7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 7:105–116

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

میں اس بات پر قائم ہوں کہ اللہ کی طرف سے بجز سچ کے اور کچھ نہ کہوں۔ بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے میں بڑی نشانی لایا ہوں سو تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے۔

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

اس نے کہا اگر تو کوئی نشانی لایا ہے تو اس کو لے آ۔ اگر تو سچا ہے۔

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

تب موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا تو وہ وہیں اژدہا بن کر ظاہر ہوگیا

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ نکالا ہی تھا کہ دیکھنے والوں کو چمکتا ہوا نظر آیا۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

قوم فرعون کے سرداروں نے کہا بیشک یہ تو کوئی بڑا ماہر جادوگر ہے۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

تم کو تمہارے ملک سے نکالنا چاہتا ہے۔ پھر تم کیا رائے دیتے ہو ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

وہ بولے اس کو اور اس کے بھائی کو رہنے دیجئے اور شہروں میں ہر کارے بھیج دیجئے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ وہ تیرے پاس ہر ایک واقف کار جادوگر کو لے آویں

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

اور فرعون کے پاس جادوگروں نے آکر کہا کیا ہم کو کچھ انعام ملے گا اگر ہم ہی غالب آگئے ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

اس نے کہا ہاں اور تم کو تقرب بھی حاصل ہوگا۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

جادوگروں نے کہا اے موسیٰ ! یا تو تو ہی ڈال اور یا ہم ہی ڈالتے ہیں۔

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا تمہیں ڈالو پھر جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظربندی کردی اور لوگوں کو ڈرایا اور وہ بڑا جادو بنا لائے تھے۔

ترکیب : حقیق فعیل خبر مبتداء محذوف کی ای انا فا ذاللفاجاۃ یہ ظرف مکان کے لئے ہے ھی مبتداء ثعبان خبر ان ھذایر ید قال کا مفعول۔ لاجرا اسم ان لنا خبر جملہ دال بر جزا ان کنا یہ تمام جملہ مقولہ ہے قالوا کا۔ فلما القوا شرط سحروا واسترھبوا جواب۔ وجاؤ جملہ مستانفہ یا معطوفہ۔ تفسیر : قصہ موسیٰ و فرعون : یہ چھٹا قصہ موسیٰ کا ہے چونکہ یہ بہت بڑا واقعہ ہے اس لئے اس کو ان پہلے واقعات سے فصل دے کر بیان فرمایا یعنی ان واقعات کا نتیجہ تمام کرکے اس کو شروع کیا گیا۔ گرچہ یہ قصہ متعدد مطالب کے ادا کرنے کے واسطے قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے لیکن اس جگہ بہت کچھ ذکر ہوا ہے۔ تفسیر سورة بقرہ میں ہم اس کو نہایت تفصیل کے ساتھ مع جغرافیہ مصر و قلزم و تیہ بیان کرچکے ہیں اس لئے اس جگہ اعادہ کرنا طول دینا ہے۔ (1) فرعون۔ اس لفظ کو اہل لغت نے تفرعن سے مشتق بتایا ہے کہ جس کے معنی متکبر کے ہیں لیکن اصل یہ ہے کہ یہ فَرُوہئُ سے لیا گیا جس کے معنی لغت قدیم مصر میں شہنشاہ اعظم کے ہیں۔ عربوں نے معرب کرکے فرعون بتایا اور اس کی جمع فراعنہ بنائی۔ فرعون کسی بادشاہ کا نام نہیں بلکہ شاہان مصر کا لقب ہے۔ ہر بادشاہ کو فرعون کہتے تھے جو مصربن حام بن نوح کی نسل سے تھے۔ جس طرح ہندوستان میں راجہ اور قدیم روم کے بادشاہوں کو قیصر کہتے تھے۔ سلطنت مصر کے چار دور ہیں۔
Ayahs 7:117–118

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے (اس وقت) موسیٰ کو وحی کی کہ تم بھی اپنا عصا ڈال دو ۔ پھر تو جو کچھ وہ (سانگ) بنا رہے تھے سب کو یکایک نگلنے لگا۔

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پس حق قائم رہ گیا اور جو وہ کرتے تھے مٹ گئے۔

ترکیب : ان الق مفعول اوحینا فاذا مفاجات کے لئے ہے مبتدا تلقف خبر۔ صاغرین حال ہے انقلبوا سے قبل متعلق ہے آمنتم سے الی ربنا متعلق۔ تفسیر : اول فراعنہ کا کہ جن کی سلطنت ایک ہزار چھ سو بائیس (1622) برس تک رہی۔ ان میں اخیر بادشاہ سمنی توس تھا جس کو کمبیس شاہ ایران نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پانچ سو بیس (520) برس پیشتر قتل کرکے ان کے خاندان کو تمام کردیا اور ایرانیوں کی سلطنت قائم ہوئی۔ دوسرا دور سکندر اعظم تک ایک سو چورانوے (194) برس تک ان کی سلطنت رہی۔ پھر تیسرا دور بطلیمیوسیون کا ہے جن کی سلطنت سکندر سے لے کر حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تیس برس پیشتر تک رہی۔ چوتھا دور رومیوں کا ہے جو مسیح (علیہ السلام) کے تیس برس قبل ولادت سے لے کر چھ سو انتالیس (639) عیسوی تک رہی۔ اس کے بعد سے یعنی اٹھارہویں سال ہجری سے لے کر آج تک اہل اسلام کے قبضہ میں ہے ( خدا ہمیشہ رکھے) حال کا بادشاہ توفیق بن اسماعیل ہے۔ یہ پانچواں دور ہے پھر اس میں بھی مسلمانوں کے متعدد خاندان حکمراں رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں خاندان فراعنہ سے امنو 3 ؎ افیس دوم بادشاہ تھا جو حضرت مسیح (علیہ السلام) سے چودہ سو بانوے (1492) برس پیشتر بحر احمر یعنی قلزم میں مع اپنی فوج کے غرق ہوا۔ اس کے بعد مصر میں خاندان فراعنہ سے دوسرا بادشاہ قائم ہوا۔ بعض جو کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) پھر مصر میں لے گئے اور ان کی سلطنت قائم ہوئی۔ غلط بات ہے۔ ہرگز قرآن و احادیث سے یہ نہیں سمجھا جاتا۔
Ayahs 7:119–122

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

سو وہ 1 ؎ یہاں پر مات کھا گئے اور ذلیل ہو کر الٹے پھرگئے

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور جادوگر سجدے میں گر کر

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

کہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔

1 ؎ فرعون اور اس کا دربار۔ 12 منہ
Ayahs 7:123–126

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فر عون نے کہا (ہیں) میرے حکم سے پہلے ہی اس پر ایمان لے آئے۔ یہ تو تمہارا ایک بڑا مکر (پکھنڈ) ہے کہ جس کو تم نے (اس) شہر میں آکر گانٹھا ہے تاکہ لوگوں 2 ؎ کو شہر سے نکال کرلے جائو۔ سو تم کو ابھی معلوم ہو ہی جاتا ہے

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

کہ میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کٹوائے ڈالتا ہوں۔ پھر تم سب کو سولی دیے دیتا ہوں۔

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

وہ بولے ہم کو تو اپنے رب کے پاس پھر کر جانا ہے

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تو ہم سے اسی لئے بدلہ لیتا ہے تاکہ ہم اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لے آئے جبکہ وہ ہمارے پاس آئیں۔ اے ہمارے رب ! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہم کو مسلمان کرکے موت دے۔

2 ؎ یعنی اسرائیل کو۔ 12 منہ ؎ یہ نام یونانی تاریخوں سے لئے گئے ہیں۔ اگر عرب اور ایران کے نزدیک ان میں تغیر ہو تو کچھ عجب نہیں۔ چناچہ مؤرخین اسلام نے موسیٰ کے عہد کے فرعون کا نام ولید بتلایا ہے۔ کسی نے ابو العباس بن ولید بن مصعب بن ریان کہا ہے۔ مسند۔
Ayahs 7:127–129

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو اس لئے چھوڑتے ہیں کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ بیٹھیں۔ فرعون نے کہا ہم ابھی ان کے بیٹوں کو مارے ڈالتے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتے ہیں اور ہم ان پر (ہر طرح) غالب ہیں۔

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو کیونکہ زمین اللہ کی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کا وارث بنا دے اور انجام (بخیر) پرہیزگاروں کا ہے۔

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم کو آپ کے آنے سے پہلے بھی ایذائیں دی گئیں اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک اور تم کو ملک میں خلیفہ کیا چاہتا ہے پھر دیکھے گا کہ تم کیا کرتے ہو۔

ترکیب : الملاء قال کا فاعل من قوم فرعون اس کی صفت آ ہمزہ استفہام کے لئے تذر کا فاعل انت موسیٰ وقومہ مفعول لیفسدوا تذر سے متعلق ویذرک منصوب معطوف ہے لیفسدوا پر جملہ مقولہ ہوا قال کا۔ ان الارض جملہ محل علت میں ہے استعینوا سے ویستخلفکم منصوب معطوف ہے یہلک پر۔ تفسیر : (2) یوسف (علیہ السلام) کے عہد میں حضرت یعقوب مع تمام خاندان کے کنعان سے ملک مصر میں آرہے تھے۔ یہاں ان کی نسل بڑی پھلی پھولی ہزاروں اسرائیل ہوگئے۔ اس عہد کے بادشاہ کو جو بڑا جبارو سرکش تھا ٗیہ خوف پیدا ہوا کہ مبادا یہ پردیسی لوگ ہمارے ملک میں قابض ہوجاویں اس لئے اس نے ان کو سخت کاموں پر مامور کر رکھا تھا۔ خصوصاً جب سے اس کو نجومیوں نے یہ کہا تھا کہ اس قوم میں ایک شخص بڑا اقبال مند پیدا ہوگا جس سے تیرے ملک و اقبال میں فرق آجائے گا تو اور بھی تکلیف دیتا تھا۔ کسی سے کھیتی کراتا تھا۔ کسی کو کسی مبتذل خدمت پر مامور کر رکھا تھا اور ایک عام حکم دے دیا تھا کہ جس اسرائیلی کے لڑکا پیدا ہو قتل کر ڈالا جائے۔ چناچہ دائیاں اس خدمت پر مامور تھیں۔ الغرض ہر طرح سے بنی اسرائیل کو اپنے بس میں کر رکھا تھا۔ آخر بقول شخصے ع ہر ایک بات کی آخر کچھ انتہا بھی ہے خدا نے عمران اسرائیلی کے گھر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔ ان کی والدہ نے ان کو دائیوں سے چھپانے کے لئے ایک تنور میں ڈال دیا کہ یہاں نہیں دیکھیں گے۔ ان پر خدا کا سایہ تھا۔ تنور سرد ہوگیا مگر اگلے روز یہ مناسب جانا کہ ان کو کسی صندوق میں بند کرکے توکل بخدا دریائے نیل میں ڈال دیجئے۔ مبادا خبر ہوجاوے تو میرے سامنے اس کو ہلاک کردیں گے۔ چناچہ وہ صندوق یا ٹوکرا بہتا بہتا بڑے دریا سے اس کی اس شاخ میں پڑگیا جو فرعون کے محلوں میں سے ہو کر گذرتا تھا۔ فرعون کی بیٹی نے دیکھا تو اٹھا لیا اور اپنی ماں کے پاس لائی۔ ماں نے فرعون سے اجازت لے کر اس کو فرزندی میں رکھ کر پرورش کیا کیونکہ فرعون کے بیٹا نہ تھا اور قدرت خدا کی دیکھو دودھ پلانے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ہی مقرر ہوئیں یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) بفضلِ الٰہی جوان ہوگئے اور فرعون کے بیٹے کہلاتے تھے۔ ان کو اقتدارات وہی تھے جو شہزادوں کے ہوتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے بہت سے ظلم ان کی وجہ سے ان کی سفارش سے موقوف ہوگئے مگر فرعونی (کہ جن کو قبط کہتے تھے) اس بات کو اس پر محمول کرتے تھے کہ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی عورت کا دودھ پیا ہے اس لئے دودھ کا حق ادا کرنے کو ان کے حال زار پر رحم کھاتا ہے اور اپنے حقیقی بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) سے بھی محبت و عزت سے پیش آتے تھے جن کو لوگ رضاعی بھائی سمجھتے تھے مگر بنی اسرائیل میں عموماً یہ بات معلوم تھی کہ موسیٰ ہارون کے حقیقی بھائی عمران کے بیٹے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی یہ معلوم ہوگیا تھا۔ 1 ؎ بماعہد عندک کے کئی معنی ہیں۔ اول یہ کہ اس عہد کے وسیلہ سے جو تجھ سے خدا نے کیا ہے اور وہ عہد موسیٰ (علیہ السلام) سے خدا نے کیا تھا غالباً قبول کرنے کی بابت ہوگا کہ ہم تیری دعا قبول کریں گے اور فرعونیوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کا مستجاب الدعوات ہونا بارہا معلوم ہوچکا تھا۔ دوم یہ کہ ان چیزوں کے سہارے جو تیرے رب نے تیرے پاس رکھی ہیں وہ کیا چیزیں تھیں۔ بعض کہتے ہیں وہ کچھ اسمائِ الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تعلیم کر رکھے تھے۔ جب ان کو ذکر کرکے دعا کرتے قبول ہی ہوتی اسماء وصفات کی تاثیر سے وہی منکر ہیں جو اس سر سے ناآشنا کے محض ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں خدا کی محبت اور اس کا سوز و گداز تھا جس کے سہارے سے دعائیں قبول ہوتی ہیں ٗ بلائیں ٹلتی ہیں۔ 12 منہ 2 ؎ یعنی بنی اسرائیل کو زبردستی بیگار میں پکڑ کر فرعون اور اس کی قوم نے جو کچھ عمارتیں بلند محل بنوائے تھے سب برباد ہوگئے۔ یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ فرعون
Ayahs 7:130–137

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے فرعونیوں کو برسوں کی قحط سالی اور میووں کی کمی میں گرفتار کردیا تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

پھر جو کبھی ان پر فراغ دستی آتی تو کہتے یہ تو ہمارا حق ہے اور اگر سختی آپڑتی تو موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں کی نحوست بتاتے تھے۔ دیکھو نحوست تو اللہ کے نزدیک انہیں کی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور (فرعونی) کہنے لگے جب کبھی تو (اے موسیٰ ! ) ہمارے پاس کوئی نشانی ہمارے جادو کرنے کے لیے لائے گا تو ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں۔

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

پھر تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور جوئیں اور مینڈک اور خون بھیجا کھلی کھلی نشانیاں بنا کر سو وہ (اس پر بھی) اکڑا ہی کئے اور وہ ایک نافرمان قوم تھی

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر عذاب آپڑتا تو موسیٰ سے کہنے لگتے کہ اپنے رب سے ہمارے لئے اس عہد کے وسیلہ سے جو تجھ سے کیا ہے دعا کرو۔ اگر تم نے ہم سے عذاب دور کردیا تو ہم ضرور تم پر ایمان لے آئیں گے اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کو رخصت کردیں گے۔

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم ان سے وہ عذاب ایک وقت تک کہ جس تک ان کو تھا ٗ ٹال دیتے تھے تو فوراً عہد شکنی کرنے لگتے تھے

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

(آخرکار) ہم نے ان سے بدلہ لیا سو ان کو دریا میں غرق کردیا کیونکہ وہ ہماری آیتیں جھٹلایا کرتے اور ان سے غفلت کیا کرتے تھے

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور ہم نے اس قوم کو جو کمزور خیال کی جاتی تھی مشرق سے مغرب تک اس سرزمین (شام) کا وارث کردیا کہ جس میں ہم نے برکت دے رکھی تھی اور آپ کے رب کی خوشخبری بنی اسرائیل کو پوری ہوگئی۔ ان کے صبر کی وجہ سے اور جو کچھ فرعون اور اس کی قوم چنتی اور بلند عمارتیں بناتی تھی سب کو منہدم کردیا۔

ترکیب : آل فرعون مفعول اخذنا بالسنین الاصل فی سنۃ سنہ لامہاہا۔ وقیل لامہاوالقولھم سنوات و اکثر العرب یجعلھا کزیدون والعبض یجعل النون حرف الاعراب وکسرت العین اعلامابانھا جمعت علی غیر القیاس یہ اخذنا سے متعلق الطوفان (قیل مصدر وقیل جمع طوفانۃ وھو الماء الکثیر المغرق۔ ) والجراد جمع جرادۃ والقمل والضفادع والدم مفعول ارسلنا آیات موصوف بینات صفت مجموعہ حال ہے ہر واحد سے اور ثنا فعل بافاعل القوم مفعول اول مشارق الخ مفعول ثانی ماکان یصنع ما بمعنی الذی اسم کان ضمیر جو راجع ہے ما کی طرف یصنع فعل فرعون فاعل جملہ خبر کان۔ تفسیر : (3) فرعون کا شہر مصریہ نہیں کہ جس کو آج کل قاہرہ مصر کہتے ہیں بلکہ دریائے نیل کے پورب اور پچھم میں بسا تھا جو ہامون نو یا نوامون اپنے ایک دیوتا کے نام سے آباد کیا تھا جس کے سو پھاٹک اور دو ہزار مستحکم قلعے تھے جن میں بیٹھ کر دشمن سے بخوبی لڑ سکتے تھے۔ اس کے غربی حصے میں برج اور بادشاہی محلوں کے نشان اور بڑے بڑے پتھر کے لمبے ستون جن کا طول 20 گز قطر 3 گز ہے اور ایک صحن میں بادشاہ کی ایک سنگ مر مر کی تصویر جس کی بلندی 22 گز اور وزن چوبیس ہزار آٹھ سو انتالیس من ہے ٹوٹے پھوٹے پڑے نظر آتے ہیں۔ ستائیس میل کے دور میں اس کے خرابات مسافروں کو دکھائی دیتے ہیں۔ اس شہر کا مشرقی حصہ بھی بہت بڑا ہے جس میں سینکڑوں بت خانے دکھائی دیتے ہیں۔ فرعون کے محل کے نشان اور ٹوٹے پھوٹے برج اب تک موجود ہیں۔ اسی کے ایک حصہ کا نام عمسیس تھا جہاں سے بنی اسرائیل نے کوچ کیا تھا اور ممفیس بھی اسی کو یا اس کے کسی حصہ کو کہتے تھے جس کو اہل اسلام منف کہتے ہیں۔ یہ شہر بخت اور کمیس شاہ ایران کے ہاتھوں سے اجاڑ ہوا اور پھر جب عمرو بن العاص ؓ نے اس کو ہجرت سے اٹھارہویں سال حضرت عمر ؓ کی خلافت میں فتح کیا اور ہر کلیوس (ہرقل) شاہ روم کے ہاتھ سے لیا تو یہ اور بھی برباد ہوگیا۔ حضرت عمر ؓ کی اجازت سے عمرو بن العاص ؓ نے نیل کی شرقی سمت میں فسطاط کی بنیاد ڈالی اور ایک مسجد بھی بنائی جس کا طول پچاس گز اور عرض تین گز تھا۔ یہ شہر جدید خلفائِ بنی العباس کے عہد میں مصر کا پائے تخت رہا۔ چنانچہ اور اس کی قوم کچھ اپنی حفاظت اور بنی اسرائیل کی محکومی کی بابت منصوبے باندھتے اور اس کے محل چنتے تھے سب گر گئے۔ ان کی کچھ تدبیر نہ چلی۔ خدا کا چاہا ہو کر رہا۔ پر رہا۔ 12 منہ جب کافور 3 ؎ جو ان کی طرف سے یہاں کا حاکم تھا مرگیا تو قیروان سے ابو تمیم معز باللہ اسماعیلیوں کے چوتھے خلیفہ نے اپنے غلام اور سپہ سالار قائد جو ہر کو مصر پر روانہ کیا۔ اس نے آکر جو بڑے لشکر جرار کے ساتھ آیا تھا یہ ملک خلفاء عباسیہ کے قبضہ سے نکال لیا اور اپنے شیعہ مذہب کے موافق خطبہ پڑھوا دیا اور فسطاط کو غارت کردیا۔ پھر چند روز کے بعد معز باللہ بڑے فوج کے ساتھ آیا اور سکندریہ پر قبضہ کرتا ہوا رمضان المبارک 362 ء میں داخل ہوا اور فسطاط کے پاس اور شہر قاہرہ 4 ؎ کی بنیاد ڈالی۔ پھر یوما فیوماً قاہرہ کی رونق اور آبادی بڑھتی گئی۔ آخر جب سلاطین اسماعیلیہ کی سلطنت مصر سلطان صلاح الدین یوسف کے ہاتھ آئی تو اس نے فسطاط اور قاہرہ اور قلعہ کے ارد گرد آٹھ میل کے دور میں پختہ شہر پناہ بنوا دی تھی۔ اس قاہرہ کو فرعون کا شہر کہنا بڑی غلطی ہے۔ چونکہ مصر فرعون کا شہر ہے اس لئے اس کے تاریخی واقعات بیان کرنا مناسب مقام ہوا۔ (4) الغرض حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی حمایت میں سرگرم رہنے لگے اور جب سے کہ آپ ایک بار منف میں گئے اور وہاں ایک قبطی کو اسرائیلی سے لڑتے دیکھا اور اس کے ایک مکا مارا اور وہ مرگیا تو فرعون کے لوگوں کو بھی معلوم ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اسرائیلی اور وہی شخص ہے جو ہماری سلطنت کی تخریب کا باعث ہوگا۔ اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) یہاں سے جان بچا کر مدین گئے اور وہاں سے لوٹتے وقت کوہ طور کے حوالی میں ان کو مصر جانے اور فرعون کو سمجھانے کا حکم ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت مشکل سے فرعون تک رسائی ہوئی۔ وہاں جا کر کہا ٗ میں خدا کی طرف سے تمہارے پاس آیا ہوں۔ جھوٹ بولنا میرا شیوہ نہیں ٗ میں معجزات لے کر تیرے پاس آیا ہوں تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو ان کے وطن شام میں جانے دے۔ فرعون نے کہا اچھا اگر تیرے پاس کوئی معجزہ ہے تو دکھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ سانپ بن کر لہرانے لگا جس سے فرعون اور اس کا دربار ڈر کر بھاگ نکلا پھر اس کو ہاتھ میں لیا تو ویسی ہی لاٹھی ہوگئی۔ اس کے بعد دوسرا معجزہ یہ دکھایا کہ ہاتھ اپنی بغل میں دے کر جو باہر نکالا تو آفتاب کی طرح چمکنے لگا۔ یہ دو معجزے موسیٰ (علیہ السلام) کو وادی مقدس میں ملے تھے۔ فرعونیوں نے ان کو جادو سمجھ کر ان کے مقابلہ کے واسطے اپنے تمام جادوگروں کو جمع کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا۔ جادوگروں نے نظربندی کرکے اپنی رسیوں اور لکڑیوں کے اسی طرح سے سانپ بنا دیے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر ڈالا تو وہ اژدہا بن کر سب کو نگل گیا جس سے لاکھوں آدمی جو اس میدان مقابلہ میں تھے ڈر گئے اور جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے۔ اس پر فرعون سخت ناراض ہوا اور جادوگروں کو کہا کہ تم موسیٰ (علیہ السلام) سے ملے ہوئے تھے۔ تم نے باہم مشورت کرلی ہے تاکہ تم اس شہر سے بنی اسرائیل کو نکال کرلے جائو۔ اچھا ابھی معلوم ہوئے جاتا ہے۔ حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پائوں کو کاٹ کر درختوں پر لٹکا کر سولی دے دو ۔ جادوگروں نے کہا کچھ پروا نہیں ٗ کچھ پروا نہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں سو وہ ہم کو صبر عنایت کرے گا۔ اس کے بعد فرعونیوں نے صلاح دی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالئے تاکہ زمین میں فتنہ برپا نہ کرے اور تیری اور تیرے معبود کی پرستش نہ چھوڑا دے۔ فرعون نے اور بھی بنی اسرائیل کو تکالیف دینی شروع کیں جس سے وہ چیخ اٹھے۔ موسیٰ نے کہا 1 ؎ غالباً یہ کیخسرو ہے جس نے بخت نصر کے بعد بابل کو غارت کیا اور مصر پر بھی حملہ آور ہوا تھا۔ 12 منہ 2 ؎ ہرقل شاہ روم کا ماتحت بادشاہ مقوقس ان دنوں مصر کا حاکم تھا یا اس کا بیٹا۔ 12 منہ 4 ؎ یہ کافور آخشیدی وہ شخص ہے کہ جس کی دیوان متنبی میں یہ شاعر مدح لکھتا ہے یہ بنی العباس کا ایک آزادہ کردہ تھا۔ 4 ؎ یہ وہی قاہرہ ہے کہ جو آج کل شاہ مصر توفیق پاشا ٗ تابع سلطان عبدالحمید خان خلدا للہ ملک کا پایہ تخت ہے۔ مصر میں چند سال ہوئے اعرابی بادشاہ سپہ سالارلشکر مصر نے بغاوت اختیار کی تھی۔ نہر سویز کی حفاظت کی وجہ سے (جو انگریزوں اور فرانس کے لئے ہندوستان کا رستہ ہے) انگریزوں نے شاہ مصر کی اعانت کی اور اپنی فوج مصر میں بھیج دی جس سے محمد احمدسوزانی نے جو عہدی کہلاتا ہے مقابلہ کیا اور انگریزوں اور مصریوں کو متواتر شکستیں دے کر افریقہ کا ایک بڑا حصہ لے لیا اور آیندہ مصر پر قبضہ کرنے کا قصد رکھتے ہیں ٗ دیکھئے کیا ہوتا ہے 12 منہ صبر کرو۔ انجام کار نیک بختوں کو فلاح ہوتی ہے۔ خدا کا ملک ہے جسے چاہے دے وہ تمہارے دشمن کو عنقریب ہلاک کرکے زمین پر تمہیں حکومت دیا چاہتا ہے۔ پھر دیکھئے تم کیا کرتے ہو ؟ اس کے بعد کئی برس تک موسیٰ (علیہ السلام) مصر میں فرعونیوں کو معجزات دکھلاتے رہے۔ کبھی اولے برسے کبھی تمام پانی خون ہوگیا مینڈکیاں در و دیوار پر چڑھ گئیں۔ چچڑیوں نے ستایا لیکن یہ زیادہ تنگ ہوتے تھے تو فرعونی فرعون سے کہتے وہ موسیٰ کو بلا کر وعدہ کر تاکہ اگر یہ بلا تو نے اپنے خدا سے کچھ کہہ کے دور کرا دی تو ہم ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دیں گے مگر جب وہ بلا دور ہوتی تھی پھر ویسے کے ویسے منکر ہوجاتے تھے اخیر ایک بار مصر میں غریب سے امیر تک سب کا پہلوٹھا بیٹا مرگیا جس سے تمام مصر میں کہرام مچ گیا۔ لوگوں نے فرعون سے کہا شہر غارت ہوگیا ہے۔ انہیں جہاں کہیں اپنی قربانی کرنے جاتے ہیں ٗ جانے دیجئے بنی اسرائیل عمسیس سے مرد و زن مال و اسباب لے کر قربانی کے بہانے سے نکلے جب کئی منزل مشرقی جانب طے کی تو بحر قلزم پر آگئے۔ خدا نے ان کو یہاں سے پار کردیا ٗ اس جگہ غرق نہ کیا۔
Ayahs 7:138–141

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور بنی اسرائیل کو ہم نے دریا سے پار کردیا تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے کہ جو اپنے بتوں کے ارد گرد بیٹھے تھے 1 ؎ بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ ہمارے لئے بھی ایک معبود بنا دیجئے جیسے کے ان کے لئے معبود ہیں۔ موسیٰ نے کہا تم بڑی جاہل قوم ہو۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ (بت پرست) جس دین میں ہیں وہ خود غلط ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ بھی سب باطل ہے۔

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لئے تلاش کروں حالانکہ اسی نے تو تم کو جہان پر بزرگی دی ہے

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جبکہ ہم نے تم کو فرعون والوں سے بچا دیا کہ جو تم کو بری طرح کا عذاب دیتے (اور) تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تو تمہارے رب کا بڑا احسان ہے۔

1 ؎ مصر کے لوگ بت پرست تھے اپنے دیوتائوں کی مورتیں مندروں میں رکھ کر پرستش کرتے تھے۔ بیل اور گائے کی بھی پرستش کرتے تھے۔ اس کے ذبح کرنے والے کو مار ڈالتے تھے اور بلی کو بھی پوجتے تھے اور اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے تھے اور اس کو بڑا دیوتا جانتے تھے جیسا کہ قدیم اہل ہند کا دستور تھا۔ ایسی پرستش سے فرعون کا دماغ چل گیا تھا جو اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہتا تھا۔ 12 منہ ترکیب : جاوزنا فعل بافاعل باتعدیہ کے لیے بنی اسرائیل مفعول اول البحر مفعول ثانی کما لہم آلہۃ مایا مصدریہ ہے اور بعد کا جملہ صلہ یا بمعنی الذی والعائد محذوف والٰہ بدل منہ تقدیرہ کالذی ھو لھم اور کاف اور جس پر یہ داخل ہے الہ کی صفت ہے اے الھا مماثلا للذی لھم۔ اغیر اللّٰہ صفت ہے الہا مفعول ابغیکم مقدم ہونے سے حال ہوگئی۔ یسومونکم اور یقتلون الخ آل فرعون کی صفت۔
Ayahs 7:142–144

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ کیا تھا اور اس کو دس ملا کر پورا کردیا سو اس کے رب کا وعدہ چالیس رات کا (پورا) ہوا اور موسیٰ اپنے بھائی ہارون کو کوہ طور پر جاتے ہوئے کہہ گئے کہ میری قوم میں میری نیابت کرتے رہنا اور اصلاح کرنا اور مفسدوں کے رستہ پر نہ چلنا

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جبکہ موسیٰ ہمارے وقت پر آئے اور اس کے رب نے ان سے کلام کیا تو موسیٰ نے عرض کیا کہ اے رب ! مجھے دکھا کہ آپ کی طرف دیکھوں۔ فرمایا تم مجھ کو ہرگز نہ دیکھ سکو گے ہاں پہاڑ کو دیکھو۔ پھر اگر وہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم بھی مجھے دیکھ لو گے پھر جبکہ ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی کی تو اس کو چورا چورا کردیا اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش آیا تو کہنے لگے تو پاک ذات ہے۔ میں نے تیرے حضور میں توبہ کی اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

فرمایا اے موسیٰ میں نے اپنی پیغمبری اور ہمکلامی سے لوگوں پر تم کو بزرگی بخشی سو جو میں نے تم کو دیا اس کو لے لو اور شکر گذاری کرتے رہو

ترکیب : اربعین کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے ای تم بالغا ھذا العدد لیلۃ منصوب ہے تمیز ہونے کی وجہ سے لمیقاتنا لام بمعنی وقت قال رب الخ شرط یا جواب ہے لما جاء موسیٰ کا موعظۃ وتفصیلا مفعول کتبنا کا من کل شیء صفت ہے اس کی جو مقدم ہونے کی وجہ سے حال ہے۔ تفسیر : فرعون کا قصہ مجملاً اسی جملہ میں تمام کردیا (ودقرنا ماکان یصنع فرعون وقومہ الخ) قلزم کو عبور کرکے عرب کے ریگستانی اور کو ہی بیابانوں قادسیہ وغیرہ میں آپڑے۔ یہاں اسرائیلیوں نے جو لوگوں کو بت پرستی کرتے دیکھا تو مصریوں کے صحبت یافتہ تو تھے ہی منہ میں پانی بھر آیا کہ حضرت ہمارے لئے بھی ایسے ہی معبود بنا دیجئے جیسے ان لوگوں کے لئے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اس بات پر بہت سرزنش کی کہ تم بڑے واہی لوگ ہو۔ انکم قوم تجہلون اور کیا اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی معبود تجویز کروں جس نے کہ تم کو لوگوں پر فضیلت عطا کی اور فرعون کے پنجہ سے نجات دی۔ ووعدنا موسیٰ ۔ موسیٰ نے اس بیابان میں جبکہ کوہ طور کے پاس آئے ٗ خدا تعالیٰ سے احکام ملنے کی درخواست کی جو بنی اسرائیل کے لئے دستور العمل ہوں۔ حکم ہوا کہ یہاں آکر تیس رات عبادت کر پیچھے ہارون (علیہ السلام) کو خلیفہ بنا کر آپ کوہ طور پر گئے۔ وہاں تیس کی جگہ چالیس راتیں لگ گئیں۔ اسی چلہ میں ایک بار (علیہ السلام) موسیٰ کو دیدارِ الٰہی کا شوق ہوا کہ کاش میں آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔ چونکہ یہ آنکھیں تو جسمانیات میں سے اجسام لطیفہ کو بھی نہیں دیکھ سکتیں جہاں کہ آنکھ کی شعاعیں لطافت کی وجہ سے منعکس نہیں ہوتیں (آئینہ میں جب تک پیچھے کوئی چیز نہیں لگاتے قلعی نہیں کرتے۔ شعائیں منعکس نہیں ہوتیں بالکل آرپار نفوذ گر جاتی ہیں۔ اس لئے صورت نہیں دکھائی دیتی) چہ جائیکہ خدا تعالیٰ کو دیکھ سکیں جو نہ جسم ہے نہ کثیف بلکہ سب سے زیادہ لطیف اس لئے جواب دیا کہ لن ترانی کہ تو مجھے نہ دیکھ سکے گا اور موسیٰ کا اطمینان کرنے کو ایک بات بتلائی کہ پتھر تجھ سے زیادہ سخت ہے جس قدر انسان میں انفعال اور قابلیت ہے خصوصا انبیاء (علیہم السلام) میں ہے ٗپتھر میں کہاں اور انسان کا ادراک کجا پتھر کجا انسان کی روح (جو عالم قدس کے حوضوں میں دھوئی ہوئی ہے جس میں خدا تعالیٰ سے تقرب کی سخت مناسبت رکھی ہوئی ہے) ایک ایسی قابل اور منفعل ہے جیسی کہ بارود آگ کا اثر قبول کرنے میں۔ پس اے موسیٰ ! میں عالم غیب کے پردہ کو ذرا سا اٹھا کر اس پہاڑ ناقابل پر ایک یوں ہی سی تجلی کرتا ہوں اگر وہ اس کی تاب لاسکا اور ٹھہرا رہا تو تو بھی مجھے دیکھ لے گا۔ پس جب یہ ٹھہر گئی تو خدا نے پہاڑ پر تجلی کی جس سے وہ پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا یعنی خاص وہ مقام کہ جس پر تجلی کی تھی نہ کہ کل کوہ طور۔ اس تجلی میں موسیٰ بھی بےہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ جب ہوش آیا اور حقیقت امر منکشف ہوئی اور اپنے سوال کا منشاء نا دانستگی معلوم ہوا تو کہا ٗ الٰہی میری توبہ پھر ایسا سوال کروں گا۔ سبحانک اور تو آنکھوں کے ساتھ نظر آنے سے پاک ہے وانا اول المؤمنین اور بغیر آنکھوں کے دیکھے سب سے اول میں ایمان لانے والا ہوں۔ اہل سنت و معتزلہ کا اختلاف دیدارِ الٰہی میں : جمہور اہل اسلام اس بات کے معتقد ہیں کہ قیامت کو اہل جنت دیدار الٰہی کی دولت سے مشرف ہوں گے اس کی عیاناً زیارت کریں گے مگر جس طرح آج کل فلسفی خیالات کے دریا رواں ہیں اسی طرح بنی العباس کے عہد میں تھے جبکہ علوم یونانیہ کا عربی میں ترجمہ ہوا اور منطق اور فلسفہ میں مسلمانوں نے توغل کیا۔ تو ایک فریق خیالات فیلسوفانہ کا پیرو ہو کر قرآن کو اس کے ساتھ مطابق کرنے لگا جن کو معتزلہ کہتے ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ اگر کوئی خدا تعالیٰ کو دیکھے تو ضرور کسی جہت اور سمت میں دیکھے گا سو اس کے لئے کوئی جگہ تجویز کرنی پڑے گی۔ پھر جسم بھی ماننا پڑے گا اس لئے انہوں نے اس آیت کا سہارا پکڑ کر قیامت میں دیدار الٰہی کا انکار کردیا اور جس قدر آیات و احادیث دیدارِ الٰہی کے بیان میں وارد ہے سب کی تاویل کردی۔ اگرچہ علمائِ اہل سنت نے بہت کچھ جواب دیا مگر ہم یہاں یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں انساں کی نگاہ خاص محسوسات کے دیکھنے سے زیادہ تجاوز نہیں کرسکتی۔ مگر جنت جو عالم قدس ہے وہاں یہ حال نہ ہوگا وہاں کے اجسام روح سے بھی زیادہ لطیف ہوں گے۔ وہاں ویسی ہی آنکھیں ملیں گی پھر اب اس عالم میں جب روحانی طور پر اہل صفاء خدا تعالیٰ کے دیدار سے مشرف بلکہ ہر وقت اسی کی درگاہ قدس میں حاضر رہتے ہیں اور جن کی آنکھوں میں عالم محسوسات ایسا لاشی ہوگیا ہے کہ جس طرح آفتاب کے روبرو رات کے تارے۔ عارف جدھر دیکھتا ہے اس کو خدا ہی نظر آتا ہے۔ ہر کاروبار میں اسی کے ید قدرت دکھائی دیتے ہیں وللہ درّ من قال ع بخدا غیر خدا در دوجہاں چیزے نیست بےنشان است کزونام و نشاں چیزے نیست تو پھر اس عالم میں عام مومنین کیوں اس کو نہیں دیکھیں گے بلکہ ضرور دیکھیں گے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے توبہ کی تو فرمایا کہ میں نے تجھ کو اپنے ساتھ کلام کرنے سے اور رسالت سے لوگوں پر فضیلت دی۔ سو جو تجھ کو دیا جاوے اس کو شکر کرکے لے لے یعنی اس کو بس غنیمت جان ٗ یہ کیا کم بات ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ خدا کیوں کر کلام کرتا ہے : خدا نے جو موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا تھا اس کی حقیقت بیان کرنے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں انہیں حروف و اصوات سے اس کا کلام تھا جن سے کہ باہم آدمی کلام کرتے ہیں اور پھر ان میں سے محققین اس کے حادث ہونے کے بھی قائل ہیں یعنی کلام خاص اور اس کے حروف و الفاظ خاص گو حادث ہیں مگر وہ صفات کلام کہ جو ان حروف و الفاظ سے ادا ہوتی ہے قدیم ہے ہر شخص سے اسی کے موافق کلام کرتا ہے۔ کچھ عربی و عبرانی الفاظ کی قید نہیں بلکہ ملائکہ سے انہیں کے موافق مگر حنابلہ وحشویہ اس کلام کلی کے افراط کو بھی قدیم کہتے ہیں۔ پھر کر امیہ ان حروف و الفاظ حادثہ کا محل ذات باری تعالیٰ قرار دیتے ہیں معتزلہ کہتے ہیں کہ اس کا محل کوئی ذات مبائن ذات اللہ ہے۔ جیسا کہ شجر وغیرہ یعنی کسی درخت و پتھر میں سے کوئی آواز پیدا ہوتی تھی جس کے ساتھ خدا موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کرتا تھا۔ اہل سنت والجماعت کہتے ہیں کہ وہ کلام اس کی ایک صفت خاص ہے جو ازلی اور قدیم ہے جو ان حروف و اصوات سے مغائر ہے۔ پھر اس بات میں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا سنا تھا۔ دو قول ہیں ابو منصور ماتریدی کہتے ہیں کہ اصوات حروف تھے جو کسی درخت سے پیدا ہوتے تھے۔ اشاعرہ کہتے ہیں بغیر اس کے موسیٰ (علیہ السلام) اسی صفت حقیقۃ کو سنتے تھے۔ فقیر کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام اپنے مخلصین سے اس بات کا محتاج نہیں کہ وہ حروف و اصوات سے ہو بلکہ وہ روحانی طور سے ہے کہ جن کو کسی چیز کے ساتھ تشبیہ نہیں دے سکتے۔ دیکھو اشراقی لوگ بغیر صوت و حروف کے کیونکر کلام کرتے ہیں اور دوسرا اس کو کیونکر سن لیتا ہے۔ خواب میں کہ حواس ظاہرہ معطل ہوتے ہیں نہ آنکھ دیکھتی ہے۔ نہ یہ کان سنتے ہیں پھر کس طرح سے کلام ہوتا ہے۔ روحانیات اور لطیف چیزوں کا جدا ہی معاملہ ہے۔ تختے اور پتھر میں سے آواز پیدا ہونے کا قائل ہونا ایک بےسند بات ہے کہ جس کو حقائق شناس پسند نہیں کرتے اور خدا کا یہ کلام کچھ موسیٰ (علیہ السلام) ہی پر منحصر نہ تھا بعد میں بھی انبیاء سے کلام ہوا ہے بلکہ اب تو اولیاء 1 ؎ اللہ سے کلام ہوتا ہے مگر سننے کو کان درکار ہیں۔