7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 7:26–34

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے بنی آدم ہم نے تم پوشاک اتاری کی تمہاری ستر ڈھانکے اور تمہارے بدن کو زینت دے اور جو پرہیزگاری کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے۔ جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکا کر جنت سے نکلوادیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروادیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول دکھائے وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔ )

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

(اور جب کوئی اور بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو کہ خدا بےحیائی کے کام کرنیکا حکم ہرگز نہیں دیتا۔ بھلاتم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہو گے۔

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

اور ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنایا۔ اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے بنی آدم ! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزین کیا کرو۔ اور کھاو اور پیو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا اس کو حرام کس نے کیا ہے کہ دو یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کیلئے ہیں اور قیامت کے دن خاص انہیں کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھتے والوں کیلئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جنکا تمہیں کچھ علم نہیں۔

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر ایک فرقے کیلئے موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرتا ہے اور نہ ایک گھڑی جلدی کرتا ہے۔

تحذیر از فتنۂ شیطانی دربارۂ بےحیائی وعریانی قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا۔۔۔ الی۔۔۔ لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون (ربط) گزشتہ قصہ میں شیطان کی عداوت کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلہ میں یہ بیان فرمایا کہ شیطان نے حضرت آدم اور حواء کو دھوکہ دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے بدن سے جنت کا لباس اتر پڑا جس سے گھبرا کر اور شرما کر جنت کے درختوں کے پتوں سے ستر کو ڈھانکنے لگے۔ یہ برہنگی شیطان کا پہلا فتنہ تھا اب آئندہ آیات میں اسی فتنہ کے متعلق احکام ارشاد فرماتے ہیں جس میں اہل عرب اور شیطان کے اغواء اور اضلال سے مبتلا تھے کہ برہنہ طواف کرتے تھے اور بعض چیزوں کے کھانے کو زمانۂ حج میں حرام جانتے تھے بعض لوگ بکری کا دودھ اور گوشت اور چکنائی چھوڑ دیتے تھے اور بعض لوگ گھی کو حرام کرلیتے تھے۔ اور حضرت آدم کے قصہ میں شیطان کی عداوت کا اثر حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ لباس اور طعام میں ظاہر ہوا۔ شجرۂ مممنوعہ کے کھانے کی وجہ سے جنت کے باقی اطعمہ سے محروم ہوئے اور جنت کا لباس بھی بدن سے اتر گیا۔ اس لیے حضرت آدم کے قصہ کے بعد شیطان کے اضلال اور اغواء کا جو اثر عرب کے اطعمہ اور البسہ میں ظاہر ہوا اس کے متعلق احکام نازل ہوئے کہ عریانی اور برہنگی۔ یہ سب امور حرام ہیں اور شیطان کے اغواء اور اضلال سے ہیں۔ اس لیے ان آیات میں اولاد آدم کو شیطان کی عداوت سے ڈرایا کہ یہ لعین، کہیں باپ کی طرح تم کو مصیبت میں مبتلا نہ کردے اس لیے شدید احتیاط کی ضرورت ہے۔ حق جل شانہ نے ان ہدایات اور ارشادات میں بنی آدم کو چار جگہ یا بنی آدم کے خطاب سے مخاطب فرمایا اور لفظ یا کلام عرب میں نداء بعید کے لیے آتا ہے اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ جو لوگ اس قسم کی بےحیائیوں میں مبتلا ہیں۔ وہ فطرت اور انسانیت اور آدمیت سے بہت بعید ہیں ان کو فطرت اور آدمیت کے قریب کرنے کے لیے یا بنی آدم کہہ کر پکارا جا رہا ہے۔ (نداء اول) یبنی آدم قد انزلنا علیکم لباسا الخ نداء دوم) یبنی آدم لا یفتننکم الشیطان کما اخرج ابویکم (نداء سوم) یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد الخ (نداء چہارم) یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیاتی۔ اور ان تمام مواضع میں حق تعالیٰ نے اپنے الزامات کا ذکر فرمایا ہے۔ نداء اول اے اولاد آدم ہم نے تم کو بےستری کی شرمندی سے بچانے کے لیے تم پر یہ انعام کیا کہ تحقیق ہم نے تم پر ایک لباس اتارا جو تمہاری شرمگاہوں کو چھپاتا ہے اور تمہارے لیے موجب زینت بھی ہے اور اس ظاہری لباس کے علاوہ جس سے صرف بدن کا تستر اور تزین ہوجاتا ہے ایک معنوی لباس بھی ہے وہ تقوی اور پرہیزگاری کا لباس ہے اور یہ لباس سب لباسوں سے بہتر ہے۔ تقوی سے مراد خوف خداوندی ہے جس میں ایمان اور اعمال صالحہ سب داخل ہیں۔ اور لباس پرہیزگاری سب لباسوں سے بہتر ہے ایک شاعر کہتا ہے۔ اذا انت لم تلبس ثیابا من التقی غریب وان واری القمیص قمیص یعنی اگر تو تقوی کا لباس پہنے ہوئے نہیں تو درحقیقت برہنہ ہے، اگرچہ ظاہر میں کرتہ پر کرتہ ہو : انزال کے معنی اوپر سے نیچے اتارنے کے ہیں چونکہ لباس کی پیدائش کا سبب بارش ہے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے جب تک آسمان سے بارش نہ ہو تو زمین سے روئی پیدا نہیں ہوتی جس سے لباس بنتا ہے۔ اس لیے لباس کے پیدا کرنے کو اتارنے سے تعبیر کیا گیا۔ یہ یعنی ہمارا تم پر لباس ظاہری وباطنی کو اتارنا خدا کی نشانیوں میں سے ہے جو اس کے فضل و رحمت پر دلالت کرتی ہیں تاکہ لوگ ان میں غور کریں اور نصیحت پکڑیں اور اس کی نعمتوں کا شکر بجا لائیں اور برہنگی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں۔ نداء دوم اے اولاد آدم تم اپنے باپ کا قصہ سن چکے ہوشیار رہنا کہیں شیطان تم کو فریب نہ دے دے۔ جیسا کہ اس نے تمہارے باپ آدم وحواکو جنت سے نکلوا دیا تھا۔ یعنی یہ شیطان تمہارا جدی اور پدری دشمن ہے اس سے احتیاط رکھنا یہ ننگے طواف کرنا اور تقوی کے لباس سے خالی ہونا یہ شیطانی حرکت ہے اسی نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے ایسی حالت میں نکلوایا کہ ان کا لباسان سے اس غرض سے اتارا تھا کہ ان کی شرمگاہیں دکھلائے تاکہ وہ اس شرم وندامت کی حالت میں جنت سے علیحدہ ہوں تحقیق وہ اور اس کا جتھا تم کو ایسی طرح سے دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے یعنی شیاطین تو آدمیوں کو دیکھتے ہیں اور آدمی شیاطین کو نہیں دیکھتے ایسے دشمن سے بچنا بہت مشکل ہے کہ جو ہم کو تو دیکھتا ہوں اور ہم اسے نہ دیکھتے ہوں ایسے دشمن سے بچاؤ ایمان اور تقویٰ ہی کے لباس سے ممکن ہے تحقیق ہم نے شیاطین کو انہی لوگوں کا رفیق اور دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے یعنی ان کا تسلط اور زور بےایمانوں ہی پر ہے جو اس کے دوست ہیں اور جو لوگ ایمان اور تقویٰ لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں جس وقت بےحیائی کا کام کرتے ہیں۔ جیسے خانہ کعبہ کا ننگے طواف کرنا اور کوئی ان کو اس سے منع کرتا ہے تو اپنی اس بےحیائی کے عذر میں یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ نے ہم کو یہ حکم دیا ہے۔ یعنی اپنے افعال قبیحہ اور اعمال شنیعہ کے جواز اور استحسان کے ثبوت میں اپنے بڑوں کو پیش کرتے ہیں اور ان افعال کو فرمودۂ خداوندی بتلاتے ہیں اے نبی آپ ان سے کہدیجئے کہ تم خدا تعالے پر محض افتراء کرتے ہو کہ اللہ نے ہمیں اس کام کا حکم دیا ہے یہ بالکل جھوٹ ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ بری باتوں کے کرنے کا حکم نہیں دیتا عقلاً یہ ناممکن اور محال ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی اور بری باتوں کا حکم دے اللہ تو انصاف کرنے کا اور نماز پڑھنے کا حکم دیتا ہے کیا تم اللہ کی طرف وہ بات منسوب کرتے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں یعنی تم اپنی بےعلمی سے اللہ پر بہتان باندھتے ہو۔ یہ نہایت سخت گستاخی اور بےباکی ہے آپ کہدیجئے کہ میرا پروردگار اس سے منزہ ہے کہ وہ کسی امر تسبیح کا حکم دے میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے خدا کے ساتھ کسی کو شریک گرداننا سراسر ظلم اور بےانصافی ہے اور میرے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے وقت اپنے منہ سیدھے خدا کی طرف متوجہ کرو اور اللہ کو ایسے پکارو کہ خالص اسی کی اطاعت کرنے والے ہو۔ یعنی عبادت اور دعا میں بتوں کو شریک نہ کرو محض اللہ ہی کی اطاعت کرو اور یہ سمجھ لو کہ ایک دن تم کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ جیسے خدا نے تم کو پہلی بار پیدا کیا اسی طرح تم بالآخر اس کی طرف لوٹو گے یعنی ننگے پن اور ننگے بدن اور ننگے پاؤں اور غیر مختون اور خدا کے روبرو پیش ہوگے۔ اور تم سے اعمال کی باز پرس ہوگی اور اس وقت پیش آنے والے دو گروہ ہوں گے ایک اہل سعادت کا اور ایک اہل شقاوت کا یعنی مومن اور کافر۔ ان میں سے ایک فریق کو اللہ نے ہدایت دی جو نبی آخر الزمان پر ایمان لایا اور ایک فریق پر گمراہی اور بدبختی ثابت ہوئی جس نے شیاطین کو اپنا دوست بنایا اس وقت ہر ایک کی سعادت اور شقاوت ظاہر ہوجائے گی کیونکہ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیاطین کو اپنا دوست بنایا اور ان کے کہنے پر چلے اور توحید کی بجائے بت پرستی اختیار کی اور بیحیائی کے کام کیے اور گمان یہ کرتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں۔ حشر کے بعد معلوم ہوجائیگا کہ دنیا میں کون حق پر تھا اور کون باطل پر تھا۔ یعنی ایسے اندھے ہوگئے ہیں کہ گمراہی کو ہدایت سمجھتے ہیں۔ نداء سوم اے اولاد آدم تمام احوال میں اور خاص کر نماز کی حالت میں اپنے بدن کی زینت اور رونق کو یعنی لباس کو ضرور لے لیا کرو۔ جو تمہاری زینت اور آرائش کے لیے پیدا کیا گیا اور لذائذ اور طیبات سے کھاؤ اور پیو تاکہ عبادت، اور اطاعت خداوندی کی قوت تم میں پیدا ہو اور کھانے اور پینے اور پہننے میں حدود شریعت سے باہر نہ نکلو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ زمانہ جاہلیت میں دستور تھا کہ کفار برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے مرد۔ دن میں اور عورتیں رات میں۔ نیز ایام حج میں کھانا بھی کم کھاتے اور بد مزہ کھایا کرتے تھے۔ اس میں گھی وگیرہ نہ ڈالتے تھے۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے ان لغویات کا رد فرمایا اور آئندہ آیات میں بھی اسی کا رد ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں آپ ان لوگوں سے جو ایام حج میں پاکیزہ غذاؤں سے اجتناب کرتے ہیں اور برہنہ طواف کرنے کو عبادت سمجھتے ہیں یہ کہدیجئے کہ بتلاؤ کس نے حرام کیا ہے اللہ کی زینت کو یعنی لباس اور پوشاک کو جس کو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے اور کس نے حرام کیا ہے اللہ کی زینت کو یعنی لباس اور پوشاک کو جس کو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے اور کس نے حرام کیا ہے کھانے پینے کی پاکیزہ چیزوں کو یعنی کسی نے بھی حرام نہیں یہ تمہاری جہالت ہے کہ تم طواف میں کپڑے نہیں پہنتے جو تمہارے لیے موجب زینت ہیں اور گوشت اور چربی نہیں کھاتے جو تمہارے لیے باعث لذت و راحت ہیں یہ تمام لذائذ وطیبات تمہارے ہی نفع کے لیے پیدا کیے ہیں۔ آپ ان سے یہ کہہ دیجئے کہ یہ ملبوسات اور لذائذ طیبات کی نعمتیں دنیاوی زندگی میں دراصل ایمان والوں کے واسطے ہیں۔ یعنی کھانے پینے اور پہننے کی تمام نعمتیں در اصل مسلمانوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور وہی ان کے اصل مستحق ہیں۔ تاکہ اللہ کے رزق سے اللہ کی طاعت اور عبادت کی قوت حاصل ہو۔ لیکن دنیا میں کافر بھی ان کے شریک ردئیے گئے ہیں بلکہ بطور استدراج وامہال ان کو زیادہ دے دیا گیا ہے تاکہ ان پر حجت پوری ہوجائے۔ رزق کے اسل مستحق اہل ایمان ہیں اور کافران کے طفیلی ہیں۔ ان نعمتوں سے مقصود بالانعام اہل ایمان ہیں جو اللہ کے محترم اور مکرم بندے ہیں جو اس کا رزق کھا کر اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور خدا کے نافرمان اور سرکش اگرچہ دنیاوی رزق میں بظاہر اہل ایمان کے شریک ہیں لیکن در پردہ طفیلی اور تابع ہیں کفار خدائے تعالیٰ کی نظر میں بمنزلہ چوپاؤں کے ہیں۔ اولئک کا لانعام بل ھم اضل ان شر الدواب عند اللہ الذین کفرو۔ جس طرح حیوان کو انسان کے طفیل میں کھانے کو بہت زیادہ مل جاتا ہے اسی طرح کفار کو اہل ایمان کے طفیل اور صدقہ میں خوب مل رہا ہے اور قیامت کے دن تمام نعمتیں خالص اہل ایمان ہی کے لیے ہوں گی۔ آخرت میں کفار کو بطور تطفل اور بطور تبعیت بھی ان نعمتوں میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا کیونکہ جنت اور جنت کی نعمتیں کافروں پر حرام ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور مصلحت سے دنیاوی زندگی میں کافروں کو نعمتوں میں شریک کردیا مگر یہ شرکت اصالتا نہیں بلکہ تبعا ہے بالذات نہیں بلکہ بالعرض ہے لقولہ تعالیٰ ومن کفر فامتعہ قلیلا ثم اضطرہ الی عذاب النار۔ یا یہ معنی ہیں کہ دنیا میں مومن اور کافر سب شریک ہیں۔ ع دشمن بریں خوان یغماچہ دوست مگر قیامت کے دن نعمتیں خاص ایمانداروں کے حصہ میں آئیں گی اور کفار ان سے محروم رہیں گے اسی طرح ہم اپنے احکام کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں اس گروہ کے لیے جو جانتے اور بوجھتے ہیں اور جو جہالتوں اور حماقتوں میں مبتلا ہیں ان کے لیے بتلانا اور نہ بتلانا سب برابر ہے۔ تفصیل محرمات گزشتہ آیات میں جاہلیت کی لغویات کا رد فرمایا اب آگے محرمات کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں۔ آپ کہدیجئے کہ جز ایں نیست کہ اللہ نے حرام کیا ہے تمام بےحیائی کے کاموں کو جو ان میں سے ظاہر ہیں ان کو بھی جیسے برہنہ طواف کرنا اور جو ان میں سے چھپے ہیں ان کو بھی جیسے بدکاری مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے عمدہ لباس اور عمدہ غذاؤں کو حرام نہیں کیا بلکہ بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے جن کے تم مرتکب ہو اور اللہ نے ہر قسم کے گناہ کو حرام کیا ہے۔ جس میں شراب اور جوا خاص طور پر داخل ہے کما قال تعالیٰ فیھما اثم کبیر اور کسی پر ناحق ظلم اور زیادتی کو حرام کیا ہے اور اس بات کو اللہ نے حرام کیا ہے کہ تم اللہ کے ساتھ ایسی چیز کو شریک گردانو جس کی اللہ نے کوئی حجت اور سند نہیں اتاری اور حرام کیا اللہ نے اس بات کو کہ تم اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرو جس کا تم کو علم نہ ہو یعنی اپنی جہالت سے اللہ پر بہتان باندھنا حرام ہے ظلم اور زیادتی اور شرک اور خدا پر جھوٹ بولنا۔ اگرچہ فواحش اور اثم (گناہ) کے تحت میں داخل تھا لیکن چونکہ یہ تین گناہ سب سے بڑھ کر ہیں اس لیے ان کو علیحدہ بیان کیا تاکہ ان کی برائی واضح ہوجائے مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں واقع میں حلال ہیں ان کو تم نے حرام سمجھ رکھا ہے اور جو چیزیں واقع میں حرام ہیں تو خدا تعالیٰ ان کے ارتکاب پر سزا کیوں نہیں دیتا تو جواب یہ ہے کہ ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے اس وقت مقرر کے آنے تک ان کو مہلت ملتی ہے پس جب وہ وقت مقرر آپہنچے تو ایک لمحہ کے لیے آگے اور پیچھے نہیں ہوسکتے وقت مقررہ آجانے کے بعد کوئی توبہ اور معذرت قوبل نہیں مقصود یہ ہے کہ عذاب الٰہی میں جلدی کرنا بیکار ہے ہر شخص کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجائے گا تو پھر ایک لمحہ کی تقدیم وتاخیر نہیں ہوسکتی۔ : لا یستقدمون کا ذکر محض تاکید اور مبالغہ کے لیے ہے جیسے ایک خریدار دکاندار سے قیمت بتلانے کے وقت کہتا ہے کچھ کم وبیش، تو دکاندار کہتا ہے کم وبیش کچھ نہیں دونوں جگہ کم کا ذکر مقصود ہے اور پیش کا لظ محض تاکید اور مبالغہ کے لیے تبعاً اور استطراداً ذکر کردیا گیا ہے اس طرح یہاں مقصود یہ ہے کہ جب خدا کا وعدہ آپہنچے تو پھر اٹل ہے ایک منٹ کی تقدیم وتاخیر نہیں ہوسکتی مقصود تاخیر کی نفی کرنا ہے۔ تقدیم کی نفی تو پہلے ہی سے ظاہر ہے اس کی نفی کا ذکر محض تاکید اور مبالغہ کے لیے ہے۔
Ayahs 7:35–43

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے بنی آدم ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کر رہے ہیں کہ جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں تو ان پر ایمان لایا کرو کہ جو شخص ان پر ایمان لاکر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں جلتے رہیں گے۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

تو اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا رہے گا۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھجے ہوئے فرشتے جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے تھے وہ اب کہاں ہیں ؟ وہ کہیں گے ہمیں معلوم نہیں کہ وہ ہم سے کہاں غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بیشک وہ کافر تھے۔

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

تو خدا فرمائے گا کہ جنوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھنم میں داخل ہوجاؤ۔ جب ایک جماعت وہاں جا داخل ہوگی تو اپنی مذہبی بہن یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت پر لعنت کریں گے یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گیں تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار ! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو انکو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ تم سب کو دگنا عذاب دیا جائیگا مگر تم نہیں جانتے

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضلیت حاصل نہ ہوئی تو جو تم عمل کیا کرتے تھے اس کے بدلے عذاب کے مزے چکھو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کیلئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہونگے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے۔ اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزادیا کرتے ہیں۔

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائیں اور عمل نیک کرتے رہیں اور ہم عملوں کیلئے کسی آدمی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں کہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور جو کینے ان کی دلوں میں ہونگے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ انکے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔ اور کہیں خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں کا راستہ دکھایا۔ اور اگر خدا ہمیں یہ راستہ نہ دکھاتا تو ہم راستہ نہ پاسکتے۔ بیشک ہمارے خدا کے رسول حق بات لیکر آئے تھے۔ اور اس روز منادی کردی جائے گی کے تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنادئے گئے ہو

نداء چہارم تذکیر عہد قدیم باطاعت خداوند کریم وبیان نعیم وجحیم قال اللہ تعالیٰ یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم۔۔۔ الی۔۔۔ اور ثتموھا بماکنتم تعملون۔ (ربط) ( گزشتہ آیات میں بنی آدم کے لیے تین نداؤں کا بیان ہوا جن میں عقائد و اعمال میں ابلیس کے اتباع اور موافقت سے اور احکام الہیہ کی مخالفت سے ممانعت فرمائی اب آئندہ آیات میں نداء چہارم کا ذکر ہے جس سے بنی آدم کو اپنا عہد قدیم یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تم کو اس مضمون کا خطاب کوئی جدید امر نہیں بلکہ عالم ارواح میں تم سے یہ عہد لے لیا گیا تھا کہ دیکھو ہم دنیا میں اپنے رسول بھیجیں گے اور ان کے ذریعہ سے ہم تم کو راہ ہدایت اور صراط مستقیم سے آگاہ کریں گے کہ اس راہ پر چل کر تم ہم تک پہنچ سکو گے اور جو ہمارے رسولوں کا اتباع کرے گا۔ اس کو یہ جزاء ملے گی اور جو ان کے احکام سے انحراف کرے گا اور شیطان کی راہ پر چلے گا اس کو یہ سزا بھگتنی پڑے گی جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا۔ قلنا اھبطوا منھا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون الایات۔ غرض یہ کہ ان آیات میں اس عہد قدیم کا یاد دلانا مقصود ہے جو اولاد آدم سے عالم ارواح میں لیا گیا تھا جو توحید اور رسالت اور قیامت اور مبدأ ومعاد کے بیان پر اجمالا مشتمل تھا چناچہ فرماتے ہیں۔ اے اولاد آدم ہم نے تم سے روز ازل میں یہ کہ دیا تھا کہ اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے یعنی تمہاری جنس سے رسول آئیں جو تم پر میری آیتیں پڑھیں پس جو ان کی ہدایت اور نصیحت کو سن کر اللہ سے ڈرے اور اپنی حالت کو درست کرے یعنی پوری طرح سے ان کا اتباع کرے تو ایسوں پر قیامت کے دن نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جنہوں نے ان کے آنے کے بعد ہمارے احکام کو جھٹلایا اور ان کے قبول کرنے سے تکبر کیا تو ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے کبھی بھی عذاب سے نہیں نکل سکیں گے۔ مسیلمہ قادیان کا ایک ھذیان واضح ہو کہ قادیانی جماعت نے مسیلمۂ قادیان کے اثبات نبوت کے لیے قرآن میں تحریف کا بیڑا اٹھا رکھا ہے چناچہ اس آیت کے معنی میں بھی تحریف کی ہے اور اس سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی رسول آسکتے ہیں۔ جواب : یہ ہے کہ یہ خطاب امت محمدیہ کو نہیں بلکہ یہ آیت حضرت آدم کے قصہ سے متعلق ہے۔ اور یہ اس وقت کا حکم ہے کہ جب دنیا کی ابتداء تھی اور زمین پر کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا تھا جیسا کہ ابن جریر (رح) تعالیٰ نے ابو یسار سلمی سے نقل کیا ہے کہ یہ خطاب یعنی یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم الخ کل اولاد آدم کو ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم اور ان کی ذریت کو اپنے دست قدرت میں لے کر عالم ارواح میں فرمایا تھا (روح المعانی ص 99 ج 8) جیسا کہ سورة بقرہ کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے قلنا اھبطوا منھا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی الخ اور سورة طہ کے رکوع ہفتم میں حضرت آدم اور حواء کو ملا کر ان الفاظ میں خطاب فرمایا ہے۔ قال اھبطا منھا جمیعا بعضکم لبعض عدو فاما یاتینکم منی ھدی فمن اتبع ھدای فلا یضل ولا یشقی۔ پس ان آیات نے واضح کردیا کہ یہ قصہ حضرت آدم کے وقت کا ہے اور یہ خطاب خاص اولاد آدم کو ہے کہ اے اولاد آدم خوب یادرکھو کہ یہ شیطان تمہارا دشمن ہے کہ تم اس کے مکروفریب سے ہوشیار رہنا۔ ایسا نہ ہو کہ تم کو شرک اور بےحیائی اور اثم وعدوان میں پھنسا کر پدری میراث (یعنی جنت) سے محروم کردے۔ ہم تذکیر آخرت کے لیے وقتا فوقتا تمہاری طرف اپنے رسول اور پیغمبر بھیجیں گے جو صاحب شریعت اور صاحب آیات بینات ہوں گے اور وہ تم کو اپنے باپ کی میراث یعنی جنت کے حاصل کرنے کی ترغیب دیں گے پس جو ان کا اتباع کرے گا وہ فلاح پائے گا اور جو ان کی تکذیب کرے گا وہ ہلاک اور برباد ہوگا چناچہ اس اعلان کے بعد حضرت آدم کی اولاد میں بڑے بڑے اولو العزم پیغمبر اور صاحب شریعت اور صاحب کتاب رسول اور پیغمبر آئے۔ یہاں تک کہ خاتم الانبیاء مبعوث ہوئے اور نبوت و رسالت کا دروازہ بند ہوگیا جیسا کہ آیات قرآنیہ اور احادیث متواترہ سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ سرور عالم محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔ ق قادیان کے دہقان نصوص قطعیہ صریحہ کے خلاف قیامت تک کے لیے انبیاء ورسل کی آمد کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں اور اس قسم کی آیتوں سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک رسولوں کے بھیجنے کا وعدہ کیا ہے یہ بالکل غلط ہے یہ وعدہ اولاد آدم سے ہے خاتم الانبیاء کے بعد قیامت تک نہ کوئی جدید شریعت آسکتی ہے اور نہ کوئی صاحب کتاب رسول آسکتا ہے مسیلمۂ قادیان کے نزدیک خاتم الانبیاء کے بعد صرف غیر تشریعی نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور تشریعی نبوت کا دروازہ اس کے نزدیک بھی بند ہے اور آیت مذکورہ یعنی یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایاتی میں بظاہر ان رسولوں کا آنا مراد ہے جو صاحب شریعت اور صاحب کتاب اور صاحب معجزات ہوں پس اگر یہ آیت بقاء نبوت پر دلیل ہے تو اس سے تو ہر قسم کی نبوت و رسالت کی بقاء ثابت ہوجائے گی۔ خواہ وہ نبوت تشریعی ہو یا غیر تشریعی۔ قادیان کے دہقان یہ کہہتے ہیں کہ نبوت ایک نعمت ہے۔ امت محمدیہ باوجود خیر الامم ہونے کے اس نعمت سے کیسے محروم رہے تو جواب یہ ہے کہ تشریعی نبوت سب سے ہی اعلی اور اکمل نعمت ہے تو جب سابقہ امتوں کو تشریعی نبی اور رسول ملتے رہے تو یہ امت تشریعی نبوت و رسالت کی نعمت سے کیوں محروم رہے اس لیے قادیانیوں کو چاہیے کہ کھل کر یہ اعلان کریں کہ تشریعی نبوت کا دروازہ بھی کھلا ہوا ہے اور خاتم الانبیاء کے بعد مستقل رسول اور صاحب شریعت اور صاحب کتاب نبی بھی آسکتے ہیں۔ ظلی اور بروزی نبوت کا نام لینے کی ضرورت نہیں غرض یہ کہ یہ آیت اگر بالفرض والتقدیر بقاء نبوت پر دلالت کرتی ہے تو اس آیت سے ہر قسم کے نبوت کے بقاء کا امکان ثابت ہوجائے گا۔ خواہ وہ نبوت تشریعی ہو یا غیر تشریعی سو یہ آیت بہائی فرقہ والوں کے لیے دلیل ہوگی جو اپنے اعتقاد میں قرآن کو منسوخ سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اب بہاء اللہ کی نبوت و رسالت کا دور شروع ہوگیا اور اسی آیت سے وہ دلیل پکڑتے ہیں۔ نیز اگر خاتم النبیین کے بعد کوئی نبی ہوسکتا ہے تو مرزائے قادیان کے بعد بھی نبی آسکتا ہے اور مرزا کا بھی ظل اور بروز ہوسکتا ہے۔ تفصیل سزائے مکذبین ومتکبرین گزشتہ آیت میں جس عہد کا ذکر کیا گیا اس میں نعیم وجحیم کا اجمالا ذکر تھا اب قدرے اس کی تفصیل کرتے ہیں۔ اول اہل جحیم کا حال بیان کرتے ہیں پھر اہل نعیم کا حال اور مآل بیان کریں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں پس اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا۔ جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یعنی جو بات خدا تعالیٰ نے نہیں کہی وہ اس کی طرف منسوب کی مثلا اس کا شریک ٹھہرایا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا یعنی جو بات خدا نے کہی تھی اس کا انکار کردیا ایسے لوگوں کو نوشۂ خداوندی سے حصہ پہنچے گا۔ یعنی خدا تعالیٰ نے ان کے لیے جو عمر اور مال وجاہ مقدر کیا ہے وہ ان کو دنیا میں مل جائے گا اور ایک وقت تک ان کو ملتا رہے گا۔ یہاں تک کہ جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحیں نکالنے آئیں گے تو وہ ان سے کہیں گے بتلاؤ کہا ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے۔ یعنی ان کو پکارو اور بلاؤ کو تمہاری مدد کریں اور تم کو عذاب سے بچائیں کفار جواب دیں گے کہ وہ معبود تو ہم سے غائب ہوگئے۔ واقعی کوئی ہمارے کام نہیں آیا اور اس وقت مجبور ہو کر وہ کافر اپنی جانوں پر گواہی دیں گے کہ بیشک وہ کافر تھے یعنی وہ اپنے کفر کا اقرار کریں گے اور بعض آیات میں جو یہ آیا ہے کہ وہ اپنے کفر وشرک کا انکار کریں گے۔ سو وہ اس آیت کے منافی نہیں اس لیے کہ قیامت کے دن مختلف مواقف اور مختلف احوال ہوں گے کسی جگہ انکار کریں گے اور کسی جگہ اقرار کریں گے خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ تم سب آگ میں ان امتوں کے ساتھ شامل ہوجاؤ جو جنوں اور انسانوں میں سے تم سے پہلے گزری ہیں یعنی جس آگ میں پہلے زمانوں کے کفار جن وانس ہیں تم بھی انہی میں داخل اور شامل ہوجاؤ اور اس وقت کیفیت یہ ہوگی کہ جب کبھی کوئی جماعت داخل ہوگی تو لعنت کرے گی اپنی دوسری ہم جنس جماعت پر یہودی یہودیوں پر لعنت کریں گے۔ عیسائی عیسائیوں پر۔ مجوسی مجوسیوں پر غرض یہ کہ اس مصیبت میں ایک دوسرے کی ہمدردی تو کیا ہوتی ایک دوسرے پر لعنت کریں گے یہاں تک کہ جب وہ سب دوزخ میں گر کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے تو ان کی پچھلی جماعت جو بعد میں داخل ہوئی ہوگی ان کی پہلی جماعت کے حق میں یہ کہے گی پچھلی جماعت سے عوام الناس مراد ہیں جو اپنے سرداروں کے تابع تھے اور ان کے حکم پر چلتے تھے اور پہلی جماعت سے ان کے سردار اور رؤسا مراد ہیں۔ اے ہمارے پروردگار انہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا یعنی یہ ہمارے مقتداء اور گمراہ ہیں اور ہم کو بھی گمراہ کر رہے ہیں غرض یہ کہ ہماری گمراہی کا سبب یہ لوگ ہوئے ہیں سو آپ ان لوگوں کو بہ نسبت ہمارے دوزخ کا عذاب دو چند دیجئے کیونکہ ان کا دھرا قصور ہے یہ خود بھی گمراہ تھے اور ہم کو بھی گمراہ کیا۔ خدا تعالیٰ فرمائے گا دونوں کا دونا عذاب ہے پہلی جماعت کو اس لیے دو گنا عذاب ہے کہ خود بھی گمراہ ہوئے اور باوجود اس کے کہ انبیاء اور ان کے وارثوں نے براہین قاطعہ اور دلائل ساطعہ سے تم پر حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا واضح کردیا۔ پھر بھی تم نے ان گمراہوں کا تباع کیا اور اہل حق کو چھوڑ کر ان کے پیچھے ہوئے اور انبیاء اور ان کے وارثوں نے پچھلی قوموں کی تباہی اور بربادی کا حال تم کو سنادیا۔ پھر بھی تم نے عبرت حاصل نہ کی و لیکن تم جانتے نہیں کہ ہر فریق کس درجہ عذاب کا مستحق ہے اور آئندہ چل کر اس کے عذاب میں کس قدر زیادتی ہوگی اور حق تعالیٰ کے اس جواب کے بعد ان کی پہلی جماعت ان کی پچھلی جماعت سے یہ کہے گی پس اس حساب سے تو تم کو ہم پر کوئی فضیلت اور فوقیت نہ ہوئی ہم دو چند عذاب میں مبتلا ہوئے اسی طرح تم بھی دو چند عذاب میں مبتلا ہوئے۔ گمراہی اور کفر میں ہم تم دونوں برابر ہیں۔ اچھا تو اب ہماری طرح تم بھی عذاب کا مزہ چکھو بدلہ میں اس کفر کے جو تم کماتے تھے۔ الغرض ہر ایک اپنے کرتوت کا مزہ چکھے گا۔ اس میں شک نہیں کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے قبول کرنے سے تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ یعنی ان کی زندگی میں ان کے اعمال وافعال آسمان پر نہیں چڑھ سکیں گی کیونکہ ان کے اعمال گندے ہیں اور ان کی روحیں نجس ہیں اور اللہ کی طرف اعمال صالحہ اور کلمات طیبہ اور پاک روحیں ہی چڑھتی ہیں۔ اسمان کا دروازہ ان لوگوں کے لیے کھلتا ہے۔ جنہوں نے انبیاء کرام کی بےچون وچرا تصدیق کی اور سر تسلیم ان کے سامنے خم کیا۔ اور جنہوں نے بجائے تصدیق کے انبیاء کی تکذیب کی اور بجائے تواضع کے ان سے تکبر کیا ان کے لیے آسمان کا دروازہ نہیں کھل سکتا جیسا کہ احادیث میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے کہ فرشتے جب کافر کی روح کو قبض کر کے آسمان کی طرف چرھتے ہیں تو آسمان اور زمین کے درمیان رہنے والے فرشتوں کی جس جماعت پر گزرتے ہیں تو وہ جماعت یہ کہتی ہے کہ یہ خبیث روح کس کی ہے جس سے مردار کی بدبو آرہی ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے اور دنیا میں جو اس کا بہت برا نام تھا وہ لے کر بتاتے ہیں یعنی اس خبیث کا اسم اور مسمی دونوں ہی گندہ اور پلید ہیں جب آسمان پر پہنچتے ہیں تو اس کے لیے دروازہ کھولنے کی درخواست کرتے ہیں۔ مگر اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا اور اس کی روح کو آسمان سے سجین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے اور مومن کی روح کے لیے آسمان کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور ہر آسمان کے مقرب فرشتے دوسرے آسمان تک اس کے ساتھ جاتے ہیں۔ تفصیل کے لیے احادیث کا مطالعہ کریں۔ غرض یہ کہ کافروں کی ارواح کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے تو یہ مرنے کے بعد کا حال ہوا اور قیامت کے حساب و کتاب کے بعد یہ لوگ جنت میں داخل نہیں ہونگے۔ یہاں تک کے اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجائے اور ظاہر ہے کہ یہ ناممکن اور محال ہے لہذا ان کا جنت میں داخل ہونا بھی ناممکن اور محال ہے۔ اس قسم کے کلام کو تعلیق بالمحال کہتے ہیں حاصل یہ ہے کہ جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکہ میں داخل ہونا محال ہے۔ اسی طرح ان کا جنت میں داخل ہونا بھی محال ہے اور اسی طرح ہم مجرموں کو سزا دیا کرتے ہیں یعنی کفار کو جو ہم نے یہ سزا دی کہ جنت میں ان کا داخل ہونا ناممکن اور محال بنادیا وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ مجرم ہیں اور مجرم کی یہی سزا ہے اور جرم یہ ہے کہ احکام خداوندی کی تکذیب کی اور ان کے قبول کرنے ستکبر کیا مقصود یہ ہے کہ کافر دخول جنت سے قطعاً مایوس اور ناامید ہوجائیں ان کی تکذیب اور تکبر نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان پر جنت کا دروازہ بند کردیا۔ اور عذاب محیط کو ان پر ایسا مسلط کردیا کہ ان کے لیے دوزخ ہی کافرش ہوگا اور ان کے اوپر اسی کے بالا پوش ہوں گے یعنی آگ ہی ان کا اوڑھنا اور بچھونا ہوگی۔ جس طرح دنیا میں ان کو کفر اور تکذیب اور تکبر احاطہ کیے ہوئے تھا اسی طرح آخرت میں ان کو عذاب خداوندی احاطہ کیے ہوئے ہوگا اور اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ بولے یا اس کے احکام کو جھٹلائے جس کا ذکر فمن اطلم ممن افتری علی اللہ کذبا الخ میں ابھی گزرا ہے ظلم ہی سے کلام کا آغاز ہوا اور ظلم ہی پر اس کا اختتام ہوا۔ تفصیل جزاء مومنین صالحین گزشتہ آیات میں مکذبین اور متکبرین کی سزا کی تفصیل تھی اب آگے مومنین صالحین کی جزاء کی تفصیل ہے جس میں اشارۃً یہ بتلایا ہے کہ آسمان اور جنت کے دروازوں کا کھلنا اعمال شاقہ پر موقوف نہیں کہ کوئی شخص کسی درجہ میں مشقت یا تکلیف مالا یطاق کا عذر کرسکے چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ آیات الہیہ پر ایمان لائے اور انبیاء کی ہدایت کے مطابق انہوں نے نیک عمل کیے اور ایمان لانا اور اعمال صالحہ کا کرنا کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ ہماری عادت یہ ہے کہ ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس کے مقدمات سے برھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتے مطلب یہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح کی تکلیف ایسا بوجھ نہیں جو ناقابل برداشت ہو اور طاقت بشری سے باہر ہو سو ایسے لوگ بہشتی ہیں بہشت میں داخل ہونگے وہ ہمیشہ بہشت ہی میں رہیں گے عمل ان کا اگرچہ محدود تھا مگر اس کی جزاء غیر محدود ہوگی اور جنت میں داخل ہوں گے وہ ہمیشہ بہشت ہی میں رہیں گے عمل انکا اگرچہ محدود تھا مگر اس کی جزاء غیر محدود ہوگی اور جنت میں داخل ہونے کے بعد اہل جنت کے مابین اہل نار کی طرح باہمی عداوت اور ایک دوسرے پر لعنت اور ایک دوسرے سے نفرت نہ ہوگی بلکہ ان مومنین صالحین کے سینوں میں جو ایک دوسرے کی طرف سے دنیا میں بمقتضائے بشریت کسی غلط فہمی کی بناء پر کسی قسم کی کوئی خفگی اور رنجش اور ناخوشی ہوگی تو جنت میں جانے کے بعد اس کو ہم ان کے سینوں سے کھینچ کر باہر نکال دیں گے جنت میں پنچ جانے کے بعد نہ ایک کو دوسرے سے عداوت ہوگی اور نہ شکوہ وشکایت سب بھائی بھائی بن کر رہیں گے کیونکہ رنج وغم عیش کو مکدر کردیتا ہے اور جنت میں تکدر کا نام ونشان نہ ہوگا اس آیت سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کبھی اس درجہ کے نیکوں میں بھی باہم رنجش اور کدورت پیش آجایا کرتی ہے جو خدا کے نزدیک بھی الذین امنوا وعملوا الصالحات اور اصحاب الجنۃ کا مصداق ہوتے ہیں اور ان کی اس باہمی رنجش سے اللہ کے نزدیک ان کے مرتبہ میں کوئی فرق نہیں آتا کیونکہ ان کی رنجش اور کدورت کی بنیاد حسد اور طمع پر نہیں ہوتی بلکہ محض للہ اور فی اللہ ہوتی ہے گو نفس الامر میں ان دونوں میں سے ایک خطا پر ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی طرف سے طلب حق میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے ان سے جو خطا اور غلطی ہوتی ہے وہ اجتہادی ہوتی ہے جس پر کوئی مواخذہ نہیں جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے لا تکلف نفس الا وسعہا۔ بلکہ اس پر اجر جیسا کہ حدیث میں ہے من اجتھد فاصاب فلہ اجران و من اخطأ فلہ اجر واحد۔ جس نے اجتہاد کیا اور صواب کو پہنچا اس کو دو اجر ہیں اور جس نے اجتہاد میں خطا کی اس کو ایک اجر ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہم اہل بدر کے بارے میں نازل ہوئی۔ نیز آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان ؓ اور طلحہ ؓ اور زبیر ؓ قیامت کے دن انہی لوگوں میں سے ہونگے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے ونزعنا ما فی صدورھم من غل (تفسیر ابن کثیر ص 215 ج 2 (تفسیر قرطبی ص 208 ج 7) کہتے ہیں کہ جنتی جب جنت کی طرف دوڑیں گے تو اس کے دروازے کے پاس ایک درخت پائیں گے جس کے نیچے دو چشمے جاری ہونگے جس میں سے ایک چشمے کا پانی وہ پئیں گے تو ان کے سینوں کا کینہ دور ہوجائیگا۔ وہی شراب طہور ہے کما قال تعالیٰ وسقاھم ربھم شرابا طھورا دوسرے چشمے سے وہ غسل کریں گے گے جس سے ان پر تازگی اور خوشحالی آجائے گی۔ (روح المعانی ص 104 ج 8 و تفسیر ابن کثیر ص 215 ج 2) اور بعض علماء نے ونزعنا مافی صدورھم من غل کے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ باوجودیکہ جنتیوں کے مدارج مختلف ہوں گے کوئی اعلی درجہ میں ہوگا اور کوئی ادنی درجہ میں مگر با ایں ہمہ ان کے دلوں میں ایک دوسرے پر حسد نہ ہوگا ہر ایک اپنے درجہ میں خوش ہوگا اور سب ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور اخلاص رکھیں گے بخلاف دوزخیوں کے کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے (تفسیر قرطبی ص 208 ج 7) ان کے مکانات کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ لوگ غایت مسرت سے حق تعالیٰ کے شکر میں یہ کہیں گے کہ سپاس بےقیاس ہے اس خداوند کریم کے لیے جس نے اپنے لطف وکرم سے ہم کو دنیا میں ایمان صحیح اور عمل صالح کی توفیق دی جس کی بدولت آج ہم کو جنت کی یہ عزت و کرامت نصیب ہوئی اور ہم بذات خود رہ یاب نہ ہوتے اگر اللہ ہم کو توفیق نہ دیتا اس کی توفیق اور عنایت سے ہم کو ہدایت میسر ہوئی واللہ لولا اللہ ما اھتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا فانزلن سکینۃ علینا ونحن عن فضلک ما استغینا گر بدرقۂ لطف تو نماید راہ از راہ تو ہیچ کس نگگردد آگاہ آنکہ برہ رسند وباید رفتن توفیق رفیق نشد واویلاہ اہل ایمان دخول جنت کے بعد اول حق تعالیٰ کی نعمت ہدایت اور نعمت توفیق کا شکر ادا کریں گے بعد ازاں حضرات انبیاء ورسل کا ذکر کریں گے جو خدا اور بندوں کے درمیان میں واسطہ فی الہدایت اور واسطہ فی الانعام ہیں اور یہ کہیں گے البتہ تحقیق ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے اگر یہ حضرات ہماری رہبری اور رہنمائی نہ کرتے تو ہم خدا تک نہیں پہنچ سکتے تھے یہ نعمت و کرامت جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ سب ان کا فیض صحبت اور ان کے اتباع کی برکت ہے اور ان حضرات نے ایمان اور عمل صالح اور اتباع شریعت پر ہجو جو وعدے ہم سے لیے تھے وہ سب سچ نکلے اور نعمائے آخرت کی جو بشارتیں ان حضرات نے ہم کو دی تھیں آج ہم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا۔ ہم کو جو کچھ ملا وہ حضرات انبیاء کے واسطے سے ملا بغیر انبیاء کرام کے توسط کے بارگاہ خداوندی میں رسائی ممکن نہیں۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھم اجمعین وعلی خاتم الانبیاء والمرسلین وعلی آلہ و اصحابہ اجمعین وعلینا معھم یا ارحم الراحمین۔ خلاصۂ مطلب یہ کہ محض حق تعالیٰ کی توفیق اور دستگیری اور پھر حضرات انبیاء کرام کی رہنمائی اور رہبری سے ہم کو یہ اعلی مقام نصیب ہوا اور نہ ہم کہاں اور یہ مقام کہاں اور اہل جنت جب ان تمام نعمتوں اور کرامتوں کو اللہ تعالیٰ کی توفیق اور ہدایت اور اس کے لطف و عنایت کا کرشمہ سمجھ کر اس کا شکر کریں گے اور اس کو اپنے ایمان اور عمل صالح کا ثمرہ اور صلہ نہیں سمجھیں گے۔ تو اس وقت ان کو خدا کی طرف سے نداء دی جائے گی۔ کہ یہ جنت ہے جس کے تم اپنے عملوں کے عوض وارث بنائے گئے ہو یعنی یہی وہ جنت ہے جس کا تم سے دنیا میں رسولوں نے وعدہ کیا تھا اب تم اس کے مالک ہوگئے حق تعالیٰ کے فضل سے اور پھر ایمان اور عمل صالح کی برکت سے تم نے اپنے باپ آدم کی میراث ہمیشہ کے لیے حاصل کرلی۔ : اور یہ نداء کرنے والا خدا کی طرف سے کوئی فرشتہ ہوگا جیسا کہ تفسیر در منثور میں ابو معاذ بصری ؓ سے مرفوعاً منقول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں فیذھب الملک فیقول سلام علیکم تلکم الجنۃ اور ثتموھا بما کنتم تعملون۔ نکتہ : اہل جنت نے اپنے اعمال کو حقیر اور ہیچ سمجھا اور جنت کو محض اللہ کا فضل سمجھا اور اس کا شکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آوازہ پڑا کہ چونکہ تم نے اعمال کو حقیر اور ہیچ سمجھا اور ان کو قابل جزا اور انعام نہ جانا اور ہماری بارگاہ میں تذلل اور تواضع اور ادب کو ملحوظ رکھا اس لیے اعلان کیا جاتا ہے کہ یہ جنت تمہاری عملی جدو جہد کا ثمرہ اور نتیجہ ہے اور ہمیشہ کے لیے تم اس کے مالک بنادئیے گئے۔ نکتہ دیگر : بما کنتم تعملون سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمل صالح دخول جنت کا سبب ہے اور ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ کوئی شخص بسبب عمل کے جنت میں نہ جائے گا بلکہ رحمت الٰہی کے سبب سے جنت میں جائیں گے سو جاننا چاہئے کہ آیت اور حدیث میں کوئی تعارض نہیں دخول جنت کا سبب ظاہری بندہ کا عمل ہے اور سبب حقیقی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے آیت میں سبب ظاہری کا ذکر ہے اور حدیث میں سبب حقیقی مراد ہے پس آیت اور حدیث میں کوئی تعارض نہیں رہا۔