Ayahs 7:148–154تفسیر
قصہ اتخاذ عجل وانجامِ آن
قال اللہ تعالیٰ واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ من حلیھم عجلا۔۔۔ الی۔۔۔ للذین ھم لربھم یرھبون
(ربط) گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کی ایک جہالت کا بیان تھا کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ کی جاہلانہ درخواست کی۔ اب ان آیات میں ان کی ایک اور حماقت اور سفاہت کو بیان کرتے ہیں کہ یہ نادان اپنے ایک خود ساختہ ڈھانچہ کی آواز پر ایسے مفتون ہوئے کہ اسے خدا سمجھ بیٹھے۔
(ربط دیگر) گزشتہ آیت یعنی والذین کذبوا بایتنا ولقاء الاخرۃ حبطت اعمالھم میں اس امر کا بیان تھا کہ تکذیب آیات کی وجہ سے ان کے اعمال حبط ہوگئے اب ان آیات میں حبط اعمال کے ایک اور سبب کا بیان ہے وہ یہ کہ اتخاذ عجل بھی حبط اعمال کا سبب ہے چناچہ فرماتے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے یعنی سامری اور اس کے متبعین نے موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانیکے بعد اپنے ان زیوروں سے جو انہوں نے مصر سے نکلتے وقت قبطیوں سے عید یا شادی کے بہانہ سے مستعار لیے تھے۔ بچھڑے کی ہیئت پر ایک بدن بلا روح کی بنا کر کھڑا کیا جس میں سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی یعنی جس کی حقیقت صرف اتنی تھی کہ ایک قالب بلا روح تھا جس سے بچھڑے کی مانند آواز نکلتی تھی حیوان بھی نہ تھا بلکہ حیوان کے مشابہ تھا۔ ان نادانوں نے اس کو خدا بنا لیا۔ بنی اسرائیل کی ایک عید تھی انہوں نے قبطیوں سے چاندی اور سونے کے بہت سے زیورات مستعار مانگ لیے تھے مگر جب فرعون اور اس کی قوم غرق ہوگئی تو جہاں بنی اسرائیل ان کی دیگر املاک کے وارث ہوئے تو ان کے زیوروں کے بھی وہی مالک اور وارث ہوئے بنی اسرائیل میں سامری نامی ایک شخص بڑا کریگر تھا اس نے بنی اسرائیل سے وہ زیورات لیکر بچھڑے کا بت ڈھال لیا اور حضرت جبرئیل کے گھوڑے کے قدم کی خاک اس کو مل گئی تھی وہ اس نے اس کے شکم میں ڈال دی اس لیے اس میں بیل کی آواز پیدا ہوگئی اور بنی اسرائیل سے کہا کہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود یہ ہے کہ تم اس کو پوجو چناچہ سب اس کی برستش کرنے لگے اس بچھڑے کے بدن کے بارے میں مفسرین کے دو قول ہیں ایک قول تو یہ ہے کہ وہ حقیقۃً بچھڑا بن گیا تھا اور اس کا دھڑ گوشت اور پوست والا ہوگیا تھا۔ اور اصل گائے کی طرح وہ جاندار بن گیا تھا۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا جسم تو سونے اور چاندی کا تھا لیکن اس میں روح وغیرہ کچھ نہ تھی اس کے منہ میں ہوا کی آمدوروفت سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی۔ (دیکھو تفسیر قرطبی صفحہ 284 جلد 7 و تفسیر ابن کثیر ص 247 ج 2)
اور دونوں صورتیں اللہ تعالیٰ کی قدرت میں داخل ہیں۔ وھو علی ما یشاء قدیر
اب آئندہ آیت میں ان کی جہالت اور حماقت کو بتلاتے ہیں کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ تحقیق یہ بچھڑا ان سے بات بھی نہیں کرتا اور نہ ان کراہ دکھاتا ہے کہ راہ کی جگہ پر پہنچیں کیسے بےعقل ہیں کہ ایک مصنوعی دھڑ کو خدا بنا لیا اور بڑے ہی ظالم تھے کہ اپنی عبادت کو بےمحل رکھدیا کسی چیز کو بےموقع رکھدینا یہ ظلم ہے لہذا بجائے خدا برحق کے بچھڑے پر اپنی عبادت کو رکھدیا اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا اور جب وہ ہوش میں آئے اور اپنی حماقت پر متنبہ ہوئے اور اپنی اس حرکت پر نادم اور پشیمان ہوئے گویا کہ ندامت اور پشیمانی ان کے ہاتھوں میں آکر اس طرح گری کہ جیسے کوئی چیز سامنے ہو اور سمجھ گئے کہ تحقیق وہ اس حرکت سے گمراہ ہوگئے تب انہوں نے ندامت کے مارے یہ کہا کہ اگر ہم پر ہمارے پروردگار نے رحم نہ کیا اور ہم کو نہ بخشا تو ہم ضرور گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے اور یہ قول انہوں نے اس وقت کہا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے واپس آئے اور اس جہالت اور حماقت پر ان کو ملامت کی تو عقل اور ہوش ٹھکانے آئے اور گھبرا کر کہنے لگے کہ اگر خدا نے ہم پر رحم نہ کیا تو ہم ابدی خسران اور دائمی ہلاکت میں جا پڑیں گے۔ چناچہ آئندہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی اسی تنبیہ اور توبیخ اور غصہ کا ذکر فرماتے ہیں اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے اپنی قوم کی طرف واپس آئے تو غصہ اور افسوس میں بھرے ہوئے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور ہی پر یہ خبر دے دی تھی کہ ہم نے تیرے پیچھے تیری قوم کو فتنہ میں مبتلا کردیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا کر گمراہ کردیا ہے اس لیے اس خبر کو سن کر غصہ میں بھرے ہوئے اور افسوس کرتے ہوئے لوٹے کہ میری قوم فتنہ میں مبتلا ہوگئی۔ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کیسے بےعقل ہیں ایک بیل کو خدا بنا بیٹھے معاذ اللہ معاذ اللہ خدا تو بیل نہیں ہوسکتا۔ یہی بیل بن گئے ہیں تو غصہ سے کہا کہ تم نے میرے بعد میری بری جانشینی کی کہ توحید کو چھوڑ کر گوسالہ پرستی میں پڑگئے کیا تم نے اپنے پروردگار کے حکم سے جلدی کی یعنی خدا کا حکم جو میں تمہارے پاس لانے والا تھا اس کا انتظار نہ کیا اور اس سے پہلے گو سالہ کو اپنا معبود بنا بیٹھے اور اس کے غضب کے مستحق ہوئے اور یہ کہہ کر جوش غضب میں وہ تختیاں جن میں احکام الٰہی لکھے ہوئے تھے ایک طرف ڈالیں اور یہ غصہ محض خدا کے لیے تھا۔ جب آکر قوم کو شرک میں مبتلا دیکھا تو دینی حمیت اور غیرت جوش میں آگئی اور جلدی میں زور سے وہ تختیاں ایک طرف ڈالدیں یا ایک طرف رکھدیں جس سے دیکھنے والا یہ سمجھے کہ یہ ڈال رہا ہے ورنہ فی الحقیقت وہ تختیاں پھینکی نہ تھیں بلکہ عجلت میں ایک طرف رکھ دیں۔ غرض یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم پر غصہ ہونے کے بعد تختیاں ایک طرف رکھ دیں اور اس کے بعد اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے تاکہ ان سے دوروگیر کریں کہ یہ گوسالہ پرستی کیسے ظہور میں آئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو گمان یہ ہوا کہ ہارون (علیہ السلام) سے اس بارے میں کوئی تقصیر یا تساہل ہوا اس لیے ان کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ نشۂ توحید سے سرشار تھے اس لیے ان سے یہ شرک کا منظر برداشت نہ ہوا اور گمان یہ کیا کہ ہارون (علیہ السلام) نے نہی عن المنکر میں کوتاہی کی اس لیے داروگیر میں سختی کی اور یہ سختی بطور اہانت نہ تھی بلکہ اس گمان اور خیال کی بناء پر تھی کہ ہارون (علیہ السلام) نے ان کو بچھڑے کے پوجنے سے کیوں نہیں روکا۔
ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میری ماں کے بیٹے تم یہ خیال نہ کرو کہ میں نے وعظ اور نصیحت میں کوئی کمی کی میں نے ان کو سمجھانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا مگر کچھ کار گر نہ ہوا وجہ اس کی یہ ہوئی کہ تحقیق ان لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا ان لوگوں کی نظر میں میری وہ وقعت اور ہیبت نہ تھی جو آپ کی تھی اور نہ آپ جیسا ان پر رعب تھا اور جب میں نے ان پر سختی کی تو قریب تھے کہ وہ مجھے مار ہی ڈالیں کیونکہ میں نے ان کو گوسالہ پرستی سے منع کرنے میں اس قدر مبالغہ اور اصرار کیا کہ وہ میرے قتل کے درپے ہوگئے اگر زیادہ سختی کرتا تو بالکل ہی مار ڈالتے بہرحال میں نے اپنی جانب سے کوئی کوتاہی نہیں کی ان لوگوں کو روکنے میں اپنی پوری طاقت خرچ کردی یہاں تک کہ میں مقہور اور مجبور ہوگیا پس اے میرے بھائی مجھ پر سختی کر کے دشمنوں کو ہنسنے کا موقعہ نہ دو اور مجھ کو ان ظالموں کے شاتھ شامل نہ کرو مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ہی سے میری تذلیل اور اہانت چاہتے تھے بلکہ میرے قتل کے درپے تھے لہذا آپ میرے ساتھ ایسی سختی کا معاملہ نہ کیجئے کہ جس سے ان کی آرزو پوری ہو اور مجھے ان ظالموں کے زمرہ میں شمار نہ کیجئے میں ان سے بری اور بیزار ہوں یہ سن کر موسیٰ (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ہارون (علیہ السلام) معذور اور بالکل بےقصور ہیں اور مجھے سے اپنے بھائی کو پکڑ کر کھینچنے میں اور الواح توریت کو ڈالدینے میں کوتاہی ہوئی اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں کہا اے میرے پروردگار مجھ سے جو بھول ہوگئی اور جوش ایمانی میں بھائی کے معاملہ میں یا توریت کے ادب اور احترام میں جو بےاعتدالی یا کوئی کوتاہی یا غلطی ہوگئی وہ مجھے معاف رما اور میرے بھائی کو بھی معاف فرما۔ اگر اس سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں کسی قسم کی کوتاہی اور کمی ہوئی ہے اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما کہ آئندہ کو سہو اور غفلت سے ا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں تقصیر اور کوتاہی سے محفوظ ہوجائیں اور اپنی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے ہم کو تیرا غضب اور غصہ نہ پہنچے اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ دنیا میں جو بھی رحم ہے وہ تیری ہی رحمت کا اثر ہے
قطعہ
تو بر اہل سخا انعام کردی
کہ بر بیچارگاں اکرام کردند
بہ ہر جا جوئے از رحمت روان است
ز دریا ہائے جو دت دام کردند
بھائی کو خوش کرنے کے لیے بھائی کو بھی دعائے مغفرت و رحمت میں شریک کیا تحقیق جن لوگوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنایا اور اس کی محبت ان کے دلوں میں پلا دی گئی اور وہ برابر اس کی عبادت پر قائم ہیں اور گو سالہ پرستی سے توبہ نہیں کی عنقریب ان کو پہنچے گا ان کے رب کا غضب اور دنیا میں عظیم ذلت یعنی دنیا میں ان سے بہت سے قتل کیے جائیں گے اور بہت سے جلا وطن کیے جائیں گے جہاں جائیں گے ذلیل اور خوار ہو کر رہیں گے اور کچھ انہیں کی خصوصیت نہیں۔ ہم اسی طرح افتراء پردازوں کو سزا دیا کرتے ہیں کہ ان پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے اور ذلت بھی ان پر نازل ہوتی ہے اور جن لوگوں نے برے کام کیے اور پھر بعد میں توبہ کی اگرچہ وہ کتنے ہی زمانہ بعد کی ہو اور صحیح طریقہ پر ایمان لے آئے تو اے توبہ کرنے والے ! بیشک تیرا پروردگار اس توبہ کے بعد البتہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے کہ توبہ سے گزشتہ گناہ کو معاف کرتا ہے اور آئندہ کے لیے رحمتوں کا دروازہ کھولتا ہے اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ خاموش ہوگیا تو ان تختیوں کو اٹھا لیا۔ جن کو ڈالا تھا اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے غصہ کو ایک انسان ناطق کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب گوسالہ پرستی کو دیکھا تو ان کا غصہ جوش میں آگیا اور ان کو یہ حکم دینے لگا کہ ان لوگوں پر سختی کی جائے لیکن ہارون (علیہ السلام) کی معذرت سے اور قوم کی توبہ سے غصہ خاموش ہوا تو ان تختیوں کو اٹھایا جن کو غصہ کی حالت میں ایک طرف ڈال دیا تھا معلوم ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ بالکل زائل نہ ہوا تھا بلکہ خاموش ہوگیا تھا۔
: اخذ الالواح کے لفظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو تختیاں موسیٰ (علیہ السلام) نے ڈالی تھیں ان میں سے کوئی تختی نہ تو ٹوٹی اور نہ کوئی آسمان پر اٹھائی گئی جیسا کہ بعض مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ وہ تختیاں ڈالنے کے وقت ٹوٹ گئیں تھیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو سمیٹ کر جمع کیا۔ واللہ اعلم۔ دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 249 ج 6 وروح البیان صفحہ 249 ج 3 و تفسیر قرطبی ص 288 جلد 7
Ayahs 7:155–157ذکر میقات توبہ و معذرت از عبادت عجل
قال اللہ تعالیٰ واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم المفلحون
(ربط) گزشتہ رکوع میں میقات مناجاۃ وتکلیم کا ذکر کیا اور اس کے بع گوسالہ پرستی کا قصہ ذکر کیا اب ان آیات میں میقات توبہ و معذرت کا ذکر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمیوں کو منتخب کیا کہ وہ کوہ طور پر حاضر ہوں اور عبادت عجل سے معذرت کریں جب یہ لوگ کوہ طور پر پہنچے تو ایک ابر نمودار ہوا جس نے سارے پہاڑ کو ڈھانپ لیا۔ سب سے پہلے اس ابر میں موسیٰ (علیہ السلام) داخل ہوئے اور قوم سے کہا کہ تم قریب آجاؤ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے کلام اور پیغام سے ان کو خبردار کیا تو یہ کہنے لگے کہ اے موسیٰ ہم کو تو یقین نہیں آتا کہ واقع میں خدا تم سے باتیں کررہا ہے۔ اس کہنے پر ان پر ایک بجلی گری جس سے سب مر کر رہ گئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ یہ سب عذاب الٰہی میں پکڑے گئے تو نہایت عاجزی سے ان کی رہائی کی درخواست کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو دوبارہ زندگی عطاء فرمائی۔ (تفسیر کبیر)
خلاصۂ کلام یہ کہ یہ میقات اس میقات کے علاوہ ہے جو من جانب اللہ عطاء توریت کے لیے مقرر ہوا تھا۔ اور آیت حاضرہ کی ترتیب سے بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ گو سالہ پرستی کے بعد پیش آیا اور یہ میقات گوسالہ پرستی سے معذرت کے لیے مقرر ہوا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اولا میقات کلام کا ذکر فرمایا پھر اس کے بعد قصہ اتخاذ عجل ذکر کیا اور پھر گوسالہ پرستی کے واقعہ کے بعد یہ قصہ ذکر کیا معلوم ہوا کہ یہ قصہ گزشتہ قصہ کے مغائر ہے اور اسی ترتیب کے ساتھ یہ قصہ اور سورتوں میں بھی مذکور ہوا ہے اور اکثر وبیشتر۔ ترتیب ذکری و بیانی میں باعتبار وقوع کے ترتیب زمانی بھی ملحوظ ہوتی ہے۔
اور چونکہ یہ میقات عبادت عجل سے معذرت کے لیے مقرر ہوا اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس میقات کو میقات التوبہ والمعذرۃ کے نام سے موسوم کیا جائے اور پہلے میقات کو میقات کلام ومناجاۃ سے تعبیر کیا جائے۔ تاکہ فرق واضح ہوجائے۔
اور بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ یہ واقعہ بھی میقات اول ہی کا ہے اور اسی کا بقیہ اور تتمہ ہے اور یہ قصہ اسی وقت کا ہے جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) توریت لینے کے لیے گئے تھے تو اسی وقت ستر لوگوں کو اس لیے اپنے ہمراہ لے گئے تھے کہ یہ بھی خدا کا کلام سنیں اور واپس آکر بنی اسرائیل کے سامنے شہادت دیں مگر جب ان لوگوں نے وہاں جا کر یہ گستاخی کی کہ لن نؤمن لک حتی نری اللہ جہرۃ کہا تو منجانب اللہ ان کو ایک صاعقہ نے پکر لیا بعد میں موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے معافی ہوئی اور سورة نساء کی یہ آیت فقالو ارنا اللہ جھرۃ فاخذتھم الصعقۃ بظلمھم ثم اتخذوا العجل من بعد ما جاءتھم البینت۔ صراحۃ اس پر دلالت کرتی ہے کہ گوسالہ پرستی اس واقعہ کے بعد ہوئی۔
امام رازی اور دیگر محققین کی رائے یہ ہے کہ یہ میقات۔ گزشتہ میقات کے علاوہ اور مغائر ہے۔ تفصیل کے لیے تفسیر کبیر دیکھیں اور شیخ الاسلام ابو السعود (رح) تعالیٰ نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ اور جو لوگ امام رازی (رح) تعالیٰ کی طرح اس واقعہ کو گوسالہ پرستی کے بعد بتلاتے ہیں وہ آیت نساء کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں یعنی ثم اتخذوا العجل میں ثم ترتیب زمانی کے لیے نہیں بلکہ ترتیب رتبی یعنی ادنی سے اعلی کی طرف ترقی کے لیے کہ بےمحابا اللہ کی رویت کی درخواست اگرچہ ظلم عظیم ہے ہے لیکن فی حد ذاتہ دیدار خداوندی ممکن ہے محال نہیں مگر اتخاذ عجل تو اس درجہ قبیح اور شنیع ہے کہ جس کی کوئی حد اور انتہاء نہیں۔ اس لیے کہ شریک باری تو عقلاً ونقلاً محال اور ممتنع بالذات ہے چناچہ فرماتے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ہمارے مقررہ وقت پر لانے کے لیے ستر آدمی منتخب کیے تاکہ کوہ طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ جا کر گو سالہ پرستی سے توبہ کریں اور یہ ستر اشخاص وہ تھے جنہوں نے خود تو گوسالہ پرستی نہیں کی تھی لیکن گو سالہ پرستی پر انکار بھی نہ کیا تھا اور نہ اس سے علیحدگی اختیار کی۔
چناچہ حضرت شاہ والی اللہ قدس اللہ سرہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں یعنی تاعذر گوئند از عبادت گو سالہ ایں جماعت اگرچہ عبادت نکروہ بودند بر عبادت کنندگاں انکار ہم نکردند پس خدا تعالیٰ ہلاک ساخت، واللہ اعلم (کذا فی فتح الرحمن)
اور وہب بن منبہ (رح) تعالیٰ سے یہ منقول ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب الواح توریت لے کر آئے تو بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کوئی کلام نہیں کیا اور نہ ہم کو اس بات کا یقین ہے کہ یہ الواح توریت اللہ تعالیٰ کی عطا فرمودہ ہیں۔ ہم آپ کی بات کا جب یقین کریں گے کہ جب آپ ہمارے بزرگوں کا ایک گروہ اپنے ساتھ لیجائیں اور وہ خود جا کر اللہ کا کلام سن لیں اور واپس آکر گواہی دیں تب ہم یقین کریں گے۔ (دیکھو تفسیر البحر المحیط ص 399 ج 4 لابی حیان (رح) تعالیٰ )
مطلب یہ ہے کہ توریت لانے کے بعد قوم نے مطالبہ کیا کہ اے موسیٰ ہم تمہاری بات کا اس وقت یقین کریں گے جب تم ہمارے منتخب آدمیوں کو لے جا کر اللہ کا کلام سناؤ جب وہ آکر گواہی دیں گے تب ہم آپ کا یقین کریں گے کہ جب آپ ہمارے بزرگوں کا ایک گروہ اپنے ساتھ لیجائیں اور وہ خود جا کر اللہ کا کلام سن لیں اور واپس آکر گواہی دیں تب ہم یقین کریں گے (تفسیر البحر المحیط ص 399 ج 4 لابی حیان (رح) تعالیٰ )
مطلب یہ ہے کہ توریت لانے کے بعد قوم نے مطالبہ کیا کہ اے موسیٰ ہم تمہاری بات کا اس وقت یقین کریں گے جب تم ہمارے منتخب آڈمیوں کو لے جا کر اللہ کا کلام سناؤ جب وہ آکر گواہی دیں گے تب ہم آپ کا یقین کریں گے۔
چناچہ موسیٰ علیہ ان لوگوں کو کوہ طور پر لے گئے وہاں پہنچ کر انہوں نے اللہ کا کلام سنا تو اب اس میں یہ شاخسانہ نکالا کہ معلوم نہیں پس پردہ کون کلام کر رہا ہے ہم تو جب ایمان لائیں گے کہ جب خدا تعالیٰ کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کما قال تعالیٰ حا کیا عنھم۔ لن نؤمن لک حتی نری اللہ جھرۃ اس پر ایک زلزلہ آیا جس سے سب ہلاک ہوگئے۔ پس جب ان ستر آدمیوں کو زلزلہ نے پکڑ لیا جس سے وہ سب مرگئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) یہ دیکھ کر ڈرے کہ بنی اسرائیل مجھ پر تہمت لگائیں گے کہ اس نے لے جا کر مروا دیا تو کہا کہ اے میرے پروردگار آپ چاہتے تو ان کو اور مجھ کو یہاں آنے سے پہلے ہی ہلاک کردیتے اور بنی اسرائیل مجھ کو متہم نہ کرتے کیا تو ہم کو اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو ہم میں سے بیوقوفوں نے کیا ہے مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بیوقوف اور نادان ہیں ان کی خطاء معاف فرمادیجئے۔ نہیں ہے یہ واقعہ مگر آپ کی آزمائش اور امتحان۔ کہ آپ نے ان کو اپنا کلام سنایا جس سے وہ دیدار کی طمع میں پڑے اور دائرہ ادب سے باہر نکل گئے یا یہ مطلب ہے کہ آپ نے اپنی قدرت سے ان کے ایک خود ساختہ بچھڑے میں آواز پیدا کردی جس سے یہ بیوقوف فتنہ میں مبتلا ہوگئے یہ آپ ہی کی طرف سے فتنہ اور امتحان تھا۔ اس قسم کے فتنہ اور امتحان سے آپ جس کو چاہتے ہیں گمراہ کرتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں آپ کی مشیت اور حکمت کا کسی کو علم نہیں تو تو ہمارا آقا ہے پس تو ہماری خطا کو معاف کر اور ہم پر مہربانی کر اور تو سب معاف کرنے والوں سے بہتر معاف کرنے والا ہے تو بغیر کسی غرض اور نفع کے محض اپنے فضل وکرم سے معاف کرتا ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی دوسری دعا
واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ انا ھدنا الیک
یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دوسری دعا کا ذکر ہے پہلی دعا دفع مضرت اور رفع مصیبت کے لیے تھی اور یہ دعا تحصیل منفعت کے لیے ہے جس میں دنیا اور آخرت کی بھلائی کی درخواست ہے اور اے اللہ اس دعا کے ساتھ ایک دعا یہ ہے کہ لکھدے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی دینا اور آخرت کی بھلائی کی دستاویز اور قبالہ میری امت کے لیے لکھدیجئے۔ مطلب یہ تھا کہ میری امت سب امتوں پر فائق رہے اس لیے کہ ہم تیری طرف رجوع ہوئے ہیں تجھ سے ہر خیر کے امیدوار ہیں۔
جواب خداوندی
حق تعالیٰ نے جواب میں فرمایا میرا عذاب ہے اس کو میں جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں کوئی مجھ پر اعتراض نہیں کرسکتا سب میری ملک اور سب میرے غلام ہیں اور مالک کو اپنے ملک پر ہر قسم کے تصرف کا اختیار ہے اور میری رحمت اور مہربانی ہر چیز کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے اللہ کی رحمت دنیا میں مومن اور کافر کو شامل ہے اگر اللہ کی یہ رحمت عامہ نہ ہوتی تو کوئی کافر وفاجر اور کوئی نافرمان زندہ نہ رہتا کما قال تعالیٰ ولو یؤاخذ اللہ الناس بما کسبوا ما ترک علی ظھرہا من دابۃ۔ اللہ کی اس رحمت عامہ سے مومن و کافر سب کو حصہ مل رہا ہے اور اس رحمت عامہ کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہوا ہے اور اس رحمت عامہ میں سے آپ کی امت کو بھی حصہ مل چکا ہے یہ رحمت عامہ بلا سوال کے اور بلا استحقاق کے سب کو پہنچ رہی ہے۔
اے بدادۂ رائیگاں صد چشم و گوش : نے زر شوت بخش کردہ عقل وہوش
در عدم ما مستحقاں کے بدیم : کہ بدیں جان وو بدیں دانش شدیم
ما نبودیم وتقاضا ما ہنود : لطف تو ناگفتہ ما می شنود
اور اس رحمت عامہ کے علاوہ خدا تعالیٰ کی ایک رحمت خاصہ بھی ہے جس کا خاصان خاص پر نزول ہوتا ہے اس رحمت خاصہ کے حصول کے لیے تین شرطیں ہیں تقوی اور ایتاء زکوٰۃ اور ایمان بالاآیات یعنی اللہ کے تمام احکام کو ماننا جس میں یہ اوصاف مذکورہ پائے جائیں گے وہ اس رحمت خاصہ کا مستحق ہوگا۔ حاصل کلام یہ کہ اے موسیٰ میری ایک رحمت تو عام ہے جس میں کوئی قید وشرط نہیں اس میں سے آپ کی قوم کو بھی حصہ مل رہا ہے اور میری ایک رحمت خاص ہے جو چند شرطوں کے ساتھ مشروط ہے پس البتہ میں اس رحمت خاصہ کو جو دین اور دنیا دونوں کی بھلائی کو جامع ہو۔ جس کا آپ سوال کر رہے ہیں ان وگوں کے لیے لکھدوں گا جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یعنی ان کے قلوب خدا کی عظمت اور جلال سے لبریز ہیں اور (2) زکوٰۃ دیتے رہتے ہیں یعنی ان کے نفوس مال کی محبت سے پاک اور صاف ہوچکے ہیں اور ہماری تمام آیتوں (3) پر یقین رکھتے ہیں ایسا نہ ہو کہ بعض آیتوں کو مانیں اور بعض کو نہ مانیں۔ پس اس رحمت خاصہ اور کاملہ میں سے بنی اسرائیل میں سے اس شخص کو حصہ ملے گا جو متقی اور پرہیزگار ہو اور زکوٰۃ گزار ہو اور ایمان کامل رکھتا ہو یعنی اللہ کے تمام احکام کو مانتا ہو ان لوگوں میں سے نہ ہو جن کے بارے میں افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض نازل ہوئی رحمت خاصہ کے یہ شرائط تو ان لوگوں کے لیے ہیں جو خاتم الانبیاء کی بعثت سے پہلے ہوں گے اور خاتم الانبیاء کی بعثت کے بعد یہ رحمت خاصہ ان لوگوں کے لیے ہوگی جو توریت اور انجیل کی پیشین گوئیوں کے مطابق اس نبی آخر الزمان پر ایمان لائیں گے۔ اور اس کی مدد کریں گے ان کو اس رحمت خاصہ میں سے حصہ ملے گا (دیکھو البحر المحیط ص 403 ج 4) چناچہ فرماتے ہیں کہ رحمت خاصہ اور کاملہ جس کا آپ نے سوال کیا ہے میں اس رحمت خاصہ کو خاص متقیوں اور مومنوں کے لیے لکھوں گا اور اخیر زمانہ میں اس کا مصداق وہ لوگ ہونگے جو صدق دل سے اس رسول کی پیروی کریں گے جو نبی امی ہے یعنی وہ نبی نہ لکھنا جانتا ہے اور نہ پڑھنا جانتا ہے اور باوجود بےپڑھے لکھے ہونے کے علم و حکمت کے چشمے اس کی زبان سے جاری ہونگے اور یہ اس کی نبوت و رسالت کی دلیل ہوگی حافظ شیرازی نے کیا خوب کہا
نگارِ من کہ بہ مکتب نرفت و خط ننوشت : بغمزہ مسئلہ آموز صدر مدرس شد
جس کو وہ یہاں توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اے موسیٰ جس رحمت خاصہ اور دینی اور دنیوی بھلائی کا تو خواستگار ہے۔ اخیر زمانہ میں اس رحمت خاصہ میں ان لوگوں کو حصہ ملے گا جو توریت اور انجیل کے پیش گوئیوں کے مطابق اس نبی امری کا اتباع کریں گے جس کے اوصاف وہ اپنے یہاں توریت اور انجیل میں لکھے ہوئے پائیں گے حالانکہ اس وقت تک انجیل نازل نہیں ہوئی تھی اشارہ اس طرف تھا کہ جب انجیل نازل ہوگی تو اس میں بھی آپ کا ذکر ہوگا چناچہ ورقہ بن نوفل اور عبداللہ بن سلام اور مخریق اور بحیرا راہب اور نسطورا راہب اور نجاشی شاہ حبشہ (رح) تعالیٰ مع قسیسین اور رہبان یہ سب انہی بشارات کی بناء پر مسلمان ہوئے اور ضفا طر رومی یعنی بشپ روم آں حضرت ﷺ کے ایلچی دحیہ کلبی کے ہاتھ پر یہ کہہ کر مشرف باسلام ہوا کہ یہ وہی نبی آخر الزماں ہیں جن کی توریت اور انجیل میں بشارت دی گئی۔ مگر رومیوں نے اس کو شہید کردیا ہرقل شاہ روم نے بھی اس کی تصدیق کی مگر سلطنت کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا۔ مقوقس شاہ مصر نے بھی اس کا اقرار کیا اسلام تو نہیں لایا مگر ماریہ قبطیہ وغیرہ تحفے بھیجے اور وہ نبی امی ان کو ہر پسندیدہ کام کا حکم دیگا اور ہر ناپسندیدہ کام سے ان کو منع کرے گا۔ اور تمام پاکیزہ چیزوں کو ان کے لیے حلال کر دیگا۔ مراد وہ پاکیزہ چیزیں ہیں جو بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی سزا میں توریت میں ان پر حرام کی گئی تھیں جیسے اونٹ کا گوشت اور بھیڑ اور بکری اور گائے کی چربی اور تمام ناپاک اور گندی چیزوں کو ان پر حرام کردے گا۔ جیسے مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جیسے رشوت اور سود اور ان سے وہ بوجھ اور مشقتوں کے طوق دور کردے گا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت میں ان پر تھے جیسے توبہ میں جان کا مارنا اور قصاص کا واجب ہونا اور دیت کا ممنوع ہونا اور مال غنیمت کا جلادینا مطلب یہ ہے کہ اگلی شریعتوں میں جو سختیاں تھیں انہیں دور کردیگا۔ اور شریعت کو ان پر آسان اور ہلکا کردیگا۔ پس جو لوگ اس نبی امی موصوف بصفات مذکورہ پر ایمان لائیں گے اور اس کی تعظیم کریں گے اور اس کے دشمنوں کے مقابلہ پر اس کی مدد کریں گے اور اس نور ہدایت یعنی کلام الٰہی کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ آسمان سے زمین پر اتارا گیا ہے ایسے لوگ فلاح پانے والے ہیں اخیر زمانے میں دین ودنیا دونوں کی بھلائی ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ یہ صحابۂ کرام اور خلفاء راشدین کا گروہ ہے جن کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی پہلے ہی سے مقدر ہوچکی تھی دنیا میں فتح ونصرت حاصل ہوئی اور شام اور ایران کی سلطنتوں پر قابض ہوئے اور آخرت میں نجات اور مغفرت اور درجات عالیہ کی بشارتوں سے سرفراز کیے گئے۔ ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء
لطائف و معارف
1 ۔ حضرت شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں کہ شاید حضرت موسیٰ نے اپنی امت کے حق میں دنیا اور آخرت کی بھلائی جو مانگی تھی مراد یہ تھی کہ میری امت سب امتوں پر مقدم اور فائق رہے دنیا اور آخرت میں خدا تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ میرا عذاب اور میری رحمت کسی فرقہ پر مخصوص نہیں سو عذاب تو اسی پر ہے جس کو اللہ چاہے اور رحمت عامہ سب مخلوق کو شامل ہے۔ لیکن وہ رحمت خاصہ جو تم طلب کر رہے ہو وہ ان لوگوں کے نصیب میں لکھی ہے جو اللہ کا ڈر رکھتے ہیں اور اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں یا اپنے نفس کا تزکیہ کرتے ہیں اور خدا کی ساری باتوں پر یقین کامل رکھتے ہیں یعنی آخری امت کو جو سب کتابوں پر ایمان لاوے گی سو حضرت موسیٰ کی امت میں سے جو کوئی آخری کتاب پر یقین لایا اس کو یہ نعمت پہنچی اور حضرت موسیٰ کی دعا ان کو لگی۔ انتہی کلامہ بتوضیح یسیر (منقول از تفسیر عثمانی)
چناچہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو دعا اپنی امت کے لیے مانگی تھی وہ ان کی امت کے حق میں قبول نہ ہوئی بلکہ بجائے ان کی امت کے امت محمدیہ کے حق میں قبول ہوگئی اور مطلب یہ ہوا کہ اے موسیٰ جس دنیا اور آخرت کی بھلائی کا تم سوال کر رہے ہو وہ امت محمدیہ کو ملے گی اور تمہاری یہ دعا خلفاء راشدین کے ہاتھوں پر پوری ہوگی کہ وہ ولی کامل بھی ہونگے اور بادشاہ عادل بھی ہونگے اور ولایت آخرت کی نیکی ہے اور بادشاہت دنیا کی بھلائی ہے اور اس کے مجموعہ کا نام خلافت راشدہ ہے اور علامہ طیبی (رح) تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنی امت کے لیے یہ دعا ایسی ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی ذریت کے لیے یہ دعا کی ومن ذریتی کہ اے اللہ میری ذریت کو بھی امامت میں حصہ ملے تو حق تعالیٰ نے جواب میں یہ فرمایا۔ لا ینال عھدی الظالمین۔ مطلب یہ تھا کہ تمہاری دعا اور درخواست قبول ہے مگر اس منصب امامت کے حصول کے لیے عدالت اور تقوی شرط ہے ظالم اور فاسق کو یہ منصب نہیں ملے گا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جواب دیا کہ تم نے اپنی امت کے لیے جو دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا کی ہے وہ منظور ہے مگر اس رحمت خاصہ کے حصول کے لیے تقوی اور زکوٰۃ اور ایمان بالآیات شرط ہے پس آپ کی امت میں سے جو اس رحمت خاصہ کے مستحق ہوجائیں جس درجہ کا ایمان اور تقوی ہوگا اسی درجہ کی رحمت کے مستحق ہونگے۔ رحمت کاملہ کا استحقاق اہل طاعت کاملہ ہی کو ہے اس کے بعد بتلایا کہ اخیر زمانہ میں جب نبوت محمدیہ کا دور دورہ ہوگا اس وقت اس رحمت کاملہ اور خاصہ کے مستحق وہ لوگ ہونگے جو اس نبی امی فداہ نفسی وابی وامی ﷺ پر ایمان لائیں گے اور دل وجان سے اس کی مدد کریں گے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک کے اہل کتاب کو سنانے کے لیے یہ مضمون ذکر کیا گیا کہ اس زمانے کے اہل کتاب اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس دعا میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ان کو چاہئے کہ اس نبی امی پر ایمان لائیں جس کو توریت جس کو توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں اللہ کی رحمت خاصہ ان لوگوں کے واسطے جو نبی امی کا اتباع کریں گے خواہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہوں یا غیروں سے ہوں۔
2 ۔ آیت الذی یجدونہ مکتوبا عندھم کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے جو لوگ اس نبی آخر الزمان کا عہد مبارک پائیں ان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس نبی آخر الزمان پر ایمان لائیں تاکہ ان کو رحمت خاصہ میں بقدر ایمان اور تقوی کے حصہ مل جائے۔
قال ابن عباس انما اخذتھم الرجفۃ لانھم لم ینھوا من عبد العجل ولم یرضوا عبادتہ وقیل ھؤلاء السبعون غیر من قالوا ارنا اللہ جھرۃ (تفسیر قرطبی ص 295 جلد 7)
قال ابو حیان اختلفوا فی ھذا المیقات اھو میقات المناجات ونزول التوراۃ او غیرہ فقیل ھو الاول بین فیہ بعض ماجری من احوالہ وروی ھذا عن ابن عباس وقیل ھو میقات آخر غیر میقات المناجاۃ ونزول التوراۃ فقال وھب بن منبہ (رح) تعالیٰ قال قال بنو اسرائیل لموسی ان طائفۃ تزعم ان اللہ لا یکلمک فخذ منا من یذھب معک لیسمعوا کلامہ فیؤمنوا فاحی اللہ تعالیٰ الیہ ان یختار من قومہ سبعین من خیارھم ثم ارتق بھم الجبل انت وھارون واستخلف یوشع ففعل فلما سمعوا سآلوا موسیٰ ان یریھم اللہ جھرۃ فاخذتھم الرجفۃ الی ان قالو ابو حیان۔ والذی یظھر ان ھذا ربہ بظاھر تغائر القصتین وما جری فیھا اذ فی تلک ان موسیٰ کلمہ اللہ و سلہ الرؤیۃ واحالہ فی الرویۃ علی تجلیہ للجبل۔ وثبوتہ فلم یثبت وصارو کاد صعق موسیٰ وفی ھذہ اختیر السبعون لمیقات اللہ واخذتھم الرجفۃ ولم تاخذ موسیٰ وللفصل الکثیر الذی بین اجزاء الکلام لو کانت قصۃ واحدۃ کذا فی البحر المحیط صفحہ 399 ج اور ابو حیان کا یہ کلام امام رازی (رح) تعالیٰ کے کلام کا خلاصہ ہے۔ حضرات اہل علم تفصیل کے لیے تفسیر کبیر صفحہ 306 ج 4 کی مراجعت کریں۔
3 ۔ اس آیت میں اس نبی آخر الزمان کے نو وصف تو صراحۃ ً ذکر کیے اور ایک وصف ضمناً ذکر فرمایا یعنی اس نبی امی پر ایک کتاب نازل ہوگی جو نور ہدایت ہوگی اور رہروان آخرت کے لیے مشعل ہوگی مطلب یہ ہے کہ اس نبی امی پر آسمان سے ایک کتاب نازل ہوگی جسے وہ پڑھ کر سنائے گا توریت کی طرح لکھی ہوئی کتاب اس کو عطاء نہ ہوگی۔ اور وہ نو صفتیں یہ ہیں۔
1 ۔ وہ رسول ہوگا
2 ۔ وہ نبی ہوگا
2 ۔ وہ امی ہوگا یعنی نوشت وخواند سے ناواقف ہوگا مگر علم اور حکمت کا چشمہ اس کی زبان سے جاری ہوگی اور یہ اس کی نبوت کی بڑی دلیل ہوگی ورنہ مخالفین کو یہ گنجائش ہوتی کہ وہ یہ کہتے آپ کتب سابقہ کو دیکھ کر اگلے زمانے کے حالات بیان کرتے ہیں اور انبیاء سابقین کے صحیفوں کی مدد سے آپ اپنے دین کے قواعد اور احکام مرتب کرتے ہیں سو سزاوار رحمت خاصہ وہی لوگ ہونگے جو اس نبی امی کا اتباع کریں گے۔
4 ۔ علماء یہود اور نصاری اس نبی امی کو توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے۔ توریت اور انجیل میں آپ کی بالتفصیل صفات مذکور تھیں اور اس وقت کے یہود اور نصاری ان مضامین سے واقف تھے اور اگر یہ مضامین توریت وانجیل میں موجود نہ ہوتے تو تمام یہود اور نصاری شور مچاتے اور قرآن کریم کی اس قسم کی آیتوں کی تکذیب کرتے اور یہ کہتے کہ یہ سراسر افتراء ہے اور یہ شخص کذاب اور مفتری ہے توریت وانجیل میں کہیں بھی آپ کا ذکر نہیں اور جن مجلسوں میں النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ والانجیل جیسی آیتوں کی تلاوت کی جاتی۔ وہاں جا کر علماء اہل کتاب کھلم یہ کہتے۔ کہ یہ سب غلط ہے اور تمام یہود ونصاری مشرکین مکہ کو جو آپ کے دشمن خاص تھے اس سے آگاہ کرتے نیز آپ کا علماء یہود ونصاری کے مدارس میں جا کر تحدی کے ساتھ یہ بیان کرنا کہ میں وہی نبی ہوں جسکی توریت اور انجیل میں خبر دی گئی یہ اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ آپ کو ان بشارتوں کا جزم اور یقین تھا چناچہ بہت سے علماء یہود اور علاء نصاری اور بہت سے راہب اور عابد وزاہد اسی بناء پر ایمان لائے جیسے شاہ حبشہ اور جو ایمان نہیں لائے جیسے ہرقل شاہ روم وغیرہ سو انہوں نے اس بات کی تصدیق کہ آپ وہی نبی ہیں جن کی توریت اور انجیل میں خبر دی گئی ہے۔
حق یہ ہے کہ کتب سابقہ میں آپ کا ذکر موجود تھا مگر معاندین نے ان میں تحریف کردی اور اس قسم کی تمام عبارتیں توریت اور انجیل سے نکالدیں اگرچہ اب بھی بعض اناجیل قدیمہ میں فارقلیط کا لفظ موجد ہے جو لفظ احمد کا ترجمہ ہے اور انبیاء سابقین کی بشارات کے متعلق اس ناچیز نے ایک مستقل رسالہ بھی لکھدیا ہے اہل اس کو دیکھیں جو چھپ چکا ہے۔
چناچہ عارف رومی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں
بود در انجیل نام مصطفیٰ : واں سر پیغمبراں بحر صفا
بود ذکر حلیہا وشکل او : بود ذکر غزو صوم واکل او
طائفہ نصرانیاں بہر ثواب : چوں رسید ندے بداں نام و خطاب
بوسہ دادندے بداں نام شریف : رونہادنددے بداں وصف لطیف
5 ۔ پانچویں صف آپ کی یہ بیان کی کہ آپ لوگوں کو تمام نیک باتوں کا حکم دیں گے۔
6 ۔ چھٹی صف آپ کی یہ بیان فرمائی کہ آپ لوگوں کو تمام بری باتوں سے منع کریں گے۔ یہ دونوں صفتیں اگرچہ نمام انبیاء میں مشترک ہیں مگر علی وجہ الکمال آپ میں پائی جائیں گی۔ آپ کی تعلیم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تمام جزئیات کو حاوی ہوگی۔
7 ۔ ساتوی صفت آپ کی یہ بیان کی کہ آپ لوگوں کے لیے پاکیزہ اور ستھری چیزوں کو حلال کریں گے جس سے انسانی طبیعت کراہت اور نفرت نہیں کرتی بلکہ انسان کے لیے موجب لذت اور منفعت ہے اگرچہ مشرکین نے اپنی جہالت سے ان پاکیزہ چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔
8 ۔ اور آٹھویں صفت آپ کی یہ فرمائی کہ وہ نبی گندی اور ناپاک چیزوں کو حرام کریگا جن کے استعمال میں سراسر مضرت اور نقصان ہے جیسے مردار اور خنزیر اور قمار اور شراب وغیرہ اگرچہ مشرکوں نے اپنی جہالت سے ان چیزوں کو اپنے اوپر حلال کر رکھا ہے۔
9 ۔ اور نویں صفت آپ کی یہ بیان فرمائی کہ آپ یہودیوں پر سے ان کے بوجھ اتاریں گے اور ان کے طوقوں کو دور کریں گے یعنی ان کی شریعت میں جو سخت احکام جو ان کی پیٹھوں پر بمنزلہ بھاری بوجھوں کے تھے اور گلوں میں بمنزلہ طوق اور پھندوں کے تھے۔ ان کو منسوخ کر کے ان کی جگہ سہل احکام دیں گے یعنی اس کی شریعت سہل اور آسان ہوگی
مثلا توریت میں بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اگر تم سے گناہ ہوجائے تو اس کی تو بہ قتل ہے کہ تم اپنے آپ کو قتل کر ڈالو اسلام میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور یہ حکم دیا گیا کہ توبہ کے لیے گزشتہ گناہ پر ندامت اور شرمساری اور آئندہ کے لیے یہ عزم کہ اب یہ کام نہیں کروں گا توبہ کے لیے فقط اتنا کافی ہے۔
توریت میں یہ حک تھا کہ اگر کپڑا ناپاک ہوجائے تو جتنا ناپاک ہوا ہے اتنے کو قینچی سے کاٹ ڈالا جائے۔ یہ حکم اسلام میں منسوخ ہوگیا اور کپڑے کا پانی سے دھونا کافی قرار دیا گیا۔
توریت میں قصاص فرض تھا اور دیت حرام تھی اسلام نے اس کی جگہ یہ حکم دیا کہ اگر ورثہ قصاص معاف کردیں اور اس کی جگہ دیت پر راضی ہوجائیں تو پھر قصاص ضروری نہیں
توریت میں حکم تھا کہ ہفتہ کے دن دنیا کا کوئی کاروبار نہ کرو۔ اسلام نے اس کو منسوخ کردیا۔
توریت میں حکم تھا کہ کنایس (یعنی مسجد اور معبد) سے نماز نہ پڑھو اسلام نے اس کی جگہ حکم دیا کہ نماز ہر جگہ صحیح ہے۔
10 ۔ دسویں صفت اس نبی امی کی یہ بیان کی کہ اس نبی پہ ایک نور ہدایت یعنی قرآن نازل ہوگا جو اس کا اتباع رکے گا وہ فلاح پائے گا اور واتبعوا النور الذی انزل معہ میں اسی صفت کے ساتھ اشارہ ہے اور توریت سفر پنجم باب 18 ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خبر دی کہ میں بنی اسرائیل کے بھائیوں میں تجھ جیسا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا الخ
اس آخری جمہ میں قرآن کریم کے نزول کی طرف اشارہ ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ان آیات کا مطلب بالاختصار یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی کہ اے پروردگار ملاء اعلیٰ میں میری امت کے لیے دنیا اور آخرت کی نیکی مقدر کردے۔ رب الارباب سے جواب ملا یہود ایک حال پر نہ رہیں گے بلکہ ان میں سے بعض کو میرا عذاب پہنچے گا اور یہ وہ لوگ تھے جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتاب لتفسدن فی الارض مرتین۔ اور بعض رحمت الٰہی کے مورد ہونگے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے واذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ جعل فیکم انبیاء وجعلکم ملوکا وا اتا کم ما لم یؤت احدا من العالمین پھر فرمایا۔ فساکتبھا للذین یتقون۔
یعنی پس ان لوگوں کے لیے میں دنیا اور آخرت کی نیکی لکھ دونگا جن کی صفت یہ ہے کہ وہ متقی ہونگے زکوٰۃ دیں گے اور اسکی نشانیوں پر ایمان رکھیں گے۔
پس ان آیات سے مفہوم ہوا کہ یہ لوگ جو مذکورہ بالا اوصاف سے موصوف ہوں زمانہ آئندہ میں پیدا ہونے والے تھے دنیا میں فتح ونصرت حاصل ہو اور دیگر سلطنتیں ان کی مطیع اور باجگذار ہوں اور آخرت میں نجات اور مغفرت حاصل ہو اور درجات اور مناصب عالیہ ان کو حاصل ہوں۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خصوصا یہ وہ لوگ ہونگے جو نبی امی کے تابعدار ہوں گے جس کی تعریف و توصیف کتاب الٰہیہ میں پائی گئی اورا نبی اء سابقین نے ان کی بعثت کی خبر دی جس سے کافۂ انام پر حجت پوری ہوئی اور منکرین عنداللہ معذور نہ رہے اور کتب الٰہیہ میں اللہ نے جو آں حضرت ﷺ کی تعریف کی وہ یہ ہے کہ وہ نبی امی نیکی کا حکم کرے گا اور برائی سے منع کرے گا تمام پاک چیزیں حلال کرے گا اور خبائث حرام کریگا اور ان کے سر سے بار گراں اور گردن سے ان کے طوق اتار دے گا یعنی شرائع شاقہ کو منسوخ کردیگا اور ملت حنفیہ اور شریعت سہلہ کو جاری کرے گا۔ پس آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کمال رافت و رحمت الہیہ ہے۔
ان آیات میں ضمناً اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی اتباع کرنے والوں کی اور آپ کے اعوان وانصار کی مدح فرمائی اور ان کی صلاح کونین اور فلاح دارین کی خبر دی ہے اور شک نہیں کہ خلفاء راشدین آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور جان ومال سے آپ کی مدد کی پھر آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد تازیست اسی طرح ساعی اور کوشاں رہے اس سے زیادہ اور کیا فضیلت ہوسکتی ہے۔ وہ ہذا ہوا المقصود (ازالۃ الخفاء)
خلاصہ کلام یہ کہ اس دعاء موسوی کا ظہور خلفاء راشدین کے ہاتھوں پر ہوا اور صحابہ کرام اس رحمت خلاصہ کے مورد بنے اور یہ امر بخوبی واضح ہوگیا کہ کتب الٰہیہ میں اس نبی امی کے تابعداروں اور مددگاروں کی جو تعریف و توصیف کی گئی اس کا مصداق صحابہ کرام اور خلفائے راشدین ہیں جن کو دنیا کی نیکی تو یہ ملی کہ فتح ون صرت ہوئی اور دنیا کی سلطنتیں اور ریاستیں ان کی باجگذار بنیں اور آخرت کی نیکی یہ ملی کہ خوشنودی اور رضاء خداوندی اور جنت اور مغفرت اور قسم قسم کی عزت و کرامت کا پروانہ ان کو دیا ہی میں مل گیا اور اخیر آیات میں مہاجرین اور انصار کی خاص طور پر مدح فرمائی۔ فالذین امنوا بہ وعزروہ ونصروہ وابتعوا النور الذی انزل معہ اولئک ہم المفلحون۔ اور ان کے صلاح اور فلاح دارین کی خبر دی واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
Ayah 7:158ذکر عموم بعثت نبی آخر الزمان ﷺ
قال اللہ تعالیٰ قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیک جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تھتدون
(ربط) گزشتہ آیت میں نبی آخر الزمان کی بشارت کا ذکر تھا اور یہ بتلایا تھا کہ فسا کتبھا للذین یتقون الخ۔ میں متقین کے لیے جس رحمت خاصہ کا وعدہ ہے وہ ان متقین کے لیے مخصوص ہے کہ جو اس نبی امی کے متبع ہوں جس کا ظہور آخر زمانہ میں ہوگا اب اس آیت میں نبی امی کی عموم بعثت کا ذکر ہے کہ اس نبی آخر الزمان کی بعثت عام ہوگی یعنی تمام عالم کے لیے آپ نبی اور رسول ہوں گے انبیاء سابقین کی طرح آپ کی بثت کسی قوم اور قبیلہ کے ساتھ مخصوص نہ ہوگی آپ کی اطاعت سب پر لازم ہوگی اہل کتاب میں سے جو شخص اس رحمت خاصہ میں شامل ہونا چاہے جس کی موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تھی اس کو چاہئے کہ اس رسول برحق پر ایمان لائے اور سمجھ لے کہ بغیر آپ کے نور کے اتباع کیے فلاح نہیں پاسکتا۔ نیز آئندہ آیات میں یہ بتلانا ہے کہ اس پیغمبر آخر الزمان کی صفت اگرچہ توریت اور انجیل میں یہ ذکر کی گئی ہے کہ وہ نبی امی ہوگا مگر اس نبی امی کی بعثت فقط امیین یعنی عرب کے ساتھ مخصوص نہ ہوگی جیسا کہ بعض اہل کتاب کا خیال ہے بلکہ اس کی بعثت کل عالم کی طرف ہوگی چناچہ حدیث میں ہے کہ جو یہودی یا نصرانی میری خبر پا کر مجھ پر ایمان نہیں لائیگا وہ جہنم میں جائیگا (رواہ مسلم)
اے نبی امی آپ لوگوں سے علی العموم اور علی الاعلان یہ کہہ دیجئے کہ اے دنیائے جہان کے لوگو تحقیق میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں بخلاف پہلے پیغمبروں کے کہ وہ کسی خاص فرقہ یا خاص امت کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور میں تمام مخلوق اور کافۃ الناس کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں خواہ وہ عرب میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو چند باتیں ایسی عنایت کی ہیں جو کسی اور نبی کو عنایت نہیں فرمائیں۔
1 ۔ ہر نبی خاص اپنی قوم کے ہدایت کے لیے بھیجا جاتا تھا مجھ کو اللہ نے ہر سیاہ وسفید یعنی عرب وعجم کے لیے بھیجا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
2 ۔ مجھ پر نبوت ختم ہوگئی یعنی میرے بعد کسی کو منصب نبوت عطاء نہیں ہوگا اور عیسیٰ (علیہ السلام) جو اخیر زمانہ میں آسمان سے نازل ہوں گے ان کو منصب نبوت آپ سے چھ سو سال پہلے مل چکا ہے ان کا نزول ختم نبوت کے منافی نہیں
3 ۔ مجھ کو شفاعت کا مقام عطاء کیا گیا کہ قیامت کے دن اولین اور آخرین کے لیے شفاعت کروں گا۔
4 ۔ میرے لیے غنیمتیں حلال کردی گئیں مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے حلال نہیں کی گئیں۔
5 ۔ تمام روئے زمین میرے لیے پاک اور موضع صلاۃ قرار دے دی گئی میری امت کو جہاں نماز کا وقت ہوجائے وہیں نماز پڑھ لے۔
6 ۔ ایک مہینہ کے راہ کے فاصلہ پر میرے دشمنوں کے دلوں میں میرا رعب ڈال دیا گیا۔
7 ۔ اور مجھ کو جوامع الکلم عطاء کیے گئے یعنی ایسے جامع کلمات کہ جن کے لفظ تو بہت تھوڑے اور معنی بہت یہ مضمون بخاری مسلم کی روایتوں سے ثابت ہے غرض یہ کہ میری بعثت تمام جہان کے لیے ہے میں تم سب کی طرف اس خدائے برحق کی طرف سے رسول بن کر آیا ہوں۔ جس کے لیے آسمان اور زمین کی بادشاہی ہے اس کے سوال کوئی معبود نہیں وہی جلاتا اور مارتا ہے پس اے لوگو ! ایمان لاؤ اس خدا پر جس کی صفت تم نے سن لی اور نیز ایمان لاؤ اس کے اس رسول پر جو نبی امی ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ پر جو اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتا ہے اور بےچون وچرا اس نبی امی کی پیروی اور فرمانبرداری کرو تاکہ تم ہدایت پا جاؤ معلوم ہوا کہ جو نبی امی کا اتباع نہ کرے وہ گمراہ ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہدایت اور فلاح کو آپ ﷺ کے اتباع میں منحصر فرمادیا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ گزشتہ آیات میں اسی نبی امی کے اوصاف بیان کیے تھے اب ان آیات میں اس نبی کے اتباع اور پیروی کا حکم دیا کہ بغیر اس کے اتباع کے ہدایت حاصل نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 7:159–162ذکر احوال بنی اسرائیل
قال اللہ تعالیٰ ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانوا یظلمون
(ربط) اوپر سے سلسلۂ کلام موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں چلا آرہا ہے اب یہ بتاتے ہیں بنی اسرائیل میں اب بھی بعضے لوگ خدا پرست اور انصاف دوست ہیں جو لوگوں کو راہ راست کی ہدایت کرتے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام وگیرہ کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور اس بات کی شہادت دی کہ یہ وہی نبی امی ہیں جن کی توریت اور انجیل میں خبر دی گئی ہے اور ایسے ہی حق پرست اس رحمت خاصہ میں داخل ہوئے جس کی موسیٰ (علیہ السلام) نے واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ میں دعا کی تھی اور انہی اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ظالم اور سرکش بھی ہیں باوجودیکہ ان پر اللہ کے بڑے بڑے انعامات ہوئے مگر پھر بھی دن بدن، نافرمانیاں اور سرکشیاں ہی کرتے رہے چناچہ فرماتے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کی راہ بتاتا ہے اور اسی حق کے ساتھ انصاف کرتا ہے جیسے عبداللہ بن سلام وغیرہ اور ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ قبیلوں پر بانٹ دیا گروہ گروہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے ہر بیٹے کی نسل کو سبط کہتے تھے مطلب یہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو ایک دادا کی اولاد پر تقسیم کردیا جس سے ان کے بارہ گروہ ہوگئے۔ اور حکم بھجا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف جب ان کی قوم نے جنگل میں ان سے پانی مانگا کہ اے موسیٰ تو اپنی لاٹھی کو پتھر پر مارا پس ان کے مارتے ہی اس پتھر سے بارہ چشمے جاری ہوگئے کیونکہ بارہ ہی سبط تھے اس لیے بارہ چشمے جاری ہوگئے۔ ہر سبط کے لیے علیحدہ علیحدہ چشمہ متعین ہوگیا۔ سب آدمیوں نے یعنی ہر سبط نے اپنا جدا جدا گھاٹ معلوم کرلیا۔ ایک سبط دوسرے سبط کے گھاٹ سے پانی نہیں لیتا تھا اور ایک انعام ہم نے ان پر یہ کیا کہ جنگل میں ابر کو ان پر سائبان بنادیا تاکہ بنی اسرائیل کو آفتاب کی گرمی کی تکلیف نہ ہو۔ اور ایک انعام ان پر یہ کیا کہ خزانہ غیب سے ان پر من وسلوی اتار۔ " من " ترنجبین کے مانند ایک میٹھی چیز تھی اور " سلو " مرغ اور بٹیر کے مانند کوئی جانور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ کھانا اتارا جن میں سے ایک شیریں اور دوسرا نمکین تھا اور ان سے یہ کہہ دیا کہ جو پاکیزہ روزی ہم نے محض اپنی عنایت سے بلا سبب ظاہری کے تم کو دی ہے اس میں سے کھاؤ اور شکر کرو اور ذخیرہ نہ کرو اور ان لوگوں نے ذخیرہ کر کے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا و لیکن ذخیرہ کر کے وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے نافرمانی کر کے اپنا ہی نقصان کیا اور یاد کرو اس وقت کو کہ جب بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا کہ اس بستی یعنی بیت المقدس یا اریحاء میں جا کر رہو اور اس کے پھلوں اور کھیتی اور پیداوار کھاؤ جہاں سے چاہو جتنی رغب ہو کھاؤ کوئی پابندی نہیں اور یہ بھی حکم دیا گیا کہ جب اس شہر میں جانے لگو تو زبان سے لفظ حطۃ کہو یعنی اے اللہ ہماری درخواست حطہ ذنوب اور وضع معاصی ہے یعنی اے اللہ ہمارے کاندھوں سے گناہوں کا بوجھ اتار دے اور اس شہر کے دروازے میں تواضع اور عاجزی کے ساتھ جھکے جھکے داخل ہونا تو ہم تمہاری اس توبہ اور نیاز مندی کی بناء پر تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور جو تم میں سے نیکو کار اور مخلص ہیں ان کو مزید انعام اور ثواب سے نوازیں گے پس جو ان میں سے ظالم اور سرکش تھے وہاں پہنچ کر سرکشی کرنے لگے اور جو قول اور لفظ ان کو بتلایا گیا اس کو دوسرے قول سے بدل دیا۔ جو اس کے بالکل برعکس تھا یعنی انہوں نے بجائے حطۃ کے " حنطۃ فی شعرۃ " کہا جس کے معنی یہ ہیں کہ بالوں میں گیہوں دے اور بجائے سجدہ کرنے کے سرین کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے پس اس سرکشی کی سزا میں ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھییجا یعنی طاعون آیا یا کوئی اور عذاب آیا جس سے ایک وقت میں ستر ہزار آدمی مرگئے اس لیے کہ وہ لوگ ظلم کرتے تھے یعنی انکا قول اور فعل سب بےمحل تھا اس لیے اسمان سے ان پر بلا نازل ہوئی اور برمحل نازل ہوئی یہ واقعہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔