Ayahs 7:163–166قصہۂ اصحاب سبت
قال اللہ تعالیٰ وسئلھم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر۔۔ الی۔۔۔ کونوا قردۃ خسئین
(ربط) گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے حالات اور واقعات کو بیان کیا اب ان آیات میں بنی اسرائیل کے آباء و اجداد کی کفران نعمت اور ان کی سرکشی اور تمرد کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو یہود کو بخوبی معلوم ہے جس سے غرض یہ بتلانا ہے کہ احکام خداوندی سے دیدہ و دانستہ انحراف ان کی جبلی اور آبائی خصلت ہے جس کی ہمیشہ ان کو سزا ملتی رہی اور اسی وجہ سے ان کو بندر بنایا گیا اور انسانی صورت سے حیوانی صورت میں مسخ کیے گئے جو انتہائی ذلت ہے اور عبرتناک سزا ہے اور یہ قصہ داود (علیہ السلام) کے زمانے میں پیش آیا جیسا کہ سورة بقرہ میں گزرا یہود پر ہفتہ کے دن شکار کرنا منع تھا اس وقت ان میں تین قسم کے لوگ تھے ایک وہ کہ جو نافرمانی کرتے تھے دوسرے یہ کہ وہ جو خود نافرمانی نہیں کرتے تھے مگر دوسروں کو منع بھی نہ کرتے تھے۔ تیسرے وہ لوگ جو خود بھی نافرمانی نہیں کرتے تھے اور دوسروں کو نافرمانی کرنے سے منع کرتے تھے حتی کہ منع کرنے والوں نے شکار کرنے والوں سے ملنا بھی چھوڑ دیا تھا اور بستی کے درمیان ایک دیوار بھی قائم کرلی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان بستی والوں کے حال سے خبر دی کہ کس گروہ پر عذاب آیا اور کس گروہ نے عذاب الٰہی سے نجات پائی چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ ان ظالم یہودیوں سے جو اپنے ظلم اور فسق کے منکر ہیں بطور تہدید وتوبیخ اس شہر کا حال پوچھیے کہ جو دریا کہ روبرو تھا اس شہر کا نام ایلہ تھا جو بحر قلزم کے کنارہ پر واقع تھا ان پر ہفتہ کے دن کی تعظیم فرض تھی اور اس دن مچھلیوں کا شکار ان پر حرام تھا۔ ان کو یہ حکم تھا کہ اس دن دنیا کے کاموں میں مشغول نہ رہیں۔ مگر ان لوگوں نے حکم کی خلاف ورزی کی اور داود (علیہ السلام) کی زبان پر ملعون اور بندر اور لنگور بنے اور وسئلھم میں جو استفہام کا حکم دیا گیا وہ بغرض حصول علم نہیں بلکہ اس سے مقصود یہودیوں کو ملامت اور سرزنش کرنا ہے اور ان کے تمرد اور سرکشی کے ایک واقعہ کو یاد دلانا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اے نبی کریم آپ ان یہود بےبہبود سے جن میں ظلم اور فسق پشتہا پشت سے چلا آرہا ہے۔
اس بستی والوں کا حال پوچھئے جو کہ سمندر کے کنارہ پر تھی کہ جب وہ ہفتہ کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے یعنی ان کو ہفتہ کے دن شکار کرنے کی ممانعت تھی ان لوگوں نے اس کی حرمت کو توڑ ڈالا۔ جبکہ آتی تھیں ان کے پاس انکی مچھلیاں ان کے ہفتہ کے دن جس دن انہیں مچھلی کا شکار منع تھا۔ اسی دن مچھلیاں آتیں ظاہر ہو کر کہ پانی کے اوپر اپنا سر اٹھائے ہوئے۔ تاکہ وہ ان کو دیکھ کر للچائیں اور جس دن ہفتہ نہ ہو اس دن نہیں آتی تھیں یوں ہی ہم ان کا امتحان لینے لگے کہ جب ہفتہ کا دن ہوتا تو مچھلیاں آتیں اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو مچھلی کی صورت بھی نظر نہ آتی اس لیے یہ لوگ نافرمان تھے۔ یعنی چونکہ یہ لوگ نافرمانی کے عادی ہوگئے تھے اس لیے ہم نے ان کا امتحان لیا۔ تاکہ حجت پوری ہوجائے۔ جس کی صورت یہ ہوئی کہ جب ہفتہ کا دن ہوتا تو مچھلیاں بکثرت پانی پر طاہر ہوتیں اور ہفتہ کے بعد گا ئب ہوجاتیں یہ دیکھ کر صبر کرنا مشکل ہوا اور سوچا کہ ہفتہ کے دن کہ جب مچھلیاں پانی پر ظاہر ہوجاتی ہیں اس دن شکار کرنا ممنوع ہے اس لیے متردد ہوئے اور حیران ہو کر یہ حیلہ نکالا کہ سمندر کے کنارے حوض بنادئیے اور سمندر سے حوضوں میں پانی آنے کے لیے چھوٹی چھوتی نالیاں بنادیں جب ہفتہ کی صبح ہوتی چھوٹی چھوٹی نالیوں کے ذریعہ سمندر کا پانی ان حضوں میں بھر لیتے پانی کے ساتھ بیشمار مچھلیاں بھی ان حضوں میں جمع ہوجاتیں شام کو حوضوں کا منہ بند کر کے نالیوں کا سلسلہ ان سے منقطع کردیتے تاکہ مچھلیاں پھر نہ سمندر میں چلی جائیں۔ دوسرے دن جب اتوار آتا تو ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے اور تاویل یہ کرتے کہ ہم نے ہفتہ کے دن شکار نہیں کیا۔
قاعدہ ہے کہ بستی کے تمام آدمی یکساں نہیں ہوتے۔ اس بستی کے آدمی بھی تین فریق ہوگئے ایک فریق تو وہ کہ جو ہفتہ کے دن شکار کرتا تھا۔ دوسرا فریق وہ کہ جو ان کو اس برے عمل سے منع کرتا تھا حتی کہ جب وہ نہ مانے تو شہر کے اندر دیوار قائم کر کے اپنا ٹکڑا الگ کرلیا۔ تیسرا فریق وہ کہ جو نہ شکار کرتا تھا اور نہ شکار کرنے والوں کو منع کرتا تھا۔ جیسا کہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو کہ جب بستی والوں کے ایک گروہ نے جو نہ شکار کرتا تھا اور نہ شکار کرنے والوں کو منع کرتا تھا۔ اس گروہ سے جو اوروں کو شکار کرنے سے منع کرتا تھا ناامید ہو کر یہ کہا کہ تم ان لوگوں کو نصیحت کرتے ہو جن پر تمہاری نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کرنے والا ہے یا اگر بالکلیہ ان کو ہلاک نہ کیا تو ان کو سخت عذاب دینے والا ہے۔ ایسے لوگوں کو نصیحت کرنے سے کیا فائدہ ؟ تو منع کرنے والے گروہ نے کہا کہ ہمارا یہ نصیحت کرنا پروردگار کے سامنے عذر کرنے کے لیے ہے کہ پروردگار نے ہم پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض کیا ہے سو ہم اس لیے نصیحت کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے روبرو یہ کہہ سکیں کہ اے پروردگار ہم معذور ہیں اور شاید وہ کسی وقت اس فعل سے باز آجائیں اور ہماری نصیحت کا اثر آئندہ کسی وقت میں ظاہر ہو کر وہ خدا سے ڈر جائیں اور گناہ کو چھوڑ دیں مگر وہ کب باز آنے والے تھے پس بالآخر جب انہوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ان کو برے کام سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو سخت عذاب میں پکڑ لیا بسبب اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے پس جب انہوں نے سرکشی کی اور جس بات کی ان کو ممانعت کی گئی تھی اس میں حد سے بڑھ گئے۔ یعنی مچھلی کے شکار کو نہ چھوڑا تو ہم نے ازراہ قہر و غضب ان کے لیے حکم دے دیا کہ ہوجاؤ بندر ذلیل چناچہ وہ بندر اور لنگور بن گئے۔
اور شیخ جلال الدین سیوطی نے در منثور میں روایتیں نقل کی ہیں کہ تین دن کے بعد یہ سب بندر مرگئے اور ان کی نسل نہیں چلی۔ ان آیات کے ظاہری سیاق سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں اور فاسقوں کو اولا کسی عذاب بئیس (عذاب شدید) میں پکڑا تاکہ متنبہ ہوجائیں اور باز آجائیں مگر جب یہ دلیر ہوگئے اور سرکشی میں حد سے نکل گئے تو ان کو بندر بنا دیا گیا۔ سو یہ عذاب مسخ اس عذاب بئیس کے علاوہ ہے جس کا پہلی آیت میں ذکر ہے۔
اور بعض علماء تفسیر یہ کہتے ہیں کہ یہ دوسری آیت پہلی آیت کی تفسیر اور تفصیل ہے اور گزشتہ آیت میں جو عذاب بئیس کا ذکر تھا اس سے یہی عذاب مسخ مراد ہے۔
لطائف ومعارف
1 ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض ہے البتہ اگر ناصح بالکل مایوس ہوجائے اور اس کو نصیحت کے اثر کی امید نہ رہے تو پھر نصیحت واجب نہیں رہتی مگر عزیمت اور فضیلت اسی میں ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو جاری رکھا جائے اس زمانے میں جو لوگ بےباک لوگوں اور آزاد منشوں کے ساتھ خلا ملا رکھتے ہیں ان کو اس سے عبرت پکڑنی چاہئے۔
2 ۔ جو لوگ ڈارون کی تھیوری پر بلا دلیل ایمان رکھتے ہیں کہ انسان اصل میں بندر تھا ترقی کر کے انسان بن گیا ان کے سامنے جب خدا کے نافرمانوں اور سرکشوں کے بندر بنائے جانے کی خبر دی جاتی ہے تو ان کی تیوریوں پر بل پڑجاتے ہیں۔ کیونکہ صاحب آپ کے نزدیک جب بندر ترقی کر کے انسان بن سکتا ہے تو انسان تنزلی کر کے بندر بھی بن سکتا ہے خاص کر آپ کے نزدیک کہ جب انسان کی اصل ہی بندر ہے تو شئی کا اپنی اصل کی طرف لوٹ جانا کیوں محال ہے۔ جس دلیل سے حیوان کا انسان بننا ممکن ہے اسی دلیل سے انسان کا حیوان بننا بھی ممکن ہے دلیل بیان کیجئے کہ کس دلیل سے انسان کا بندر بن جانا عقلاً محال ہے۔ کوئی عقلی دلیل پیش کیجئے یا کسی زمانہ کا تجربہ اور مشاہدہ پیش کیجئے کہ فلاں زمانے میں اتنے بندر انسان بنے تھے۔
کہ برہاں قوی باید ومعنوی
زرگہائے گردن نہ حجت قوی
اور مسخ کی تحقیق سورة بقرہ کے اس آیت کی تفسیر میں یعنی قلنا لھم کونوا قردۃ خاسئین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
3 ۔ اس آیت میں حق جل شانہ نے ظالمین کے عذاب اور واعظین اور ناصحین کی نجات کا ذکر فرمایا مگر جو لوگ از اول تا آخر ساکت رہے حق تعالیٰ نے ان کے ذکر سے سکوت فرمایا نہ ان کے عذاب کا ذکر کیا نہ ان کی نجات کا ذکر کیا اس لیے کہ جزاء جنس عمل سے ہوتی ہے یہ ساکتین کا گروہ نہ مستحق مدح کا ہوا کہ ان کی مدح کی جاتی اور نہ مرتکب نہی کا ہوا جو ان کی مذمت کی جاتی۔ اس لیے علماء نے اختلاف کیا کہ ساکتین کا گروہ ناجین (نجات پانے والوں میں) رہا یا ہالکین اور معذبین میں رہا۔ اس لیے ادب کا مقتضا یہ ہے کہ جس کے ذکر سے حق تعالیٰ نے سکوت کیا ہم بھی اس کے ذکر سے سکوت کریں۔ (دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 258 ج 2)
4 ۔ واعظین نے اپنے اور سرکشوں کے درمیان شہر میں ایک دیوار قائم کرلی تھی جس سے شہر اس طرح تقسیم ہوگیا تھا مگر اس درمیانی دیوار میں آمدورفت کے لیے ایک دروازہ کھول لیا تھا۔ جو رات کے وقت بند کردیا جاتا تھا جس رات کو نافرمان لوگ ذلیل و خوار بندر بندائیے گئے تو وہ دروازہ بند تھا صبح صبح ہوئی تو دوسری جانب سے کوئی آواز نہ آئی صالحین نے ایک شخص کو دوار پر چڑھایا دیکھا تو دم دار بندر بنے ہوئے ہیں پس جب یہ لوگ اندر داخل ہوئے تو یہ لوگ تو اپنے کسی رشتہ دار کو نہیں پہچانتے تھے مگر وہ بندر اپنے اہل قرابت کو پہچان کر آتے اور ان کے کپڑے سونگھتے اور روتے اور یہ لوگ کہتے کہ کیا ہم نے تم کو منع نہیں کیا تھا تو سر ہلاتے کہ ہاں بیشک تم نے منع کیا تھا۔ بالآخر تین روز کے بعد سب ہلاک ہوگئے (دیکھو تفسیر قرطبی ص 306 ج 7)
5 ۔ جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں تین فرقے تھے ایک ظالمین اور فاسقین کا یعنی نافرمانوں کا دوسرا واعظین اور ناصحیں کا اور تیسرا ساکتین کا۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ جو فرقہ ساکت رہا اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوا۔ عکرمہ ؓ نے کہا کہ وہ ہلاک نہیں ہوا کیونکہ اس نے ان نافرمانوں کے فسق اور معصیت کو براجانا اور ان کی مخالفت کی اور اسی وجہ سے یہ کہا لم تعظون قوماالخ ابن عباس کو عکرمہ کا یہ قول پسند آیا اور خوش ہو کر ان کو ایک خلعت پہنایا۔ امام قرطبی فرماتے ہیں کہ واخذنا الذین ظلموا سے اور ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبت سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ صرف فرقہ عادیہ اور عاصیہ ہلاک ہوا۔ باقی دو فرقے ہلاک نہیں ہوئے۔ واللہ اعلم (دیکھو تفسیر قرطبی ص )
Ayahs 7:167–171ذکر تسلیط عذاب ذلت بر یہود تا روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ واذ تاذن ربک لیبعثن علیہم الی یوم القیامۃ۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تتقون
(ربط) گزشتہ آیات میں یہود کے بعض شنائع اور قبائح کا بیان تھا اور یہود کی ایک خاص جماعت کی ایک وقتی ذلت کا ذکر تھا کہ ذلیل و حقیر بندر اور لنگور بنا دئیے گئے اب ان آیات میں تمام یہود کی دائمی ذلت کا بیان ہے کہ تمرد اور سرکشی کی وجہ سے قیامت تک ان پر ذلت اور حقارت کی مہر لگا دی گئی۔ قیامت تک دوسرے لوگ ان پر مسلط رہیں گے اور ان کی کہیں حکومت نہ ہوگی۔ دوسروں کی حکومتوں میں رہیں گے اور طرح طرح کی ذلتیں سہتے رہیں گے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کم بختوں سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ پر افتراء نہ کرنا اور یہ عہد ان کی کتاب میں موجود ہے اور ان کو خوب معلوم ہے مگر باوجود اس کے اس عہد کو توڑا اور محض دنیاوی طمع کی وجہ سے احکام میں تحریف کی اور خدا کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کیں اور دن رات اسی میں مشغول رہے اس لیے یہود پر یہ عذاب مسلط کیا گیا کہ ہمیشہ مقہور اور مغلوب اور محکوم رہیں گے چناچہ ابتداء میں یہود یونانی اور کلدانی بادشاہوں کے محکوم رہے اور بعد میں بخت نصر کے مظالم کا تختۂ مشق بنے آخر میں نبی اکرم ﷺ کے عہد تک مجوسیوں کے باجگذار رہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مسلمانوں کا محکوم بنادیا اور تقریبا چودہ سو سال تک مسلمان حکومتوں کے باجگذار رہے اور اب بیس سال جو فلسطین میں برائے نام اسرائیل کے نام سے حکومت قائم ہوئی ہے وہ یہودیوں اور بعد میں بخت نصر کے مظالم کا تختۂ مشق بنے آخر میں نبی اکرم ﷺ کے عہد تک مجوسیوں کے باجگذار رہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مسلمانوں کا محکوم بنادیا اور تقریباً چودہ سو سال تک مسلمان حکومتوں کے باجگذار رہے اور اب بیس سال سے جو فلسطین میں برائے نام اسرائیل کے نام سے حکومت قائم ہوئی ہے وہ یہودیوں کی حکومت نہیں بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی ایک چھاؤنی ہے اور اس مختصر رقبہ کے یہودی باشندے امریکہ اور برطانیہ کے سہارے سے زندہ ہیں۔ اور امریکی حکومت کے غلام ہیں۔ اور عجب نہیں کہ فلسطین میں یہودیوں کا یہ اجتماع خروج دجال اور نزول عیسیٰ بن مریم کا پیش خیمہ ہو۔ کیونکہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ دجال قوم یہود سے ہوگا اور جب وہ ظاہر ہوگا تو یہودی اس کے مددگار ہونگے۔ اس وقت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) آسمان سے نازل ہونگے اور دجال کو قتل کریں گے اور تمام یہود۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مسلمان رفقاء کے ہاتھوں تہہ تیغ کیے جائیں گے جیسا کہ یہ مضمون احادیث متواترہ سے ثابت ہے جس میں نہ کسی شک اور شبہ کی گنجائش ہے اور نہ کسی تاویل کی گنجائش ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی کریم وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے کہ تیرے پروردگار نے انبیاء بنی اسرائیل کی معرفت اس بات سے آگاہ کردیا کہ ان یہودیوں پر ان کی نافرمانیوں اور سرکشیوں کی سزا میں قیامت تک ایسے لوگوں کو مسلط رکھے گا جو ان کو بری طرح کا عذاب پہنچاتے رہیں یعنی ان کی شرارت اور خباثت کی وجہ سے ہم نے یہ لکھدیا ہے کہ وہ ہمیشہ ذلیل اور دوسروں کے محکوم رہیں گے بعث سے یہاں تسلط کے معنی مراد ہیں کما قال اللہ تعالیٰ بعثنا علیکم عبادا لنا اولی باس شدید فجاسو خلل الدیار چناچہ ابتداء سے لے کر اب تک یہودی کسی نہ کسی سلطنت کے محکوم اور مقہور ہی چلے آتے ہیں بیشک تیرا پروردگار جب چاہے جلد سزا دینے والا ہے کہ جب گستاخی اور سرکشی میں حد سے گزر گئے تو دم کے دم میں بندر اور لنگور بنادیا اور بیشک وہ توبہ کرنے والوں کے لیے بخشنے والا مہربان ہے کہ مگفرت کے بعد مہربانی بھی فرماتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کفار پر دنیا میں عذاب نازل کرتا ہے اور اہل ایمان کو اپنی مغفرت اور رحمت سے نوازتا ہے اور ہم نے بنی اسرائیل کو دنیا میں متفرق اور پراگندہ کردیا فرقے فرقے تاکہ ان کی شوکت باقی نہ رہے دنیا میں متفرق ہوگئے ہوگئے کوئی کسی طرف نکل گیا اور کوئی کسی طرف کوئی اجتماعی قوت اور شوکت نہ رہی اور مختلف جماعتیں اور مختلف مذاہب بن گئے بعضے ان میں سے شائستہ اور نیکو کار تھے جنہوں نے دین میں کوئی تحریف وتبدیلی نہیں کی تھی۔ یہ لوگ زیادہ تر حضرت عیسیٰ کے زمانے سے پہلے تھے اور بعض ان میں سے اس کے برعکس اور برخلاف تھے جنہوں نے دین موسوی کو بدل دیا تھا اور تنبیہ کے لیے ہم نے ان کو راحتوں اور تکلیفوں سے آزمایا تاکہ وہ ہماری طرف رجوع کریں راحت اور مصیبت دونوں میں انسان کی آزمائش ہے نعمت اور راحت کی حالت میں اللہ کا شکر کرنا چاہئے اور مصیبت کے وقت میں اللہ سے ڈرنا چاہئے یہ حالت تو ان کے سلف کا ہوا پھر ان کے بعد بڑے جانشین آئے جو توریت کے وارث ہوئے یعنی توریت کے عالم کہلائے لیکن حالت ہوئی کہ علم دین کو فروخت کرنے لگے کہ اس خسیس اور حقیر دنیا کا مال ومتاع حاصل کرتے ہیں یعنی لوگوں سے رشوت لے کر ان کی خاطر احکام الٰہی میں تبدیلی کرتے ہیں اس سے آنحضرت ﷺ کے زمانے کے احبار یہود مراد ہیں اور اس درجہ بےباک ہوگئے ہیں کہ جرم کرتے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ہماری مغفرت ہوجائے گی اور ہمارے گناہ معاف ہوجائیں گے ان کا گمان یہ تھا کہ ہم ابناء اللہ اور احباء اللہ ہیں اور اس کے مقبول بندے ہیں ہمارے دن کے گناہ رات کو اور رات کے گناہ دن کو معاف ہوجاتے ہیں۔ غرض یہ کہ رشوت لینے کو گناہ جانتے تھے اور حال یہ تھا کہ اگر ان کے پاس پھر اسی قسم کا حرام مال آجائے تو اس کو بھی بےدھڑک لے لیں گے مطلب یہ کہ گناہ پر دلیر ہیں اور کبھی اس کے چھوڑنے کا خیال بھی نہیں آتا اور بایں ہمہ خدا سے یہ باطل امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ہم جو گناہ کریں گے وہ معاف ہوجائیں گے۔ کیا ان رشوت لینے والوں سے کتاب (توریت) میں یہ عہد نہیں لیا گیا کہ اللہ کی طرف سوائے حق کے کوئی بات منسوب نہ کریں اور یہ لوگ دن رات اللہ کے کلام میں تحریف کرتے ہیں اور اس کلام کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ وہ اللہ کا کلام نہیں نیز یہ لوگ اللہ پر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ وہ ان بدکاروں کو بخش دیگا اور حالانکہ ان لوگوں نے اس مضمون کو پڑھا بھی ہے جو اس کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو اس امر کا بخوبی علم ہے کہ اللہ کے کلام میں تحریف کفر ہے اور معصیت خداونی کو ضعیف اور حقیر سمجھنا اور بےدھڑک اس کو کیے چلے جانا یہی کفر ہے اور یہ کہنا کہ اللہ ہمارے ان جرائم کو بخش دیگا۔ یہ اللہ پر بہتان باندھنا ہے یہ سب باتیں ان کو معلوم ہیں اور خوب مستحضر ہیں۔ جاہل اور بیخبر نہیں اس لیے کہ اللہ کی کتاب یعنی توریت کو پڑھتے اور پڑھاتے رہتے ہیں مگر باوجود اس علم کے دیدہ و دانستہ جرائم پر دلیر اور بےباک بنے ہوئے ہیں صرف دنیا ہی دنیا ان کے پیش نظر ہے اور یہ نہیں سمجھتے کہ دار آخرت کا ثواب ان لوگوں کے لیے جو حرام سے بچتے ہیں دنیائے فانی کے مال ومتاع سے کہیں بہتر ہے اے یہود بےبہبود کیا تم اس بات کو نہیں سمجھتے کہ دار بقاء کا ثواب اس دار فانی کے مال ومتاع سے بدرجہا بہتر ہے جسے تم خدا کی نافرمانی کر کے حاصل کرتے ہو بڑے ہی نادان ہیں کہ انجام پر نظر نہیں۔ اور ارتکاب معاصی پر مغفرت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
وانگ ہے پنداردآں تاریک رائے
خواہد آمرزیدنش آخر خدائے
اور ان میں سے جو لوگ کتاب توریت کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے ہوئے ہیں یعنی اس میں تحریف نہیں کرتے اور اس کی ہدایت کے مطابق نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام وغیرہ تو ہم ایسے نیکو کاروں کا ثواب ضائع نہ کریں گے بلکہ ان کو ہم مزید انعام دیں گے۔ گزشتہ آیات میں جس عہد اور میثاق کا ذکر کیا تھا اب آئندہ آیت میں اس کی کیفیت بیان کرتے ہیں کہ وہ کس شدومد سے لیا گیا تھا کہ ان کے سروں پر پہاڑ مثل سائبان کے اٹھالیا گیا اور یہ سمجھے کہ اب پہاڑ ہم پر گرا اس وقتان سے عہد لیا گیا مگر انہوں نے اس عہد کو بھی توڑ ڈالا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور وہ وقت قابل ذکر ہے کہ جب ان لوگوں نے توریت کے عہد اور میثاق کو پس پشت ڈال دیا تو اس وقت ہم نے پہاڑ کو اکھاڑ کر ان کے سروں پر ایسا معلق کردیا کہ گویا وہ ایک سائبان تھا اور انہوں نے گمان کیا کہ اگر انہوں نے توریت کے حکم کو نہ مانا تو وہ پہاڑ ان کے سروں پر گر پڑے گا اس وقت ہم نے ان سے کہا کہ جو کتاب یعنی توریت ہم نے تم کو دی ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ اور گستاخوں اور بیباکوں کی فہرست سے تمہارا نام کٹ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش لوگ ہیں جب تک خدا کا قہر نازل نہیں ہوتا اس وقت تک سیدھے نہیں ہوتے اور یہ نتق جبل کا واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد مبارک کا ہے جس کی تفصیل سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔
نکتہ :
جاننا چاہئے کہ پہاڑ کو کسی کے سر پر معلق کھڑا کردینا عقلاً محال نہیں جو خدا آسمان جیسے عظیم پہاڑ خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو مگر آسمان سے تو بڑا نہیں نیز موسم برسات میں بسا اوقات ایسا کہر اور غلیظ بادل سر پر معلق ہوتا ہے جو میلوں تک دکھائی دیتا ہے اور انتا کثیر پانی بادلوں میں بھرا ہوتا ہے جس کا اندازہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہے اور ایک ہفتہ تک لوگوں پر برستا رہتا ہے۔ بسا اوقات بلدیہ کی ٹنکی ٹوٹ کر گر جاتی ہے مگر کیا مجال کہ کوئی بادل اوپر سے نیچے گر پڑے حالانکہ ایک بادل میں جو پانی بھرا ہوا ہے وہ ہزار ہا ہزار ٹنکیوں سے کہیں زیادہ ہے مگر دست قدرت اس کو تھامے ہوئے ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ جو بادل ہزار ہا بلکہ لکھو کھا ٹن پانی سے بھرا ہوا ہے اور تین تین چار چار میل تک پھیلا ہوا ہے وہ خلاء میں لوگوں کے سروں پر معلق ہے کیا اتنا طویل عریض بادل پہاڑ سے کم ہے۔
Ayahs 7:172–174عہد الست
قال اللہ تعالیٰ
واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظہورھم ذریتھم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلھم یرجعون
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے اس عہد کا ذکر فرمایا تھا جو خاص بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا اور جس کی خلاف ورزی سے وہ عذاب الٰہی کے مستحق ہوئے کما قال تعالیٰ الم یوخذ علیھم میثاق الکتب ان لا یقولو علی اللہ الا الحق۔ واذ نتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ۔ واذ اخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور۔
اب ان آیات میں اس عہد کا ذکر فرماتے ہیں جو عالم ارواح میں تمام بنی آدم سے لیا گیا تھا کہ حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی تمام اولاد کو جو تاقیام قیامت پیدا ہونے والی ہے نکالا اور انہیں عقل اور تکلم کی قوت عنایت فرمائی اور ان سے پوچھا الست بربکم کیا میں تمہارا پروردگار نہیں۔ قالو بلی۔ سب نے کہا کیوں نہیں بیشک آپ ہمارے پروردگار ہیں جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ توحید امر فطری ہے ہر فرد بشر کی فطرت اور جبلت میں داخل ہے اللہ تعالیٰ نے ذریت کو پشت آدم سے نکالا اور ان سے اپنی خالقیت اور ربوبیت کا قول وقرار لیا اور خود ان کی جانوں کو اس قول وقرار پر گواہ غھہرایا کہ ان کا رب وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں چونکہ یہ عہد عالم ارواح میں لیا گیا تھا۔ دار دنیا میں آنے کے بعد اور عرصہ دراز گزر جانے کی وجہ سے اکثر کو اس عہد سے ذہول ہوگیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اس عہد قدیم کی تذکیر اور یاد دہانی کے لیے مبعوث فرمایا تاکہ قیامت کے دن۔ ذہول اور غفلت کا عذر نہ کرسکیں۔ کما قال تعالیٰ ان تقولوا یوم القیمۃ انا کنا عن ھذا غفلین۔ یعنی اگر بالفرض والتقدیر قیامت کے دن کافر یہ عذر کریں کہ یہ عہد ہم کو یاد نہیں رہا۔ تو جواب ملیگا کہ اے غافلو ! اگر تم اس عہد کو بھول گئے تھے تو کیا ہم نے اس عہد کی یاد دہانی کے لیے پیغمبروں کو نہیں بھیجا اور علاوہ ازیں کائنات کا ہر ہر ذرا ہماری الوہیت اور وحدانیت کی گواہی دے رہا تھا اور تم کو یہ بھولا ہوا سبق یاد دلا رہا تھا پھر بھی تم نے کوئی توجہ نہ کی نہ انبیاء کرام کی سنی اور نہ دلائل اور براہین کی طرف التفات کیا۔ غرض یہ کہ یہ آیت غافلوں کو عہد الست کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے کے لیے نازل ہوئی۔ باقی جو بڑے ہوشمند اور بیدار دل تھے وہ دنیا میں آنے کے بعد اس عہد سے غافل نہیں ہوئے۔
الست از ازل ہمچنائش بگوش
بفریاد قالوا بلی در خردش
عالم دنیا میں انسان پر سینکڑوں حالات اور واقعات گزرتے ہیں اور انسان اکو بھول جاتا ہے انسان بسا اوقات کوئی دستاویز لکھتا ہے اور عدالت میں اس کی رجسٹری بھی کرا لیتا ہے مگر بعض اوقات مرور زمانہ کی وجہ بالکل بھول جاتا ہے اور بعد میں جب عدالت میں مقدمہ پیش ہوتا ہے اور گواہ گواہی دیتے ہیں تو اس وقت یہ عذر مسموع نہیں ہوتا کہ میں بھول گیا تھا اور مجھ کو یہ بات یاد نہ رہی تھی۔ انسان کو اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا بھی یاد نہیں لوگوں کے کہنے ماں کو ماں سمجھتا ہے اگر کوئی شخص ماں کا حق ادا نہ کرے اور عذر یہ کرے کہ مجھے اپنا پیدا ہونا یاد نہیں تو میں اس کو کیسے ماں جانوں تو سب اس کو احمق کہیں گے۔
اسی طرح عہد الست کو سمجھو کہ انسان سے عالم ارواح میں جو عہد لیا گیا تھا وہ اس قفس عنصری میں آنے کے بعد اسے بھول گیا اور جب اس قفس عنصری سے رہا ہوگا اور یہ حجابات جسمانی مرتفع ہوجائیں گے تو وہ بھولا ہوا سبق اس کو یاد آجائے گا اور یاد داشت اور سہو ونسیان اور بھول چوک سب اللہ کے ارادے اور مشیت سے ہے اور اس کی حکمت سے ہے وہ اپنی حکمت سے ہزاروں چیزیں ہمارے حافظہ سے نکال دیتا ہے اسی طرح اگر وہی خدا اپنی کسی حکمت سے عہد الست کو بھلا دے اور پھر اس پر باز پرس کرے تو اسے حق ہے عہد الست کا یہ مضمون احادیث صحیحہ اور متواترہ سے ثابت ہے اور یہی جمہور اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔ معتزلہ جو عقل کو نقل پر ترجیح دیتے ہیں وہ اس واقعہ کو بعید از عقل سمجھتے ہیں اور آیت میں ہایت رکیک تاویلیں کرتے ہیں جو مع جوابات کے تفسیر کبیر میں مذکور ہیں اہل علم تفسیر کبیر کی مراجعت کریں۔
عہد الست کے بارے میں معتزلہ کا مذہب
معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ انسان سے عالم ارواح میں کوئی عہد نہیں لیا گیا اور اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں توحید اور ربوبیت کا اقرار ودیعت رکھا ہے اور اپنی ربوبیت اور وحدانیت پر بیشمار دلائل قائم کردئیے ہیں تو گویا کہ یہ سب دلائل خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی ربوبیت کے لیے بمنزلہ عہد کے ہیں۔ خدا تعالیٰ کا ان دلائل کو تمہارے انفس اور آفاق میں پیدا کرنا گویا کہ تم سے اس کا عہد لینا اور تم کو اس پر گواہ بنانا ہے۔
اہلسنت والجماعت کا مذہب
اہلسنت والجماعت یہ کہتے ہیں کہ معتزلہ کی یہ تاویل اسحادیث صحیحہ اور صریحہ کے صریح خلاف ہے اور اجماع صحابہ وتابعین کے خلاف ہے اس لیے کہ صحابہ وتابعین سے بالاتفاق عالم ارواح میں عہد لینا ثابت ہے لہذا معتزلہ کی یہ تاویل کسی طرح بھی قابل التفات نہیں۔
نیز میثاق حالی، میثاق قالی اور ازلی کے منافی نہیں۔ میثاق حالی اور عقلی دلائل عقلیہ اور فطریہ سے معلوم ہوسکتا ہے مگر میثاق قالی اور ازلی طور عقل سے بالا اور برتر ہے جہاں عقل کی رسائی نہیں اس قسم کی چیز انبیاء کرام ہی کی تعلیم اور بیان سے معلوم ہوسکتی ہے اس لیے احادیث میں اسی میثاق قالی اور ازلی کو بیان کیا گیا جو عقل سے معلوم نہیں ہوسکتا تھا۔ معتزلہ میثاق حالی اور عقلی تو قائل ہیں لیکن کتاب وسنت نے جس میثاق کی خبر دی ہے وہ میثاق قالی ہے اور دلائل ربوبیت کا میثاق۔ میثاق حالی اور عقلی ہے جو اس میثاق قالی اور ازلی کا مؤید اور مذکر ہے۔ اور کتاب وسنت نے اس میثا قدیم کی خبر دی ہے کہ جہاں عقل کی رسائی نہیں اور معتزلہ کے نزدیک اگر میثاق قالی اور ازلی کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ وہ یاد نہیں رہا تو بہت سے لوگوں کو میثاق عقلی اور حالی بھی یاد نہیں۔ میثاق حالی کے دلائل عقلیہ یعنی دلائل آفاقیہ اور دلائل انفسیہ ان کی نظروں کے سامنے ہیں مگر وہ ان کو نظر نہیں آتے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ لوگوں کو وہ واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے پروردگار نے آدم کی پشت سے ان کی ذریت کو نکالا اور پھر اولاد آدم کی پشتوں سے ان کو توالد اور تناسل کی ترتیب کے مطابق نکالا یعنی جس ترتیب سے دنیا میں نسلا ً بعد نسل پیدا ہونگے اسی ترتیب سے ان کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو نکالا اور ان کو عقل و شعور عطا کیا اور جس قدر ملائکہ اور مخلوقات اس وقت موجود تھے سب کے سامنے یہ عہد لیا تاکہ سب گواہ رہیں اور حجت قائم کرنے کے لیے خود انہی کو ان کی ذات پر گواہ بنایا اور ان سے پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں انہوں نے کہا کیوں نہیں بیشک تو ہمارا رب ہے اور ہم فقط مقر اور معترف نہیں بلکہ ہم اپنے اس اقرار کے خود ہی گواہ بھی ہیں اور وحدانیت سے بیخبر تھے یا یہ کہنے لگو کہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے آباء و اجداد نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل تھے جیسا ہم نے ان کو کرتے دیکھا ویسا ہی ہم نے کیا ہمیں کیا معلوم تھا کہ تو رب العالمین اور وحدہ لاشریک لہ ہے پس کیا تو ہم کو دوزخ میں ڈال کر اس جرم کی پاداش میں ہلاک کرتا ہے جو ہم سے اگلے ناحق پرستوں نے کیا سو اس عہد اور اقرار اور ذاتی شہادت کے بعد تمہارا یہ عذر ختم ہوا۔ اب قیامت کے دن تم یہ عذر نہیں کرسکتے کہ ہم سے غفلت ہوئی اس لیے کہ جب خدا تعالیٰ نے پیغمبروں کی زبانی اس عہد کو یاد دلادیا تو پھر عذر کی گنجائش باقی نہیں رہی کیونکہ جب دلائل قطعیہ سے یاد دہانی کرادی گئی تو بمنزلہ تذکر ہی کے ہے انبیاء کرام کی یاد دہانی کے بعد نہ انکار کی مجال ہے اور نہ شک وشبہ کی گنجائش ہے اور جس طرح ہم نے عہد الست کو بیان کیا اسی طرح ہم کھول کھول کر اپنی ربوبیت اور الوہیت کی نشانیاں بیان کرتے ہیں تاکہ ان میں غوروفکر کریں اور تاکہ معلوم ہوجانے کے بعد ہماری ربوبیت اور الوہیت کے اقرار کی طرف رجوع کریں اور کفر وشرک سے باز آجائیں اور فطرت سابقہ کی طرف لوٹ جائیں۔
لطائف و معارف
1 ۔ یہ آیت عام اصطلاح میں آیت میثاق کہلاتی ہے اور جس عہد کا اس میں ذکر ہے اس کو عہد الست کہتے ہیں
2 ۔ جمہور مفسرین اور محدثین اس آیت کی تفسیر یوں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ازل میں حضرت آدم کی تمام اولاد کو جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی ان کی پشت سے نکالا اور ان سے پوچھا کہ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں۔ سب نے اقرار کیا اور بلی کہا کہ بیشک تو ہمارا پروردگار ہے پھر ان کو آدم کی پشت میں واپس کردیا اور یہی مضمون بیشمار احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور یہی اہلسنت والجماعت کا مذہب ہے اور مقصود یہ ہے کہ اللہ کی محبت اور اس کی معرفت انسان کی فطرت میں داخل ہے۔
معتزلہ اور مدعیان عقل اس آیت کی تفسیر دوسری طرح کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے آدم کی پشت سے اس کی ذریت کو نکالا بلکہ یہ فرمایا ہے کہ ہم نے بنی آدم کی پشت سے ان کی ذریات کو نکالا۔ پس آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم نے بنی آدم کی پشتوں سے توالد اور تناسل کے طریقہ ان کی اولاد کو نکالا اس طرح پر کہ ان کے نطفے عورتوں کے رحم میں واقع ہوئے پھر وہ خون بنے پھر گوشت کا لوتھڑا پھر اور کئی تغیرات کے بعد وہ انسانی صورت میں رحم مادر سے باہر آئے پھر جب وہ سن تمیز کو پہنچے تو خدا تعالیٰ نے ان میں عقل پیدا کی جس سے وہ نیک وبد میں تمیز کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ کے دلائل ربوبیت اور وحدانیت کو پہچاننے لگے اور ان کے دل نے اس بات کی شہادت دی کہ بیشک کوئی ان کا خالق اور پوردگار ہے گویا خدا تعالیٰ نے بواسطہ ان دلائل قدرت کے جو ان کی نظروں کے سامنے تھے ان سے یہ سوال کیا کہ میں تمہارا پروردگار نہیں۔ سب نے بزبان حال اس کا جواب دیا کہ بلی بیشک تو ہمارا پروردگار ہے اور ہم اپنے اس اقرار پر گواہ ہیں پس ان لوگوں کے نزدیک اس آیت کا تمام مضمون بطور تمثیل ہے نہ بطور حقیقت اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت ایسی بنائی ہے کہ اگر وہ اپنی خلقت کے عجائب اور اپنی صنعت کے غرائب پر نظر کرے جو خود اس کے اندر موجود ہیں تو اس کو معلوم ہوجائیگا کہ یہ سب چیزیں خدا تعالیٰ کی ربوبیت اور وحدانیت پر گواہ ہیں۔
اہل سنت والجماعت یہ کہتے ہیں کہ معتزلہ کی یہ تمام تاویلات نہایت رکیک اور بےمعنی ہیں۔ جن کی احادیث صحیحہ اور صریحہ اور اجماع صحابہ وتابعین کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔
3 ۔ اس آیت میں بنی آدم کے پشتوں سے ان کی اولاد اور ذریت کا نکالنا ذکر کیا ہے اور آدم (علیہ السلام) کا ذکر نہیں کیا اس لیے کہ سب کو معلوم ہے کہ آدم (علیہ السلام) سب کے باپ ہیں اور سب انہی کی پشت سے نکلے ہیں اور مسند احمد اور نسائی اور مستدرک حاکم میں باسناد صحیح عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی پشت سے ان کی ذریت کو نکالا اور سامنے بکھیر دیا جیسے چیونٹیاں اور پھر ان سے بالمشافہ کلام کیا الست بربکم، سب نے جواب میں بلی کہا۔ الی آخر الایۃ (دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 261 ج 2) اور یہی مضمون حضرت عمر اور حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی احادیث میں آیا ہے (دیکھو تفسیر قرطبی ص 315 ج 7)
اور ابو ہر ہرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو قیامت تک پیدا ہونے والی ذریت ان کی پشت سے نکل پڑی اور ہر شخص کی دو آنکھوں کے درمیان نوری کی ایک چمک رکھی پھر سب کو آدم (علیہ السلام) پر پیش کیا گیا آدم نے عرض کیا کہ اے رب یہ کون ہیں۔ فرمایا یہ تیری ذریت ہے پھر آدم (علیہ السلام) پر پیش کیا گیا آدم نے عرض کیا کہ اے رب یہ کون ہیں فرمایا یہ تیری ذریت ہے پھر آدم (علیہ السلام) کی ایک انسان پر نظر پڑی جس کی آنکھوں کے درمیان کا نور بہت چمک رہا تھا پوچھا کہ اے پروردگار یہ کون ہے فرمایا کہ یہ ایک آدمی ہے جو تیری ذریت کے پچھلی امتوں میں ہوگا اس کا نام داود ہے عرض کیا کہ اے پروردگار اس کی عمر کتنی مقرر کی ہے فرمایا ساٹھ سال عرض کیا اے پروردگا میری عمر میں سے اس کو چالیس سال دے دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کی۔ الی آخر الحدیث رواہ الترمذی وقال ہذا حدیث حسن صحیح۔
نکتہ
حضرت آدم نے حضرت داود کی پیشانی میں جو نور دیکھا شاید وہ نور خلافت الہیہ کا ہوگا جو حضرت آدم کے نور خلافت سے ملتا جلتا ہوگا۔ واللہ اعلم۔
بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے ان ارواح کو اصلاب آباء میں لوٹا دیا جیسا کہ ابن عباس سے مروی ہے ثم ردھم فی اصلاب آبائھم حتی اخرجھم قرنا بعد قرن اخرجہ ابو الشیخ
4 ۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کے دائیں جانب سے جو ذریت نکالی گئی وہ سفید اور نورانی تھی اور بائیں جانب سے جو ذریت نکالی گئی وہ سیاہ اور ظلماتی تھی اور آیت یوم تبیض وجوہ وسود وجوہ میں اسی طرف اشارہ ہے دائیں جانب سے جو نکالے گئے وہ اصحاب الیمین ہیں اور بائیں جانب سے جو نکالے گئے وہ اصحاب الشمال ہیں۔ ابو طاہر قزوینی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اصحاب الیمین ہیں اور بائیں جانب سے جو نکالے گئے وہ اصحاب الشمال ہیں۔ ابو طاہر قزوینی (رح) فرماتے ہیں کہ اصحاب یمین پر تجلی ہیبت وقہر تھی اس لیے انہوں نے جبراً وقہراً بلی کہا اس لیے دنیا میں آکر دوسری راہ پر پڑگئے۔
5 ۔ جمہور مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ یہ عہد حضرت آدم کے پیدا ہونے کے بعد اور جنت میں داخل ہونے سے پہلے لیا گیا اور بعج کہتے ہیں کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد ہبوط من السماء سے پہلے لیا گیا اور بعض کہتے ہیں کہ ہبوط یعنی آسمان سے اترنے کے بعد زمین پر لیا گیا۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ ان روایات میں تطبیق وتوفیق مشکل ہے حضرات صوفیائے کرام یہ فرماتے ہیں کہ مختلف مواضع میں مختلف قسم کے عہد اور میثاق لیے گئے واللہ اعلم (دیکھو روح المعانی ص 93 ج 9)
6 ۔ جمہور مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ یہ عدہ حضرت آدم کے پیدا ہونے کے بعد اور جنت میں داخل ہونے سے پہلے لیا گیا اور بعض کہتے ہیں کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد ہبوط من السماء سے پہلے لیا گیا اور بعض کہتے ہیں کہ ہبوط یعنی آسمان سے اترنے کے بعد زمین پر لیا گیا۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ ان روایات میں تطبیق وتوفیق مشکل ہے حضرات صوفیائے کرام (رح) تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ مختلف مواضع میں مختلف قسم کے عہد اور میثاق لیے گئے واللہ اعلم۔ (دیکھو روح المعانی ص 93 ج 9)
6 ۔ اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ وہ عہد تو یاد نہیں رہا تو پھر کیا حاصل تو اس کو یوں سمجھئے کہ وہ عہد اگرچہ یاد نہیں رہا مگر اس کا نشان تو ہر ایک دل میں موجود ہے انسان کے دل میں قدرتی طور پر حق تعالیٰ کی طرف ایک میلان پایا جاتا ہے جب کبھی کوئی پریشانی پیش آتی ہے تو دل خدا کی طرف دوڑتا ہے اور اس سے اس مصیبت کے دفعیہ کا طلبگار اور امیدوار ہوتا ہے پس انسان کا دل خود اندر سے گواہی دیتا ہے کہ کوئی میرا پروردگار ضرور ہے بہرحال یہ میلان تمام طبیعتوں میں پایا جاتا ہے کسی میں کم اور کسی میں زیادہ خواہ وہ اس میلان کے منشاء کو سمجھے یا نہ سمجھے اور اس کے مقتضاء پر عمل کرنے کو آمادہ ہو یا نہ ہو اب رہا یہ امر کہ اس طبعی اور فطری میلان کا منشاء کیا ہے سو معلوم یوں ہوتا ہے کہ اس پیدائش سے پہلے انسان کو جناب باری تعالیٰ کی کسی قسم کی تجلی ضرور میسر آئی ہے جس کے سبب اس کے دل میں خدا کی محبت اس قدر جم گئی ہے کہ صدہا تکالیف اٹھاتا ہے اور پھر بھی خدا ہی کی طرف جھکتا ہے ورنہ کسی چیز کی محبت بےدیکھے اور بےبرتے پیدا نہیں ہوسکتی بس یہ بطعی میلان روز الست یا یوم میثاق کا ایک نشان ہے کہ اس وقت اپنے پروردگار کو دیکھا ہے اور اسی ایک جلوہ نے سب کو پروردگار کا عاشق بنادیا ہے تمام افراد بشر کا اقرار ربوبیت پر متفق ہونا اور یقین کے ساتھ اقرار کرنا کہ کوئی ہمارا پروردگار ہے سو یہ طبعی میلان اور فطری اذعان اسی پرانے عہد میثاق کا دھندلا سا نشان ہے کہ جو ایک لمحہ دو لمحہ یا ایک گھڑی دو گھڑی کے لیے پیش آیا سو ظاہر ہے کہ ایک گھڑی یا دو گھڑی کے قصہ کو مرور زمانہ اور انتقال مکانی سے بھول جانا کوئی مستبعد نہیں تھوڑی دیر کے لیے عہد الست کے وقت سب نے اپنے خدائے پروردگار کے جمال بےمثال کو دیکھا ہے اس لیے خدا کی محبت فطری طور پر دلوں میں ایسی راسخ اور پختہ ہوگئی کہ کسی طرح نکالنے نہیں نکلتی اور اگر کسی شخص میں یہ دیکھو کہ اس میں خدا کا میلان بالکل نہیں تو سمجھ لو کہ اس کی انسانی فطرت بالکل مسخ ہوچکی ہے اور خارجی اثرات کیوجہ سے انسانی خصلتیں سلب اور نابود ہوجاتی ہیں جیسے بعض اوقات خارجی اثرات سے خدا کا میلان طبیعت سے بالکل نکل جاتا ہے جو اس بات کی نشانی ہے کہ اس منکر خدا کی فطرت انسانی مسخ ہوچکی ہے اکثر عالم بلکہ تمام عالم کا اس میلان پر متفق ہوجانا اس امر کی نشانی ہے کہ کبھی نہ کبھی یہ بات کان میں پڑی ہے جو ہر ایک کی زبان پر آتی ہے مگر یہ امر کہ یہ بات کس موقعہ اور محل پر کان میں پڑی ہے وہ یاد نہیں رہا مکان اور زمان اگرچہ یاد نہیں رہا مگر اس کا نشان تو موجود ہے مرور زمانہ کی وجہ سے یہ عہد یاد نہیں رہا جس وقت عہد لیا گیا تھا اس وقت ذریت چھوٹے چھوٹے ذرات کی مقدار میں تھی اس وقت سے لے کر توالد اور تناسل تک ایک طویل عرصہ گزرا اور ذرات مختلف اطوار اور ادوار سے گزرتے رہے یہاں تک کہ اس عالم فانی میں داخل ہوئے تو مدت مدیدہ کا یہ عہد بھول گئے (دیکھو الیواقیت والجواہر ص 115 ج 1)
اور حق جل شانہ کا یہ ارشاد وذکر فان الذکری تنفع ال مومنین۔ فذکر انما انت مذکر اسی طرف مشیر معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ اس قسم کی آیتوں میں تذکیر کا حکم دیا گیا ہے اور تذکیر کے اصل معنی لغت میں بھولی ہوئی بات کو یاد دلانے کے ہیں اسی طرح سمجھو کہ عہد الست کے بھولے ہوئے سبق کو انبیاء کرام نے یاد دلایا اس وجہ سے علماء کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ کافر کو جو بچہ شعور وادراک سے پہلے مرجائے وہ جنت میں جائیگا اس لیے کہ اس کے عہد اور میثاق میں کوئی تغیر نہیں آیا البتہ کافر کی جو الواد بالغ ہو کر یہودی یا نصرانی ہوجائے اور اسی پر وہ مرجائے تو وہ جہنم میں جائے گی اس لیے کہ اس نے روز اول کے میثاق کو توڑ دیا۔
7 ۔ اور عہد الست میں سب سے پہلا خطاب حق تعالیٰ کی طرف سے یہ تھا۔ الست بربکم ربوبیت کے متعلق سوال تھا اسی طرح مرنے کے بعد قبر میں پہلا سوال اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ہی کے متلعق ہوتا ہے قبر میں منکر نکیر سب سے ہلے یہی سوال کرتے ہیں من ربک تیرا رب کون ہے ازل میں بھی الست بربکم فرمایا اور قبر میں بھی رب ہی کے متعلق سوا ال ہوا۔
8 ۔ نفحات میں مذکور ہے کہ علی سہیل اصفہانی قدس سرہ سے لوگوں نے پوچھا کہ آپ کو روز بلی یاد ہے تو فرمایا کیوں نہیں مجھے روز بلی ایسا یاد ہے جیسے کل گزشتہ۔ کسی نے یہ کلام شیخ الاسلام خواجہ عبداللہ انصاری سے ذکر کیا تو فرمایا کہ اس جواب میں نقصان ہے جو کل گزر گئی یا جو کل آئے گی اس سے صوفی اور درویش کو کیا مطلب اس روز کی تو ابھی شام بھی نہیں ہوئی اور صوفی اور درویش تو ابھی اسی دن میں ہے۔
روز امروز است اے صوفی وشان : کے بود ازدی واز فردا نشان
آنکہ از حق نیست غافل یکنفس : ماضی ومستقبلش حال است وبس
9 ۔ شیخ عبدالوہاب شعرانی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو آدم (علیہ السلام) کی پشت کی بالوں کی مسامات کی راہ سے نکالا پھر ان سے کہا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں انہوں نے گویائی کے ذریعے سے جواب دہا اور بلی کہا اور وہ اسی حالت میں زندہ اور صاحب عقل تھے اور عقلاً یہ امر محال نہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں باوجود اس قدر چھوٹے ہونے کے حیات اور عقل دید سے آخر وہ حیوانات جو بذریعہ خورد بین نظر آتے ہیں کسی قدر ادراک اور شعور ان کو بھی حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے رزق حاصل کرنے کی سعی کرتے ہیں اور ان میں توالد اور تناسل بھی ہے اور وہ ایذا رساں چیزوں سے بچتے بھی ہیں اور اگر کوئی ان کی راہ میں آجاتا ہے تو اس سے کترا جاتے ہیں تو جب یہ باتیں اہل سائنس کے نزدیک بھی مسلم ہیں تو عہد الست کے واقعہ سے کیوں تعجب کرتے ہیں۔ خدا کی قدرت کے لحاظ سے اس میں کوئی استبعاد نہیں اور ظاہر یہ ہے کہ وہ ذرات انسان کی صورت پر ہونگے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ذریت کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ ذرات کا لفظ نہیں فرمایا اور لغت میں ذریت کا اطلاق اسی چیز پر آتا ہے جس کی صورت بن چکی ہو باہمی امتیاز کا ذریعہ یہی صورت اور شکل ہے۔
17 ۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ بدن انسانی میں دو قسم کے اجزاء ہوتے ہیں کیونکہ یہ امر مشاہدہ اور ہدایت سے ثابت ہے کہ ابتداء ولادت سے لے کر اخیر عمر تک بدن کے اجزاء میں کمی اور زیادتی ہوتی رہتی ہے ابتداء ولادت کے وقت بدن دو بالشت تھا اور اخیر عمر میں سات آٹھ بالشت کا ہوگیا۔ بدن کبھی فربہ ہوتا ہے اور کبھی لاغر مگر ہر حال میں یہ شخص وہی کہلاتا ہے کہ جو ابتداء ولادت کے وقت تھا پس جو اجزاء اول عمر سے اخیر عمر تک باقی رہتے ہیں وہ اجزاء اصلیہ ہیں اور جن اجزاء بدن میں کمی اور زیادتی ہوتی رہتی ہے وہ اجزاء زائدہ ہیں پس اس آیت اور جن احادیث میں بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کا نکالنا آیا ہے سو وہ اجزاء اصلیہ کا نکالنا مراد ہے اور اصلی اور حقیقی انسان یہی اجزاء اصلیہ ہیں اور روح کا تعلق انہی اجزاء اصلیہ کے ساتھ ہوتا ہے پس حقیقی انسان جو احکام شرعیہ کا مخاطب اور مکلف ہے وہ یہی ذرات ہیں جن کے ساتھ روح متعلق ہے اور قیامت کے دن درحقیقت انہی اجزاء اصلیہ کو دوبارہ زندہ کیا جائیگا اور انہی اجزاء اصلیہ کے ساتھ روح متعلق کر کے حساب و کتاب و عذاب وثواب دیا جائیگا جس طرح دنیاوی زندگی میں روح کا اصل انہی اجزاء اصلیہ کے ساتھ تھا اسی طرح بعث بعد الموت کے وقت بھی زائد اجزاء ان کے ساتھ ملادئیے جائیں گے (امام رازی کا کلام ختم ہوا)
11 ۔ حکمت جدیدہ نے کلاں بینوں اور مائیکرومیٹرے سے (جو باریک اجسام کی مقدار معلوم کرنے کا آلہ ہے) یہ دریافت کیا ہے کہ پانی کے ایک چھوٹ قطرہ میں اتنے حیوانات ہوتے ہیں کہ تمام روئے زمین پر اتنے ادمی نہیں ہوتے اور ان میں توالد اور تناسل بھی جاری ہے اور باوجود اس کثرت کے نہ ان میں اژدحام معلوم ہوتا ہے اور نہ کوئی کسی سے ٹکراتا ہے حالانکہ ان کی حرکت نہایت سریع ہے اور یہ وہ حیوانات ہیں جو موجودہ کلاں بینوں سے نظر آتے ہیں اگر ان کلاں بینوں سے زیادہ قوت والی کلاں بین ہو تو معلوم نہیں کہ اور کتنے محسوس ہونگے (دیکھو ! مقاصد الاسلام حصہ سوم ص 32 ج 3 وحصہ ہفتم ص 39 ج 7 ۔ مصنفہ مولانا انوار اللہ خان صاحب حیدر آبادی)
نیز حکمت جدیدہ کی رو سے ایک تخم میں کروڑہا کروڑ متامیز اجزاء موجود ہوتے ہیں جو آئندہ درختوں کا تخم بنتے ہیں اور ایک قطرہ منی میں کروڑہا کروڑ ایسے متمائز اجزاء موجود ہوتے ہیں جو صدہا سال کی آنے والی نسلوں کا مادہ بنتے ہیں یہ دلدادگان مغربیت یہ سب کچھ بلا دلیل ماننے کے لیے تیار ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ نے جو حضرت آدم کی پشت سے ذریت نکالنے کی خبر دی ہے اس کے ماننے کے لیے تیار نہیں۔