7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 7:94–102

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو جو ایمان نہ لائے دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں۔

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ مال اولاد میں زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے اس طرح کا رنج ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اپنے حال میں بیخبر تھے

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے تو ان پر آسمان اور زمین کی برکات کے خزانے کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی تو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا۔

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ بیخبر سو رہے ہوں ؟

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

اور کیا اہل شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں ؟

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے ؟ سو خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہوں

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے مرجانے کے بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں ؟ اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں۔

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سناتے ہیں اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لیکر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو دیکھا تو بدکار ہی دیکھا

بیان اجمالی حال و مآل امم سابقہ برائے عبرت ونصیحت امم حاضرہ قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا فی قریۃ من نبی۔۔۔ الی۔۔۔ وان وجدنا اکثرھم لفسقین (ربط) گزشتہ رکوعات میں امم سابقہ کے واقعات قرے تفصیل کے ساتھ بیان کیے اب ان کا اجمالی خلاصہ بیان کرتے ہیں تاکہ موجودہ زمانے کے لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت کا ذریعہ بنیں کہ اے لگو تمہیں ان واقعات سے انبیاء کرام کی تکذیب کے برے نتائج کا علم ہوگیا مگر یہ یاد رکھو کہ یہ سزائیں ان کو دفعۃً نہیں دی گئیں بلکہ تنبیہات کے بعد دی گئیں کیونکہ ہماری عادت یہ ہے کہ لوگ جب انبیاء کی تکذیب کرتے ہیں تو ہم شروع میں تنبیہ کے طور پر بیماری اور قحط اور مختلف قسم کی سختیوں اور تکلیفوں کو ان پر مسلط کرتے ہیں تاکہ یہ مکذبین اپنی شرارتوں سے باز آجائیں اور بارگاہ الٰہی کی طرف جھکیں اور جب ان کی سخت طبیعتیں تنبیہات کا اثر قبول نہیں کرتیں تو ہم ان سے مصیبتوں اور سختیوں کو ہٹا کر ان پر اپنی نعمتوں اور احسانات کے دروازے کھول دیتے ہیں کہ شاید ان احسانات سے شرما کر ہماری طرف متوجہ ہوں اور سمجھیں کہ خدا تعالیٰ نے ہماری مصیبتوں کو دور کیا اور ہم کو اپنی نعمتوں سے نوازا اور خوشحالی بخشی مگر وہ عیش و عشرت میں اس قدر مست ہوجاتے ہیں کہ تضرع اور زاری کی طرف آنے کے بجائے اپنے حال کو یوں تاویل کرنے لگتے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں زمانہ کی گردش ہے کبھی یوں ہے اور کبھی ووں اور یہ نہ سمجھے کہ یہ سب اللہ کی آزمائش ہے زمانہ کے اتفاقات نہیں۔ پس جب لوگ غفلت کی اس منزل پر پہنچ جاتے ہیں تو اس وقت ناگہانی طور پر خدا کا عذاب غافلوں کو بحالت غفلت کو پکڑ لیتا ہے جبکہ وہ عیش و عشرت میں غافل اور مست ہوتے ہیں۔ پس اے گروہ قریش تم کو ہوشیار رہنا چاہئے کہ امم سابقہ کی طرح ناگہانی عذاب الٰہی تم کو نہ آ دبائے یہ نہ سمجھنا کہ عذاب الٰہی صرف انبیاء سابقین کے منکرین پر ہوا تھا تم پر بھی ان کار وتکذیب کے بعد اسی قسم کا عذاب آسکتا ہے۔ ہوشیار ہوجاؤ۔ ان واقعات کے ذکر کرنے سے ہمارا مقصود یہ ہے کہ تم عبرت پکڑو۔ یا یوں کہ کہ گزشتہ رکوعات میں امم سابقہ کا حال اور ان کی تکذیب کا عبرت ناک مآل ذکر کیا اب یہ بتلاتے ہیں کہ منکرین اور مکذبین کے بارے میں سنت الٰہیہ اور طریقۂ خداوندی یہ ہے کہ اول ان کو تنگی اور سختی میں مبتلا کرتے ہیں تاکہ عبرت پکڑیں اور ہوش میں آجائیں اور پھر ان پر رزق کے دروازے کھولتے ہیں تاکہ شکر کریں اور اطاعت کی طرف مائل ہوں لیکن جب ان پر کسی طرح اثر نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کو یکایک پکڑ لیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ امم سابقہ کو فقط تنبیہ قولی کے بعد ہلاک نہیں کیا گیا بلکہ فعلی اور عملی تنبیہات کے بعد بھی جب وہ متنبہ نہ ہوئے تب ہلاک کئے گئے چناچہ فرماتے ہیں اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بستی میں کوئی نبی اور اس بستی والوں نے اس نبی کو جھٹلایا مگر یہ کہ ہم نے اس بستی کو بالکلیہ تباہ اور برباد کرنے سے پہلے اس کے باشندوں کو بطور تنبیہ تنگی اور سختی میں یعنی فقر اور تنگدستی میں اور رنج اور بیماری میں مبتلا کیا کہ شاید وہ اس سے ڈر کر ہمارے آگے گڑ گڑائیں اور ہمارے نبی کی نصیحت اور دعوت کو قبول کریں تاکہ ان سے یہ بلا دفع کردی جائے پھر جب وہ ان بلاؤں اور مصیبتوں سے بھی متنبہ نہ ہوئے اور اسی طرح اپنے تکبر اور تکذیب پر قائم رہے تو ہم نے بطور استدراج اور بطریق مکر ان پر مال و دولت کے دروازے کھولدئیے اور بجائے شدت اور محنت کے ان کو صحت اور سلامتی اور راحت دے دی یہاں تک کہ وہ لوگ مال اور اولاد میں بہت زیادہ ہوگئے اور اپنی گزشتہ تنگی اور سختی کو بالکل بھول گئے اور اپنی غفلت اور سخت دلی کے باعث یہ کہنے لگے کہ اسی طرح کی تکلیف اور راحت ہمارے بڑوں کو پہنچتی رہی ہے یعنی ہم جس تکلیف میں مبتلا تھے وہ کچھ ہم پر خدا کا عتاب نہ تھا اور اب جو ہم سے وہ تکلیف جاتی رہی اور اس کے بدلہ ہم کو راحت ملی وہ ہم پر خدا کا کچھ انعام نہیں یہ سب زمانہ کے اتفاقات اور انقلابات ہیں قدیم زمانے سے یہی دستور چلا آرہا ہے کہ آدمی کو کبھی راحت پہنچتی ہے اور کبھی تکلیف اس میں ایمان اور کفر کو کوئی دخل نہیں جیسے موسم کبھی اچھا آتا ہے اور کبھی خراب اس میں اچھے اور برے اعمال کو کوئی دخل نہیں اور یہ نہ سمجھے کہ راحت اور مصیبت سب اللہ کے حکم سے ہے پس جب یہ لوگ ان ضراء اور سراء کے عملی تنبیہات کے بعد بھی اپنے تمرد اور تکبر پر قائم اور مضبوط رہے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑا یعنی ایسی حالت میں ان کو پکڑا کہ ان کو کسی قسم کا خوف نہ تھا اور وہ جانتے نہ تھے کہ ان پر عذاب نازل ہوگا ان کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ ہم یکایک اس عیش و عشرت سے محروم ہوجائیں گے اور یہ حسرت اور ارمان لے کر مرے کہ کاش اگر نزول عذاب کے کچھ آثار پہلے نظر آجاتے تو شاید توبہ کرلیتے اور یہ ساری بلا کفر اور تکذیب کی وجہ سے آئی اگر ان بستیوں کے لوگ پیغمبروں پر ایمان لے آتے اور ان کی تکذیب اور مخالفت سے پرہیز کرتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا اس لیے ہم نے ان پر قہر اور عذاب کے دروازے کھلدئیے پس ہم نے ان کو ان کے اعمال خبیثہ کی سزا میں پکڑ لیا اور عذاب مہلک سے ان کو ہلاک اور برباد کردیا کیا ان عبرتناک قصوں کے سننے کے بعد پھر بھی ان موجودہ بستیوں کے رہنے والے جو نبی اکرم ﷺ کے دور نبوت میں موجود ہیں اور عیش و عشرت میں مست ہیں اور نبی اکرم ﷺ کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں پس کیا یہ موجودہ بستیوں والے اس بات سے نڈر اور بےخوف ہوگئے ہیں کہ سابقین کی طرح رات کے وقت ان پر ہمارا عذاب آئے اور یہ سوتے ہوئے ہوں یعنی غفلت کے وقت میں عذاب کا شب خون ان پر آئے کیا یہ بستیوں والے اس بات سے بےخوف ہوگئے کہ دن چڑھے ان پر ہمارا عذاب آجائے اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔ خدا سے غفلت برتی۔ غفلت کی حالت میں پکڑے گئے۔ کیا یہ تکذیب کرنے والے خدا کے داؤ اور مکر سے بےخوف ہوگئے ہیں۔ عیش و عشرت اور خواب استراحت میں یکایک پکڑ لینا کہ جہاں سے کسی مصیبت کا وہم و گمان بھی نہ ہو یہ اللہ کا مکر یعنی اس کا داؤ ہے۔ پس نہیں بےخوف ہوتے مکر الٰہی سے مگر وہی لوگ جو زیاں کار ہیں اور نقصان کے مارے ہوئے ہیں کیا واضح نہیں ہوا ان لوگوں کے لیے کہ جو زمین کے پہلے باشندوں کے ہلاک ہونے کے بعد زمین وارث ہورہے ہیں۔ کہ اگر ہم چاہیں تو پہلے ہلاک شدہ لوگوں کی طرح ان کو بھی ان کے گناہوں کی سزا میں پکڑ لیں اور پہلوں کی طرح ان کو بھی کفر کا مزہ چکھا دیں اور اصل بات یہ ہے کہ ہماری سنت یہ ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے دلوں پر مہر کردیتے ہیں جو حق سے دیدہ و دانستہ اعراض کرتے ہیں پس ایسے لوگ حق کو سنتے ہی نہیں چہ جائیکہ اس کی طرف توجہ اور التفات کریں اگر دل کھلا ہوا ہوتا تو حق کو سنتا اور سمجھتا اور جب دل پر مہر لگ گئی تو گوش دل کیا سنے اور کیا سمجھے۔ کلام حق کا سننا اصل کام دل کے کان کا ہے اس آب وگل کے کان کا کام نہیں۔ ایں سخن از گوش دل باید شنود گوش گل ایں جاندارد، ہیچ سود گوش سر باجملہ حیوان ہمدم است گوش سر مخصوص نسل آدم است گوش سر چوں جانب گویندہ است گوش سر سہل است گر آگندہ است اب آئندہ آیات میں جناب رسالت مآب ﷺ کی تسلی کے فرماتے ہیں جو تمام گزشتہ مضمون کا خلاصہ ہے یہ مذکورہ بستیاں یعنی قوم نوح اور عاد وثمود اور قوم لوط اور قوم شعیب کی بستیاں جن کا اوپر ذکر ہوا جیسے احقاف اور حجر اور مؤتفکات وغیرہ ان کی بعض خبریں ہم تجھ سے بیان کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ مکذبین کا اخیر انجام ہلاکت ہے اور تحقیق ان کے پاس ان کے رسول اپنی نبوت و رسالت کی کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے پس نہ تھے ایسے کہ ایمان لے آتے اس بات پر جس کو وہ پہلی ہی بار جھٹلا چکے تھے اللہ تعالیٰ یونہی کافروں کے دل پر مہر کردیتا ہے جسے نمونہ دیکھنا ہو وہ ان بدبختوں کو دیکھ لے اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی وفاء اور نباہ نہیں پائی عہد سے مراد یا تو عہد الست ہے یا وہ عہد مراد ہے کہ جو مصیبت آنے کے وقت یہ لوگ کرلیا کرتے تھے۔ کہ اگر ہم نجات پائیں تو ایمان لے آئیں گے اور تحقیق ہم نے ان میں سے اکثر کو بد عہد اور بدکردار پایا جب مصیبت ٹلی تو سب عہد و پیمان ختم ہوا اور جیسے پہلے تھے ویسے ہی ہوگئے الغرض ہمیشہ سے کافروں کا یہ طریقہ اور شیوہ ہے پس آپ ان کی تکذیب اور اعراض سے اور ان کی عہد شکنی سے غم نہ کریں۔ پھر بھیجا ہم نے ان کے پیچھے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں پاس پھر زبردستی کی ان کے سامنے سو دیکھ ! آخر کیسا ہوا حال بگاڑنے والوں کا اور کہا موسیٰ نے اے فرعون میں بھیجا ہوں جہان کے صاحب کا۔ قائم ہوں اس پر کہ نہ کہوں اللہ کی طرف سے مگر جو سچ ہے کہ لایا ہوں تم پاس نشانی تمہارے رب کی سو رخصت دے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بولا اگر تو آیا ہے کچھ نشان لے کر تو وہ لا اگر تو سچا ہے ل تب ڈالا اپنا عصا تو اسی وقت وہ ہوا اژدہا صریح اور نکالا اپنا ہاتھ تو اسی وقت وہ سفید نظر آیا دیکھتوں کو قصۂ ششم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) با سبطیان وقبطیان (ربط) گزشتہ رکوعات میں پانچ پیغمبروں کے قصے بیان ہوئے اور ان کے بعد بطور نتیجہ اور خلاصہ یہ بتلایا کہ مکذبین کے متعلق سنت الٰہی کیا ہے اب ان پانچ قصوں کے بعد چھٹا قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا بیان کرتے ہیں جو ان سب انبیاء کے بعد تشریف لائے یہ قصہ بظاہر ایک قصہ ہے مگر اپنے اندر بہت سے قصوں کو لیے ہوئے ہے اور یہ قصہ بہ نسبت اور قصوں کے زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے چناچہ اس مقام پر بھی یہ قصہ بہ نسبت اور قصوں کے زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے چناچہ اس مقام پر یہ قصہ نصف پارہ تک چلا گیا ہے اور صرف اس مقام پر نہیں قرآن مجید میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اکثر وبیشتر آیا ہے اور یہ قصہ متعدد مطالب اور مختلف مقاصد کے بیان کرنے کے لیے قرآن کریم میں بہت جگہ ایا ہے اور تکرار اور تفصیل کی وجہ یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات انبیاء سابقین کے معجزات سے زیادہ قوی ہیں اور نہایت عظیم اور عجیب ہیں جن سے سحر اور معجزہ کا فرق خوب واضح ہوجاتا ہے اور فرعون اور فرعونیوں کا ظلم وعناد اور تکبر بھی شدید ہے جس سے ظلم کے انجام بد کا بخوبی علم ہوجاتا ہے اور بنی اسرائیل کی جہالتیں بھی عجیب ہیں جن سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ نبی کے سامنے لب کشائی جہالت اور ھماقت ہے اس لیے یہ امور اس قصہ کی تکریر اور تفصیل کو مقتضی ہوئے۔ نیز موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ آنحضرت ﷺ کے قصہ سے بہت مشابہت رکھتا ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی برکت سے بنی اسرائیل کو دین ودنیا کی عزتیں ملیں اور آپ کے دشمن ذلیل و خوار ہوئے اسی طرح آنحضرت ﷺ کی برکت سے امت محمدیہ کو دین ودنیا کی عزتیں ملیں اور داوء د اور سلیمان (علیہما السلام) جیسی بادشاہت ملی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا نسب نامہ چند واسطوں سے یعقوب (علیہ السلام) تک پہنچتا ہے آپ کے والد کا نام عمران تھا قبطی زبان میں مو کے معنی ماء یعنی پانی کے ہیں اور اس کے معنی شجر یعنی درخت کے ہیں چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) پانی اور درخت کے رمیان پائے گئے ہیں اس لیے ان کا نام موسیٰ ہوگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس ال کی ہوئی اور ان کے اور یوسف (علیہ السلام) کے درمیان چار سو سال کا فاصلہ تھا اور ابراہیم (علیہ السلام) سے سات سو سال بعد ہوئے اور فرعون اس بادشاہ کا نام نہ تھا بلکہ اس زمانہ میں ہر شاہ مصر کا یہ لقب تھا جیسا کہ بادشاہان فارس کا لقب کسری اور شاہان روم کا لقب قیصر تھا اس طرح اس بادشاہ کا لقب تو فرعون تھا اور اصل نام قابوس تھا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس کا نام ولید بن مصعب بن ریان تھا یہ قوم قبط کا بادشاہ تھا جو مصر میں رہتی تھی کہا جاتا ہے کہ یہ بادشاہ تین سو سال تک زندہ رہا واللہ اعلم۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا ربوبیت اور الوہیت کا مدعی تھا اور کہتا تھا کہ میں اپنے سوا کسی کو تمہارا خدا اور معبود نہیں جانتا جب اس نے خدائی کا دعویٰ کیا تو اہل مصر نے اس کو قبول کیا مگر بنی اسرائیل نے اس کو قبول نہ کیا فرعون بنی اسرائیل سے یہ کہتا کہ تمہارا باپ یوسف تھا جو میرے آباؤ اجداد کا زرخرید غلام تھا اور تم سب میرے غلام زادے ہو یہ کہہ کر بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا لیا اور ان سے ذلت آمیز خدمتیں لینے لگا۔ فرعون بنی اسرائیل سے یہ کہتا کہ تمہارا باپ یوسف تھا جو میرے آباء و اجداد کا زر خرید غلام تھا اور تم سب میرے غلام زادے ہو یہ کہہ کر بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنالیا اور ان سے ذلت آمیز خدمتیں لینے لگا۔ فرعون اپنی ظاہری شان و شوکت پر مغرور تھا حق تعالیٰ نے اس کی طرف ایک نبی کو مبعوث کیا جو بالکل درویش تھا اور ظاہری شان و شوکت سے بالکل خالی تھا صوف کا عمامہ اور صوف کا جبہ اس کا لباس تھا جیسا کہ امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں کئی جگہ ذکر فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ ان کو ایک عصا عطاء فرمایا جس سے فرعون جیسے سراپا عصیان و طغیان کی تنبیہ مقصود تھی اور تاکہ جب معجزہ عصا ظاہر ہو تو متکبرین اور مغرورین سمجھ جائیں کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کا فرستادہ ہے جس کے ہاتھ سے ایسے افعال کا ظہور ہوتا ہے جو طاقت بشریہ کی حدود سے باہر ہیں یہ دنیا دار امتحان ہے اور حق اور باطل کے معرکہ کا میدان ہے اس لیے من جانب اللہ تعالیٰ اکثر وبیشتر نبوت و رسالت کا ظہور برنگ فقیری و درویشی ہوتا ہے اور ظاہری اور مادی شان و شوکت باطل کی جانب ہوتی ہے مقصود امتحان ہوتا ہے کہ کون ظاہری اور مادی شان و شوکت دیکھ کر باطل کی جانب ہوتی ہے مقصود امتحان ہوتا ہے کہ کون ظاہری اور مادی شان و شوکت ہوتی تو پھر فرعون کو کون پوچھتا۔
Ayahs 7:103–108

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

مجھ پر واجب ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ کہوں سچ ہی کہوں میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لیکر آیا ہوں سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جائے۔

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تم نشانی لیکر آئے ہو تو اگر سچے ہو تو لے آؤ دیکھاؤ

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈالی تو وہ اسی وقت صریح اژدھا ہوگیا

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی وقت دیکھنے والوں کی نظر میں سفید براق تھا

ذکر بعثت موسیٰ (علیہ السلام) و مکالمۂ او با فرعون قال اللہ تعالیٰ ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ ۔۔۔ الی۔۔۔ فاذاھی بیضاء للناظرین (ربط) موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں سب سے پہلے ان کی بعثت کا واقعہ اور فرعون کے ساتھ ان کے مناظرہ اور مکالمہ کا ذکر فرماتے ہیں پھر ہم نے ان انبیاء مقدم الذکر کے بعد موسیٰ بن عمران کو اپنی نشانیاں دیکر یعنی معجزات اور دلائل نبوت دیکر فرعون اور اس کے قوم کے بڑے لوگوں کی طرف دعوت وتبلیغ کی خاطر بھیجا پس انہوں نے دلائل اور براہین رسالت یعنی معجزات کے ساتھ ظلم کیا معجزات کا حق یہ تھا کہ ان پر ایمان لاتے اور ان کی تصدیق سے اپنی اصلاح کرتے لیکن بجائے تصدیق کے ان کی تکذیب کی۔ پس دیدۂ بصیرت اور چشم عبرت سے دیکھ کہ حق کے ساتھ بےانصافی کا کیسا انجام ہوا کہ آخر کار سب غرق ہوئے اور ان کی زمین اور ملک کا ان کے دشمنوں کو وارث بنادیا گیا۔ مفسدین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے انبیاء کرام کی تکذیب کی اور ان کے آیات اور معجزات کے ساتھ ظلم کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب مصر سے روپوش ہوئے تو مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور وہاں ان کی صاحبزادی صفورا سے نکاح فرمایا ایک عرصہ بعد پھر مصر جانے کا قصد فرمایا اثناء راہ میں خلعت پیغمبری ملا اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطاء ہو اور حق تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ مصر جا کر فرعون کو راہ خداوندی کی دعوت دیں اور تکبر اور دعوائے خداوندی سے منع کریں چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) مصر آئے اور مدت کے بعد جب فرعون سے ملاقات ہوئی تو اس کو حق کی دعوت دی اور موسعی (علیہ السلام) مصر آئے اور مدت کے بعد جب فرعون سے ملاقات ہوئی تو اس کو حق کی دعوت دی اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے فرعون اس میں شک نہیں کہ میں تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے پیغمبر ہو کر آیا ہو اس کی بات کا قبول کرنا ضروری ہے۔ میں لائق اور سزا وار ہوں اس بات کے کہ خدا پر سوائے حق اور سچ بات کے کچھ نہ کہوں یعنی میری شان کے لائق نہیں کہ میں خدا کی طرف کوئی غلط بات منسوب کروں اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ حقیق کے معنی قائم اور ثابت کے ہیں یعنی میں بلا کسی تزلزل اور تذبذب کے قول حق پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہوں کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں اور رسول کبھی کوئی بات خلاف حق نہیں کہہ سکتا اور نہ ان کے پائے ثبات و استقامت میں کبھی تزلزل آسکتا ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ حقیق کے معنی حق لازم اور حق مؤکدہ اور واجب کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ میں من جانب اللہ قول حق پر واجب اور لازم کردیا گیا ہوں یعنی قول حق کو اس بات کا پابند کردیا گیا ہے کہ وہ میری ہی زبان سے نکلے کسی اور زبان سے اس کو نکلنے کی اجازت نہیں اور جس کی شان یہ ہو اس کی زبان سے خلاف حق کیسے نکل سکتا ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور ربوبیت کا ذکر ہوا اب آگے اپنی نبوت و رسالت کا ذکر فرماتے ہیں۔ تحقیق میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی جانب سے اپنی نبوت و رسالت کی روشن دلیل لے کر آیا ہوں پیغمبری کا خالی دعوی ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ دلیل اور برہان بھی ہے یعنی معجزات بھی ہیں جو میری رسالت کی صحت پر گواہ ہیں۔ سو جب میں رسول مع الدلیل ہوں اور بدون وحی الٰہی کے کچھ نہیں کہتا تو میں جو کہوں اس کو دل وجان سے قبول کرو چناچہ منجملہ ان امور کے ایک امر یہ ہے کہ تو بنی اسرائیل کو جن کو تو نے ناحق غلام بنا رکھا ہے اور اپنی بیگار لینے کی وجہ سے ان کو اپنے اصلی وطن ملک شام جانے سے روک رکھا ہے ان کو بنا رکھا ہے اور اپنی بیگار لینے کی وجہ سے ان کو اپنے اصلی وطن ملک شام جانے سے روک رکھا ہے ان کو میرے ساتھ بھیجدے تاکہ میں ان کو ارض مقدسہ جو ان کے آباء و اجداد کا وطن ہے وہاں لے جاؤ فرعون نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا تھا ان سے اینٹیں پتھواتا اور مٹی ڈھلواتا اور پانی بھرواتا اور طرح طرح کی خدمتیں لیتا اس کا سبب یہ تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) مع اپنے بیٹوں اور پوتوں کے مصر میں آئے اور وہیں آباد ہوگئے اور اولاد بہت ہوگئی اور یعقوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) انتقال فرماگئے اور ان کے زمانہ کا فرعون جس کا نام ریان تھا وہ بھی انتقال کر گیا۔ ریان کے بعد اس کا بیٹا مصعبفرعون مصر ہوا وہ بنی اسرائیل کی عزت اور توقیر کرتا تھا وہ بھی مرگیا اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا فرعون ولید تخت سلطنت پر متکمن ہوا اور عزت اور توقیر کرتا تھا وہ بھی مرگیا اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا فرعون ولید تخت سلطنت پر متمکن ہوا اور انا ربکم الاعلی کی ڈینگ ماری بنی اسرائیل نے یہ دعویٰ قبول نہ کیا تو بولوا کہ تم ہمارے بزرگوں کے زرخرید غلام ہو موسیٰ (علیہ السلام) نے بحکم خداوندی فرعون کو حق کی دعوت دی اور یہ کہا کہ اے فرعون بنی اسرائیل کو اس ظلم وستم سے آزاد کر اور ان کو میرے ساتھ کر تاکہ میں انہیں ارض شام لے جا سکوں جو ان کا آبائی وطن ہے۔ خلاصۂ لام یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ فرمانا۔ فارسل معی بنی اسرائیل تو بنی اسرائیل کو اپنی قید سے چھوڑ دے اور میرے ساتھ ان کو ملک شام بھیجدے۔ بحکم خداوندی تھا معاذ اللہ کوئی قومی تحریک نہ تھی بعض دلدادگان قومیت وحریت اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد قومی اور وطنی آزادی تھا سو یہ ایک مجنونانہ اور مخبوطانہ خیال ہے۔ فرعون اسی ملک کا باشندہ تھا اور قوم قبط بھی اسی ملک کی باشندہ تھی اور انہی کی اکثریت تھی اور بنی اسرائیل اقلیت میں تھے قومی اور وطنی نظریہ کے لحاظ سے فرعون کی حکومت قومی اور وطنی حکومت تھی۔ اس سے معارضہ کی کیا ضرورت تھی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا وہی مقصد تھا جو تمام انبیاء کی نبوت و رسالت کا مقصد رہا ہے منجملہ ان مقاصد کے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل (جو کہ اس زمانہ کے مسلمان تھے) ان کو ایک ظالم کے پنجہ سے نکال کر ملک شام لیجائیں تاکہ وہاں جا کر بلا کسی خوف و خطرہ کے خدائے وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرسکیں باقی جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد صرف بنی اسرائیل کو آزادی دلانا تھا سو وہ سراسر تحریف ہے اعاذنا اللہ من سوء الفہم۔ فرعون نے کہا کہ آپ اگر من جانب اللہ اپنپے دعوائے نبوت و رسالت کی کوئی واضح اور روشن دلیل لے کر آئے ہیں تو اس کو پیش کیجئے اگر آپ اپنے دعوے میں سچ ہیں یعنی اگر آپ اپنے دعوائے رسالت میں سچ ہیں تو کوئی معجزہ دکھلائیے جس سے یہ ثابت ہو کہ پروردگار عالم کے پیغمبر اور فرستادہ ہیں اور اس نشانی کو دیکھ کر میں سمجھ لوں کہ آپ سچے ہیں۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) نے سنتے ہی فورا اپنا عصا زمین پر ڈال دیا جو کہ لکڑی کا تھا سو وہ دالتے ہی دفعۃً بلا کسی سبب کے ایک صریح اژدہا تھا جس کے اژدہا ہونے میں کوئی شک و شبہ نہ تھا۔ دم کے دم میں ایک بےجان لکڑی حقییقۃً حیوان بن گئی اور یہ اژدہا صریح اژدہا تھا کوئی خیال یا شبیہ اور مثال نہ تھا۔ ابن عباس اور سعید بن جبیر اور سدی اور قتادہ سے مروی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب وہ عصا زمین پر ڈالا تو وہ ایک بار عظیم بن گیا اور منہ کھول کر فرعون کی طرف متوجہ ہوا فرعون ڈر کر اپنے تخت سے بھاگا اور ڈر کے مارے اس کا پیشاب اور پیخانہ بھی خطا ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے فریاد چاہی تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اٹھا لیا تو وہ پھر حسب سابق عصا ہوگیا (دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 236 ج 2) اور فرعون کا خوف دور ہوا تو آکر پھر اپنے تخت پر بیٹھا ایک عصا نے فرعون کی ساری الوہیت کا خاتمہ کردیا خیر ایک نشانی تو یہ ہوئی اور دوسری نشانی یہ ہوئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جان لیا کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اندرونی نورانیت کا ایک نمونہ اور کرشمہ ہے اور للناظرین کا مطلب یہ ہے کہ ید بیضاء کا معجزہ سب دیکھنے والوں نے دیکھا اور بلا کسی اشتباہ کے سب نے اس کو آنکھوں سے دیکھا کہ کسی شک اور شبہ کی گنجائش ہی نہ رہی دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو جیسا پہلے تھا ویسا ہی ہوگیا۔ ان آیتوں میں حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دو معجزوں کا ذکر فرمایا ان دو کے علاوہ اور بھی معجزات ہیں جو دوسری آیات میں مذکور ہیں۔ : اس آیت میں معجزہ عصاء کے متعلق یہ فرمایا فاذا ہی ثعبان مبین۔ یعنی بڑا اژدہا ہوگیا اور دوسری آیت میں کانھا جان فرمایا اور جان چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ وہ بڑائی میں تو مثل اژدہا کے تھا اور تیز رفتاری میں چھوٹے سانپ کی مانند تھا۔ یا شروع میں سانپ بنا پھر بعد میں اژدہا بن گیا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو منجملہ دیگر معجزات کے یہ دو بڑے معجزے عطا فرمائے ایک عصا کا اور ایک عید بیضاء کا۔ معجزۂ عصا ان کی نبوت کی خارجی نشانی تھی اور معجزہ ید بیضاء ان کی نبت کی ذات اور داخلی اور باطنی نشانی تھی جو ان کی ذات بابرکات میں تھی کہ ہاتھ جب گریبان میں ڈال کر نکالا تو روشن نکلا یہ ان کے نور باطن کا نمونہ تھا۔
Ayahs 7:109–129

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

تو قوم فرعون میں جو سردار تھے وہ کہنے لگے یہ بڑا علامہ جادوگر ہے۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے بھلا تمہاری کیا صلاح ہے ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

انہوں نے فرعون سے کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو موقوف رکھئے اور شہروں میں نقیب روانہ کردئجے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں ضرور اور اس کے علاوہ تم مقربوں میں داخل کئے جاؤ گے

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

جب فریقین روز مقرر پر جمع ہوئے تو جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو جب انہوں نے جادو کی چیزیں ڈالی تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا یعنی نظر بندی کردی اور لاٹھیوں اور رسیوں کے ساتھ بنا بنا کر انہیں ڈرا ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دیکھایا

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بیھجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو تو وہ فوراً سانپ بن کر جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں ایک ایک کر کے نگل جائیگی۔

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پھر تو حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتے تھے باطل ہوگیا

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

اور وہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہو کر رہ گئے

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور یہ کیفیت دیکھ جادوگر سجدے میں گرپڑے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان آئے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

یعنی موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ بیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دو تم اس پر ایمان لے آئے بیشک یہ فریب ہے جو تم نے ملکر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو سو عنقریب اس کا نتجہ معلوم کرلو گے

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں پہلے تو تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

تو وہ بولے ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور اس کے سوا تم کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے ؟ اے پروردگار ! ہم پر صبر و استقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور قوم فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجئے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دستکش ہوجائیں ؟ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو تو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشبہہ ہم ان پر غالب ہیں۔

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد ما نگو اور ثابت قدم رہو زمین تو خدا کی ہے۔ (اور) وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اسکا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے۔

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچنی رہی ہیں اور آنے کے بعد بھی موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام) قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین (ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔ اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور فرعون کے دعوائے الوہیت کا ابطال مطلوب ہے کہ فرعون کا یہ دعوی انا ربکم الاعلی بالکل غلط تھا وہ تو خدا کا پیدا کردہ ایک عاجز اور ناتواں انسان تھا اور اگر وہ خدا ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے کیوں ڈرتا اور گھبراتا اور جادوگروں سے کیوں مدد چاہتا۔ غرض یہ کہ فرعون نے یہ دونوں معجزے دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا تو قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ بیشک یہ موسیٰ بڑا دانا جادوگر ہے یعنی یہ جو اس نے لاٹھی کو سانپ بنا دیا اور اپنے ہاتھ کو سفید دکھایا۔ یہ سب اس کے جادو کا کرشمہ ہے اور اپنے فن میں ماہر ہے فقط دعوائے نبوت و رسالت پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ اپنے سحر کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے اور خود بادشاہ بن جائے۔ فرعون نے کہا اب تم کیا مشورہ دیتے ہو یعنی کیا تدبیر کریں جس سے یہ شخص اپنے مقصد میں ناکامیاب ہوجائے اسے ارکان دولت جو مجھے مشورہ دو گے اس پر عمل کروں گا۔ انہوں نے مشورہ یہ دیا کہ سردست موسیٰ کو اور ان کے بھائی کو زرا ڈھیل دو اور ان کے معاملہ جلدی نہ کرو۔ اور یہ مشورہ مجبوری کا تھا۔ فرعون کو باوجود غیظ وغضب کے موسیٰ (علیہ السلام) کے نہ قتل پر قدرت ہوئی اور نہ ان کے قید کرنے پر قدرت ہوئی حالانکہ فرعون نے ان کو دھمکی دی تھی۔ لاجعلنک من المسجونین اور ارکان دولت نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اپنی سلطنت کے تمام شہروں میں نقیب بھیج دو کہ ہر دانا جادوگر کو آپ کے پاس لے کر آئیں ان سے اس کا مقابلہ کرائیے وہ اسے نیچا دکھائیں گے چناچہ اس رائے پر عمل کیا گیا اور شہروں میں آدمی بھیج دئیے گئے اور جادوگر فرعون کے پاس آئے تو بولے کہ ہم کو کچھ صلہ اور انعام بھی ملے گا۔ اگر ہم اس شخص پر غالب آگئے اور اس کو نیچا دکھادیا فرعون بولا ہاں ضرور تم کو اس کا انعام بھی ملے گا اور مزید برآن یہ ہوگا کہ تم بلاشبہ میرے خاص مقربین میں سے ہوجاؤ گے یعنی اگر تم غالب آگئے تو صرف انعام اور اجرت پر اکتفا نہ ہوگا بلکہ قرب شاہی کی عزت ووجاہت بھی تم کو ملے گی مال و دولت اور عزت ووجاہت دونوں جمع ہوجائیں گے جو دنیا میں کاملترین خوش نصیبی سمجھی جاتی ہے اس گفتگو کے بعد ایک دن مقابلہ کے لیے طے ہوگیا اور جب وقت مقابلہ کا آیا تو ساحروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا اے موسیٰ یا تو آپ پہلے اپنی لاٹھی ڈالیں یا ہم ہی پہلے ڈالنے والے ہوجائیں۔ ان کا گمان یہ تھا کہ جب ہم سب مل کر اپنی لاٹھیاں ڈالیں گے تو موسیٰ (علیہ السلام) حیران اور دنگ رہ جائیں گے موسیٰ (علیہ السلام) نے ازراہ خلق وکرم فرمایا اچھا تم ہی پہلے ڈالو مجھے اس کی کچھ فکر اور پرواہ نہیں کہ کون پہلے ڈالے موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین کامل تھا کہ غلبہ اللہ کے رسول ہی کو ہوگا خواہ ابتداء کسی جانب سے ہو اور سحر کسی حال میں بھی معجزہ پر غالب نہیں آسکتا اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اچھا پہلے تم ہی اپنے کمال کا مظاہرہ کرلو اور دل کی حسرت نکال لو پس جب ان ساحروں نے اپنی لاٹھیوں اور رسیوں کو زمین پر ڈالات لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ یعنی لوگوں کو ان کی رسیاں اور لاٹھیاں سانپ دکھلائی دیں ورنہ حقیقت اور اصلیت کچھ نہ تھی اور لوگوں کو اپنے جادو سے ڈرایا اور بڑا بھاری جادو لائے جسے دیکھ کر لوگ اول وہلہ میں ڈر گئے اور یہ خیال کیا کہ ایسے سحر کا کون مقابلہ کرسکتا ہے کہا جاتا ہے کہ تیس ہزار جادوگر تھے۔ ہر ایک کے پاس عصا ورسن تھا انہوں نے ایک میل طول میں اور ایک میل عرض میں سانپ ہی سانپ بھر دئیے تھے اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اے موسیٰ اب تو اپنا عصا زمین پر ڈالدے جیسا کہ آپ ڈالا کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعجاز موسوی سحر فرعونی کو کس طرح نگل جاتا ہے۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بحکم خداوندی اپنا عصا زمین پر ڈالا پس وہ ڈالتے ہی اژدہا بن گیا اور ان کے بنے بنائے سانگ اور ڈھونگ کو نگلنے لگا دم کے دم میں عصائے موسیٰ سانپ بن کر ان کی تمام لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل گیا پس حق کا حق ہونا ثابت ہوگیا اور ان کے عمل سحر کا غلط اور باطل ہونا ظاہر ہوگیا اور سب نے بچشم سر دیکھ لیا کہ نبی کا معجزہ سحر عظیم کو کسی طرح یک لخت نگل جاتا ہے۔ پس اس جگہ فرعون کی تمام قوم مغلوب ہوگئی اور نہایت ذلیل و خوار ہو کر اپنے گھروں کو واپس ہوئے تکبر اور غلبہ کے خیال کو لے کر میدان مقابلہ میں آئے تھے مگر ذلت اور ناکامی اور نامرادی کو لے کر واپس ہوئے اور چوں کہ جادوگروں نے بوقت مقابلہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ادب کو ملحوظ رکھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اختیار دیا کہ ڈالنے میں آپ ابتدء کریں یا ہم تو اس ادب کی برکت سے توفیق ایزدی نے ان کی دستگیری کی اور تکوینی طور پر یہ جادوگر جبراً و قہراً سجدہ میں ڈال دئیے گئے گویا کہ توفیق ایزدی نے سر پکڑ کر ان کو سجدہ میں ڈالدیا۔ ساحروں نے جب یہ دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا ہمارے اس سحر عظیم کو یک لخت نگل گیا تو سمجھ گئے کہ یہ امر آسمانی ہے سحر نہیں سحر سحر پر غلبہ پاسکتا ہے لیکن سحر کو نیست اور نابود نہیں کرسکتا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے دست مبارک سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی سحر سے بالا اور برتر حقیقت ہے اور سحر کی حد اور احاطہ سے بالکل باہر ہے اس لیے فورا ایمان لے آئے اور اس خدائی نشان کو دیکھ کر بےاختیار سجدہ میں گر پڑے لفظ القی السحرۃ (جادوگر ڈالدئیے گئے) اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ ان پر غیبی طور پر کوئی خاص حالت اور خاص کیفیت طاری ہوئی کہ جس کے بعد بجز خضوع اور استسلام کے کوئی چارہ نہ رہا ابھی نبی کے مقابلہ پر کھڑے تھے ایک گھڑی نہ گزری کہ سجدہ میں گرے اور سر اٹھانے سے پہلے ولی کامل عارف باللہ بن گئے اور سجدہ ہی کی حالت میں ان کو جنت اور جہنم دکھلا دی گئی۔ دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 337 ج 2 ۔ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذو الفضل العظیم۔ غرض یہ کہ جادوگر اس حالت کو دیکھ کر سجدہ میں گر پڑے اور بطور لذت یہ کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا جس نے ان کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے جادوگروں نے رب العلمین کے ساتھ رب موسیٰ وہارون کا لفظ اس لیے بڑھایا تاکہ قوم فرعون میں سے کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ انہوں نے یہ سجدہ فرعون کو کیا ہے کیونکہ فرعون بھی اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہتا تھا فرعون نے جب یہ دیکھا کہ میرا دام فریب تو سارا تار تار ہوگیا تو ذرا بہار بن کر بولا کہ تم میری اجازت سے پہلے ہی رب موسیٰ اور ہارون پر ایمان لے آئے بیشک ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب تمہارا مکر ہے جو اس شہر میں تم سب نے (آپس میں مل کر) کیا ہے یعنی ایسا معلو ہوتا ہے کہ تم نے اس سے پہلے ہی موسیٰ کے ساتھ سازش کرلی تھی جب ہی تو تم جلدی سے اس پر ایمان لے آئے۔ یہ اس ملعون کا صریح جھوٹ تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) تو ابھی مدین سے آئے تھے اور سیدھے فرعون کے پاس گئے اور اس کو حق کی دعوت دی اور معجزے ظاہر فرمائے وہ تو ان جادوگروں کو پہچانتے بھی نہ تھے اور نہ ان میں سے پہلے کسی کو دیکھا تھا یہ سب فرعون کے حکم سے جمع ہوئے تھے فرعون نے یہ لفظ اپنی کمزوری کی پردہ پوشی اور قوم کو فریب دینے کے لیے کہا کما قال تعالیٰ فاستخف قومہ فاطاعوہ۔ اور تم نے یہ سازش اس لیے کی ہے کہ تم اس شہر سے اس کے باشندوں کو نکال دو اور اپنی سلطنت قائم کرو اچھا اب عنقریب تم اپنی سازش کا نتیجہ معلوم کرلوگے وہ یہ کہ میں ضرور تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹواؤں گا۔ مثلا دایاں ہاتھ اور بایاں پیر کہ اس سے سارا دھڑ بیکار ہوجاتا ہے پھر تم کو ضرور سولی پر لٹکادوں گا تاکہ لوگوں کو عبرت ہو ساحروں نے جواب دیا کہ تو ہمیں موت اور قتل سے کیا ڈراتا ہے ہم تو موت کے مشتاق ہیں اس لیے کہ تحقیق ہم تو اپنے پروردگار کی طرف جانے والے ہیں اور اس کی لقاء کے مشتاق ہیں اور موت اس کا بہترین ذریعہ ہے اور اس کی لقاء کے بعد ہم کو ایسی پاکیزہ اور لذیذ حیات ملے گی۔ جو اس دنیوی حیات سے کہیں بہتر اور برتر ہوگی جو تجھ سے ہوسکے وہ کر گزر ہم مرنے سے نہیں ڈرتے۔ عارف رومی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں۔ جانہائے بستہ اندر آب وگل چوں رہند از آب و گلہا شاد دل در ہوائے مہر حق رقصاں شوند ہمچوں قرص بدر بےنقصاں شوند چوں نقاب تن برفت ازروئے روح از لقائے دوست دارد صد فتوح میزند جاں در جہان آبگوں نعرۂ یا لیت قومی یعلمون اور اے فرعون تجھے ہم سے کیا عیب نظر آتا ہے سوائے اس کے کہ ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان لے آئے جبکہ اس کی قدرت کے نشانیاں ہمارے پاس آگئیں اور ہم نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ محض سنا نہیں بلکہ آنکھوں سے ان کا مشاہدہ کرلیا۔ بعد ازاں یک لخت ان ساحروں نے فرعون سے منہ پھیرلیا اور حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا اے ہمارے پروردگار پانی کی طرح ہم پر صبر دال دے کہ سر سے پیر تک صبر میں نہا جائیں تاکہ بلاء اور مصیبت کے وقت بےصبری نہ کریں اور ہم کو مسلمان مار، یعنی مرتے دم تک اسلام پر قائم رہیں اور کسی فتنہ اور بلا سے ہمارے پائے استقلال میں تزلزل نہ آئے۔ ابن عباس اور کلبی اور سدی سے منقول ہے کہ فرعون نے ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا کر ان کو سولی پر چڑھا دیا اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ فرعون ان کے عذاب دینے پر قدرت نہ پا سکا کیونکہ خدا تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ وعدہ کیا تھا۔ فلا یصلون الیکما بایتنا انتما ومن اتبعکما الغلبون۔ یعنی فرعون والے تم دونوں بھائیوں پر دست درازی نہ کرسکیں گے۔ ہماری نشانیاں لے کر جاؤ۔ تم دونوں اور تمہارے پیرو غالب رہیں گے (روح المعانی صفحہ 25 ج 9) نکتہ : اس آیت میں بجائے انزل علینا صبرا کے افرغ علینا صبر۔ کہا گیا سو لفظ افراغ بہ نسبت لفظ انزال کے زیادہ بلیغ ہے اس لیے کہ انزال کے معنی اتارنے کے ہیں اور افراغ کے معنی برتن سے اس طرح بپانی بہا دینے کے ہیں کہ برتن میں کچھ نہ رہے اور علی کا لفظ استعلاء اور احاطہ کے لیے ہے سو مطلب یہ ہوگا کہ ہم پر صبر کامل کا ایسا پانی بہادے کہ جو سر سے پیر تک یہ صبر کا پانی ہمارے تمام بدن پر سے گزرے جائے اور کوئی حصہ بدن کا ایسا نہ رہ جائے کہ جس میں بےصبری کی کوئی کدورت باقی رہ جائے اور سر سے پیر تک صبر کے پانی میں ایسے نہا جائیں کہ کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے اور صبر اگرچہ بندہ کا فعل ہے مگر حق تعالیٰ سے درخواست کرنے میں اشارہ اس طرف ہے کہ بندے کے افعال کا خالق بھی حق تعالیٰ ہی ہے اور توفنا مسلمین میں اشارہ اس طرف ہے کہ اصل اعتبار خاتمہ کا ہے۔