Ayahs 9:30–33اہل کتاب کے فضائح اور قبائح کا بیان
قال اللہ تعالی۔ وقالت الیھود عزیر ابن اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ لو کرہ المشکرون۔
(ربط): گزشتہ آیات میں مشرکین کے قبائح کا بیان ہوا اب اہل کتاب کے قبائح اور فضائح اور ان کے ععقائد باطلہ اور افعال شرکیہ کو بیان کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ مشرکین کی طرح اہل کتاب بھی دین حق کے مطیع اور فرمانبردار نہیں اور ان کی طرح یہ مستوجب قتل و قتال ہیں اس لیے اب آئندہ آیات میں اہل کتاب کے عقائد باطلہ اور ان کے کفریات قولیہ و فعلیہ اور جہالت عملیہ کی کسی قدرت فصیل کرتے ہیں تاکہ گزشتہ آیت میں جو اہل کتاب کے متعلق لا یؤمنین باللہ ولا بالیوم الاخر اور ولا یدینون دین الحق فرمایا تھا اس کی کسی قدر تفصیل ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ اہل کتاب کے متعلق جو قتال اور جزیہ کا حکم دیا گیا اس کی وجہ ان کے یہ اعمال کفریہ ہیں۔ اول یہود سے شروع فرمایا کہ وہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ یہ عقیدہ یہود کے تمام فرقوں کا نہیں بلکہ ان میں کے ایک خاص فرقہ کا ہے جو بقول بعض علماء مدینہ کے بعض یہود یعنی یہود بنی قریظہ تھے۔ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ شام کے بعض یہودی بھی ایسیا ہی کہا کرتے تھے اس سرزنش اور توبیخ کا مخاطب یہی فرقہ ہے جیسا کہ ابن عباس سے روایت ہے کہ سلام بن مشکم اور نعمان بن اوفی اور ابو انس اور شاس بن قیس نے آں حضرت ﷺ سے یہ کہا۔
کیف نتبعک وقد ترکت قبلتنا وانت لاتزعم ان عزیرا ابن اللہ۔ رواہ ابن اسحاق وابن جریر (تفسیر در منثور ص 229 ج 3 ور دیکھو تفسیر کبیر ص 620 ج 3)
ترجمہ : ہم کیسے آپ کی پیروی کریں در انحالی کہ آپ نے قبلہ (بیت المقدس) چھوڑ دیا اور آپ حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا نہیں سمجھتے (ابن اسحاق وابن جریر نے روایت کیا)
اس سے معلوم ہوا کہ آں حضرت ﷺ کے زمانہ میں جو یہود مدینہ رہتے تھے ان کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت زیر خدا کے بیٹے تھے اس آیت کا نزول اس خاص فرقہ کے بارے میں ہوا جن کا یہ عقیدہ تھا۔ ابن جوزی فرماتے ہیں کہ اس عقیدہ کی ایک جماعت نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں موجود تھی (دیکھو زاد المسیر ص 424 ج 3) امام ابوبکر رازی احکام القرآن میں فرماتے ہیں کہ یہود میں کا ایک خاص فرقہ اس کا قائل تھا کہ حضرت عزیر خدا کے بیٹے ہیں تمام یہودی اس کے قائل نہیں ابن عباس ؓ سے منقوہ ہے کہ یہود کی ایک خاص جماعت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جن میں سلام بن مشکم اور نعمان بن اوفی اور شماس بن قیس اور مالک بن صیف تھے ان لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت عیز کے لتعلق یہ کہا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اب اس فرقہ کا کوئی وجود نہیں اور ہمارے عل میں اب کوئی اس کا قائل نہیں واللہ اعلم دیکھو احکام القرآن للامام الجصاص ص 103 ج 3)
(قلہ تعالیٰ وقالت الیہود عزیر ابن قیل اراد بہ فرقۃ من الیھود وقالت ذلک والدلیل علی ذلک ان الیھود قد سمعت ذالک فی عھد النبی ﷺ فلم تنکرہ والمراد فرقۃ منھم لاجمیعھم کقولک جاءنی بنو تمیم ولمراد بعضھم قال ابن عباس قال ذلک جماعۃ من الیھود جاء وا الی النبی ﷺ فقالوں ذلک وھم سلام بن مشکم و نعمان اوفی وشماس بن قیس ومالک بن الصیف فانز اللہ تعالیٰ ھذہ الایۃ ولیس فی الیھود من یقول ذلک الان فیما نعلم ونما کانت فرقۃ منھم قال تذلک فانقرضت (کذا فی احکام القرآن ص 103 ج 3)
غرض یہ تھی کہ حق جل شانہ نے اس آیت میں اول یہود کے اس خاص فرقہ کا ذکر کیا جو حضرت عزیر کو خدا تعالیٰ کا فرزند کہتے تھے بعد ازاں نصاری کا حال بیان کیا جو حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیتے تھے یہود اور نصاری اس عقیدہ میں مشرکین کے ہم نوا ہیں جو ملائکۃ اللہ کو خدا کی بیٹیاں بتلاتے تھے۔
پھر یہود نصاری نے فقط حضرت عزیر اور حضرت مسیح کے خدا بنانے پر اکتفا نہ کیا بلکہ اپنے احبار اور رہبان کو بھی خدا بنالیا بایں صورت کہ ان کے احبار روہبان جو فتوی دیتے وہ اس کو حکم الٰہی کے برابر مانتے اور ان کے احکام کو شریعت الیۃ یہ کے احکام کا بدل سمجھتے احبار ور رہبان کو رب بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قول کو اپنا دین اور ایمان سمجھے کہ جو وہ کہیں مان لیں اور جس چیز منع کریں اسے چھوڑ دیں پس اس قسم کے جرائم کی بناء پر حق تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان لوگوں سے جہاد و قتال کرو یہاں تک کہ یہ لوگ ذلت و خواری کے ساتھ جزیہ دینا قبول کریں
(پہلا جرم) ان وگوں کا یہ ہے کہ دین الہی کے مطیع اور فرمانبردار نہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے۔
(دوم) یہ کہ یہود نے حضرت عیزر کو اور نصاری نے حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیا۔ یہود اور نصارا اگرچہ اللہ پر ایمان لانے کے مدعی ہیں مگر فقدان توحید کی وجہ سے وہ ایمان کالعدم قرار دیا گیا۔
(سوم) یہ کہ اپنے احبار روہبان کو حلال اور حرام کا مختار مطلق قرار دیا اور ان کے حکم کو خدا کے حکم کی طرح واجب الاتباع سمجھا بجائے دین حق کے اتباع کے احبارو رہبان کے اتباع کو مدار نجات جانا اور نصاری نے بہت سے محرمات کو محض پولوس کے مبارح کردینے سے حلال مان لیا۔ حالانکہ توریت میں ان چیزوں کی حرمت صراحت موجود ہے اور آج کل کے نصاری کا تو حال ہی نہ پوچھو ان لوگوں تو شراب اور زنا سب کو حلال کرلیا جو تمام شریعتوں میں حرام تھا۔ غرض یہ کہ ان لوگوں نے اپنے احبارو رہبان کو حق تشریع عطا کیا اور ان کے حکم کو خدا کے حکم کی طرح واجب الاطاعت سمجھا اور ظاہر ہے کہ تشرع احکام اور تحلیل وتحریم صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے اس میں کوئی دسرا شریک نہیں ہوستا اور ائمہ دین جو فوی دیتے ہیں وہ کتاب وسنت سے استنباط کر کے دیتے ہیں ان کا اتباع درحقیقت اور خدا اور رسول کا اتباع ہے ائمہ دین وجعلناھم ائمہ یھدون بامرنا کا مصداق ہیں اس لیے ان کا اتباع کرتے ہیں۔
خلاصۂ کلام : یہ کہ اھل کتاب بھی شرک میں مشرکین کے مشابہ ہیں اگرچہ شرک کا طریقہ مختلف ہے مشرکین بتوں کی پرستش کرتے ہیں اور یہ لوگ حضرت مسیح کی پستش کرتے ہیں۔ شرک میں دونوں شریک ہیں بلکہ اعتبار سے عابد مسیح عابد صنم سے شرک میں بڑھ کر ہے اس لیے کہ عابد مسیح کا عقیدہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ معاذ اللہ مسیح بن مریم میں حلول کر آیا ہے اور اس کے ساتھ متحد ہوگیا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی طرح مسیح بھی خالق عالم اور مدبر عالم ہے۔ اور مشرکین کا بتوں کے متعلق یہ عقیدی نہیں (دیکھو تفسیر کبیر ص 620 ج 4)
تفسیر : اور چونکہ اہل کتاب نے دین حق کو قبول نہیں کیا۔ اس لیے یہود نے تو یہ کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے یہ کہا عیسیٰ مسیح اللہ کا بیٹا ہے ان کی منہ کی باتیں ہیں۔ محض ان کی زبانوں سے نکلی ہیں جن کی نہ کوئی حقیقت اور اصلیت ہے اور نہ کوئی سند ہے اور نہ کوئی دلیل ہے کما قال تعالیٰ وما جعل ادعائکم ابناء کم ذلکم قولکم بافواھکم۔ اذ تلقونہ بالسنتکم وتقولون بافواھکم مالیس لکم بہ علم وینذر الذین قالوا اتخذ اللہ ولدا مالھم بہ من علم ولا لا ٰ بائھم کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم ان یقلون الا کذبا۔
ظہر آیت سے یہ معوم ہوتا ہے کہ تمام یہود اس کے قائل ہیں کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) خدا کے بیٹھے۔ سو جانن چاہئے کہ ظاہری عموم مراد نہیں بلکہ ایک خاص فرقہ مراد ہے جو آں حضرت ﷺ کے زمانے میں موجود تھا اور مدینہ میں رہتا تھا انہوں نے آں حضرت ﷺ کے زمانے میں یہ بات کہی تھی جس پر یہ آیت اتری اور یہود کو پڑھ کر سنائئی گئی مگر کسی نے اس آیت کو سن کر انکار نہیں کیا اور نہ اس کی تکذیب کی حالانکہ وہ آں حضرت ﷺ کی بات بات میں تکذیب کرتے تھے اور آپ کے سخت دشمن تھے۔ اگر عہد نبوی میں یہود کا کوئی فرقہ اس کا قائل نہ ہوتا ضرور تھا کہ یہود اس وقت قرآن کی تکذیب اور تغلیط کرتے یہ کیسے ممکن ہے کہ دشمن طعنہ چین کی طرفا یک غلط عقیدہ منسوب کیا جائے اور وہ سن کر خاموش بیٹھا رہے اور اس پر کوئی اعتراض نہ کرے ہاں یہ ممکن ہے کہ بعد میں یہودیوں نے اس عقیدہ کو غلط سمجھ کر چھوڑدیا ہو مگر قرآن میں اس عقیدہ کا درج ہونا اور ایک عرصہ دراز تک کسی یہودی کا اس پر اعتراض نہ کرنا اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ یہود متقدمین میں یہ عقیدہ کو غلط سمجھ کر چھوڑ دیا ہو مگر قرآن میں اس عقیدہ کا درج ہونا اور ایک عرصہ دراز تک کسی یہودی کا اس پر اعتراض نہ نہ کرنا اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ یہود متقدمین میں یہ عقیدہ رائج تھا گو فی الحال کوئی یہودی اس کا قائل نہ رہا ہو لہذا کسی کا قرآن کریم کی اس حکایت پر اعتراض کرنا کہ یہودیوں میں سے کسی کا یہ عقیدہ نہیں یہ اعتراض غلط ہے جس وقت قرآن کریم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اس وقت عقیدہ کے لوگ مدینہ میں موجود تھے جیسا کہ ابن عباس ؓ کی روایت ہم ذکر کرچکے ہیں۔
اور علی ہذا نصاریٰ کا یہ کہنا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ بھی نصاریٰ کے ایک گروہ کا قول ہے سب کا نہیں مگر عام طور پر نصاریٰ میں یہ عقیدہ رائج ہے اس لیے اس کے ثبوت کی ضرورت نہیں
عقیدۂ ابنیت کا آغاز کیسے ہوا
امام رازی (رح) تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع الی السماء کے بعد اکیاسی سال تک عیسائی دین حق پر قائم رہے بعد میں ان میں اور یہود میں لڑائی چھڑ گئی ہو یہودیوں میں ایک شخص جس کا نام بولس (پولوس) تھا بڑا شجاع تھا اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کی ایک جماعت کو قتل کیا اور چونکہ وہ عسائیوں کا سخت دشمن تھا اس لیے اس نے ان کے گمراہ کرنے کی ایک تدبیر نکالی وہ یہ کہ ایک روز یہودیوں سے یہ کہا کہ اگر بالفرض عیسیٰ (علیہ السلام) حق پر ہوں تو ہمارے کافر اور دوزخی ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے اور اگر عیسائی جنت میں گئے اور ہم دوزخ میں گئے تو ہم بڑے گھاٹے میں رہو اس لیے میں یہ چاہتا ہوں کہ کسی حیلہ ان کو گمراہ کروں تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ دوزخ میں جائیں۔ یہود کو یہ سمجھا کر اپنے اس گھوڑے پر سواہوا جس پر سوار ہو کر عیسائیوں سے جنگ کیا کرتا تھا۔ پھر اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے سر پر مٹی ڈالی اور اپنے اس فعل سے ندامت اور توبہ ظاہر کرتا ہوا نصاریٰ کے مجمع میں آیات انہوں نے پوچھا کہ تو کون ہے اس نے کہا میں تمہارا دشمن پولوس ہوں مجھ کو آسمان سے یہ ندا آئی ہے تیری توبہ اس وقت تک قبول نہیں ہوگی جب تک تو نصرانی نہیں ہوگا اس لیے میں یہودیت سے تائب ہو کر تمہارے پاس آیا ہوں انہوں نے اس کو کلیسا میں داخل کر کے نصرانی بنا لیا اور اس کو ایک حجرے میں جگہ دے دی سال بھر تک وہ وہاں رہا اور اس عرصہ میں اس نے انجیل کی تعلیم حاصل کی ایک سال کے بعد اس نے کہا مجھے آسمان سے یہ ندا دی گئی ہے کہ اللہ نے تیری توبہ قبول کی۔ نصاری نے اس کے اس قول کی تصدیق کی اور اور ان کے دل میں اس کی محبت پیدا ہوگیئ اور ان کی نظروں میں اس کا مرتبہ بہت بلند ہوگیا۔ جب نصاری میں اس کی شان بڑھ گئی تو بیت المقدس چلا گیا اور وہاں جا کر مخفی طور پر اپنی تعلیم کے لیے تین آدمیوں کو منتخب کیا۔ ایک نام نسطور دوسرے کا نام یعقوب اور تیسرے کا نام ملکان تھا ان تینوں کو اپنا ش اگر دبنایا۔ نسطور کو یہ تعلیم دی کہ عیسیٰ اور مریم اور خدا یہ تین خدا ہیں اور یعقوب کو یہ سکھایا کہ عیسیٰ اور مریم اور خدا یہ تین خدا ہیں اور یعقوب کا یہ سکھایا کہ عیسیٰ انسان نہیں تھا بلکہ وہ خدا کا بیٹا تھا اور ملکان کو یہ پڑھایا کہ عیسیٰ بعینہ اللہ ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا جب یہ تعلیم ان کے دلوں میں گھر کرگئی تو اس نے ان میں سے ہر ایک کو خلوت میں بلا یا اور کہا کہ تو میرا خاص اور معتمد رفیق ہے فلاں ملک میں چلا جا اور وہاں جا کر لوگوں کو یہ تعلیم دے اور نجیل کی طرف لوگوں کو بلا۔ پھر اس نے لوگوں کو بلا کر یہ کہا کہ میں نے خواب میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا ہے وہ مجھ سے راضی ہوگئے ہیں اور اب میں عیسیٰ کے نام پر اپنی جان قربان کروں گا پھر وہ مذبح میں گیا اور اپنے آپ کو ذبح کرلیا پھر اس کے تینوں شاگرد ملک میں متفرق ہوگئے ایک روم میں پہنچا دوسرا بیت المقدس اور تیسرا کسی اور ملک میں اور ان میں سے ہر ایک نے لوگوں کو اس عقیدہ کی طرف بلایا اور جو پولوس نے اس کو تعلیم دی تھی اور لوگوں نے ان کا اتباع کی اس طرح عیسائیوں میں تین فرقے ہوگئے (تفسیر کبیر ص 631 ج 4)
اہل کتاب اس قول کے ذریعہ سے اگلے کافروں کے قول سے مشابہت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی ان کا عقیدہ ابنیت یا الوہیت پرانے مشرکین کے عقیدہ کے مشابہ ہے جس طرح وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اسی طرح یہ عزیر اور مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں خدا انہیں غارت کرے کہاں بھٹکے جارہے ہیں۔ توحید کی روشنی کو چھوڑ کر شرک کی تاریکی کی طرف جا رہے ہیں۔
یہ تو ان کے اقوال کفریہ کا بیان تھا اب آگے ان کے افعال کفریہ ذکر کرتے ہیں کہ ان اہل کتاب یعنی یہود اور نصاری نے خدا کو چھوڑ کر انے عالموں اور دریشوں کو رب بنا رکھا ہے کہ جو فتوی دیدیں اس کو حکم خداوندی کی طرح واجب العمل سمجھتے ہیں اور ان کے قول کو اپنا دین و ایمان سمجھتے ہیں اگرچہ وہ توریت اور انجیل کے نصوص کے خالف ہی کیوں نہ ہو تو ایسی بےچون وچرا اطاعت عبارت کے حکم میں ہے جو شرک ہے۔
حضرت شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں عالم کا قول عوام کو سند ہے جب کہ وہ شرع سے سمجھ کر کہے جب معلوم ہوا کہ خود اپنی طرف سے کہا یا طمع سے کہا تو پھر سند نہیں، اور ان لوگوں نے مسیح بن ریم کو بھی رب ننایا حالانکہ تمام کتب الٰہیہ اور صحف سماویہ میں یہی حکم دیا گیا ہے کہ صرف ایک معبود کی پستش کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں نہ اس کے سوا کوئی مستحق عبادت ہے اور نہ کسی کی بےچون وچرا اطاعت واجب ہے اور نہ کوئی اس کا بیٹآ ہے اور نہ بیٹی ہے یہ تو بیان تھا اتباع باطل اور دین حق سے انحراف کا اب آگے یہ بتلتے ہیں کہ یہ لوگ دین حق کے ابطال اور اس کی رد میں کس درجہ ساعی اور کوشاں ہیں۔ وہ یہ کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور ہدایت کو یعنی دین اسلام کو اپنے مونہوں سے پھونک مار مار کر بجھا دیں یعنی دین اسلام کا نور اور آفتاب ہدایت چمک اٹھا ہے یہ لوگ اپنے واہی تباہی اعتراضات سے دین اسلام میں طرح طرح کے عیب نکالتے ہیں کہ وہ پھیلنے نہ پائے گویا کہ یہ لوگ پھونکیں مار کر سورج کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ کو اس کے سوا کچھ منظور نہیں کہ اپنے نور کو پوری طرفح پھیلادے اگرچہ کافروں کو برا معلوم ہو یعنی یہ کافر دین اسلام کے مٹانے کی لاکھ کوشش کریں بھلا کہیں ان کے مٹانے سے مٹ سکتا ہے اللہ اپنے نور کو تمام جہان میں پھیلا دے گا اور یہ کافر اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوں گے۔ چراغ ہو تو منہ کی پھونکوں سے بجھ بھی جائے بھلا کہیں آفتاب کا نور بھی پھونکوں سے بجھتا سنا ہے اور نور اسلام تو آفتاب کے نور سے لاکھوں درجہ بڑھ کر ہے وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کردے۔ اگرچہ مشرکین کو برا معلوم ہو اس آیت میں غلبہ اسلام کی پیش گوئی ہے کہ دین اسلام تمام دینوں پر غالب آجائے گا اور قیامت تک باقی رہے گا
لطائف ومعارف
اس آیت میں حق جل شانہ نے یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا ہے کہ دین اسلام کو تمام دینوں پر غلبہ عطا کیا جائے اور یہ یہی ضمون سورة فتح اور 1 سورة صف میں بھی ذکر کیا گیا ہے الفاظ میں معمولی فرق ہے مضمون تینوں جگہ کا ایک ہی ہے۔
اب تحقیق طلب امر یہ ہے کہ ظہور اور غلبہ سے کیا مراد ہے سو جاننا چاہیے کہ غلبہ دو قسم کا ہوتا ہے ایک دلیل اور برہان کے اعتبار سے یعنی دین اسلام باعتبار دلیل اور برہان کے تمام دینوں پر غالب ہو مطلب یہ ہے کہ دین اسلام کی حقانیت پر ایسے برا ہیں اور دلائل قائم کیے جائیں جس سے دین اسلام کا حق ہونا اور دوسروں دینوں کا باطل ہونا واضح ہوجائے۔
اور غلبہ کی دوسری قسم یہ ہے کہ وہ باعتبار تیغ وسنان کے ہو یعنی دین حق کی شوکت اور سطوت کے سامنے دوسرے دین سرنگوں ہوجائیں اور اسلام ہی کی حکومت ہو اور اسی کا قانون ہو۔
ہم کہتے ہیں کہ آیت میں ظہور اور غلبہ سے دونوں قسم کا غلبہ مراد ہے دلیل اور برہان کے اعتبار سے غلبہ تو اسلام کو ابتداء ہی سے حاصل تھا اور ہمیشہ ہمیشہ رہے گا البتہ دوسری قسم کا غلبہ اسلام کو بتدریج حاصل ہوا مکہ مکرمہ میں دین اسلام باعتبار قوت و شوکت کے کمزور رہا۔
ہجرت اور جہاد کے بعد بتدریج رفتہ رفتہ اسلام کی قوت اور شوکت میں ضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ فتح مکہ سے حجاز اور نجد اور یمن کے تمام علاقہ پر اسلام کی حکومت قائم ہوگئی۔
1 ۔ سورة فتح کے الفاظ یہ ہیں ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شہیدا اور سور صف کے الفاظ یہ ہیں یردین لیطفئوا نور اللہ با افواھھم واللہ متم نورہ ولو کفرہ الکافرون ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکین۔
اور آیات کے سیاق وسباق سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصود اسی دوسرے غلبہ کو بیان کرنا ہے اس لیے کہ آغاز سورت سے لے کر یہاں تک مشرکین سے براءت اور بیزاری اور ان سے جہاد و قتال کے احکام کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی سلسلہ میں فتح مکہ اور غزوہ حنین کا اور ان سے جہاد و قتال کے احکام ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی سلسلہ میں فتح مکہ اور غزوہ حنین کا اور اہل کتاب سے جہاد اور جزیہ کا حکم بیان کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ آیت میں اس غلبہ کا بیان کرنا مقصود ہے جو جہاد وقاتل اور سیف وسنان سے حاصل ہو اور سورة فتح میں بھی فتح مکہ کا ذکر ہے اور سورة صف میں جہاد وقاتل کا ذکر ہے اور بیشمار آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ فتوحات اور غنائم کی بشارتوں کے بارے میں وارد ہوئی یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آیت میں اظہار دین سے وہ غلبہ مراد ہے جو سیف وسنان سے حاصل ہو کہ حکم اسلام کا چلے اور کفار مقہور ومغلوب ہوں اور لیظھرہ علی الدین کلہ کو بصیغۂ مضارع لانے میں اشارہ اس طرف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ظہور اور غلبہ بتدریج ہوگا کیونکہ صیغۂ مضارع استمرار تجددی کے لیے آتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور پر نور سے یہ وعدہ فرمایا کہ بتدریج آپ کا دین تمام دینوں پر غالب آئے گا اور یہی آپ کی بعثت کا مقصد عظیم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دین اسلام کو عظیم الشان بادشاہت اور بےمثال قوت و شوکت عطا کرے گا جس کے سامنے اس زمانے کی تمام قوتیں اور طاقتیں سرنگوں ہوجائیں گی۔
آنحضرت ﷺ کے زمانہ سعادت میں روئے زمین پر دو سلطنتیں تھیں ایک ایران کی اور دوسری روم کی ان دونوں بادشاہوں کی سطوت وجبروت نے تمام دیا کو گھیر رکھا تاھ اور دوسرے مذاہب ان کی قوت کے سامنے مضمحل ہورہے تھے۔ کسری شاہ ایران مذہبا مجوسی تھا اور قیصر روم مذہبا عیسائی تھا دنیا میں عیسائیت اور مجوسیت یہی دو مذہب سب سے طاقتور تھے جن کو کسری اور قیصر کی سرپرستی حاصل تھی اور انہیں کا دین تمام ادیان پر غالب تھا اور دیگر ادیان بمصداق " الناس علی دین ملوکہم " مغلوب تھے۔ ملک عرب میں بت پرستی کا زور تھا اور کچھ قدر قلیل عیسائی اور یہود بھی تھے ان حالات میں اللہ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی جس میں یہ بشارت دی گئی کہ دین اسلام تمام دینوں پر غالب ہو کر رہے گا اب ظاہر ہے کہ اس غلبہ کی کوئی صورت سوائے اس کے نہیں ہوسکتی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں درہم برہم ہوجائیں اور ان کی جہ اسلام کی پرشوکت حکومت قائم ہوجائے کہ حکم اور قانون اسلام کا چلے۔
غلبہ مومن کی اس پیش گوئی کے ظہور کا آغاز آں حضرت ﷺ کے دست مبارک سے ہوا کہ حجاز اور نجد اور یمن میں اسلام کی قوت و شوکت حاص ہوئی اور دین اسلام کو بت پرستی پر غلبہ ہوا کہ حجاز اور نجد اور یمن میں سلام کو قوت و شوکت حاصل ہوئی اور دین اسلام کو بت پرستی پر غلبہ حاصل ہوگیا۔ یہ ظہور دین اور غلبہ دین کی ایک منزل طے ہوئی تھی کہ آں حضرت ﷺ اس عالم سے تشریف لے گئے اور وعدہ کی تکمیل ہنواز باقی تھی سو اس وعدہ کی تکیل آپ کے خلفاء کے ہاتھوں پر ہوئی جو آپ کے لیے بمنزلہ اعضاء اور جوارح کے تھے چناچہ حق تعالیٰ کا یہ وعدہ اور پیش گوئی خلفائے ثلاثہ کے ہاتھوں پر پوری ہوئی انہیں کے زمانے میں انہیں کے جہاد و قتال سے سے اور انہیں کی جدوجہد سے دنیا کی سب سے بڑی دو سلطنتیں روم اور ایران زیرو زبر ہوئیں اور ان دونوں سلطنتوں پر اسلام کا فاتحانہ قبضہ ہوا جب یہ دونوں سلطنتیں برباد ہوئیں اس وقت دنیا کے موجودہ اور مشہورترین ادیان مجوسیت اور نصرانیت بھی مغلوب ومقہور ہوئے اس طرح اللہ تعالیٰ کا وعدہ خلفاء ثلاثہ کے ہاتھوں پر پورا اس میں شک نہیں خہ اللہ کا یہ وعدہ رسول اللہ ﷺ سے تھا کہ اپ کا دین تمام دینوں پر غالب آئے گا مگر قرآن کریم میں اس کی مدت متعین نہیں تھی کہ یہ وعدہ کب تک پورا ہوگا بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کبھی نبی کے خلفاء کے ہاتھوں پر پورا ہوتا ہے۔ کما قال تعالیٰ اما نرینک بعض الذی نعدھم او نتوفینک۔ یعنی جو وعدے اللہ تعالیٰ نے آپ سے آپ کے دین کے متعلق کیے ہیں وہ سب کے سب آپ کے سامنے پورے نہ ہوں گے بعضے وعدے تو آپ کو آپ کی زندگی میں دکھلا دئیے جائیں گے اور بعض وعدے آپ کی وفات کے بعد پورے ہوں گے چناچہ حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے جو فتح شام کا وعدہ کیا تھا اور وہ وعدہ حضرت یوشع بن نون کے زمانے میں پورا ہوا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ اور جانشین تھے۔ سی طرح سمجھو کہ حق جل شانہ نے جو اپنے نبی سے لیظرہرہ علی الدین کلہ میں ظہور دین اور غلبہ اسلام کا وعدہ فرمای تھا اس کی تکمیل اس پر موقوف تھی کہ قیصر و کسری کی سلطنت کا تختہ الٹا جائے ہنوز یہ وعدہ پایۂ تکمیل کو نہ پہنچا تھا کہ سرور عالم ﷺ رحلت فرما گئے اور انے جانشینوں کو ہدایت فرماگئے کہ ان دو قلعوں کو فتح کرو اور ان پر اسلام کا پرچم لہراؤ آپ اس عالم سے تشریف لے گئے اور آپ کے حسب الارشاد یہ امر مہتم بالشان خلفاء ثلاثہ کے بابرت ہاتھوں سے آپ کے حکم کے مطابق انجام کو پہنچا۔ اس لیے یہ سب کچھ آپ ہی کام کام محسوب ہوگا اور خلفاء نے جو کچھ کیا وہ آپ ہی کے دست وپا ہونے کی حیثیت سے کیا اور آپ ہی حکم سے کیا۔
پس جب یہ ثابت ہوگیا کہ بعثت نبوی کا ی مقصد اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ خلفائے ثلاثہ کے ہاتھوں پر پورا ہوا تو ثابت ہوگیا کہ یہ تینوں حضرات آپ کے نائب وصادق اور خلیفہ برحق تھے جن کے ہاتھوں پر مقصد بعثت کی تکمیل ہوئی اور یہی خلافت خاصہ اور خلافت راشدہ ہے۔ یہ جو کچھ لکھا گیا یہ تمام تر حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی قدس سرہ کے کلام کا خلاصہ ہے جو ازالۃ الخفاء میں قلم حقائق رقم سے ظہور میں آیا ہے۔ (رح) علی مر اللیالی والایام
تتمۂ کلام : حضرت عمر ؓ کے زمانے میں جب سلطنت قیصر مغلوب ہوئی تو گویا تمام ولایات فرنگ مغلوب ہوگئیں اس لیے کہ ولایات فرنگستان یعنی ریاستہائے انگلستان سب قیصر روم کے ماتحت تھیں اور حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں سلطنت کسری کا نام ونشان بھی نہ رہا۔ سن 30 ھ میں کسری مارا گیا اور مغرب کی جانب میں اسلامی سلطنت کسری کا نام وشان بھی بحر محیط تک پہنچی اور مشرق میں بلاد چین تک پہنچی اور مشارق اور مغارب سے مدینہ میں خراج آنے لگا اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو تمام دینوں پر غالب کیا۔ اور اپنا وعدہ پورا فرمایا۔
شیعوں کی حیرانگی : شیعہ اس آیت کی تفسیر میں بہت حیران اور سرگرداں ہیں کبھی تو کہتے ہیں کہ اظہار دین سے سیف وسنان کا غلبہ مراد نہیں بلکہ حجت اور برہان کا غلبہ مراد ہے اور کبھی یہی کہتے ہیں خہ یہ پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں پوری ہوگئی۔ فتح مکہ سے مشرکین عرب پر غلبہ ہوگیا اور نجران کے عیسائیوں نے جزیہ دینا قبول کیا اس سے نصرانیت پر غلبہ ظاہر ہوا اور خیبر فتح ہونے سیہودیت پر غلبہ ظاہر ہوا غرض یہ کہ تمام دینوں پر غلبہ کا ظہور آپ ہی کی زندگی میں ہوگیا اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ پیش گوئی امام مہدی کے وقت میں پوری ہوگی۔ تمام روئے زمین پر اسلام پھیل جائے گا۔
جواب : اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ یہ تینوں باتیں غلط ہیں قول اول کا غلط ہونا تو پہلے ہی بدلائل واضح ہوچکا ہے کہ آیت میں صرف حجت اور برہان کا غلبہ مراد نہیں بلکہ عام معنی مراد ہیں جو ہر قسم کے غلبہ کو شامل ہیں۔
(قول دوم) یعنی یہ کہنا کہ پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ ہی کے عہد مبارک میں پوری ہوگئی صحیح نہیں مشرکین پر تو غلبہ بیشک آں حضرت ﷺ کے عہد مبارک میں ہوچکا تھا لیکن مجوسیت اور نصرانیت اور یہودیت پر غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا چند نصرانیوں اور چند یہودیوں کے مغلوب ہوجانے سے مجوسیوں اور نصرانیوں کی سلطنت پر کوئی اثر نہیں پڑا لہذا نجران کے نصاری کی مغلوبیت اس آیت کا مصداق نہیں ہوسکتی اس آیت میں تو یہ ہے کہ دین اسلام تمام دینوں پر غالب آجائے گا اور یہ وعدہ اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا کہ جب تک نصاری اور مجوس کی سلطنتیں مغلوب اور زیر وزبر نہ ہوں۔
(قول سوم): یعنی یہ کہنا کہ یہ پیش گوئی امام مہدی کے زمانے میں پوری ہوگی یہ بھی بچند وجہ مردود ہے اول یہ کہ اس صورت میں یہ لازم آئے گا کہ اللہ کا یہ وعدہ باوجود چودہ صدی گزرجانے کے ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ اور آپ کی بعثت کا مقصد ہنوز پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا جب کسی فعل کا کوئی مقصد بیان کیا جائے تو یقینا وہ مقصد اس فعل کے متصل ہی شروع ہوجانا چاہیے اور اگر کچھ فاصلہ بھی ہو تو قلیل ہو اگر کوئی طبیب یہ کہے کہ میں نے فلاں دوا اس لیے دی ہے کہ اس سے مواد فاسدہ کا تنقیہ ہوجائے تو اس دوا کے پینے کے بعد ہی اسہال شروع ہوجانا چاہیے اگر اس قریبی زمانے میں اسہال نہ ہوا بلکہ دوا پینے کے دس بیس برس بعد ہوا تو کون کہے گا کہ وہ طبیب اپنے قول میں کامیاب رہا۔ اسی طرح یہاں یہ سمجھو کہ ظہور دین اور غلبہ دین کا سلسلہ تو آپ ہی کی زندگی سے شروع ہوگیا تھا۔ اور وہ سلسلہ کھی منقطع نہیں ہوا یہاں تک کہ اس کی تکمیل خلفائے ثلاثہ ہاتھوں پر ہوئی۔
دوسری خرابی اس قول میں یہ ہے کہ آیت سے مقصود مسلمانوں کو خوشخبری اور تسلی دینا ہے کہ تم گھبراؤ نہیں عنقریب تمہارے دشمنوں کا غلبہ ختم ہوجائے گا اور تمہارا خوف دور ہوجائیگا اور تمہارا دین تمام دینوں پر غالب آجائیگا پس اگر یہ پیش گوئی حابطہ کرام کے زمانے میں پوری نہیں ہوئی تو ایسی پیش گوئی سے کیا فائدہ کہ قرن کے قرن اور صدی پر صدی گزرتی چلی اور وعدہ کے پورا ہونے کے کوئی آثار نظر نہ آئیں۔
اہل سنت اور اہل بدعت : حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ازالۃ الخفاء میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت اہل سنت اور اہل بدعت کے درمیان حکم ہے اور قول فیصل ہے وہ یہ کہ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو دین ہدایت آنحضرت ﷺ پر نازل فرمایا آپ نے وہی دین اور وہی ہدایت بعینہ بلا کم وکاست صحابہ کو پہنچا دی اور صحابہ کرام نے اس سے وہی بات سمجھی جو آں حضرت کی مراد تھی اور پھر صحابہ نے وہی ہدایت تابعین کو پہنچائی اور تابعین نے تبع تابعین کو وعلی ہذا القیاس۔ یہی مذہب اہل سنت کا ہے پس اب جو فرقہ یہ کہ تا ہے کہ آں حضرت ﷺ نے صحابہ کو دین تو پہنچایا لیکن وہ اس کی مراد کو نہ سمجھے یا جو فرقہ یہ کہتا ہے کہ صحابہ سمجھے تو سہی مگر سمجھنے کے بعد حرص وہا کے اسیر ہوئے اور ہمیشہ حق چھپاتے رہے یہ دونوں فرقے بلاشک بدعتی ہیں اول فرقہ معتزلہ کا ہے۔ جو یہ کہتا ہے کہ حدیث میں جو انکم سترون ربکم آیا ہے اس سے علم یقینی کے معنی مراد ہیں نہ کہ رویت حقیقی صحابہ دقت معنی اور غموض مفہوم کی وجہ سے بات کو نہ سمجھ سکے۔
اور دوسرا فرقہ شیعوں کا ہے۔ جو یہ کہتا ہے کہ آں حضرت ﷺ نے حضرت علی کی خلافت کے متعلق صریح حکم دیا تھا مگر صحابہ نے نفسانی اغراض کی بناء پر اس کا اخفاء کیا اور گنہگار ہوئے سو ازروئے تحقیق یہ دونوں فرقے بلاشبہ بدعتی ہیں کیونکہ آیت مذکورہ سے مراد خداوندی یہ ہے کہ اللہ کا دین ضرور بالضرور ظاہر ہو کر رہے گا یہ ممکن نہیں کہ کوئی اللہ کی مراد کو درہم برہم کرسکے اور جو درہم برہم ہونے کا قائل ہو وہ کاذب اور مفتری ہے۔ سبحنک ھذا بھتان عطیم
ابطال تقیہ1
1 ۔ نیز آیت مذکورہ یعنی ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ صاف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بعثت نبوی سے مقصود خداوندی یہ ہے کہ دین حق کو تمام دینوں پر غالب اور ظاہر کردے اور ظاہر کردے اور ظاہر ہے کہ جب اللہ کا ارادہ اظہار کا ہوگا تو پھر کون چھپا سکے گا تو اس سے تقیہ کی گردن ہی ٹوٹ گئی اس لیے کہ تقیہ دین کے چھپانے کو کہتے ہیں۔
2 ۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو اس لیے مبعوث فرمایا کہ وہ بےخوف ونڈر ہو کر اللہ کے احکام اور اس کے پیغام بندوں کو پہنچائیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے حق میں فرمایا کہ وہ بےخوف ونڈر ہو کر اللہ کے احکام اور اس کے پیغام بندوں کو پہنچائیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے حق میں فرماتے ہیں الذین یبلغون رسلت اللہ ویخشونہ ولا یخشون احدا الا اللہ۔ یعنی انبیاء کے اوصاف یہ ہیں کہ وہ اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور صرف اللہ ہی سے ڈرتے ہیں اور سوائے اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتے۔
3 ۔ اور نبی کریم کو اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کا حکم دیا اور فرمایا۔ یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک اور چونکہ علی الاعلان اور صاف طور پر حکم خداوندی کے پہنچانے میں دشمنوں کی طرف سے مضرت کا اندیشہ تھا تو فرمایا واللہ عیصمک من الناس یعنی آپ لوگوں سے ڈر کر حق کو نہ چھپائیں ہم آپ کی عصمت اور حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔
1 یہ تمام مضمون ہدیۃ الشیعہ مصنفہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب قدس سرہ سے ماخوذ ہے
4 ۔ چناچہ سورة حجر میں ارشاد فرماتے ہیں فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین۔ یعنی آپ لوگوں کو دین کی بات کھال کر صاف صاف سنا دیں اور مشرکین کی پرواہ نہ کریں معاذ اللہ اگر انبیاء تقیہ کرنے لگتے اور منہ پر مہر سکوت لگا کر بیٹھ جاتے تو حق کیسے ظاہر ہوتا اور تمام قرآن کریم اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نے دشمنوں کی قوت و شوکت اور اپنی بےکسی اور بےبسی کا لحاظ کر کے کبھی بھی اظہار حق اور اعلان حق میں دریغ نہیں کیا اور کبھی دشمنوں سے ڈر کر تقیہ نہیں کیا۔
5 ۔ حضرات انبیاء کرام اور ان کے اصحاب ؓ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور اظہار کلمۂ حق میں۔ دشمنان دین سے جو ہوشربا مصائب پہنچیں ان پر صبر کیا اور تقیہ نہیں کیا اگر تقیہ کرتے تو ان مصائب سے محفوظ رہتے۔
6 ۔ حق جل شانہ مومنین کی شان میں فرماتے ہیں یجاھدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم۔ یعنی اللہ کے محب اور محبوب بندے خدا کی راہ میں جہاد و قتال کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں درتے۔
اب اہل تقیہ بتلائیں کہ کیا ان میں یہ وصف موجود ہے ؟ ان میں یہ وصف کہاں سے آیا۔ بزدل ہیں ملامت سے ڈرتے ہیں سوائے خدا کے سب سے ڈرتے ہیں۔ اہل تقیہ کو لوگوں کے درمیان رسوائی خوف ہر وقت دامنگیر رہتا ہے اور تبلیغ احکام میں مداہنت کرتے ہیں معلوم نہیں کہ خدا کو کیا منہ دکھاویں گے،
اور کشف الغمہ میں امام رضا (رح) تعالیٰ سے منقول ہے لا ایمان لمن لا تقیۃ لہ فقیل یا ابن رسول اللہ ﷺ الی متی قال الی وقت یوم معلوم وھو خروج قائمنا فمن ترک التقیۃ قبل خروج قائمنا فلیس منا اور جامع الاخبار میں ہے قال النبی صلی اللہ لعیہ وسلم تارک التقیۃ تارک الصلوۃ۔
الغرض شیعوں کے نزدیک بغیر تقیہ کے ایمان ناتمام رہتا ہے اور تارک تقیہ بمنزلہ تارک صلوۃ کے ہے تو حضرات شیعہ بتلائیں کہ پھر دین کا اظہار اور علان اور دعوت اور تبلیغ کی کیا صورت ہے
7 ۔ نیز کافروں سے خوف کی صورت میں جرت واجب ہے آیات قرآنیہ اس بات کے بیان سے بھری پڑی ہیں کہ جہاں اظہار حق اور دین پر عمل ممکن نہ ہو تو وہاں سے ہجرت کر جائیں ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون (یعنی میری زمین وسیع ہے کہیں چلے جاؤ اور جا کر میری عبادت کرو )
ان الذین تو فھم الملئکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا فاولئک ماواھم جھنم وساءت مصیرا شیعوں کے نزدیک حضرت علی ؓ پر ہجرت واجب تھی کہ کافروں اور منافقوں کو چھوڑ کر کہیں چلے جاتے۔ ساری عمر تقیہ ہی میں گزاری اور ہجرت نہ کی۔
8 ۔ اگر آدمی کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر قدرت نہ ہو تو ان سے ترک تعلق واجب ہے اور ان کی مجالس میں شرکت حرام ہے کما قال تعالیٰ ولا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین۔
9 ۔ حق جل شانہ کا ارشاد ہے ان الانسان لفی خسر الال الذین امنوا وعملوا الصلحت وتواصو ا بالحق تو اصو بالصبر۔
صبر کی ضرورت حق گوئی اور اعلان حق میں ہوتی ہے تقیہ میں صبر کی ضرورت نہیں خاص کر جس مذہب میں حق دبالینے کی تاکید ہو وہاں حق گوئی پر صبر کی نصیحت بیکار ہے۔
10 ۔ نیز حضرات شیعہ سورة آل عمران کی اس آیت کو بھی پڑھیں۔ وکاین من نبی قاتل معہ ربیون کثیر فما وھنوا لما اصابھم فی سبیل اللہ وما ضعفوا وماستکانوا واللہ یحب الصابرین۔
یعنی بہت سے نبی ہوئے جن کے ساتھ ہو کر بہت سے الہ والوں نے دشمنان دین سے جہاد و قتال کیا سو اس راہ میں ان کو جو تکلیفیں پیش آئیں ان کے سبب نہ کچھ ڈھیلے ہوئے اور نہ سست ہوئے اور نہ کفار سے کچھ دبے اور نہ ان کے سامنے کچھ جھکے۔ اور اظہار حق اور اعلاء کلمۃ اللہ پر ڈٹے رہے اور اس راہ میں جو تکلیفیں پیش آئیں ان پر صبر کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ صابرین کو محبوب رکھتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اظہار حق کے سبب تکلیفوں پر صبر کرنے سے اللہ کا محبوب بنتا ہے تقیہ کر کے حق کو چھپانے سے اللہ کا محبوب نہیں بنتا۔ ہم خاکپائے غلامان اہل بیت کا عقیدہ یہ ہے کہ معاذ اللہ معاذ اللہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کبھی تقیہ نہیں فرمایا ان کا ظاہر و باطن یکساں تھا وہ اسد اللہ الغالب تھے کوہ شجاعت ہے صاحب کرامت تھے مرکز کرامات وولایت تھے انہیں تقیہ کی کیا ضرورت تھی تقیہ تو کمزور اور خوف زدہ آدمی کیا کرتا ہے معلوم ہوا کہ حضرت امیر نے تمام زندگی جو خلفائے ثلاثہ کے ساتھ معاملہ رکھا وہ عین حقیقت اور عین مودت تھا معاذ اللہ محض ظاہر داری نہ تھی بفرض محال اگر خلفائے ثلاثہ کا کچھ ڈرٹھا تو وہ ان کی زندگی تک تھا۔ اور جب ابوبکر وعمر ؓ دنیا سے چلے گئے اور ان کا نام ونشان بھی نہ رہا۔ تو پھر کس چیز کا ڈر تھا کہ جو برسر منبر اپنے زمانہ خلافت میں ابوبکر وعمر کی فضیلت اور منقبت کو بیان فرماتے تھے۔ مثل مشہور ہے کہ مرے شیر سے تو گیدڑ بھی نہیں ڈرتے۔ پس اگر شیر خدا مری ہوئی روباہ سے ڈرنے لگیں تو قیامت آگئی۔
نیز اگر حضرت امیر ؓ نے ابوبکر وعمر ؓ کے ساتھ تقیہ کیا تو امیر معاویہ ؓ کے ساتھ تقیہ کیوں نہ کرلیا۔ اگر حضرت معاویہ ؓ کے ساتھ تقیہ کرلیتے تو بہت سے بہت یہ ہوتا کہ قاتلین عثمان مارے جاتے تو وہ کون سے آپ کے عزیز و اقارب تھے جن کا آپ کو اس قدر پاس ولحاظ تھا۔ حضرت سید الشہداء نے تو اپنے اہل و عیال اور لخت جگر کو اس دین کی بابت قتل کرادیا اور اپنے آپ بھی جاں بحق ہوئے اور زن ورزند اور ننگ وناموس کا کچھ بھی لحاظ نہ فرمایا سید الشہدء نے یہ سب کچھ گوارا کیا مگر یزید کے مقابلہ میں تقی کو گوارا نہیں فرمایا۔
حضرت امیر کو اگر قاتلان عثمان کو امیر معاویہ کے حوالے کردیتے تو خلافت تو بنی رہتی۔ اور باغی اور مفسد لوگ سب ہی آپ کے مطیع اور فرمانبردار ہوجاتے ہیں اور دین کی ترقی ہوتی اور بایں ہمی کچھ ہی سہی آخر قاتلان حضرت عثمان ظالم تھے اور مظلوم نہ تھے اور ہمراہیان امام الشہداء کے برابر بےگناہ بھی نہ تھے۔
اس لیے تمام اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف تقیہ کی نسبت یہ سب شیعوں کی تہمت ہے سبحانک ھذا بھتان عظیم۔ ہم غلامان اہل بیت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت علی بلاشبہ شیر خدا تھے اور خدا کے محب اور محبوب تھے یہ ناممکن ہے کہ وہ کفار اور منافقین کے سامنے دب کر رہیں۔ اور ان کی خوشامد کرتے رہیں اور خوشامد میں اپنی بیٹی (ام کلثوم) بھی ایک کافر اور منافق (عمر) کو دے دیں یہ سب ناممکن اور محال ہے
اند کے پیش تو گفتم غم دل ترسیدم کہ آزردہ شوہ ورنہ سخن بسیار است
۔۔۔۔۔
Ayahs 9:34–35حبار اور رہبان کی حرص اور طمع کا بیان
قال اللہ تعالی۔ یا ایہالذین امنوا ان کثیرا من الحبار والرھبان۔۔۔ الی۔۔ فذوقوا ما کنتم تکنزون۔
(ربط): اوپر یہ بیان فرمایا کہ عوام الناس نے احبار اور رہبان کو اپنا رب بنا لیا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ ان احبارو رہبان کی حرص اور طمع کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے روپیہ لے کر احکام شرعیہ اور اخبار الٰہیہ کو بدل ڈالتے ہیں اور اس مضمون کا مخاطب مومنین کو اس لیے بنایا کہ متنبہ ہوجائیں اور ایسے علماء اور مشائخ سے پرہیز کریں جو دنیا کی حرص اور طمع میں گرفتار ہیں ایسے گرفتارانِ آز و ہوا کی تو تعظیم تکریم بھی جائز نہیں چہ جائیکہ ان کو رب بنا لیا جائے۔ چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو جب کہ تم کو دین حق کے ظہور کا اور تمام ادیان پر اس کے غالب ہونے کا یقین ہے تو اپنے دین پر قائم رہو اور ان احبار اور رہبان کی مخالفت کی پروا نہ کرو اس لیے تحقیق یہود ونصاری کے بہت سے علماء اور مشائخ البتہ کھاجاتے ہیں لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے یعنی رشوت لے کر احکام شریعت میں تحریف کرتے ہیں اور ان کی مرضی کے مطابق مسائل بتلا دیتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں یعنی دین اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اور جو لوگ حرص اور طمع کے بنا پر سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ یعنی زکوٰۃ نہیں دیتے اور اس کے حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے۔ پس اے نبی ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی بشارت دیدیجئے جس دن ان سونے اور چاندی کے خزانوں کو آگ میں تپایا جائے گا۔ پھر ان جلتے ہوئے دراہم و دنانیر سے ان کی پیشانیوں پر اور ان کی کروٹوں پر اور ان کی پیٹھوں پر داغ دیا جائے گا کیونکہ فقیروں کو دیکھ کر اول ان کی پیشانیوں پر بل پڑتے تھے اور پھر ان سے پہلو تہی کرتے تھے۔ اور پھر ان سے پشت پھیر لیتے تھے۔ اور داغ دیتے وقت ان سے یہ کہا جائے گا کہ یہ وہی خزانہ ہے جو تم نے اپنے نفع اور فائدہ کے لیے جمع کر رکھا تھا۔ اور خدا تعالیٰ کا حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے آج تمہارے لیے باعث ضرر بنا۔ پس چکھو وبال اس کا جو تم ذخیرہ کر رکھتے تھے۔ پس جو حرص اور طمع میں ایسے لوگوں کا اتباع کرے گا وہ عذاب کرے گا وہ عذاب میں بھی ان کا تابع ہوگا جمہور صحابہ وتابعین کا مذہب یہ ہے کہ آیت میں جس عید کا ذکر ہے وہ اس شخص سے متعلق ہے کہ جو مال جمع کرے اور اس کی زکوٰۃ اور اس کے حقوق واجبہ کو ادا نہ کرے اور جس مال کی زکوٰۃ ادا کردی گئی وہ کنز نہیں اور اس کے جمع کرنے پر کسی قسم کی وعید نہیں خواہ اربہا ارب ہی کیوں نہ ہو۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں کو تشوش ہوئی۔ حضرت عمر ؓ نے حاضر خدمت نبوی ہو کر عرض کیا یارسول اللہ ﷺ یہ آیت مسلمانوں پر بہت شاق گزری آپ صلی اللہ علی ہوسلم نے فرمایا کہ اللہ نے زکوٰۃ کو اسی لیے فرض کیا کہ وہ تمہارے باقی مال کو پاک کردے اور میراث کو اس لیے فرض کیا کہ وہ تمہارے پس ماندوں کے کام آئے عمر ؓ یہ جواب سن کر از حد مسرور ہوئے اور فرط مسرت میں تکبیر کہی۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ فی مسند وابو داود وابو یعلی وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیھقی عن ابن عباس مرفوعا (دیکھو تفسیر درمنثور ص 232 ج 3)
اور ابو زر غفاری ؓ جیسے عابد وزاہد صحابہ قوت لایموت سے زیادہ مطلقاً مالک کے جمع کرنے کو حرام بتلاتے تھے ان جیسا زہد اور تقوی اور توکل کس کو نصیب جو اس کا تصور بھی کرسکتے۔
شریعت کا حکم یہ ہے کہ مال فی حد ذاتہ کوئی بری چیز نہیں بلکہ بہت سی نیکیوں کا ذریعہ ہے خواہ وہ ابرہا ارب کیوں نہ ہو شریعت نے نہ ذاتی ملکیت کو ممنوع قرار دیا ہے اور نہ اس کی کوئی حد مقرر کی ہے البتہ اس میں حقوق واجب کیے حقوق واجبہ کے ادا کرنے کے بعد مال و دولت کی مضرت ختم ہوجاتی ہے اور اس کی منفعت باقی رہ جاتی ہے یہ عام حکم ہے جو عوام کے لیے ہے اور خواص کا حکم یہ ہے کہ قوت لایموت کے علاوہ کسی درہم و دینار کو ان کے گھر میں رات گزارنے کی بھی اجازت نہیں۔ آں حضرت ﷺ نے اور خلفائے راشدین نے کبھی اپنے لیے کوئی مال جمع نہیں کیا۔ اور نہ مال جمع کرنے کو پسند کیا اور نہ مال جمع کرنے کے لیے کوئی حکم امتناع جاری کیا۔ خوب سمجھ لو اللہ تعالیٰ اور نبی کریم نے اور خلفائے راشدین نے مالداروں کو زکوٰۃ دینے کا تو حکم دیا مگر یہ حکم کبھی نہیں کہ مالدار اپنی دولت سب پر برابر تقسیم کردیں۔
مسئلہ : اس آیت سے اور دیگر احادیث سے امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے استدلال کیا کہ سونے اور چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ واجب ہے تفصیل کے لیے کتب فقہ کو دیکھیں۔
Ayahs 9:36–37عود بذکر بعض جہالات مشرکین عرب
قال اللہ تعالیٰ ۔ ان عدۃ الشہور۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ لا یہدی القوم الکافرین
(ربط): گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے قتال کا حکم دیا اور پھر ان سے جہاد و قتال کے وجوہ بیان کیے اور کلام کو ان کی حرص اور طمع کے بیان پر ختم کیا کہ اس حرص اور طمع نے ان کے دین اور دنیا کو خراب کیا۔ اب پھر مشرکین عرب کی بعض جہالتوں کو بیان کرتے ہیں تحقیق مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں جو قمری میں کتاب الٰہی یعنی لوح محفوظ یا حکم خداوندی میں اسی طرح لکا جا چکا ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے ادب اور احترام کے ہیں تین مہینے متصل ہیں ذی قعدہ اور ذی الحجہ اور محرم اور چوتھا مہینہ رجب جو اکیلا ہے۔ عرب میں حضرت ابراہیم اور حضر اسماعیل (علیہما السلام) کے وقت سے یہ دستور چلا آرہا تھا کہ سال کے بارہ مہینوں میں چار مہینے اشہر حرم خاص ادب اور احترام کے مہینے سمجھے جاتے تھے۔ یعنی ذی قعدہ اور ذوالحجہ اور محرم اور رجب اور ان چار مہینوں میں قتل و قتال اور جنگ وجدال سب حرام سمجھا جاتا تھا۔ اور قتل و غارت کا باز بالکل بند ہوجاتا تھا۔ لوگ ان مہینوں میں امن وامان کے کے ساتھ سفر کرتے کوئی کسی سے تعرض نہ کرتا حتی کہ کوئی اپنے دشمن کو اور اپنے باپ کے قاتل کو بھی نہ چھیڑتا لیکن اس کے ساتھ ایک عجیب بدعت ایجاد کر رکھی تھی کہ جب کسی زور آور قبیلہ کو ماہ محرم میں کسی سے لڑنے کی ضرورت پیش آتی تو ایک سردار یہ اعلان کردیتا کہ امسال ہم نے محرم کو اشہر حرم سے نکال کر اس کی جگہ صفر کو ماہ حرام قرار دے دیا ہے پھر اگلے سال یہ کہہ دیا کہ قدیم دستور کے مطابق محرم حرام اور صفر حلال رہے گا اس طرح عرب کبھی مہینوں کو آگے پیچھے کرلیا کرتے تھے۔ اس طرح سے عرب سال بھر میں چار مہینوں کی گنتی تو پوری کرلیتے لیکن ان کی تعیین میں حسب خواہش ردو بدل کرتے رہتے تھے۔ چار مہینوں کی تحریم کے تو قائل تھے مگر تخصیص اور تعیین کے قائل نہ تھے حسب ضرورت جس مہینہ کو چاہتے حلال اور جس کو چاہتے حرام کرلیتے ان آیتوں میں حق تعالیٰ شانہ نے ان کی اس جہالت کا رد فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینے ادب اور احترام کے مقرر اور معین ہیں ان میں کوئی تغیر وتبدل جائز نہیں۔ یہی دین مستقیم ہے یعنی بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو بلا کسی تغیر وتبدل کے اور کسی تقدیم وتاخیر کے اشہر حرم قرار دینا یہی صحیح دین ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کے وقت سے چلا آرہا ہے اور جاہلیت کی یہ رسم کہ جس مہینہ کو چاہا حلال بنا لیا اور جس کو چاہا حرام بنالیا یہ بےدینی اور گمراہی ہے۔ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ دین کے معنی حساب کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہی حساب صحیح اور درست ہے۔ پس اے مسلمانو ! تم ان چار مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم مت کرو۔ یعنی دین قیم کا اتباع کرو اور جاہلیت کے طریقہ پر مت چلو اور محرم کو صفر اور صفر کو محرم نہ بناؤ۔ اللہ کے حکم کو بدلنا یہی ظلم ہے۔ یہ چار مہینے محرم ہیں۔ انکے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھو اللہ نے ان چار مہینوں کو خاص بزرگی عطا کی ہے ان مہینوں میں گناہ کرنا ایسا ہے جیسا کہ حدود حرم اور حالت احرام میں گناہ کرنا اور بہت ہی زیادہ سخت ہے۔ لہذا ان چار مہینوں میں کسی سے ناحق قتال نہ کرو یہ حرمت والے مہینے ہیں اور البتہ قتال حق کی ہر وقت اور ہر زمانے میں اجازت ہے لہذا تم سب مل کر ان مشرکین سے لڑو ان حرمت والے مہینوں میں بھی اور ان کے سوا اور مہینوں میں بھی جیسا کہ وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں یعنی دشمنوں سے لڑنے پر سب متفق رہو۔ اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو جیسا کہ وہ سب مل کر متفقہ طور پر تم سے قتال کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کافروں سے جہاد و قتال حق ہے ان سے جہاد کرنے کے لیے کسی مہینہ کی قید نہیں لہذا تم کافروں سے حرمت والے مہینوں میں اور اس کے سوا دوسرے مہینوں میں بھی جہاد و قتال کرو جیسے وہ تم سے بلا کسی قید اور بلا کسی تعیین کرے لڑتے ہیں۔ ان چار مہینوں میں ناحق قتال کی ممانعت ہے اور کافروں سے جہاد و قتال حق ہے اس کی ممانعت نہیں۔
حضرت شاہ عبدالقادر (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ " اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ کافروں سے لڑنا ہمیشہ روا ہے (جیسا کہ آں حضرت ﷺ نے اہل طائف کا محاصرہ ماہ ذیقعدۃ الحرام میں واقع ہوا) اور آپس میں ظلم کرنا (یعنی معصیت) ہمیشہ گناہ ہے اور ان مہینوں میں اور زیادہ ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اگر کوئی کافر ان مہینوں کا ادب کرے تو ہم بھی اس سے لرائی کی ابتداء نہ کریں (موضح القرآن)
اور حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ تحریر فرماتے ہیں مترجم گوید۔ در دین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مقرر بود کہ در محرم ورجب و ذی قعدہ و ذی الحجہ بایک دیگر جنگ نکنند اور اہل جاہلیت ایں حکم را تحریف کردہ گاہے صفر را محرم می ساختند و محرم را صفر وعلی ہذا القیاس واین رانسیئ می گفتند خدائے تعالیٰ اصل ایں حکم را باقی داشت بایں وجہ کہ جنگ ناحق ہیچگاہ درست نیست و دریں ماہہا حرمت آں مغلظ می شود و جن با کافراں ہمہ ۔ وقت درست است ونفی تحریف ایشاں فرمود وقولہ تعالیٰ فلا تظملوا فیھن انفسکم ل۔ یعنی پس ستم نکنید در آں چہار ماہ بر خیوشتن یعنی بقتال ناحق۔ انتہی کلامہ۔
مطلب یہ ہے کہ ملت ابراہیمی میں یہ چار مہینے ادب اور احترام کے تھے اللہ تعالیٰ نے اصل حکم کو یعنی ان کی حرمت کو برقرار رکھا اور مشرکین عرب نے جو اس میں تحریف کی تھی اس کی نفی فرمادی۔
اور جان لو کہ اللہ کی نصرت اور حفاظت خدا سے ڈرنے والوں کے ساتھ ہے اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ جاہلیت کی رسم سے پرہیز کرو آگے جاہلیت کی رسم اور اس کی قباحت اور مضرت کو بیان کرتے ہیں۔ جز ایں نیست کہ مہینوں میں آگے پیچھے کرنا یہ کفر میں زیادتی ہے اس لیے کہ خدا کی حلال کردہ روشنی کو حرام ٹھہرانا اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال ٹھہرانا یہ دوسرا کفر ہے جس کی وجہ سے پہلے کفر میں اور زیادتی ہوگئی اور یہ تحریم وتحلیل کفر بر کفر اور معصیت بالائے معصیت بن گئی (دیکھو احکام القرآن للامام الجصاص ص 112 ج 3 ؎)
اس رسم بد کے ذریعے گمراہ کیا جاتا ہے ان لوگوں کو جو کافر ہیں اس طور پر کہ نفسانی اغراض کی بنا پر ایک سال ایک مہینہ کو حلا کرلیتے ہیں اور پھر دوسرے سال اسی مہینہ کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اشہر حرم میں سے بوقت ضرورت جس مہینہ کو چاہا حلال کرلیا۔ اور جس کو چاہا حرام ٹھہرا لیا یہی نسیء ہے جس سے ان کفر سابق میں زیادتی ہوتی ہے ان کی غرض یہ ہے کہ بلا تخصیص وتععین ان مہینوں کی گنتی کو پورا کرلیں۔ جن کو اللہ نے محترم بنایا ہے پھر اپنی ضرورت اور مصلحت کی بنا پر اس تدبیر سے اس مہینہ کو حلال بنا لیں جس کو اللہ نے حرام کیا ہے ان کے برے اعمال ان کی نظروں میں مزین کردئیے گئے ہیں اور اللہ ایسے کافروں کو توفیق نہیں دیتا کہ جو احکام خداوندی میں تحریف کرتے ہوں اور حرام کو حلال اور حلال کو حرام بناتے ہوں وہ خدا کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں۔
نکتہ : جس طرح مشرکین عرب حرام کو حلال اور حلال کو حرام بناتے تھے۔ اور قبیلہ کے سردار کو اس تحلیل وتحریم کا اختیار تھا اسی طرح یہود اور نصاریٰ نے تحلیل وتحریم کی باگ اپنے احبار اور رہبان کے ہاتھ میں دے دی تھی اس لیے دونوں جماعتوں کی مشابہت بیان کرنے کے لیے یہ رسم یہاں بیان کی گئی کہ جس طرح مشرکین عرب نے اپنے سردار کے کہنے سملت ابراہیمی کے حکم میں تحریف کی اور اس میں تغیر وتبدل کیا اور باوجود اس کے اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا متبع سمجھتے ہیں اسی طرح یہود ونصاری، تحلیل وتحریم میں اپنے احبار اور رہبان کا اتباع کرتے ہیں اور باوجود اس کے اپنے کو شریعت موسویہ اور شریعت عیسویہ کا متبع سمجھتے ہیں۔
یہاں تک براءت کا مضمون ختم ہوا جس کا تعلق مشرکین عرب سے تھا اب آئندہ غزوہ تبوک کا مضمون شروع ہوتا ہے جس کا تعلق اہل کتاب یعنی یہود ونصاری سے ہے۔
مسئلہ : علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ ان چار مہینوں میں اب جہاد و قتال جائز ہے یا گناہ ہے بعض علماء تابعین اس طرح گئے ہیں کہ ان چار مہینوں میں اب بھی لڑائی حرام ہے کما قال تعالیٰ ۔ یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ قل قتال فیہ کبیر۔ یعنی ان چار مہینوں میں کفار سے ابتداء بالقتال کرنا ممنوع ہے لیکن اگر ابتداء کافروں کی طرف سے ہو تو پھر بطور مدافعت اور انتقام ان سے جہاد کرنا ممنوع ہے لیکن اگر ابتداء کافروں کی طرف سے ہو تو پھر بطور مدافعت اور انتقام ان سے جہاد کرنا ممنوع نہیں بلکہ واجب ہے۔ کما قال تعالیٰ الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرمات قصاص۔ وقال تعالیٰ ولا تقاتلوھم عند المسجد الحرام ھتی یقتلوکم فیہ فان قتکلوکم فاقتلوھم۔
اور یہ قول عطاء بن ابی رباح سے منقول ہے اور جمہور فقہاء یہ کہتے ہیں کہ یہ حرمت آیت سیف سے اور دیگر آیات قتال سے منسوخ ہوچکی ہے۔ آیت اقتلوا المشرکین اور قاتلوا المشرکین کافۃ سے تقریباً ستر آیتیں منسوخ ہوئیں جن میں کفار سے قتال کی ممانعت مذکور تھی اور احادیث بھی اسی کی مؤید ہیں اس لیے کہ آں حضرت ﷺ نے اہل طائف کا محاصرہ ماہ ذیقعدۃ الحرام میں کیا اور وہ مھاصرہ چالیس دن تک رہا۔ اور غزوہ تبوک جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ وہ ماہ رجب الحرام میں واقع ہوا۔
مسئلہ : شریعت میں قمری حساب کا اعتبار ہے اور قمری حساب سے سال کے بارہ مہینے میں تمام عبادات روزہ حج اور زکوٰۃ سب میں قمری حساب کا اعتبار ہے احکام شرعیہ کا دارومدار قمری حساب پر ہے لہذا مسلمانوں پر قمری حساب کی حفاظت فرض علی الکفایہ ہے۔ اگر سب مسلمان قمری حساب کو چھوڑ کر شمسی حساب یا اور کوئی حساب اپنے لیے ٹھہرائیں جس سے قمری حساب ضائع ہوجائے تو سب مسلمان گنہگار ہوں گے شمسی حساب کا استمعال حسب ضرورت جائز ہے۔ مگر قمری حساب کو ضائع کردینا یہ گناہ ہے۔