7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 7:73–79

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا (اس نے) کہا اے قوم ! اللہ کی عبادت کرو کیونکہ اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے رب کے ہاں سے دلیل بھی آچکی ہے کہ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے نشانی بنا کر بھیجی گئی ہے سو اس کو اللہ کی زمین پر پڑی چرنے دو اور بری طرح سے اس کو چھیڑنا بھی نہیں (ورنہ) پھر تو تم پر عذاب الیم آپڑے گا

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور (اللہ کی نعمتوں کو) یاد کرو جبکہ تم کو قوم عاد کے بعد جانشین کیا اور تم کو زمین پر بسایا کہ تم نرم زمین میں محل چنتے ہو اور پہاڑوں میں کھود کر گھر بناتے ہو۔ سو اللہ کے احسانات یاد کیا کرو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

اس کی قوم کے متکبر سرداروں نے غریب لوگوں سے جو ایمان لائے تھے (یہ) کہا کہ کیا تم صالح کو اس کے رب کی طرف کا رسول جانتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم تو جو کچھ اس کی معرفت بھیجا گیا ہے اس پر یقین کرتے ہیں۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

متکبروں نے کہا جس پر کہ تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کے منکر ہیں۔

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

پھر تو انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور کہہ دیا کہ اے صالح ! اگر تو رسولوں میں سے ہے

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

تو جس چیز سے ہم کو ڈراتا ہے اس کو ہم پر لے آ۔ پھر تو ان کو زلزلہ نے آلیا سو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح نے ان سے الٹا (موڑ کر) پھر کر (یہ) کہا کہ اے قوم بیشک میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا چکا اور تمہیں نصیحت کرچکا تھا لیکن تم تو نصیحت کرنے والوں کو پسند ہی نہیں کرتے تھے۔

ترکیب : من ربکم جاء تکم سے متعلق آیتہ حال ہے ناقہ سے والعامل فیہ معنی الاشارۃ تاکل مجزوم ہے کیونکہ جواب امر ہے جو قدروھا ہے فیاخذکم منصوب جواب نہی من سہولہا مفعول ثانی قصورا اول تنحتون جو بمعنی تتخذون لیا جاوے تو الجبال مفعول ثانی ورنہ من محذوف مان کر اس کو فعل سے متعلق کیا جاوے اور بیوتا کو مفعول قرار دیا جاوے۔ الملاء فاعل قال للذین اس سے متعلق لمن امن بدل ہے للذین استضعفوا سے باعادہ جاء کقولک مرت بزید باخیک اتعلمون الخ مقولہ بالذی کافرون سے متعلق ہے ان کنت شرط ائتنا بما تعدنا جملہ مقدم دال بر جزاء جاثمین خبر فاصبحوا رسالۃ مفعول ثانی ابلغت کا۔ تفسیر قوم ثمود کا تذکرہ : یہ تیسرا قصہ قوم ثمود کا بیان فرماتا ہے۔ اس قوم نے جو ثمود بن عابربن ارم بن سام بن نوح کی اولاد تھی ٗ قوم عاد کے تھوڑے ہی دنوں بعد عرب کے شمالی و شرقی حصہ میں (جو مدینہ اور ملک شام کے درمیان ہے جس کو قدیم عرب ملک حجر کہتے تھے) نشوونما پایا اور نمود شہرت حاصل کی تھی۔ ہجرت کے نویں سال جو آنحضرت ﷺ تبوک تک ہر قلیس شاہ روم کی خبر حملہ سن کر تیس ہزار لشکر لے کر گئے تھے تو رستہ میں قوم ثمود کے یہ مقامات بھی وادی القریٰ کے اطراف میں ملے تھے جہاں آپ نے حکم دیا تھا کہ یہ محل غضب الٰہی ہے۔ یہاں کوئی نہ ٹھہرے اور اس سے پناہ مانگتے ہوئے نکل چلے۔ قوم ثمود نے پہاڑ کھود کر عجیب و غریب مکانات بنائے تھے اور اسی طرح پہاڑوں کے نیچے نرم زمین میں بھی عجیب و غریب محل بنائے تھے۔ گرمی اور سردی کے جدا جدا مکانات تھے اور یہ قوم نہایت مرفہ الحال تھی مگر بدنصیب بت پرست اور راہزن اور اعلاناً فاحش اور بدکار تھی۔ ان کی ہدایت کے لئے خدا تعالیٰ نے انہیں میں سے حضرت صالح بن عبید بن حاذر بن ثمود کو مبعوث کیا اور نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے توحید و عبادتِ الٰہی کی تعلیم اور منادی کرنی شروع کی اور اپنی ایک اونٹنی کا معجزہ دکھا کر یہ کہا کہ یہ خدا کی طرف سے تمہارے لئے نشانی ہے۔ اس کو برائی سے نہ چھونا ورنہ عذاب الیم میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اس قوم کے دن بھی پورے ہونے کو تھے جو اپنے ہادی اور مصلح کے ساتھ بجائے اطاعت و فرمانبرداری کے تمسخر اور بدسلوکی سے پیش آئے اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ کر کہا کہ لو اب لاؤ جس کا تم ڈر سناتے تھے سو ان کو زلزلہ سے خدا نے برباد کردیا۔ ان آیتوں کا صرف اسی قدر مطلب ہے مگر یہ قصہ قرآن مجید میں کئی جگہ آیا ہے (اس لئے اس واقعہ اور عاد کے واقعہ کو عرب اپنے باپ دادا سے سنتے چلے آتے تھے اور گویا یہ واقعہ ان کی آنکھوں کے روبرو تھا) ٗ اس لئے ہم یہاں تین باتوں پر بحث کرنا مناسب جانتے ہیں تاکہ پھر آیندہ سمجھنے میں اشکال نہ رہے۔ اونٹنی کس وجہ سے معجزہ تھی ؟ : (1) وہ اونٹنی کس وجہ سے معجزہ تھی ؟ قرآن مجید میں اس کی بابت کچھ تشریح نہیں مگر علماء نے اس کی وجہ مختلف بیان فرمائی ہے۔ بعض نے کہا اس وجہ سے کہ کفار نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے یہ معجزہ طلب کیا تھا۔ چناچہ اس قوم کے سردار جند بن عمرو نے کہا کہ اگر آپ فلاں پتھر میں سے ایک ایسی اونٹنی پیدا کردیں جو خوب تیار ہو تو ایمان لاویں۔ صالح نے کہا اگر ایسا ہوا تو تم ایمان لاؤ گے ؟ لوگوں نے اقرار کرلیا۔ صالح نے خدا تعالیٰ سے دعا کی۔ اس سے ان کے دیکھتے دیکھتے ہی اس پتھر میں سے ایک عمدہ اونٹنی نمودار ہوگئی جو نہایت قد آور توانا تھی۔ یہ معجزہ دیکھ کر جند اور اس کی قوم کے چند آدمی تو ایمان لے آئے مگر اور لوگوں کو ذواب بن عمرو اور جناب نے بہکا دیا جو بتوں کے پجاری تھے اور شہاب بن خلیفہ کو بھی روک دیا جو اس قوم کا ایک معزز آدمی تھا۔ چناچہ اس امر میں کسی شاعر نے یہ شعر بھی کہے تھے ؎ بوکانت عصبۃ من آل عمر الٰی دین النبی دعوا شہابا عزیز ثمود کلہم جمیعًا فہمت ان یجب ولو اجابا لاصبح صالح فینا عزیزا وما عدلوا بصاحبہم ذوابا ولکن الغواۃ من آل حجر تولوا بعد رشدہم ذبابا بعض کہتے ہیں اس سبب سے کہ جس روز وہ پانی پینے کو گھاٹ پر آتی تھی تو اس روز وہاں اور کوئی چارپایہ نہیں آتا تھا اور اسی لئے ایک روز اس کے پانی پینے کا مقرر تھا تو دوسرا دن اور لوگوں کے مواشی کا جیسا کہ قرآن میں آیا ہے لہا شرب ولکم شرب یوم معلوم۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ وجہ تھی کہ جس قدروہ پانی پیتی تھی اسی قدر دودھ لوگ اس سے وہیں دوہ لیتے تھے۔ والعلم عند اللہ مگر کوئی بات ضرور ایسی بات خلاف عادت ہوگی کہ جس کی وجہ سے اس کو آیۃ اور کہیں ناقۃ اللہ کہا گیا ورنہ عام طور سے یا اسباب عادیہ میں سے کسی سبب یا صفت سے یہ اونٹنی ترجیح بلامرجح اس لقب کا کیا استحقاق رکھتی تھی ؟ (2) اس کا بھی کچھ ذکر نہیں کہ اس کی کونچیں کیوں کاٹیں اور کس نے کاٹیں ؟ بلکہ صرف اسی قدر آیا ہے کہ اس قوم میں سے سب سے بدبخت نے اس کی کونچیں کاٹیں۔ اس کی تفصیل علمائِ مورخین نے یوں کی ہے کہ اس ناقہ سے لوگوں کے مواشی بھاگتے تھے جس سے ان کو تکلیف ہوتی تھی اور نیز پانی بھی مواشی کے پینے میں کم آتا تھا۔ اس قوم میں دو عورتیں ایسی تھیں کہ جن کے پاس سب سے زیادہ گائے بیل وغیرہ تھے۔ ایک کا نام عنیزہ بنت غنم تھا جو ایک بوڑھی عورت تھی اور اس کی بیٹیاں جوان جوان نہایت خوبصورت تھیں۔ اس نے قدار سے جو حرامی اور اپنی قوم میں شریر اور سینہ زور تھا۔ یہ کہا کہ اگر تو اس ناقہ کو مار ڈالے تو ان لڑکیوں میں سے جو بھی پسند خاطر ہو میں تجھے دوں اور ایک صدوق بنت محیا بن مہر نہایت قبول صورت عورت تھی۔ اس کا خاوند صنیم بن ہر اوہ حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا اور اپنے مال میں سے اس نے بہت کچھ مومنین کی پرورش میں صرف کیا تھا۔ جب اس کو خبر ہوئی تو نہایت ناراض ہوئی اور اس سے طلاق لے کر مصدع بن مہرخ ایک سرکش اور بدمعاش کی طرف ملتفت ہوئی کہ اگر تو ناقہ صالح کا کام تمام کرے تو میں تیرے کام میں آئوں (کیا قدرت حق ہے ایک ہیں کہ دار آخرت کے مقابلہ میں اس عورت کو چھوڑ بیٹھے ٗ دوسرے ہیں کہ دار آخرت کو چھوڑ کر اس پر فریفتہ ہوگئے ع ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیماں کہ بس ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے یہ دونوں بدمعاش آمادہ ہوئے اور اپنے ہمراہ اور سات بدمعاشوں کو شریک کیا کہ جنہوں نے ایک بار یہ تدبیر کی کہ رات میں صالح (علیہ السلام) کو گھر میں گھس کر مار ڈالو اور جو ان کے اقارب پوچھیں تو مکر جاؤ کما قال تعالیٰ وکان فی المدینۃ تسعۃ رھط یفسدون فی الارض ولا یصلحون پس سب سے اول قدار نے تلوار سے ناقہ کے پائوں زخمی کئے۔ پھر دوسرے نے وار کیا تو زمین پر گر پڑی۔ پھر سب نے مل کر ذبح کر ڈالا اور اس کا گوشت لے گئے اور اس ناقہ کا بچہ یہ حال دیکھ کر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر زار زار روتا اور ڈکراتا تھا۔ اس کے بعد وہ اس پہاڑ میں جا کر غائب ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) نے اس حال سے خبر پا کر سخت ملال کیا اور فرمایا کہ اے قوم ! تمہارا وقت پورا ہوگیا ٗ اب ضرور تم پر قہر الٰہی آتا ہے۔ (3) قرآن مجید میں ان کی ہلاکت کے بارے میں اس جگہ تو الرجفۃ یعنی زلزلہ ذکر ہوا ہے اور مقامات پر صیحۃ یعنی ایک سخت ہولناک آواز بیان ہوئی ہے۔ چناچہ سورة ہود میں یوں آیا ہے۔ فعقروھا فقال تمتعوا فی دار کم ثلثۃ ایام ذلک وعد غیر مکذوب فلما جاء امرنا نجینا صالحا والذین امنوا معہ برحمۃ مناومن خزی یومئذان ربک ھوالقوی العزیز واخذ الذین ظلموا الصیحۃ فاصبحوا فی دارھم جاثمین٭ اور سورة الحاقہ میں لفظ طاغیۃ آیا ہے۔ واما ثمود فاھلکوا بالطاغیۃ۔ بعض ناواقفوں نے اس کو اختلاف بیانی پر محمول کرکے قرآن مجید پر طعن کیا ہے۔ حالانکہ یہ ان کی ناواقفی ہے کیونکہ تینوں باتوں میں کچھ بھی اختلاف نہیں۔ کس لئے کہ اس قوم پر دراصل زلزلہ شدید آیا تھا جس میں ہولناک آواز بھی تھی کہ جس سے روح پر صدمہ ہوتا تھا۔ سو ان کو کبھی زلزلہ سے غارت کرنا اور کبھی آواز سے غارت کرنا فرمایا کیونکہ دونوں باتیں ان کی ہلاکت کی سبب ہوئی تھیں اور لفظ طاغیہ کے معنی حد سے گذرنے والی چیز کے ہیں سو وہ دونوں کو شامل ہے۔ زلزلہ کو بھی اور آواز خوفناک کو بھی۔ اس کی تفصیل مؤرخین نے یوں بیان کی ہے کہ ناقہ قتل ہونے کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ لو اب تین روز تک تمہاری زندگی ہے۔ اس میں دنیا کو برت لو۔ تین روز کے بعد تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ لوگوں نے تمسخر سمجھا اور اس کی علامت پوچھی۔ فرمایا جمعرات کے دن جس کو تم سن کہتے ہو ٗ علی الصباح تمہارے منہ زرد ہوجاویں گے اور غروبہ 1 ؎ یعنی جمعہ کے روز سرخ ہوجاویں گے اور پھر شیار یعنی ہفتہ کے دن سیاہ اور اتوار کے روز عذاب آوے گا اور یہ بات بدھ کے روز کہی جس روز کہ انہوں نے ناقہ کو قتل کیا تھا۔ سو ویسا ہی ہوا اور اتوار کو ہنوز رات باقی تھی کہ زلزلہ عظیم اور اس کے ساتھ نہایت ہیبت ناک آواز نمودار ہوئی جس سے دوپہر تک بجز صالح (علیہ السلام) اور مومنین کے تمام قوم مرگئی جو گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے تھے جن کے پاس حضرت صالح (علیہ السلام) نے آکر بڑی حسرت سے یہ کہا کہ اے قوم میں نے تو تمہیں بہت کچھ سمجھایا لیکن تم کب سمجھتے تھے۔ اللہ اپنے قہر و عذاب سے محفوظ رکھے۔ الامان بحرمۃ النبی الامی سید الانس والجان۔ 1 ؎ ان کے محاورہ میں ایام کے یہ نام تھے۔ 12 منہ
Ayahs 7:80–84

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور لوط کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا تم کیا وہ بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ جس کو تم سے پہلے جہان بھر میں کسی نے نہیں کیا۔

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم تو شہوت میں آکر عورتوں کو چھوڑ کر مردوں پر پلے پڑتے ہو بلکہ تم تو ایک بیہودہ قوم ہو اور اس کی قوم کا بجز اس کہنے کے

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

اور کچھ جواب نہ تھا کہ ان کو اپنے گائوں سے نکال دو کیونکہ یہ لوگ پاکیزگی ڈھونڈتے ہیں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو اور اس کے کنبہ کو بچا لیا مگر اس کی بیوی کو کیونکہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے اس قوم پر (پتھر اور گندھک) کا مینہ برسا دیا۔ پھر دیکھو تو گنہگاروں کا کیا انجام ہوا۔

ترکیب : اذ قال اس کا فاعل اذکر محذوف ما سبقکم جملہ حال ہے الفاحشۃ سے شہوۃ مفعول لہ ہے لتاتون کا یا مصدر موضع حال میں ہے۔ من دون النساء موضع حال میں ہے اے منفردین عن النسائ۔ بل اس جگہ ایک بیان سے دوسرے بیان کی طرف متوجہ ہونے کے لئے یا محذوف سے اضراب ہے ای ما عدلتم بل انتم مسرفون۔ جواب منصوب اس کا بیان آل عمران میں آچکا۔ تفسیر : حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ : چوتھا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو اپنے چچا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ حران میں آرہے تھے کہ کسدیوں کے ملک سے جو بابل میں تھا ٗ ان کے والد حاران ان کی صغر سنی میں مرگئے تھے۔ پھر حران سے کوچ کرکے ملک کنعان میں سکم یعنی ترابلس تک آئے اور بیت ایل کے پاس اپنا ڈیرا قائم کیا۔ جب اس ملک میں قحط پڑا تو یہ سب ملک مصر کو چلے گئے۔ وہاں جا کر لوط اور ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس مواشی اور نقد مال بہت کچھ جمع ہوا۔ تب پھر ملک کنعان میں واپس آئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو دریائے یرون کی ترائی کا ملک رہنے کو ملا اور وہ شہر صدوم میں جا کر رہے۔ وہاں کے لوگ بت پرست اور نہایت بدکار تھے۔ مردوں سے بدفعلی کا ان میں رواج تھا۔ رستوں پر اور عام مجلسوں میں ناپاک اور گھنائونے کام بےباکانہ کرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو وعظ و پند کرتے تھے مگر یہ کب مانتے تھے اور ان کے ساتھ عمورہ اور ضبیان اور رومہ کے لوگ بھی ایسے ہی بدکار تھے اور یہ بستیاں صدوم کے آس پاس تھیں وہاں کے بعض پہاڑوں میں گندھک کی کان تھی۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) ان سے عاجز آئے اور بجائے توبہ کے ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو تین فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو امرد لڑکوں کی شکل میں دوپہر کے وقت جبکہ وہ خیمہ کے سامنے بیٹھے تھے نظر آئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی مہمانی کی روٹیاں اور ایک بچھڑا پکا کر لائے لیکن انہوں نے نہ کھایا۔ تب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ڈر گئے کہ شاید دشمن ہوں کیونکہ دشمن اس عہد میں اپنے مخالف کا کھانا نہیں کھاتا تھا۔ تب انہوں نے کہا ٗ خوف نہ کرو۔ ہم خدا کے فرشتے ہیں۔ صدوم کو غارت کرنے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا وہاں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہے اور نیک لوگ بھی ہوں گے۔ انہوں نے کہا ٗ لوط کو محفوظ رکھیں گے اور وہاں پانچ شخص بھی نیک ہوں گے تو ہم غارت نہ کریں گے پھر وہ وہاں سے چل کر صدوم میں شام کو شہر کے پھاٹک پر حضرت لوط (علیہ السلام) کو نظر آئے اور کہا ہم شب کو تیرے گھر مہمان رہیں گے۔ یہ خبر پا کر صدوم کے جوان سے بوڑھے تک حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر چڑھ آئے۔ حضرت نے منت کی اور کہا اگر تمہیں میری بیٹیاں درکار ہوں تو ان سے نکاح کرلو مگر میرے مہمانوں کو بےعزت نہ کرو۔ آخر نہ مانے اور کواڑ توڑنے لگے۔ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو اندر کھینچ لیا اور پر جھاڑے جس سے وہ لوگ اندھے ہوگئے۔ فرشتوں نے لوط سے کہہ دیا کہ علی الصباح یہ شہر غارت ہوگا تو اپنے کنبہ کو لے کر راتوں رات نکل جا۔ سو وہ نکل گئے مگر ان کی بیوی جو کافرہ تھی ٗ پیچھے رہ گئی۔ سو وہ نمک کا کھنبہ ہوگئی اور صبح کو فرشتوں نے شہر کو الٹ دیا اور پھر گندھک اور آگ برسائی جس کا دھواں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دور سے اٹھتے دیکھا۔ اس لئے ان بستیوں کو موتفکا (المنقلبات) کہتے ہیں۔
Ayahs 7:85–86

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا اے قوم ! اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف کی حجت آچکی ہے۔ پس ماپ تول کو پورا رکھو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے نہ دیا کرو اور اصلاح ہوجانے کے بعد ملک میں فساد نہ مچائو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم کو ایمان ہے

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور تم ہر ایک (نیک) رستہ پر لوگوں کے دھمکانے کو اور جو اللہ پر ایمان لایا اور اس کو اس کے رستہ سے روکنے کو اور اس میں کجی پیدا کرنے کو نہ بیٹھا کرو اور یاد کرو جبکہ تم کم تھے پھر تم کو بہت کردیا اور دیکھو مفسدوں کا کیسا انجام ہوا ؟

ترکیب : لاتبخسوا دو مفعول کی طرف متعدی ہے ایک الناس ہے دوسرا اشیاء ھم۔ تو عدون و تصدون حال ہیں ضمیر تقعدوا سے من امن تصدون کا مفعول النجس نقص۔ تفسیر : یہ پانچواں قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو لوط (علیہ السلام) کے واقعہ عبرت خیز کے بعد گذرا۔ مدین عرب کے شمالی و مغربی حصہ میں ان بیابانوں میں ایک بستی ہے جہاں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قلزم کو عبور کرکے کوہ سینا اور اس کے اطراف میں بنی اسرائیل کو لئے پھرتے تھے۔ مدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کا نام ہے جو ملک عرب میں آرہے تھے۔ اس لئے اس بستی یا قبیلہ کو مدین کہتے تھے۔ انہیں میں سے ایک شخص حضرت شعیب بن صیفون بن عیفا بن ثابت بن مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کو نبی کرکے ان میں بھیجا۔ (محمد بن اسحٰق نے ان کا نسب نامہ یوں بیان کیا ہے۔ شعیب بن میکائیل بن یشجر بن مدین بن ابراہیم) یہ وہی شعیب ہیں کہ جن کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے بھاگ کر آئے تھے اور دس برس ان کے ہاں رہے اور ان کی صاحبزادی سے شادی کی جو پھر مصر کی طرف واپس جاتے وقت کوہ طور کے قریب خدا تعالیٰ کی تجلی دیکھی ان کو نبوت ملی۔ شعیب (علیہ السلام) کو یہودی محاورہ میں یترو بھی کہتے ہیں۔ ی۔ ت۔ ر۔ و۔ مدین اور اس کے پاس ایک گنجان درختوں سے گھرا ہوا دوسرا گائوں ایکہ بڑی شریر اور بت پرست قوموں سے آباد تھا جو ناپ اور تول میں کمی بھی کرتے تھے اور معاملات میں دغابازی اور ان کا عام دستور تھا اور زمین پر ہر طرح سے فساد مچاتے پھرتے تھے اور رستوں پر بیٹھ کر لوگوں کو ڈراتے اور رہزنی کرتے اور تکلیف دیتے تھے اور نیز لوگوں کو شعیب (علیہ السلام) کے پاس آنے سے بھی روکتے اور بہکا دیتے تھے کہ یہ دغاباز اور فریبی ہے۔ اس کے پاس نہ جانا اور جاؤ تو اس کا کہنا نہ ماننا اور حضرت کی تعلیم اور شریعت میں سینکڑوں جاہلانہ نکتہ چینیاں کرتے اور عیب لگاتے تھے۔ ان سب باتوں کو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بڑے نرم لفظوں سے منع کیا اور توحید و خدا پرستی کی سب سے اول ہدایت کی کہ یقوم اعبدوا اللّٰہ مالکم من الہ غیرہ اور اس کے بعد ان کو ان کا وہ احسان یاد دلایا جو ان پر ہوا تھا کہ وہ لوگ پردیسی مدین کی نسل کے تھے جو بیگانے ملک میں آرہے تھے۔ سو خدا نے ان کو بہت بڑھایا۔ اذاکنتم قلیلاً فکثرکم۔
Ayahs 7:87–91

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور (جو کچھ احکام) مجھے دے کر بھیجا ہے اگر اس کو تم میں سے ایک گروہ نے مان لیا ہے۔ اور دوسرے گروہ نے نہیں مانا ہے تو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہم میں اور تم میں فیصلہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

اس کی قوم کے سرکش سرداروں نے کہا کہ اے شعیب ! ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو بھی اپنی بستی سے ضرور نکال دیں گے یا یہ ہو کہ تم پھر ہمارے مذہب میں آ ملو۔ شعیب نے کہا کیا ہمیں نفرت ہو تو بھی (آ ملیں) ۔

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

ہم نے اللہ پر بڑا ہی جھوٹ باندھا اگر ہم تمہارے مذہب میں آ ملیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہم کو نجات بھی دی ہو۔ اور ہمیں نہیں لائق ہے کہ ہم پھر اس میں آ ملیں مگر ہمارا رب اللہ ہی چاہے (تو بےبسی ہے) اللہ نے ہر ایک چیز کو اپنے علم میں لے لیا ہے اللہ ہی پر ہم نے بھروسہ کرلیا ہے۔ اے رب ہم میں اور ہماری قوم میں حق سے فیصلہ کر دے اور تو بہت ہی اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور شعیب کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب کے تابع ہوگئے تب تو تم برباد ہی ہوجاؤ گے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

پھر تو ان کو زلزلہ نے آلیا سو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

ترکیب : وان کان شرط فاصبروا جواب والذین ک مفعول پر معطوف۔ اولو کنا جملہ استفہام انکاری ان عدنا شرط قد افترینا جملہ دال برجزا بعد عدنا سے متعلق۔ الاستثناء منقطع یا متصل ای الاوقت مشیۃ اللہ اذا ان اور اس کی خبر میں متوسط جملہ جواب ان اتبعتم۔ تفسیر : حضرت پر جو لوگ ایمان لے آئے تھے پیشتر وہ غریب تھے اس لئے ایک روز وہاں کے سرداروں نے متفق ہو کر حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا یا تو آپ مع اپنے متبعین کے پھر ہمارے مذہب و طریقہ کو اختیار کرلیں ورنہ ہمارے شہر سے نکل جائو (اگرچہ ابتدائِ عمر سے حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے ملت و مذہب بت پرستی کے شریک نہ تھے مگر نبوت اور منادی سے پہلے ان کو وہ اپنے مذہب و ملت میں خیال کرتے تھے جس لئے پھر ملت میں لوٹ آنے کا حکم دیا) شعیب (علیہ السلام) نے کہا ہم کو اس مذہب سے نفرت ہو تو بھی آملیں یعنی ایسا کبھی نہ ہوگا۔ اگر ایسا کریں تو گویا ہم نے خدا تعالیٰ پر بڑا ہی جھوٹ باندھا ہے۔
Ayahs 7:92–94

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا گویا کہ وہ کبھی وہاں بسے بھی نہ تھے جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی خراب ہوئے

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

پھر ان سے شعیب نے منہ پھیرا اور (یہ) کہا) اے قوم ! میں تو تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا چکا اور تمہیں نصیحت بھی کرچکا پھر اب منکروں پر میں کیا افسوس کروں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے جس بستی میں کوئی نبی بھیجا تو یہی کیا کہ وہاں کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کریں۔

ترکیب : الذین الخ مبتداء کان لم الخ خبر یا کان لم حال ہے ضمیر کذبوا سے اور دوسرا الذین کذبوا بدل ہے فاعل یغنوا سے کانوا الخ خبر کانوا کا اسم ضمیر متصل ھم الخاسرین خبر۔ الاساء شدۃ الحزن اسے علی ذلک فھو آس۔ تفسیر : ہاں اگر تقدیر میں یونہی لکھا ہو اور اللہ ہی چاہے تو اس کا کچھ کہنا ہی نہیں ( کیونکہ دل جو انسان کے تمام افعال کا محرک ہے اسی کے قبضہ قدرت میں ہے چاہے اس کو ہدایت کی طرف پھیر دے خواہ بدی کا داعیہ اس میں ڈال دے خوف کا مقام ہے) ۔ مگر وہ ہر بات کا علم رکھتا ہے۔ ہمارا اسی پر بھروسہ ہے۔ اس کے بعد شعیب (علیہ السلام) نے دعا کی اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ کر دے۔ یہ بھی عذاب کے خواستگار ہیں۔ آخر اس قوم کا بھی وقت قریب آگیا تھا۔ خدا تعالیٰ نے ان پر ایک دھواں سا اٹھایا جس کی گرمی دلوں کو کباب کرتی تھی (فاخذھم عذاب یوم الظلہ انہ کان عذاب یوم عظیم) یہ دھواں جس کو ظلہ سے تعبیر کیا ہے وہاں کی زمین اور پہاڑوں کے اوخنہ ناریہ تھے جو بوقت زلزلہ پیدا ہوئے تھے اور ادھر خدا نے زلزلہ بھیجا فاخذتہم الرجفۃ کہ جس نے تھوڑی سی دیر میں ہلاک کردیا۔ پھر تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے تھے۔ ایسی آسمانی مصیبت کے وقت مہیب آواز بھی پیدا ہوتی ہے۔ سو اوپر سے دھوئیں کا ابر آتشیں اور نیچے سے زلزلہ عظیم ‘ اس پر ہیبت ناک آواز بری موت کا سامان ہے کہ جس کے تصور سے دل لرزتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کی عادت ہے کہ وہ اپنا منہ چھپاتا پھرا کرتا ہے اور زمین کو پکڑتا ہے سو اس قوم نے بھی ایسا ہی کیا ہوگا جو اوندھے کے اوندھے پڑے ہوئے جان نکل گئی۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے متبعین اس بلا سے محفوظ رہے۔ پھر شعیب (علیہ السلام) نے اس قوم کو اوندھا پڑا اور ان کے گھروں کو اجاڑ اور بےوارث دیکھا کہ گویا کبھی ان کے گھروں میں کوئی بسا ہی نہ تھا۔ بڑی حسرت کے ساتھ تاسف اور رنج کرکے یہ خطاب ان مردوں سے کیا اور کہا کہ اے قوم ! میں تو تمہیں اللہ کے احکام پہنچا چکا تھا اور تمہاری پوری خیرخواہی کی تھی مگر تم نے نہ مانا پھر اب تم پر کیا رنج کیا جائے۔ مروی ہے کہ جب اس آتشیں بلا کو ایک شخص عمرو بن جلہم نے دیکھا تو یہ اشعار کہے ع یا قوم ان شعیبا مرسل فذروا عنکم شمیرا و عمران بن شداد انی اری غیمۃ یا قوم قد طلعت تدعوا بصوب علی حناتہ الوادی فانہ لن یری فیہا ضحاء غدا الا الرقیم یمشی بین انجادی شمیر اور عمران ان کے پجاری تھے اور رقیم کتے کا نام تھا۔ ابجد اور ہوز اور حطی اور کلمن اور سعفص اور قرشت ان کے بادشاہوں کے نام ہیں اور اس عہد میں ان کا بادشاہ کلمن تھا۔ یہ قصہ اس سورة ہود و شعراء میں بیان ہوا ہے۔
Ayah 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے سختی کی جگہ راحت بدل دی یہاں تک کہ لوگ بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے باپ دادا کو بھی سختی اور راحت پہنچی ہے پھر تو ہم نے ان کو یکایک پکڑ لیا کہ ان کو خبر بھی نہ ہوئی

ترکیب : الحسنۃ مفعول ہے بدلنا کا۔ حتیٰ ان عفوا ای کثروا وقالوا معطوف ہے عفو پر مس کا الضراء والسراء فاعل آبائنا مفعول۔ فاخذنا عفوا پر معطوف بغتۃً منصوب ہے صفت مصدر محذوف کی ہو کر وھم لایشعرون حال ہے مفعول اخذنا سے ولو شرط لفتحنا جواب برکات مفعول فتحنا علیہم اس سے متعلق ہمزہ استفہام و مفتوحہ عطف کے لئے اگر او کو ساکن پڑھیں گے تو او ایک کلمہ ہوگا جو تردید و تشقیق کے لئے آتا ہے بیاتا اور ضحی حال ہیں ھم ضمیر مفعول سے۔ تفسیر : ان انبیاء کے قصص سن کر (کہ جن میں منکرین پر نکالو عذاب الٰہی آنے کا ذکر ہے اور جن کی عرب کے لوگ دل سے تصدیق بھی کرتے تھے) آنحضرت ﷺ کے عہد کے کافروں کے دل میں یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ یہ عذاب الٰہی منکرین انبیاء پر شاید انہیں دو چار 1 ؎ عرفی البنات والشجر والوبر اذا کثرت و منہ قولہ ﷺ واعفوا اللحی۔ 12 منہ کشاف مواضع میں واقع ہوا ہے اور کہیں ایسی بات نہیں ہوتی جب ہر منکر پر یہ عذاب نہیں ہوا تو اب کیا ضرور ہے کہ مکہ اور عرب کے منکروں پر بھی واقع ہو ؟ اس لئے فرماتا ہے کہ ایسی کوئی بستی یعنی آبادی نہیں کہ جہاں ہم نے کوئی نبی نہ بھیجا ہو اور وہاں کے لوگوں کو اولاً راحت و تکلیف کے ساتھ نہ آزمایا ہو تاکہ وہ اس راحت و مصیبت کو خدا کی طرف سے سمجھ کر جھکیں ٗ عاجزی کریں یعنی اول وہاں قحط اور وباء اور بےامنی پیدا کی اور اس کے بعد ارزانی ‘ تندرستی ‘ امینت بھی عطا کی۔ پھر بعد میں اور بھی راحت و فراغ دستی ایسی دی (کیونکہ مصیبت کے بعد راحت پانے سے انسان کا خاصہ ہے کہ وہ اپنے منعم کی قدردانی اور شکرگزاری کیا کرتا ہے بشرطیکہ وہ انسان بھی ہو) کہ جس سے وہ اس پہلی مصیبت کو بھول گئے اور خوب پھلے پھولے اور یہ سمجھنے لگے کہ اجی یہ راحت و مصیبت کچھ گناہ اور فرمانبرداری انبیاء (علیہ السلام) کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ دہر اور زمانہ کا مقتضٰی ہے کہ کبھی ارزانی مال و اسباب کی برکت صحبت وامن ہوجاتا ہے۔ کبھی اس کے برخلاف ہوتا ہے اور یہ آج سے نہیں بلکہ ہمیشہ سے یوں ہی دستور چلا آتا ہے۔ چناچہ ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا کو یہی باتیں پیش آئی ہیں۔ یہ خیال بھی ہمیشہ سے بےدینوں کو پیدا ہوتا آیا ہے آج کل بھی نئی روشنی کے ملحد ایسا ہی کہتے ہیں اور کامیابی اور ناکامی اپنی کوشش کی کامیابی اور ناکامی کا نتیجہ خیال کرتے ہیں اور اس کی نظیر میں اکثر بےدینوں اور ملحدوں کے وہ شہر اور ملک پیش کیا کرتے ہیں کہ جہاں باوجود ہر قسم کی بدکاری کے ہر قسم کے عیش و عشرت و اقبال مندی روز افزوں ہوتی ہے جیسا کہ یورپ کے شہر اور وہاں کے ملک۔ مگر یہ خیال بالکل غلط ہے کیونکہ جس صورت میں یہ تسلیم کرلیا گیا ہے (اور ہم کو ضرورتسلیم کرنا چاہیے) کہ اس جہان کا بانی بھی ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور پھر وہ معطل یا عاجز بھی نہیں ہوگیا ہے بلکہ تمام عالم کی چیزیں اسی موجود حقیقی کی طرف مستند ہیں۔ بیوقوف آدمی یہ خیال کرسکتا ہے کہ کپڑے کی کل جو کپڑا بن رہی ہے اور اس تیز حرکت سے اپنے تمام کام نہایت چستی سے کر رہی ہے وہ از خود کرتی ہے آپ ہی ملتی ہے اس میں کوئی شریک نہیں مگر دانشمند یہی کہے گا کہ نہیں بلکہ انجینئر ہی اس کو دخانی قوت سے حرکت دے رہا ہے۔ وہ جب ان کے مبدائِ حرکات کو بند کردیتا ہے تو سب بند ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح اس عالم کے تصرفات کو کوتاہ نظر ان کے اسباب ظاہرہ کی طرف منسوب کرتا ہے مگر دانشمند سب کو ان کے مسبب الاسباب کی طرف نسبت کرتا ہے۔ پھر وہ صانع عالم جو کارکن ہے ضرور اپنے بندوں کے افعال ناشائستہ سے ناخوش اور افعال حمیدہ سے راضی ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں انبیاء کا ہدایت کے لئے بھیجنا کوئی تعجب کی بات ہے ؟ اور انبیاء کے نافرمانوں پر عذاب نازل کرنا کیا مشکل ہے۔ عام ہے کہ وہ عذاب اسباب عادیہ کے وسیلہ سے ہو۔ جیسا کہ زلزلہ اور پانی کی طغیانی اور ہوا کا طوفان یا بجلی کی کڑک یا زمین کا پھٹ کر لوگوں کا دفعۃً اس میں غرق ہوجانا یا پہاڑوں میں سے آتشیں مادہ کا رواں ہو کر بہنا اور اس سے شہروں اور ملکوں کا غارت ہونا یا قحط شدید کا ہونا یا کسی سفاک قوم کا مسلط ہو کر استیصال کردینا یا بغیر اسباب عادیہ کے ہو جیسا کہ فرشتوں کا بستیوں کو اٹھا کر الٹ دینا۔ رہی یہ بات کہ ملحد اور بےدینوں کے شہر عیش و عشرت کے سامان سے بھرپور ہیں۔ ان پر کیوں عذاب نہیں آتا ؟ سو یہ اس کا حکم ہے جو اس نے ایک وقت تک مہلت دے رکھی ہے۔ آخر جب حد سے گذر جاتی ہے تو پھر وہ دفعۃً ان بلائوں میں سے کہ جن کا ابھی ذکر ہوا کسی نہ کسی میں گرفتار کرکے غارت ہی کردیتا ہے جیسا کہ خود فرماتا ہے فاخذنہم بغتۃ وھم لایشعرون الخ نینوی اور بابل اور صیدوم وغیرہ اور ان کے بادشاہوں کے تجمل اور سامان عیش اوراقبال کیا ان لوگوں کے سامان سے کم تھے ‘ نہیں ہرگز نہیں۔
Ayahs 7:96–99

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان پر آسمانوں اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تو جھٹلایا پھر تو ہم نے ان کو ان باتوں پر جو وہ کرتے تھے پکڑ لیا۔

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا بستیوں کے رہنے والوں کو اس بات کا خوف نہیں رہا کہ ان پر ہمارا عذاب راتوں رات آپڑے اور وہ سوتے ہوں

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

اور کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن دہاڑے آپڑے اور وہ کھیلتے ہوں

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا وہ اللہ کے فتنہ سے بےخوف ہوگئے پھر اللہ کے فتنہ سے نڈر تو وہی قوم ہوتی ہے کہ جو خرابی میں پڑنے والی ہوتی ہے۔

ولو ان اھل القریٰ امنوا واتقوا لفتحنا علیہم برکات من السماء والارض۔ یہاں یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ وہ لوگ کہ جن پر ان کے گناہوں کی نحوست نازل ہوئی۔ اگر ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمانوں اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔ آسمان کی برکتیں وقت پر پانی برسنا اور زمین کی برکات اچھی طرح نباتات کا اگانا کھیتی اور درختوں میں عمدہ پھول اور پھل آنا۔ اس عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے دو سبب ہیں۔ ایک فاعلی جو سماوات ہیں۔ ان کی تاثیریں زمین پر پہنچتی ہیں۔ آفتاب کی گرمی اور ماہتاب کی رطوبت و برودت علی ہذا القیاس ہر ستارے اور ہر گردش فلک کی ایک تاثیر خاص اس فاعل حقیقی نے رکھی ہے۔ دوسرا سبب مادی زمین اور عناصر ہیں۔ جب ان کی تاثیریں ان پر پڑتی ہیں اور یہ حسب مادہ و استعداد ان کو قبول کرتے ہیں تو عناصر کی ترکیب سے نباتات و جمادات حیوانات سب چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ اب برکت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان اسباب کو بندوں کو فوائد کے موافق کر دے اور بےبرکتی اس کا برعکس اور یہ بات تو خاص اس نے اپنے ہی دست قدرت میں رکھی ہے۔ یہ چیزیں پتلوں کی طرح سے اس کے ہاتھ سے ہلتی ہیں۔ اب فرماتا ہے کہ جس طرح ہم مطیع کے لئے منعم ہیں۔ برکات السموات والارض اس کو نصیب کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم عاصی و ناشکری کے لئے منتقم بھی ہیں۔ ہمارے عذاب دنیا و آخرت سے کسی کو نڈر اور بےخوف و خطر نہ ہونا چاہیے۔ افامن اہل القریٰ الخ کیونکہ ہمارا عذاب انسان کو یکایک آلیتا ہے اور ہمارے مکر یعنی تدابیر ناموافق عباد سے بھی نڈر نہ ہونا چاہیے۔ ہم جب چاہتے ہیں سب ظاہری اسباب و سامان کو منقلب کردیتے ہیں اسی کی تلوار اسی کو کاٹنے لگتی ہے۔
Ayahs 7:100–104

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو کہ جو زمین کے مالکوں کے بعد اس کے وارث بنتے ہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو بھی ان کے گناہوں کی سزا دیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیں۔ تب وہ سن بھی نہ سکیں۔

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ ہیں وہ بستیاں کہ جن کی خبریں (اے نبی ! ) ہم تمہیں سنا رہے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول معجزات لے کر آئے تھے۔ پھر جس کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے اس پر کب ایمان لانے والے تھے۔ یوں مہر کیا کرتا ہے اللہ کافروں کے دلوں پر

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ہم نے تو ان میں سے اکثر کو عہد کا پابند نہ پایا اور ان میں سے اکثر کو تو نافرمان ہی پایا۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ سو ان لوگوں نے معجزوں کی بڑی بےادبی کی۔ پھر دیکھ مفسدوں کا کیسا انجام ہوا

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا ٗ اے فرعون میں ایک رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے۔

ترکیب : لم یہد یتبین للذین الخ اس سے متعلق۔ ان مخففہ اسم اس کا محذف انہ یہ جملہ فاعل ہے یہد کا اے لم یتبین لھم مشیتنا و قدرتنا علی اہلاکھم بذنوبھم من عہد میں زاید ای ما وجدنا عہدًالاکثرھم۔ تفسیر : یہاں تک منکرین کے قصہ اور ان پر عذاب الٰہی نازل ہونے کے وقائع بیان فرمائے تھے۔ اس کے بعد یہ بھی ظاہر کردیا تھا کہ کچھ انہیں بستیوں پر حصر نہیں جن کا کہ ہم نے حال بیان کیا بلکہ جہاں کہیں انبیاء آئے وہاں یہی بات پیش آئی۔ اب یہاں ان تمام تاریخی واقعات اور عبرت آمیز حادثات کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ کیا ان لوگوں کو پہلے لوگوں کے حال سے عبرت پیدا نہیں ہوتی کہ ان کو ہم نے ان کی بدکاری کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ صفحہ زمین سے مٹا ڈالا۔ اب یہ لوگ ان کے وارث ہوگئے ہیں۔ ان کے عمدہ مکانات میں رہتے ہیں جس زمین کے لئے وہ لڑتے سر کٹواتے تھے اس کو میری میری کہتے تھے اب وہ ان کے قبضہ میں ہے۔ اب اسی طرح سے یہ بھی سرکشی کرتے ہیں۔ بدکاری اور بت پرستی سے باز نہیں آتے۔ رسول سے مقابلہ کرتے ہیں۔ کیا ہم ان کو بھی اسی طرح سے ہلاک نہیں کرسکتے۔ ان میں ان سے کونسی بات زیادہ ہے ٗ کونسی قوت مانع ہے ؟ مگر یہ بیوقوف مغرور مست بادہ ٔ غفلت نہیں سمجھتے کیونکہ نطبع علی قلوبہم ہم نے ان کے دلوں پر مہر کردی۔ فہم لایسمعون یعنی وہ ان باتوں کو اور ان واقعات کو دل سے نہیں سنتے (اگر دل سے سنتے تو عبرت ہی نہ کرتے) پھر متنبہ کرتا ہے کہ وہ بستیاں ہیں کہ جن کا ہم تمہیں حال سناتے ہیں یعنی عاد وثمود و لوط و شعیب کی اجڑی ہوئی بستیاں جو تمہیں سفر تجارت میں آتے جاتے ملتی ہیں۔ انہیں کے تو یہ واقعات ہیں کہ ان لوگوں کے پاس ہمارے رسول معجزات لے کر آئے اور ان کو خوب سمجھایا مگر وہ ایسے کب تھے کہ جس بات کا ایک بار انکار کرچکے پھر اس پر ایمان لے آویں یعنی بڑے ہٹیلے۔ وجہ یہ ہے کہ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی اور وہ کافروں کے دلوں پر ایسی ہی مہر کردیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اکثر کو ہم نے اپنے عہد ازلی پر قائم نہ پایا اور اکثر کو بدکار ہی دیکھا۔