7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 7:44–53

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا اس کو ہم نے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچ پایا ؟ وہ کہیں گے ہاں تو اس وقت ایک پکارنے والاپکار دے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس کی کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے۔

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

ان دونوں بہشتیوں اور دوزخیوں کے درمیان اعراف کا نام ایک دیوار ہوگی اور اعراف پر کچھ آدمی ہونگے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ ابھی بہشت میں داخل تو نہیں ہونگے مگر امید رکھتے ہونگے۔

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان نگاہیں پلٹ کر اہل جھنم کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں میں داخل نہ کیجئے۔

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اہل اعراف اہل جھنم میں سے جن کی صورت سے پہچانیں گے پکاریں گیں اور کہیں گے کہ آج کے دن نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کوئی کام آئی اور نہ تمہارا تکبر ہی سودمند ہوا

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

پھر مومنوں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا ؟ تو مومنوں تم بہشت میں داخل ہوجاؤ۔ تم کو کچھ خوف نہیں اور نہ تم کچھ رنج واندوہ ہوگا۔

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخی بہشتیوں سے گڑگڑا کر کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے کچھ ہمیں بھی عطا کرو وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کردیا ہے

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا، تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے تھے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے اسی طرح آج بھی انہیں بھلا دیں گے۔

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچادی ہے جس کو علم دانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کردیا ہے اور وہ مومنون کیلئے ہدایت اور رحمت ہے۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس کے وعدہ عذاب کے منتظر ہیں ؟ جس دن وہ وعدہ آئے گا تو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہونگے وہ بول اٹھے گے کہ بیشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا آج ہمارے کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں۔ یا ہم دنیا میں پھر دوبارہ لوٹادیئے جائیں کہ جو عمل بد ہم پہلے کیا کرتے تھے وہ نہ کریں بلکہ ان کے سوا کوئی نیک عمل کریں۔ بیشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا۔

اہل جنت اور اہل دوزخ اور اہل اعراف کی باہمی گفتگو کا ذکر قال اللہ تعالیٰ ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون، (ربط) گزشتہ آیات میں اہل جنت اور اہل نار کی جزاء وسزا کا بیان تھا اب ان آیات میں ان مخاطبات اور مکالمات کا ذکر ہے جو دخول جنت و جہنم کے بعد جنتیوں اور دوزخیوں کے مابین ہوں گے اور ان کے ساتھ اہل اعراف کا بھی ذکر فرمایا جن کی حالت ابتدا میں بین بین ہوگی اور بعد میں ان کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوجائے گا اور اس تمام تذکرہ سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ اس روز اہل ایمان کو سعادت کاملہ حاصل ہوگی اور اسلام کے دشمنوں کو انتہائی رنج وغم اور انتہائی حسرت پیش آئے گی جس کی کوئی تلافی ممکن نہیں جو کچھ کرنا ہے وہ اب کرلو چناچہ فرماتے ہیں اور جب جنت والے جنت میں اور آگ والے آگ میں جا چکیں اور اپنے اپنے ٹھکانہ پر پہنچ جائیں گے تو جنت والے اگ والوں کو پکاریں گے اور یہ پکارنا محض خبر دینے کے لیے نہ ہوگا بلکہ اپنی حالت پر اظہار مسرت کے لیے اور ان کی توبیخ اور حسرت بڑھانے کے لیے ہوگا۔ اور وہ نداء اور پکار یہ ہوگی کہ تحقیق ہم سے جو دنیا میں ہمارے پروردگار نے اپنے رسولوں کی زبانی ایمان اور عمل صالح پر بہشت کا وعدہ کیا تھا اس کو ہم نے ٹھیک پایا یعنی وہ وعدے جو ہمارے ساتھ کیے گئے تھے وہ پورے کردئیے گئے سو تم بتلاؤ کہ تم نے اس وعدہ کو ٹھیک پایا جو تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا یعنی خدا کا وعدہ تم سے کفر پر عذاب الیم کا تھا جس کی خبر تم کو انبیاء کرام دیا کرتے تھے بتلاؤ کہ تم بھی اپنے وعدۂ عذاب کو پہنچے یا نہیں اور انبیاء نے جس چیز کی خبر دی تھی اب بھی اس کا یقین آیا یا نہیں اہل دوزخ جواب میں کہیں گے کہ ہاں ہم نے بھی اس وعدے کو ٹھیک پایا جو ہمارے پروردگار نے رسولوں کی معرفت ہم سے کیا تھا اسی وعدہ کے بناء پر ہم عذاب میں پڑے ہیں جنتیوں کا دوزخیوں سے یہ سوال بطور تقریع و توبیخ کے ہوگا کہ ہم نے تو اپنے رب کا وعدہ سچا پایا تم کہو کہ تم نے بھی سچاپایا یا نہیں۔ جھک مار کر کہیں گے کہ ہاں ہم نے سچا پایا جیسا کہ سورة صافات میں ہے کہ ایک شخص اپنے کافر یار سے کہے گا۔ فاطلع فراٰہ فی سواء الجحیم قال تاللہ ان کدت لتردین ولولا نعمۃ ربی لکنت من المحضرین افما نحن بمیتین الا موتتنا الاولی وما نحن بمعذبین۔ بعد ازاں فرشتے کہیں گے۔ ہذہ النار التی کنتم بھا تکذبون افسحر ھذا ام انتم لا تبصرون اصلوھا فاصبروا اولا تصبروا سواء علیکم انما تجزون ما کنتم تعملون۔ اور اسی طرح آنحضرت ﷺ نے بدر کے دن کنویں پر کھڑے ہو کر سرداران قریش کو نام بنام پکار کر بطور توبیخ اور سرزنش فرمایا۔ اے ابوجہل بن ہشام اے عتبہ بن ربیعہ اور اے شیبۃ بن ربیعہ اور اے فلاں اور اے فلاں ھل وجدتم ما وعد ربکم حقا فانی وجدت ما وعدنی ربی حقا۔ سو جس طرح آنحضرت ﷺ کی یہ ندا اور نام بنام خطاب مقتولین بدر کی توبیخ اور سرزنش کے لیے تھا اسی طرح اہل جنت کی اہل نار سے یہ گفتگو بطور تقریع اور توبیخ ہوگی تاکہ ان کی حسرت اور ندامت حد کمال کو پہنچ جائے اس وقت دوزخیوں کو جواب میں بجز نعم (ہاں) کہنے کے کوئی چارہ نہ ہوگا مگر لاچاری اور مجبوری کا یہ اقراء یعنی نعم اجمالی اقرار ہے جس میں اپنے جرم کی تفصیل نہیں پس اس وقت ان دوزخیوں اور بہشتیوں کے درمیان ایک پکارنے والا یعنی ایک فرشتہ بآواز بلند پکار کر یہ کہے گا کہ خدا کی لعنت ہو ظالموں پر جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور خدا کی راہ میں کجی کے متلاشی رہتے تھے۔ یعنی اس میں عیب نکالتے رہتے تھے اور اپنی کج بحثیوں سے دن رات اس فکر میں رہتے تھے کہ صاف اور سیدھے راستہ کو ٹیڑھا ثابت کردیں تاکہ کوئی اس راہ پر نہ چل سکے۔ ملاحدہ اور زنادقہ کا طریقہ یہی ہے کہ دین کی باتوں میں شکوک اور شبہات نکالتے رہتے ہیں تاکہ لوگ دین سے بدظن اور متنفر ہوجائیں اور وہ آخرت کے منکر تھے صرف دنیاوی صرف دنیاوی زندگانی ان کی منتہائے نظر تھی عالم دنیا جو ان کو آنکھوں سے نظر آگیا تھا۔ صرف اس کے قائل تھے اور عالم آخرت جو مرنے کے بعد نظر آتا ہے وہ اس کے قائل نہ تھے غرض یہ کہ ان کے نعم (ہاں) کہنے کے بعد فرشتہ ان ظالموں پر بآواز بلند لعنت کی اذان دے گا تاکہ سب اولین اور آخرین سن لیں کہ یہ ظالم بلاشبہ قابل لعنت ہیں اور ان ظالموں نے جو مجبور ہو کر نعم کہا اس میں اپنے جرم کی تفصیل نہیں خدا کے مؤذن یعنی فرشتہ نے جب لعنۃ اللہ علی الظالمین الخ کی اذان دی اور بآواز بلند اس کا اعلان کیا تو ان کا مجرم ہونا سب کو معلوم ہوگیا کہ ان کا جرم ظلم یعنی کفر اور شرک ہے۔ اہل اعراف کا ذکر جب اللہ تعالیٰ جنت اور دوزخ والوں کا ذکر کرچکے تو اب یہ بتلاتے ہیں کہ دوزخ اور جنت کے درمیان ایک حجاب یعنی ایک بلند دیوار ہے جس کا خاصہ یہ ہوگا کہ جنت کا اثر دوزخ تک اور دوزخ کا اثر جنت تک نہیں پہنچنے دے گی کیونکہ اگر اہل جنت کو نار کا کوئی اثر پہنچے تو ان کے لیے باعث ایذاء ہے اور اگر اہل جنت کا کوئی اثر اہل دوزخ تک پہنچے تو ان کے عذاب اور مصیبت میں کمی آجائے اس لیے درمیان میں ایک پر وہ قائم کردیا گیا کہ ادھر کا اثر ادھر نہ پہنچ سکے اور یہ وہی حجاب ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے سورة حدید میں ذکر فرمایا ہے۔ فضرب بینھم بسور لہ باب۔ باطنہ فیہ الرحمۃ وظاھرہ من قبلہ العذاب۔ چناچہ فرماتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان یعنی جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار حائل ہے جس کا نام اعراف ہے اعراف کو اعراف کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل اعراف ہر شخص کو اوپر سے دیکھ کر پہچان لیں گے کہ یہ جنتی ہے اور یہ دوزخی ہے اعراف۔ عرف کی جمع ہے جس کے معنی بلند جگہ کے ہیں چونکہ وہ دیوار اونچی ہے اس لیے اس کا نام اعراف رکھا گیا جس کی بلندی پر سے جنتی اور دوزخی سب نظر آئیں گے اور اس دیوار اعراف پر کچھ مزدور ہونگے جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہونگی اس لیے یہ لوگ نہ جنت کے مستحق ہیں اور نہ دوزخ کے اس لیے فی الحال اور سر دست اعراف میں رکھے جائیں گے پھر آخر میں اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے بہشت میں داخل فرمائے گا۔ غرض یہ کہ اہل اعراف جنت اور جہنم کے درمیان میں ایک بلند دیوار ہونے کی وجہ سے جنتیوں اور دوزخیوں میں سے ہر ایک کو ان کی علامت اور چہرے کی نشانی سے پہچان لیں گے چونکہ یہ لوگ بلندی پر ہونگے اس لیے دونوں فریقوں کو آسانی سے دیکھ سکیں گے جنتیوں کو ان کے سفید اور نورانی چہروں سے اور دوزخیوں کو ان کے چہروں کی بدروئی اور سیاہی اور بدرونقی سے پہچانیں گے۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اہل اعراف جنتیوں کو ان کے چہروں کے سفیدی سے پہچانیں گے اور دوزخیوں کو ان کی روسیاہی سے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے۔ وجوہ یومئذ مسفرۃ ضاحکۃ مستبشرۃ ووجوہ یومئذ علیہا غبرۃ ترھقھا قترۃ اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ اور یہ اہل اعراف جب جنتیوں کی طرف دیکھیں گے تو جنتیوں کو پکار کر کہیں گے سلام علیکم یعنی تم کو مبارک ہو اللہ تعالیٰ کی سلامتی تم پر قائم اور دائم رہے ابھی تک یہ اہل اعراف جنت میں داخل نہ ہوئے ہونگے اور وہ امید اور توقع رکھتے ہونگے یعنی اہل اعراف جس وقت بہشتیوں کو بطور مبارک باد سلام کریں گے تو اس وقت تک وہ خود بہشت میں نہیں ہونگے مگر ان کو بہشت میں داخل ہونے کی توقع ہوگی کیونکہ وہ اپنے اعراف میں ہونے کی وجہ سے جان جائیں گے کہ دوزخ سے تو ہم نجات پا ہی چکے ہیں اب ہم بہشت میں ضرور داخل ہوجائیں گے اس لیے کہ اعراف کوئی دائمی مقام نہیں۔ آخرت میں دائمی قیام کی جگہ دوزخ ہے یا بہشت نیز عجب نہیں کہ اصحاب اعراف کی نظر اللہ کے لطف وکرم پر ہو اور دل میں یہ طمع ہو کہ اگرچہ ہماری حسنات اور سیئات کے دونوں پلے برابر ہیں لیکن حسنات کا پلہ بھاری ہوجائے حافظ شیرازی فرماتے ہیں ہست امیدم علی رغم عدو روز جزا فیض عفوش نہ نہد بار گنہ بردوشم اور جب اہل اعراف کی نظریں دوزخیوں کی طرف پھیری جائیں گی اور ان کے عذاب اور ان کی روسیاہی کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو ان ظالم لوگوں کے ساتھ دوزخ میں شامل نہ کر۔ ان کی ہمراہی سراسر تباہی ہے اہل اعراف کی حالت حسنات اور سیئات کے برابر ہونے کی وجہ سے اور دوزخ اور جنت کے درمیان میں ہونے کی وجہ سے خوف اور رجاء اور طمع اور یأس کے بین بین ہوگی۔ ادھر دیکھیں گے تو امید کریں گے اور ادھر نظر پڑے گی تو خدا سے ڈر کر پناہ مانگیں گے کہ ہم کو ان دوزخیوں میں شامل نہ کیجیے مگر پلہ رجاء اور طمع یعنی امید کا غالب ہوگا بالآخر ان کی امید پوری ہوجائے گی اور ان کو جنت میں جانے کا حکم ہوجائے گا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ نکتہ : اہل اعراف کا منہ جہنم کی طرف اس لیے پھیرا جاوے گا تاکہ اللہ کا شکر کریں کہ اس عذاب سے خلاسی ہی بہت بڑی نعمت ہے۔ : حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ دوزخ اور جنت کے درمیان جو حجاب ہے اسی کا نام اعراف ہے قیامت میں تین قسم کے آدمی ہوں گے ایک وہ جن کی نیکیاں بدیوں پر غالب ہونگی انہیں جنت میں جانے کا حکم ہوجائیگا۔ دوسرے وہ جن کی برائیاں ان کی نیکیوں ر غالب ہونگی انہیں دوزخ میں جانے کا حکم ہوجائیگا اور تیسرے وہ لوگ ہونگے جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہونگی انہیں اس مقام میں جس کا نام اعراف ہے ٹھہرنے کا حکم ہوگا یہاں تک کہ جب اللہ کو منظور ہوگا تو ان کی خطائیں معاف کردے گا اور انہیں جنت میں داخل ہونے کا حکم دیگا۔ حذیفہ بن الیمان ؓ سے کسی نے پوچھا کہ اصحاب اعراف کون ہیں کہا کہ وہ لوگ ہیں جن کے حسنات اور سیئات برابر ہیں۔ سیئات نے جنت میں جانے سے روکا اور حسنات نے آگ سے بچایا سو وہ اس دیوار پر ٹھہریں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے حق میں فیصلہ کرے۔ جمہور سلف اور خلف کا مذہب یہی ہے کہ اصحاب اعراف وہ لوگ ہونگے جن کی حسنات اور سیئات برابر ہوں گی عبداللہ بن مسعود ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ اور حذیفۃ بن الیمان ؓ جیسے جلیل القدر صحابہ سے اسی طرح منقول ہے اور بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ اصحاب اعراف وہ لوگ ہوں گے جو جہاد میں بغیر والدین کی اجازت کے نکلے اور خدا کی راہ میں شہید ہوئے اس کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں تفصیل اگر درکار ہو تو تفسیر قرطبی ص 211 ج 7 اور تفسیر ابن کثیر ص 216 ج 2 دیکھیں۔ اور جیسے اہل اعراف نے اہل جنت سے سلام و کلام کیا اسی طرح یہ اہل اعراف دوزخیوں میں سے کچھ مردان کفر کو یعنی کافروں کے سرداروں کو جنہیں وہ ان کی علامت سے پہچانتے ہوں گے پکاریں گے اور یہ کہیں گے کیا کام آیا تمہارا مال جمع کرنا اور وہ جو تم دنیا میں تکبر کرتے تھے۔ اور انبیاء کرام کی اتباع اور پیروی کو اپنے لیے عار سمجھتے تھے یعنی تمہارے مال و دولت اور تکبر نے آج تم کو نفع نہ پہنچایا آخر تم اس عذاب اور وبال میں پھنسے یا جمع سے جمعیت یعنی نوکر چاکر اور برادری اور فوج اور لشکر مراد ہے کہ جس جتھے پر تم کو گھمنڈ تھا وہ کچھ کام نہ آئی بعد ازاں اہل اعراف ان غریب اور بیچارے مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے جو جنت میں ہونگے یہ کہیں کیا یہ غریب مسلمان وہی لوگ نہیں کہ جنہیں تم دنیا میں حقیر سمجھ کر ان کے بارے میں قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ان لوگوں کو اللہ کی رحمت نہیں پہنچے گی اب دیکھو کہ ان پر اللہ کی کیسی رحمت ہو رہی ہے۔ ان کے لیے حکم ہوچکا ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ نہ تم پر کچھ خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے اب دیکھ لو پس جن کو تم بہ نظر حقارت دیکھ کر یہ کہا کرتے تھے اھٰؤلاء من اللہ علیھم من بیننا۔ دیکھ لو ان پر اللہ کا کیسا فضل اور کیسی رحمت ہورہی ہے اور تم کس عذاب اور مصیبت میں مبتلا ہو اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ قول فرشتوں کا ہے جو اہل اعراف سے متعلق ہے یعنی فرشتے اہل اعراف سے کہیں گے۔ اے اہل اعراف فریقین کا فیصلہ ہوچکا لو اب تم بھی جنت میں داخل ہوجاؤ وہاں تمہیں نہ کچھ خوف ہوا اور نہ غم۔ اہل اعراف دوزخ کے درمیان ایک بلند جگہ پر ہونے کی وجہ سے فریقین کا حال دیکھیں گے دوزخیوں کو دیکھ کر ڈریں گے اور پناہ مانگیں گے کہ اے اللہ ہمیں ان کے ساتھ نہ شامل کرنا اور اہل جنت کو دیکھ کر ایک عجیب طمع اور آرزو کے ساتھ ان کو سلام کریں گے زبان سے سلام کریں گے اور دل میں یہ طمع اور آرزو ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ہم کو ان کی طرح جنت میں جگہ دے اللہ تعالیٰ ان کی یہ طمع اور آرزو پوری کریگا اور حکم ہوجائے گا۔ ادخلوا الجنۃ لا خوف علیکم ولا انتم تحزنون دوزخیوں کا اہل جنت کے سامنے دست سوال گزشتہ آیات میں اہل جنت کی گفتگو کا اہل جہنم سے ذکر تھا اب ان آیات میں دوزخیوں کی جنتیوں سے گفتگو کا ذکر کرتے ہیں اور دوزخ والے بھوک اور پیاس سے بدحواس ہو کر جنت والوں کو پکاریں گے کہ خدارا پانی کا کوئی قطرہ ہم پر ڈال دو یا جو روزی اللہ نے تم کو دی ہے اس میں سے کچھ ہم کو بھی دے دو جن فقراء مومنین کے بارے میں قسم کھا کر کہا کرتے تھے۔ لا ینالھم اللہ برحمۃ اور تکبر کی وجہ سے ان سے بات کرنا بھی پسند نہ کرتے تھے آخرت میں پہنچ کر ان کے سامنے دست سوال دراز کریں گے۔ اہل جنت میں جواب کہیں گے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے ان دونوں چیزوں کو کافروں پر حرام کردیا ہے یہ کافر وہی تو ہیں جنہوں نے (دنیا میں) اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیاوی زندگانی نے ان کو ایسا فریب دیا کہ آخرت کو بالکل بھول گئے پس آج ہم بھی ان کو بھول جائیں گے جیسا کہ وہ دنیا میں اس دن کی پیشی اور ملنے کو بھولے ہوئے تھے۔ خدا تعالیٰ نسیان سے منزہ ہے یہاں مجازاً اس کو خدا کی طرف منسوب کردیا مطلب یہ ہے کہ آج ہم ان کو اپنی رحمت سے نظر انداز کردیں گے بھول جانا کنایہ ہے بےالتفاتی اور بےتوجہی سے اور اس کے راحت و آرام کی خبر نہ لینے سے ورنہ نسیان کے حقیق معنی جناب باری تعالیٰ میں متصور نہیں ہوسکتے پس جس طرح یہ لوگ ہماری ہی دی ہوئی نعمتوں میں مست ہو کر ہم کو بھول گئے اور پیغمبروں کے ذریعے ہم نے احکام بھیجے ان کا خیال بھی نہ کیا اور ہمارے دین کا کھیل اور تماشہ بنایا اسی طرح آج ہم بھی ان کا خیال نہ کریں گے اور جن لوگوں نے ہمارے دین کا کھیل اور تماشہ بنایا آج ہم ان کی ذلت و خواری کا تماشہ دکھلائیں گے اور جیسا کہ یہ لوگ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہتے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی ان کی درخواست قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں اور ان لوگوں کا انکار کسی شبہ پر مبنی نہ تھا بلکہ عناد کی بناء پر تھا اس لیے کہ تحقیق ہم نے ان کفار کے پاس ایسی کتاب پہنچا دی جس میں تمام عقائد اور احکام اور امور آخرت کو تفصیل کے ساتھ بیان کردیا جو ایسے علم یقینی اور قطعی پر مشتمل ہے جس میں سہو اور خطاء کا احتمال بھی نہیں اور یہ کتاب ایسے عجیب و غریب علم پر مشتمل ہے کہ اس جیسا علم کسی اور کتاب میں نہیں (روح المعانی ص 11 ج 8) اور اس مفصل کتاب کو ہم نے اس لیے نازل کیا تاکہ سب پر حق واضح ہوجائے اور یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ذریعۂ ہدایت اور رحمت ہے جو اس کو سن کر ایمان لاتے ہیں اور ایمان لا کر اس کی برکتوں سے حصہ پاتے ہیں برخلاف ان بدنصیطوں کے کہ جن کے دل تکبر اور تخوت اور مال و دولت کی محبت سے بھرے ہوئے اور لذات نفسانیہ پر فریفتہ ہیں وہ اس کا سننا بھی پسند نہیں کرتے ان کی حالت سے بظاہر ایسا مترشح ہوتا ہے کہ یہ کافر لوگ نہیں انتظار کر رہے ہیں مگر اس وعدۂ عذاب کی حقیقت اور مصداق کے ظاہر ہوجانے کا یعنی یہ کافر جو اس قرآن کی تکذیب پر آرے ہوئے ہیں کیا وہ اسی بات کے منتظر ہیں کہ قرآن میں جو عذاب کے وعدے کیے گئے ہیں وہ وقوع اور ظہور میں آجائیں اور اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ لیں تب ایمان لائیں تو خوب سمجھ لو جس دن اس وعدۂ عذاب کی حقیقت سامنے آجائے گی یعنی قیامت کے دن جب اس تکذیب اور تکبر کا نتیجہ آنکھوں سے دیکھ لیں گے سو وہ لوگ جو اس دن کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے اور اس پر ایمان نہیں لاتے تھے اس دن کو دیکھ کر یہ کہیں گے کہ بیشک ہمارے رب کے رسول دنیا میں حق لے کر آئے تھے ہم نے اپنی حماقت اور تکبر سے ان ہیں ناحق جھٹلایا پس کیا ہمارے لیے یہاں کوئی سفارشی ہوسکتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے اللہ سے سفارش کریں یا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم دنیا میں پھر واپس لوٹا دئیے جائیں۔ پس وہاں جا کر ان عملوں کے خلاف عمل کریں جو ہم پہلے کرتے تھے یعنی ہم پہلے برے عمل کرتے تھے اب اچھے عمل کریں گے عذاب خداوندی کو دیکھ کر یہ تمنا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اب نجات کی کوئی صورت نہیں جو وقت تم کو آخرت کی تجارت کے لیے دیا گیا تھا وہ سب تم نے اپنے تکبر اور حماقت سے ضائع کردیا بیشک ان لوگوں نے انبیاء کی تکذیب کر کے اپنی جانوں کو خسارہ میں ڈالا اب اس کا نتیجہ بھگتیں اور ان سے وہ سب کچھ گم ہوگیا جو وہ دنیا میں افتراء کرتے رہتے تھے سوائے عذاب کے کچھ نظر نہ آیا۔ " خود غلط بود آنچہ ما پنداشتیم " عجیب عجیب باتیں کرتے تھے جب آنکھ کھلی تو کچھ اور ہی دیکھا۔
Ayahs 7:54–58

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر ٹھہرا۔ وہی دن کو رات کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج چاند اور ستاروں کو پیدا کیا۔ سب اسی کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا ہے یہ خدائے رب العالمین بڑی برکت والا ہے۔

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

لوگو ! اپنے رب سے عاجزی اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں بناتا۔

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنے اور خدا سے خوف کھاتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت یعنی مینہ سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھالاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی سی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینہ برساتے ہیں پھر مینہ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زمین سے زندہ کر کے باہر نکالیں گے یہ آیات اس لئے بیان کی جاتی ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

جو زمین پاکیزہ ہے اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے نفیس ہی نکلتا ہے۔ اور جو خراب ہے اس میں سے جو کچھ نکلتا ہے ناقص ہوتا ہے۔ اس طرح ہم آیتوں کو شکر گزاروں کیلئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔

ذکر تخلیق عالم برائے اثبات ربوبیت والوہیت برائے اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ کذلک نصرف الایت لقوم یشکرون (ربط) گزشتہ آیات میں معاد اور جزاء وسزا کا بیان تھا جسکا مشرکین انکار کرتے تھے اب ان آیات میں تخلیق عالم کا ذکر فرماتے ہیں جو حق جل شانہ کی ربوبیت اور الوہیت اور کمال قدرت کے دلائل پر مشتمل ہے جس کو سماوات اور ارضین کی تخلیق سے شروع فرمایا اور بارش اور ارض میتتہ کی حیات یعنی مردہ زمین کی زندگی پر کلام کو ختم فرمایا کہ بارش سے کس طرح زمین زندہ ہوجاتی ہے جس سے مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر استدلال فرمایا اور یہ فرمایا۔ کذلک نخرج الموتی لعلکم تزکرون۔ تاکہ منکرین حشر کا استبعاد رفع ہوجائے اور اس کے بعد بعض مشہور پیغمبروں کے حالات اور واقعات ذکر فرمائے تاکہ معلوم ہوجائے کہ انبیاء کرام کی تصدیق اور تکذیب کا قیامت کے آنے سے پہلے ہی دنیا میں کیا انجام ہوا تقریبا پارہ نہم کے نصف تک یہی مضمون چلا گیا ہے غرض یہ کہ ان آیات میں اولاً مبداء اور معاد کے دلائل کو بیان کیا اور بعد ازاں حضرات انبیاء کے واقعات سے دلائل نبوت اور براہین رسالت کو بیان فرمایا اور اسی طرح توحید اور رسالت اور قیامت کا بیان یکے بعد دیگرے اخیر سورت تک چلا گیا تاکہ ان خاسرین پر جنہوں نے اپنے دین کو لہو ولعب بنا رکھا ہے ( جیسا کہ ان اللہ حرمھما علی الکافرین الذین اتخذوا دینھم لھوا ولعبا۔ میں گزرا) سعادت اور شقاوت فلاح اور خسران کی حقیقت واضح ہوجائے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق اے لوگو حقیقت میں تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور ان مشرکین نے جو شرکاء اور ارباب تراش رکھے ہیں ان میں کوئی بھی تمہارا رب نہیں انہوں نے آسمان اور زمین کا کوئی ذرہ بھی پیدا نہیں کیا۔ یہ چھ دن یہ ہیں یکشنبہ دو شنبہ سہ شنبہ چہار شنبہ پنجشنبہ، جمعہ اور جمعہ کے دن حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ہفتہ کے دن کوئی چیز پیدا نہیں کی یہ دن پیدائش سے خالی رہا اسی وجہ سے اس دن کو یوم سبت کہتے ہیں سبت کے معنی قطع کے ہیں یعنی اس دن آفرینش منقطع ہوچکی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اتنی مدت اور اتنے وقت میں پیدا کیا جو دنیا کے چھ دنوں کے برابر تھا کیونکہ زمین اور آسمان کی پیدائش سے پہلے یہ متعارف دن اور رات ہی نہ تھے کہ جو طلوع آفتاب سے غروب تک اور غروب سے طلوع آفتاب تک ہے اور بعضوں نے کہا کہ اس سے آخرت کے دن مراد ہیں کہ ہر دن ہزار سال کا ہے۔ کما قال تعالیٰ وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون اور پہلا ہی قول صحیح ہے (ماخوذ از موضح القرآن للشاہ عبدالقادر الدہلوی (رح) تعالیٰ ) اس پر زمانہ حال کے بعض فلاسفہ اعتراض کرتے ہیں کیونکہ ان کی تحقیق یہ ہے کہ یہ کائنات آہستہ آہستہ اور بتدریج لاکھوں اور کروڑوں برس میں پیداہوئی ہے لیکن یہ تحقیق خود مشکوک ہے جس پر کوئی دلیل نہیں مگر جو لوگ یورپ کی تقلید پر مٹے ہوئے ہیں وہ تو اس کو وحی آسمانی سے بھی زیادہ سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کی خبر کہ ا آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا ہوئے اس کو غلط سمجھتے ہیں حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو خبر دی ہے وہ حق اور صدق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور اس کے بعد بیشمار مخلوق اور اس کے ارادہ اور قدرت سے پیدا ہوئی اور جب تک چاہے گا پیدا ہوتی رہے گی اور یہ خیال کہ کائنات عالم آہستہ آہستہ اور بتدریج لاکھوں اور کروڑوں برس میں پیدا ہوئی۔ یہ خیال خام ان دھریوں کا ہے کہ جو خدا کے منکر ہیں اور سلسلۂ عالم عالم کو قدیم اور ازلی مانتے ہیں اور یہ بالکل غلط ہے تمام انبیاء ومرسلین کا اس پر اجماع ہے کہ تمام عالم حادث ہے خدا تعالیٰ کے ارادہ اور قدرت سے عدم کے پردہ سے نکل کر وجود میں آیا ہے پھر بعد ازاں اللہ تعالیٰ بلا کسی نقل و حرکت کے عرش پر بلا کسی حلول اور بلا تمکن اور بلا استقرار کے قائم ہوا جیسا قیام اس کی شان کے لائق اور مناسب تھا اور حکمرانی شروع کی اور علویات اور سفلیات میں اپنی تدبیر اور تصرف اور احکام کو جاری فرمایا جیسا کہ دوسری جگہ ثم استوی علی اعرش کے بعد یدبر الامر وغیرہ کے الفاظ آئے ہیں جو استواء علی العرش کی تفسیر ہیں۔ اور یہود بےبہبود یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین پیدا کرنے کے بعد تھک گیا اور درماندگی کی وجہ سے عرش پر لیٹ گیا تمام اہل اسلام کا اجتماعی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے نہ کوئی حد ہے اور نہ کوئی نہایت ہے اور نہ اس کے لیے کوئی مکان اور سمت اور جہت ہے اس کی ہستی، سمت اور جہت اور مکان اور زمان کے قیود اور حدود سے پاک اور منزہ ہے اس کی ہستی کسی زمان یا مکان کی ہستی پر موقوف نہیں بلکہ مکان اور زمان کی ہستی اس کی ایجاد اور تکوین پر موقوف ہے کیونکہ جب مکان وزمان موجود نہ تھے وہ اس وقت بھی تھا اور اب جبکہ زمان اور مکان موجود ہیں تب بھی موجود ہے وہ خداوند ذوالجلال زمین اور آسمان اور عرش اور کرسی کے پیدا کرنے سے پہلے جس صفت اور شان پر تھا اب بھی اسی صفت اور شان پر ہے۔ معاذ اللہ عرش عظیم خداوند کریم کا حامل نہیں کہ خدا تعالیٰ کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے یا تھامے ہوئے ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی قدرت اور رحمت عرش کو اٹھائے ہوئے اور تھامے ہوئے ہے وہ ذرہ برابر کسی عرش اور فرش کا محتاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں معلوم ہوا کہ استواء علی العرش سے عرش پر بیٹھنا اور متمکن اور مستقر ہونا مراد نہیں بلکہ کائنات عالم کے تدبیر اور تصرف کی طرف متوجہ ہونامراد ہے اور یہ جملہ (یعنی استواء علی العرش) قرآن کریم میں سات جگہ آیا ہے ایک تو یہ جگہ کہ آپ کے سامنے ہے دوم سورة یونس میں سوم سورة رعد میں چہارم سورة طہ میں پنجم سورة فرقان میں ششم سورة سجدہ میں ہفتم سورة حدید میں اور سب جگہ اس کی شان شہنشاہی اور تدبیر اور تصرف کو بیان کرنا مقصود ہے کہ وہی سارے عالم کا خالق ہے اور وہی تمام کائنات کا مدبر اور ان میں متصرف ہے یہی فی الحقیقت تمہارا رب ہے جس کا حکم آسمانوں اور زمینوں میں جاری ہوتا ہے۔ متشابہات : اور اس قسم کی تمام آیتیں اور حدیثیں جن سے بظاہر یہ وہم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی مکان یا جہت میں ہے جیسے آیات استواء علی العرش اور احادیث نزول باری تعالیٰ اس قسم کی آیات اور احادیث کو متشابہات کہتے ہیں ان کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے۔ فرقۂ مجسمیہ اور مشبہہ اور کر امیہ : اس قسم کی آیات اور احادیث کو ظاہری اور حسی معنی پر محمول کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ استواء علی العرش کے معنی تخت پر بیٹھنے کے ہیں اور جس طرح دنیا کا بادشاہ تخت پر بیٹھتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہے اس گروہ کے نزدیک استواء کے معنی تمکن اور استقرار اور قعود کے ہیں ظاہر پرست اس قسم کے الفاظ کو ظاہری اور عرفی معنی میں لیکر خدا تعالیٰ کے لیے عرش (تخت) پر بیٹھنا ثابت کرتے ہیں۔ اہل حق : اہل حق یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک اور منزہ ہے کہ وہ کسی عرش اور تخت پر یا کسی جسم پر متمکن اور مستقر ہو یعنی جس طرح کسی بادشاہ کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ تخت پر بیٹھا ہوا ہے یا ایک چارپائی پر بیٹھا ہوا ہے مگر خدا تعالیٰ کو ایسا کہنا ہرگز جائز نہیں۔ کیونکہ اگر (ا) خدا تعالیٰ کسی جسم اور محل پر متمکن اور مستقر ہو تو اس کا مقداری ہونا لازم آئے گا کیونکہ جو چیز کسی جسم پر متمکن ہوتی ہے وہ یا تو اس سے بڑی ہوتی ہے یا چھوٹی ہوتی ہے یا برابر ہوتی ہے اور کمی اور بیشی اور مساوات کے ساتھ وہی شئے موصوف ہوسکتی ہے جو مقداری ہو اور اللہ تعالیٰ کمیت اور کیفیت اور مقدار سے پاک اور منزہ ہے (2) نیز جو چیز کسی مکان یا جہت میں ہوگی وہ محدود اور متناہی ہوگی اور اطراف اور جوانب میں محصور ہوگی اور جو محدود اور محصور ہے وہ مخلوق اور حادث ہے (3) نیز خدا تعالیٰ فرماتے ہیں وھو اللہ فی السموات وفی الارض وھو معکم اینما کنتم سو ان آیات کو اگر ظاہری معنی پر محمول کیا جائے کہ خدا کی ذات ہر مکان میں موجود ہے اور تمام آسمانوں اور زمینوں میں موجود ہے تو یہ آیتیں استواء علی العرش کی آیت کے معارض پڑیں گی اس لیے کہ جب خدا کی ذات آسمان اور زمینوں میں موجود ہے تو یہ آیتیں استواء علی العرش کی آیت کے معارض پڑیں گی اس لیے کہ جب خدا کی ذات آسمان اور زمین میں ہر جگہ موجود ہے تو عرش کی خصوصیت باطل ہوئی (4) نیز حدیث میں آیا ہے ینزل اللہ کل لیلۃ الی سماء الدنیا۔ خدا تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اگر اس حدیث کو اپنے ظاہر پر محمول کیا جائے تو لازم آئیگا کہ معاذ اللہ خدا تعالیٰ کبھی عرش پر بیٹھتا ہے اور کبھی نیچے اترتا ہے اور سب کو معلوم ہے کہ حق تعالیٰ نقل و حرکت سے پاک اور منزہ ہے (5) اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین پر نمازی کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے کیا کوئی موحد اس بات کی جرأکر سکتا ہے کہ اس حدیث کو ظاہری معنی پر محمول کرے۔ معاذ اللہ کیا خدا تعالیٰ کبھی عرش پر بیٹھتا ہے اور کبھی آسمان دنیا پر اترتا ہے اور کبھی نمازی کے سامنے آکر کھڑا ہوجاتا ہے جسکا اہل اسلام میں سے کوئی بھی قائل نہیں (6) بیشمار آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے حق تعالیٰ کی تنزیہ اور تقدیس صراحۃ ً ثابت ہے اور تمام انبیاء ومرسلین اپنی اپنی امتوں کو ایمان تنزیہی ہی کی دعوت دیتے چلے گئے ایمان تشبیہی وتمثیلی اور اسلام تجسیمی ومقداری کی کسی نبی نے دعوت نہیں دی (8) اور اسی پر تمام صحابہ وتابعین اور سلف اور خلف کا اجماع ہے (9) اور خدا تعالیٰ کا مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہونا دلائل عقلیہ اور قطعیہ سے ثاب ہے (10) اور شریعت کے مسلمات میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے نہ کوئی مکان ہے اور نہ کوئی زمان ہے اور نہ کوئی حد اور نہایت ہے اس خداوند قدوس کی ذات والا صفات مکان اور جہت اور سمت سے مبرا ہے اور کیوں نہ ہو کیونکہ مکان اور جہت کو اسی نے پیدا کیا ہے وہ مکان کے پیدا کرنے سے پہلے بغیر مکان کے تھا۔ بعد میں اس نے اپنی قدرت سے مکان اور جہت کو پیدا کیا۔ پس جس صفت اور شان پر وہ مکان اور جہت کے پیدا کرنے سے پہلے تھا پیدا کرنے کے بعد بھی وہ اسی صفت اور شان پر ہے ہو الاول والاخر۔ متشابہات میں سلف اور خلف کے مسلک کی تشریح لہذا اس قسم کی آیات متشابہات جن سے مکان یا جہت یا تشبیہ اور تمثیل کا شبہ ہوتا ہو سلف اور خلف کے نزدیک بالاجماع ان سے ظاہری اور حسی معنی مراد نہیں اور کلام کو اپنے ظاہر سے ہٹانا اور پھیرنا اسی کا نام تاویل ہے کیونکہ تمام آیتیں اور حدیثیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ مکان اور جہت اور سمت سے پاک ہے اور یہ تمام کی تمام نصوص صریحہ اور قطعیہ ہیں اور محکمات ہیں اور شریعت کے مسلمات ہیں جن میں تاویل کی ذرہ برابر گنجائش نہیں اور آیات متشابہات جن سے مکان اور جہت کا شبہ ہوتا ہے وہ ظنی الدلالت ہے لہذا ان میں تاویل کی جائے گی تاکہ قطعیات اور محکمات اور مسلمات کے مخالف نہ رہیں اور محکمات اور متشابہات میں جب بظاہر تعارض نظر آئے تو محکمات کا اتباع واجب ہے اور متشابہ کا اتباع زیغ ہے۔ تاویل اجمالی وتاویل تفصیلی اب اس تاویل کے دو طور ہیں ایک اجمالی اور ایک تفصیلی اب اس کی تفصیل سنئے ! تاویل اجمالی : تاویل اجمالی تو یہ ہے کہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ ان آیات سے ظاہری اور حسی معنی مراد نہیں اور استواء علی العرش کا یہ مطلب نہیں کہ خدائے قدوس کی ذات مقدس عرش سے متصل اور اس سے ملاتی ہے اور اس پر متمکن اور جاگزیں ہے جس سے جسمیت لازم آئے۔ رہا یہ امر کہ پھر ان سے کیا مراد ہے سو اس کو حق تعالیٰ کے سپرد کیا جائے اور یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان سے مراد لیا ہے وہ حق ہے اور ہم بلا تشبیہ اور بلا تمثیل اور بلا کیفیت اللہ کی مراد پر ایمان لاتے ہیں یہ مذہب سلف صالحین اور فقہاء اور محدثین اور اصولیین محققین کا ہے جیسا کہ امام مالک (رح) تعالیٰ سے منقول ہے کہ ان سے کسی شخص نے استواء علی العرش کے معنی پوچھے اور سوال کیا کہ حق تعالیٰ عرش پر کیسے مستوی ہے اور اس کا استواء کیسا ہے تو امام مالک (رح) تعالیٰ نے (حق تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت کی بناء پر) سر نیچے جھکا لیا اور خوف سے پسینہ پسینہ ہوگئے پھر سر اٹھایا اور فرمایا کہ استواء معلوم ہے اور کیفیت مجہول اور غیر معقول ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس سے سوال کرنا بدعت ہے اور اسے سائل تو بلاشبہ ایک برا آدمی اور بدعتی شخص ہے پھر اپنے اصحاب سے فرمایا کہ اس کو یہاں سے نکال دو اس پر آپ کے اصحاب نے اس کو نکال دیا۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی مسلک ہے جیسا کہ شرح فقہ اکبر اور شرح قصیدہ بدء الامالی میں ملا علی قاری (رح) تعالیٰ نے نقل کیا ہے اور امام مالک کا مطلب یہ تھا کہ استواء کے معنی لغت میں معلوم ہیں عربی زبان میں لفظ استواء متعدد معنی کے لیے مستعمل ہوتا ہے مثلا کبھی استقرار اور تمکن اور قعود کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے اور کبھی قصد اور ارادہ اوراقبال اور توجہ اور اکمال اور اتمام اور اعتذال اور استیلاء اور قہر اور غلبہ کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے جس میں سے بعض معنی شان خداوندی کے مناسب ہیں اور بعض غیر مناسب اور حق تعالیٰ نے ہمیں اپنے معنی مرادی کی تعیین سے مطلع نہیں کیا پس ہم قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ معنی مراد ہیں اور وہ معنی مراد نہیں اس لیے مذہب اسلم تفویض و تسلیم ہے کہ ان کی مراد کو اللہ کے سپرد کیا جائے پس استواء علی العرش جو قرآن سے ثابت ہے اس پر ایمان لانا واجب ہے جو خدا کی شان تنزیہ و تقدیس کے شایان ہوں ایسے معنی کے اعتبار سے استواء ثابت کرنا جس میں اجسام کی طرح خدا تعالیٰ کے لیے مکان اور محل لازم آئے یہ جائز نہیں اور خدا تعالیٰ کے لیے جس معنی کر استواء ثابت ہوگا اس میں کیفیت اور کمیت کا شائبہ بھی نہ ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کمیت اور کیفیت سے پاک اور منزہ ہے۔ قرآن کریم میں نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں آیا ہے فاذا استویت انت ومن معک علی الفلک سو اس آیت میں استواء سے نوح (علیہ السلام) کا اور ان کے اصحاب کا کشتی میں سوار ہونا اور بیٹھنا مراد ہے تو کیا معاذ اللہ حق تعالیٰ شانہ کے حق میں استواء علی العرش سے عرش پر سوار ہونے اور بیٹھنے کے معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ عما یصفون۔ اور امام مالک (رح) تعالیٰ کا یہ لفظ والکیف غیر معقول اس امر کی واضح دلیل ہے کہ بارگاہ خداوندی میں استواء سے ظاہری اور عرفی معنی مراد نہیں جو لوگوں کی عقل میں آسکیں بلکہ ایسے معنی مراد ہیں کہ جو عقل اور ادراک سے بالا تر ہیں اور ظاہر ہے کہ استواء کے معنی جلوس اور قعود اور استقرار اور تمکن کے ایسے معنی ہیں کہ عامۃ الناس کی عقلیں بھی اس کو جانتی اور سمجھتی ہیں اس معنی کر استواء کو کیسے غیر معقول کہا جاسکتا ہے اور امام مالک (رح) تعالیٰ نے بیٹھنے اور سوار ہونے کے معنی کے لحاظ سے استواء علیہ العرش پر ایمان لانے کو واجب قرار نہیں دیا بلکہ اس معنی کر ایمان لانا واجب قرار دیا جو خداوند قدوس کی شان تنزیہ اور تقدیس کے لائق اور مناسب ہو اور آنحضرت ﷺ نے صحابہ کے سامنے ان آیات متشابھات کی تلاوت فرمائی صحابہ سن کر ان پر ایمان لائے اور بلا تشبیہ و تمثیل کے ان امور کو خدا تعالیٰ کے لیے ثابت کیا اور سن کر خاموش ہوگئے اور کیفیت دریافت کرنے کے درپے نہ ہوئے اس لیے ان کے بارے میں سوال کرنا اور درپئے حقیقت وکیفیت ہونا یہ بدعت ہے۔ تاویل تفصیلی : اور تاویل تفصیلی یہ ہے کہ جب ان متشابہات کو بوجہ آیات تنزیہ و تقدیس ظاہری اور حسی معنی پر محمول کرنا ناممکن ہو اتو ضرورت اس کی ہوئی کہ معنی مجازی کی تعیین کی جائے کہ جو اس آیت سے قواعد شریعت اور قواعد عربیت کے تحت رہ کر مراد لیے جاسکتے ہیں مثلاً استواء علی العرش سے علو اور ارتفاع کے معنی مراد لینا یا استیلاء وقہر اور غلبہ کے معنی مراد لینا اور مثلا وجہ اور نفس سے ذات مراد لینا وغیرہ یہ تاویل تفصیلی ہوئی یہ مذہب جمہور متکلمین کا ہے اور راسخین فی العلم وہ لوگ ہیں جو محکمات کو اصل قرار دیکر متشابہات میں تاویل کرتے ہیں اور جو شخص محکمات کو نظر انداز کر کے متشابہات کو ظاہری اور حسی اور عرفی معنی پر محمول کرے اور اسی کو حقیقت سمجھے تو یہ شخص زائغین میں سے ہے یعنی کج فہم اور جاہل ہے جس کو اپنی جہالت کی بھی خبر نہیں سلف اور حلف کا حق تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس پر ایمان ہے اور سب اس پر متفق ہیں کہ استواء اور نزول سے ظاہری اور حسی طور پر اترنا اور چڑھنا اور بیٹھنا مراد نہیں رہا یہ امر کہ پھر کیا مراد ہے۔ سو سلف نے معنی مرادی کو اللہ کے سپرد کیا اور خلف نے عوام کو تشبیہ اور تمثیل کے فتنہ سے بچانے کے لیے قواعد عربیت اور قواعد شریعت کے تحت ان متشابہات کے معنی بیان کیے اور محاورات عرب میں جو مجازات کثیر الاستعمال تھے ان پر متشابہات کو محمول کیا اب ہم اس بارے میں حضرات متکلمین سے جو مختلف تاویلیں منقول ہیں وہ ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں۔ تاویل اول : استواء کے معنی علو اور ارتفاع کے ہیں اور استواء علی العرش سے علو مرتبت اور رفعت شان خداوندی کو بیان کرنا مقصود ہے امام بخاری (رح) تعالیٰ نے اپنی جامع صحیح میں اسی تاویل کو اختیار فرمایا۔ امام ابوبکر بن فورک (رح) فرماتے ہیں کہ استواء کے معنی علو اور ارتفاع کے ہیں مگر یہ علو، حاشاباعتبار سمت کے اور مسافت کے نہیں بلکہ باعتبار شان اور مرتبہ کے ہے اور جس شخص نے استواء کو تمکن اور استقراء کے معنی پر محمول کیا اس نے خطاء کی۔ دیکھو مشکل الحدیث صفحہ 146 تاویل دوم قفال مروزی (رح) فرماتے ہیں کہ استواء علی العرش کے معنی یہ ہیں کہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ تمام کائنات کی تدبیر اور تصرف کی طرف متوجہ ہوا جیسا کہ سورة یونس میں ہے ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش یدبر الامر ما من شفیع الا من بعد اذنہ الایۃ۔ سو اس آیت میں استواء علی العرش کے بعد تدبیر عالم کا ذکر فرمایا اور بتلایا کہ تمام عالم میں مدبر اور متصرف وہی خالق سموات وارضین ہے اور وہی فی الحقیقت تمہارا رب ہے لہذا تم اسی کی عبادت کرو اور کسی کو اس کی ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ اور کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ کائنات عالم میں عرش سے بڑی کوئی مخلوق نہیں۔ عرش عظیم اس قدر عظیم ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کو محیط ہے اور خداوند ذوالجلال کی اول مخلوقات سے ہے اور اس کی شان شہنشاہی کا مظہر اور تجلی گاہ ہے۔ تمام احکام اور تدابیر کا نزول عرش ہی سے ہاتا ہے استواء علی العرش سے دنیاوی بادشاہوں کی طرح ظاہری اور حسی طور پر تخت نشینی مراد نہیں بلکہ بطور کنایہ اپنی شاہنشاہی اور احکم الحاکمینی کو بیان کرنا ہے کہ آسمان و زمین پیدا کرنے کے بعد تمام کائنات میں اس کے مالکانہ اور شاہنشاہانہ تصرفات اور تدبیرات اور احکام جاری ہورہے ہیں جیسا کہ سورة رعد میں استوی علی العرش کے بعد یدبر الامر کا لفظ آیا ہے سو یہ جملہ استواء علی العرش کی تفسیر ہے اور اس آیت میں استوی علی العرش کے بعد یغشی اللیل النہار کا لفظ آیا ہے۔ یہ بھی تدبیر اور تصرف اور اقتدار کامل بیان کرنے کے لیے ذکر کیا گیا ہے کہ آفتاب اور ماہتاب اور تمام ستارے سب ہی اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں اور اس کے علاوہ جہاں کہیں بھی استوی علی العرش کا ذکر آیا ہے سب جگہ اس کے بعد تدبیر اور تصرف ہی کا ذکر ہے گویا کہ بعد کی تمام آیتیں استوی علی العرش کی تفسیر ہیں۔ قفال مروزی (رح) کے کلام کی مزید تفصیل درکار ہو تو امام رازی کی تفسیر کبیر صفحہ 224 جلد 3 دیکھیں نیز تفسیر روح المعانی ص 118 ج 8 دیکھیں۔ تاویل سوم : امام ابو الحسن اشعری (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا۔ بعد ازاں عرش میں کوئی فعل اور تصرف فرمایا جس کا نام استواء رکھا اور قرینہ اس کا یہ ہے کہ خلق السموات والارض کے بعد ثم استوی علی العرش کو بصیغۂ ماضی اور بلفظ ثم ذکر فرمایا ہے جو کلام عرب میں تراخی کے بیان کرنے کے لیے مستعمل ہوتا ہے پس استواء کو فعل ماضی یعنی بلفظ استوی لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلق السموات والرض کی طرح یہ کوئی فعل خداوندی تھا اور لفظ ثم کلام عرب میں تراخی کے بیان کرنے کے لیے مستعمل ہوتا ہے پس استواء کو فعل ماضی یعنی بلفظ استوی لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلق السموات والرض کی طرح یہ کوئی فعل خداوندی تھا اور لفظ ثم کلام عرب میں تراخی کے بیان کرنے کے لیے مستعمل ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ تراخی افعال ہی میں ہوتی ہے صفات خداوندی میں تراخی ممکن نہیں حق تعالیٰ کا ایک فعل دوسرے فعل سے متراخی اور مؤخر ہوسکتا ہے مگر یہ ناممکن ہے کہ ایک صفت دوسری صفت سے متراخی اور مؤخر ہو اللہ تعالیٰ کی تمام صفات ازلی ہیں۔ تاویل سوم : امام ابو الحسن اشعری (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا۔ بعد ازاں عرش میں کوئی فعل اور تصرف فرمایا جس کا نام استواء رکھا اور قرینہ اس کا یہ ہے کہ خلق السموات والرض کے بعد ثم استوی علی العرش کو بصیغۂ ماضی اور بلفظ ثم ذکر فرمایا ہے جو کلام عرب میں تراخی کے بیان کرنے کے لیے مستعمل ہوتا ہے پس استواء کو فعل ماضی یعنی بلفظ استوی لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلق السموات والارض کی طرح یہ کوئی فعل خداوندی تھا اور لفظ ثم کلام عرب میں تراخی کے بیان کرنے کے لیے مستعمل ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ تارخی افعال ہی میں ہوتی ہے صفات خداوندی میں تراخی ممکن نہیں حق تعالیٰ کا ایک فعل دوسرے فعل سے متراخی اور مؤخر ہوسکتا ہے مگر یہ ناممکن ہے کہ ایک صفت دوسری صفت سے متراخی اور مؤخر ہو اللہ تعالیٰ کی تمام صفات ازلی ہیں۔ غرض یہ کہ استواء علی العرش سے حق جل شانہٗ کا کوئی فعل اور تصرف مراد ہے جو اس نے عرش میں کیا اور اس کا نام استواء رکھا جیسے اللہ تعالیٰ ہر شب میں آسمان دنیا میں کوئی فعل اور تصرف فرماتے ہیں جس کا اللہ نے نزول نام رکھا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ینزل ربنا تبارک وتعالیٰ کل لیلۃ سماء الدنیا (ہر رات میں اللہ تعالیٰ سبحانہ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں) سو یہ نزول جس کا حدیث میں ذکر ہے معاذ اللہ یہ نزول جسمانی اور حسی نہیں کہ جس طرح ایک جسم بلندی سے پستی کی طرف اترتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسی طرح عرش سے آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اللہ تعالیٰ حرکت اور انتقال سے پاک اور منزہ ہے بلکہ نزول سے حق تعالیٰ کا کوئی فعل مراد ہے جس کا ظہور اور صدور بوقت شب ہوتا ہے مثلاً نزول رحمت مراد ہے یا نزول ملائکہ وغیرہ مراد ہے (روح المعانی 118 ج 8) اور حضرت صوفیہ فرماتے ہیں کہ استواء علی العرش سے اللہ کی کوئی خاص تجلی مراد ہے یغشی الیل النھار رات کو دن پر ڈھانپ دیتا ہے یعنی ظلمت شب، دن پر مثل پردے کے پڑجاتی ہے اور دن اس سے چھپ جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ دن کے بعد جب رات آتی ہے تو دن اس سے چھپ جاتا ہے گویا کہ دن نے اپنے اوپر ظلمت شب کا لباس پہن لیا ہے اور اسی طرح جب رات کے بعد دن آتا ہے تو رات غائب ہوجاتی ہے۔ حق جل شانہ نے اس آیت میں رات کے بعد دن کے آنے کا ذکر دوسری آیتوں میں فرمادیا ہے جیسے یکور الیل علی النھار ویکور النھار علی الیل۔ لیکن اس آیت میں صرف رات کے دن کو ڈھانک لینے کے ذکر پر اکتفا فرمایا کہ اس کا عکس اور ضد خود بخود سمجھ میں آجائے گی نیز اسی آیت میں حمید بن قیس کی قراءت میں اس طرح آیا ہے یغشی الیل النھار۔ امام قرطبی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں۔ معناہ ان النھار یغشی الیل (صفحہ 221 جلد 7) یعنی دن رات کو ڈھانپ لیتا ہے۔ یطلبہ حثیثا۔ طلب کرتی رہے رات دن کو نہایت سرعت اور تیزی کے ساتھ یعنی رات دن کے پیچھے دوڑی چلی آتی ہے دن ختم ہوا تو فوراً رات آپہنچی اور رات ختم ہوئی تو فوراً دن آپہنچا درمیان میں ایک منٹ کا بھی وقفہ نہیں گویا کہ ایک، دوسرے کے تعاقب میں تیزی سے چلا آرہا ہے۔ والشمس والقمر والنجوم مسخراب بامرہ الا لہ الخلق والامر تابرک اللہ رب العلمین۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا جو اس کے حکم کے تابع ہیں۔ جب وہ چاہتا ہے طلوع اور جب وہ چاہتا ہے غروب ہوجاتے ہیں۔ ان کی سیر اور ان کا رجوع اور ان کی حرکت کی مقدار اور کیفیت سب اس کے حکم کے تابع ہے آگاہ ہوجاؤ یعنی اچھی طرح سن لو کہ پیدا کرنا اور بنانا اسی کا کام ہے اور اسی کا حکم اور فرمانروائی ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی پیدا کرسکتا ہے اور نہ کسی کا حکم جاری اور نافذ ہے۔ یہ جو کچھ ہورہا ہے سب قادر مطلق کے حکم سے ہورہا ہے اور یہ اتفاقی اور طبعی امور نہیں، جیسا کہ ملاحدہ اور دہریہ کا گمان ہے۔ انتہائی بزرگی والا اللہ جو پروردگار ہے سب جہانوں کا اس کی عظمت اور جلال کی کوئی انتہاء نہیں اور اس کے خزانے میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں۔ پس اے لوگو جب تم کو معلوم ہوگیا کہ فی الحقیقت تمہارا رب وہ ہے جو تمام کائنات کا خالق اور ان میں مدبر اور متصرف ہے اور تمام کارخانہ اسی کے حکم سے چل رہا ہے لہٰذا تم ہر حالت اور ہر حاجت میں اپنے ایسے ہی پروردگار سے دعا کیا کرو عاجزی سے اور چپکے چپکے۔ یعنی دعا کا ادب یہ ہے کہ عاجزی اور فروتنی کے ساتھ ہو اور آہستہ آہستہ ہو معلوم ہوا کہ دعا میں اخفاء بہ نسبت جہر کے اولی ہے۔ خدا تعالیٰ نے حضرت زکریا کے اوصاف میں بیان فرمایا ہے۔ اذ نادی ربہ نداء خفیا۔ کہ اس نے اپنے پروردگار کو آہستہ اور چپکے سے پکارا۔ عطاء کہتے ہیں کہ آمین ایک دعا ہے اور سب کو معلوم ہے کہ دعا کا آہستہ اور خفیہ کرنا بہتر ہے اس لیے امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ نماز میں آمین آہستہ کہنا بہتر ہے اور جمہور صحابہ وتابعین کا یہی مذہب کیونکہ دعا میں اخفاء اقرب الی الادب ہے تحقیق اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو دعا میں حد ادب سے نکل جاتے ہیں مثلاً چلا چلا کر دعا مانگنا۔ یا مثلاً یہ دعا مانگنا کہ اے اللہ مجھ کو جنت الفردوس کے دائیں جانب سفید محل عطاء کر اس قسم کی دعائیں خلاف ادب ہیں اور زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم وتلقین سے ملک کا حال درست ہوگیا تو اب ان کی نافرمانی کر کے ملک میں فساد نہ کرو اور نہ خرابی مچاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ نبی کا اتباع اصلاح ہے اور اس کی مخالفت فساد اور خرابی ہے اور سب سے بڑا فساد کفر اور شرک کا ہے باقی ہر معصیت اپنے درجہ کے مطابق فساد اور خرابی ہے اور پکارو اس کو امید و بیم کے ساتھ یعنی قبول ہونے کی امید رکھو اور نہ قبول ہونے سے ڈرتے رہو۔ خلاصہ یہ کہ دعا اور عبادت خوف اور رجاء کے ساتھ ہونی چاہئے بیشک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے یعنی ثواب آخرت کے مستحق نیک ہی لوگ ہیں۔ بدکار اس سے دور رہیں گے۔ زکر تصرفات خداوندی در عالم سفلی وارضی گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے فلکیات اور علویات میں اپنی تدبیر اور تصرف کو بیان کی اب ان آیات میں سفلیات اور ارضیات اور کائنات الجو میں اپنی تدابیر اور تصرفات کا ذکر کرتے ہیں کہ تمام علویات اور سفلیات میں وہی مدبر اور متصرف ہے اور سب کچھ اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے لہذا جو کچھ مانگنا ہے اسی سے مانگو۔ چناچہ فرماتے ہیں اور وہ (اللہ) وہ ہے جو اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری دینے کے لیے بھیجتا ہے۔ باران رحمت کے نزول سے پہلے نرم نرم ہوائیں چلتی ہیں جو بارش کی آمد کی خوشخبری سناتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں پانی کے بوجھ سے بھاری بادلوں کو اٹھاتی ہیں جو بارش کی آمد کی بادل کو ایک مردہ شہر یعنی مردہ اور خشک زمین کی طرف ہانک دیتے ہیں جو ایک عرصہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے بےجان پڑی تھی۔ پھر ہم اس بادل سے پانی برساتے ہیں پھر ہم اس پانی سے ہر قسم کے پھل زمین سے نکالتے ہیں یوں ہی ہم مردوں کو قبروں سے نکالیں گے شاید تم اس مشاہدہ سے نصیحت پکڑو کہ جو اللہ خشک اور بےجان زمین سے اس کو زندہ کر کے اس سے تروتازہ پھل نکالتا ہے تو وہ مردوں کو جلانے پر قادر ہے جس طرح ہم اپنی قدرت کاملہ سے مردہ زمین کو زندہ اور سرسبز کرسکتے ہیں اسی طرح ہم قیامت کے دن تم کو بھی زمین سے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں۔ اس کی قدرت کے اعتبار سے مردہ انسان اور مردہ زمین کا زندہ کرنا سب یکساں ہے اور ہمارا یہ کلام ہدایت التیام اگرچہ مثل باران رحمت کے فیض رسانی میں یکساں ہے اس کی ذات میں کوئی فرق نہیں مگر جن قلوب کی زمینوں پر یہ بارش نازل ہوتی ہے وہ اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کے اعتبار سے مختلف ہیں جس طرح ہر زمین اپنی صلاحیت اور استعداد کے موافق بارش کا اثر قبول کرتی ہے اسی طرح ہرز میں قلب اپنے استعداد اور صلاحیت کے مطابق باران ہدایت کا اثر قبول کرتی ہے عمدہ اور پاکیزہ زمین جب اس پر مینہ برستا ہے تو خدا کے حکم سے اس کا سبزہ خوب نکلتا ہے اور جو زمین خراب ہے یعنی شور اور بنجر ہے سو اول تو اس میں سے کچھ نکلتا نہیں اور اگر نکلتا ہے تو سوائے ناقص اور خراب کے کچھ نہیں نکلتا۔ عمدہ اور پاکیزہ زمین سے مومن کا دل مراد ہے اور ناکارہ اور خراب زمین سے کافر مراد ہے اور قرآن کریم بمنزلہ باران رحمت اور آب حیات ہے یہ بارش جو مومن کی زمین دل پر برسی تو اس سے طرح طرح کے ثمرات و برکات کا ظہور ہوا اس نے قرآن کریم کے مواعظ سے خوب فائدہ اٹھایا اور کافر کی زمین دل شور تھی اس نے باران ہدایت کا کوئی اثر قبول نہیں کیا بلکہ اس میں سے کفر اور الحاد کے کانٹے اور جھاڑ جھنکاڑی نکلے باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ ملالہ روید ودر شورہ بوم خس