7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 7:175–183

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اسکے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا۔

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کردیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی۔ کہ اگر سختی کرو تو زبان نکا لے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو (ان سے) یہ قصہ بیان کردو تاکہ وہ فکر کریں۔

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا۔

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے۔ اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھے نہیں اور اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ (بالکل) چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور خدا کے سب نام اچھے ہی ہیں تو اس کو اس کے ناموں سے پکار کرو۔ اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی (اختیار) کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو ۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اسکی سزا پائیں گے۔

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا۔

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہت دیے جاتا ہوں۔ میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔

دیدہ و دانستہ حق سے انحراف اور ہوا پرستی کا حال اور مآل اور اس کی مثال قال اللہ تعالیٰ واتل علیھم نبا الذی آتینہ ایتنا۔۔۔ الی۔۔۔ واملی لھم ان کیدی متین (ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ کے عہود اور مواثیق کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ایسے ہوا پرستوں اور گرفتاران حرص وطمع کا ھال اور انجام اور مثال بیان کرتے ہیں جو حق کو قبول کرلینے اور پوری طرح سمجھ لینے کے بعد محض دنیوی طمع کی بناء پر احکام خداوندی سے منحرف ہوجائیں اور شیطان کے اشاروں پر چلنے لگیں اور خدا کے عہد اور میثاق کی پرواہ نہ کریں ایسوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اس لیے بطور تذکیر اس سلسلہ میں ایک واقعہ ذکر فرمایا۔ شان نزول اس آیت کے شان نزول میں مفسرین نے مختلف روایتیں نقل کی ہیں اکثر مفسرین کے نزدیک اس آیت میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا حال مذکور ہے جس کا نام بلعم بن باعوراء تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بہت کچھ علم دیا تھ اور مستجاب الدعوات بھی بنایا تھا آخر میں اس نے ایک عورت کے اغواء سے اور مال و دولت کی لالچ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سرکشی کی جس سے وہ مردود ہوگیا ساری کرامتیں اس کی چھن گئیں اور اس کی زبان کتے کی طرح باہر نکل آئی اور دنیا میں ذلیل اور آخرت میں عذاب عظیم کا مستحق ہوا۔ ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ اس آیت میں امیۃ بن ابی الصلت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ شخص توریت اور انجیل کا زبردست عالم تھا اور صاحب شعر و حکمت تھا اور اس کو معلوم تھا کہ اخیر زمانہ میں فارقلیط کا ظہور ہوگا اور آنحضرت ﷺ کے حالات اور صفات بخوبی جانتا تھا اور لوگوں میں یہ وعظ کہتا تھا کہ جس نبی آخر الزمان ﷺ کے ظہور کی انبیاء سابقین نے خبر دی ہے اس کے ظہور کا زمانہ قریب آگیا ہے مگر جب حضور پرنور کا ظہور ہوا تو ازراہ حسد آپ سے برگشتہ ہوگیا اور کفار کا طرفدار بن گیا حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ امیۃ کا شعر تو مسلمان ہے مگر اس کا دل کافر ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس آیت میں ابو عامر راہب کی طرف اشارہ ہے جو ایک نصرانی عالم تھا اس نے منافقوں کے بہکانے سے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی غرض سے مسجد ضرار بنوائی۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں یہ تمام روایتیں اس کے شان نزول کے متعلق نقل کی ہیں اور لکھا ہے کہ مشہور یہی ہے کہ یہ آیت بلعم بن باعوراء کے بارے میں نازل ہوئی اور یہی مناسب ہے کیونکہ اس سے مقصود بنی اسرائیل کو سنانا ہے کہ ایک ایسا عالم اور صاحب تصر درویش نبی کی مخالفت سے مردود ہوگیا پس تم نبی کی مخالفت نہ کدو ورنہ تمہارا بھی یہی حال ہوگا بہر حال شان نزول جو بھی ہو اس قصہ میں علماء کے لیے خاص تنبیہ ہے کہ جس کو خدا تعالیٰ علم اور ہدایت سے نوازے اسے چاہئے کہ نفسانی خواہش کا ہرگز ہرگز اتباع نہ کرے اور یہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے ہر ہوا پرست عالم کو شامل ہے ہر عالم کو اس سے سبق لینا چاہئے اور خدا سے پناہ مانگنی چاہئے اللہم اعوذبک من علم لا ینفع ومن قلب لا یخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعاء لا یسمع اعوذبک من شر ھؤلاء الاربع۔ آمین۔ اور اے نبی آپ ان لوگوں کو نصیحت اور عبرت کے لیے اس شخص کا حال اور قصہ سنائیے جسے ہم نے اپنی آیتوں کا علم عطاء کیا پس وہ ان آیات کے علم سے ایسا باہر نکل گیا جس طرح سانپ اپنی کینچلی سے باہر نکل آتا ہے اور کینچلی سے اس کو کوئی تعلق نہیں رہتا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا کہ وہ اس کو چھوڑتا ہی نہیں سو وہ آیتوں کا عالم ایسے گمراہوں میں سے ہوگیا جس کی ہدایت کی کوئی توقع نہیں رہی مشہور قول کی بناء پر ان آیات میں بلعم بن باعوراء کا ذکر ہے جو بنی اسرائیل میں ایک زبردست مستجاب الدعوات اور صاحب کرامات شخص تھا اس نے بعض شریروں کے بہکانے سے رشوت لے کر حضرت موسیٰ پر بددعا کی کہ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی کرامت چھن گئی اور راندہ درگاہ ہوگیا اور کتے کی طرح اس کی زبان باہر نکل آئی اور دنیا میں ذلیل اور آخرت میں عذاب عظیم کا مستحق ہوا اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کے سبب اس کو رفعت اور بلندی مرتبہ عطاء کرتے یعنی اگر وہ ان آیتوں پر عمل کرتا تو اس کا مرتبہ اور بلند ہوتا اور اتنا بلند ہوتا کہ شیطان وہاں تک نہ پہنچ سکتا و لیکن وہ بجائے بلندی کے پستی کی طرف یعنی دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور نفسانی خواہش کا پیرو بن گیا اس لیے ہم نے اس کو توفیق اور عنایت کے بلند مقام سے دناءت اور خست کی طرف پھینک دیا۔ پس خست اور ذلت میں اس کی مثال کتے کی سی مثال ہے اگر تو اس پر حملہ کرے یا اس پر کوئی بوجھ اور مشقت ہانپتا ہے مطلب یہ ہے کہ کتا دونوں حالتوں میں یکساں ہے کسی حال میں اپنی عادت نہیں چھوڑتا تمام حیوانات کا قاعدہ ہے کہ جب ان پر کوئی مشقت پڑتی ہے یا پیاس اور تشنگی ان کو لااحق ہوتی ہے تو اپنی زبان باہر نکال دیتے ہیں ورنہ جب سکون اور آرام کی حالت میں ہوتے ہیں تو نہیں نکالتے بخلاف کتے کے کہ اس پر مشقت پڑے یا نہ پڑے وہ ہر حال میں اپنی زبان باہر لٹکائے رہتا ہے جو اس کی خست اور دناءت کی نشانی ہے اور یہ اس کا طبعی خاصہ ہے کتے کا زبان کو لٹکانا اور ہانپتے رہنا یہ اس کی اندروانی حرص اور طمع کی ظاہری نشانی ہے جو کسی وقت اس سے علیحدہ نہیں ہوتی پیاسا جانور تو فقط پیاس کے وقت زبان لٹکاتا ہے مگر کتا ہر وقت زبان کو لٹکائے رہتا ہے اور حرص اور طمع اور اضطراب کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہوا پرست عالم کی زبان حرص وطمع کی وجہ سے ہر وقت لٹکی پڑی رہتی ہے اور بدحواسی اور پریشانی سے ہر وقت ہانپتا رہتا ہے اور یہ قلق اور اضطراب اور بےآرامی کبھی اس سے جدا نہیں ہوتی۔ یہ آیت ہوا پرست عالم کے لیے غایت درجہ کی عبرت ہے کہ حق تعالیٰ نے اس کو ایک نہایت خسیس اور ذلیل و حقیر حیوان کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ جو عالم علم اور ہدایت سے باہر نکل کر نفسانی شہوتوں کی طرف متوجہ ہوا وہ کتے کے مشابہ ہے جو خسیس ترین اور حریص ترین جانور ہے جسے نجاست اور مردار جلوے سے زیادہ لذیذ ہے۔ (اے اللہ تیری پناہ) حکایت : کسی عارف باللہ کا قول ہے کہ ہواء تقدیر کا عجب حال ہے کسی کو معلوم نہیں کہ کدھر سے چلتی ہے اور کیا تماشہ دکھاتی ہے اگر فضل کی طرف سے چلتی ہے تو بہرام گبر کے زنار کو عشق خداوندی کا کمر بند کردیتی ہے اگر عدل کی طرف آتی ہے تو بلعم کی رسم توحید کو اڑا کر کتے کے برابر کردیتی ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ رباعی آنرا بری از صومعہ دردیر گبراں افگنی : دیں راکشی از بتکدہ سرحلقہ مرداں کنی چون وچرا درکار تو عقل زبوں را کے رسد : فرماں دہ مطلق توئی حکمے کہ خواہی آں کنی یہی حال اور مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے دیدہ و دانستہ ازراہ تکبر وعناد ہماری آیتوں کو جھٹلایا یعنی کچھ علماء ہی کی خصوصیت نہیں یہ مثال تمام کفار معاندین اور مکذبین پر صادق آتی ہے جو حق واضح ہوجانے کے بعد بھی کتے کی طرح دنیا کی حرص اور طمع میں پڑے رہے اور ہوا پرستی کا شکار بنے رہے پس اے نبی آپ ان کو یہ قصے سنائیے شاید وہ کچھ غور وفکر کریں اور برے انجام سے ڈریں۔ بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے جان بوجھ کر ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور یہ لوگ تکذیب کر کے اپنی ہی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں ہمارا کوئی نقصان نہیں۔ ہوا پرستی کی بناء پر یہ لوگ دنیا میں کتوں کے مشابہ بنے اور آخرت میں بھی کتوں جیسا معاملہ ہوگا۔ آگے یہ بتلاتے ہیں کہ آیات اگرچہ ہدایت کا سبب اور ذریعہ ہیں۔ مگر جب تک توفیق یزدانی اور عنایت ربانی دستگیری نہ کرے اس وقت تک ہدایت نہیں ہوتی۔ چناچہ فرماتے ہیں جس کو اللہ توفیق دیتا ہے وہی آیات خداوندی سے راہ یاب ہوتا ہے اور جس کو وہ اپنی توفیق سے محروم کردے سو ایسے ہی لوگ ابدی خسارہ میں پڑجاتے ہیں اور باوجود علم وفضل کے ان کو ہدایت نہیں ہوتی اور آیات خداوندی ہدایت ہی کے لیے اتاری گئیں اور بظاہر ہدایت کا سبب ہیں لیکن ہدایت اور گمراہی کا اصل سبب قضا وقدر ہے اس لیے کہ تحقیق ہم نے دوزخ کے لیے بہت سے جن اور انسان پیدا کیے ہیں تاکہ وہ خدا تنور (دوزخ) کا ایندھن بنیں جس طرح ہم جنت کے رزاق ہیں اسی طرح ہم جہنم کے بھی رازق۔ ہم نے بہت سے جنوں اور انسانوں کو جہنم کے رزق کے لیے پیدا کیا ہے ہم مالک مطلق اور خالق مطلق ہیں جو چاہیں کریں بندہ کا فرض بندگی اور بےچون وچرا اطاعت ہے بندہ کو چاہئے کہ اس کو جو حکم دیا گیا ہے وہ بجا لائے قضاء وقدر کے اسرار کو خدا کے سپرد کرے۔ ان منکرین اور معاندین کے لیے دل ہیں مگر ان دلوں سے حق کو نہیں سمجھتے اور ان کے واسطے آنکھیں ہیں مگر ان سے آیت قدرت اور دلائل نبوت کو نہیں دیکھتے اور ان کے کان ہیں مگر ان سے کوئی حق بات سننا نہیں چاہتے دل بھی ہے اور آنکھ بھی ہے اور کان بھی ہے مگر توفیق نہ ہونے کی وجہ سے ہدایت گم ہے ایسے لوگ جو حواس اور قوائے ادراکیہ کو دنیائے فانی کی لذتوں اور شہوتوں کی طرف متوجہ رکھتے ہیں۔ مانند جو پاؤں کے ہیں۔ جن کا مقصود زندگی ہی کھانا اور پینا اور سونا ہے بلکہ یہلوگ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں چوپائے اپنے مالک کو اور اپنے نفع اور ضرر کو تو پہانتے ہیں اور یہ لوگ باوجود انسان ہونے کے آخرت کے نفع اور ضرر کو نہیں پہچانتے یہ لوگ وہ ہیں کہ جو باوجود توجہ دلانے کے آخرت سے بالکل غافل ہیں اس لیے کہ ان کی شہوت ان کی عقل پر غالب ہے ایسے ہی لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے جن کی یہ صفات مذکور ہوئیں ان کے دوزخی ہونے کا سبب یہ صفات ہیں قضاء وقدر اللہ کا فعل ہے وہ جو چاہے مقدر کرے وہ مالک مختار ہے اس کی تقدیر کا کسی کو علم نہیں کہ اس نے تقدیر میں کیا لکھا اس نے انسان کو پیدا کیا اور اپنی عنایت سے اس کو عقل اور قدرت اور ارادہ عطاء فرمایا انسان دنیا کے مشکل سے مشکل کام اسی خداد عقل اور قدرت سے کرتا ہے اور دنیا کے کاموں میں دوڑتا پھرتا ہے مگر جب آخرت کے کام کا ذکر آتا ہے تو مجبور بن جاتا ہے اور تقدیر کا حوالہ دینے لگتا ہے کہ میری تقدیر میں یوں ہی لکھا ہے یہ سب بہانے ہیں جو قابل شنوائی نہیں مسئلہ قضاء وقدر کی تحقیق بقدر ضرورت ختم اللہ علی قلوبھم کی تفسیر میں گزر چکی ہے وہاں دیکھ لیجائے۔ اہل ایمان کو نصیحت اور توحید اور دعا کی ترغیب گزشتہ آیت میں غافلوں کا ذکر کیا اب اس آیت میں مومنوں کو ذکر الٰہی کی ترغیب دیتے ہیں اور متنبہ کرتے ہیں کہ تم غفلت نہ اختیار کرنا اور حکم دیتے ہیں کہ غفلت سے دور رہنے کا طریقہ یہ ہے کہ یاد الٰہی میں لگے رہو اور اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سب اچھے نام جو اس کی صفات کمالیہ پر دلالت کرتے ہیں کوئی نام اس کی عظمت و جلالت شان پر دلالت کرتا ہے اور کوئی اس کے جو دونوال پر اور کوئی اس کی تنزیہ وتقدیر پر بس اے مسلمانو ! تم اللہ کو انہی اسماء حسنی کے ساتھ پکارا کرو اور اس کے ہر نام سے وہ حاجت طلب کرو جو اس نا کے مناسب ہو مثلا یا رحمن ارحمنی۔ یا رزاق ارزقنی۔ یا ھادی اھدنی۔ یا فتاح افتح لی۔ یا تواب تب علی۔ یعنی اے رحمن مجھ پر رحم فرما اور اے رزاق مجھ کو رزق عطا اء فرما۔ اس طرح اسماء حسنی کے ذریعہ سے دعائیں اور حاجتیں مانگو اور ان لوگوں کے طریقہ کو چھوڑو جو اللہ کے ناموں میں کج راہی کرتے ہیں یعنی ٹیڑھے چلتے ہیں اسماء الٰہیہ میں الحاد (کجروی) کی کئی صورتیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا غیر اللہ پر اطلاق کیا جائے جیسا کہ مشرکین، غیر اللہ کو الہ اور معبود کہتے ہیں۔ اور الہ سے لات اور عزیز سے عزای وغیرہ بنا کر بتوں کے نام رکھتے ہیں ردوم یہ کہ اللہ کو غیر مناسب اسماء وصفات کے ساتھ موسوم کیا جائے جیسا کہ نصارٰ خدا تعالیٰ کو اب یعنی باپ کہتے ہیں سوم یہ کہ خدا تعالیٰ کو ایسے نام اور وصف سے پکارا جائے جو خلاف ادب ہو جیسے یوں کہہ کر پکارے اے ضرر رساں اے محروم کرنیوالے اے بندر کے خالق اے کیڑوں کے پیدا کرنے والے اگرچہ حق تعالیٰ سب چیزوں کے پیدا کرنے والے ہیں مگر دعا میں اس طرح کے الفاظ کا استعمال کرنا خلاف ادب ہے اور علی ہذا جو نام اور صفت شریعت سے ثابت نہیں یا نامعلوم المعنی ہیں ایسے ناموں کا اطلاق بھی کجروی میں داخل ہے مثلاً خدا تعالیٰ کو یا کریم کہنا تو صحیح ہے اور یا سخی کہنا صحیح نہیں۔ اور خدا تعالیٰ کو عالم اور حکیم کہنا صحیح ہے مگر عاقل اور طبیب کہنا صحیح نہیں شریعت میں خدا تعالیٰ پر ان ناموں کا اطلاق وارد نہیں ہوا عنقریب ان ملحدین کو اپنے کیے کی سزا ملے گی کہ اللہ کے اسماء وصفات میں کیوں کجراہی کرتے تھے مشرکین عرب اللہ پاک کو یا ابا المکارم اور یا ابیض الوجہ کہہ کر پکارتے تھے اور نصاری یا ابا لمسیح اور یا ابا الملائکۃ کہتے تھے اور حکماء فلالسفہ علت اولی بولتے تھے حق تعالیٰ نے اس قسم کے ناموں کے اطلاق کی ممانعت میں یہ آیت نازل فرمائی اور من جملہ ان لوگوں کے جن کو ہم نے جنت کے لیے پیدا کیا ہے ایک جماعت ایسی بھی ہے جو لوگوں کو حق کی راہ بتاتی ہے اور حق کے ساتھ لوگوں کا انصاف کرتی ہے یہ مہاجرین اور انصار کی جماعت ہے اور جو لوگ قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلیں گے۔ یہ آیت امت محمدیہ کے حق میں ایسی ہے جیسا کہ ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون۔ امت موسویہ کے حق میں ہے اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو درجہ بدرجہ یعنی آہستہ آہستہ اور بتدریج ہلاکت کے مقام تک ہپنچائیں گے اس طرح سے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی کہ جب کوئی معصیت کریں گے تو ان کے واسطے دنیاوی نعمت اور کرامت اور زیادہ کردیں گے جس سے وہ سمجھیں گے کہ خدا تعالیٰ ہم سے خوش ہے اور یہ نعمتیں کبھی ہم سے زائل نہ ہونگی پھر جب وہ نعمتوں میں خوب مست ہوجائیں گے تب یک لخت ان کو پکڑ لیں گے اور غفلت کی حالت میں ان کو ہلاک کردیں گے۔ استدراج کے معنی تدریج یعنی جو درجہ بدرجہ اور آہستہ آہستہ پکڑنے کے ہیں کہ بتدریج ان کو ہلاکت کی طرف لے جایا جائے۔ امام قشیری فرماتے ہیں کہ نعمت عطاء کرنا اور شکر کا بھلا دینا یہ استدراج ہے اور اور میں ان لوگوں کو ڈھیل بھی دونگا یعنی ان کی شرارتوں پر فورا نہیں پکڑوں گا بلکہ مہلت دوں گا کہ دل کھول کر دنیا کے مزے اڑالیں اور جرم کا پیمانہ لبریز ہوجائے۔ تحقیق میری تدبیر بڑی محکم اور مضبوط ہے۔ " کید " اس تدبیر کو کہتے ہیں جو پوشیدہ ہو استدراج کو کید اس لیے فرمایا کہ ظاہر میں انعام اور اکرام ہے اور باطن میں تذلیل وتحقیر ہے یعنی ناکامی اور رسوائی ہے۔ : گزشتہ آیت یعنی سیجزون ما کانوا یعملون۔ میں ملحدین کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلایا کہ جو لوگ حق جل شانہ کے نزدیک مبغوض ہوں۔ یہ ضروری نہیں کہ انہیں فوراً عذاب دیا جائے بلکہ بطور استدراج ان کو مہلت ملتی ہے۔ ایک شبہ : شبہ یہ ہے کہ اس جگہ تو یہ فرمایا ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من لاجن والانس۔ ہم نے بہت سے جن اور انس کو دوزخ کے لیے پیدا کیا اور دوسری جگہ یہ ارشاد فرمایا وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ کہ جن اور انس سب کو صرف عبادت کے لیے پیدا کیا۔ جواب : یہ ہے کہ اس جگہ اپنی تقدیر اور تکوین کو بیان فرمایا کہ تکوینی اور تقدیری طور پر بہت سوں کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ اپنے معبود برحق کی عبادت اور اطاعت کریں اور خداوند قدوس نے جو ان کو عقل اور فہم اور قدرت اور ختیار دیا ہے اس کو اس کی عبادت اور اطاعت میں خرچ کریں خدا اور رسول ﷺ کے مقابلہ میں اس کو استعمال نہ کریں دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں ایک جگہ غایت تشریعی کا بیان ہے اور ایک جگہ غایت تکوینی اور تقدیری کا بیان ہے۔
Ayahs 7:184–186

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ تو وہ ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں اور جو چیز خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی ؟ اور (اس بات پر خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں کہ ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو ؟ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اسکو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں۔

تہدید بر عدم نظر وفکر وتذکریر موت قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکرو ما بصاحبہم من جنۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ویذورھم فی طغیانھم یعمھون (ربط) گزشتہ آیات میں گمراہوں اور آخرت سے غافلوں کی تہدید وتوبیخ کا ذکر تھا اب ان آیات میں ان کی غفلت اور گمراہی کے سبب کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ غور وفکر سے کام نہیں لیتے اس لیے کبھی نبوت رسالت کے بارے میں ان کو شبہ لاحق ہوتا ہے اور کبھی خداوند ذوالجلال کی الوہیت اور ربوبیت میں شبہ پیش آتا ہے اگر یہ لوگ حضور پر نور ﷺ کے حال اور معجزات میں غور کرتے تو آپ کی نبوت و رسالت میں ان کو شبہ نہ ہوتا اور اگر آسمان و زمین کی خلقت میں غور کرتے تو خدا کی وحدانیت میں کوئی شبہ نہ رہتا ان کو چاہئے کہ اس بات میں غور کریں کہ شاید ان کی موت اور ہلاکت کا وقت قریب آگیا ہے اس لیے ان کو چاہئے کہ موت آنے سپہلے سنبھل جائیں اور مابعد الموت کی تیاری کریں۔ ربط دیگر : گزشتہ آیات میں ان کے قصور کا بیان تھا اب ان آیات میں ان کے بیہودہ شبہات کا جواب ہے۔ ایک شبہ تو آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات کے متعلق کرتے تھے کہ یہ مدعی نبوت کوئی دیوانہ شخص معلوم ہوتا ہے اور دوسرا شبہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے متعلق تھا اب ان آیات میں ان بیہودہ شبہات کا جواب دیتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں کیا یہ نادان آنحضرت ﷺ کی طرف جنون کی نسبت کرتے ہیں اور انہوں نے اس بات میں غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو جنون سے ذرہ برابر کوئی مس بھی نہیں ہمیشہ سے آپ کے ساتھ رہے اور یہ لوگ آپ کے حال سے بخوبی واقف ہیں دنیاوی لذات سے کنارہ کش اور ہمہ تن آخرت کی طرف متوجہ ہیں دن رات حکمت وموعظمت کی باتیں بتلاتے ہیں آپ تو صرف صاف طور پر آئندہ کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں اور ایسی علم و حکمت کی باتیں ایک مجنون سے سرزد نہیں ہوسکتیں جس کو یہ مجنون کہتے ہیں دل سے ان کو بھی یقین ہے کہ مجنون کی باتیں ایسی نہیں ہوتیں کیا ان لوگوں نے دیدہ عقل سے آسمانوں اور زمین کے ملک عظیم میں نظر نہیں کی یعنی نجوم اور کواکب اور شمس وقمر اور کوہ ودریا میں نظر نہیں کی اور ان کے علاوہ خدا تعالیٰ نے قسم قسم کی جو چیزیں پیدا کی ہیں ان کو نہیں دیکھا جس سے صانع کی کمال قدرت اور مبدع کی جماع وحدت ان پر ظاہر ہوجاتی کیونکہ عالم کا ذرہ ذرہ اس کی وحدانیت کی گواہی دے رہا ہے اور نہ ان لوگوں نے اس بات کا خیال کیا کہ شاید ان کی موت قریب آگئی ہو اور اس ڈر سے توبہ کرلیں کہ کہیں کفر کی حالت میں نہ مرجائیں پس اس قرآن کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے اس کے بعد تو قیامت تک کوئی کتاب نازل ہوئی ہی نہیں کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ کی آخری کتاب ہے جس سے تمام پہلی کتابیں منسوخ ہوگئیں جس کو اللہ گمراہ کرے اور توفیق سے اس کو محروم کرے پس اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور ان معاندین کو خدا تعالیٰ گمراہی سے نکالتا نہیں بلکہ ان کو ان کی گمراہی اور سرکشی میں چھوڑ دیتا ہے کہ اسی میں برابر سرگرداں اور حیران پھرتے رہیں اور راہ راست پر نہ آئیں اور آخرت پر ایمان نہ لائیں ان آیتوں میں استدراج کو بیان کیا جس کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں پر نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے یہاں تک کہ وہ عیش و عشرت میں ایسے مست ہوجاتے ہیں کہ دل کے اندھے ہوجاتے ہیں اور جس منع حقیقی نے یہ نعمتیں دی ہیں اس سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں بلکہ اس کو بھلا دیتے ہیں جب غفلت کی اس منزل میں پہنچ جاتے ہیں تو پکڑے جاتے ہیں اور ان کو یہ معلوم نہیں کہ یہ سارا ماجرا از اول تا آخر قضاء وقدر میں طے ہوچکا ہے۔ اب ائندہ آیت میں مشرکین کے ایک احمقانہ سوال کو ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔
Ayahs 7:187–188

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے ؟ کہہ دو اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کر دے گا۔ وہ آسمان اور زمین میں ایک بھاری بات ہوگی۔ اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے۔

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا۔ اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔

تذکیر آخرت و ذکر قیامت قال اللہ تعالیٰ یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔۔۔ الی۔۔۔ ان انا الا نذیر وبشیر القوم یومنون۔ (ربط) گزشتہ آیت عسی ان یکون قداقترب اجلھم میں انفرادی قیامت کا ذکر تھا اس لیے کہ حدیث میں ہے۔ من مات فقد قامت قیاتہ جو شخص مرگیا اس کی قیامت تو قائم ہوگئی اب ان آیات میں مجموعہ عالم کی قیامت کا ذکر ہے پس جس طرح کسی شخص کو اپنی شخصی قیامت یعنی اجل اور موت کا علم نہیں اسی طرح سمجھ لو کہ پوری دنیا کی اجل یعنی موت کا علم بھی کسی کو نہیں کون بتلا سکتا ہے کہ قیامت کس تاریخ اور کس دن میں اور کس وقت میں آئے گی۔ اس کا علم سوائے خداوند علام الغیوب کے کسی کو نہیں قریش کے ایک گروہ نے آپ سے سوال کیا کہ اے محمد ﷺ یہ بتلاؤ کہ قیامت کب آئے گی اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ مشرکین قیامت کو یعنی دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ ان کا خیال خام تھا مرنا تو کوئی محال چیز نہیں رہا مر کر زندہ ہونا سو اس میں اگر کوئی اشکال ہوسکتا ہے تو صرف یہ ہے کہ نیست سے ہست ہونا کیونکر ممکن ہے سو یہ بھی دن رات مشاہد ہے اس میں بھی کوئی قابل اعتراض بات نہیں خداوند قدوس کی قدرت میں ذرا غور کریں تو سارے شبہات دور ہوجائیں چناچہ فرماتے ہیں۔ یہ لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کس وقت قائم ہوگی تاکہ قیامت قائم ہونے سے کچھ دیر پہلے ایمان لے آئیں آپ جواب میں کہدیجئے کہ جز ایں نیست کہ قیامت کا علم صرف میرے پروردگار ہی کے پاس ہے جس کی خبر نہ کسی ملک مقرب کو ہے اور نہ نبی مرسل کو نہیں ظاہر کریگا اس کو اس کے وقت پر مگر وہی جو اسے جانتا ہے قیامت کا حادثہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری اور گراں حادثہ ہے جس میں آسمان اور زمین سب کی فناء ہے اس لیے حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو مخفی رکھا جائے نہیں آئے گی تم پر قیامت مگر ناگہاں اس لیے تم کو اس سے ڈرتے رہنا چاہئے اور آنے سے پہلے اس کی تیاری کرلینی چاہئے اور پہلے سے بتلادینے میں یہ بات نہ رہے گی۔ یہ لوگ آپ ﷺ سے قیامت کے متعلق اس طرح سے سوال کرتے ہیں کہ گویا آپ ا سے پورے باخبر اور واقف ہیں آپ کہدیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے اس ہے اللہ تعالیٰ نے کسی حکمت اور مصلحت سے اس کے علم کو اپنے ساتھ مخصوص کرلیا ہے جس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ منکرین قیامت کو آخروقت تک قیامت کی آمد کا پتہ نہ چلے جیسے انسان کو آخر وقت تک موت کا علم نہیں کہ کب آئے گی اسی طرح کسی کو قیامت کے آنے کا وقت بھی معلوم نہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ بہت سی چیزیں ایسی بھی ہیں کہ جن کا علم حق تعالیٰ شانہ کے ساتھ مخصوص ہے کسی حکمت اور مصلحت کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ان کا علم انبیاء اور ملائکہ سے بھی روک لیا ہے منجملہ ان کے ایک قیامت ہے جس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے اس کے سوا اور کسی کو نہیں مگر اکثر آدمی یعنی کفار اپنی بےعلمی کے سبب یہ سمجھتے ہیں کہ نبیوں کو قیامت کا علم ہی ضروری ہے اور اگر کوئی نادان یہ کہے کہ نبی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ غیب دان ہو تو اے نبی آپ اس سے کہد یجئے کہ میں تو اپنی ذات کے لیے بھی چہ جائیکہ دوسروں کے لیے کسی نفع اور ضرر کا مالک نہیں مگر جتنا اللہ تعالیٰ چاہے فقط اتنی مقدار مجھے اختیار حاصل ہوجاتا ہے میں نہ اختیار مستقل رکھتا ہوں اور نہ علم محیط اور اگر میں غیب داں ہوتا تو میں اپنے لیے بہت سی بھلائی جمع کرلیتا اور مجھ کو کبھی کوئی برائی نہ پہنچتی یعنی اگر میں غیب داں ہوتا تو بہت سی بھلائیاں اور کامیابیاں حاصل کرلیتا جو علم غیب نہ ہونے کی وجہ سے مجھ سے فوت ہوجاتی ہیں۔ نیز بسا اوقات لا علمی کی وجہ سے مجھ کو ناگوار حالت بھی پیش آتی ہے اگر پہلے ہی مجھے علم ہوتا تو یہ اضطراب اور پریشانی مجھ کو لاحق نہ ہوتی انسان کو اگر پہلے سے علم ہوجائے تو نہایت آسانی کے ساتھ بہت سی مشکلات کی روک تھام ممکن ہے میں نہ تو مجنون ہوں اور نہ غیب داں ہوں میں تو صرف عذاب الٰہی سے ڈرانے والا اور ایمان والوں کو ثواب کی بشارت دینے والا ہوں یعنی میری نبوت کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ میں احکام خداوندی کا بشیر اور نذیر ہوں نہ مجھے علم غیب ہے اور نہ میں کسی نفع اور ضرر کا مالک ہوں مشرکین عرب آنحضرت ﷺ کی نبوت میں جہاں اور شبہات نکالتے تھے وہاں یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو ہمیں دنیاوی مضرتوں سے بچانے کے لیے ہمیں غیب کی خبریں بتلائیے اور آنیوالی مصائب سے ہمیں آگاہ کیجئے تاکہ ان سے بچنے کی تدبیر کرلیجائے ان سب مزخرفات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اے نبی آپ ان سے یہ کہدیجئے کہ میں خود اپنے ہی نفع اور ضرر کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ میں عالم الغیب ہوں جو تمہیں غیب کی باتیں بتاؤں۔
Ayahs 7:189–202

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اسکے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا کا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اسکے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر کچھ بوجھ معلوم کرتی (یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا) ہے تو دونوں (میاں بیوی) اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دیگا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

جب وہ ان کو صحیح وسالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اسکا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں خدا (کا رتبہ) اس سے بلند ہے۔

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے جاتے ہیں ؟

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اگر تم ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں تمہارے لئے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے رہو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں۔

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں ؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلا لو اور میرے بارے میں جو تدبیر کرنی ہو کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں۔

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

اور میرا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (بر حق) نازل کی اور نیک لوگوں کا وہی دوست دار ہے۔

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں۔ اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بظاہر) آنکھیں کھلے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے۔

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو۔

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں۔

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں (پھر اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے۔

اثبات توحید وابطال شرک قال اللہ تعالیٰ ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم لا یقصرون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کا ذکر تھا کہ وہی ہر نفع اور ضرر کا مالک ہے اور وہی عالم الغیب ہے اور شروع سورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب سورت قریب الختم ہے اس لیے حضرت آدم اور حوا کا قصہ اجمالی طور پر دوبارہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے اگرچہ گزشتہ آیات میں بھی توحید خداوندی کا مختصر سا ذکر ہوا ہے لیکن ان آیات میں اس مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہی اللہ ہے جس سنے تم سب انسانوں کو ایک ذات یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور پھر اسی ایک ذات سے اسکا جوڑ پیدا کیا۔ یعنی حواء کو پیدا کیا تاکہ آدم اس جوڑے کے ساتھ سکون اور آرام حاصل کرے۔ یعنی عورت کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا پھر ان سے نسل کا سلسلہ چلا اور اولاد پیدا ہوئی اور ان میں بھی میاں بیوی ہوئے سو ان میں بعض کی یہ حالت ہوئی کہ جب مرد نے عورت سے مقاربت یعنی ہم بستری کی تو اس عورت نے ایک ہلکا سا بوجھ اٹھایا یعنی نطفہ نے اس کے رحم میں قرار پکڑا جو ایک ہلکا سا بوجھ تھا۔ سو وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی رہی۔ اول اول حمل کا بوجھ ہلکا رہا جس کی وجہ سے وہ بےتکلیف چلتی پھرتی رہی پس جب وہ بوجھل ہوئی اور میاں بیوی دونوں کو یقین ہوگیا کہ حمل ہے تو اس وقت دونوں کو طرح کے خطرات اور توہمات پیش آنے لگے جیسا کہ پیش آیا کرتے ہیں تو اس وقت میاں اور بیوی دونوں اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگنے لگے کہ اے پروردگار اگر تو نے ہم کو صحیح سالم بیٹآ عطاء کیا تو ہم ضرور تیرے شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے جیسا کہ عام عادت ہے کہ نعمت ملنے سے پہلے بڑے عہد اور میثاق کرتے ہیں پھر جب نعمت مل جاتی ہے تو حالت بدل جاتی ہے پس یوں ہی ہوا کہ جب اللہ نے ان کو صحیح سالم بیٹآ دے دیا تو انہوں نے اس خداداد بیٹے میں جو اللہ نے ان کو عطاء کیا شریک ٹھہرانے لگے اور یہ کہنے لگے کہ بیٹا تو تاثیر کواکب سے پیدا ہوا ہے اور کسی نے کہا کہ ہمارے بتوں نے ہم کو بخشا ہے وغیرہ وغیرہ اسی لیے کسی نے بچہ کا نام عبدالعزی اور عبد مناف رکھا اور کسی نے عبد شمس اور اور کسی نے عبد المسیح اور کسی نے عبدالنبی اور کسی نے عبدالرسول اور کسی نے بندہ علی نام رکھا۔ سو اللہ پاک اور برتر ہے اس چیز سے جو کو یہ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں منعم حقیقی کے نام پر تو نام نہ رکھا اور غیر اللہ کی طرف اس کو منسوب کردیا بجائے عبداللہ اور عبدالرحمن نام رکھنے کے عبدالشمس اور عبدالعزی نام رکھدیا۔ محققین مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ابتداء آیت میں اگرچہ آدم اور حواء کا ذکر تھا مگر وہ بطور تمہید تھا مگر بعد میں مطلق مرد اور عورت کے ذکر کی طرف منتقل ہوگئے کیونکہ حضرت آدم اور حضرت حواء کے ذکر سے مقصود یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے آدمیوں میں نر اور مادہ کو پیدا کیا تاکہ ایک دوسرے سے مانوس ہوں جسکا ان کو شکر گزار ہونا چاہئے تھا مگر ان کی حالت یہ ہے کہ آڑے وقت میں تو صرف ہم کو پکارتے ہیں اور جب وقت نکل جاتا ہے تو ہمارے ساتھ اوروں کو شریک کرنے لگتے ہیں غرض یہ کہ اصل مقصود مطلق مرد اور عورت کا حال بتلانا ہے اس لیے محققین مفسرین کی رائے یہ ہے کہ فلما اتھما صالحا جعلا لہ شرکاء فیما اتھما میں تثنیہ کی تینوں ضمیریں خاص حضرت آدم اور حواء کی طرف راجع نہیں بلکہ ان دونوں کی اولاد کے مردوں اور عورتوں کی طرف راجع ہیں یا یوں کہو کہ ان کی نسل میں سے دو مختلف جنسوں کی طرف راجع ہیں اور تقدیر کلام الٰہی اس طرح سے ہے فلما اتی اللہ ادم وحواء الولد الصالح الذی تمنیاہ وطلباہ۔ جعل کفار اولادھما ذلک مضافا الی غیر اللہ تعالی۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ادم اور حواء کو فرزند صالح عطا فرمایا جس کی ان دونوں نے خواہش کی تھی تو آئندہ چل کر ان کی کافر اولاد نے اس کو غیر خدا کی طرف منسوب کیا اور اس تاویل کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ فتعلی اللہ عما یشرکون میں لفظ یشرکون صیغہ جمع کا لایا گیا ہے اور یشرکان صیغہ تثنیہ کا نہیں لایا گیا معلوم ہوا کہ خود حضرت آدم اور حواء مراد نہیں بلکہ یہ شرک کسی جماعت سے صادر ہوا ہے جو اولاد آدم سے ہے اور مسلسل شرک میں گرفتار ہیں کیونکہ عما یشرکون مضارع کا صیغہ ہے و استمرار تجددی کے لیے لایا گیا ہے معاذ اللہ جس کا حضرت آدم اور حواء کے بارے میں تصور بھی نہیں ہوسکتا معاذ اللہ اگر آیت میں حضرت آدم و حواء کا شرک مراد ہوتا تو فتعالیٰ عما یشرکان بصیغہ تثنیہ آتا معلوم ہوا کہ جعلالہ شرکاء کی ضمیر تثنیہ۔ دو جنسین یا نوعین مختلفین کی طرف راجع ہے نہ کہ آدم اور حواء کی طرف۔ غرض یہ کہ ان آیات میں خاص آدم اور حواء کا حال بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ عام آدمیوں کے مرد اور عورت کا حال بیان کرنا مقصود ہے بیشک ابتداء کلام یعنی ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منہا زوجھا میں بطور تمہید آدم اور حواء کا ذکر تھا مگر اس کے بعد مطلق مرد اور عورت کے ذکر کی طرف منتقل ہوگئے اور قرآن کریم میں بکثرت ایسا ہے کہ شخص کے ذکر سے جنس کے ذکر کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں جیسے ولقد زینا السماء والدنیا بمصابیح وجعلنھا رجوما للشیطین میں جن سیاروں کو مصابیح فرمایا ہے وہ ٹوٹنے والے نہیں جن سے شیاطین کا رجم ہوتا ہے مگر شخص مصابیح سے جنس مصابیح کی طرف راجع کی گئی۔ اب بحمدہ تعالیٰ وجعلا لہ شرکاء کی تفسیر میں کوئی اشکال نہیں رہا اور بعض مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ اس آیت میں روئے سخن آدم اور حواء کی طرف ہے اس لیے کہ بعض روایتوں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ حضرت آدم اور حواء (علیہما السلام) کا حال ہے حضرت حواء کے کئی بچے مرچکے تھے اس کے بعد وہ حاملہ ہوئیں تو شیطان نے ان سے آکر کہا کہ اگر اس کا نام عبدالحارث رکھا اور حارث ابلیس کا نام تھا اور بظاہر حضرت حواء کو اس کی خبر نہ تھی کہ حارث شیطان کا نام ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ یہ مشورہ دینے والا شیطان ہے یا بھیس بدل کر آیا ہوگا اور حضرت حواء نے پہچانا نہ ہوگا۔ اور اس قسم کا مکر حضرت آدم اور حواء نے نہ کبھی سنا تھا اور نہ دیکھا تھا پہلا موقعہ تھا بیخبر ی سے دھوکہ میں آگئے سو یہ روایت اگرچہ ترمذی میں مذکور ہے مگر متعدد وجوہ سے معلول ہے اور حضرات محدثین نے اس کی تضعیف کی ہے علاوہ ازیں اسماء اعلام میں لغوی معنی کا لحاظ اور اعتبار نہیں ہوتا اور اگر بالفرض کچھ لحاظ ہو بھی تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جس کی طرف لفظ عبد کو مضاف کیا جائے اس کو معبود سمجھ لیا جائے عرب کا محاورہ ہے کہ میزبان کو عبدالضیف کہتے ہیں یعنی مہمان کا غلام اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ مہمان اس کا معبود ہے اور یہ اس کی پوجا کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے جد امجد کا نام عبدالمطلب تھا کوئی شخص اس کا مطلب نہیں سمجھتا تھا کہ وہ مطلب کے بندہ ہیں اور مطلب ان کا معبود ہے پس اگر عبدالحارث نام رکھنے کا واقعہ صحیح ہو تو اس سے شرک فی التسمیہ مراد ہوگا۔ معاذ اللہ یہ ممکن نہیں کہ حقیقۃ ً شرک کا ارتکاب کرے۔ لیکن ایسا نام رکھنا جس سے شرک کی بو آتی ہو۔ یہ نبی کی شان رفیع کے مناسب نہیں اور قرآن کریم کی عادت ہے کہ انبیاء اور مقربین کی چھوٹی سی چھوٹی باتوں اور لغزشوں اور بھول چوک کو بھی سخت عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسا کہ یونس (علیہ السلام) کے قصہ میں ہے۔ فظن ان لن نقدر علیہ اور دوسری جگہ ہے حتی اذا استایئس الرسل وظنوا انھم قد کذبوا اسی طرح یہاں بھی سمجھئے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے رتبہ کے لحاظ سے اس تسمیہ کو جس میں شرک کا ایہام تھا تغلیظا ان الفاظ میں ادا فرمایا۔ وجعلالہ شرکاء آخر درخت سے کچھ کھالینا وہ بلاشبہ سہو اور نسیان سے تھا اور سہو ونسیان عقلاً ونقلاً قابل مواخذہ نہیں مگر حضرت آدم نے جو بھولے سے کھالیا اس پر قرآن کریم میں کس قدر عتاب آیا۔ یہ عتاب ان کی شان رفیع کے لحاظ سے تھا۔ ابطال شرک و بت پرستی گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ کی صفات کاملہ کا ذکر تھا جو اس کے استحقاق معبودیت کی دلیل تھیں اب آگے آلہہ باطلہ کے نقائص کا ذکر ہے جو ان کی عدم معبودیت کی دلیل ہیں بلکہ وہ تو اپنے پرستاروں سے بھی بدتر ہیں نہ ان کے ہاتھ ہیں نہ ان کے پیر نہ ان کے آنکھ نہ ان کے کان وہ اپنے پرستاروں کی آواز بھی نہیں سن سکتے پھر کیوں ان کی پرستش کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کیا یہ لوگ خالق کائنات کے ساتھ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور خالق کے ساتھ شریک کرنا کمال بےعقلی ہے اور اپنے ہاتھ کی تراشیدہ چیز کو اپنا معبود بنانا کمال ابلہی ہے اور کسی چیز کا پیدا کرنا تو بڑی بات ہے یہ تو اپنے پرستش کرنے والوں کی کسی قسم کی مدد بھی نہیں کرسکتے کہ ان کی مصیبت اور تکلیف ہی کو دور کردیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں کہ کوئی انکو توڑنے پھوڑنے لگے تو اپنے آپ کو توڑ پھوڑ ہی سے بچالیں یا کوئی ان پر میل یا گندگی لگانے لگے تو اسی سے اپنے آپ کو دور کرسکیں ان سے بہتر تو انسان ہی ہے کہ دوسرے کی بھی مدد کرسکتا ہے اور اپنا بھی بچاؤ کرسکتا حالانکہ عقل کا تقاضہ ہے کہ معبود عابد سے بہتر ہونا چاہئے یہاں ماجرا برعکس ہے اور اس سے بھی بڑھ کر سنو وہ یہ کہ اگر تم ان کو کسی بات کے بتلانے کے لیے پکارو تو وہ تمہاری پیروی نہ کریں تمہارا پکارنا اور خاموش رہنا سب برابر ہے پس ایسوں کو کیوں پکارتے ہو پس جو ذات اس درجہ عاجز ہو کہ پکار کو بھی نہ سنے وہ کیسے معبود ہوسکتی ہے حالانکہ پکار کو سن لینا نہایت سہل ہے اور کسی کی مدد کرنا یا اپنی حفاظت کرنا یہ اس سے مشکل ہے پس جو ذات ایسی آسان چیزوں سے افضل اور اکمل ہیں تو ان معبودوں کو پکارو تو سہی پس ان کو چاہئے کہ تمہاری پکار کا جواب دیں اور تمہاری عرض معروض کو قبول کریں اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ وہ تمہارے معبود برحق ہیں اس لیے کہ معبود برحق پر لازم ہے کہ وہ اپنے بندہ کی دعا کو قبول کرے اور اس کی نداء اور دعا کا جواب دے وہ تمہاری باتوں کا کیا جواب دے سکتے ہیں وہ تو ان کمالات سے بھی عاری ہیں جو ایک معمولی انسان کو حاصل ہوتے ہیں کیا ان کے لیے پیر ہیں جن سے وہ چل سکیں اور کسی قسم کی حرکت کرسکیں یا ان کے لیے ہاتھ ہیں جن سے وہ کوئی چیز پکڑ سکیں یا ان کے لیے آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھ سکیں یا ان کے لیے کان ہیں جن سے وہ سن سکیں پس ایسے لولوں اور لنگڑوں اور اندھوں اور بہروں کو خدا بنانا اعلی درجہ کی حماقت ہے مطلب یہ ہے کہ تم خود قائل ہو کہ ان کے نہ پاؤں ہیں اور نہ ہاتھ ہیں اور نہ انکی آنکھیں بینا اور نہ کان میں ہیں شنوا اور تمہیں یہ سب چیزیں حاصل ہیں تو تم ان سے افضل اور بہتر ہو لہذا تمہارا بتوں کے آگے جھکنا جو تم سے بہت کمتر اور عاجز ہیں کمال درجہ کی بےوقوفی ہے آپ ان سے کہدیجئے کہ تم اپنے تجویز کردہ شریکوں کو بلاؤ پھر سب ملکر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرو پھر مجھے مہلت بھی نہ دو مجھے تمہارے معبودوں کی ذرہ برابر پرواہ نہیں اس لیے کہ تحقیق میرا کارساز وہ اللہ ہے جس نے یہ مبارک کتاب مجھ پر نازل کی وہ خاص طور پر میرا کارساز اور معین اور مددگار ہے اور وہ تو عام طور پر سب نیکو کاروں کا کارساز ہے اور میں تو خدا تعالیٰ کا خاص الخاص پیغمبر ہوں وہ میری تو ضرور ہی مدد کرے گا۔ پھر مجھے کہاں کا ڈر ہے اور جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور پوجتے ہو یعنی بتوں کو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں جب کوئی ان کے توڑنے اور خراب کرنے کا قصد کرے تو وہ اپنی حفاظت نہیں کرسکتے اور مدد کرنا تو بڑی بات ہے ان کو تو اگر کسی بات بتلانے کے لیے پکارو تو وہ سنیں گے بھی نہیں کیونکہ ان کے کان ہی نہیں (اے نبی) آپ ان بتوں کو دیکھیں گے کہ گویا وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں۔ کیونکہ ان پر آنکھوں کی شکل بنی ہوئی ہے حالانکہ وہ واقع میں کچھ نہیں دیکھتے کیونکہ وہ حقیقت میں آنکھ نہیں رکھتے اور اگر بالفرض والتقدیر اس بیان واضح اور برہان ساطع کے بعد بھی آپ سے اپنے شرکاء کے بارے میں مجادلہ کریں تو اے نبی آپ ان مجادلین اور معاندین سے بچائے غصہ کے دگزر کو اختیار کرو شاید نصیحت قبول کریں اور ان کو نیک کام کا حکم دیجئے اگر ذرا بھی عقل ہوگی تو قبول کریں گے اور جاہلوں سے اعراض اور کنارہ کشی کرو یعنی وہ لوگ اگر جہالت سے پیش آئیں تو آپ ان سے اعراض کریں نہ ان پر غصہ کریں اور نہ ان کے درپے ہوں اور اگر اتفاقا کسی وقت ان کی جہالت پر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آپ کو غصہ پر آمادہ کرے تو آپ اس کے شر سے بچنے کے لیے خدا سے پناہ مانگئے بیشک اللہ تعالیٰ زبان کی بات کو سننے والا اور دل کی بات کو جاننے والا ہے جوش اور غصہ کے وقت اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم پڑھنا تریاق مجرب ہے تحقیق جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی ایسا خیال آتا ہے جو ان کے دل کے گرد گھوم جائے اور ان کو غصہ پر آمادہ کرے تو وہ چونک جاتے ہیں پھر ناگہاں اسی دم وہ بینا ہوجاتے ہیں اور راہ صواب ان کو نظر آجاتی ہے اور اس مینائی کے ذریعہ وسوسہ شیطانی کی ظلمت اور کدورت کو اپنے دل سے دور کرتے ہیں اور راہ صواب پر آجاتے ہیں اور اس سے وسوسہ کا اثر ان کے دل سے جاتا رہتا ہے اور اس کے برعکس برادران کفار یعنی شیاطین مشرکوں کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں پھر گمراہ کرنے میں کچھ کسر نہیں چھوڑتے مطلب یہ ہے کہ مومن کو گناہ کا خیال آتا ہے تو خدا کو یاد کر کے اس خیال سے باز آجاتا ہے اور شیطانی وسوسہ اس کے دل سے نکل جاتا ہے بخلاف کفار کے کہ ان کے برادران یعنی شیاطین جب ان کے ساتھ لگ جاتے ہیں تو ان کو خوب اپنے قابو میں کرلیتے ہیں اور ہمیشہ ان کو معصیت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ اس ترجمہ میں لفظ طائف کے اصل معنی کی طرف اشارہ ہے 12 منہ عفا اللہ عنہ خلاصۂ کلام یہ کہ متقین کو وسوسہ شیطانی سے اگر غفلت لاحق ہوتی ہے تو فورا چونک پڑتے ہیں اور ٹھوکر لگتے ہی سنبھل جاتے ہیں اور غفلت کا پردہ فورا ان کی آنکھوں سے اٹھ جاتا ہے بخلاف شیطانی برادری کے کہ اس کی غفلت اور معصیت میں برابر زیادتی ہوتی رہتی ہے۔ فائدہ : نبی اکرم ﷺ اور تمام انبیاء کرام صغائر اور کبائر سے معصوم ہیں اور شیطان کی مجال نہیں کہ ان پر اپنا کوئی داؤ چلا سکے اور اس آیت یعنی واما ینزغنک من الشیطان نزغ کا مضمون عصمت نبوی کے منافی نہیں اس لیے کہ اوپر کی آیت میں آنحضرت ﷺ کو حلم اور درگزر کرنے کا حکم ہوا تھا اب اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ اگر کسی وقت بمقتضائے بشریت جاہلوں کی جہالت پر آپ کو غصہ وغیرہ آجائے اور حکم سابق کے خلاف خیال آپ کے دل میں گزرے تو فورا اللہ پاک سے پناہ مانگئے اور اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھیے اور ظاہر ہے کہ ایسا خیال شان عصمت کے ذرہ برابر منافی نہیں
Ayah 7:203

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنا لی ؟ کہہ دو کہ میں تو اسی حکم کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش و بصیرت اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

جواب شبہ کفار دربارۂ رسالت قال اللہ تعالیٰ واذا لم تاتھم بایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ لقوم یؤمنون (ربط) گزشتہ آیات میں توحید کے ساتھ رسالت کا بھی ذکر تھا اب اس آیت میں کفار کے ایک شبہ کا جواب دیتے ہیں۔ بعض لوگ کج بحثی اور شرارت کی بناء پر آنحضرت ﷺ سے خاص معجزات کوئی خاص فرمائشی معجزہ ان کے سامنے ظاہر نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ آپ نے اس معجزہ کو کیوں نہیں بنالیا جس طرح آپ اور طرح طرح کی نشانیاں بنا کر لاتے ہیں اسی طرح ہماری فرمائش کے مطابق بھی ایک نشان بنا کر دکھا دیجئے آپ ان کے جواب میں کہدیجئے کہ معجزہ دکھلانا میرا کام نہیں۔ یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے جز ایں نیست میرا اصلی کام یہ ہے کہ میں صرف اس چیز کی پیروی کروں جو میرے پروردگار کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے آیتوں کا اتارنا اور معجزات کا ظاہر کرنا میرے اختیار میں نہیں وہ جب چاہتا ہے اتارتا ہے اور ظاہر کرتا ہے اور جب چاہتا ہے تو نہیں اتارتا اور نہیں ظاہر کرتا ہاں البتہ یہ قرآن جو بذریعہ وحی مجھ پر نازل ہورہا ہے یہ میرا سب سے بڑا معجزہ ہے یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے روشن دلیلیں ہیں جن سے راہ حق نظر آتی ہے اور خدا تک پہنچنے کا راستہ دکھلائی دیتا ہے اور اہل ایمان کے لیے مشعل ہدایت اور مژدۂ رحمت ہے کہ اس کے اتباع سے گمراہی سے نجات ملتی ہے اور خدا کی رحمت اور عنایت حاصل ہوتی ہے مگر افسوس ہے ان لوگوں پر جو اس ہدایت سے محروم ہیں۔