7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 7:59–64

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ تو انہوں نے اس کو کہا اے میری برادری کے لوگوں خدا کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا بہت ہی ڈر ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے قوم ! مجھ میں کسی قسم کی کوئی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں۔ اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بیخبر ہو۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے۔ اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور ان کیساتھ جو کشتی میں سوار تھے انکو بچالیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کردیا۔ کچھ شک نہیں وہ اندھے لوگ تھے۔

قصۂ اول نوح (علیہ الصلوۃ والسلام) قال اللہ تعالیٰ لقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ انھم کانوا قوما عمین (ربط) اس سورت کے شروع میں حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا اور پھر اسی ذیل میں فتنۂ شیطان سے بچنے کی تاکید اکید فرمائی اور بعد ازاں اس عہد قدیم کو یاد دلایا کہ جو حق تعالیٰ نے اولاد آدم سے عالم ارواح میں لیا تھا اب اس کے بعد دیگر حضرات انبیاء کرام کے قصے برعایت ترتیب بیان کرتے ہیں جو متعدد فوائد کو متضمن ہیں (اول) یہ کہ حضرات انبیاء سے سرکشی اور سرتابی آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں قدیم زمانہ سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ لوگ اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں کی تکذیب کرتے رہے (دوم) یہ کہ انبیاء کرام کے مخالفین کا انجام ہمیشہ خراب ہی رہا دنیا میں بھی خوار و ذلیل ہوئے اور آخرت کا عذاب اس کے علاوہ رہا۔ (سوم) یہ کہ آنحضرت ﷺ کا باوجود امی ہونے کے انبیاء سابقین کے واقعات اور حالات کو صحیح صحیح بیان کرنا یہ آپ کے ملہم من اللہ ہونے کی دلیل ہے بغیر وحی ربانی کے ہزارہا اور صدہا سال قبل کے واقعات کا علم عقلاً محال ہے۔ (2) نیز یہ بتلانا ہے کہ آپ جو توحید اور رسالت اور قیامت کی تعلیم دے رہے ہیں۔ انبیاء سابقین بھی اپنی امتوں کو یہی تعلیم دیتے رہے جس کو انہوں نے نہ مانا تو انہوں نے اس کا خمیازہ بھی بھگتا۔ (3) نیز گزشتہ آیات میں بنی آدم کو یہ خطاب فرمایا تھا یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم الایۃ۔ اس لیے حسب وعدۂ سابق انبیاء کرام کے واقعات بیان فرماتے ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد بہت دنوں تک لوگ شریعت الٰہیہ پر قائم رہے ایک عرصہ کے بعد بت پرستی شروع ہوئی تو نوح (علیہ السلام) پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ان کو اپنی قوم سے بہت تکلیفیں پہنچیں ساڑھے نو سو برس تک آپ ان کو تبلیغ کرتے رہے اور وہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے رہے بالآخر اللہ پاک نے ان کی قوم پر عذاب نازل کیا پانی کا طوفان بھیجا جس سے ایک کافر بھی جانببر نہ ہوسکا۔ صرف حضرت نوح (علیہ السلام) اور جو لوگ ان پر ایمان لائے تھے وہ بچ گئے باقی سب ہلاک اور برباد ہوئے اور نوح (علیہ السلام) کی کشتی بنانے اور طوفان عام کے آنے کا مفصل قصہ انشاء اللہ سورة ہود میں آئیگا۔ نوح (علیہ السلام) چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے اور ساڑھے نو سو برس قوم کو تبلیغ کرتے رہے یہاں تک کہ طوفان آیا اور سوائے اہل ایمان کے سب غرق ہوئے طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے یہاں تک کہ آبادی کثیر ہوگئی۔ (تفسیر قرطبی صفحہ 233 ج 7) البتہ تحقیقی ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تاکہ ان کی باران موعظت سے دلوں کی زمین بقدر اپنی صلاحیت کے زندہ اور سرسبز اور شاداب ہوسکے پس نوح (علیہ السلام) غایت شفقت سے بولے اے میری قوم تم صرف اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں بت پرستی کو چھوڑ کر ہمہ تن اسی معبود برحق کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ تحقیق میں ڈر رہا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے اگر تم نے میرا کہنا نہ مانا بڑے دن سے قیامت کا دن مراد ہے یا طوفان کا دن مراد ہے۔ ان کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا اے نوح تحقیق ہم تجھ کو کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں یعنی جو ہم کو بتوں کی پرستش سے چھڑاتا ہے اور صرف ایک خدا کی عبادت کی دعوت دیتا ہے۔ تیری عقل ماری گئی۔ نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم مجھ میں ذرہ برابر گمراہی نہیں۔ گمراہی نے تو مجھے مس بھی نہیں کیا۔ معبود کے لیے یہضروری ہے کہ وہ حیطۂ ادراک واحساس سے بالا تر اور برتر ہو اور اپنے پرستاروں کا تراشیدہ نہ ہو و لیکن میں پروردگار عالم کا فرستادہ ہوں جس میں کسی قسم کی گمراہی کا احتمال اور امکان نہیں۔ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کر رہا ہوں اور عقل کا تقاضہ ہے کہ خیر خواہ کی بات کو سنا جائے خاص کر ایسا خیر خواہ جس میں اس کی کوئی دنیوی غرض نہ ہو اور علاوہ ازیں میں خدا کی طرف سے ان چیزوں کو جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے یعنی مجھ پر وحی آتی ہے جس کے ذریعے مجھے آئندہ پیش آنے والے امور کی اطلاع ہوجاتی ہے۔ منجملہ اس کے مجھے بذریعہ وحی کے یہ خبر دے دی گئی ہے کہ جو ایمان نہیں لائیگا اس پر عذاب الٰہی نازل ہوگا میں بحق خیر خواہی تم کو اس آنے والے عذاب سے خبردار کردیا کیا تم میری نبوت و رسالت اور نزول وحی کے منکر ہو اور تم کو اس سے تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک مرد کی معرفت جو تمہاری ہی جنس میں سے ایک نصیحت اور ہدایت آگئی۔ سو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں جب تم آدمی ہو تو تمہارے ڈرانے کے لیے پیغمبر بھی آدمیوں میں سے ہی ہوگا۔ اگر فرشتوں میں سے پیغمبر ہوتا تو تم اسے دیکھ بھی نہ سکتے اس لیے تمہیں میں کا ایک مرد کامل خدا کا پیغام لے کر تمہارے پاس آیا تاکہ وہ مرد تم کو عذاب الٰہی سے ڈرائے اور تاکہ تم اس کے ڈرانے سے ڈر جاؤ اور تقویٰ کو اختیار کرو۔ اور تاکہ تم پر مہربانی کی جائے۔ تقویٰ رحمت اور سعادت کا ذریعہ ہے کفار کی قدیم عادت ہے کہ وہ اپنے جیسے بشر کو وحی الٰہی اور رسالت خداوندی کا مستحق خیال نہ کرتے تھے۔ نوح (علیہ السلام) نے اسی اعتراض کے جواب میں یہ کہا مطلب یہ ہے کہ ارسال رسل سے مقصود انذار ہے اور انذار بشریت کے منافی نہیں پس منذر کے بشر ہونے سے تعجب کرنا حماقت ہے تم لوگ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کی پرستش کرتے ہو اور باوجود حجریت کے ان کی الوہیت کے قائل ہو۔ حجریت (پتھر ہونا) تو الوہیت کے منافی نہ ہوئی عجیب بات کہ بشریت کو نبوت و رسالت کے منافی سمجھتے ہو۔ پس وہ لوگ باوجود اس ہدایت اور نصیحت کے ان کی تکذیب پر جمے رہے اور برابر ان کو جھٹلاتے رہے پس اس وقت ہم نے نوح (علیہ السلام) کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے وہ عذاب بھیجدیا جس کی انہوں نے پہلے خبر دے دی تھی اور نوح (علیہ السلام) کو اور ان کے صحابہ کو جو کشتی میں ان کے ساتھ تھے طوفان اور غرق سے بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور ہدایتوں اور نصیحتوں کو جھٹلایا تھا ان سب کو طوفان میں غرق کردیا تحقیق وہ لوگ دل کے اندھے تھے ان کو حق اور باطل کا فرق نظر نہ آیا زجاج کہتے ہیں کہ عمین سے مراد یہ ہے کہ وہ دل کے اندھے تھے نہ کہ آنکھوں کے ان کو ایمان اور حق نظر نہ آیا یا یہ معنی ہیں کہ نزول عذاب سے اندھے تھے۔ مفصل قصہ انشاء اللہ تعالیٰ سورة ہود میں آئیگا یہ ترجمہ لیس بی ضلالۃ کی با کا ہے اس لیے کہ باء الصاق کے لیے ہوتی ہے۔ منہ عفا اللہ عنہ
Ayahs 7:65–72

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور اسی طرح قوم عاد کی طرف انکے بھائی ھود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیوں خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں ؟

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

انہوں نے کیا کہ بھائیوں ! مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانتدار خیر خواہ ہوں۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے ؟ اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد سردار بنایا اور تمہیں پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ نجات حاصل کرو۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں انکو چھوڑ دیں ؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود نے کہا کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا نازل ہونا مقرر ہوچکا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں چھگڑا کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اپنی طرف سے رکھ لئے ہیں جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی ؟ اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے انکو نجات دی اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔ اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں۔

قصہ دوم حضرت ہود (علیہ السلام) با قوم عاد قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا مومن ین۔ (ربط) اب دوسرا قصہ قوم عاد کا بیان کرتے ہیں یہ قوم طوفان نوح کے بعد ملک عرب کے جنوبی حصہ یعنی یمن میں آباد تھی یمن میں ایک مقام احقاف تھا وہاں یہ لوگ رہتے تھے اور اس قوم کے لوگ بڑے قد آور اور تناور تھے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ہود (علیہ السلام) اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے پر ناز تھا اور یہ کہا کرتے تھے کہ دنیا میں ہم سے زیادہ کوئی قوی نہیں وقالوا من اشد منا قوۃ۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی اور شرک اور ظلم سے منع کیا اور عذاب الٰہی سے ڈرایا مگر کچھ اثر نہ ہوا جسم کی طرح ان کے دل بھی سخت تھے کچھ اقل قلیل لوگ ان پر ایمان لائے اور اکثروں نے ان کی تکذیب کی اور ملک میں فساد برپا کیا اور شرارت حد سے گزر گئی تو اللہ تعالیٰ نے تین سال تک ان سے بارش کو روک لیا جس سے ان کا ناک میں دم آگیا اس زمانے میں لوگوں کا یہ دستور تھا کہ جب ان پر کوئی بلا یا مصیبت نازل ہوئی تو سب کے سب مکہ معظمہ میں بیت اللہ کے مقام پر جمع ہو کر خدا تعالیٰ سے اس مصیبت کے دفعیہ کی دعا کرتے اس دستور کے مطابق یہاں کے لوگوں نے کچھ لوگوں کو مکہ معظمہ بھیجا کہ وہاں جا کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ قحط دور کرے اور پانی برسائے اس زمانے میں مکہ معظمہ میں عمالقہ کی قوم کے کچھ لوگ رہتے تھے ان دنوں عمالقہ کا سردار اور رئیس معاویہ بن بکر تھا یہ لوگ وہاں جا کر ٹھہرے معاویہ نے ان کی خوب مہمانداری کی یہ قحط زدہ بھوکے جب وہاں پہنچے اور کھانے پینے کو خوب ملا تو دعا وغیرہ سب بھول گئے۔ ایک ماہ تک یہ لوگ اس کے یہاں پڑے رہے اور خوب شرابیں پیتے رہے جب معاویہ بن بکر نے یکھا کہ یہ لوگ اس کے یہاں سے کسی طرح نکلتے ہی نہیں اور جو کام کے لیے ان کی قوم نے بھیجا ہے اس سے بالکل غافل ہوگئے ہیں تو معاویہ بوجہ شرم کے خود تو کچھ کہہ نہ سکا مگر اس نے گانے والی چھوکریوں کو چند اشعار سکھادئیے جن کا مطلب یہی تھا کہ " اے لوگو قوم عاد کے لیے دعا کرو شاید اللہ کی رحمت ان پر نازل ہو تم تو یہاں عیش و عشرت میں مبتلا ہو مگر قوم عاد کی حالت وہاں بہت خراب اور خستہ ہے " یہ سن کر وہ لوگ چونکے اور دعا کرنے کے لیے کعبہ کے سامنے جب حاضر ہوئے جا کر دعا کی اس وقت تین ابر نمودار ہوئے ایک سفید اور ایک سیاہ اور یک سرخ پھر آسمان سے ایک آواز آئی کہ اپنی قوم کے لیے اپنی قوم کے لیے ان تین بادلوں سے جس بادل کو چاہو اختیار کرلو۔ تو ان لوگوں نے اس خیال سے کہ سیاہ بادل میں پانی زیادہ ہوگا سیاہ کو اختیار کرلیا وہ بادل قوم عاد کی طرف چل دیا جب وہ بادل، عاد کے قریب پہنچا تو اسے دیکھ کر خوش ہوئے اور سمجھے کہ بادل ہم پر پانی برسائے گا فلما راوہ عارضا مستقبل اودیتھم قالوا ھذا عارض ممطرنا۔ مگر وہ بادل درحقیقت مجسم قہر الٰہی تھا۔ جب ان کے قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ بادل تو آندھی ہے اس میں سے آندھی ہے اس میں سے آندھی نمودار ہوئی کہ آدمیوں کو اوپر لے جاتی تھی پھر انہیں سر کے بل زمین پر گرا دیتی تھی اور سر بدن سے ٹوٹ کر علیھدہ ہوجاتا تھا بل ھو ما استعجلتم بہ ریح فیھا عذاب الیم تدمر کل شیئ بامر ربھا۔ وہ آندھی ان لوگوں پر سات آٹھ دن رہی جس نے قوم عاد کا خاتمہ کردیا۔ بڑے بڑے قد آور اور شہ زور ایسے پڑے تھے جیسے جڑ سے اکھڑے ہوئے درخت۔ سخرھا علیھم سبع لیال و ثمانیۃ ایام حسوما فتری القوم فیھا صرعی کانھم اعجاز نخل خاویۃ الایۃ۔ مگر مومنوں کو خدا تعالیٰ نے اس آندھی سے بچا لیا صرف حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب اور اہل ایمان اس قہر الٰہی سے محفوظ رہے۔ (دیکھو تفسیر ابن کثیر صفحہ 225 جلد 2 وصفحہ 226 ج 2 وروح المعانی صفحہ 140 ج 8 و صفحہ 141 ج 8) بعض علماء کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہود (علیہ السلام) مکہ میں آکر آباد ہوگئے اور ڈیڑھ سو برس کی عمر میں یہیں انتقال ہوا اور مطاف کعبہ میں مدفون ہوئے یہ تو عاد اولیٰ کا انجام ہوا اور اسی قوم کی دوسری شاخ ثمود ہے جسے عاد ثانیہ کہتے ہیں اس کا ذکر آئندہ آیات میں آتا ہے۔ تفسیر : اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے برادی یا وطنی بھائی ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا ان آیتوں میں قوم عاد کا ذکر ہے جو عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح کی طرف منسوب ہے۔ یہ ایک بڑی مغرور اور متکبر قوم تھی جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہود بن عبداللہ بن رباح بن الخلود بن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا یہ لوگ یمن کے مشہور ریگستان احقاف میں عمان اور حضرت موت کے درمیان آباد تھے انہی کو عاد اولی کہتے ہیں اور یہ قوم قوم نوح کے بعد سب سے پرانی قوم ہے ان کے بعد ایک قوم عاد اور بھی ہوئی ہے جو عاد ثانیہ کے نام سے مشہور ہے جن کا قصہ اس کے بعد آئے گا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اگرچہ ملت اور مذہب کے اعتبار سے اس قوم سے بالکل جدا تھے مگر چونکہ نسب اور خاندان میں ان کے شریک تھے اس لیے حق تعالیٰ نے ہود (علیہ السلام) کو ان کا بھائی کہا۔ اور تاکہ معلوم ہوجائے کہ ہود (علیہ السلام) کی بعثت اپنی قوم تک محدود تھی عام نہ تھی جیسا کہ ورسولا الی بنی اسرائیل سے یہ بتلانا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) فقط بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے ہمارے نبی اکرم ﷺ کی طرح سارے عالم کی طرف مبعوث نہیں ہوئے۔ ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم کو چاہئے کہ میرے مثل خدا کے پرستار ہوجاؤ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے جو یوں بےباکانہ کفر اور شرک کر رہے ہو۔ ان کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تجھ کو بےعقلی اور بوقوفی میں مبتلا دیکھتے ہیں۔ کہ تو نے آباؤ و اجداد کے دین کو ترک کردیا جو عقلاء کا دین تھا اور اگر بالفرض ہم تجھ کو کمال عقل کے ساتھ بھی موصوف دیکھتے تب بھی تیرا اتباع نہ کرتے اس لیے کہ ہم اپنے گمان اور خیال میں یہ سمجھتے ہیں کہ تو جھوٹوں میں سے ہے یعنی تو جو ہم کو ایک خدا کے پوجنے کی دعوت دیتا ہے اور بتوں کی پرستش سے منع کرتا ہے اور آبائی دین کی مخالفت کرتا ہے یہ تیری جہالت اور حماقت ہے اور یہ جو تو پیغمبری کا دعویٰ کرتا ہے اس میں تو جھوٹا ہے ایک بشر کیسے نبی اور رسول ہوسکتا ہے اور تم جھوٹ موٹ ہم کو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہو۔ ہود (علیہ السلام) بولے اے قوم بحمدہ تعالیٰ مجھ میں تو ذرہ برابر بےعقی اور بےوقوفی نہیں بیوقوف تو تم ہو کہ اپنے خود تراشیدہ پتھروں کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہو و لیکن میں تو جہانوں کے پروردگا کی طرف سے پیغمبر ہوں تمہاری صلاح اور فلاح اور فلاح کا پیغام لے کر آیا ہوں اور خدا کا فرستادہ اور پیغامبر کبھی بےعقل ہو ہی نہیں سکتا میں تم کو اپنے پروردگار کے پیغامات پہنچاتا ہوں تاکہ تمہاری اصلاح ہو اور میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں اور خدا کے پیغام میں امانت دار اور معتبر ہوں میری نصیحت اور خیر خواہی اور امانت اور دیانت تم کو بھی معلوم ہے کیا اس کے بعد بھی تم مجھ کو جھوٹا سمجھتے ہو اور تم کو اس سے تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے پروردگا کی جانب سے تم ہی کے ایک مرد کی زبانی ایک نصیحت اور ہدایت آئی تاکہ تم کو عذاب الٰہی سے ڈرائے سو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ خدا تعالیٰ نے آدم اور ادریس اور نوح (علیہم السلام) پر وحی نازل کی جو تمہاری ہی جنس سے تھے۔ اور عذاب الٰہی سے ڈراتے تھے اور یاد کرو تم اللہ کے اس احسان کو کہ اس نے تم کو قوم نوح کے ہلاک کرنے کے بعد ان کا جانشین بنایا اور ان سے زیادہ تم پر انعام کیا کہ جسامت میں تم کو زیادہ پھیلاؤ دیا کہ جسمانی قوت اور ڈیل ڈول اور تن توش میں تم کو ان سے زیادہ بنایا پس تم اللہ کی نعمتوں کو زیادہ یاد کرو۔ اور زیادہ شکر کرو تاکہ تم زیادہ فلاح پاوؤ اس لیے کہ ذکر اور شکر ہی فلاح اور نجات کا ذریعہ ہے وہ لوگ جواب میں بولے اے ہود ! کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم صرف ایک خدا کی بندگی کریں اور ان بتوں کو چھوردیں جن کی ہمارے آباؤ اجداد پرستش کیا کرتے تھے۔ پس تو ہمارے پاس وہ عذاب اور قہر لے آ جسکا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے اگر تو سچوں میں سے ہے۔ ہود نے کہا کہ جب تمہاری سرککشی اور ڈھٹآئی یہاں تک پہنچ گئی ہے تو سن لو کہ تمہارے پروردگار کی کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب نازل ہوا ہی چاہتا ہے جو عنقریب آکر تمہاری اس سرکشی اور ڈھٹائی کو ختم کر دے گا کیا تم مجھ سے ایسے بےحقیقت ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جنہیں تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے رکھ لیے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل اور سند نہیں اتاری یعنی واقع میں وہ معبود نہیں مگر تم نے بلا دلیل ان کا نام معبود رکھ لیا ہے پس اب تم نزول عذاب کے منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ اس کا منتظر ہو پس چندے انتظار کے بعد عذاب آیا اور ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ تھے یعنی مومنین تھے اپنی رحمت اور مہربانی سے عذاب سے بچالیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی یعنی ان کو بالکل ہلاک کردیا اور وہ لوگ ایمان لانے والے نہ تھے ان کی قساوت قلبی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اس لیے ہم نے مقتضائے حکمت ان کا خاتمہ ہی کردیا اور بیخ وبنیاد سے اکھاڑ کر ان کو پھینک دیا۔ فالحمد للہ رب العلمین۔ کما قال تعالیٰ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین۔
Ayahs 7:73–79

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو صالح نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے یعنی یہی خدا کی اونٹی تمہارے لئے معجزہ ہے۔ تو اسے آزاد چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ عذاب الیم تم کو پکڑلے گا۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد تو کرو جب اس نے تم قوم عاد کے بعد سردار بنایا۔ اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے مٹی لے کر محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور تھے غریب لوگوں جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یہ یقین کرتے ہو صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھجے گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز وہ دے کر بھجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

تو سرداران مغرور کہنے لگے جس چیز پر ایمان لائے ہو اہم اس کو نہیں مانتے۔

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

آخر انہوں نے اونٹی کی کونچوں کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم کی سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم خدا کے پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ۔

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

تو ان کو بھونجال نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہے

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح ان سے نامید ہو کر پھرے اور کہا اے میری قوم میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچادیا اور تمہاری خیر خواہی کی اور تم ایسے ہو خیرخواہوں کو دوست نہیں رکھتے۔

قصۂ سوم حضرت صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود قال اللہ تعالیٰ والی ثمود اخاھم صالحا۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن لا تحبون النصحین (ربط) اب یہ تیسرا قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا بیان فرماتے ہیں، ثمود، قوم عاد کے بعد ہوئے ہیں یہ لوگ عرب کے رہنے والے تھے مدینہ اور شام کے درمیان ان کا وطن تھا۔ آنحضرت ﷺ جب 9 میں تبوک کی طرف تشریف لے گئے تو راستہ میں ان کے شہر اور مکانات پر سے گزر ہوا اور وہاں کچھ قیام کا بھی اتفاق ہوا لوگوں نے ان کے کنوئیں سے پانی بھرا اور اس سے آٹا گوندھا۔ جب آنحضرت ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ حکم دیا کہ جس قدر پانی بھرا گیا ہے پھینک دیا جائے پھر آپ نے وہاں سے کوچ فرمایا اور اس کنوئیں کے قریب جا کر قیام کیا جہاں سے صالح (علیہ السلام) کی ناقہ پانی پیتی تھی۔ اس کنوئیں سے آپ نے پانی پینے کا حکم دیا۔ یہ قوم نہایت مرفہ الحل تھی مگر یہ بدنصیبت پرست اور بدکار تھے اور علانیہ فواحش کے مرتکب تھے ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا صالح (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کو توحید اور احکام الٰہی کی دعوت دی تو انہوں نے امتحانا ایک خاص معجزہ کا سوال کیا کہ اگر تم اس صخرہ (سنگ سخت یعنی چٹان) سے ایک ھاملہ اونٹنی نکال دو تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے نماز پڑھ کر دعا کی یکایک وہ پتھر ہلا اور پھٹا اور اس میں سے ایک حاملہ اونٹنی نمودار ہوئی جسکے شکم میں اس کا بچہ جنبش کرتا تھا اس معجزہ کے ظاہر ہونے پر کچھ لوگ تو ایمان لے آئے اور اکثر لوگ کفر پر قائم رہے پھر اس اونٹنی کے ایک بچہ پیدا ہوا حضرت صالح (علیہ السلام) نے لوگوں سے کہ دیا کہ دیکھو اس اونٹنی کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچانا ورنہ تم پر عذاب الٰہی نازل ہوگا۔ وہ اونٹنی نہایت قوی ہیکل اور ہیبت ناک تھی لوگوں کے جانور اس کو دیکھ کر بھاگ جاتے تھے جس دن وہ پانی پیتی اس دن کوئی جانور پانی نہیں پیتا تھا اور ایک دن اس کے پانی پینے کا مقرر تھا اور دوسرے دن اور لوگوں کے مواشی کا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے لھا شرب و لکم شرب یوم معلوم۔ جاننا چاہئے کہ خدا کی قدرت کے اعتبار سے ماں کا بطن اور صخرہ (چٹان) کا باطن سب برابر ہیں۔ جو خدا اپنی قدرت سے ایک انڈے میں سے چوزہ نکال سکتا ہے وہ پتھر میں سے اونٹنی بھی نکال سکتا ہے اس کی قدرت کے لحاظ سے چوزہ اور ناقہ سب برابر ہیں خوب سمجھ لو کہ ملاحدہ اور زنادقہ کے وسوسوں میں پڑو۔ اس معجزے کو دیکھ کر جندع بن عمرو جو کہ روساء ثمود میں سے تھا وہ اور اس کے رفقاء ایمان لے آئے اور بقیہ اشراف اور رؤساء اور اکثر لوگ ایمان نہیں لائے بلکہ کفر اور عداوت میں اور شدید ہوگئے اور دشمنی پر تل گئے بالآخر لوگوں نے جوش عداوت میں اس اونٹنی کے پیر کاٹ ڈالے اور اس کو ذبح کر ڈالا اونٹنی کے بچہ نے جب یہ حال دیکھا تو بھاگ کر پہاڑ پر چرھ گیا اور جس پتھر سے صالح (علیہ السلام) کو جب یہ خبر ملی تو سخت ملول ہوئے اور قوم سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تمہارا وقت اب پورا ہوچکا ہے اب تم تین دن تک جو چاہو کرو چوتھے دن تم پر عذاب آئے گا بعض لوگوں نے یہ ارادہ کیا کہ عذاب آنے سے پہلے ہی صالح کو مار ڈالا جائے کہ اگر یہ سچا ہے تو ہم سے پہلے مارا جائے اور اگر جھوٹا ہے تو اس کو اس کی ناقہ سے ملا دیا جائے۔ کما قال تعالیٰ تقاسموا باللہ لنبیتنہ واھلہ ثم لنقولن لولیہ ما شھدنا مھلک اھلہ وانا لصادقون ومکروا مکرا ومکرنا مکرا وھم لا یشعرون۔ چناچہ انہوں نے جب یہ فعل کیا تو پنجشنبہ کی صبح کے وقت ان کے چہرے زرد ہوگئے اور جمعہ کے دن ان کے چہرے سرخ ہوگئے اور شنبہ کے روز ان کے چہرے سیا ہوگئے تین دن گزرنے کے بعد چوتھے روز بروز یکشنبہ ان پر عذاب اس طرح آیا کہ آسمان کی طرف سے ایک صیحہ (چنگھاڑ) یعنی ایک سخت ہولناک آواز آئی اور زمین کی طرف سے ایک رجفہ (سخت زلزلہ) نمودار ہوا جس سے ایک دم میں سب کے سب مر کر رہ گئے سب اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے اس عذاب سے اس قوم میں کا صرف ایک شخص ابو رغال نامی بچا جو حرم میں رہ گیا تھا لیکن جب وہ حدود حرم سے باہر نکلا تو وہ بھی عذاب سے ہلاک ہوگیا (تفسیر ابن کثیر صفحہ 227 ج 2 تا ص 229 ج 2 وروح المعانی ص 145 ج 8 تا ص 147 ج 8) قوم ثمود کی ہلاکت اور بربادی کے بعد صالح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے مسلمان مکہ معظمہ آکر مقیم ہوگئے اور وہیں صالح (علیہ السلام) کا انتقال ہوا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ ثمود کی ہلاکت کے بعد انہیں بستیوں میں آباد رہے۔ تنبیہ : قوم ثمود کی ہلاکت کے بارے میں اس جگہ تو رجفہ کا لفظ آیا ہے یعنی ایک عظیم اور شدید زلزلہ آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے اور سورة ہود میں صیحہ کا لفظ آیا ہے یعنی ایک چنگھاڑ اور سخت ہولناک آواز آئی جس سے ان کے دل پھٹ گئے چناچہ سورة ہود میں اس طرح آیا ہے۔ فعقروھا فقال تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام ذلک وعد غیر مکذوب فلما جاء امرنا نجینا صالحا والذین امنوا معہ برحمۃ منا ومن خزی یومئذ ان ربک ھو القوی العزیز و اخذ الذین ظلموا الصیحۃ فاصبحوا فی دیارھم جثمین اور سوۂ الحاقہ میں لفظ طاغیہ آیا ہے۔ فاما ثمود فاھلکوا بالطاغیۃ سو ان آیات میں کوئی تعارض اور اختلاف نہیں اس قوم پر نیچے سے یعنی زمین سے زلزلہ آیا اوپر سے یعنی آسمان سے ایک سخت ہولناک آواز آئی یا یوں کہو کہ اس زلزلہ ہی میں سخت آواز تھی جس سے ان کے دل پھٹ گئے اور یہ دونوں باتیں ان کی ہلاکت کا سبب بنیں اور لفظ طاغیہ جس کے معنی حد سے گزرنے والی چیز کے ہیں سو وہ دونوں باتوں کو شامل ہے زلزلہ کو بھی اور ہولناک آواز کو بھی (دیکھو روح المعانی ص 144، ج 8) تفسیر : اور قوم ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ صالح نے کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ان کی قوم نے ایک خاص معجزہ کی درخواست کی کہ آپ پتھر کی اس ٹھوس چٹان میں سے حاملہ اونٹنی نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں چناچہ آپ نے خدا تعالیٰ سے دعا کی۔ خدا تعالیٰ نے ان کی دعا سے ایس اہی کردیا کہ وہ پتھر پھٹا اور اس میں سے ایک بڑی اونٹنی نکلی (رواہ محمد بن اسحاق) صالح (علیہ السلام) نے قوم کو اول دعوت توحید دی اور بعد ازاں ان کی فرمائش کے مطابق ایک معجزہ ظہور میں آیا جو ان کی نبوت کی دلیل تھی۔ اس فرمائشی معجزے کے ظہور کے بعد صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اے قوم تحقیق تمہارے پروردگار کی طرف سے میری نبوت کی ایک واضح دلیل آچکی ہے وہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لیے میری نبوت کی ایک نشانی ہے جو بغیر نر اور مادہ کے ایک ٹھوس پتھر سے نکلی ہے اور کامل الخلقت ہے اور بغیر حمل اور بغیر تدریج کے ظاہر ہوئی ہے اور میری دعا سے خدا تعالیٰ نے غیر معتاد طریقہ سے اس کو پتھر سے نکالا ہے تم اس کے حقوق کی رعایت کرو مثلاً خدا کی زمین میں مباح گھاس سے اس کو نہ روکو۔ غرض یہ کہ جس نشان کو تم نے خدا تعالیٰ سے خود مانگ کر حاصل کیا ہے اس کے ساتھ برائی سے نہ پیش آؤ ورنہ تمہاری خیر نہیں۔ نکتہ : اس معجزہ میں اشارہ اس طرف تھا کہ جو خدا اپنی قدرت سے اور اپنے رسول کی دعا کی برکت سے ایک سخت چٹان میں حیات اور زندگی کے آثار پیدا کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو دل پتھر کی طرح سخت ہوچکے ہیں۔ نبی کی دعا و برکت سے نبی کی دعا برکت سے اور ان کی متابعت سے ان میں بھی زندگی کے آثار نمایاں ہوسکتے ہیں۔ پس تم اس اونٹنی کو چھٹا چھور دو کہ وہ اللہ کی زمین میں جہاں چاہے کھاتی اور چرتی پھرے کیونکہ یہ اونٹنی اللہ کی ہے اور یہ زمین اور گھاس بھی اللہ ہی کی ہے۔ تمہیں روکنے کا کوئی حق نہیں اور تم اس کو برے ارادہ سے ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ تم کو دردناک عذاب آپکڑے گا۔ اس لیے کہ جو شخص اس درجہ سنگدل ہو کہ اللہ کی نشانی کو مٹانا چاہے وہ بلاشبہ دردناک عذاب کا مستحق ہے اور اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ قوم عاد کے ہلاکت کے بعد تم کو ان کا جانشین کیا۔ تاکہ اس حیات دنیویہ کو حیات اخرویہ کا ذریعہ بناؤ اور زمین میں تم کو ٹھکانہ دیا کہ اس کی نرم زمینوں میں تم محل بناتے ہو اور پہاڑوں میں پتھروں میں سے گھر تراشتے ہو قوم ثمود بڑی مالدار اور حوشحال اور صناع تھی گرمیوں میں رہنے کے لیے نرم زمینوں میں گھر بناتے تھے اور جاڑوں کے لیے پہاڑوں میں پتھر کے گھر تراشتے تھے۔ پس تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور ان کا شکر کرو۔ اور کم از کم زمین میں فساد تو نہ مچاتے پھرو۔ اور کفر اور شرک اور نبی کی مخالفت سے بڑھ کر کوئی فتنہ اور فساد نہیں ان کی قوم کے سرداروں نے جو متکبر تھے ان ناتواں اہل ایمان سے جو ضعیف اور ناتواں سمجھے جاتے تھے یہ کہا کہ کیا تم کو یہ یقین ہے کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف سے ہماری جانب پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اہل ایمان نے جواب میں کہا کہ ان کی نبوت میں کوئی شبہ ہی نہیں۔ تحقیق ہم ان تمام چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جو وہ منجانب اللہ دیکر بھیجے گئے تم مسئلہ ان کی نبوت کا نہ پوچھو وہ تو بالکل بدیہی ہے تم تو مسئلہ ایمان کا پوچھو اور ان پر ایمان لانے کی سوچو ہم تو ان کی ہدایتوں پر بےچون وچرا ایمان لا چکے ہیں چاہے ان کی باتیں ہماری عقلوں میں آئیں یا نہ آئیں۔ جو لوگ متکبر اور سرکش تھے وہ بولے کہ ہم ان تمام چیزوں کے جن پر تم ایمان اور اعتقاد رکھتے ہو ہم اس کے کافر اور منکر ہیں۔ ہم نہ ان کی نبوت رسالت کو مانتے ہیں اور نہ ان کے اس معجزہ یعنی ناقہ کے معجزہ کو مانتے ہیں اور نہ اس کو مانتے ہیں کہ ناقہ کو مار ڈالنے سے کوئی عذاب آجائیگا پھر انہوں نے صلاح اور مشورہ کر کے اس اونٹنی کے پیر کاٹ ڈالے اور خدا تعالیٰ کے حکم سے سرکشی کی اور صالح (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا اور کہا اے صالح تو اس عذاب کو لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے اگر تو واقعی رسولوں میں سے ہے اور تیرا گمان یہ ہے کہ خدا اپنے رسولوں کی، دشمنوں کے مقابلے میں مدد کرتا ہے پس جب ان کی جرأت اس درجہ پہنچ گئی کہ خدا کے پیغمبر کا برملا مذاق اڑانے لگے تو غیر خداوندی جوش میں آگئی اور ایک زلزلے نے ان کو آپکڑا نیچے سے ایک زلزلہ آیا اور اوپر سے ایک صیحہ (چنگھاڑ یعنی سخت آواز) آئی جس سے سب کا دم نکل گیا۔ پس صبح کے وقت اپنے گھروں میں اپنے گھٹنوں پر اوندھے پڑے ہوئے تھے یعنی جب صبح ہوئی تو جو جہاں تھا وہیں اپنے گھٹنوں پر مرا پڑا تھا۔ پس صالح (علیہ السلام) نے ان کے مرنے کے بعد ان سے منہ پھیرا اور ان مردودوں سے بطور ملامت یہ کہا اے میری قوم میں نے تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچا دیا تھا اور میں نے تمہاری پوری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔ اپنے ناصح کی ایک نہ سنی بالآخر یہ روز بد دیکھا صالح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے ہلاکت کے بعد یہ خطاب ایسا تھا جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے مقتولین بدر سے کہا تھا ھل وجدتم ما وعد ربکم ھقا۔ مقصود اس سے دوسروں کو سنانا تھا۔ تاکہ ماننے والوں کے ایمان میں زیادتی ہو اور دوسرے لوگ عبرت پکڑیں۔
Ayahs 7:80–84

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور جب ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا ؟

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

یعنی خوایش نفسانی کو پورا کرنے کیلئے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیت یہ کہ تم حد سے گزرنے والے ہو

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا بولے سو یہ بولے کہ لوط اور ان کے گھر والوں کو گاؤں سے نکال دو کہ یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیا۔ مگر ان کی بیوی نہ بچی کہ وہ پیچھیے رہنے والوں میں سے تھی۔

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا۔ سو دیکھ لو کے گناہ گاروں کا کیسا انجام ہوا۔

قصہ چہارم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المجرمین (ربط) یہ چوتھا قصہ لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور شہر سدوم کے رہنے والوں کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے یہ شہر شرق اردن کے علاقہ سے قریب ہے یہ لوگ بت پرست اور نہایت بدکار تھے لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے۔ یہی بدبخت قوم اس ناپاک عمل کی موجد تھی ان سے پہلے دنیا کی کسی قوم نے یہ خبیث فعل نہیں کیا تھا اور یہ لوگ لٹیرے بھی تھے تاجروں کو لوٹ لیتے تھے اور بےحیا اس قدر تھے کہ بھری مجلسوں میں بےحیائیوں کے مرتکب ہوتے حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا اور اس بدکاری اور بےحیائی سے منع کیا۔ ائنکم لتاتون الرجال وتقطعون السبیل و تاتون فی نادیکم المنکر مگر بدنصیبوں نے کچھ نہ سنا تب ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا اور چند فرشتے حسین لڑکوں کی صورت میں بن کر حضرت لوط علیہ السلم کے مہمان ہوئے جب ان کی قوم کو یہ خبر ہوئی تو لوط (علیہ السلام) کا مکان آکر گھیر لیا اور ان سے کہا کہ اپنے مہمانوں کو ہمارے حوالہ کرو۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا کہ ایسا ظلم نہ کرو میری لڑکیاں موجود ہیں ان سے نکاح کرلو مگر میرے مہمانوں کو نہ ستاؤ انہوں نے بالکل نہ مانا تب فرشتوں نے کہا اے لوط ! تم گھبراؤ نہیں ہم خدا کے فرشتے ہیں انہیں غارت کرنے کے لیے آئے ہیں تم اپنے تمام کنبے کو اور مسلمانوں کو لے کر نکل جاؤ چناچہ وہ نکل گئے مگر ان کی بیوی جو کافرہ تھی وہ پیچھے رہ گئی اور عذاب میں مبتلا ہوئی جب وعدۂ کداوندی صبح کے وقت اس قوم پر یہ عذاب آیا کہ وہ تمام بستیاں الٹا دی گئیں اور پھر اوپر سے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا گیا۔ جبریل (علیہ السلام) نے قوم لوط کی بستیوں کو جڑ سے اکھاڑا اور آسمان کی طرف لے جا کر ان کو اوپر سے نیچے گرایا پھر اوپر سے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا یہ قصہ انشاء اللہ تعالیٰ سور ہود میں تفصیل کے ساتھ آئے گا۔ تفسیر : اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے آپ کا نسب نامہ یہ ہے لوط بن ہاران بن تارخ جب اس نے اپنی قوم اہل سدوم سے کہا جن کی طرف وہ نبی بنا کر بھیجے گئے تھے کیا تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو قباحت میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہے جس کو تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ اس گناہ کے تم ہی موجد ہو تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں (یعنی لڑکوں) کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو۔ تمہارا مقصود صرف شہوت رانی ہے نسل اور اولاد تمہارا مقصود نہیں نسل کے لیے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو پیدا کیا ہے کہ مرد اوپر ہوں اور عورتیں نیچے اور تم نے جو طریقہ اختیار کیا وہ سراسر خلاف فطرت ہے بلکہ تم حد سے نکل جانے والی قوم ہو۔ یعنی صرف اتنا ہی نہیں کہ تم اس فعل سے گناہ یا غلطی کے مرتکب ہو رہے ہو بلکہ تمہارا یہ خلاف فطرت فعل اس کی دلیل ہے کہ تم انسانیت کی حدود سے بھی باہر نکل چکے ہو اور اس نصیحت کے بعد ان کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ بعض بعض سے کہنے لگے کہ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروؤں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں کہ ہم کو گندہ بتلاتے ہیں یعنی یہ لوگ جب اپنی پاکی کے مدعی ہیں تو ہم ناپاکوں میں ان پاکوں کا کیا کام ان کو یہاں سے نکال دو ۔ خیر وہ ملعون تو کیا نکالتے خدا تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کو عزت اور راحت کے ساتھ صحیح وسالم ان بستیوں سے نکال لیا اور ان نکالنے والوں پر عذاب مسلط کردیا۔ پس جب ان کے تمسخر کی نوبت یہاں تک پہنچی تو ہم نے لوط کو اور ان کے متعلقین کو عذاب سے بچا لیا مگر ان کی بیوی ان لوگوں میں رہ گئی جو عذاب میں رہ گئے تھے اور ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا اور دوسری جگہ یہ آیا ہے کہ وہ بستیاں الٹ دی گئیں اور پتھروں کا مینہ ان پر برسایا گیا کما قال تعالیٰ فلما جاء امرنا جعلنا عالیھا سافلہا وامطرنا علیہا حجارۃ من سجیل۔ چونکہ ان لوگوں نے بھی عالی ( مرد) کو سافل بنایا اور نیچے لٹا کر اس سے لوطت کی اس لیے اس فعل شنیع کی سزا میں پوری بستی کو زیر وزبر، تہہ وبالا کیا گیا اسی بناء پر ان بستیوں کو مؤتفکات کہتے ہیں اسی وجہ سے امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک ایسے شخص کی سزا یہ ہے کہ اس کو کسی بلند مقام پہاڑ یا منارہ وغیرہ سے گرادیا جائے یا اسے سنگسار کیا جائے اور اوپر سے پتھر مارے جائیں تاآنکہ وہ مرجائے جیسا کہ قوم لوط کے ساتھ کیا گیا اور بعض علماء کے نزدیک اس کی سزا مثل زنا کے ہے کہ اگر لوطی محصن ہے تو رجم یعنی سنگسار کیا جائیگا اور اگر محصن نہیں تو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور بعض علماء کے نزدیک صرف قتل کردینا کافی ہے جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب تم کسی کو قوم لوط جیسا عمل کرتے پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کرڈالو (رواہ احمد وابو داوٗد والترمذی وابن ماجہ تفسیر ابن کثیر ص 231 ج 2) اور اسی طرح یہ فعل عورتوں کے ساتھ بھی بالاجماع حرام ہے۔ پس اے دیکھنے والے دیکھ تو سہی ان مجرموں کا انجام کیسا خواب ہوا اس لیے فقہاء حنفیہ فرماتے ہیں کہ لواطت کی حرمت زنا کی حرمت سے کہیں زیادہ شدید ہے اس لیے لواطت کی سزا حنفیہ کے نزدیک زنا کی سزا سے بڑھ کر ہے جیسا کہ ابھی بیان ہوا۔
Ayahs 7:85–87

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شیعب کو بھیجا تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نشانی آچکی ہے۔ تو تم ناپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزیں پوری دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ہر راستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے ہو اور اسمیں کجی ڈھونڈتے ہو اس وقت کو یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر بنادیا۔ اور دیکھ کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی تو صبر کئے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

قصہ پنجم شعیب (علیہ السلام) با قوم او قال اللہ تعالیٰ ٰ والی مدین اخاھم شعیبا۔۔۔ الی۔۔۔ وھو خیر الحکمین (ربط) یہ پانچواں قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو قوم لوط کی تباہی کے بعد پیش آیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) مدین کی طرف مبعوث ہوئے۔ مدین اصل میں حضرت ابراہیم کے ایک بیٹے کا نام ہے جو ملک عرب میں آکر آباد ہوگئے تھے ان کی نسل کے لوگ اس جگہ رہتے تھے اس لیے اس بستی کو یا اس قبیلہ کو مدین کہا جاتا ہے مدین کا اطلاق قبیلہ اور شہر دونوں پر آتا ہے اور یہ قبیلہ حجاز میں شام کے قریب آباد تھا یہ حجاز کا آخری حصہ ہے اسی قبیلہ میں سے اللہ تعالیٰ نے شعیب (علیہ السلام) کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ حضرت شعیب کا لقب خطیب الانبیاء ہے کیونکہ آپ نہایت فصیح اللسان اور بلیغ البیان تھے۔ اس لیے اس لقب سے ملقب ہوئے۔ محمد بن اسحاق نے ان کا نسب نامہ اس طرح بیان کیا ہے شعیب بن میکائیل بن یشجر بن مدین بن ابراہیم۔ یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں جن کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے بھاگ کر آئے تھے اور دس برس ان کے پاس رہے اور ان کی صاحبزادی سے نکاح ہوا پھر مصر کی طرف واپس ہوئے اور راستہ میں کوہ طور کے قریب اللہ کی تجلی دیکھی اور نبوت ملی۔ مدین کے لوگ بڑے شریر اور بت پرست تھے ماپ تول میں کمی کرتے تھے اور معاملات میں دغا بازی ان کا عام دستور تھا، راہزن تھے راستہ چلنے والوں کو لوٹ لیتے تھے اور کھوٹے سکے چلاتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو راہ راست کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی ان کو تعلیم دی تو ان لوگوں نے یہ ناشائستہ جواب دیا کہ ہم آپ کو اور آپ کے متبعین کو اپنے شہر سے نکالدیں گے نہیں تو آپ ہمارے مذہب میں آجائیے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان کو بہت سمجھایا۔ بہت تھوڑ لوگ ان پر ایمان لائے اور اکثر اپنے اعمال بد پر مصر رہے بالآخر ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا جس سے وہ سب ہلاک ہوگئے اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا۔ فاخذتھم الرجفۃ یعنی اس قوم کو ایک عظیم زلزلہ نے پکڑ لیا جس سے وہ اوندھے منہ گر کر مرگئے اور دوسرے مقام پر یہ ہے فاخذھم عذاب یوم الظلۃ انہ کان عذاب یوم عظیم یعنی ان کو ایک سخت اور تاریک دھوئیں نے پکڑ لیا اس قوم پر جب عذاب کا وقت قریب آیا تو اللہ نے ان پر ایک سخت اور تاریک دھواں اٹھایا جس کی گرمی اور ظلمت نہایت مہیب تھی اس دھوئیں کو اللہ تعالیٰ نے ظلہ سے تعبیر کیا ہے یعنی ان کو بادل والے عذاب نے پکڑ لیا۔ جس میں آگ تھی۔ اور تیسری جگہ یہ آیا ہے واخذت الذین ظلموا الصیحۃ۔ ان ظالموں کو ایک سخت عذاب اور ہولناک آواز نے آپکڑا سو جاننا چاہئے کہ ان تینوں عذابوں میں کوئی تعارض نہیں زمین سے ایک زلزلہ آیا جس میں ہیبت ناک آواز تھی اور آسمان کی طرف سے ایک ابر آتشیں آیا اس میں دھواں اور چنگاریاں اور بھڑکتی ہوئی آگ اور لپٹ تھی جب اس طرح اوپر اور نیچے سے عذاب آیا تو سب کا دم نکل گیا اور اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے اور اللہ نے دکھلا دیا کہ جو لوگ رسول کو شہر سے نکالنے کا ارادہ کر رہے تھے وہ سب کے سب نہایت ذلت و خواری سے تباہ ہوگئے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے متبعین اس عذاب سے مھفوظ رہے (دیکھو تفسیر ابن کثیر صفحہ 232 ج 2) تنبیہ : قرآن کریم میں کسی جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اہل مدین کی طرف مبعوث ہونا آیا ہے اور کسی جگہ اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہونا آیا ہے اس لیے بعض علماء دونوں کو ایک ہی قرار دیتے ہیں اور بعض علماء یہ کہتے ہیں دونوں الگ الگ ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو دو قبیلوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا مدین کے قریب گنجان درختوں سے گھری ہوئی ایک آبادی تھی جس کا نام ایکہ تھا اور شرک اور بت پرستی اور تولنے اور ناپنے میں کمی کرنے کی بیماری میں دونوں شریک تھے شعیب (علیہ السلام) اول اہل مدین کی طرف مبعوث ہوئے اور ان کے ہلاک ہونے کے بعد اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہوئے اور سورة فرقان و سورة قاف میں اصحاب الرس کا لفظ آیا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) اصحاب رس کی طرف مبعوث ہوئے یہ کنوئیں والے اہل مدین اور اصحاب ایکہ کے علاوہ کوئی جدا قبیلہ ہے اس لیے بعض علماء کا یہ قول ہے کہ شعیب (علیہ السلام) تین قبیلوں کی طرف مبعوث ہوئے اور قرآن کریم میں جو قوم ِ شعیب کے لیے تین عذابوں کا ذکر آیا ہے۔ رجفہ، صیحہ اور ظلہ یہ تین قسم کے عذاب تین قبیلوں کے لیے علیحدہ علیحدہ تھے یا سب پر یہ تینوں عذاب نازل ہوئے اس لیے کہ شرک اور بت پرستی اور بدمعاملگی کا مرض سب میں مشترک تھا۔ واللہ اعلم (دیکھو روح المعانی ص 153 ج 8) تفسیر : اور اہل مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ مدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے کا نام ہے جو قطورہ کے بطن سے تھا۔ جہاں اس نے سکونت اختیار کی تھی وہاں رفتہ رفتہ ایک شہر آباد ہوگیا تھا۔ اور وہ شہر مدین ہی کے نام سے مشہور ہوگیا تھا یہ شہر حجاز عرب میں کوہ سینا کے جنوب مشرق میں بحر قلزم کے کنارے سے کسی قدر فاصلہ پر واقع تھا اب وہ بالکل ویران اور غیر آباد ہے البتہ اس کے کھنڈرات اور نشانات اب تک موجود ہیں خدا تعالیٰ نے شعیب (علیہ السلام) کو اس شہر کے لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی کہا اے قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پاس، تمہارے پروردگار کی جانب سے میری نبوت کی نشانی آچکی ہے یعنی میرے معجزات تم دیکھ ہی چکے ہو اور یہ سمجھ چکے ہو کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں پس جو حکم دوں اس کی اطاعت کرو۔ پیمانہ اور ترازو کو پورا رکھو اور ماپ تول میں لوگوں کو چیزیں کم نہ دو اور ملک میں درستی کے بعد خرابی نہ ڈالو۔ یعنی دین خداوندی کی مخالفت نہ کرو یہی تمہارے لیے بہتر ہے یعنی توحید اور ناپ تول میں عدل دین ودنیا میں تمہارے لیے نافع ہے۔ اگر تم کو آخرت اور میری نبوت کا یقین ہے اور نہ بیٹھو ہر راہ پر کہ چلنے والوں کو ڈراؤ اور جو اللہ پر ایمان لائے ہیں ان کو اللہ کی راہ سے روکو اور اللہ کی راہ میں کجی نکالو ان لوگوں کی عادت تھی کہ وہ دو دو چار چار اشخاص راستوں پر بیٹھ جاتے تو راہ گیروں کو ڈراتے دھمکاتے اور جو ان کے پاس ہوتا وہ ان سے چھین لیتے اور جو شخص شعیب (علیہ السلام) کے پاس جانا چاہتا اس سے کہتے کہ جس کے پاس تو جانا چاہتا ہے وہ جھوٹا ہے اور خدائ مذہب کے متعلق نکتہ چینی اور عیب جوئی کرتے اور طرح طرح کے شبہات نکالتے اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ مذہب کا راستہ سیدھا نہیں بلکہ ٹیڑھا ہے اور یاد کرو اس وقت کہ تم بہت تھوڑے تھے پھر اللہ نے تم کو کثرت بخشی تو اس کا شکریہ ادا کرو اور دیکھ لو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ لہذا تم کو چاہئے کہ خدا کی نعمتوں پر مغرور نہ ہو بلکہ خدا کی گرفت سے ڈرتے رہو قوم نوح اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم لوط کے حالات سے عبرت پکڑو کہ ان لوگوں نے اپنے پیغمبروں کی نافرمانی کی تو کس طرح ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا اور اگر تم میں سے ایک فریق ان باتوں پر ایمان لے آیا ہے جن کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں اور ایک فریق ایمان نہیں لایا تو ذرا صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کردے یعنی حق تو یہ تھا کہ تم سب حق پر متفق ہوجاتے لیکن جب تم نے اختلا ہی کی ٹھان لی تو فیصلہ کا انتظار کرو کہ منجانب اللہ آسمان سے میرے اور تمہارے اختلافات کا فیصلہ ہوجائے کہ عذاب الٰہی سے تم کافر تو ہلاک ہوجاؤ اور ہم مسلمان نجات پا جائیں اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اس کے فیصلہ میں نہ ظلم کا امکان ہے اور نہ اس کے فیصلہ کو کوئی رد کرسکتا ہے۔
Ayahs 7:88–93

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے وہ کہنے لگے کہ شعیب ! یا تو تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائیں ہیں ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ انہوں نے کہا خواہ ہم تمہارے دین سے بیزار ہی ہوں !

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو ہم نے بیشک خدا پر جھوٹ کس طرح باندھا اور ہم شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ہم مجبور ہیں ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کے ہوئے ہے ہمارا خدا ہی پر بھروسا ہے اے ہمارے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما دیں اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے بھائیوں اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بیشک تم خسارے میں پڑگئے

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

تو ان کو بھونجال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

یہ لوگ جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے گویا کبھی آباد ہی نہ تھے غرض جنہوں نے شعیب کو چھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے۔

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیوں ! میں نے تم کو پروردگار کے پیغام پہنچا دئے ہیں اور تمہاری خہر خواہی کی تھی تو میں کافروں پر عذاب نازل ہونے سے رنج و غم کیوں کروں ؟

بقیہ قصۂ شعیب (علیہ الصلوۃ والسلام) قال الملآ الذین استکبروا من قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف اسی علی قوم کفرین شعیب (علیہ السلام) کے قوم کے متکبر سرداروں نے جواب دیا کہ اے شعیب ہمیں صبر کرنے کی اور فیصلہ کی انتظار کی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ نے ہم کو تم پر غلبہ دیا ہے اور ہم کو تمہارے نکالنے کی قدرت دی ہے۔ اے شعیب یاد رکھو ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کر رہیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ تو پھر ہم تم سے۔ کوئی تعرض نہ کریں گے یہ بات حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں کے اعتبار سے ہے کہ جو شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے پہلے کفر کے طریقہ پر تھے اور کفر سے نکل کر اسلام میں داخل ہوئے تھے باقی خود حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نسبت یہ تصور بھی نہیں ہوسکتا کہ معاذ اللہ وہ پہلے ملت کفار میں داخل تھے۔ پھر مسلمان ہوئے اس لیے کہ انبیاء کرام ابتداء ولادت ہی سے کفر اور شرک سے معصوم ہوتے ہیں یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص نبوت سے پہلے کفر اور شرک کی نجاستوں میں ملوث ہو اور بعد میں نبی بنا دیا گیا ہو بہرحال یہ خطاب تغلیبی ہے۔ عام مومنین کے اعتبار سے یہ الفاظ استعمال کیے گئے یا یوں کہو کہ یہ لفظ ان کے حق میں کفار کے زعم کے مطابق کہا گیا کیونکہ بعثت سے پہلے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے دعوت وتبلیغ شروع نہ کی تھی اس لیے ان کی خاموشی اور سکوت سے اہل مدین یہ سمجھے کہ یہ ہمارے ہی دین اور مذہب پر ہیں یا یوں کہو کہ لتعودن میں عود سے مطلق صیرورت (ہوجانے) کے معنی مراد ہیں یعنی تم ہمارے ہم مذہب بن جاؤ۔ شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ کیا ہم تمہارے دین میں داخل ہوجائیں۔ اگرچہ ہم تمہارے دین سے ناخوش اور بیزار ہوں یعنی دلیل اور حجت اور چشم بصیرت سے ہم پر یہ واضح ہوچکا ہے کہ جن کفریات میں تم مبتلا ہو وہ سم قاتل ہیں پھر جان بوجھ کر یہ زہر کا پیالہ کیسے پی لیں بالفرض اگر ہم تمہارے دین میں داخل ہوجائیں بعد اس کے کہ اللہ ہم کو اس سے نجات دے چکا ہے تو ضرور ہم نے اللہ پر بہتان باندھا یعنی اگر ہم تمہارے دین میں شامل ہوجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب تک جو ہم پیغمبری کا دعوی کرتے تھے اور تم کو اللہ کے پیغامات سناتے تھے اور تمہارے دین کو برا کہتے تھے اور اپنے دین کو خدا کا دین کہتے تھے اس میں ہم نے خدا پر بہتان باندھا اور گویا ہم نے یہ تسلیم کرلیا کہ اب تک جو ہم اپنی حقانیت کا دعوی کر رہے تھے وہ سب کا سب جھوٹ اور افتراء تھا اور ہم سے یہ ممکن نہیں کہ کفر وشرک کی ملت میں داخل ہو جائی۔ مگر یہ کہ خداوند پروردگار ہی کسی کو گمراہ کرنا چاہے تو وہ اور بات ہے اس کی قضاء و قدر کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ جب ہم کفر کی قباحت اور شناعت اور اس کے انجام بد سے بخوبی واقف ہیں تو پھر کفر کیونکر اختیار کرسکتے ہیں ہاں اگر اللہ ہی کو ہماری ہدایت منظور نہ ہو اور اسی نے ہماری قسمت میں کفر لکھ دیا ہو تو ہم مجبور ہیں۔ اشارہ اس طرف ہے کہ ہدایت اور گمراہی سب اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اس کی مشیت انسان کے ارادہ پر غالب ہے انسان کی سعادت اور شقاوت اس کے اختیار میں ہرگز نہیں دل جو تمام افعال انسانی کا محرک ہے وہ خدا ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے جس طرف چاہے اس کو پھیر دے چاہے ہدایت کی طرف اور چاہے گمراہی کی طرف ہمارا پروردگار علم کے لحاظ سے ہر چیز کو احاطہ کیے ہوئے ہے۔ قضاء وقدر کی حکمتیں اور مصلحتیں اسی کو معلوم ہیں ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا وہی اپنی عنایت سے ہم کو اپنے دین پر قائم رکھے گا۔ اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق فیصلہ کر دیجئے یعنی کافروں پر عذاب نازل فرما تاکہ انکا باطل پر ہونا اور ہمارا حق پر ہونا علانیہ طور پر واضح ہوجائے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ یہ دعا شعیب (علیہ السلام) نے اس وقت کی کہ جب وہ قوم کے ایمان سے ناامید ہوگئے اور ان کی یہ تقریر دلپذیر سن کر ان کی قوم کے سرداروں نے مسلمانوں سے کہا کہ اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کا اتباع کیا تو تم بڑے خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔ یعنی اگر تم نے باپ دادا کا دین چھوڑا تو یہ دین کا خسارہ ہوگا اور تجارت ماپ تول پورا رکھا تو یہ دنیا کا خسارہ ہوگا۔ غرض یہ کہ وہ اپنے کفر اور ظلم پر جمے رہے پس اللہ کا عذاب آیا اور ان کو ایک زلزلہ نے آپکڑا پس صبح کو اٹھے اس حال میں کہ اپنے گھروں میں اپنے زانوؤں پر اوندھے مرے پڑے تھے جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا وہی خسارہ میں رہے دنیا میں برباد اور آخرت میں دائمی عذاب کے ہمیشہ کے لیے مستحق ہوئے مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے شعیب (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کو نکالنے کی دھمکی دی تھی نہ وہ رہے اور نہ ان کی بستیاں رہیں اور جو یہ کہتے تھے کہ شعیب (علیہ السلام) کے اتباع کرنے والے خراب ہونگے سو خود ہی خائب و خاسر ہو کر رہ گئے زلزلہ نے ان کو اتنی بھی مہلت نہ دی کہ کہیں کو نکل بھاگیں۔ پھر شعیب (علیہ السلام) نے ان سے منہ پھیرا اور کہا اے قوم میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغامات پہنچادئیے اور تمہاری خیر خواہی کی اور دنیا اور آخرت کے نفع نقصان سے تم کو آگاہ کردیا مگر تم نے ایک نہ مانی اور کیفر کردار کو پہنچے پس میں کافر قوم کی ہلاکت پر کیوں غم کھاؤں۔ خود اپنے کرتوتوں سے ہلاک ہوئے نہ شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب پر اصرار کرتے نہ ہلاک اور برباد ہوتے کافروں کی ظلم اور شرک پر ہٹ دھرمی کرنے والوں کی اور انبیاء کے ساتھ تمسخر کرنے والوں کی تباہی اور برابدی لائق حزن وغم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے کہ زمین اللہ کے نافرمانوں سے پاک ہوئی اور اہل ایمان کی نگاہیں کفر وشرک کی نجاستیں دیکھنے سے محفوظ ہوگئیں فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین۔ کافر خدا کی نظر میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں۔ لہذا کسی مچھر کے مرنے پر غم کرنا اور کسی مچھر کے مرنے یا مارے جانے پر تار دینا۔ عاقل اور داناکا تو کام نہیں۔