7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 7:38–41

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

فرمائے گا تم بھی اور امتوں میں مل کر جو تم سے پہلے گذر چکی ہیں جن اور انسان دوزخ میں جائو۔ جب ایک جماعت داخل ہوگی تو دوسری جماعت پر لعنت کرنے لگے گی یہاں تک کہ جب سب کے سب جہنم میں گر چکیں گے تو پچھلے پہلوں کو کہیں گے اے ہمارے رب انہوں ہی نے تو ہم کو گمراہ کیا تھا سو ان کو دوزخ کا دوچند عذاب دے۔ فرمائے گا ہر ایک کو دو چند ہے لیکن تم کو معلوم نہیں

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور پہلے پچھلوں کو کہیں گے کہ پھر تم کو ہم پر کیا فوقیت ہے سو تم بھی عذاب چکھو ( اور) اپنے کئے کا نتیجہ (پائو) ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے اکڑ کر بیٹھ گئے نہ تو ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ سوئی کے ناکہ میں اونٹ گھس جائے اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

کہ ان کے لئے آگ کا بچھونا ہوگا اور (اسی کا) اوپر سے اوڑھنا ہوگا اور ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

ادخلوا فی امم قد خلت من قبلکم الخ میں حشر کے روز کا واقعہ بیان فرماتا ہے کہ ان کے لئے حکم ہوگا کہ ان کو ان سے پہلے جو گمراہ امتیں گزریں ہیں ان کے ساتھ ملا کر جہنم میں داخل کرو یہاں تک کہ جب سب وہاں جا پڑیں گے تو پچھلے لوگ خدا تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے پروردگار ! ہم کو تو ان بڑے بزرگوں نے گمراہ کیا ہے بری رسمیں چلا گئے تھے ٗ ہم ان پر چلے۔ ان کو زیادہ عذاب دے۔ ان کے مقتدا کہیں گے کہ ان کو ہم پر کیا فوقیت ہے۔ یہ بھی گمراہی میں… شریک اور مساوی ہیں۔ انہوں نے ہمارا یوں اتباع کیا۔ حکم ہوگا کہ تم میں سے ہر ایک کو ہر آن زیادہ عذاب ہے تم کو معلوم نہیں کہ دوسرے فریق کو بھی ایسا ہی روز افزوں عذاب ہو رہا ہے۔ پچھلی آیتوں میں ان کی یہ امید بھی توڑ دی ہے کہ کبھی تو نجات ہوگی۔
Ayahs 7:42–43

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ حکم بھی نہیں دیتے وہی اہل جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہا کریں گے

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کی رنجشوں کو بھی ہم دور کردیں گے۔ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے سب تعریفیں اس اللہ کے لئے کہ جس نے ہم کو اس کی رہنمائی کی اور ہم تو کبھی راہ نہ پاتے اگر ہم کو اللہ ہدایت نہ کرتا۔ بیشک ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول دین (حق) لے کر آئے اور (وہاں) ان کو سنا دیا جاوے گا کہ تم اس جنت کے وارث کئے گئے ہو ان عملوں کی وجہ سے جو تم کیا کرتے تھے۔

ترکیب : والذین مبتداء اولئک الخ خبر لاتکلف جملہ معترضہ ما موصولہ مع صلہ مفعول نزعنا من غل اس کا بیان تجری الخ جملہ حال صدورھم کی ضمیر سے والعامل معنی الاضافۃ۔ وما کنا الخ جملہ حال ہے ان ھدانا بتاویل مصدر محل رفع میں ہے مبتداء ہو کر کس لئے کہ لولا کے بعد جو اسم واقع ہوا ہے وہ ایسا ہی ہوتا ہے ‘ جو اب لولا محذوف دلالت کرتا ہے اس پر لنہتدی ان تلکم ان مفسرہ ہے اور مخففہ بھی ہوسکتا ہے۔ تب اس کا اسم محذوف ہوگا اور اس کے بعد کا جملہ خیر ہوگا تقدیرہ ای نودوا انہ تلکم الجنۃ اول صورت میں بیان ہوگا نداء کا۔ تفسیر : جبکہ اہل شقاوت کا مآل کار بیان فرما چکا تو اس کے بعد اہل سعادت کا حال بیان فرماتا ہے گرچہ اول آیت میں اجمالاً ان کا کچھ حال بیان کیا تھا کہ لاخوف علیہم ولا ھم یحزنون جیسا کہ کافروں کا بھی اجمالاً حال کھول دیا تھا کہ اولئک اصحاب النارھم فیہا خلدون لیکن ہنوز کان مشتاق تھے کہ اصحاب النار اور اصحاب الجنہ کی کچھ اور بھی تفصیل فرمائی جاوے اس لئے کفار کے حال کی تفصیل فرما کر مومنوں کے حال کی تفصیل فرماتا ہے والذین آمنوا وعملوا الصلحت کہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے ہیں (اور چونکہ اچھے کاموں کا ذکر آیا تو اس کے ساتھ ہی جملہ معترضہ میں یہ بھی کہہ دیا کہ ہم کسی کو طاقت سے بڑھ کر تکلیف بھی نہیں دیتے یعنی جن اعمال صالحہ پر دارالخلد ملتا ہے وہ کچھ ایسے بھاری اور مشکل بھی نہیں) وہ اہل جنت ہیں اور یہ بات بھی نہیں کہ جنت میں سے نکالے جانے کا یا موت کا کھٹکا لگا ہو بلکہ ھم فیہا 1 ؎ خلدون کہ وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ حیات ابدی ان کو نصیب ہوگی اور یہ بات بھی نہ ہوگی کہ وہاں درجات متفاوتہ دیکھ کر کم رتبہ والے کو بڑے رتبہ والے پر رشک و حسد آوے اور پھر یہی کوفت قلبی اس کے تمام عیش کو سرد کر دے جیسا کہ دنیا میں بعض لوگوں کے پاس تندرستی ‘ فراخ دستی آرام کے سامان مہیا ہوتے ہیں مگر پھر بھی کسی کے حسد و رشک میں یا کسی کاوش میں ایسا مبتلا ہوتا ہے کہ اس کے یہ سب لذائذ اس کی آنکھوں میں ہیچ ہوجاتے ہیں اور وہ ان سے متمتع نہیں ہوسکتا۔ برخلاف عالم قدس کے کہ نزعنا مافی صدورھم من غل کہ ہم ان کے دلوں کو بھی اس خباثت سے پاک کردیں گے۔ کسی پر حسد 2 ؎ و رشک باہم کینہ و رنج کچھ نہ ہوگا۔ دنیا کی رنجشیں بھی دور ہوجاویں گی۔ تجری من تحتہم الانہار ان کے عمدہ اور نفیس باغوں اور محلوں سے نہریں بہتی ہوں گی۔ اس کے فضل و رحمت اور انواع مکاشفات اور ہر قسم کی سعادت روحانیہ کے چشمہ اور انہار ان کے قدموں کے تلے سے بہیں گے۔ ان ناز و نعم میں وہ ہمیشہ اللہ کی ستائش کیا کریں گے۔ وقالوا الحمدللّٰہ الذی ھدانا لھذا وماکنا لنہتدی لولا ان ھدانا اللہ الخ کہ سب طرح کی ستائش اس اللہ کے لئے ہے کہ جس نے ہم کو اس کی رہنمائی کی یعنی ہمارے دل میں راہ راست کی طرف خواہش پیدا کی جو ہم کو اس دارالخلد میں لایا۔ انبیاء جنت کی سیدھی سڑک ہے۔ جنت میں وہ تمام نعمائِ الٰہی دیکھ کر جن کی رسولوں نے خبر دی تھی تصدیق کریں گے اور کہیں گے کہ خدا کے فرستادوں نے جو کچھ کہا تھا سب حق ہے۔ پھر وہاں منادی آواز دے کر کہے گا کہ یہ جنت تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو اس نے اپنے فضل سے تمہارے اعمال پر مرتب کیا۔ اللہم ارزقنا الجنۃ بلا حساب 1 ؎ یعنی جنت میں … آنے کا رستہ بتایا اگر وہ نہ چاہتا تو اس کا رستہ نہ ملتا یوں ہی بھٹکتے بھٹکتے مرجاتے جہنم میں جا گرتے۔ 12 منہ 2 ؎ بہشت آنجا کہ آزارے نباشد 12
Ayahs 7:44–46

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور اہل جنت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ ہم نے تو جو کچھ ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا تھا اس کو حق پا لیا پھر کیا تم نے بھی وہ جو کچھ تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا حق پایا۔ وہ کہیں گے ہاں پھر کوئی منادی ان میں پکار کر کہے گا کہ ظالموں پر اللہ کی پھٹکار

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

وہ جو لوگوں کو اللہ کے رستہ سے روکتے اور اس میں کجی نکالتے تھے اور آخرت سے بھی منکر تھے

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور دوزخ و جنت کے درمیان ایک حجاب ہوگا اور اعراف پر ایسے لوگ ہوں گے کہ جو ہر فریق کو ان کے آثار سے پہچانتے ہوں گے اور وہ اہل جنت کو پکار کر کہیں گے کہ السلام علیکم اور وہ ہنوز جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے اور اس کی آرزو میں ہوں گے

ترکیب : نادی فعل اصحب الجنۃ فاعل اصحب النار مفعول ان مفسرہ جو بیان ندا کرتا ہے حقا وجدنا کا مفعول ثانی ہے۔ ماوعدربکم مفعول اول وعدکم بقرینہ اول کلام محذوف بینہم اذن یا مؤذن سے متعلق ان مفسرہ اذن کی تفسیر کے لئے۔ الذین الظالمین کی صفت۔ یعرفون رجال کی قالوا تفسیر ہے نادٰی اصحاب الاعراف کی۔ اھؤلاء جملہ قالوا کا بیان ہے اور اشارہ ہے اہل الجنۃ کی طرف خطاب کفار سے ہے۔ تفسیر : اس جگہ اہل جنت و اہل دوزخ کی باہم گفتگو کا ذکر کرتا ہے کہ جس سے حسرت ٹپکتی ہے کہ اہل جنت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ لو جی ہم نے تو جو کچھ ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا تھا برحق پا لیا تم نے بھی جو کچھ تم سے وعدہ کیا تھا برحق پایا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں تب ایک فرشتہ آواز دے کر کہے گا کہ اے لعنت ہے خدا کی ظالموں پر جو لوگوں کو دنیا میں اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور اس میں کجی نکالتے تھے اور آخرت کے بھی منکر تھے۔ یہاں ایک شبہ ہوتا ہے کہ جنت تو عالم قدس ہے جو آسمانوں سے بھی بالا ہے اور جہنم (زمین) کے سب سے نیچے کے طبقے میں ہے پھر یہ باہم بات چیت کیونکر ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس عالم قدس میں بعد و مسافت ادراک و ابصار کو مانع نہیں۔ وہ اپنی جنت کی کھڑکیوں سے منہ نکال کر وہیں بیٹھے بات چیت کرسکیں گے وبینہما حجاب وعلی الاعراف رجال الخ اب یہاں سے اور بھی جنت دوزخ کے حالات کی تصریح کرتا ہے کہ جس سے وہاں کی اچھی طرح کیفیت ناظر کو معلوم ہو تاکہ دنیا اور اس کے لذائذِ فانیہ پر لات مار کر عالم باقی کا شوق دل میں جوش زن ہو اور وہاں کے عذاب دائمی سے دل میں خوف پیدا ہو، جنت اور دوزخ کے درمیان ایک حد فاصل حجاب ہوگا جس کا ذکر اس آیت میں بھی آیا ہے۔ فضرب بینہم بسورلہ باب گو جنت اور دوزخ میں بہت کچھ فاصلہ ہے مگر تاہم عالم قدس اور عالم ظلمات کے درمیان ایک حد فاصل ضرور ہے جس کو حجاب اور دیوار سے تعبیر کیا ہے نہ یہ مراد کہ ان کے درمیان کوئی اینٹ گارے کی ایسی دیوار چنی ہوگی جیسی کہ آس پاس کے دو گھروں میں دیوار ہوتی ہے۔ اعراف کی بحث : اعراف عرف کی جمع ہے جس کے معنی بلند مکان کے ہیں اور اسی لئے عرف الدیک گھوڑے اور مرغ کی چوٹی کو کہتے ہیں جو سب جسم میں مرتفع ہوتی ہے۔ علماء کے اعراف کے بیان میں دو قول ہیں (اول) جمہور کا قول ہے کہ اعراف سے اس حجاب یا دیوار مذکور کی چوٹیاں مراد ہیں اور ابن عباس ؓ سے بھی یہی منقول ہے (دوم) حسن بصری اور زجاج کا ایک قول ہے کہ اعراف بمعنی معرفت علی الاعراف ای علی معرفۃ اہل الجنۃ والنار رجال یعرفون کل واحد من اہل الجنۃ والنار بسیماہم (کبیر) کہ اہل جنت و دوزخ کے پہچاننے کے لیے خدا تعالیٰ ایسے لوگ وہاں مقرر کرے گا کہ جو ہر ایک کو ان کے علامات سے پہچانتے ہوں گے۔ پھر اس کی تفصیل میں چند قول ہیں۔ ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ وہ اعلیٰ طبقہ کے لوگ ہوں گے کہ جو ملائکہ ہیں یا انبیاء (علیہم السلام) یا شہداء غرض وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں خدا کے گواہ تھے جو ہر اہل خیر ایماندار ‘ متقی اور اہل شر مشرک کافرفاسق کو پہچانتے تھے۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان کو اعراف یعنی بلند مقامات پر بٹھلا کر ہر ایک اہل خیر و اہل شر کا انجام کار جنت و دوزخ دکھاوے گا اور گویا وہ عدالتِ آسمانی میں ہر ایک اہل خیر و اہل شر کے لئے سچی سچی شہادت دینے کے لئے خدا تعالیٰ کے مقرر گواہ ہوں گے جو بلند کرسیوں پر بیٹھے ہوں گے جب تمام کا فیصلہ ہوچکے گا تب وہ جنت میں جاویں گے لم یدخلوھا وھم یطمعون کے یہی معنی ہیں کہ قبل فیصلہ فریقین جنت میں نہ جائیں گے مگر اس کا ان کو یقین ہے کہ بعد میں داخل ہوں گے طمع بمعنی یقین بھی آتی ہے کما فی قولہ تعالیٰ حکایۃً عن ابراہیم (علیہ السلام) والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین وذلک الطمع کان طمع یقین۔ سو وہ اہل جنت کو بطور مبارکباد کے کہیں گے سلام علیکم کہ تم پر خدا کی سلامتی ہو اور جب اس مقام سے ان کی آنکھ جہنمیوں کی طرف پھرے گی تو خدا کی پناہ مانگیں گے کہ الٰہی تم ہم کو اس ظالم گروہ سے دور رکھیو۔ پھر ان میں سے ان لوگوں کو کہ جن کو وہ دنیا میں پہچانتے تھے بآواز بلند کہیں گے بطور ملامت و سرزنش کہ اے فلاں اے فلاں آج کے دن تمہاری جمیع مال و زر کہ جس کے لئے تم دین کو برباد کرتے تھے اور تمہاری وہ جمعیت نوکر چاکر لشکر فوج یار عوان برادری کے جتھے جن پر تم کو بڑا گھمنڈ تھا کچھ بھی کام نہ آئے۔ اہل جنت میں سے ان غریب و مفلسوں کی طرف اشارہ کرکے (کہ جن کو کفار دنیا میں اپنی شوکت و حشمت مال و جاہ سے ذلیل و حقیر سمجھتے تھے اور ان کی نسبت قسم کھا کر کہتے تھے کہ اللہ ان پر آخرت میں بھی کچھ رحمت نہ کرے گا) یہ کہیں گے کہ لو دیکھو یہی ہیں وہ کہ جن کی نسبت تم ایسا ایسا کہتے تھے۔ اے اہل جنت ! تم جنت میں رہو نہ تم پر کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ہوگا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ادخلو الجنۃ اہل اعراف کی طرف خطاب ہے کہ فریقین کا فیصلہ ہوچکا لو اب تم بھی جنت میں چلو ٗ آرام کرو ٗ تمہیں بھی نہ کچھ خوف ہے نہ غم کیونکہ دوزخیوں کو دیکھ کر ڈرتے اور دعا کرتے تھے کہ کہیں ان میں نہ ملائے جائیں۔ دوسری جماعت یہ کہتی ہے کہ اہل اعراف وہ لوگ ہیں کہ جن کی نیکی اور بدی مساوی ہوگی نہ جنت کے قابل ہوں گے نہ دوزخ کے جیسا کہ اہل الصلوٰۃ سے فساق یا اطفال مشرکین یا جو بغیر اجازت والدین کے جہاد میں جا کر شہید ہوئے سو ان کو خدا تعالیٰ جنت و دوزخ کے درمیان ایک بلند مکان پر جگہ دے گا کہ جو فریقین کا حال دیکھیں گے۔ دوزخیوں کو دیکھ کر ڈریں گے اور پناہ مانگیں گے کہ الٰہی ان میں ہمیں داخل نہ کیجیو اور اہل جنت کو دیکھ کر ایک عجیب آرزو کے ساتھ ان کو سلام کریں گے اور دل میں جنت کی آرزو رکھتے ہوں گے۔ آخر اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل و کرم سے جنت میں جگہ دے گا۔ ادخلوا الجنۃ لاخوف علیکم ولاانتم تحزنون یہ قول حذیفہ اور ابن مسعود ؓ کا ہے اور بعض احادیث سے بھی ایسا ہی ثابت ہوتا ہے۔ اس پر عبارت قرآنیہ کے لحاظ سے اعتراض ہوسکتا ہے کہ آیات مذکورہ میں بعض الفاظ چسپاں نہیں ہوتے۔ اول لفظ ان تلکم الجنۃ اور ثتموھا بما کنتم تعملون کہ جنت اعمال کی وجہ سے ملے گی اور جب ان کے اعمال جنت کے قابل نہیں تو فضل سے ملنا کیسا ؟ دوم اصحاب الاعراف ہونا اس بات کو چاہتا ہے کہ یہ لوگ بلند مقام پر بٹھلائے جاویں گے جس سے عزت سمجھی جاتی ہے اور جب ان کی نیکی بدی سے زیادہ نہ ہوئی بلکہ مساوی جس لئے یہ ہنوز جنت میں داخل نہ کئے گئے تو پھر یہ عزت کیسی ؟ لیکن ان اعتراضوں کے جواب بھی بہت سہل ہیں۔ اول کا یوں کہ اور ثتموھا بما کنتم تعملون ایک قوم معین سے خطاب ہے نہ کہ سب سے۔ دوسرے کا جواب یہ ہے کہ بلند مقامات پر بٹھلانے سے تعظیم و شرف نہیں سمجھا جاتا بلکہ وہ ایک مرتبہ ہے۔ جنت دوزخ کے درمیان اور اس کی بلندی جہنم کے گڑھے سے ہے نہ کہ جنت سے وفیہ مافیہ۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ اہل جنت و اہل دوزخ کی ایک حسرتناک گفتگو نقل کرتا ہے جس کے سننے سے بدن کے روئیں کھڑے ہوتے ہیں وہ یہ کہ نادٰی اصحب النار اصحب الجنۃ ان افیضواعلینا من الماء اوممارزقکم اللّٰہ دوزخی جنتیوں سے نہایت عاجزی سے سوال کریں گے کہ جہنم کی گرمی اور اس کے شعلوں نے ہمارے دل بھون ڈالے ٗ پھر کچھ پانی ڈال دو یا جو کچھ خدا نے تم کو دیا ہے اوپر سے وہی پھینک دو ٗ اہل جنت ان کے جواب میں کہیں گے ان اللہ حرمہا علی الکافرین کہ خدا نے یہ چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں۔ پھر آگے ان کے صفات بیان کرتے ہیں۔ اول الذین اتخذوا دینہم لہوا و لعبا کہ جنہوں نے اپنا دین دنیا میں کھیل کود بنا رکھا تھا عمر گرانمایہ کو کس لہو و لعب میں صرف کیا۔ دوم غرتہم الحیوۃ الدنیا کہ ان کی حیات دنیا نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ اسی کے تجملات و لذائذ میں مصروف تھے۔ فالیوم ننسہم کمانسوا لقاء یومہم ھذا الخ سو آج ہم بھی ان سے یونہی پہلو تہی کریں گے جیسا کہ وہ کرتے تھے۔
Ayah 7:47

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان کی نظریں دوزخیوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ نہ کیجیو

1 ؎ تلقاء اصل میں مصدر ہے اور بکسر تاء بہت ہی کم مصدر آئے ہیں جیسا کہ تبیان۔ ہاں اسماء بہت ہیں جیسا کہ تمساح اور تمثال اور جگہ تلقاء منصوب ہے ظرف مکان ہونے کی وجہ سے بمعنی ناحیۃ 12 منہ
Ayah 7:48

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اعراف والے ان لوگوں کو 2 ؎ (دوزخیوں کو) کہ جن کو وہ ان کے آثار سے پہچانتے ہوں گے پکار کر (یہ) کہیں گے نہ تو تمہارے جتھے ہی کچھ کام آئے اور نہ تمہارا تکبر کرنا۔

2 ؎ یعنی متکبر اور دولتمند کافروں سے جو بڑے اتراتے تھے اعراف والے کہیں گے۔ 12 منہ
Ayah 7:49

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

کیا یہ وہی 3 ؎ لوگ ہیں کہ جن کی نسبت تم نے قسم کھا کر کہا تھا کہ ان پر اللہ کچھ بھی رحمت نہ کرے گا۔ ( اے فقراء ِ 4 ؎ اسلام) چلے جاؤ جنت میں نہ تم پر کچھ خوف ہے (اور) نہ تم کو کوئی رنج ہوگا

3 ؎ جو جنت میں غریب مسلمان ہیں۔ 12 منہ 4 ؎ یعنی اہل اعراف ان فقرائِ اسلام سے کہ جن کے حق میں دنیا میں کفار نے قسمیں کھا کر یہ کہا تھا الزام دینے کے بعد یہ کہیں گے کہ خود ان کافروں پر اللہ کی رحمت نہیں ہوئی سو تم جنت میں بلاخوف داخل ہوجائو۔ 12 منہ
Ayahs 7:50–51

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخی اہل جنت کو پکاریں گے کہ ہم پر کچھ پانی ڈال دو جو کچھ تم کو اللہ نے دیا ہے (اس میں سے کچھ دے دو ) اہل جنت جواب دیں گے کہ ان دونوں 5 ؎ چیزوں کو اللہ نے کافروں پر حرام کردیا ہے

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

(اور ان پر) کہ جنہوں نے اپنا دین کھیل اور کود بنا رکھا تھا اور ان کو زندگی دنیا نے فریب میں ڈال رکھا تھا۔ پس آج ہم بھی ان کو ویسا ہی بھول گئے جیسا کہ وہ اپنے اس روز کے پیش آنے کو بھول گئے تھے اور جیسا کہ وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے۔

5 ؎ یعنی پانی اور کھانے کو۔ 12 منہ
Ayahs 7:52–53

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے ان کو وہ کتاب پہنچا دی ہے کہ جس کو ہم نے خبرداری سے کھول کر بیان کردیا جو ہدایت اور رحمت ہے ایمانداروں کے لئے۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

کیا وہ اس کے آنے ہی کا انتظار کر رہے ہیں جس دن اس کا وقت آجاوے گا تو جو اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہیں کہنے لگیں گے کہ تحقیق ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس سچی بات لائے تھے پھر ہمارے معبودوں میں سے کوئی ہے کہ جو ہماری سفارش کرے یا ہم واپس بھیجے جائیں تاکہ ہم جو کچھ کرتے تھے اس کے برخلاف کریں۔ بیشک انہوں نے آپ اپنا ستیاناس کیا اور جو کچھ کہ وہ (دل سے) گھڑ لیا کرتے تھے سب گیا گذرا ہوا۔

ترکیب : بکتاب بذریعہ ب مفعول ثانی جئنا کا کیونکہ یہ بمعنی اتینا ہوگیا۔ فصلناہ اس کی صفت علی علم بمعنی عالمین حال ہے فاعل فصلنا سے ھدیٰ ورحمۃ کتاب سے حال ہیں۔ یوم ظرف ہے یقول کا قدجاءت جملہ مقولہ ہے۔ اسی طرح فہل لنا فیشفعوا منصوب ہے جواب استفہام کی وجہ سے۔ اونرد مرفوع ہے معطوف ہے موضع من شفعاء پر۔ تفسیر : اہل جنت کے درجات اور اہل دوزخ کے حالات اور اہل اعراف کے مقالات و کلمات کا ذکر عالم غیب کی ایسی خبر ہے کہ جس تک عقل کی بغیر مدد الہامِ الٰہی ہرگز رسائی نہیں اور ایسی باتیں بیان کرنا ہادی برحق کا اول کام ہے تاکہ انسان اپنے انجام سے خبر پا کر سعادت کی طرف مائل ہو۔ اس لئے ان آیات میں یہ بات ظاہر فرماتا ہے کہ اے لوگو ! تم ان باتوں میں ہرگز شک نہ کرو کیونکہ ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب یعنی قرآن بھیجا ہے کہ جس میں کمال علم سے ہم نے ہر ایک کی تفصیل کردی۔ منجملہ ان کے عالم آخرت کے یہ حال بھی ہیں کہ جن کو سن کر منکرین حشر تکذیب کرتے ہیں کیونکہ جو شقی ازلی اور کور باطن ہیں ان کو خدا کے نوشتوں اور اس کے فرستادوں پر یقین نہیں آتا۔ سو اس کتاب سے ان کو بےنصیبی ہے۔ یہ تو ایمانداروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے جو اس کی برکتوں سے حصہ پاتے اور اس کی کسی بات میں بھی شک نہیں لاتے ہیں۔ برخلاف ان بدنصیبوں کے جن کے دلوں کو حب مال و جاہ اور خواہش لذائذِ جسمانیہ نے دنیا پر مائل کردیا ہے۔ ان کے کان اس کا سننا بھی پسند نہیں کرتے کہ یہ نعمتیں اور یہ عیش و نشاط کے سامان چھوڑ کر کسی اور جہان میں جانا اور وہاں اپنے اعمال کی سزا پانا ہے اور پھر وہاں ہمیشہ رونا پیٹنا ہے۔ نعمتوں کی جگہ زقوم ‘ سرد پانی کی جگہ کھولتا پانی پینا اور دہکتی آگ میں جلنا ہے اور سنتے بھی ہیں تو کب یقین کرتے ہیں بلکہ یہی کہنے لگتے ہیں کہ جب دیکھیں گے تو مانیں گے۔ ھل ینظرون الا تاویلہ کے یہی معنی ہیں (تاویل مرجع اور کسی چیز کا انجام و مصیرمن قولہم آل الشیء یؤل) ایسی خیالی باتیں اور دڑ کے سنا ہی کرتے ہیں اس کے جواب میں فرماتا ہے یوم یاتی تاویلہ الخ کہ جس روز اس کتاب کی تاویل یعنی جو کچھ اس میں قیامت کے حالات کے متعلق لکھا ہے ظاہر ہوگا اور وہ وقت آجائے گا تو پھر ایمان لانا ہی کیا فائدہ دے گا۔ تب تو اس کا مشاہدہ کرکے خودبخود وہ لوگ جو اس کو دنیا میں بھولے ہوئے تھے یہ کہیں گے کہ ہمارے رب کے رسولوں نے جو کچھ کہا تھا برحق نکلا۔ پھر وہاں اصلاح نفس اور تکمیل کی مہلت کہاں ؟ اس لئے اپنے اعمالِ بد کے بد نتیجہ کو پاکر یہ کہیں گے کہ ہائے آج کوئی ہو کہ ہماری سفارش کرے تاکہ ہم اس عذاب ابدی سے نجات پاویں یا ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیجا جاوے کہ وہاں جا کر تکمیل نفس اور اسباب سعادت حاصل کریں مگر یہ نہ ہوگا۔ انہوں نے آپ اپنے تئیں خسارہ میں ڈال دیا اور اب ان کی وہ تمام من سمجھوتیاں جاتی رہیں۔ آنکھ کھلی تو کچھ اور ہی دیکھا۔
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

(لوگو ! ) تمہارا رب وہی اللہ ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں بنا دیا پھر عرش پر جا بیٹھا۔ وہی رات کو دن کی پوشش 1 ؎ بناتا ہے جو اس کے پیچھے پیچھے دوڑتی چلی آتی ہے اور اسی نے آفتاب اور چاند اور ستارے (بنائے) جو اس کے حکم کے پابند ہیں۔ دیکھو اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم دینا۔ مبارک ہے اللہ جو تمام جہان کا پرورش کرنے والا ہے۔

1 ؎ ڈھانکتا ہے رات کو دن سے۔ ترکیب : ربکم اسم ان اللّٰہ الخ خبر یغشی جملہ مستانفہ اس کا فاعل ضمیر راجع اللہ کی طرف اللیل مفعول اول النہار مفعول ثانی والشمس والقمر الخ معطوف ہیں السموات پر مسخرات ان سے حال ہے بامرہ مسخرات سے متعلق ہے تضرعا وخفیۃ حال ہیں فاعل ادعوا سے اسی طرح خوفاوطمعا قریب مذکر آیا بلحاظ رحمۃ مونث کا صیغہ نہ آیا وزن فعیل ہونے کی وجہ سے۔ تفسیر : مسائلِ معاد کے بعد وہ دلائل بیان فرماتا ہے کہ جن سے اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کا ہر ایک چیز پر قبضہ و اقتدار ثابت ہوتا کہ مسائلِ معاد کی تقویت ہوجاوے 1 ؎ اور قرآن علم مبداء کے بعد معاد اور معاد کے بعد مبداء اور مسائلِ نبوت اور توحید کو یکے بعد دیگر لاتا ہے۔ ان ربکم اللّٰہ آسمانوں اور زمین کے حالات و تغیرات حرکات و سکون اختلاف کواکب اس بات کو ثابت کر رہے ہیں کہ یہ چیزیں ازخود نہیں ہیں ضرور ان کو کسی حکیم وعلیم نے بنایا ہے (چھ روز میں) معلوم ہوا کہ اس کائنات کا بنانے والا ہر صفت میں مخلوق سے نرالا اللہ تعالیٰ ہے۔ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے بعد ثم استوی علی العرش۔ عرش پر قائم ہوا اس جملہ کو خدا نے حسب موقع سات جگہ قرآن میں ذکر فرمایا ہے (1) یہاں (2) سورة یونس میں (3) رعد میں (4) طہٰ میں (5) فرقان میں (6) سجدہ میں (7) حدید میں اور احادیث میں بھی اس قسم کے الفاظ جناب باری تعالیٰ پر اطلاق کئے گئے ہیں۔ اس لئے فرقہ کر امیہ وغیرہ میں اہل بدعۃ نے ان لفظوں کو ان کے حقیقی معنی میں تسلیم کرکے خدا تعالیٰ کے لیے عرش یعنی تخت پر بیٹھنا ثابت کیا ہے اور ان کے مقلدین نے تو فی زمانہ یہ غلو کیا ہے کہ عرش اور اس پر بیٹھنے کے معنی جو اجسام سے مختص ہیں ٗ تسلیم کر لئے ہیں حالانکہ یہ بالکل غلط فہمی ہے۔ اولاً تو یوں کہ اگر اس جملہ کو حقیقی معنی پر محمول کیا جاوے تو سورة انعام میں جو ھو اللّٰہ فی السموت آیا اور اس کے بعد آپ ہی آسمانوں کی چیزوں کو اپنی ملک فرمایا بقولہ قل لمن ما فی السموات والارض قل اللّٰہ جس سے آپ اپنی ملک ہونا لازم آتا ہے اور نیز اور آیات وجہ اللہ وید اللہ کو اور ان احادیث کو کہ جن میں خدا کا مصلیٰ کے سامنے ہونا اور کنویں میں ڈول ڈالتے وقت اسی پر گرنا آیا ہے حقیقت پر محمول کرنا پڑے گا جس سے عرش کی خصوصیات باطل ہو کر اور بہت سی جگہوں میں خدا تعالیٰ کا ہونا ثابت ہوگا جس کا کوئی بھی اہل اسلام قائل نہیں اور اگر ان کو آیات وصفات متشابہات قرار دے کر مجازی معنی پر محمول کریں گے تو اس جملہ کو بھی مجازی معنی پر محمول کرنے سے کون مانع ہے۔ ثانیاً یوں کہ علاوہ بیشمار دلائلِ عقلیہ کے منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ اگر خدا عرش پر بیٹھا ہو تو اس کے لئے جسمانیت ثابت ہو۔ دوم اگر استویٰ کے معنی استقر کے لئے جاویں تو ثم کا لفظ اس بات کو ثابت کرے گا کہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے خدا تعالیٰ کس چیز پر بیٹھا تھا اور کا ہے پر کھڑا ہوا تھا۔ 2 ؎؎ قال اللیث الحث الاعمال حثت فلانا فاحتث فھوحثیث و محثوث اے مجد سریع یعنی حث کے معنی جلدی کرنا حثیث جلدی کرنے والا دوڑنے والا۔ 12 منہ
Ayahs 7:55–56

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

اپنے رب کو عاجزی سے اور آہستہ پکارو کیونکہ وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور ملک میں اس کے درست ہوجانے کے بعد خرابی نہ کرو اور اسی کو خوف اور امید سے پکارو کیونکہ اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔

1 ؎ عطا نے کہا ہے آمین دعا ہے اور دعا کا آہستہ اور خفیہ کرنا بہتر ہے اس لئے آمین کا نماز میں خفیہ کہنا ہی بہتر ہے جیسا کہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں۔ 12 منہ
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے خوش کرنے کو ہوائیں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم ان کو کسی مردہ 1 ؎ شہر کے لیے رواں کردیتے ہیں پھر ہم اس ابر سے پانی برساتے ہیں۔ پھر ہم اس سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زندہ کردیں گے تاکہ تم سمجھو

1 ؎ یعنی خشک زمین کی طرف ان بادلوں کو روانہ کردیتے ہیں۔ خشک زمین کو مردہ سے تعبیر کیا گیا۔ 12 منہ ترکیب : بشراب اور ش دونوں ضمہ سے یہ جمع ہے بشیر کی جیسا کہ قلیب و قلب اور تخفیف کے لیے بسکون شین بھی پڑھا گیا ہے اور بعض نے ب کی جگہ ن بھی پڑھا ہے۔ یہ حال ہے الریاح سے سحاب جمع سحابتہ اور اس لئے اس کی صفت میں ثقال جمع کا صیغہ آیا۔ نکداً کمتر و حقیر۔ تفسیر : اور اب اگر ہر وقت عرش پر بیٹھا رہتا ہے اور عرش کی حرکت دوری سے کبھی نیچے کبھی اوپر ہونے کی تکلیف بھی اٹھاتا ہے تو پھر پچھلی رات کو اس سے نیچے کیوں اتر آتا ہے اور زمین پر نمازی کے سامنے کیوں آکھڑا ہوتا ہے (وغیرہ ذلک) بہت سے دلائلِ نقلیہ آیات و احادیث اس کی تنزیہ و تقدیس پر دلالت کرتی ہیں جن سے اس جملہ کے معنی مجازی لینے پڑے۔ اس سے آیت میں اور دیگر مقامات میں ماسبق ومالحق کو خیال کیا جاوے تو صاف معنی اس کے یہ ہوں گے کہ اس نے آسمانوں اور زمین پیدا کیا پھر وہ استوی علی العرش اے حصل لہ تدبیر المخلوقات علی ما شاء وا اراد الخ ای استوی علی العرش الملک والجلال (کبیر) تمام کائنات کی تدبیر و تصرف کی طرف متوجہ ہوا عرش یعنی تخت ملک و جلال پر بیٹھا۔ فقال کہتے ہیں العرش فی کلامہم ہوالسریر الذی یجلس علیہ الملوک ثم جعل العرش کنایۃً عن نفس الملک یقال ثل عرشہ ای انتقض ملکہ وفسدو اذا استقام ملکہ واطرد امرہ و حکمہ قالوا استوی علی عرشہ واستقر علی سریر ملکہ۔ کیونکہ اس کے بعد فرماتا ہے یغشی اللیل النہار کہ وہ رات کو دن سے بدلتا ہے کہ رات کے پیچھے دن اور دن کے پیچھے رات دوڑتی چلی آتی ہے اور آفتاب و ماہتاب و ستارے سب اس کے حکم پر مسخر ہیں۔ ہر ایک ایک خاص بات پر مامور ہے جس سے وہ سرتابی نہیں کرسکتا۔ اس میں تمام عالم کا انتظام سربستہ ہے۔ سو یہ بات بغیر قادر مطلق کے ممکن نہیں۔ اتفاقی امور میں یہ انتظام کہاں۔ چونکہ عالم وجود کی دو قسم ہیں۔ ایک جسمانیات خواہ علویات یا سفلیات و افلاک و کواکب و عناصر جو محسوس ہوتے ہیں جن کو خلق کہتے ہیں۔ دوسری روحانیات ملائکہ و ارواح و نفوس ان کی تدابیر و انتظامات جو بظاہر انسان کو دکھائی نہیں دیتے جن کو عالم امر کہتے ہیں اس لئے اس کے بعد اول عالم کے انتظامات و اختیارات کو الالہ الخلق میں دوسرے عالم کو جس کی خبر انبیاء نے دی ہے (کہ ہزاروں فرشتے آفتاب کو کھینچتے ہیں بادلوں کو ملائکہ ہانکتے ہیں علی ہذا القیاس) والامر میں بیان فرمایا۔ بعد اس کے کہ اپنا خالق و قادر ہونا ثابت کرچکا بندوں کو تین حکم دیتا ہے جو اصول احکام ہیں۔ اول ادعوا ربکم کہ اپنے رب کو پکارو۔ آہستہ اور عاجزی سے یعنی خلوص دل سے نہ کہ غل مچا کر دکھانے کو۔ 1 ؎ دوم زمین پر فساد نہ مچاؤ اس میں تمام حقوق العباد و حقوق اللہ آگئے۔ سوم ادعوہ خوفا وطمعا کہ خوف بھی رکھو اور اس سے امید بھی رکھ کر اسے پکارو اس کی مرحمت اجابت کے لیے پاس کھڑی ہوئی ہے۔ اس کے بعد عالم سفلی سے اپنے وجود اور قدرت کاملہ پر دلائل بیان فرما کر انہیں دلائل سے دوسرے اہم مسئلہ حشر بالا جساد کو بھی ثابت کرتا ہے کہ جس طرح ہم اپنی قدرت سے سبزہ اگاتے ہیں اسی طرح حشر کے روز تم کو زمین سے دوبارہ پیدا کریں گے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ جس طرح ابر رحمت ہر جگہ یکساں برستا ہے مگر زمین کی قابلیت کے موافق نباتات اگتے ہیں۔ اچھے سے اچھے اور برے سے برے اسی طرح قرآن اور نبوت کا ابر رحمت برابر فیض رساں ہے مگر جو ازلی گمراہ ہیں جن میں مادہ ہدایت نہیں وہ اس سے فیض یاب نہیں ‘ جن کو قابلیت ہے وہ فیض یاب ہوتے ہیں۔ ہوائوں میں تصرف کرنا کہ کبھی شمالی اور تھوڑی دیر میں جنوبی چلانا پھر بادلوں کا اٹھانا اور 2 ؎ بلد میت یعنی خشک شہریاز میں سے طرح طرح کے نباتات ایک ہی پانی سے پیدا کرنا اسی کے ید قدرت کا کام ہے۔
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور سنہری جگہ اپنے رب کے حکم سے اپنا سبزہ اگاتی ہے اور جو گندی ہے تو بجز حقیر چیز کے اور کچھ نہیں اگاتی۔ یوں پھیر پھیر کر ہم شکر کرنے والوں کے لیے دلائل بیان کرتے ہیں۔

2 ؎ اما البلد فکل موضع من الارض عامر او غیر عامر قال او مسکون فھو بلد والطائفۃ منہ بلدۃ والجمیع البلاد والفلاۃ تسمی بلدۃ قال الاعشی وبلدۃ مثل شہر ظہر الترس موحشتہ للجن بالیل فی حافاکھا رجل
Ayahs 7:59–64

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا سو اس نے کہا ٗ اے قوم ! اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں مجھے تمہاری نسبت بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

اس کی قوم کے سرداروں نے کہا ٗ ہم تو تجھے صریح گمراہی میں پڑا ہوا دیکھتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

(نوح نے کہا) اے قوم میں تو کچھ بھی بہکا ہوا نہیں لیکن میں تو ایک رسول ہوں پروردگار عالم کی طرف سے

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

جو تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچاتا اور تمہارا بھلا چاہتا ہوں اور خدا کے ہاں کی میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت پہنچی تمہیں میں سے ایک شخص کی معرفت تاکہ وہ تم کو متنبہ کرے اور تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جاوے

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

سو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا ٗپھر ہم نے اس کو (نوح کو) اور جو لوگ اس کے ساتھ کشتی میں تھے بچا لیا اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کو غرق کردیا کیونکہ وہ ایک اندھی قوم تھی۔

ترکیب : من الٰہ غیرہ من زائدہ الہ مبتدا لکم خبر غیرہ کو بالرفع پڑھا جاوے تو الہ کی صفت ہوگی علی الموضع کی یا وہ اس کے موضع سے بدل جیسا کہ لا الہ میں الا اللہ۔ فی ضلال مبین مفعول ثانی لنراک اگر اس کو رؤیت قلب سے لیا جاوے ورنہ حال ابلغکم جملہ مستانفہ اور علی المعنی رسول کی صفت بھی ہوسکتا ہے لان الرسول ھوا لضمیر فی انی فی الفلک حال ہے ضمیر معہ سے۔ تفسیر : مسائل مبدء و معاد اور ان کے دلائل ظاہرہ و برا ہیں باہرہ کے بعد پھر 1 ؎ انبیاء (علیہم السلام) کے قصے ان چند فوائد کے لئے بیان فرماتا ہے۔ اول یہ کہ سرکشی اور انبیاء سے سرتابی کچھ محمد ﷺ کی قوم کی ہی عادت خاصہ نہیں بلکہ ہمیشہ سے لوگ اپنے انبیاء کے ساتھ ایسا کرتے چلے آئے ہیں۔ دوم یہ کہ منکرین ہمیشہ انجام کار دنیا کی پھٹکار اور عذاب نار میں مبتلاء ہوئے ہیں۔ سو یہ بھی ہوں گے۔ سوم یہ کہ محمد ﷺ نے باوجودیکہ نہ کوئی کتاب پڑھی نہ کسی استاد مؤرخ کی صحبت پائی پھر انبیاء کے اس قدر مفصل صحیح صحیح حالات بیان کرنا بطور مؤرخین بلکہ ان نتائج کے ساتھ کہ جن کے سننے سے روح کپا کپا اٹھتی ہے ایک معجزہ عظیمہ ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ اسی علام الغیوب کا کام ہے جس کا یہ نبی ‘ ہادی کافہ نام ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کی بھی ایک بڑی بھاری اور مستحکم دلیل ہے۔ اہل انصاف اور حق پسندوں کے لئے ان آیات میں جو کچھ رموز و اشارات ہیں اور جو کچھ انبیاء کا حسن تعلیم ہے وہ بیان سے باہر ہے اور نیز مطالب بھی ان آیات کے بہت صاف اور واضح ہیں۔ کچھ شرح کی حاجت نہیں کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید شریعتِ الٰہی کی کئی سو برس تک تعلیم کی مگر بجز چند اشخاص کے قوم نے نہ مانا اس لئے ان پر طوفان آیا کہ سب کے سب پانی میں غرق ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف نوح (علیہ السلام) اور ان کی اولاد اور ان کے چند ایمانداروں کو اور کچھ جانوروں کو ایک کشتی میں کہ جس کو حضرت نوح (علیہ السلام) نے بامر الٰہی بنایا تھا بچا لیا۔ نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم غالباً ملک آرمینا و ایشیائے کو چک میں آباد تھی۔ چناچہ چند سال 2 ؎ ہوئے کہ ان پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف میں دبی ہوئی ایک کشتی دکھائی دیتی تھی جس کے دیکھنے کو دور دراز کے سیاح اور مورخ خصوصاً اہل یورپ آئے تھے۔ اس کشتی کی نسبت اکثر کا یہی گمان ہے کہ یہ نوح کی کشتی ہے۔ 1 ؎ کیونکہ روم کا حصہ اسی سورة میں بیان ہوچکا ہے 12 منہ 2 ؎ یہ واقعہ تیرہ سو (1300) ہجری کا ہے جس کو اردو انگریزی اخبارات نے بار بار بیان کیا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 7:65–70

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) اس نے کہا اے قوم ! اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں پھر تم کیوں نہیں ڈرتے۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تو تجھے بےوقوفی میں پڑا دیکھتے ہیں اور ہم تو تجھ کو جھوٹوں میں سے سمجھتے ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

اس نے (ہود نے) کہا اے قوم مجھ میں کچھ بھی بےوقوفی نہیں لیکن میں تو پروردگار عالم کی طرف سے (ایک) رسول ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

کہ تم کو اس کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تو تمہارا امانت دار خیر خواہ ہوں۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تمہارے ڈرانے کے لیے تمہیں میں ایک شخص کی معرفت نصیحت پہنچی اور اللہ کی ان نعمتوں کو یاد کرو جبکہ تمہیں قوم نوح کے بعد جانشین کیا اور تن وتوش میں بھی اور لوگوں سے زیادہ کیا۔ پس اللہ کے احسان یاد کرو تاکہ تم کو فلاح ہو۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ بولے کیا تو ہمارے پاس اسی لیے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ کی عبادت کیا کریں اور جس کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے اس کو چھوڑ دیں پھر تو جس سے سب کو ڈراتا ہے (یعنی عذاب سے) اگر سچا ہے تو لے آ۔

ترکیب : ھودا بدل ہے اخاھم سے جو مفعول ہے فعل مخدوف کا ‘ اے ارسلنا ان جاء کم تبادیل مصدر مفعول ہے عجبتمکا من ربکم ذکر کی صفت یا حال علی رجل حال بھی ہوسکتا ہے اے نازلا علی رجل او جاء کم سے علی المعنی متعلق بھی ہوسکتا ہے لا نہ فی المعنی نزل الیکم وفی الکلام حذف مضاف اے علی قلب رجل او علی لسان رجل فی الخلق زاد کم سے متعلق وحدہ مصدر حال ہے اللّٰہ سے اے مفرد ایا فاعل لنعبد سے ای موحدین لہ ونذر معطوف ہے نعبد پر جو منصوب ہے ان مقدرہ سے ماکان الخ نذر کا مفعول۔ تفسیر : قوم عاد کا تذکرہ : یہاں سے دوسرا قصہ قوم عاد کا شروع ہوتا ہے یہ ایک قوم بعد طوفان نوح کے ملک عرب کے جنوبی حصہ میں آباد تھی۔ یہ لوگ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں سے تھے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پیشتر تھا۔ عرب کا وہ جنوبی حصہ کہ جس میں ان کی سکونت تھی یمن کہلاتا ہے اور یمن میں اس کا مسکن بمقام احقاف تھا کماقال تعالیٰ واذکر اخا عاد اذ انذر قومہ بالاحقاف وقد خلت النذر اور یہ ایک ریگستان ہے جس کو رمل عالج کہتے ہیں ان کی وسعت آبادی عمان سے لیکر حضرموت تک تھی۔ لیکن یہ قوم نہایت شہ زور اور قد آور اور سرکش تھی کما قال تعالیٰ واذکر اذ جعلکم خلفاء من بعد قوم نوح و زادکم فی الخلق بسطۃ اس لیے ان کی حکومت عرب کے اکثر حصوں پر تھی اس قوم کو عاد اولیٰ بھی کہتے ہیں یہ قوم بت پرست تھی جن بتوں اور دیوتائوں کی یہ پرستش کرتے تھے منجملہ ان کے ایک کا نام صدی تھا اور ایک کا ہرد اور ایک کا ہباد اس قوم کی ہدایت کے لیے خدا تعالیٰ نے انہیں کی قوم میں سے حضرت ہود (علیہ السلام) کو نبی کرکے بھیجا جو عبداللہ بن رباح بن خلود بن عاد کے بیٹے تھے انہوں نے سب سے اول اپنی قوم کو توحید کی تعلیم کی قال یا قوم اعبدواللّٰہ مالکم من الہ غیرہ اس بد بخت اور متکبر قوم نے ان کو دیوانہ بتایا اور جھوٹا ٹھہرایا اور کہا کہ کیا تیرے کہنے سے ہم اپنے سب معبودوں کو چھوڑ کر اکیلے خدا کی پرستش کرنے لگیں گے اور اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیں گے ؟ اس پر ہود (علیہ السلام) نے ان کو عذاب الٰہی سے خوف دلایا اور بہت کچھ سمجھایا مگر وہ کب ماننے والے تھے آخر یہی کہہ دیا کہ جس عذاب وقہر کا تو وعدہ کرتا ہے اسے لا تو سہی۔ اول بار خدا تعالیٰ نے ان پر تین برس کا قحط شدید ڈالا جس سے وہ عاجز آگئے مگر ایمان تب بھی نہ لائے۔ اس عہد میں عرب کی قوموں کا یہ دستور تھا کہ جب ان پر کوئی سخت مصیبت آتی تو اپنے چند لوگوں کو مکہ میں خدا سے دعا کرنے کو بھیجتے تھے اس مقدس جگہ میں اکثر دعا قبول ہوجاتی تھی۔ اس لیے اس قوم نے بھی قیل بن غز اور لقیم بن ہزال اور عبیل بن ضد اور مرثد بن سعد کو (یہ شخص در پردہ حضرت ہود (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا تھا) مکہ بھیجا کہ وہاں جا کر اللہ سے دعا کریں۔ یہ لوگ مکہ میں آکر ایک شخص معاویہ بن بکر کے گھر پر ٹھہرے جو ان کی قوم کا بھانجا اور نواسا تھا۔ اس نے ان کی خاطر تواضع کی مہینوں اس کے گھر پر کھانے کھاتے ‘ شراب پیتے رہے اس کی دو چھوکریاں گاناگانے والیاں تھیں ان کا خوب ناچ دیکھتے رہے۔ دعا وعاسب بھول گئے۔ وہاں یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ایک روز سیاہ ابر نمودار کیا جس کو وہ ریگستان کے قحط زدہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ ھذا عارض ممطرنا اس ابر سے ضرور پانی برسے گا اور ابر کیا تھا قہر الٰہی تھا ایک سخت سیاہ آندھی اٹھی ہوئی آتی تھی بل ھو ما استعجلتم بہ فیھا عذاب الیم تد مرکل شیء بامر ربہا جب نزدیک آئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ آدمی اور اونٹ اور بڑے بڑے درخت چیلوں کی طرح آسمان میں اڑ رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر اپنے مکانوں اور امن کی جگہوں کی طرف دوڑے مگر قہر الٰہی سے کوئی کہاں بچ سکتا ہے چھپر اور مکان اڑنے لگے ‘ چھتیں اڑ گئیں ‘ دیواریں گر پڑیں۔ کچھ تو وہیں تمام ہوئے اور جو گھبرا کر باہر نکلا تو آندھی کے طوفانِ نے بہت بلند اٹھا کر پتھر یا زمین پردے مارا گرتے ہی چور چور ہوگیا یہ طوفان عظیم الشان سات رات آٹھ دن بررہا کما قال اللہ تعالیٰ فسخرھا علیہم سبع لیال وثمانیۃ ایام حسوماً (ای دائمۃ متتابعۃ) فترالقوم فیہا صرعیٰ کا نہم اعجاز نخل خاویۃ پھر تو وہ قوم عاد کے طویل القامت لوگ زمین پر کھجور کے پیڑوں کی طرف پچھڑے پڑے ہوئے تھے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور وہ لوگ جو ان پر ایمان لائے تھے ایک جگہ محفوظ رہے اس تمام قوم کو اللہ نے ہلاک کردیا البتہ وہ لوگ جو اطراف مکہ میں تھے بچ رہے۔ جن کو عاد الاخرۃ کہتے ہیں (کذاقال العلامۃ الثعلبی 1 ؎ 1 ؎ ھو الامام العلامۃ ابن اسحاق بن محمد بن ابراہیم الثعلبی۔ 12 منہ فی العرائس) اس کے بعد ایک شخص نے مکہ میں اس واقعہ کی خبر دی وہ لوگ معاویہ کے پاس کھانا کھا رہے تھے اور باتیں کررہے تھے کہ چاندنی رات میں شتر سوار آتا ہوا دکھائی دیا جس نے آکر یہ جانکاہ حادثہ سنایا انہوں نے پوچھا ہود کہاں ہے اس نے کہا وہ اور جو اس پر ایمان لائے تھے زندہ وسالم سمندر کے کنارہ پر رہتے ہیں۔ قیل نے سن کر کہا کہ اب میں زندہ رہ کر کیا کروں گا جبکہ میری قوم ہی زندہ نہ رہی اور مرثد نے اپنا ایمان ظاہر کردیا اور یہ شعر کہے۔ عصت عاد رسولہم وفامسوا عُطاشا ما تبلہم السماء وسیرو قد ھم شہر الیسقو فارو فہم مع العطش العناء بکفر ھم بربہم جہاراً علی آثارھم عاد الغفار اس کے بعد وہ بھی حضرت ہود (علیہ السلام) سے جا ملا بعض علماء کہتے ہیں اس کے بعد ہود مکہ میں آرہے تھے ڈیڑھ سو برس کی عمر میں یہیں انتقال ہوا۔ مطاف کعبہ میں مدفون ہیں۔ اطراف یمن میں اب تک سیاحوں کو پرانے آثار عبرت خیز دکھائی دیتے ہیں جو اس برباد شدہ قوم کی یاد گار خیال کئے جاتے ہیں۔
Ayahs 7:71–72

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود نے کہا تم پر تو تمہارے رب کی طرف سے بلا اور غضب آگیا کیا تم مجھ سے ان ناموں 1 ؎ میں جھگڑتے ہو کہ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں جن کی خدا نے کوئی بھی سند نہیں اتاری۔ پس تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہا ہوں

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

(کہ کیا) انجام ہوتا ہے پھر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو تو اپنی رحمت سے بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑکاٹ ڈالی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تھیں اور وہ ماننے والے بھی نہ تھے۔

؎ یعنی یہ جو تم نے اور تمہارے بڑوں نے اپنے معبود بنا رکھے ہیں ان کی اصل کچھ نہیں صرف نام ہی نام ہیں پھر ان پر مجھ سے جھگڑتے ہو جن کی کوئی بھی سند نہیں۔ 12 منہ