Ayah 7:1451 ؎ نافرمانی اور بدکاری کے سبب کیسے اجڑے پڑے ہیں۔ 12
الالواح کی کیفیت : وکتبنا لہ فی الالواح الخ تورات موجود کے سفر خروج کے 32 باب 15 درس میں ان لوحوں کی بابت لکھا ہے ” موسیٰ پھر کر پہاڑ سے اتر گیا اور شہادت کے دونوں تختے (لوحین جن کو الواح کہتے ہیں) اس کے ہاتھ میں تھے۔ دونوں طرف ادھر اور ادھر لکھے ہوئے تھے اور وہ تختے خدا کے کام سے تھے اور جو لکھا ہوا سو خدا کا لکھا ہوا اور ان پر کندہ کیا ہوا تھا۔ پھر اسی باب میں آگے چل کر یہ لکھا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پرستش کرتے دیکھا اور ان کے شور و غل کی آواز سنی تو ان لوحوں کو پھینک دیا اور پہاڑ کے نیچے آکر توڑ ڈالا۔ پھر چونتیسویں 34 باب کے اول ہی میں لکھا ہے پھر خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنے لئے پہلی لوحوں کے مطابق دو لوحیں پتھر کی تراش اور میں ان لوحوں پر وہ باتیں جو پہلی لوحوں پر تھیں جنہیں تو نے توڑ ڈالا لکھوں گا۔ صبح کو تیار ہوجا اور سویرے کوہ سینا پر چڑھ اور میرے آگے وہاں پہاڑ کی چوٹی پر حاضر ہو۔ الخ
علمائِ اہل کتاب کوہ طور پر چلہ بھر روزہ رکھنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو صرف یہ دو پتھر کے تختے عطا ہونے کے قائل ہیں کہ جن پر دس احکام لکھے ہوئے تھے۔ بت پرستی کی ممانعت ٗ والدین کی تعظیم ٗ یوم سبت کی عزت وغیرہ اور اس کے بھی کہ ان لوحوں کو موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک چوبی صندوق میں رکھوا دیا تھا (خروج باب 40) مگر مفسرین اسلام ان الواح سے مراد تورات لیتے ہیں اور اس چالیس روز کے چلہ اور روزہ کو جو کوہ
1 ؎ یہ کلام وہ نہیں کہ جو انبیاء پر نازل ہوا جیسا کہ توریت و قران۔ 12 منہ
سینا یا طور پر واقع ہوا نزول تورات کا باعث سمجھتے ہیں۔ کس لئے کہ من کل شیء موعظۃ وتفصیلا لکل شیء ان دو لوحوں کے دس
حکموں پر صادق نہیں آتا۔ اس لئے کہ جمیع مسائل ضروریہ کی تفصیل اور ہر قسم کی نصیحت ان میں نہیں۔ جانوروں کی حلت و حرمت اور شریعت کے مسائل ان میں کہاں ہیں ؟ اور نیز سفر استثنیٰ کے 27 باب کی 8 آیت میں نسخہ فارسیہ مطبوعہ 1845 ء و 1839 ء میں یہ عبارت ہے وبراں سنگہا تمامی کلمات ایں توریت رابخط روشن بنویس “ اور کتاب یشوع کے 8 باب 5 ا درس مطبوعہ 1845 ء میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل نے بموجب حکم موسیٰ کے ایک مذبح بنایا اور اس کے پتھروں پر توریت کو لکھ دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل توریت انہیں الواح میں تھی اور بہت بڑی کتاب نہ تھی جس کو مذبح کے پتھروں پر اس عہد کے موافق کندہ کرنا ناممکن ہوتا گو بعد میں اہل کتاب نے (تمامی کلمات این توریت) کو شریعت کے ساتھ بدل دیا مگر اصل عبارت سے مدعا ثابت ہے۔
Ayahs 7:146–147ترکیب : الذین یتکبرون الخ مفعول ہے اصرف کا وان یرو شرط لایؤمنوا بہا جواب ذلک مبتداء بانہم جملہ ثابت کے متعلق ہو کر خبر ‘ والذین مبتداء کذبوا فعل ضمیر فاعل راجع الذین کی طرف بایاتنا مفعول کذبوا معطوف علیہ ولقاء الآخرۃ اس پر معطوف تمام جملہ صلہ الذین حبطت خبر اور ممکن ہے کہ ہل الخ ہو۔
تفسیر : پہلے تھا کہ میں تمہیں تورات دیتا ہوں جس میں ہر قسم کی نصیحت اور سب شریعت ہے۔ اس کو خوب مضبوط ہو کرلو اور میں ابھی تمہیں بدکاروں کے ملک میں لے جاتا ہوں یعنی شام اور اس کے اطراف مواب وغیرہ میں جہاں حتی اور اموری اور عمالیق بت پرست بدکار لوگ بستے ہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو دیکھ کر تمہارا بھی رنگ بگڑ جائے۔ اب یہاں فرماتا ہے کہ تم اپنی حالت ایمان کو جہاں تک ہو سکے قائم رکھو کس لئے کہ بگڑتے کچھ دیر نہیں لگتی اور کون بگڑتے ہیں وہ جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں۔ آپ کو اوروں سے اچھا جانتے اور اتراتے ہیں۔ پھر وہ خدا کے ہادی انبیاء اور علماء سے بھی سرکشی کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ خدا کی آیتوں سے روگردانی کرنا ہے اور وہ جو ہر قسم کی آیات و معجزات دیکھ کر بھی نہیں مانتے اور وہ جو حق بات دیکھیں تو اسے نہ مانیں بری بات کے جھٹ سے پیرو ہوجائیں انبیاء اور علماء سمجھا دیں تو ہزاروں حجتیں اور جھوٹے عذرات پیش کریں۔ شیطانی کام میں جھٹ کود پڑیں۔ مال اور جان سے دریغ نہ کریں۔ یہ تینوں خصلتیں انسان کی روح پر اپنا ایسا اثر پیدا کرتی ہیں کہ پھر وہ دنیا میں جس قدر خدا کی آیتیں ہیں خواہ اس کی آیات قدرت عالم اور اس کے حالات و تغیرات ہوں یا آیات منزلہ کتاب الٰہی کے جملہ جن سے عالم آخرت اور اس کی ذات وصفات پر تنبہ ہوتا ہے یا انبیاء کے معجزات ہوں جو ان کی صداقت کی دلیلیں ہیں اور نبی کی تصدیق سعادت دارین کا وسیلہ ہے ان میں سے کسی کو بھی نہیں مانتا اور اس کی ایسی حالت ہوجانی خدا تعالیٰ کی طرف سے محرومی اور آیات سے روکا جانا ہے اور اسی لئے اس کا سبب ذلک بانہم کذبوا فرمایا اور اس کے بعد ان آیات کی تکذیب کرنے والے کی سزا بھی بیان کردی کہ حبطت اعمالہم ان کے عمل برباد ہوجائیں گے کس لئے کہ عمل خیر جو آخرت میں نفع دیتا ہے جو خلوص پر مبنی ہو اور جب تکذیبِ آیات اللہ ہوئی تو خلوص کہاں ؟ گویا بنی اسرائیل کو ملک شام میں داخل ہونے سے پہلے ان کی جبلی کجی کی طرف اشارہ کرکے تنبیہ کرتا ہے کہ وہاں چل کر تم ایسے نہ ہوجائیو اور اس میں سب کے لئے عموماً تہدید بھی ہے۔
Ayahs 7:148–1491 ؎ یعنی جبکہ وہ کوہ طور پر گئے تھے۔ 12 منہ
ترکیب : واتخذ فعل قوم موسیٰ فاعل عجلاً مفعول جسداً لغت یا بدل یا بیان من حلیھم متعلق اتخذ سے علی بضم الحاء وکسر اللام وتشدید الیاء وھو جمع اصلہ حلوی فقبلت الواویائً وادغمت فی الیاء الاخری ثم کثرت اللام اتباعاً لھا ویقرء بکسر الحاء فی ایدیہم مفعول مالم یسم فاعلہ سقط کا والتقدیر سقط الندم فی ایدیہم غضبان اور اسفا حال ہیں موسیٰ سے۔ اسی طرح یجرہ الیہ بھی الاعداء مفعول ہے لاتشمت کا۔
تفسیر : یہاں سے پھر وہی موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے جو کوہ سینا پر گذرا جبکہ تورات لینے گئے اور چالیس روز تک وہیں رہے۔ پیچھے ہارون کو چھوڑ گئے تھے بنی اسرائیل نے جب تیس روز گذر گئے یہ خیال کیا کہ موسیٰ مرگئے چونکہ مصریوں کی صحبت سے بت پرستی کے بڑے شائق تھے اور مصری لوگ بیل کو پوجا کرتے تھے اس لئے انہوں نے بھی بچھڑا بنا یا۔ سامری بنی اسرائیل میں سے ایک شخص سنار اور اس کام میں بڑا ہوشیار تھا۔ اس نے بنی اسرائیل کی استدعا سے بنی اسرائیل سے سونے کے زیورات لے کر جو مصریوں سے لائے تھے ایک بچھڑا ڈھالا اور کہا تمہارا اور موسیٰ کا یہی خدا ہے۔
سورة طہٰ میں یہ قصہ اور بھی تفصیل سے ہے قال فانا قد فتنا قومک من بعدک واضلہم السامری الخ قالوا ما اخلفنا موعدک بملکنا حملنا اوزرًا من زینۃ القوم فقدفناھا فکذلک القی السامری فاخرج لہم عجلاً جسدًا لہ خوار فقالوا ھذا الہکم والہ موسیٰ فنسی الخ ولقد قال لہم ہارون من قبل یٰقوم انما فتنتم بہ وان ربکم الرحمن فاتبعونی واطیعوا امری الخ قال فما خطبک یا سامری قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتہا وکذلک سولت لی نفسی۔ باوجود یکہ ہارون (علیہ السلام) نے منع کیا مگر لوگوں نے سامری کے کہنے سے سونے کا بت بنا ہی لیا۔ سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ کیا کیا۔ کہنے لگا کہ میں نے ایک ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی۔ میں نے رسول کے پائوں تلے کی ایک مٹھی لے کر اس میں ڈال دی ٗ میرے دل کو یہی بھایا۔
(1) مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ فعل سامری کا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے جو ہارون (علیہ السلام) کو سرزنش کی تو صرف اس پر کہ آپ نے ان کو کیوں نہیں منع کیا۔ ہارون (علیہ السلام) نے عذر کیا۔
Ayahs 7:150–1522 ؎ یعنی سر کے بالوں کو پکڑ کر کھینچنے لگے۔ 12 منہ
Ayahs 7:153–154ترکیب : الذین مع صلہ اسم ان سینا لہم الخ جملہ خبر والذین عملوا السئیات مبتدا ان ربک جملہ خبروالتقدیر غفور لھم ورحیم بھم لما سکت شرط اخذ الالواح جواب ھدی معطوف علیہ ورحمۃ معطوف لربہم یرھبون سے متعلق للذین رحمۃ سے متعلق جملہ مبتداء موخر فی نسختہا ثابت کے متعلق ہو کر خبر ضمیر مونث الواح کی طرف راجع ہے۔ یہ تمام جملہ حال ہوگا الواح سے۔
تفسیر : کہ میں نے منع کیا مگر نہ مانا میرے قتل کے درپے ہوگئے اور نصِّ قرآن سے بھی یہی ثابت۔ پس وہ جو آج کل توریت میں ہے کہ ہارون (علیہ السلام) نے یہ کام کیا اگر تاویل پذیر نہیں تو محض غلط اور الحاق یہود ہے۔ ہارون خدا کے برگزیدہ سے یہ بت پرستی بعید از قیاس ہے اور جو کوئی مسلمان کھل کر یہ بات کہے وہ کافر منکر نصِّ قرآن ہے۔ (2) بچھڑا جو سونے کا سامری نے بنایا اس میں علمائِ اسلام کے دو قول ہیں، بعض کہتے ہیں کہ کسی صنعت سے اس کو مجوف ڈھالا تھا کہ ہوا کے سامنے رکھنے سے اس سے گائے کے بچھڑے کی سی آواز نکلتی تھی جس سے ان احمقوں نے نہ صرف اپنا خدا بلکہ موسیٰ کا بھی خدا اس سامری جاہل کے کہنے سے تسلیم کرلیا اور اس کے ارد گرد ناچنے گانے ‘ قربانی چڑھانے ‘ سجدہ کرنے لگے۔ بعض کہتے ہیں کہ سامری نے اس میں جبرئیل کے گھوڑے کے پائوں کی مٹی ڈال دی تھی جو اس نے اس وقت اٹھائی تھی جبکہ جبرئیل عبور قلزم کے وقت نمودار ہوئے تھے یا جب کوہ طور پر آئے تھے جس سے وہ حیوان ہو کر بولنے لگا جیسا کہ قرآن میں اس کی تصریح ہے۔ فریق اول کہتا ہے کہ قرآن میں صرف سامری کا عذر نقل کیا ہے کہ میں نے ایسا کیا۔ اب یہ کیا ضرور ہے کہ جس کسی کے قول کو قرآن حکایت کرے وہ قول فی نفسہٖ صحیح بھی ہو۔ بت پرستوں اور جہلاء کے بہت قول نقل ہیں۔ وما یہلکنا الا الدھر وغیرہ تو پھر کیا ان کا یہ کہنا سچ ہے ؟ قرین قیاس ہے کہ سامری نے بنی اسرائیل سے فریب کیا ہو کہ اس کو بنایا تو مجوَّف ہو جس میں ہوا کے ذریعے سے آواز پیدا ہوتی تھی اور کہہ دیا کہ یہ میں نے رسول کے پائوں کی مٹی ڈال دی ہے اور وہ وہی بوقت ملامت موسیٰ سے کہہ دیا اور قرآن میں یہ نہیں کہ اس مٹی کے ڈالنے سے وہ بولتا تھا یاسچ مچ کا بچھڑا بن گیا تھا۔ اگر قدم رسول 1 ؎ کا ایسا اثر ہوا تو کیا تعجب ہے رسول سے مردہ روحیں زندہ ہوتی ہیں۔ ان کی خاک پا سے اگر جماد حیوان ہوجائے تو کیا بعید ہے۔ (3) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جنہوں نے بچھڑا بنایا ان پر خدا کا غضب اور ذلت پڑے گی۔ چناچہ ان کی توبہ یہ قرار پائی کہ قتل کئے جاویں اور پھر وبا بھی آئی اور نیز چالیس برس بیابان میں حیران پھرے ولما سکت توریت موجودہ میں جو لوحوں کا ٹوٹ جانا اور باردیگر کندہ کرا کے لانا لکھا ہے الحاق ہے کیونکہ ایسی کیا وہ کچی مٹی کی تھیں جو گرتے ہی چکنا چور ہوگئیں۔ پڑھنے اور دوسرے پتھر پر نقل کرنے کے قابل نہ رہی تھیں۔ پس قرین قیاس وہی ہے جو قرآن سے سمجھا جاتا ہے کہ غصہ میں ڈال دی تھیں۔ غصہ دور ہوا تو اٹھا لیں۔ لوحیں اس لئے دی گئی ہوں گی کہ اس عہد میں خصوصاً جنگل میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس کاغذ نہ ہوگا اور حفظ کا قرآن کی طرح رواج نہ تھا ورنہ پتھر کی سلیں ساتھ ساتھ لئے پھرنے کی کیا ضرورت پڑی تھی۔
Ayah 7:155ترکیب : اختار کا فاعل موسیٰ قومہ مفعول اول بواسطہ حرف جر جو محذوف ہے ای من قومہ۔ سبعین مفعول ثانی رجلا اس کی تمیز اور ممکن ہے کہ سبعین قومہ سے بدل ہو والتقدیر سبعین رجلا منہم حسنۃ مفعول ہے اکتب لنا کا وفی الاخرۃ معطوف ہے فی ھذا الدنیا پر من اشاء مفعول ہے اصیب کا کل شیء وسعت کا مفعول رجفۃ کے لغوی معنی ہیں زلزلہ کے جو بڑا سخت ہو۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد کڑک ہے۔
تفسیر : یہ اسی بیان کا بقیہ ہے جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکلنے کے بعد تیسرے مہینے بیابان سینا میں آئے اور بنی اسرئیل نے کوہ سینا کے سامنے خیمے کھڑے کئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ کے اوپر بلائے گئے۔ وہاں سے نیچے اتر کر بنی اسرائیل کے پاس آئے اور کہا تم نہاؤ پاک صاف ہو تیسرے روز تم پر خدا تعالیٰ جلال ظاہر کرے گا۔ چناچہ سب لوگ پہاڑ کے نیچے جا کھڑے ہوئے اور وہاں ان پر خدا کی تجلی ہوئی۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تو اور ہارون اور ندب اور بنی اسرائیل کے ستر بزرگوں کے ساتھ اوپر چڑھ۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) ان لوگوں کو لے کر اوپر گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ کی چوٹی پر گئے اور ایک بدلی نے پہاڑ کو ڈھانپ لیا اور کڑک شروع ہوئی اور خدا کا جلال کوہ سینا پر آیا اور موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) چالیس رات دن رہے اور وہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت دی گئی (ملخصا از سفر خروج باب 24)
اس موقع کی بابت خدا تعالیٰ فرماتا ہے واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ آیا ان ستر سرداروں کو بچھڑا پوجنے کے بعد معذرت کے لئے ہمراہ لے گئے تھے یا یہ اول بار کا ذکر ہے ؟ قوی یہی ہے کہ اول دفعہ کا معاملہ ہے ان لوگوں کو ساتھ اس لئے لے گئے تھے کہ یہ بھی خدا کی تجلی دیکھ کر بنی اسرائیل کے سامنے جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) نے پایا اس کے برحق ہونے کی شہادت ادا کریں مگر جب وہاں جا کر انہوں نے یہ کہا کہ ہم تو جب مانیں گے جبکہ خدا کو عیاناً دیکھ لیں گے لن نومن لک حتی نری اللہ جہرۃ فاخذتہم الصاعقۃ رجفۃ سے مراد صاعقہ ہے (اے الصاعقۃ اور رجفۃ الجبل فصعقوا منہا ابو العسود) تب موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ یہ بات ان بیوقوفوں سے سرزد ہوئی اس کی سزا میں ہم سے مؤاخذہ نہ کیجئے۔ یوں تو آپ ہمیں پہلے ہی سے ہلاک کرسکتے تھے یہ تیری آزمائش ہے اس میں تو جس کو چاہے قائم رکھ کر ہدایت کرے جس کو چاہے بےصبری میں مبتلا کرکے گمراہ کرے تو ہمارا ولی یعنی کارساز ہے اس کارسازی کی وجہ سے اول تو ہماری بیماریاں دور کر دیجئے۔ گناہ معاف کیجئے۔ فاغفرن اور پھر اس کے اثر بد کو بھی عائد نہ ہونے دیجئے وارحمنا اور پھر ہم کو سعادت دارین سے بھی بہرہ وور کر واکتب لنا الخ کیونکہ انا ھدنا الیک (ہدنا تبنا ورجعنا الیک قال اللیث الہود التوبۃ) ہم نے تیری طرف گناہ اور نافرمانی ترک کرکے رجوع کیا۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے عذابی اصیب الخ کہ مجھ میں وصف غضب بھی ہے جس کو چاہوں اس میں مبتلا کروں اور میری رحمت اس سے بھی بڑھ کر ہے۔
Ayah 7:156ترکیب : الذین الخ یہ جملہ محلا مجرور ہے کیونکہ صفت ہے للذین مجرور کی اور مبتدا بھی ہوسکتا ہے اور اس کی خبر یامرھم یا اولئک ھم المفلحون ہے النبی الامی الذی الرسول کی صفت مکتوبا حال ہے یجدونہ کی ضمیر سے والمراد یجدون اسمہ عندہم مکتوبا یا یجدون سے متعلق ہے یامرھم اور ینھہم اور یحل اور یحرم اور یضع سب جملہ حال ہیں النبی سے یا مستانفہ ہیں فالذین مبتدا آمنوا وعزروا ونصروا واتبعوا اس کے صلہ اولئک الخ خبر۔
تفسیر : موجودات میں سے کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس کو میری رحمت گھیرے ہوئے نہ ہو۔ ادنیٰ مرتبہ وجود ایک ایسی نعمت عام ہے جس سے کوئی شے بھی محروم نہیں مگر اس کے بعد جو اور صدہا نعمتیں ہیں ان کا تو کوئی حساب ہی نہیں علاوہ اس کے بالذات اس کے نزدیک کوئی چیز مبغوض نہیں۔ اگر اس کو نفرت ہے تو بالعرض بندوں کے برے افعال پر۔ اے موسیٰ بنی اسرائیل اور نسل ابراہیم کو اس رحمت خاصہ سے کہ جس کا تو اپنی قوم کے لئے سوال کر رہا ہے کچھ خصوصیت نہیں بلکہ اس رحمت کو میں ان لوگوں کے لئے لکھتا ہوں کہ جو یتقون ویؤتون الزکوٰۃ الخ یعنی جن لوگوں میں یہ اوصاف مذکورہ ذیل پائے جاتے ہیں وہ اس رحمت سرمدی کے مستحق ہیں۔ واضح ہو کہ احکامِ الٰہی جو بندے کی سعادت کا ذریعہ ہیں دو قسم کے ہیں۔ اول ترک کرنا یعنی جو باتیں اس کے حق میں بری ہوں اور جن کا اثر بد اس کی روح پر پہنچتا ہو ان کو چھوڑدینا ان سے بچنا الگ رہنا جیسا کہ زنا ٗ چوری ٗ تکبر ٗ حسد ٗ قتل ناحق ‘ خیانت ‘ دغا بازی ‘ جھوٹ بولنا ‘ ناپاک چیزوں کا کھانا ‘ ماں باپ سے بدسلوکی ‘ کرنا اقارب اور دوستوں سے برائی کرنا وغیرہ سو ان کی طرف اجمالاً اس لفظ میں اشارہ کردیا یتقون یعنی جو تقویٰ کرتے ہیں بری باتوں سے باز رہنے ہیں۔ دوم : کرنا یعنی اچھی باتوں کو عمل میں لانا پھر عمدہ کاموں کی دونوع ہیں۔ نوع اول وہ جو مال سے متعلق ہیں صدقہ و خیرات اقارب کے ساتھ نیک سلوک اس کو یؤتون الزکوٰۃ میں بیان فرمایا۔ اگر سب برو احسان کے کاموں میں مال صرف نہ کرسکے تو چالیسواں حصہ جس کو زکوٰۃِ شرعی کہتے ہیں ادا کرنا تو پر ضرور ہے۔ اسی لئے بعض علماء نے زکوٰۃ سے مراد اس جگہ زکوٰۃ فرض لی ہے۔ نوع دوم وہ افعال جو اس کی ذات سے متعلق ہیں۔ پھر ان کی بھی دو قسم ہیں۔ اول وہ جو قوت نظریہ یعنی علم سے متعلق ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ اور قیامت و
رسولوں پر ایمان لانا۔ دوم وہ جو قوت عملیہ سے متعلق ہیں۔ سجدہ کرنا ‘ روزہ رکھنا وغیرہ ذلک ان دونوں قسموں کی طرف والذین ھم بایاتنا یؤمنون میں اشارہ ہے۔ نظریات تو ظاہر ہیں باقی عملیات اس سے اس طرح پر سمجھے جاتے ہیں کہ جب کوئی شے پائی جاتی ہے تو اس کا مقتضیٰ بھی پایا جاتا ہے اور آیات الٰہی پر ایمان لانے کا مقتضٰی یہی ہے کہ اعمال صالحہ بھی کرے کس لئے کہ ایمان کامل کے اندر تینوں باتیں ہونی چاہییں۔ تصدیق بالجنان ‘ اقرار باللسان ‘ عمل بالارکان (اعضائ) ۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرماتا ہے کہ اے موسیٰ ! جس رحمت خاصہ کا تو خواستگار ہے تیرے عہد میں تو یہ اس شخص کو حاصل ہوگی جس میں اوصاف مذکورہ بالا ہوں گے اور نبی آخر الزماں کے عہد میں یہ اس کو نصیب ہوگی کہ جو نبی امی پر ایمان لائے گا اور ان کا اتباع کرے گا تاکہ فلاح نصیب ہو ورنہ اس کا تقویٰ اور زکوٰۃ دینا کافی نہ ہوگا۔ اس جگہ نبی آخر الزماں کی موسیٰ (علیہ السلام) سے نو صفتیں بیان فرمائیں۔ (1) وہ رسول ہوگا (2) نبی ہوگا۔ رسول کے بعد نبی کا ذکر کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عام طور کا رسول نہ ہوگا بلکہ رسولوں میں نبی ہوگا۔ جس طرح سادات کے سردار کو شیخ السادات کہتے ہیں یا کہتے ہیں بادشاہوں کا سردار اور اس میں یہ بھی رمز ہے کہ رسالت میں شان توجہ الی المخلوق اور نبوت میں شان توجہ الی الخالق غالب ہوتی ہے یا بالعکس (3) باوجود اس رسالت اور نبوت کے وہ امی 1 ؎ ہوگا۔ علوم سمیہ اور نوشتخواند رسمیہ حاصل نہ کی ہوگی مگر باوجود اس کے تمام علم الاولین و الآخرین کا سرچشمہ ہوگا حقیقت میں یہ ایک بڑا ظاہر معجزہ ہے اور آنحضرت ﷺ کی علامت خاص ہے (4) کہ یہ لوگ اس نبی کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاویں گے۔ یہ ظاہر ہے کہ یہود و نصاریٰ کی دینی کتابوں میں کہ جن کو وہ توریت و انجیل سمجھتے تھے اگر آنحضرت ﷺ کا نام پاک نہ ہوتا تو آپ کو الزام دیتے اور آپ بھی باوجود خواستگاری ایمان قبول کرنے کے افترا نہ باندھتے جو باعث نفرت و بد اعتقادی ہوتا۔ اس وقت یہود و نصاریٰ کا اس امر میں الزام نہ دینا اور گردن نیچے جھکا لینا بغیر اس کے ممکن نہ تھا کہ یہود و نصاریٰ کے پاس تورات و انجیل میں آنحضرت ﷺ کا نام پاک اور صفات اور مولد سب کچھ لکھا ہوا تھا۔ جیسا کہ اس وقت کے بہت سے علمائِ اہل کتاب کے اقرار اور شہادت سے ثابت ہوا ہے اور جب کہ انبیائِ بنی اسرائیل نے اور شلیم اور شام اور بیت المقدس کی بابت چھوٹے چھوٹے حوادث کی خبر دی تو کیا اس عظیم حادثہ کی کوئی بھی خبر نہ دیتا کہ سینکڑوں برسوں تک شام اور بیت المقدس کے در و دیوار سے اسلام جلوہ گر ہے اور رہے گا۔ پس ضرور خبر ہوگی حالانکہ آج کل ہم کو اس توریت و انجیل میں آنحضرت ﷺ کا نام پاک اور صفات نہیں ملتے جس سے معلوم ہوا کہ انہوں نے تحریف کردی یا وہ اصل کتاب مفقود ہوگئی مگر آفتاب کہیں فانوس میں چھپ سکتا یا اس پر کوئی چادر کا پردہ ڈال سکتا ہے ؟ دیکھو آج کل کی توریت سفر استثناء باب 18 اور انجیل یوحنا باب 14 اور دیگر صحائف سے آنحضرت ﷺ کے بشارات کس قدر جلوہ گر ہیں۔ انجیل مذکور کے مقام مذکور میں اور انجیل برنباس میں اس وقت تک آنحضرت ﷺ کا نام لکھا ہوا ہے اور لفظ فارقلیط کہ جو لفظ احمد کا ترجمہ ہے قدیم نسخوں میں صاف موجود ہے اور اس بحث کو ہم بارہا بحوالہ کتب مسلمہ اہل کتاب ثابت کرچکے ہیں۔ (5) یہ کہ وہ لوگوں کو نیک باتیں تعلیم کرے گا۔ (6) یہ کہ وہ بری باتوں سے منع کرے گا اس میں کوئی مؤرخ شک نہیں کرتا کہ عہد آدم سے لے کر جس قدر آنحضرت ﷺ کے وعظ و پند نے دنیا میں اثر کیا۔ عالم تاریک کو
1 ؎ ای بضم ہمزہ منسوب بطرف ام یعنی اصل اعنی یہ شخص جس اصل فطرت پر پیدا ہوا ہے اس پر قائم ہے یا امۃ عرب کی طرف منسوب ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے نحن امۃ امیۃ لانکتب ولانحسب۔ یا ام القری مکہ کی طرف منسوب ہیں اور بفتح ہمزہ بھی آیا ہے بمعنی قصد کیونکہ آپ مقصود ہیں مگر باوجود اس کے آپ کو خدا تعالیٰ نے وہ علوم عطا کئے تھے جو کسی کو بھی نہیں دیے گئے۔ پھر آپ کو امی کہنا اور یہود سے پوچھنے کا محتاج ثابت کرنا جیسا کہ بعض خفیہ کر سٹین لکھ چکے ہیں ٗ صریح کفر ہے۔ 12 منہ
منور کردیا بت پرستی کی جڑ کاٹ دی۔ درندوں کو ملکی صفات بنا دیا۔ ایسا کسی کے وعظ نے اثر نہیں کیا۔ پھر اس سے بڑھ کر اور کونسی دلیل نبوت کی ہوگی (مثلاً کوئی کاتب ہونے کا دعویٰ کرکے نہایت عمدہ لکھ کر دکھاوے تو اب بجز کوڑ ھ مغز کے اور کون اس کے کاتب بلکہ خوش نویس ہونے میں شک کرسکتا ہے۔ اس کا کمال ہی اس کی دلیل ہے ع آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ (7) لوگوں کے لئے پاک اور ستھری چیزیں حلال کرے گا (8) ناپاک اور گندی چیزیں حرام کرے گا یعنی اس کی شریعت عقل سلیم کے فطرتی اصول پر مبنی ہوگی۔ اہل عقول صافیہ کو آپ کی شریعت کے تسلیم کرنے میں ذرا بھی تردد نہ ہوگا۔ ہر بات حکمت پر مبنی دیکھ کر (9) وہ بنی اسرائیل پر احکام سخت شریعت موسویہ کے بارگراں اور طوق ان کے گلوں میں پڑے ہوئے ہوں گے۔ سب اتار دے گا اور شریعت موسویہ کی سختی دیکھنی منظور ہو تو توریت موجودہ میں سے سفر احبارو سفر خروج و عدد دیکھے تو معلوم کرلے گا کہ بنی اسرائیل کی گردنوں پر کیسے بھاری طوق ڈال کر ان کو مسخر کیا تھا۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ پھر جو کوئی اس رسول اور اس کی کتاب پر جو نور ہے ایمان لائے گا اور رسول کی عزت و مدد کرے گا تو فلاح پائے گا۔
Ayah 7:1571 ؎ بار گراں وہ سخت احکام ہیں کہ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں اہل کتاب کے لئے تھے اور اسی طرح طوق وہ اس کی نافرمانی کی پھٹکاریں ہیں جو وقتاً فوقتاً ان کے گلوں میں ڈالی گئیں۔ ان سب باتوں کو رسول امی یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اپنی امت سے دور کردیں گے۔ 12 منہ
Ayahs 7:158–159ترکیب : جمیعا حال ہے الیکم سے الذی الخ جملہ صفت ہے اللّٰہ کی جو مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہے امۃ موصوف یہدون ویعدلون صفت مجموعۃ مبتداء مؤخر من قوم موسیٰ خبر مقدم۔
تفسیر : موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب میں فرمایا تھا کہ میں اس رحمت خاصہ کو متقیوں کے لئے مقرر کرتا ہوں۔ شرط یہ قرار پائی تھی کہ وہ نبی آخر الزماں (علیہ السلام) کا بھی اتباع کریں کہ جس کا لقب نبی امی ہے۔ اب اس جگہ آنحضرت ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اس عہد کے مطابق سب بنی آدم کو خبر دیجئے کہ وہ نبی امی جس پر ایمان لانے پر حصول رحمت کا مدار ہے ‘ میں ہی ہوں میں تم سب کی طرف ہو کر آیا ہوں سو تم ایمان لاؤ اور اتباع کرو الیکم جمیعًا جمہور اہل اسلام اس آیت سے یہ بات کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ تمام عالم کے لیے نبی ہیں۔ دنیا میں آپ کے ظہور کے بعد بموجب اس وعدے کے جو کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوا کسی کی کوئی اطاعت قابل پذیرائی نہ ہوگی جب تک کہ وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ لائے گا جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا ہے کہ کوئی یہودی یا نصرانی میری خبر پا کر جو مجھ پر ایمان نہ لائے گا جہنم میں جائے گا۔ رواہ مسلم۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جن لوگوں کو آنحضرت ﷺ کی خبر نہ پہنچی تو وہ معذور ہیں بشرطیکہ توحید پر قائم ہوں یہاں سے یہود و نصاریٰ کا قول باطل ہوا جو کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ عرب کے نبی ہیں۔ یہ نبوت عامہ بھی آنحضرت ﷺ کا خاص حصہ ہے۔ الذی لہ ملک السموات الخ یہ دعویٰ چونکہ بڑا بھاری دعویٰ ہے اس لئے اول تو اس کا امکان ثابت کیا مگر یہ ثبوت تین باتوں پر موقوف تھا : اول یہ کہ اس جہان کا کوئی مالک و متصرف بھی ہو کیونکہ اگر خدا نہیں تو پھر اس کی طرف سے پیغام کیسا اور پیغمبری کیا ؟ اس لئے اس بات کو الذی لہ ملک السموات والارض میں ثابت کیا کہ آسمانوں اور زمین کے حالات و تصرفات میں نظر کرنے سے یہ تو ہر اہل عقل ماشا ہے کہ ضرور کوئی ان کا بنانے والا ہے جس کی ان پر بادشاہت ہے۔ دوم یہ کہ وہ آسمانوں اور زمین کا مالک ایک شخص ہو کیونکہ اگر کئی ہوں تو ممکن ہے کہ یہ رسول جو ایک خدا کی عبادت کا حکم دیتا ہے دوسرے خدا کا بندہ ہو اور یہ احکام اس کی مرضی کے برخلاف ہوں۔ اس بات کو لا الہ الا ھو میں ثابت کیا۔ سوم یہ کہ عالم حشر و نشر بھی ہو جہاں رسول کی اطاعت و نافرمانی کا ثمرہ ظاہر ہوتا ہو کیونکہ اگر یہ نہیں تو مرنے کے بعد نیست ہوگئی رسول کو ماننا تو کیا ملا اور نہ مانا تو کیا گیا اس لئے اس بات کو یحییٰ ویمیت میں ثابت کیا جو یہاں زندہ کرتا ہے وہ کیا دوبارہ نہیں کرسکتا ؟
اس کے بعد آنحضرت ﷺ کے رسول برحق ہونے کے دلائل کی طرف اشارہ کرتا ہے نبوت کا ثبوت معجزات سے ہے سو آنحضرت ﷺ کے معجزات دو قسم پر ہیں ایک وہ جو آپ کی ذات کریم میں ودیعت رکھے گئے ہیں وہ بہت سے ہیں۔ ازانجملہ آپ کا امی ہو کر تمام الہیہ مبدؤ معاد و احکام و قصص انبیائِ سابقین کا بیان کرنا اس کی طرف رسول النبی الامی میں اشارہ ہے اور اس میں اس وعدہ کی طرف بھی اشارہ ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوا جس کا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت کو اعلان کیا جیسا کہ سفر استثنیٰ میں ہے۔ دوم : وہ جو خارق عادت باتیں آپ سے سرزد ہوئیں جیسا کہ چاند کا شق کرنا ‘ انگلیوں سے پانی کا چشمہ جاری ہونا ‘ جن کو کلمات الہٰی کہا جاتا ہے ان کی طرف یؤمن باللّٰہ و کلماتہٖ میں اشارہ مع لحاظ تقدیم اہم بالذات ایمان باللہ کے ہے۔ اس کے بعد اتبعوہ فرمانا کلام کو مدلل کرکے نتیجہ نکالنا ہے۔ پھر بنی اسرائیل کی طرف التفات کرتا ہے کہ ان میں سے بعض حق پرست اور منصف بھی ہیں جیسا کہ عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ سو انہوں نے بےتردد اس رسول کو مان لیا۔
Ayah 7:160ترکیب : قطعنا بمعنی صیّرنا تب اثنتی عشرۃ ممیز اسباطا تمیز بلکہ بدل لانہ جمع امما دوسرا بدل مجموعہ مفعول ثانی ورنہ تقدیر یوں ہوگی فرقنا ہم فرقا۔ ان اضرب ان مصدریہ بھی ہوسکتا ہے اس تقدیر پر یہ مفعول اوحینا ہوگا اور بمعنی اے بھی ہوسکتا ہے۔ تب یہ اوحینا کی تفسیر ہوگی۔ اثنتا عشرۃ ممیز عینا تمیز یہ انبجست کا فاعل منہ اس سے متعلق انفسہم منصوب ہے یظلمون سے الا بنجاس الانفجار والاسباط جمع السبط ہو ولدالولد والمراد بھا القبائل۔
تفسیر : یہاں بنی اسرائیل پر جو کچھ اس نے ان بیابانوں میں انعام و عنایت کی ان کا ذکر فرماتا ہے کہ باوجودیکہ انہوں نے قلزم کا معجزہ دیکھا جس میں ان پر بڑی عنایت تھی کہ ان کو اس سمندر کی کھاڑی سے خشک نکال دیا اور ان کے مخالف اور دشمن کو ان کی آنکھوں کے روبرو مع فوج و حشم غرق کیا مگر پھر پاراتر کر موسیٰ ( علیہ السلام) سے ایک اور معبود کی استدعا کی اور پھر اس کی غیبت میں جبکہ وہ کوہ سینا پر چالیس روز غائب رہے تو سونے کا بچھڑا بنا کر پوجا مگر اس کے بعد بھی ہم نے ان پر یہ عنایت کی اور اس پر وہ دن بدن یہ نافرمانیاں اور سرکشیاں کرتے تھے۔
یہ واقعات کوہ سینا سے کوچ کرنے کے بعد ظہور میں آئے تھے۔ اس تمام قصہ کی تفصیل سورة بقرہ میں بضمن تاریخ بنی اسرائیل بیان ہوچکی ہے۔ وقطعناھم یعنی انتظام بنی اسرائیل کے لئے ہم نے ان کے بارہ فرقے مقرر کردیے۔ ہر ایک کو اسباط کہتے تھے۔ یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے ان میں سے ہر ایک کی اولاد ایک سبط جداگانہ تھا۔
واوحینا الٰی موسیٰ یہ ایک بیابان کا ذکر ہے جہاں کہ بنی اسرائیل نے اپنے خیمہ قائم کئے اور وہاں پانی نہ تھا نہ کوئی دریا تھا نہ چشمہ نہ کنواں نہ تالاب۔ لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کی درخواست کی تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کہ اس پتھر پر اپنا عصا مار جس سے اس میں سے بارہ چشمے بہنے لگے جس میں سے ہر ایک سبط نے جدا گھاٹ مقرر کر کے پانی پیا۔ یہ بات ان بیابانوں میں دو ایک بار وقوع میں آئی۔ یہ نہیں کہ ہمیشہ اسی پتھر میں سے پانی پیا کرتے تھے اور اس کا بھی قرآن سے کچھ ثبوت نہیں کہ بنی اسرائیل اس پتھر کو ساتھ ساتھ لادے پھرتے تھے اور یہ کہ وہ یہ پتھر تھا جو موسیٰ کے کپڑے لے کر بھاگا تھا۔ وظللنا علیہم الغمامۃ ان بیابانوں میں سایہ دار درخت اور سایہ کا تمام قوم کے لئے سامان بھی کم تھا۔ لوگوں کو سخت تکلیف تھی۔ اس لئے خدا نے ان پر ابر قائم کردیا کہ اس کا خیمہ ان کے ساتھ رہتا تھا وانزلنا علیہم المن و السَّلٰوی جب خدا نے اس بیابان میں پانی اور قدرتی سائبان عطا کیا تھا تو وہاں نہ کھیتی ہوتی تھی نہ اناج بہم پہنچ سکتا تھا۔ ان کے کھانے کے لئے من وسلویٰ بھیجا جس کی تفسیر سورة بقرہ میں ہوچکی مگر اس پر بھی بنی اسرائیل کانوا انفسہم یظلمون اپنی ہی جانوں پر ستم ڈھاتے تھے جو نافرمانی پر نافرمانی کرتے تھے۔
Ayahs 7:161–162ترکیب : قیل سے لھم متعلق ہے اسکنوا الخ جملہ مفعول مالم یسم فاعلہ ھذہ القریۃ صفت و موصوف مفعول فیہ حطۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای امرنا حطۃ سجدا حال ہے ادخلوا کے فاعل سے نغفر مجذوم ہے جواب امر کی وجہ سے قولا بدل کا مفعول موصوف غیر الذی صفت یا حال قیل کا مفعول مالم یسم فاعلہ ضمیر ہے جو الذی کی طرف راجع ہے۔
تفسیر : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کا قصہ ہے ان کے خلیفہ یوشع بن نون کا جبکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ملک شام میں پہنچے اور یرون ندی کو عبور کیا۔ اس قریہ سے مراد شہر بریکو ہے جس کو اریحا بھی کہتے ہیں۔ یہ شہر یروشلم سے بیس میل اور دریائے یرون سے 9 یا 7 میل کے فاصلہ پر آباد تھا۔ اب اس جگہ یا اس کے متصل ایک چھوٹا سا قصبہ آباد ہے جس میں اعراب یعنی بدوی لوگ اکثر رہتے ہیں۔ اس شہر پر بنی اسرائیل سے اور کنعانیوں سے بڑی لڑائی ہوئی اور آخر بنی اسرائیل نے فتح پائی اور شہر کو غارت کردیا۔
اسی شہر کے اس واقعہ کا خدا تعالیٰ یہاں ذکر فرماتا ہے کہ ان سے یعنی بنی اسرائیل سے کہا گیا (غالباً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وصیت کی ہوگی کہ جب تم اس شہر میں گھسو تو اس کے پھاٹکوں میں سے سجدہ یعنی سرنگوئی اور فروتنی کرتے اور خدا سے اپنے جرموں کی جو تم نے میرے روبرو کئے ہیں معافی مانگتے گھسنا تاکہ ملک شام میں ہمیشہ تم پر خدا کی نظر عنایت رہے اور تمہارے دشمن مغلوب رہیں یا خاص اسی وقت یوشع نے حکم دیا ہوگا) مگر یہ جو وہاں پہنچے تو بجائے عاجزی اور فروتنی کے اترانے لگے اور وہاں کی لوٹ چھپانے لگے جس کا چھپانا ان پر سخت جرم تھا اصلی حکم کو بدل دیا اس لئے ان پر آسمانی بلا نازل ہوئی یعنی عی کے لوگوں نے بنی اسرائیل کو شکست دے کر ان کے لوگوں کو قتل کیا۔ یہ واقعہ کتاب یوشع کے 77 باب میں کسی قدر مذکور ہے۔ تب یوشع اور سارے اسرائیلی بزرگوں نے کپڑے پھاڑے اور خداوند کے عہد کے صندوق کے آگے شام تک پڑے رہے اور اپنے سروں پر خاک دھری اور یوشع بولا ٗہائے اے خداوند مالک ! تو اس قوم کو کس لئے یرون پار لایا الخ تب خداوند نے فرمایا ٗ اٹھ کھڑا ہو۔ کس لئے یوں اوندھا پڑا ہے ؟ بنی اسرائیل نے گناہ کیا اور انہوں نے اس عہد سے جس کی بابت میں نے ان کو حکم دیا عدول کیا کیونکہ انہوں نے حرام چیزوں میں سے بھی کچھ لیا اور چوری بھی کی اور ریاکاری بھی کی اور اپنے اسباب میں ملا بھی لیا اس لئے وہ دشمنوں کے مقابلہ میں ٹھہر نہ سکے ٗ لعنتی ہوئے۔
Ayahs 7:163–166ترکیب : اذیعدون حاضرۃ کا ظرف بھی ہوسکتا ہے یہ اصل یعتدون تھا اب اس کو مخفف بھی پڑھ سکتے ہیں اور مشدّد بھی۔ اذ تاتیہم ظرف ہے یعدون کا حیتان جمع حوت و کو ی سے بدل دیا گیا۔ شرعًا حال ہے حیتانہم سے یوم لایسبتون ظرف ہے لاتاتیہم کا معذرۃ مفعول ہے ای وعظنا للمعذرۃ۔
تفسیر : یہ قصہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے عہد میں گذرا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت بعد جبکہ بنی اسرائیل ملک شام میں آگئے اور یہاں کی سلطنت ان کی قوم میں ایک عرصہ سے قائم ہوگئی۔ یہ قصہ بھی سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔
عن القریۃ اس قریہ سے مراد وہ گائوں ہے جہاں یہ واقعہ گذرا ہے جس کو علما مؤرخین ایلہ کہتے ہیں اور اس گائوں سے سوال کرنے سے مراد ان لوگوں کے حال سے سوال نہ کرنا ہے اور سوال کس سے کرے ؟ بنی اسرائیل یعنی یہود سے جو آنحضرت ﷺ سے مقابل تھے اور سوال کرنے کا جو حضرت کو حکم دیا تو یہ کوئی فرض واجب کے طور پر نہیں بلکہ واسئلہم الخ سے مقصود یہ ہے کہ یہ واقعہ یہود کو بخوبی معلوم ہے۔ اس کا تواتر ان کے ہاں چلا آتا ہے خواہ ان سے پوچھ دیکھ وہ ہرگز انکار نہ کریں گے نہ یہ کہ آپ ضرور ان کے پاس جا کر پوچھئے جس کے مطابق آپ پوچھنے بھی گئے ہوں بلکہ آپ کو خود یقین تھا ٗ پوچھنے کی کیا ضرورت۔ یہ ایک محاورہ کی بات ہے جس سے مقصود یہ کہ مخاطب کو بھی اس بات کا اقرار ہے اور غرض اس قصہ سے یہود کی پشتینی سرکشی ظاہر کرنا ہے جو وہ آنحضرت ﷺ سے بھی برسر پرخاش تھے۔ خلاصہ اس قصہ کا یہ ہے کہ یہود پر سبت یعنی ہفتہ کے روز شکار اور دنیاوی کاروبار کی سخت ممانعت تھی۔ اس گائوں کے لوگ سمندر کے کنارے بستے تھے پانی کی نالیاں مچھلیاں آنے کے لئے کھود رکھی تھیں سو ہفتہ کے روز مچھلیاں آتیں اور دنوں میں نہ آتیں۔ انہوں نے ہفتہ کے روز شکار کرنا شروع کیا۔ بعض لوگوں نے منع کیا اور بعض نے کہا ان لوگوں پر کوئی بلا آیا چاہیے منع کرنے سے یہ نہ مانیں گے۔ انہوں نے کہا بیشک مگر ہم تو بری الذمہ ہوجاویں۔ آخر جب کھلم کھلا سرکش ہوگئے تو ان کے چہروں میں اس قسم کا ورم ہوا جس سے بندروں کی شکل معلوم ہونے لگی۔ آخر اسی میں تین روز بعد مرگئے۔
Ayahs 7:167–168ترکیب : تاذن بمعنی اذن ای اعلم الی یوم القیامۃ تاذن سے متعلق سوء العذاب مصدر مضاف ہے۔ امما مفعول ثانی ہے یا حال ہے منہم الصالحون امم کی صفت یا بدل دون ذلک ظرف یا خبر ورثوا الکتاب صفت ہے خلف کی یاخذون حال ہے ضمیر ورثوا سے درسوا معطوف ہے ورثوا پر الم یؤخذ جملہ معترضہ ہے میثاق الکتاب مفعول مالم یسم فاعلہ یؤخذ کا۔ ان لا یقولوا الخ تفسیر ہے میثاق کی والدار الاخرۃ مبتداء خیر الخ والذین مبتداء واقاموا اس پر معطوف انا لا نضیع خبر۔
تفسیر : ان خوفناک واقعات سننے کے بعد یہودی یہ خیال کرتے تھے کہ یہ جو کچھ ہوا ہم سے پہلے لوگوں پر ہوا ٗ ہم پر نہ ہوگا بلکہ ہم سے خدا تعالیٰ کا عہد ہے کہ ہم کو اب تک برومند کرے گا۔ اس خیال فاسد کو دفع کرتا ہے کہ یہ عہد نیکوں اور انبیاء کے فرمانبرداروں کی نسبت ہے نہ کہ بدکاروں کے لئے کیونکہ واذ یاد کرو جس وقت کہ تاذن ربک الخ خدا تعالیٰ نے انبیائِ بنی اسرائیل کی معرفت یہ اعلان کردیا تھا کہ اگر تم بدی کرو گے تو وہ ابد تک تم کو تمہارے دشمنوں کے ہاتھوں میں دے دے گا جو تم کو سخت تکلیف میں مبتلا رکھیں گے۔ چناچہ سفر استثناء کے گیارہویں باب 26 درس میں اور نیز 8 باب درس 19 میں موجود ہے مگر بنی اسرائیل نے بدکاری کی اس لئے دائود (علیہ السلام) کے بعد سے جو ان پر دشمن مسلط ہونے شروع ہوئے تو آج تک ہیں کبھی بابل اور نینوہ کے بادشاہوں نے بنی اسرائیل کو غلام بنایا کہیں شاہان مصر نے برباد کیا۔ پھر سکندر اعظم کے عہد سے لے کر آج تک یہودی محکوم و اسیر چلے آتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ان پر قہر الٰہی کا بھڑک اٹھتا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں سے سخت سخت اذیتیں پاتے ہیں پھر اس کے ساتھ ہی یہ فرماتا ہے کہ سب بنی اسرائیل برابر نہ تھے وقطعناھم الخ ان میں نیک بھی تھے اور بد بھی مگر اس کے بعد تو اکثر ناخلف وارث ومالک کتاب یعنی تورات کے بن گئے جو لوگوں سے دینی امور میں رشوت لیتے اور کہتے ہیں کہ خدا معاف کرے گا مگر آیندہ بھی وہی قصد رکھتے ہیں یعنی باوجود اس لفافہ کی توبہ کے اگر پھر کوئی دے تو لینے کو موجود باوجود یکہ ان سے عہد لیا گیا تھا کہ حق بیان کرنا مگر اب اپنی دنیاوی آمدنی فوت ہونے کے خوف سے امر حق یعنی حضرت ﷺ کی خبر کو چھپاتے ہیں اور آخرت کو دنیا کے بدلے میں کھو بیٹھے حالانکہ دنیا سے آخرت کا گھر بہتر ہے جہاں سدا رہنا ہے لیکن یہ احمق سمجھتے نہیں مگر اب بھی جو ان میں سے راہ راست پر قائم ہیں ہم ان کے اجرضائع نہ کریں گے۔ اس میں عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ خدا پرست اہل کتاب کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 7:169–1701 ؎ یعنی توریت میں عہد نہیں لیا ہے کہ سچ ہی کہیں گے ‘ رشوت نہ لیں گے ٗ انصاف کریں گے۔ اس کو پڑھ چکے ہیں۔
Ayah 7:171ترکیب : الجبل مفعول ہے نتقنا بمعنی رفعنا کا اور فوقہم اس کا ظرف ہے وظنوا جملہ معترضہ یا معطوف ہے نتقنا پر یا حال انہ جملہ قائم مقام دو مفعولوں کے من ظہورھم بدل ہے بنی آدم سے بدل الاشتمال باعادۃ الجار ذریتہم اخذ کا مفعول الست بربکم بیان ہے اشہدھم کا ان تقولوا مفعول لہ ہے اشہد کا ای مخافۃ ان تقولوا اور اسی طرح او تقولہ جملہ محل تعلیل میں ہے۔
تفسیر : اس جملہ معترضہ کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد کا یہ واقعہ جو کوہ سینا کے پاس گذرا تھا۔ یہ بات بتلانے کے لئے بیان کرتا ہے کہ بنی اسرائیل سے ان کے سر پر پہاڑ اٹھا کر عہد لیا گیا تھا۔ اس پر بھی وہ اس عہد کے پابند نہ رہے۔ یہ قصہ بڑی تفصیل کے ساتھ تاریخ بنی اسرائیل میں تفسیر سورة بقرہ کے ذیل میں بیان ہوچکا اعادہ کی ضرورت نہیں۔
واذاخذربک من بنی آدم الخ چونکہ بنی اسرائیل سے عہد لینے کا ذکر آیا تھا اس لئے مناسب ہوا کہ بلاخصوصیت بنی اسرائیل اپنے اس عہد کو بھی یاد دلائے جو اس نے تمام بنی آدم سے لیا ہے تاکہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ عہد الٰہی کی پابندی صرف بنی اسرائیل پر ہے۔
2 ؎ یعنی توریت اور اس کے احکام۔ 12 منہ
Ayah 7:172اس عہد کی تفسیر میں علماء کے دو قول ہیں :
عہد الست کی تحقیق : اول جمہور مفسرین اہل سنت کا ہے کہ یہ عہد حضرت آدم (علیہ السلام) کی تمام ذریت سے جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی۔ اس طور سے لیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے آدم کی پشت سے تمام اولاد کو نکالا جو چیونٹیوں کی طرح سے نکل پڑے۔ پھر ان کو عقل اور گویائی عطا کرکے کہا کہ الست بربکم کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں۔ سب نے کہا بلی ٗ کیوں نہیں۔ پھر فرمایا کہ میں تم پر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین اور تمہارے باپ آدم کو گواہ کرتا ہوں تاکہ تم قیامت کو یہ نہ کہو کہ ہم کو خبر نہ تھی۔ تم کو معلوم رہے کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں تم میرا کسی کو بھی شریک نہ بنانا میں تمہارے پاس اس عہد کو یاد دلانے کے لئے اپنے رسول بھیجوں گا اور کتابیں نازل کروں گا ٗ وہ تم کو میرا عہد یاد دلائیں گے۔ سب نے اقرار کیا اور کہا ہم گواہ ہیں کہ تو ہی ہمارا رب اور معبود ہے۔ تیرے سوا اور کوئی نہ معبود ہے نہ رب ہے۔ سب نے اقرار کرلیا ( رواہ احمد) اس مضمون کو آنحضرت ﷺ سے چند صحابہ نے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ چناچہ ابن عباس اور ابی بن کعب ؓ سے امام احمد (رح) نے اس مضمون کو روایت کیا ہے اور وہ آنحضرت ﷺ سے نقل کرتے ہیں اور ابی ہریرہ ؓ نے بھی آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے جس کو ترمذی نے اپنی کتاب میں بیان کیا اور مسلم بن یسار کہتے ہیں کہ عمر بن الخطاب ؓ سے کسی نے اس آیت کے معنی پوچھے انہوں نے کہا آنحضرت ﷺ سے لوگوں نے پوچھا ٗ آپ نے اس میں یوں فرمایا۔ پھر یہی مضمون اخیر تک نقل کیا۔ کسی قدر کمی زیادتی کے ساتھ۔ اس کو مالک اور ترمذی اور ابو دائود نے روایت کیا ہے۔ اسی طرح سے اور بھی محدثین نے مختلف عنوان سے اس آیت کی تفسیر میں روایات بیان کی ہیں اور بڑے بڑے مفسرین اس پر متفق ہیں جیسا کہ سعید بن المسیب اور سعید بن جبیر اور ضحاک اور عکرمہ اور کلبی۔
دوسرا قول جمہور معتزلہ کا ہے وہ کہتے ہیں آیت کے صاف معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے بنی آدم کے ظہور یعنی پشتوں سے ان کی ذریت اس طرح سے نکالی کہ وہ نطفہ پشت آباء میں تھے۔ پھر اپنی مائوں کے رحم میں آئے۔ پھر ان کو علقہ پھر مضغہ پھر کامل الخلقۃ بنا کر نکالا پھر عقل و حواس عطا کیا جس سے وہ اس کے مصنوعات میں غور و فکر کرکے اس کی وحدانیت پر دلائل قائم کرنے کے قابل ہوئے۔ سو یہ دلائل گویا خدا کی طرف سے عہد اور خود ان کو اس بات پر گواہ بناتا ہے اور ان کی حالت احتیاج و حدوث گویا اس عہد کو تسلیم اور قبول کرتا ہے خدا تعالیٰ کا وہ دلائل پیدا کرنا گویا اقرار لینا اور اس کا اس حالت میں ہونا زبان حال سے اقرار کرلینا اور گواہ بننا ہے۔
اس عہد کی رو سے ہر عاقل توحید پر قائم رہنے کے لئے مامور ہے تاکہ کسی کو اس کے بعد یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے تھے ٗ وہی بری رسمیں جاری کرگئے تھے ہم ان کے بعد پیدا ہوئے ٗ انہیں کی پابندی کرتے رہے۔ اگر گناہ کیا تو انہوں نے ٗ قصور وار ہیں تو وہ ٗ کس لئے کہ ہر ایک شخص پر اس عہد کی پابندی ضرور ہے جب تم کو عقل و ادراک ہے تو کیوں ایسی باتوں میں جو تمہارے عہد خداوندی کے برخلاف ہیں ان جاہلوں کی پابندی کرتے ہو۔ دنیا میں خدا تعالیٰ کے رسول اسی عہد کو یاد دلانے کے لئے آئے ہیں۔
دلائل معتزلہ کے یہ ہیں اول یہ کہ من ظہورھم بدل ہے بنی آدم سے پس اس صورت میں آیت کے یہ معنی ہوئے کہ بنی آدم کی پشتوں سے ان کی ذریت نکال کر ان سے عہد لیا نہ کہ آدم کی پشت سے بلکہ آدم کا تو اس میں کچھ ذکر بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اگر آدم کی پشت سے ذریت نکالنا مراد ہوتا تو من ظہورھم نہ فرماتا بلکہ من ظہرہ کیونکہ آدم ایک شخص تھا جس کے لئے ضمیر مفرد چاہیے نہ کہ جمع اور انما اشرک آبائونا کہنا بھی ذریت آدم کی نسبت صادق آسکتا ہے نہ کہ آدم کی نسبت کیونکہ آدم کا کون باپ دادا مشرک تھا ؟
دوم عہد کسی اہل عقل و ادراک سے لیا جاتا ہے نہ کہ غیر اہل فہم و ادراک سے۔ پس اس وقت اولادِ آدم کو ضرور عقل و ادراک ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس وقت بھی ہم کو یاد ہونا چاہیے تھا حالانکہ کسی کو بھی یاد نہیں۔ علاوہ اس کے بنی آدم کروڑوں بلکہ ان گنت ہیں۔ پھر اس قدر لوگ آدم کی پشت سے چیونٹی کیا ذرہ سے بھی کم فرض کئے جاویں تو بھی نکل نہیں سکتے کیونکہ ان کے اجسام کا مجموعہ ایک پہاڑ ہونا چاہیے تھا جو دنیا کے تمام پہاڑوں سے بڑا ہو اور جو اب عالم وجود میں لوگ پیدا ہوئے ہیں ان کو ان ذرات کا عین کہا جاوے تو بھی ممکن نہیں کیونکہ عین تو کیا یہ ذرات ان انسانوں کے (جو اجسام مخلوق از مادہ منویہ ہیں) جزو بھی نہیں رہیں۔ احادیث سو وہ اخبار احاد ہیں جو نص قرآنی اور بداہۃً عقل کے مقابلہ میں قابل التفات نہیں۔
اہل سنت : ان دلائل کا یہ جواب دیتے ہیں۔ اما الاول فجوابہ مراد خدا تعالیٰ کی یہ ہے کہ سلسلہ وار ہر ایک بنی آدم کی پشت سے ان کی ذریت نکالی جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہے۔ مثلاً زید کو عمرو کی پشت سے اور عمرو کو اس کے باپ خالد کی علی ہذا القیاس تو لامحالہ اوپر کی طرف حضرت آدم پر سلسلہ منتہی ہوگا چونکہ سب کا مبتداء آدم ہیں تو گو صراحۃً آدم کی پشت سے نکلنا نہ کہا مگر جبکہ اس طرح سے ایک دوسرے سے نکلنا کہا تو گویا سب کا آدم کی پشت سے نکلنا کہا۔ اس غرض کے لئے من ظہر آدم نہ کہا بلکہ من ظہور ہم فرمایا اور اسی لئے انما اشرک آبائونا کہنا بھی بلحاظ مشرک نسلوں کے ان سلاسل میں سے صحیح ہوا۔ اما الثانی فجوابہ۔ واضح ہو کہ انسان درحقیقت نفس ناطقہ یا روح ہے اور گو حادث ہے مگر اجسام کے پیدا ہونے سے بہت پہلے سے ہے اور اس کا ادراک اس عالم حسی میں بذریعہ آلات جسمانیہ کے ہے اور دوسرے عالم میں ان کی کچھ احتیاج نہیں۔ جب یہ مقدمہ ممہد ہوچکا تو اخذ من ظہورھم کی تفسیر ہے کہ گو ارواح جو جواہر باقیہ اور نفوس صافیہ ہیں آدم کے حدوث میں ہم قدم ہیں مگر دنیا میں ظہور تربیتی ہونے کی وجہ سے سب کا آدم (علیہ السلام) پیش خیمہ ہیں سو خدا تعالیٰ نے جب آدم کو دنیا میں بھیجا تو ان کے ذریعہ سے تمام نفوس و ارواح کو جو دنیا میں ظاہر ہونے والے تھے اور ان کا ظہور جسم آدمی کے وسیلہ سے تھا۔ آدم کی پشت سے ترتیب وار نکالا۔ رہا ان کا چیونٹیوں کے مانند ہونا سو یہ تشبیہ ہے بلحاظ حالت اجمالیہ کے جو ان ارواح کو اس وقت عارض تھی اور اسی لئے یہ بھی آیا ہے کہ ان میں کچھ نورانی اور کچھ ظلمانی تھے یعنی اہل سعادت کی روحیں منور تھیں اور اہل شقاوت پر ازلی تاریکی تھی۔ سوہ دراصل اجسام عنصریہ نہ تھے کہ جن کا مجموعہ بڑے پہاڑ سے زیادہ فرض کرکے آدم کی پشت سے نکلنا محال خیال کیا جاوے۔ رہی یہ بات کہ پھر ہم کو وہ عہد کیوں یاد نہیں اور جب یاد نہیں تو ایسے وقت کے عہد سے فائدہ ہی کیا ہوا ؟ اس کا یہ جواب ہے کہ اس جسم سے جب تو نفوس متعلق کئے جاتے ہیں تو اس کے آثار اس پر فائض ہوتے ہیں اور اس عالم میں روح جو عالم قدس کا نام پروردہ طائر ہے جب جسم عنصری کے پنجرے میں بند ہوتا ہے تو وہاں کے حالات بالکل بھول جاتا ہے۔ اسی کی تدبیر و تصرف میں مصروف رہتا ہے اور اسی لئے خاص دنیا کے سینکڑوں معاملات ہم بھول جاتے ہیں۔ سو اس عہد کے تمسک کا یہ فائدہ ہے کہ جب انسان اس عالم میں جاوے گا اور حجاب جسمانی اٹھ جاوے گا تو اس کو اپنی اگلی پچھلی سب باتیں یاد آجاویں گی۔ سو یہ تمسک اس عدالت میں پیش کیا جاوے گا اور یہ عذر مسموع نہ ہوگا کہ دنیا میں ہم کو اس سے آگاہی نہ تھی کیونکہ انبیاء اور ان کے نائبین کہ جن میں سے ایک عقل سلیم بھی ہے اس کو یاد دلا چکے ہیں۔
اور جو مراد معتزلہ عہد سے لیتے ہیں وہ بھی ہمارے قول کے منافی نہیں علاوہ اس کے اخذ صیغہ ماضی تو ہمارے ہی قول کی تائید کرتا ہے۔ ہذا تحقیق المقام والعلم عند اللہ العلام۔
Ayahs 7:173–1743 ؎ جیسے بڑوں کو کرتے پایا ویسا ہم نے بھی کیا۔ 12 منہ