Ayah 7:1751 ؎ مشتق از لہث معنانہ از تشنگی زبان پر ون اور دن صراح۔ یعنی زبان باہر نکالے۔
ترکیب : نباء الذی جملہ مفعول اتل فمثلہ مبتداء کمثل الکلب خبر ان تحمل شرط یلہث جزا جملہ محل حال میں ہے ذلک مبتداء مثل القوم الذین الخ خبر ساء بمعنی بئس اس کا فاعل ضمیر ہے جس کی تمیز مثلاً ہے القوم موصوف الذی موصوف کذبوا الخ صلہ جملہ صفت یہ موصوف صفت بحذف مضاف مخصوص بالذم اور وہ مضاف مثل ہے کس کے لئے کہ مخصوص بالذم جنس فاعل سے ہوتا ہے اور فاعل مثل ہے وانفسہم الخ اما ان یکون معطوفا علی کذبوا فیدخل فی خیر الصلہ بمعنی الذین جمعوابین التکذیب بآیات اللہ وظلم انفسھم واما ان یکون کلامامنقطعا۔ کشاف۔
تفسیر : عہد الٰہی کا ذکر کرکے اس عہد کے توڑنے والوں کا حال پر وبال سناتا ہے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو کہ جب مخصوص لوگوں پر عہد شکنی سے وبال آیا تو اور کسی کا کیا ٹھکانا ہے ؟ فرماتا ہے کہ اے نبی تو ان لوگوں کو اس کا حال سنا کہ جس کو ہم نے اپنی آیتیں ‘ نشانیاں ‘ کرامات یا علم کتاب الٰہی دیا اور وہ خواہش نفسانی کے تابع ہو کر عالم باقی سے رکا اور عالم فانی اور دنیائوں کی طرف جھک پڑا اور اس کا کتے کا سا حال ہوگیا کہ جو دوڑنے پر بھی ہانپتا ہے اور بیٹھا بھی ہانپتا ہے یعنی بغیر اضطراری حالت کے بھی گناہ کی طرف مائل ہے اور حالت اضطرار میں بھی۔ اس طرح ازلی گمراہ ہیں کہ گو ان کو بسبب ضعف کے خواہش نہ ہو مگر تو بھی فسق و فجور میں مبتلا ہوتے ہیں بوقت غلبہء نفس تو ہوتے ہی تھے۔ علمائِ مفسرین کے اس شخص کی بابت کہ جس کا اس آیت میں ذکر ہے چند قول ہیں ابن عباس و ابن مسعود ؓ و مجاہد کہتے ہیں کہ اس سے بلعام بن باعور کی طرف اشارہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل مواب کے میدانوں میں نہر یرون کے اس پار شہر یریحو کے مقابل اترے تو بلق بنصفور جو موابیوں کا بادشاہ تھا ڈرا اور اس نے بلعام کے پاس قاصد بھیجے کہ آکر ان پر بددعا کر۔ اول اس نے انکار کیا۔ آخر آنے پر راضی ہوا اور رستہ میں اس کی سواری کا گدھا بیٹھ گیا۔ جب اس کو مارا تو خدا نے اس کو گویائی دی کہ میں ازخود نہیں بیٹھا بلکہ فرشتہ مجھے روکتا ہے۔ بلعام بلق کے پاس گیا اور ایک پہاڑ پر چڑھ کر بنی اسرائیل کو دیکھا مگر اس کے منہ سے بجائے لعنت کے کلمات برکت بنی اسرائیل کے حق میں بیساختہ نکلے (یہ قصہ توریت کتاب عدد کے 24۔ 23 باب میں مفصلاً مذکور ہے) اس آمادگی پر بلعام کی تمام کرامات و برکات جو خدا نے اس کو دی تھیں سلب ہوگئیں بنی اسرائیل کو سنایا جاتا ہے کہ جو مقبولِ الٰہی کا مقابلہ کرتا ہے اس کا یہ انجام ہوتا ہے۔ اب تم محمد ﷺ کا مقابلہ کرتے ہو کہ جس کا دین تمام عالم میں پھیلنے والا ہے۔ وہ چشمہ تو نہ بند ہوگا مگر تم بلعام کی طرح خاک ہو کر بہہ جاؤ گے۔ عبداللہ بن عمر ؓ و سعید بن المسیب و زید بن اسلم و ابو وراق (رح) کہتے ہیں کہ امیہ بن الصلت کی طرف اشارہ ہے جو کتب سماویہ سے واقف اور آنحضرت ﷺ کی رسالت سے ماہر تھا مگر حسد سے برگشتہ ہوگیا۔ قتادہ و عکرمہ و ابو مسلم کہتے ہیں یہ عام ہے اس میں ہر ایک شخص کی طرف اشارہ ہے کہ جس کو خدا علم وہدایت دے اور وہ خواہش نفسانی کا تابع ہو کر اس کو چھوڑ دے۔ علماء کو بھی اس قصہ کو سن کر پر حذر رہنا چاہیے۔ اللّٰہُمّ ثبتنا علی الہدیٰ ۔
Ayah 7:1762 ؎ بنی اسرائیل کو یہ قصہ معلوم تھا کہ باوجود آیات یعنی کرامات عطا ہونے کے نفس کی خواہش پر چل کر بلعم بن باعور نے یہ خلعت بزرگی اپنے تن سے اتار ڈالا اور دین و دنیا میں خراب ہوا۔ یہود کو عبرت پکڑنی چاہیے کہ وہ رشوت اور دیگر خواہشات میں آکریہ کچھ کر رہے ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 7:177–1783 ؎ یعنی کتے کو بیٹھا رہنے دو تب بھی زبان لٹکا کر ہانپتا ہے اور جو دوڑایا جائے تو بھی ہانپتا ہے۔ برخلاف اور حیوانوں کے کہ وہ دوڑنے میں ہانپتے ہیں۔ یہی مثال ذلت دہشت میں خدا کے منکروں کی ہے۔ وہ راحت و مصیبت دونوں حالوں میں ہانپتے رہتے ہیں نہ راحت میں شکر ‘ نہ مصیبت ‘ میں صبر نہ نرم احکام کی برداشت ‘ نہ گرم کی۔ 12 منہ
Ayahs 7:179–181ترکیب : کثیرا الخ مفعول ہے ذرانا کا ‘ لجہنم اس سے متعلق من الجن والانس کثیرا کا بیان ‘ لہم قلوب جملہ لغت ہے کثیرا کی اولئک مبتداء کالانعام خبر و کذا اما بعدہ الاسماء موصوف الحسنی صفت مجموعہ مبتداء مؤخر للّٰہ خبر مقدم الذین الخ جملہ مفعول ذروا کا وممن الخ نکرہ موصوفہ یا بمعنی الذی جار متعلق ہے خلقنا سے جملہ خبر ہے امۃ موصوف یہدون الخ صفت مجموعہ مبتداء۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا من یہد اللّٰہ فہو المہتدی ومن یضلل فاولئک ھم الخسرون کہ جس کو خدا گمراہ کرتا ہے وہی زیاں کار ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ خدا کے گمراہ کرنے کے کیا معنی ہیں ؟ یہ نہیں کہ وہ بری باتوں کا حکم دیتا ہے شرک و کفر کی تعلیم کرتا ہے بلکہ یہ معنی کہ وہ ازل میں ہی ایسے برے پیدا ہوئے ہیں پھر دنیا میں جو وہ ظاہر ہوتے ہیں تو خدا کی دی ہوئی قدرت و اختیار کو اچھے کام میں صرف نہیں کرتے۔ اس لئے ان کی نسبت فرماتا ہے ولقد ذرانا لجہنم کثیرا من الجن والانس۔ اور یہ کیوں جہنم کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے کہ اپنی ازلی گمراہی کے مقتضٰی سے اپنے اختیارات وقدرت خداداد کو کام میں نہیں لاتے۔ کس لئے کہ آلات مکاسب کو انہوں نے معطل کردیا۔ منجملہ ان کے علوم و ادراک کا چشمہ دل ہے۔ سو لہم قلوب لا یفقہون بہا وہ اپنے دلوں سے کچھ سمجھتے نہیں۔ باوجود یکہ جانتے ہیں کہ یہ ہاتھ کے تراشے ہوئے بت یا وہ اشخاص جن کے نام کے یہ بت ہیں قضاء و قدر میں کچھ اختیار نہیں رکھتے مگر پھر ان کو پوجتے اور حاجت روا سمجھتے ہیں۔ عالم کے تغیرات اور اس میں گو ناگوں تصرفات دیکھتے ہیں جس سے ہر اہل قلب یہ سمجھ سکتا ہے کہ کوئی قادر مختار پس پردہ ان کو ہلا جلا رہا ہے مگر وہ نہیں سمجھتے۔ دنیا کی ہر چیز آنی جانی اور ہر عیش کو فانی دیکھتے ہیں کیا خوب کہا ہے کسی نے ع
دنیا کی عجب سرائے فانی دیکھی
ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی
آکے جو نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا
جا کر جو نہ آئے وہ جوانی دیکھی
عزیزان لخت جگر کو اپنے ہاتھ سے سپرد خاک کرتے ہیں۔ دنیا کے کا مگاروں پر در و دیوار کو حسرت آلود آنکھوں سے روتے دیکھتے ہیں۔ عمدہ قلعہ اور شاہی مکانات کے خرابات دیکھتے ہیں۔ پھر یہ نہیں سمجھتے کہ آخر ایک روز ہمیں بھی جانا ہے اور ہم پر بھی یہی دن پیش آنا ہے۔ اسی طرح آنکھیں ہیں کچھ نہیں دیکھتیں۔ کان ہیں حق نہیں سنتے سو ایسے لوگ چارپائے بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں کیونکہ چارپایوں کو جس قدر قدرت عطا ہوئی اس کو اپنے محل پر کام میں لاتے ہیں۔ حضرت علی ؓ آنحضرت ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ ہر شخص کا ٹھکانا مقرر ہوچکا کسی کا دوزخ کسی کا جنت لوگوں نے عرض کیا کہ پھر لکھے پر تکیہ کرکے کچھ نہ کیا کریں۔ فرمایا کئے جاؤ جو شخص جس چیز کے لئے پیدا ہوا ہے اس سے ویسے ہی عمل آسانی سے سرزد ہوتے ہیں۔ اچھوں سے اچھے ‘ بروں سے برے (متفق علیہ) ان غافلوں کا ذکرکے مومنوں کو ذکر الٰہی کی ترغیب دیتا ہے اور اپنے اسماء سے یاد کرنے کا حکم کرتا ہے اور اپنے ناموں میں کجروی کرنے سے منع فرماتا ہے۔ تین قسم کی کجروی ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ اللہ کے پاک ناموں کا اوروں پر اطلاق کیا جاوے۔ دوم بری صفات کے نام اس کے لئے مقرر کئے جاویں جیسا کہ نصاریٰ اس کو اب کہتے ہیں۔ سوم جو نام اس کے شرع سے ثابت نہیں اور نامعلوم المعنی ہوں ان کا اطلاق کیا جاوے۔
Ayahs 7:182–186ترکیب : والذین الخ مبتداء سنستدرجہم خبر من حیث اس سے متعلق املی مبتداء محذوف کی خبر اے انا املی اور ممکن ہے کہ نستدرج پر معطوف ہو کیدی اسم ان متین خبر مابصاحبھم مانا فیہ اور کلام میں حذف تقدیرہ اولم یتفکروا فی قلوبہم مابہ جنۃ اور ممکن ہے کہ ما استفہام کے لئے ہو اور ممکن ہے کہ بمعنی الذی ہو۔ وان عسٰی جائز ہے کہ ان مخففہ ہو مثقلہ سے اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے اور دونوں صورتوں میں محل جر میں ہے عطفا علی ملکوت ان یکون عسٰی کا فاعل اور یکون کا فاعل ضمیر اور قد اقترب الخ خبر۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں یہ کہہ کہ ہم نے جہنم کے لئے بہت سے جن و انسان پیدا کئے ہیں۔ اخیر میں یہ بھی فرمایا تھا وممن خلقنا امۃ یہدون بالحق وبہ یعدلون کہ ہماری مخلوق میں سے نیک اور حق پسند بھی ہیں یعنی جنت کے لئے مخلوق ہوئی ہے۔ اب یہاں یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ وہ ازلی جہنمی جو ہماری آیتیں جھٹلایا کرتے ہیں۔ یہ کچھ ضرور نہیں کہ ہم دنیا میں فوراً ان سے مؤاخذہ کریں تاکہ جہنمی اور جنتی کی یہ پہچان ہو کہ جس پر دنیا میں سختی ہے وہ جہنمی اور عتاب الٰہی میں گرفتار ہے اور جو مرفہ الحال ہے وہ اس کے نزدیک محبوب ہے۔ سنستدرجہم من حیث لایعلمون ان کو دنیا میں باوجود گناہ اور کفر کے نعمت و عیش ہر قسم کی کامیابی میں رکھ کر دفعۃً پکڑ لیں گے یعنی ایسی حالت ناز و نعیم میں ہوگا کہ موت آجائے گی یا تو یہاں عیش و عزت میں تھا یا دفعۃً وہاں عذاب و ذلت میں جا پڑا یا دنیاوی ناگہانی میں گرفتار کیا جاوے کہ جس کی اس کو خبر بھی نہ ہو۔
یہاں تک ان لوگوں کے قصور فہم کا بیان تھا جو اپنی ازلی گمراہی کی وجہ سے اس کے دلائل میں غور و فکر نہیں کرتے۔ اب یہاں سے ان کے بیہودہ شبہات کا جواب ہے جو وہ معلم روحانی سرور کائنات (علیہ السلام) پر کرتے تھے۔ منجملہ ان کے یہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کو دیوانہ کہتے تھے۔ اول تو اس وجہ سے کہ آپ کے افعال ان کے افعال کے برخلاف تھے۔ دنیا ومافیہا کو چھوڑ کر طالب مولا ہونا اور لذائذِ دنیا پر لات مارنا اور قوم کی تکالیف پر تحمل کرکے شب و روز ان کی رہنمائی کی فکر میں رہنا البتہ دنیا داروں کی نظروں میں جنوں ہے۔ دوم تمام مرادیں اور کل دلی خواہشوں کی کامیابی دار آخرت پر محمول کرنا اور بھی دیوانگی معلوم ہوتی تھی۔ اس لئے فرماتا ہے اولم یتفکروا ما بصاحبہم من جنۃ الخ حالانکہ آپ کا عاقل ہونا بھی مسلم تھا۔ وہ بات کہ جس سے آنحضرت ﷺ کو دیوانہ کہتے تھے سب سے بڑھ کر تعلیم توحید تھی۔ اس لئے فرماتا ہے اولم ینظروا الخ کہ توحید کے امر میں تم آسمان اور زمین کی بادشاہت کو دیکھو بلکہ ہر چیز میں غور کرو۔ غور کے بعد یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام کائنات اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ایک ذرہ کے حالات میں بھی غور کیجئے گا تو وہ سینکڑوں زبان سے اس کی یکتائی کی گواہی دے گا۔ جب توحید و نبوت برحق ہیں تو اپنی بےثباتی کی طرف بھی دیکھو کہ دفعۃً اجل نہ آجائے۔ پھر سعادت حاصل
1 ؎ لاستدراج استفعال من الدرجۃ بمعنی الاستنزال درجۃ بعد درجۃ الامہال و اطال المدۃ و نقیضہ الاعجال الملی زمان مان طویل من الدہر دمنہ قولہ واہجرنی مل یا ای طویلا و یقال ملوۃ و ملاوۃ من الدھر اے زمان طویل فمعنی واملی لھم ای امھلھم واململ لھم مدۃ عمر ھم لتیمادوا فی المعاصی ولا اعاجلھم بالعقوبۃ۔ 12 ابو محمد عبدالحق
؎ یعنی پیغمبر 12
کرنے کا کونسا زمانہ آئے گا۔ اصل یہ ہے کہ جس کو وہ گمراہ کرے کون ہدایت دے سکے۔
Ayah 7:187ترکیب : مرساھا مبتداء ایان خبر (اور یہ مبنی ہے اس لئے کہ یہ معنی استفہام اس میں پائے جاتے ہیں بمعنی متی) اور موضع جر میں ہے بدل ہو کر الساعتہ سے تقدیرہ یسئلونک عن زمان علول الساعۃ علمہا مصدر مضاف ہے مفعول کی طرف مبتداء عند ربی خبر۔
تفسیر : جبکہ کلام توحید و نبوت و قضاء و قدر میں آیا تو اس کے بعد معاد کا ذکر بھی مناسب ہوا کیونکہ مقصود بالذات قرآن میں یہی چار مطالب ہیں یا یوں کہو کہ پہلے آیات میں اجل کا قریب ہونا بیان کیا تھا جو بڑے کھٹکے کی بات تھی۔ اس لئے تمام عالم کی اجل کا جس کو قیامت کہتے ہیں ‘ بیان کرنا بھی مناسب مقام معلوم ہوا تاکہ بندوں کے دلوں پر کھٹکا لگا رہے۔ ہر وقت توبہ کرتے رہیں۔ توشہ آخرت تیار رکھیں۔
یسئلونک ابن عباس ؓ کہتے ہیں یہود کے ایک گروہ نے آنحضرت (علیہ السلام) سے سوال کیا تھا کہ اے محمد ! ﷺ ہم کو خبر دے کب قیامت آئے گی۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ حسن اور قتادہ کہتے ہیں کہ قریش نے آپ سے پوچھا تھا۔
مرساھا مصدر ہے بمعنی ارساء جیسا کہ ایک جگہ آیا ہے بسم اللّٰہ مجریہا ومرسٰہا ارساء بمعنی اثبات کہتے ہیں۔ رسایہ یر سو اذا ثبت مگر بھاری چیز کے ٹھہرنے کو ارساء کہتے ہیں جیسا کہ آیا ہے والجبال ارسا ہا چونکہ قیامت بھی سخت چیز ہے۔ اس لئے اس کے لئے بھی مرساہا آیا۔ الساعۃ اسمائِ غالبہ میں سے ہے جیسا کہ النجم ثریا کو کہتے ہیں۔ قیامت کو اس لئے الساعۃ کہتے ہیں کہ دفعۃً آئے گی یا حساب لوگوں کا ایک ساعت میں ہوجائے گا۔ قل انما علمہا عند ربی اسی طرح اور بہت سی آیات میں اس کا وقت مخفی رکھا گیا ہے کقولہ تعالیٰ ان الساعۃ آتیۃ اکاد اخفیہا حدیث متفق علیہ میں بھی آیا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے آپ سے وقت قیامت پوچھا تھا۔ آپ نے فرمایا میں تم سے زیادہ واقف نہیں ہوں۔ لایجلیہا لوقتہا الا ھو یہ جملہ سابق جملہ کی تاکید ہے التجلیۃ اظہار الشیء والتجلی ظہورہ اس کے اخفا میں یہ مصلحت ہے کہ بندہ ہر وقت مستعد رہے۔ ثقلت الخ یہ وصف ہے الساعۃ کا جیسا کہ دوسری جگہ آیا ہے۔ ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم۔ اس کے بھاری ہونے کی یہی وجہ ہے کہ آسمان پھٹ جائیں گے ٗ ستارے ٹوٹ پڑیں گے سب فنا ہوجاویں گے پھر ایسا دن ثقیل نہ ہو تو کیا ہو۔
سدی کہتے ہیں ثقلت بمعنی خفیت ای لم یعلم احد من الملائکۃ المقربین والانبیاء المرسلین متی یکون حدوثہا لا تاتیکم الابغتۃ یہ پہلے جملہ کی تاکید اور الساعۃ کا وصف ہے یسئلونک کانک حفی عنہا الحفی لطیف محسن کو کہتے ہیں۔ ابن انباری کہتے ہیں حفی بی حفیا وحفاوۃ و تحفی بی تحفیا والحفی الکلام وللقاء الحسن ومنہ قولہ تعالیٰ انہ کان بی حفیا اے بار الطیفاً یعنی تجھ سے وہ پوچھتے ہیں گویا کہ تو ان پر بڑا مہربان ہے کہ مخفی نہ رکھے گا یا حفی فعیل من الاحفاء وھو الالحاف فی السوال ومنہ احفاء الشوارب یعنی آپ سے پوچھتے ہیں گویا کہ آپ اس کی تلاش میں ہیں۔ قیامت کے قائل تمام اہل کتاب اور اہل اسلام ہیں۔ حکماء اور بت پرست قومیں نہیں۔
Ayahs 7:188–193ترکیب : الاماشاء اللّٰہ استثناء ہے جنس سے ولوکنت شرط لا ستکثرت جواب وما نا فیہ مسنی الخ معطوف ہے لا ستکثرت پر تتّمہ جواب ہے جعل بمعنی خلق زوجہا اس کا مفعول فلما تغشاھا شرط حملت الخ جواب فمرت بہ تشدید راء سے پڑھا جاوے گا تو مرور سے مشتق ہوگا اور بالتخفیف والالف مارت من المور وھوالذہاب والبحئی فلما آتاھما الخ شرط جعلالہ جواب شرکاء جمع شریک مفعول جعلا فیما آتاھما جار متعلق فعل سے۔
تفسیر : دوسرا شبہ : دوسرا شبہ منکرین کا آنحضرت (علیہ السلام) کی نبوت پر یہ تھا کہ اگر آپ نبی برحق ہیں تو ہمارے کہنے کے موافق کیوں ہمارے دنیاوی مضرات دور نہیں کردیتے ٗ قحط کھودو ٗ ہم محتاج ہیں غنی کر دو ۔ ہمارے فلاں عزیز و اقارب قریب مرگ ہیں یا مرگئے ہیں ان کو تندرست یا زندہ کر دو اور ہم کو کیوں غیب کی باتیں نہیں بتلاتے۔ ہم کو اس مال میں نفع ہوگا یا نقصان ٗ مینہ کب برسے گا۔ فلاں مفقود الخبر کہاں ہے کب آئے گا۔ کوئی اونٹ کھوئے گئے کو پوچھتا تھا کہ کہاں ہے ؟ اور اسی قسم کے طعن کرتے تھے۔ چناچہ جب آپ غزوہ بنی المصطلق سے واپس لوٹے تو رستہ میں ایسی آندھی آئی کہ جس سے لوگوں کے جانور بھاگ گئے۔ آنحضرت ﷺ نے رفاعہ کا مدینہ میں مرنا بھی بیان فرمایا کہ لو آج وہ مرگیا، اتنے میں اپنے ناقہ کو تلاش کرنے کا حکم دیا۔ یہ سن کر عبداللہ بن ابی منافق نے ہنس کر کہا خوب مدینہ جو اس قدر دور ہے وہاں کے آج کے واقعہ کی تو خبر دیتے ہیں مگر چار قدم پر اپنے ناقہ کا حال معلوم نہیں کہاں ہے ؟ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے خود فرمایا کہ فلاں جگہ فلاں درخت میں اس کی مہار اٹکی ہوئی ہے جاؤ لے آئو۔ چناچہ لوگ گئے تو وہیں پایا، ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی قل لا املک الخ کہ نہ مجھے عالم قضاء و قدر میں اختیار ہے نہ میں غیب داں ہوں میں تو صرف نذیر خدا تعالیٰ کے عذاب اور بری باتوں کے برے نتائج سے ڈر سنانے والا اور بشیر یعنی عالم آخرت کے ثواب اور نیکی اور فرمانبرداری کے عمدہ نتائج سے خوشخبری سنانے والا ہوں۔
الاماشاء اللّٰہ میں بطور اعجاز و خرق عادات کے جس قدر نفع و ضرر کے اختیارات خدا تعالیٰ نے آنحضرت (علیہ الصلوۃ والسلام) کو عطا کئے تھے ان کا استثناء ہے۔ اسی طرح وہ غیب کی باتیں بھی مستثنیٰ ہیں جو اعجاز و رسالت سے علاقہ رکھتے ہیں جیسا کہ سورة جن میں فرماتا ہے فلا یظہر علی غیبہ احد الامن ارتضیٰ الخ یہ کہنا کہ اس آیت سے آنحضرت ﷺ میں اور عام لوگوں میں بجز نذیر و بشیر ہونے کے کوئی تفاوت ثابت نہیں۔ اگر مابا لفخر ہے تو آپ کے لئے یہی نذیر و بشیر ہونا ہے نہ آپ خرق عادات پر قادر تھے نہ پیش گوئیوں پر اور اسی لئے نہ قرآن میں آپ کے خرق عادات ہیں نہ پیش گوئیاں محض کم فہمی ہے کیونکہ آیت میں جو نفی قدرت و غیب دانی ہے تو وہی ہے کہ جس کو مخالفین نبی کے لئے ضروری سمجھتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے معجزات و پیش گوئیاں بہت سی صادر ہوئی ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں۔ خلاصہ یہ کہ قدرت کاملہ اور علم محیط خاص اللہ ہی کے لئے ہے۔ میں بندہ ہوں ٗ خدائی میں شریک نہیں۔ رہی نبوت سو اصل مقصود بالذات تو اس سے بندوں کو ان کی بھلائی پر واقف کردینا ہے۔ الہام اور وحی کے ذریعہ سے اور یہ گو کافر و مومن کے لئے ہے مگر منتفع چونکہ مومن ہیں اس لئے انہیں کا ذکر کیا گیا۔ ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ یہاں سے صامتون تک پھر اثبات توحید میں کلام ہوتا ہے کس لئے کہ نبوت ثابت کی اور وہ اوصاف الوہیت جن کو لوگ غلطی سے نبی میں خیال کرتے تھے نبی سے سلب کئے گئے تو ان اوصاف کا صحیح محل بیان کرنا کہ جس سے توحید اور مشرکوں کی بیوقوفی ثابت ہوجاوے عین مقصود قرآن ہے یعنی یہ قدرت و کمال مجھ میں نہیں میں تو بندہ ہوں بلکہ یہ قدرت کاملہ اور علم بسیط اس ذات پاک کے لئے ہے کہ جس نے تم سب کو (اس میں میں بھی آگیا) ایک جان سے پیدا کردیا یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے اور پھر اس کی بیوی حوا کو بھی اس سے نکالا۔
پیدائش حوا کی : مشہور ہے کہ حضرت حوا [ کو آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا کیا۔ بعض احادیث اور توریت سے بھی یہ ثابت ہے مگر بعض محققین جیسا کہ امام رازی اور عامہ ابو السعود و دیگر مفسرین یہ کہتے ہیں کہ وجعل منہا میں من جزء یت کے لئے نہیں بلکہ جنسیت کے لئے یعنی یہ بات نہیں کہ حوا کو دراصل آدم کی بائیں پسلی سے بنایا کہ ایک پسلی کی حوا بن گئی ہوں بلکہ یہ مراد کہ جنسِ آدم سے حوا کو پیدا کیا کس لئے کہ انس جنسیت سے ہوتا ہے نہ کہ جزءیت سے اور نیز جو ایک ہڈی سے بنا سکتا ہے وہ ابتدائً کیا نہیں بنا سکتا۔
رہی روایت سو اس میں ایک کنایہ ہے یعنی عورت مرد کے پہلو میں رہتی ہے۔ اس کو پسلی سے پیدا ہونے کے ساتھ تعبیر کیا اور بائیں پسلی سے اشارہ ہے اس کے زیردست ہونے کی طرف کیونکہ دایاں بائیں سے زبر ہوتا ہے۔ والعلم عند اللہ۔ اس توجیہ کے بموجب تو بعض ملحدوں کے اس اعتراض کو گنجائش ہی نہ رہی کہ حوا آدم کا جزو بدن تھی تو بیٹی تھی پھر کس حکمت سے خدا نے آدم کو بیٹی کا خواستگار کیا۔ کیا اور عورت نہ دے سکتا تھا ؟
لیسکن الیہا یہ عورت کے پیدا کرنے کی غایت بیان فرماتا ہے کہ مرد کو عورت سے سکون حاصل ہوتا ہے یعنی دن کو ادھر ادھر پھرتا ہے رات کو گردان کبوتر کی طرح پھر اپنے آشیانہ میں آرہتا ہے اور سکون کے معنی راحت قلب کے بھی ہیں۔ سو عورت سے بھی مرد کو راحت قلبی حاصل ہوتی ہے۔ یہ اس کے تمام غموم و ہموم کے لئے مونس اور ہم پہلو رفیق ہے۔ آدمی کو کیا جانوروں کو بھی اپنے جوڑے سے دلی انس ہے۔ فلما تغشا ھا الغشیان اتیان الرجل المراۃ وقد غشا ھا اذا علاھا۔ اس کے معنی عورت کو ڈھانک لینا یعنی صحبت کرنا کیونکہ جب مرد اس پر پڑتا ہے تو اس کو ڈھانک لیتا ہے اور اسی رمز کے لئے ایک جگہ ھن لباس لکم وانتم لباس لہن آیا ہے مگر اس شرمناک حالت کو کس لطف کے ساتھ کن عمدہ لفظوں میں بیان کیا ہے۔ بنی آدم کا فطرتی توالد و تناسل بیان ہوتا ہے تاکہ انسان کو اپنی ابتدائِ حالت سے خبر ہو اور یہ بھی کہ اس کو کس نے بنایا ہے۔ آیا خدا تعالیٰ نے یا اس کے نکمے اور نکھٹو معبودوں نے ؟
یعنی جب میاں بیوی جمع ہوتے ہیں تو حملت حملاً خفیفًا فمرت بہ وہ حامل ہوتی ہے اور حمل خفیف ہوتا ہے جس سے وہ بخوبی چلتی پھرتی ٗ کاروبار کرتی ہے۔ والحمل بالفتح وہ چیز جو عورت کے پیٹ میں یا درخت کے اوپر ہوتی ہے پھل پھول والحمل بالکسر بوجھ جو پیٹھ پر لادا جاتا ہے۔ فلما اثقلت دعوا اللّٰہ ربہما الخ اور جب عورت بھاری ہوجاتی ہے تو خوف ہوتا ہے کہ دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ اس سے زندہ سلامت بھی رہتی ہے کہ نہیں۔ اس لئے میاں بیوی دونوں خدا سے دعا کرتے ہیں (کیوں نہ ہو شدت کے وقت خدا ہی یاد آتا ہے) کہ اگر تو نے ہم کو اچھا اور جیتا جاگتا بچہ دیا تو ہم تیری شکرگزاری کیا کریں گے۔ پھر جب خدا ان کو بامراد بچہ دیتا ہے تو خوشی میں آکر خدا کے ساتھ اس کام میں اوروں کو بھی ملا لیتے ہیں۔ کوئی طبائع کی طرف منسوب کرتا ہے جیسا کہ دہریہ ‘ کوئی کسی ستارہ کے طلوع و غروب کی طرف ‘ کوئی اپنے بتوں اور دیوتائوں کی طرف منسوب کرتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ فلاں کی نذر و نیاز مانی تھی تو خدا نے یہ مراد دی۔
عام مفسرین اس جگہ یہ کہتے ہیں کہ ان آیات میں آدم و حوا کی طرف روئے سخن ہے اور ایک قصہ بھی روایت 1 ؎ کرتے ہیں کہ جب حضرت حوا حاملہ ہوئیں تو ابلیس نے آکر ڈرایا کہ تیرے پیٹ میں ایسی اور ایسی چیز ہے کیونکر باہر آئے گی۔ اچھا اگر میرے دعا سے بیٹا پیدا ہو اور سہولت سے ہو تو اس کا نام عبدالحارث رکھنا اور حارث شیطان کا ملائکہ میں نام تھا یعنی شیطان کا بندہ چناچہ ایسا ہی ہوا اس بات پر خدا فرماتا ہے کہ انہوں نے خدا کا شریک بنایا۔ بعض نے یہ بھی روایت کی ہے کہ آدم اپنی اولاد کے نام عبداللہ عبدالرحمن خدا کی عبدیت کے ساتھ رکھتے تھے۔ اس میں ان کے کئی بیٹے مر مرگئے۔ شیطان نے آکر کہا کہ اگر تم عبدالحارث رکھو تو جئے گا چناچہ ویسا ہی کیا۔
متقدمین حسن اور عکرمہ اور ابن کیسان آیت کے وہی معنی بیان کرتے ہیں جو ہم نے بیان کئے کہ اس میں عام بنی آدم کی طرف اشارہ ہے جو شرک کرتے ہیں اور جنس زوج اور زوجہ کی طرف جعلا اور دعوا کی ضمیریں پھرتی ہیں جو قرینہ مقام سے سمجھی جاتی ہیں۔ آدم و حوا کا تو اس میں کہیں ذکر تک بھی نہیں اور اسی طرح متاخرین میں امام فخر رازی و غیر محققین قاطبۃً اس قصہ کا ذکر کرتے ہیں بچند دلائل۔
(1) یہ کہ بعد میں تعالیٰ اللّٰہ عما یشرکون جمع کا صیغہ آیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت مراد ہے۔
(2) یشرکون مالایخلق کہا اگر شیطان نے ان کو بہکایا ہوتا و ما کی جگہ لفظ من آتا جو ذوالعقول کے لئے آتا ہے۔
(3) آدم کو خدا نے ہر چیز کے نام تعلیم کردیے تھے۔ وعلم آدم الاسماء کلہا اور نیز ایک بار شیطان سے زک بھی پا چکے تھے ٗ پھر کیا ممکن تھا کہ اس کا نام نامعلوم ہوتا اور معلوم ہونے پر اس لعین کو خدا کا شریک کرتے اور یہ قصہ بھی کسی سند صحیح سے ثابت نہیں نہ آدم
1 ؎ سمرہ سے حاکم نے اس قصہ کو روایت کیا ہے اور نیز ترمذی نے بھی مگر ان دونوں روایتوں میں کلام ہے جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں اور کلام بڑے بڑے نقاد حدیث نے کیا ہے۔ 12 منہ
(علیہ السلام) کے کسی بیٹے کا نام عبدالحارث کہیں دیکھنے میں آیا ہاں عرب کے مشرکین عبدالشمس عبدالعزی عبد مناف عبد قصی عبداللات اپنی اولاد کے نام رکھتے تھے جس طرح کہ آج کل جہال سالار بخش ‘ مدار بخش نام رکھتے ہیں سو ان میں لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 7:194–197ترکیب : عباد خبر ان امثالکم اس کی صفت فلیستجیبوا مجزوم ہے جواب امر فادعوا کی وجہ سے اور فادعوھم جملہ دال برجزا ہے ان کنتم صادقین سے آ استفہام کے لئے ارجل رجل بالکسر کی جمع موصوف یمشون بہا اس کی صفت مجموعہ مبتدا لہم خبر مقدم اسی طرح اس کے مابعد کے جملہ ہیں اور یہ استفہام انکاری ہے کیدون اصل میں کیدونی تھا ی مفعول کو حذف کرکے کسرہ اس کے قائم مقام چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ حذف ی پر دلالت کرے۔
تفسیر : یہاں سے ان کے معبودوں کی اور ایک حالت بیان فرماتا ہے کہ جس سے وہ قابل پرستش نہیں ہوسکتے۔ وہ یہ کہ خدا کے سوا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو مانا کہ ان پتھروں کے بتوں کو نہیں پوجتے بلکہ ان کو کہ جن کی یہ فرضی مورتیاں ہیں سو وہ بھی تمہاری طرح خدا کے بندے ہیں۔ حدوث و احتیاج میں تمہارے ہم پلہ ہیں۔ پھر ان میں کونسی بات الوہیت کی ہے۔ اچھا ان کو پکارو۔ دیکھیں وہ تمہیں جواب بھی دیتے ہیں کہ نہیں۔ اگر تم اپنے خیال میں سچیّ ہو ورنہ محض غلط اوہام کی پرستش کرتے ہو اور اگر ان مورتوں اور تراشے ہوئے پتھروں کو پوجتے ہو تو یہ تو بالبداہۃ تم سے بھی زیادہ محتاج ہیں۔ تمہارے ہاتھ پائوں ٗ آنکھ کان بھی ہیں یہ تو ان سے بھی بےبہرہ ہیں۔ الہم ارجل یمشون بہا پھر جب ان کے نہ پائوں ہیں کہ جن سے چل سکیں اور چل کر تمہاری مدد کو پہنچیں نہ ہاتھ ہیں کہ جن سے تمہارے دشمن کو روک سکیں۔ نہ تم کو کچھ دے سکیں نہ آنکھیں ہیں کہ تمہارا حال زار دیکھ کر تم پر رحم کریں ‘ نہ کان ہیں کہ تم جو ان کے نام کی دہائی دیتے ہوئے پکارتے ہو ‘ الغیاث مچاتے ہو۔ اے فلاں ! میری مدد کیجیو۔ بوقت مصائب کہتے ہو اٹھتے بیٹھتے یا اللہ کی جگہ فلاں پکارتے ہو۔ ان باتوں کو سن سکیں۔
مشرکین کے خیالات میں یہ بات بھی جمی ہوئی تھی کہ اگر ہم ان کو نہ پوجیں اور ان کی معمولی نذر و نیاز ادا نہ کریں تو یہ ہم کو مضرت پہنچاویں گے جیسا کہ ہندوستان میں شیخ سدو زین خاں ‘ کالی بھوانی سے بہت ڈرتے ہیں۔ اس خیال کے رد کرنے کو اپنے پیغمبر ﷺ کو فرماتا ہے کہ تم ان سے کہہ دو کہ سب سے زیادہ تو ان کا میں منکر اور مخالف ہوں۔ بھلا دیکھیں تو سہی کہ یہ میرا کچھ بھی نقصان کرسکتے ہیں۔ تم ان سب کو پکارو اور میرے نقصان کی ترغیب دو ۔ قل ادعوا شرکاء کم الخ۔ پھر آپ ہی فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو دیکھو میرا کارساز ‘ مددگار وہ اللہ ہے کہ جس نے کتاب نازل کی جس میں تمام عالم کی حیات جاودانی و نفع دوجہانی ہے اور وہ کچھ میرا ہی کارساز و مددگار نہیں بلکہ سب نیک لوگوں کا مددگار ہے۔ ان پر بھی تمہارے معبودوں کا کچھ اثر نہیں چل سکتا۔ ان ولی ـے اللّٰہ الذی الخ بلکہ وہ لوگ کہ جن کو تم پوجتے ہو نہ تمہیں کچھ مدد دے سکتے ہیں نہ اپنی آپ مدد کرسکتے ہیں۔ بقول نصاریٰ مسیح کو یہود نے سولی دی۔ کچھ نہ کرسکے۔ اسی طرح اور بزرگ جن کو تم پوجتے ہو موت اور مرض سے نجات نہ پا سکے۔
Ayahs 7:198–201ترکیب : وان شرطیہ تدعو شرط لا یسمعوا جواب ینظرون الیک مفعول ثانی وھم لایبصرون جملہ حال ہے فاعل ینظرون سے
واما شرط فاستعذباللّٰہ جواب از الخ جملہ محل علت میں ہے فاستعذ سے الذین موصول اتقوا صلہ مجموعہ اسم ان اذا مَسَّہُمْ شرط تذکروا جواب مجموعہ خبران النزغ الوسوسۃ وکذا النغز والنخس والنسغ۔
تفسیر : بت پرستی کرنے سے مشرکینِ کا حسن باطن جاتا رہا ہے اور اسی لئے سچی بات ان کے دل تک نہیں پہنچتی۔ یہاں اس کی تصویر کھینچی جاتی ہے کہ اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ تمہاری بات ہی نہیں سنتے یعنی سماعت باطنی جاتی رہی باوجودیکہ اے نبی ! تجھ کو وہ ظاہر دیکھتے ہیں حالانکہ نہیں دیکھتے بصارت باطنی جاتی رہی (کاش جمال مصطفیٰ ﷺ کو ذرا بھی دیکھ لیتے تو اس شمع عالم افروز کے نور سے بت پرستی کی تاریکی میں نہ پڑتے) للہ درمن قال
چشم بازو گوش باز واین ذکا
خیرہ ام برچشم بندی خدا
اس لئے جس نے آنحضرت (علیہ السلام) کو ایک بار دیکھ لیا اس پر آتش دوزخ حرام ہوگئی مگر افسوس عرب کے منکرین کی کو ری پر چراغ کے نیچے اندھیرا اس کو کہتے ہیں جب ان کی یہ حالت زار ہے تو اے نبی خذا لعفو وامر بالمعروف و اعرض عن الجاھلین معافی اور سہل گزاری اختیار کیجئے۔ ملامت تشدد نہ کیجئے لیکن چونکہ آپ ہادی اور آپ کا کام ہدایت ہے اچھی باتوں کا حکم دیے جائیں۔ نصیحت کرتے رہئے اور جو اس پر جاہل آپ سے ناخوش ہو کر ایذا کے درپے ہوں اور زبان طعن وتشنیع کھولیں تو ان سے اعراض کیجئے۔ مقابلہ اور پرخاش نہ کیجئے (عرف اور عارفہ اور معروف اس کام کو کہتے ہیں کہ جس کا کرنا نہ کرنے سے معروف ہو) جب یہ آیت نازل ہوئی تو جبرئیل سے آپ نے پوچھا جبرئیل نے فرمایا اس سے مرادیہ ہے کہ جو تجھ سے قطع تعلق کرے تو اس سے مل اور جو تجھ پر ظلم کرے تو معاف کر اور جو تجھے نہ دے تو اس کو دے۔ حضرت امام جعفر صادق (رح) فرماتے ہیں کہ تعلیم مکارم اخلاق کے بارے میں اس سے بڑھ کر اور کوئی جملہ ہو نہیں سکتا۔ آنحضرت ﷺ اور آپ کے پیروئوں نے جو کچھ بدی کے بدلہ میں لوگوں سے ان کے ظلم و ایذا پر برداشت کرکے نیک سلوک کئے ہیں بیان سے باہر ہیں۔
اور جو کبھی بشریت سے دل میں ان کے برا کہنے اور ایذا دینے سے کچھ خیال آجاوے تو فاستعذ باللّٰہ اللہ سے پناہ مانگ کیونکہ وہ سمیع وعلیم ہے۔ تیرے دل سے اس خیال کو دور کرے گا اور چونکہ عام مسلمانوں کی حالت نبی کے مانند نہیں ان کو شیطانی وسوسہ کا مس کر جانا کچھ مشکل نہیں۔ ان الذین اتقوا اذا مَسَّھُمْ طائف من الشیطن تو ان کو اللہ کو یاد کرنا لازم ہے جبکہ انسان کو کسی پر غصہ آتا ہے تو اس کو مغلوب اپنے آپ کو غالب سمجھ کر آتا ہے تب اس پر عالم اجسام کے ظلمات طاری ہوجاتے ہیں مگر جب وہ اپنے آپ کو عاجز خدا کو قادر سمجھتا ہے تو اندھیرے سے نکل جاتا ہے۔
1 ؎ حقیقت میں ہادی برحق کو مخالفوں نے چشم زن سے نہیں دکھایا تراھم وہ لا یبصرون میں اب تعارض نہیں آہا یا معنی کہ اے بنی کفار تجھے تو دیکھتے ہیں حیرت و تعجب ہے کہ یہ شخص ہم کو ایک نئے رستہ کی طرف بلاتا ہے مگر لا یبصرون اندھے ہیں اس رستہ کی خوبی اور اس کے برکات و انوار نہیں دیکھتے اول معنی کی مناسب ایک نقل ہے کہ سلطان محمود غزنوی حضرت ابو الحسن خرقانی رحمتہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا ابو الحسن نے اثناء تذکرہ میں فرمایا کہ جس نے شیخ بایزید و بسطامی کو دیکھا اس پر آتش دوزخ حرام ہے محمود نے عرض کیا کیا شیخ قدس سرہ۔ رسول کری ﷺ سے بھی بڑھ گئی آپ کو کفار نے دیکھا مگر ان پر آتش جہنم حرام نہیں ہوئی ابو الحسن نے فرمایا کہ کفار نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا ہی نہیں اگر دیکھتے تو کفر پر نہیں رہتے اور یہ آیت پڑھ دی محمود سن کر حیران رہ گیا۔ آپ کی مراد یہ ہے کہ حقیقت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو کفار نے اپنی تیرہ باطنی سے نہیں دیکھا اس کو ابوبکر ؓ وغیرہ نے دیکھا۔ 12 منہ
2 ؎ ابن کثیر و ابو عمر و وکسائی طیف اور بانی طائف بالائف پڑھتے ہیں۔ واحدی کہتے ہیں طیف کو بعض مصدر کہتے ہیں ابو یزید کہتے ہیں اس کی گردان ہے طاف یطوف طوفا وطوافا اور بعض اس کو مشدد بھی پڑھتے ہیں جیسا کہ ہیں اور ہیں میت اور میت اس کے معنی ہر نے پھرنے کے ہیں اور اسی لیے خواب مشوش کو طیف کہتے ہیں وہ خیال کو بھی ازہری کہتے ہیں کلام عرب میں طیف جنوں کو کہتے ہیں اور غضب کو بھی کسی لیے کہ غصہ میں انسان جنوں کے مشابہ ہوجاتا ہے اور وسوسہ کو بھی۔ اور طائف بمعنی طیف ہے جیسا کہ عافیۃ اور عاقبۃ اس قسم کے جن کے مصدر بروزن فاعل و فاعلۃ آئے ہیں قال الفراء فی ہذہ الایۃ الطائف والطیف سوار وھو ما کان کا نحیال الذی یلم بالانسان 12 منہ۔
Ayahs 7:202–2031 ؎ شیاطین
ترکیب : اخوانہم مبتداء یمدونہم جملہ خبر واذ الم الخ شرط قالو الخ جواب لولا ہلا اجتبیتہا انشاء تہامن قبل نفسک ذلک مقولتھم ماموصولہ یوحی الی جملہ صلہ مجموعہ مفعول ہے اتبع کا۔ من ربی یوحی سے متعلق ھذا مبتداء بصائر موصوف من ربکم صفت مجموعہ خبر وھدی ورحمۃ خبر پر معطوف لقوم رحمۃ سے متعلق البصائر جمع بصیرۃ وہی لحجوالبراہین۔
تفسیر : غضب کی حالت میں پرہیزگاروں کی یہ حالت بیان کی تھی کہ جب وہ خدا تعالیٰ کو یا اس کے صفات قاہرہ کو یاد کرتے ہیں تو اس کی تاریکی جسمانیت سے باہر آکر دفعۃً بینا ہوجاتے ہیں یعنی یکایک آنکھیں سی کھل جاتی ہیں۔ خلاف شیاطین کے بھائیوں کے یعنی غیر خدا پرست لوگوں کے کہ غصہ اور غضب کی کیا خصوصیت ہے۔ وہ جس بری بات میں پڑتے ہیں تو ان کے بھائی شیاطین خواہ جن ہوں خواہ انس ان کو سرکشی میں اور بھی بڑھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ پھر کمی نہیں کرتے۔
یہ بات نہیں کہ اگر بشریت سے کوئی خطا یا گناہ سرزد ہوگیا تو اس کا تدارک کریں۔ استغفار کریں ٗ نادم ہوں۔ خدا تعالیٰ کو یاد کریں بلکہ اس میں اصرار اور غلو کرتے کرتے حد کو پہنچا دیتے ہیں اور ان کے مددگار وسوسہ دلانے والے بھائی انسان یا جن ان کو ابھارتے ابھارتے اس حد تک پہنچا دیتے ہیں کہ رسول کے مقابلہ پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور بعض کج بحثی کی نظر سے طرح طرح کے معجزات طلب کرنے لگتے ہیں اور جب ان کی خواہش کے موافق رسول وہ معجزہ نہیں دکھاتا تو کہتے ہیں لولا اجتبیتہا کہ تو ازخود کیوں نہیں بنا لایا یا تو نے خدا سے اس کی درخواست کیوں نہ کی کیونکہ تو کہتا ہے کہ وہ میری دعاقبول کیا کرتا ہے۔
اس کے جواب میں فرمایا کہ اے نبی تو ان سے کہہ دے میں تو صرف وحی الٰہی کا اتباع کرتا ہوں ٗ اپنی طرف سے کوئی درخواست نہیں کرسکتا۔ ہر امر میں جہاں ضرورت پڑتی ہے وحی کا منتظر رہتا ہوں نہ مجھے کچھ اس کی ضرورت ہے کہ تمہاری خواہشوں کی پیروی کروں۔ قرآن مجید ایک ایسا معجزہ ہے کہ جس کے برابر کوئی معجزہ نہیں۔ جب تم اس کو نہیں مانتے تو پھر اور کس معجزہ کے قائل ہو گے ؟
اور یہ قرآن تمہارے رب کی طرف سے بصائر یعنی بینائی ہے اور ہدایت اور رحمت۔ قرآن مجید کی مدح میں تین لفظ وارد ہوئے ہیں۔ بصائر کیونکہ قرآن کی وجہ سے توحید اور نبوت اور معاد کا حال معلوم ہوجاتا ہے اور انبیائِ گذشتہ اور ان کے مطیع اور نافرمانوں کا حال بھی آئینہ ہوجاتا ہے۔ اس لئے اس کو بصائر کہا۔ تسمیۃ السبب باسم المسبب۔ دوم ہدایت معارف توحید و نبوت و معاد میں لوگوں کی دو قسم ہیں۔ ایک وہ ہیں جو ان چیزوں کا گویا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان کو اصحاب عین الیقین کہتے ہیں۔ دوم وہ جو ایسے نہیں بلکہ مستدل ہیں جن کو اصحاب علم الیقین کہتے ہیں۔ سو اول قسم کے لئے قرآن بصائر ہے اور دوم کے لئے ہدایت اور عامۃ المومنین کے لئے رحمت اور چونکہ تینوں فریق مومنین میں سے تھے اس لئے لقوم یؤمنون فرمایا۔
Ayah 7:204ترکیب : اذا قری شرط فاستمعوا جواب وانصتوا اس پر معطوف تضرعاً وخیفۃ حال ہیں فاعل اذکر سے مصدر ہیں و دون الجہر معطوف ہے تضرعًا پر والتقدیرمقتصدین بالغدو متعلق ہے اذکر سے والآصال اس پر معطوف۔ وہی جمع الجمع لان الواحد اصیل وفعیل لا یجمع علی افعال بل علی فُعْلُ ثم فُعُل علی افعال فالو احد اصیل و جمعہ اصل وجمعہ آصال لایستکبرون خبر ان۔
تفسیر : جبکہ قرآن کو بصائر اور ہدایت اور رحمت فرمایا تو اس کے بعد یہی حکم دیتا ہے کہ جب قرآن پڑھا جاوے تو اس کو چپ ہو کر سنو تاکہ تم اس کو سمجھو اور اس کا بصائر اور رحمت و ہدایت ہونا تمہارے لئے متحقق ہو اور اسی لئے بعد اس کے لعلکم ترحمون بھی فرما دیا کیونکہ بغیر اس کے قرآن کے برکات سے حصہ نہیں ملتا۔ آیت کے ظاہر الفاظ سے حکم عام سمجھا جاتا ہے کہ جب قرآن پڑھا جاوے اس کو چپ ہو کر سننا واجب ہے مگر علماء نے شان نزول کے لحاظ سے اس کو خاص کیا ہے اور ان کے چند قول ہیں۔ اول حسن اور اہل ظاہر کا قول ہے کہ جب قرآن پڑھا جاوے تو چپ ہو کر سننا چاہیے خواہ کوئی رستہ چلتا سنے خواہ مکتب میں خواہ امام پڑھے۔ یہ آیت کو عام رکھتے ہیں تخصیص نہیں کرتے۔ دوم یہ کہ نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کے لئے آیت نازل ہوئی ہے۔ اس میں سکوت اور قرآن سننے کا حکم ہوا ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ابتدائِ اسلام میں عین نماز میں لوگ کلام کرلیا کرتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابوہریرہ ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ سوم یہ کہ جب امام قرآن آواز سے پڑھے تو مقتدیوں کے لئے سکوت کرکے سننے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔ چناچہ ترمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک بار آنحضرت ﷺ نماز جہری پڑھا رہے تھے ٗ فارغ ہو کر پوچھا کہ کیا کسی نے میرے ساتھ ابھی قرأت کی تو ایک آدمی نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا میں بھی کہتا تھا قرآن تجھ سے چھنا جاتا ہے۔ صلوٰۃِ جہریہ میں پڑھنے سے رک گئے۔ اس حدیث کو ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے اور یہی مضمون ابن مسعود عمران بن حصین و جابر بن عبداللہ ؓ سے منقول ہے اور اس طرح مسلم نے ایک حدیث روایت کی ہے کہ انما جعل الامام الخ جس کے اخیر میں آنحضرت (علیہ السلام) سے یہ بھی منقول اذا قری فانصتوا کہ جب امام پڑھے تو مقتدی کو چپ کرنا چاہیے اور اسی طرح ترمذی نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کی کہ جو نماز میں الحمد نہ پڑھے گا اس کی نماز نہ ہوگی مگر جبکہ امام کے پیچھے ہو۔ اس حدیث کو بھی ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے اور اسی حدیث کو امام طحاوی نے مرفوعاً روایت کیا ہے اور احمد اور مالک نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور دیگر محدثین نے بھی اور اسی مضمون کی اور بہت سی احادیث امام محمد و ابوبکر بن شیبہ وغیرہ لوگوں نے روایت کی ہیں ٗ لہٰذا اس آیت اور ان احادیث پر لحاظ کرکے امام ابوحنیفہ (رح) امام کے پیچھے مقتدی کو قرآن پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے بلکہ سننے اور سکوت کرنے کا حکم دیتے ہیں اور صحابہ میں عبداللہ بن مسعود ٗ جابر بن عبداللہ و ابن عمر وغیرہم ؓ بھی امام کے پیچھے الحمد نہیں پڑھتے تھے۔ امام شافعی اور بعض محدثینِ آیت اور احادیث مذکورہ کو مخصوص کرکے امام کے پیچھے صرف الحمد پڑھنے کی تاکید کرتے ہیں نہ اس طرح سے کہ امام بھی پڑھے اور وہ بھی پڑھے بلکہ جب امام سکتہ کرے تو پڑھے۔ ترمذی کہتے ہیں واختار اصحاب الحدیث ان لا یقرء الرجل اذا جہر الامام بالقرأۃ وقالوا یتبع سکتات الامام اور دلیل ان کی حدیث ابوہریرہ ؓ ہے کہ من صلی صلوۃ لم یقرئہ فیہا بام القرآن فہی خداج غیر تمام کہ جو نماز میں الحمد نہ پڑھے گا اس کی نماز ناقص ہوگی مگر محدثین خصوصاً امام احمد نے جو امام حدیث ہیں اس حدیث کو حالت انفراد پر محمول کیا ہے یعنی الحمد کا پڑھنا جو ضروری ہے تو اس حالت میں ہے کہ جب اکیلا ہو۔ امام کے پیچھے نہیں۔ چناچہ ترمذی کہتے ہیں امام احمد بن حنبل فقال معنی قول النبی ﷺ لا صلوۃ لمن لم یقرء بفاتحۃ الکتاب اذاکان وحدۃ واحتج لحدیث جابر بن عبداللہ حیث قال من صلی رکعتہ لم یقرء فیہا بام القرآن فلم یصل الا ان یکون وراء الا مام پس جب امام محدثین کے نزدیک اس حدیث کے کہ جس سے الحمد پڑھنا ضروری ثابت کیا جاتا ہے یہ معنی ہوئے تو پھر اس سے آیت خاص کرنا جو بقول بیہقی بالاجماع نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے ٗ محض تکلف ہے اور اس آیت مکیہ کو سکوت بوقت خطبہ پر محمول کرنا جو مدینہ میں آکر مشروع ہوا اور بھی تکلف ہے۔ نظر بریں آیت جماعت میں مقتدی کو سکوت کرنا اور دل سے قرآن سننا چاہیے۔
Ayahs 7:205–206واذکر ربک الخ جبکہ قرآن مجید کے سننے کا حکم دیا جو ایک جماعت تھی تو اس کے بعد بندہ کو ازخود بھی ذکر الٰہی کرنے کا حکم دینا کلام سابق کا تتمہ بیان کردینا ہے اور نیز قصص و احکام وعظ و پند بیان کرکے سورة کو ذکر الٰہی کے حکم پر تمام کرنا گویا تمام شریعت کا عطر کھینچ دینا ہے اور دنیا کے سب کاروبار کا آخرکار بتلا دینا ہے ذکر خواہ بالقلب ہو خواہ باللسان خواہ قرآن مجید کے پڑھنے سے ہو خواہ اس کا کوئی نام پاک ورد کرنے سے۔ علیٰ حسب مراتب سب ذکر الٰہی ہے۔ آیت میں اس ذکر کے لئے چند قیدیں لگائی ہیں (1) فی نفسک اس سے مراد یہ کہ جن الفاظ کو زبان سے ادا کرتا ہو ان کے معانی سے واقف ہو دل بھی اس کی طرف متوجہ ہو ورنہ
برزبان تسبیح و در دل گاؤ خر
ایں چنیں تسبیح کے دارد اثر
(2) تضرع کے ساتھ ہو یعنی عجز و نیاز ہو بلحاظ جلال خوف اور بلحاظ جمالِ امید بھی ہو (3) خیفۃ زجاج کہتے ہیں اصل خوفۃ تھا وؔکویؔسے بدل لیا لانکسار ماقبلھا اس خوف کے مراتب ہیں کبھی اپنی تقصیر عبادت کا کہیں اس کی بےنیازی کا ؎
یار بےپروا و فریادِ دل من بےاثر
گر زول فریاد میدارم گر از فریاد رس
(4) ودون الجہر من القول مراد یہ کہ مخافت اور جہر کے درمیانی طور سے ذکر ہو جیسا کہ آیا ہے ولاتجہر بصلاتک ولا تخافت بہا وابتغ بین ذلک سبیلاً حدیث میں آیا ہے کہ ایک بار صحابہ چیخ چیخ کر تکبیر و تہلیل پہاڑوں پر چڑھتے اترتے کسی سفر جہاد میں کرتے تھے ٗ فرمایا کہ تمہارا رب بہرہ اور غائب نہیں ع نعرہ کمترزن کہ نزدیک ست یار۔ یعنی اس قدر بلند آواز ہو کہ جس کو آپ سن سکے کیونکہ اس ذکر سے خیال متاثر ہوتا ہے اور خیال کے متاثر ہونے سے ذکر قلبی و روحانی میں قوت حاصل ہوتی ہے اور ان ارکان ثلاثہ میں سے ہر واحد دوسرے سے قوی اور ہر ایک کے انوار دوسرے میں منعکس ہوتے ہیں اور ان کا انعکاسات سے بہت کچھ قوت اور جلا اور انکشاف اور عالم اجسام کے ظلمات سے عالم انوار کی طرف ترقی حاصل ہوتی ہے۔ (5) بالعذو و الآصال غدو جمع غدوۃ آصال جمع اصل اور اصل کا واحد اصیل ہے۔ اول دن کو غداوہ اور اخیرون کو اصیل کہتے ہیں یعنی صبح 1 ؎ اور شام ذکر کیا کر کیونکہ ان دونوں وقتوں میں انقلاب لیل و نہار سے ایک عجیب تغیر پیدا ہوتا ہے جو اس کی کمال قدرت کی دلیل ہے اور ان اوقات میں ملائِ اعلیٰ کی توجہ بھی بندوں کے قلوب کی طرف ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔ (6) ولاتکن من الغافلین یعنی ہر وقت دل میں اس کا دھیان رہے۔ چلتے پھرتے کھاتے بیٹھتے تاکہ ملائکہ سے مشابہ ہوجاوے۔ ان الذین یہاں سے یہ بات بیان کرتا ہے کہ جب ملائکہ کا باوجود اس تقدس کے یہ حال ہے کہ وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور تسبیح اور سجدہ کرتے رہتے ہیں۔ پھر تم کو تو انسان ہو کر آلائشِ شہوات و ظلمات جسمانیہ سے پاک ہونے کے لئے اور بھی ذکر الٰہی میں مشغول ہونا چاہیے۔ اس جملہ کو سن کر سجدہ کرنا واجب ہے۔
1 ؎ ذکر سے عام مراد ہے اور نماز کی فرضیت سے پہلے صرف صبح و شام ذکر الٰہی فرض تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ ذکر سے مراد نماز ہے پھر نمازوں میں سے صبح و شام کی نماز کی تاکید کی خصوصیت سے یہاں اس لیے آئی کہ یہ دونوں وقت ملائکہ کے پہرہ بدلنے کے ہیں جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے اور بالخصوص صبح کی نماز کے لیے آیا ہے ان قرآن الفجر کان مشہودا مگر تعمیم اولی ہے 12 منہ