ یعنی فلاں کو چوری کے سبب سے سزا ملی۔ پس آیت میں لفظ فی سے اشارہ اس طرح ہے کہ ان اخیر کی چار قسموں کو ذاتی استحقاق کی بنا پر نہیں بلکہ ان مصلحتوں اور ضرورتوں کے سبب سے ان کو زکوٰۃ دینے کی اجازت دی گئی کہ اپنی گردن کو غلامی سے چھڑا لیں اور قرض سے سبکدوشی حاصل کریں اور جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ سر انجام دے سکیں اور اپنے سفر کو پورا کرسکیں۔ ان اسباب اور وجوہ کی بناء پر ان لوگوں کو صدقات دینے کی اجازت دی گئی اس لیے ان اخیر کی چار قسموں میں لفظ فی تعلیل اور سببیت کے بیان کے لیے لایا گیا اور اول کے چار اقسام میں لفظ لام ذاتی استحقاق بیان کرنے کے لیے لایا گیا۔ دیکھو صاوی ص 154 ج 2 اور دیکھو روح البیان ص 253 ج 3 ۔
یا یوں کہو کہ کہ ان ان اخیر کے چار قسموں میں لفظ فی اس لیے استعمال کیا گیا کہ یہ چار قسمیں فقراء اور مساکین سے بڑھ کر مستحق ہیں اس لیے کہ لفظ فی اس لیے استعمال کیا گیا یہ چار قسمیں فقراء اور مساکین سے بڑھ کر مستحق ہیں اس لیے کہ لفظ فی کلام عرب میں ظرفیت اور محلیت کے بیان کرنے لیے آتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ صدقہ اور زکوٰۃ کا اصل محل اور اصل ظرف مکاتبین اور غارمین اور مجاہدین اور بےسروسامان مسافرین ہیں ان لوگوں کو اپنے صدقات کا خالص طور پر محل اور ظرف بناؤ۔ کیونکہ یہ لوگ بہ نسبت فقراء و مساکین کے زیادہ ضرورت مند اور زیادہ تکلیف میں ہیں ان کو اتنی تکلیف نہیں جتنا کہ غلامی اور دوسرے کے قرض میں ہے لہذا یہ آخری چار بہ سنبت پہلے چار کے زیادہ مستحق ہیں اور غلام اور مقروض کی گلو خلاصی زیادہ موجب فضیلت ہے اور پھر ان چار قسموں میں مجاہدین اور مسافرین کی امداد تو بہت ہی اہم ہے اس لیے وفی سبیل اللہ میں لفظ فی کو اسی ترقی اور مبالغہ کے بیان کرنے کے لیے مکرر لایا گیا کہ غازی اور مسافر سب سے زیادہ مستحق اعانت ہیں (دیکھو بنایہ شرح ہدایہ ص 1250 ج 1 تفسیر کشاف وروح المعانی ص 113 ج 1)
نکتۃ دوم : زکوٰۃ وصدقات کے اصل مصرف فقراء ہیں جن کا اس آیت کے شروع میں ذکر فرمای اور باقی سب فقراء ہی کی انواع و اقسام ہیں حاجتوں کی قسمیں مختلف ہیں اس لییے حاجتمند بھی مختلف قسم کے ہوئے اور مطلق فقراء اور احتیاج سب میں قدر مشترک ہے اور فقراء کی اعلی قسم مسکین ہے پس والمساکین سے لے کر آخرت تک تمام معطوفات عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہیں۔ جو سب کے سب فقراء کے تحت مندرج ہیں۔ رقاب اور غارمین اور فی سبیل اللہ اور ابن اسبیل کو علیحدہ علیحدہ اس لیے بیان کیا تاکہ حاجتوں اور ضرورتوں اجمالی علم ہوجائے اور اہل دولت متنبہ ہوجائیں کہ اپنی زکوٰۃ وصدقات کے خرچ کرتے وقت ان ضرورتوں اور اس قسم کے حاجتمندوں کا خاص طور پر لحاظ رکھیں ورنہ حاجتیں بیشمار ہیں ان آٹھ اور سات میں منحصر نہیں قرآن کریم میں جا بجا صدقات کے مصرف میں صرف فقراء کا ذکر کیا ہے کہ صدقات کے اصل مصرف فقراء ہیں کما قال تعالیٰ ان تبدو الصدقات فنعماھی وان تخفوھا وتؤتوھا الفقراء فھو خیر لکم۔ و قال تعالیٰ للفقراء المھاجرین الذین اخرجوا من دیارھم۔ وقال تعالیٰ للفقراء الذین احصروا فی سبیل اللہ لا یستطیعون ضربا فی الارض یحسبھم الجاھل اغنیاء من التعفف تعرفھم بسیماھم لا یسئلون الناس الحافا۔
اور معاذ بن جبل ؓ کی حدیث میں ہے ان اللہ افترض علیھم صدقۃ توخذ من اغنیاء ھم فترد علی فقراء ھم تحقیق میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ فرض کیا ہے کہ ان کے اغنیاء سے صدقہ لیا جائے اور ان کے فقراء میں اس کو لوٹا دیا جائے۔ اس حدیث میں فقراء کے ذکر پر اکتفا فرمایا۔
اور کہیں کہیں مسکین کا ذکر فرمایا۔ فاطعام عشرۃ مساکین من اوسط ما تطعمون اھلیکم او کسوتھم۔ ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا و یتیما واسیرا۔ پس جس طرح یتیم واسیر دونوں مسکین ہی کی ایک قسم ہیں۔ اسی طرح مساکین بھی فقراء کی ایک قسم ہیں۔ معلوم ہوا کہ آیت میں جس قدر اصناف اوراقسام کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب فقراء ہی کی قسام ہیں اس لیے امام ابوحنیفہ اور جمہور ائمہ دین کے نزدیک مصارف صدقات کے تمام انواع و اقسام میں فقر اور احتیاج شرط ہے بغیر فقر کے کسی کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔
مسئلہ : زکوٰۃ صرف مسلمان فقیر کو دی جاسکتی ہے غیر مسلم فقیر کو بالاجماع زکوٰۃ دینا جائز نہیں زکوٰۃ کا حکم صرف مسلمان فقیروں ہی کی اعانت کے لیے نازل ہوا ہے اور غیر مسلم فقیر کی اعانت جزیہ اور خراج کی آمدنی سے کی جائے۔ جیسا کہ کتب فقہ میں بالتفصیل مذکور ہے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ زکوٰۃ کا صل مصرف فقراء ہیں اور باقی اصناف سبعہ۔ سب فقراء ہی کی انواع و اقسام ہیں سوائے عالمین کے ہر جگہ فقر اور حاجتمندی شرط ہے اور عالمین اگرچہ غنی ہوں ان کو اس مال سے دینا اس لیے جائز ہوا کہ وہ حکما فقراء کے قائم مقام قرار دئیے گئے۔ صدقات دراصل حق فقراء کا ہے اور وہی اس کے اصل مصرف ہیں۔ عالمین کو جو کچھ دیا دیا جارہا ہے وہ درحقیقت فقراء کی طرف سے بطورصلہ اور تبرع ان کو دیا جارہا ہے نہ کہ بطور زکوٰۃ و صدقہ (دیکھو تفسیر مظہری ص 239 ج 4) اور فقراء ان سات قسموں میں منحصر نہیں حق تعالیٰ نے ان اقسام کا ذکر ان ضرورتوں کی اہمیت بتلانے کے لیے فرمایا کہ یہ ضرورتیں بہ نسبت اور ضرورتوں کے اہم اور مقدم ہیں۔ (دیکھو تفسیر مظہری ص 239 ج 4 )
بحمداللہ اس تفصیل سے یہ امر بخوبی واضح ہوگیا کہ زکوٰۃ اور صدقات کی حقیقت کسی مسلمان فقیر اور مسکین کو محض اللہ کی خوشنودی کے لیے بلا کسی عوض کے مالک بنادینا ہے۔ زکوٰۃ اللہ کی عبادت ہے جس کا درجہ نماز کے بعد ہے جو کسی عمل کا عوض اور اس کی اجرت نہیں اور علت اس کی فقر اور مسکنت ہے بشرطیکہ وہ فقیر اور مسکین مسلمان ہو غیر مسلم فقیر کو زکوٰۃ دینا بالاجماع جائز نہیں لہذا کسی ادارہ کے مہتمم یا ناظم یا ملازم کو زکوٰۃ کی رقم سے تنخواہ دینا جائز نہیں کیونکہ یہ تنخواہ اس کے عمل اور کارکردگی کا معاوضہ ہوگی اور خالص لوجہ اللہ نہیں رہا عاملین صدقات کے بارے میں جو حکم آیا ہے اس پر ملازمین اور مدرسین کا قیاس ہرگز درست نہیں۔ اس لیے کہ عاملین شرعی طور پر فقراء اور مساکین کے وکیل اور ان کے قائم مقام ہیں۔ عالمین نے محض فقراء مسلمین کے فقر اور مسکنت کی خاطر روپیہ جمع کیا ہے اس کے علاوہ عاملین کا اور کوئی مقصد نہیں۔ بخلاف کسی دینی ادارہ اور مدرسہ کے اور کسی یتیم خانہ کے کہ اس کا مقصد کوئی خاص علمی یا صنعتی تربیت ہوتا ہے۔ محض فقراء مسلمین کی محض مسلمان فقیر ہونے کی حیثیت سے اس کی ذاتی اعانت اس کا مقصد نہیں ہوتا اس لیے کسی مدرسہ اور ادارہ کا مہتمم یا ناظم یا ملازم فقراء مسلمین کا وکیل اور قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ شریعت نے محض فقراء مسلمین کی ضرورت اور مصلحت اور ان کی اعانت کے لیے عاملین کو فقراء مسلمین کا وکیل اور قائم مقام قرار دیا ہے جس کا تقرر بادشاہ اسلام کے حکم سے ہوتا ہے اس لیے آج کل اسلامی مدارس یا اسلامی انجمنوں کے ناظمین اور محصلین چندہ فقراء مسلمین کے وکیل قرار نہیں دئیے جاسکتے۔ اور نہ ان کو زکوٰۃ کی رقم میں سے تنخواہ دی جاسکتی ہے۔ البتہ اسلام مدرسہ اور ادارہ کا مہتمم زکوٰۃ کی رقم سے ان طالب علموں کو وظیفہ دے سکتا ہے جو خالص علم دین حاصل کرتے ہیں اور فقیر اور مسکین ہوں اور صحیح العقیدہ مسلمان ہوں اس لیے کہ شریعت کے اصول مسلمہ میں سے یہ ہے کہ زکوٰۃ مسلمان فقیر کا حق ہے غیر مسلم کا زکوٰۃ میں کوئی حق نہیں اور مثلاً جو اشتراکیت اور کمیونزم کا قائل ہو یا منکر حدیث ہو یا آزاد منش ہو وہ قطعاً مسلمان نہیں اس کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔ اے مسلمانو ! خوب سمجھ لو زکوٰۃ اللہ کی عبادت ہے اس کے حکم سے تم کو زکوٰۃ دیتے ہو اس کے حکم پر چلو جو اس ناچیز نے تم کو بتلا دیا اپنی عبادت کو ضاع نہ کرو۔
وما علینا الا البلاغ۔
Ayahs 9:61–66ذکر نوع دیگر از حرکات شنیعۂ منافقین
قال اللہ تعالی۔ ومنھم الذین یؤذون النبی۔۔۔ الی۔۔۔ بانھم کانوا مجرمین۔
(ربط) ان آیات میں بھی منافقین کی جہالتوں اور خباثتوں کا اور ان کی حرکات شنیعہ کا ذکر ہے جو دور سے چلا آرہا ہے۔ درمیان میں تبعاً صدقات کا ذکر آگیا تھا۔ اب پھر منافقین کی قبائح اور فضائح کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کی خباثتوں کو بیان کرتے ہیں حق جل شانہ نے ان آیات میں منافقین کی جن قباحتوں کا ذکر کیا ان میں سے اول تو یہ ہے کہ وہ ادب سے کورے ہیں۔ آں حضرت ﷺ کی شان میں خلاف ادب اور تحقیر آمیز الفاظ زبان سے نکالتے ہیں مثلا یہ کہ آپ تو کانوں کے کچے ہیں جو سنتے ہیں اس کا یقین کرلیتے ہیں۔ دوم یہ کہ یہ لوگ اپنی مجلسوں میں دین اسلام اور آں حضرت ﷺ کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں۔ سوم یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی کے آپ ﷺ کو ان کے استہزاء اور تمسخر سے آگاہ کردیتا ہے اور آپ ﷺ ان سے باز پرس کرتے ہیں۔ تو وہ اس کی بےسروپاتاویلیں کرتے ہیں چناچہ پہلی آیت ومنھم الذین یؤذون النبی ویقولون ھو اذن میں ان کے گستاخانہ الفاظ کا ذکر ہے۔ اور یحلفون باللہ میں ان کی جھوٹ قسموں کا ذکر ہے اور لئن سآلتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب میں ان کی تاویلوں اور جھوٹے بہانوں کا ذکر ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ان منافقین میں سے کچھ لوگ وہ ہیں کہ جو نبی کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ محض ایک کان ہے۔ یعنی وہ محض سننے والا کان ہے جو بات اس سے کہی جاتی ہے اس سے سن لیتا ہے اور اس کا یقین کرلیتا ہے۔ جھوٹ اور سچ میں فرق نہیں کرتا کہنے والوں کے دھوکہ میں آجاتا ہے بعض منافق اپنے مجمع میں بیٹھ کر آپ کی برائیاں کرتے۔ دوسرا منافق کہتا ایسا مت کہو کہیں آپ کو اس کی خبر نہ ہوجائے تو اس پر یہ کہہ دیتے کہ اگر آپ کو معلوم بھی ہوجائے تو کچھ پروا نہیں وہ کان کے بڑے کچے ہیں جیسا ان سے کہہ دیا جاتا ہے یقین کرلیتے ہیں ہماری شکایت کی جاتی ہے اس کا بھی یقین کرلیں گے اس آیت میں ان کے اس بےہودہ مقولہ کا جواب دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو آں حضرت ﷺ کے حلم اور بردباری اور چشم پوشی سے دھوکہ لگا اس لیے آپ کا نام کان رکھا اے نبی آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ تم خود دھوکہ میں ہو اللہ کے نبی کو دھوکہ نہیں لگا آپ بیشک کان ہیں مگر وہ تمہارے فائدے اور بھلائی کے کان ہیں۔
یا یہ معنی ہیں کہ آپ خیر کے کان ہیں شر کے کان نہیں حق اور باطل اور خیر اور شر کا فرق آپ ﷺ پر مکفی نہیں نور نبوت سے سچ اور جھوٹ کو پہچان لیتے ہیں مگر تٖغافل اور بردباری اور چشم پوشی کی بناء پر سن کر خاموش ہوجاتے ہیں اور کریمانہ اخلاق کی بناء پر صراحۃ تکذیب نہیں کرتے اور علانیہ طور پر ان کو رسوا نہیں کرتے نبی کی یہ خو تمہارے حق میں بہتر ہے ورنہ تم اول ہی سے پکڑ لیے جاتے ان بیوقوفوں نے آپ کی چشم پوشی اور مسامحت سے یہ سمجھا کہ حضور پرنور ﷺ نے ہمارے جھوٹ کو سمجھا نہیں اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ آں حضرت ﷺ کا تمہاری باتوں کو سن لینا اور اس پر سکوت فرمالینا اس کی دلیل نہیں کہ حضور پر نور ﷺ کو تمہاری باتوں کا یقین آجاتا ہے یقین تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی باتوں پر ہے اور پھر اللہ کے بعد مومنین صادقین کی باتوں پر ہے جو سرتاپا صدق اور اخلاص ہیں تم نادانوں نے حضور پر نور ﷺ کی خاموشی اور چشم پوشی کا مطلب غلط سمجھا آں حضرت ﷺ کی اس خاموشی میں تمہارا ہی نفع ہے کہ داروگیر اور قتل و غارت سے بچے ہوئے بہرحال حضور پرنور ﷺ تو گوش حق نیوش ہیں سچے اور جھوٹ کو خوب پہچانتے ہیں آپ اذن خیر ہیں اذن شر نہیں آپ کی شان تو یہ ہے کہ یقین کرتے ہیں آپ اللہ کی باتوں پر اللہ کی طرف سے آپ پر جو وحی آتی ہے آپ اس کو سنتے ہیں اور اس پر یقین کرتے ہیں اور دوسرے درجہ میں مومنین مخلصین کی بات سن کر اس کا یقین کرتے ہیں کیونکہ ان کا صدق اور اخلاص آپ ﷺ کو معلوم ہے اس لیے آپ ﷺ ان کی خبر کی تصدیق کرتے ہیں اور تم میں سے جو خالص ایماندار ہیں ان کے لیے آپ مجسم رحمت ہیں کہ آپ کی ہدایت اور فیض صحبت سے دنیا کی آلائشوں سے پاک وصاف ہو کر خدا کے مقرب بنے اور تم بدبخت اس رحمت اور نعمت سے محرم ہو یہ قصور تمہارا ہے اس کا نہیں اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ الذین امنوا منکم سے وہ منافقین مراد ہیں جنہوں نے ایمان کو ظاہر کیا اور ان کے حق میں رحمت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ باوجود اس علم کے کہ یہ منافق ہیں آ ﷺ نے ان کے ظاہری اسلام کو قبول کیا اور ان کے نفاق سے چشم پوشی کی اور ان کی پردہ دری نہیں فرمائی آں حضرت ﷺ تمہاری حقیقت کو سمجھ کر حسن اخلاق اور حلم اور بربداری کی بناء پر تمہاری باتیں سن لیتے ہیں اور دیدہ دانستہ چشم پوشی کر جاتے ہیں اور تم اپنی حماقت سے یہ سمجھتے ہو کہ آں حضرت ﷺ حقیقت حال کو سمجھے نہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تم نہیں سمجھے بہر حال آپ ﷺ کی یہ خاموشی اور چشم پوشی اور نرمی اور اغماض اور مسامحت تمہارے لیے ایک قسم کی رحمت ہے کہ باوجود علم کے آپ ﷺ نے تم کو برملا رسوا نہیں کیا اور تمہارا پردہ فاش نہیں کیا اور اس میں ایک رحمت یہ بھی ہے کہ شاید آپ ﷺ کی یہ مسامحت کسی وقت ان کے حق میں ذریعہ ہدایت بن جائے۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذ پہنچاتے ہیں ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے پس تم کو چاہئے کہ آپ کی ایذا رسانی سے پر وہیز کرو نہ آپ کے صدقات پر طعن کرو اور نہ آپ ﷺ کو ہو اذن کہو یہ سب باتیں آپ ﷺ کے لیے موجب ایذا ہیں۔
حلف کاذب
منافقین اپنی خلوتوں میں آں حضرت ﷺ اور مومنین پر طعن کرتے اور پھر جب وہ بات آں حضرت ﷺ کو پہنچتی تو آکر حلف کرتے کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی اپنے قول سے مکر جاتے۔ چناچہ فرماتے ہیں اے مسلمانو ! یہ منافق تمہارے آگے اللہ کی جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم نے فلاں بات نہیں کہی تاکہ تم کو راضی کریں حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ سزا وار ہیں کہ اس کو راضی کریں اگر یہ لوگ واقع میں سچے ایماندار ہیں جیسا کہ کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ یہ دغا اور فریب اللہ اور اس کے رسول کے یہاں کام نہیں دیتی اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں وہ اپنے نبی کو بذریعہ وحی کے مطلع کردیتا ہے۔
نکتہ اول : یرضوہ کی ضمیر مفرد اللہ کی طرف راجع ہے چونکہ رسول کی رضا اسی میں ہے جس میں اللہ کی رضا ہے اس لیے ضمیر تثنیہ کی بجائے ضمیر واحد لائی گئی تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا علیحدہ علیحدہ نہیں بلکہ ایک ہی ہے۔
نکتۃ دیگر : حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی (رح) اپنے ایک وعظ میں فرماتے ہیں۔ جاننا چاہئے کہ آں حضرت ﷺ میں دو شانیں تھیں ایک شان سلطنت اور دوسری شان نبوت اور محبوبیتِ حق۔ پس منافقین اپنی جھوٹی قسموں سے حضور پرنور ﷺ کو اور آپ کے صحابہ ؓ کو بحیثیت شان سلطنت راضی کرنا چاہتے تھے۔ بحیثیت شان نبوت و رسالت آپ کو راضی کرنے کی فکر نہ تھی اور اس حیثیت سے آپ کو راضی کرنا عین حق تعالیٰ کو راضی کرنا ہے اور بعثت کا اصل مقصد شان نبوت و رسالت تھی شان سلطنت مقصود نہ تھی۔ بلکہ شان نبوت کے تابع تھی کہ احکام خداوندی کے اجراء میں سہولت ہو۔ منافقین حضور پرنور ﷺ کو بہ حیثیت سلطنت راضی رکھنا چاہتے تھے تاکہ ان کے جان ومال محفوظ رہیں اور ان کے ساتھ کافروں جیسا معاملہ نہ کیا جائے اور ظاہر ہے کہ یہ غرض سلطنت کی حیثیت سے متعلق ہے حضور پر نور ﷺ کو نبوت و رسالت اور مظہر حق ہونے کی حیثیت راضی کرنے کی ان کو کوئی فکر اور پروا نہ تھی حالانکہ حضور پرنور ﷺ کی رضا نائب حق ہونے کی حیثیت سے مطلو ہے اور اس آیت میں اسی کا ذکر ہے اور جس حیثیت سے تم حضور ﷺ کو راضی کرنا چاہتے ہو وہ مطلوب نہیں اور جس حیثیت سے حضور ﷺ کو راضی کرنا مطلوب ہے اس حیثیت سے تم حضور ﷺ کو راضی کرنا نہیں چاہتے اور نہ تمہیں اس کی پروا ہے۔ ابو طالب کو حضور ﷺ سے بہت محبت تھی مگر وہ صرف اس حیثیت سے تھی کہ حضور ﷺ آپ کے چہیتے تھے یا بعض کفار کو آپ سے اس لیے محبت تھی کہ آپ ﷺ بڑے عاقل کامل یا بڑے سخی اور مہمان نواز تھے اور اب بھی بعض مصنفین یورپ آپ ﷺ کی عقل اور فہم و فراست کی اور ہمت اور شجاعت کی اور آپ ﷺ کے قانون شریعت کی بڑی تعریف کرتے ہیں مگر ان تمام حیثیتوں سے آپ ﷺ کی محبت اور رضا شرعاً نجات کے لیے کافی نہیں بلکہ نجات کے لیے یہ ضروری ہے کہ نبی اور رسول ﷺ اور نائب حق ہنے کی حیثیت سے آپ ﷺ سے محبت کی جائے اور اسی حیثیت سے آپ کو راضی کیا جائے۔ انتہی کلامہ ماخوذ از رضاء الحق ص 20 ج 1 و ص 12 ج 2 وعظ ششم وہفتم از سلسلۂ البلاغ۔
کیا ان منافقوں نے یہ نہیں جانا کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا پس تحقیق اس کے لیے آخرت میں دوزخ کی آگ تیار ہے وہ ہمیشہ اسی آگ میں رہے گا کبھی اس سے باہر نہ نکل سکے گا یہی ہمیشہ دوزخ میں رہنا بڑی رسوائی ہے لیکن منافقین اس رسوائی کی پرواہ نہیں کرتے۔ وہ تو صرف دنیاوی ذلت اور رسوائی کی پروا کرتے ہیں۔ چناچہ منافقین اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں پر قرآن کی کوئی ایسی سورت نازل ہوجائے جو ان کے دلوں کی بات سے مسلمانوں کو آگاہ کردے جس سے یہ لوگ دنیا میں رسوا ہوں یعنی ان کو ہر وقت یہ خطرہ لگا رہتا ہے کہ کہیں خدا ہمارے بارے میں آں حضرت ﷺ پر کوئی ایسی سورت نہ نازل کردے جس سے مومنوں پر ہمارے اندرونی حالات کھول دئیے جائیں اور دنیا میں رسوا ہوں اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اس ڈر کا مقتضی تو یہ تھا کہ تم نفاق کو چھوڑ دیتے لیکن معاملہ برعکس ہے کہ نفاق کو تو کیا چھوڑتے دین کے ساتھ تمسخر اور استہزاء میں لگے ہوئے ہو۔ اچھا دین کے ساتھ دل کھول کر ٹھٹھا کرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا ہے جس چیز کے ظاہر کرنے سے تم ڈر رہے ہو یعنی تمہارے دل کی وہ تمام باتیں جو تم دل میں چھپائے ہوئے ہو اندر سے نکال کر باہر سب کے سامنے رکھ دے گا تاکہ جس رسوائی سے ڈرتے ہو وہ نظروں کے سامنے آجائے اور اس ڈر سے بچنے کے لیے یہ سوچے ہوئے ہیں کہ اگر آپ ان سے اس استہزاء اور تمسخر کے تمسخر کے متعلق باز پرس کریں اور پوچھیں کہ تم نے یہ کیا کیا اور کیا کہا تو البتہ بات بنانے کے لیے یہ کہیں گے کہ ہم تو مسافروں کی طرح راستہ کاٹنے کے لیے آپس میں ایسی باتیں اور دل لگی کر رہے تھے۔ یعنی جب آپ نے ان سے بلا کر باز پرس کی کہ تم کس لیے دین پر طعن کرتے ہو تو قسم کھا کر کہنے لگے کہ یہ ہمارا دلی اعتقاد نہ تھا محض خوش وقتی اور دل لگی کے طور پر محض زبان سے ایسی باتیں کر رہے تھے تاکہ باتوں میں آسانی سے راستہ کٹ جائے۔ طعن زنی اور عیب جوئی ہمارا مقصود نہ تھا آپ ﷺ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کیا اللہ اور اس کے احکام اور اس کے رسول کے ساتھ تمسخر کرتے تھے کیا تمسخر اور ہنسی اور دل لگی کے لیے تم کو اللہ اور رسول ﷺ ہی ملے تھے۔ بہانے مت بناؤ تمہارے دل کفر اور نفاق سے لبریز ہیں۔ تحقیق تم نے دعوائے ایمان کے بعد یہ صریح کفر کیا ہے۔ کیونکہ دین کے ساتھ استہزاء اور تمسخر اگرچہ وہ محض زبانی ہو وہ بھی کفر ہے مطلب یہ ہے کہ اے منافقوا ! اب زیادہ بہانے نہ کرو۔ اب تک تو ظاہر میں تم مسلمان تھے مگر اس استہزاء اور تمسخر کے بعد وہ تمہارا ظاہری اسلام بھی جاتا رہا اور اس استہزاء و تمسخر سے تم نے اپنا اندرونی کفر ظاہر کردیا لہذا ایسے جھوٹے عذر تراشنے اور حیلے حوالوں سے کوئی فائدہ نہیں جرم کی سزا مل کر رہے گی ہاں اگر تم میں سے ایک فریق کا قصور معاف کردیں گے۔ جو صدق دل سے توبہ کرلیں گے تو دوسرے فریق کو عذاب دیں گے جنہوں نے کفر اور نفاق اور استہزاء اور تمسخر سے توبہ نہیں کی اس وجہ سے کہ وہ مجرم تھے کچھ تو زبان سے تمسخر کرتے تھے اور کچھ دل سے اس پر راضی تھے۔ معاف کرنے سے مراد توبہ کی توفیق دینا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان میں جو لوگ صدق دل سے تائب ہوجائیں گے ان کو معاف کردیں گے مگر جو لوگ صدق دل سے توبہ نہیں کریں گے بلکہ بدستور اپنے جرم پر قائم رہیں گے ان کو ضرور سزا دیں گے۔