37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 37:149–163

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

پس (اے نبی ! ) ان سے پوچھو کہ کیا آپ کے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ؟

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ دیکھ بھی تو رہے تھے۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

دیکھو یہ جھوٹ کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد جنی ہے

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

اور بیشک وہ جھوٹے ہیں۔

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اس نے بیٹیوں کو بیٹوں سے زیادہ پسند کیا ہے۔

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوا تم کیسا حکم لگاتے ہو۔

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

پھر تم کیوں نہیں سمجھتے۔

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کھلی ہوئی سند ہے۔

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب تو پیش کرو

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ میں اور جنوں میں رشتہ قائم کیا ہے۔ حالانکہ جن خود جان چکے ہیں کہ یہ پکڑ کر لائے جائیں گے (قیامت کے دن)

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو وہ بناتے ہیں،

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

مگر اللہ کے خالص بندے (جو کہتے ہیں ٹھیک کہتے ہیں)

فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:161 in the Quran reader

پھر تم اور جن کو تم پوجتے ہو

مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ Open ayah 37:162 in the Quran reader

خدا سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے،

اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:163 in the Quran reader

مگر اسی کو جو خود جہنم میں جانے والا ہے۔

فاستفتہم الربک البنات و لہم البنون انبیاء کے قصے بیان فرما کر مذاہب مشرکین اور اس کے قبح کی طرف پھر رجوع کرتا ہے۔ ضحاک کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ عرب خصوصاً قریش کے چند قبائل سلیم ‘ خزاعہ ‘ جہینہ ‘ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر ان سے مدد مانگتے تھے اور ان کے نام کے بت بناکر پرستش کرتے تھے، ان کے رد میں فرماتا ہے کہ ان سے یہ تو پوچھو کہ بیٹیوں کا ہونا تم پسند نہیں کرتے ہو، بیٹوں کے مقابلہ میں پھر خدا کیوں پسند کرنے لگا ؟ دوم خود فرشتوں کا اناث ہونا ان کو یا تو حس سے معلوم ہوا، سو وہ بھی غلط ہے کس لیے کہ ان لوگوں نے ان کو دیکھا نہیں۔ چہ جائیکہ پیدا ہونے کے وقت دیکھا ہو، اس بات کو اس آیت میں بیان فرماتا ہے۔ ام خلقنا لملائکۃ اناثا وھم شاھدون یا کسی کی خبر سے کہ کسی مخبر صادق نے ان کو اس بات کی خبر دی ہو، سو یہ بھی نہیں اس بات کو اس جملہ میں بیان فرماتا ہے۔ الا انہم من افکہم لیقولون ولد اللہ و انہم لکاذبون کہ وہ محض جھوٹ کہتے ہیں۔ ازخود گھڑ کر کسی نے ان کو یہ خبر نہیں دی ہے، یعنی تو ہم باطل و خیال فاسد ہے یا کسی دلیل عقلی سے ثابت ہوا ہو، سو یہ بھی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام موجودات میں اکمل ہے اور اکمل خسیس کو نہیں پسند کیا کرتا ہے بلکہ اپنے لیے عمدہ چیز پسند کرتا ہے، اس بات کو اس جملہ میں بیان فرماتا ہے۔ اصطفی البنات علی النبین ما لکم کیف تحکمون افلا تذکرون یہ تو ان کے خلاف میں دلیل عقلی تھی۔ اب ان سے دلیل عقلی ان کے مطلب پر طلب کرتا ہے، ام لکم سلطان مبین الخ کہ اب تم کوئی دلیل صحیح ہو تو لائو، اگر سچے ہو اور دلیل ان کے پاس کوئی بھی نہیں، پس ثابت ہوا کہ وہ صریح غلطی میں ہیں۔ مجوس کے مذہب کے بھی بعض قبائلِ عرب معتقد تھے، ان کا مذہب ہے کہ شیطان خدا کا بھائی ہے، پس جو نور و خیر محض ہے وہ اللہ ہے جس کو یزدان کہتے ہیں اور جو ظلمت و شر ہے، اس کا نام اہرمن ہے، یعنی شیطان جو از قسم جن ہے۔ اس بات کو اس آیت میں رد کرتا ہے۔ وجعلوا بینہ و بین الجنۃ نسبا الخ کہ ان لوگوں نے اللہ میں اور جنوں میں رشتہ برادری قائم کیا ہے، حالانکہ جنوں کو خود معلوم ہے کہ اس بات کے کہنے والے محضرون پکڑے جاویں گے، یعنی جن بھی ان کو جھوٹا جانتے ہیں یا یہ معنی کہ جن جانتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے رشتہ دار نہیں بلکہ محکوم و مخلوق ہیں، اس کے آگے یا اس کے حکم قضاء و قدر کے آگے وہ محضرون ہیں، عاجز ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ الجنۃ سے مراد فرشتے ہیں، عرب کے بعض قبائل یہ خیال کرتے تھے کہ خدا نے جنیوں کو جو رو بنایا اور ان سے فرشتے پیدا ہوئے ہیں۔ ہنود بھی دیوی اور دیوتائوں کی نسبت ایسے ہی خیالات فاسدہ پکائے ہوئے ہیں اور غیر محسوس چیزوں کی نسبت خیالات عامہ ایسی ہی باتیں بنایا کرتے ہیں۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ ان کے خیالات فاسدہ سے اپنی پاکیزگی اور برأت بیان فرماتا ہے۔ فقال سبحان اللہ عما یصفون کہ اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے جو وہ بناتے ہیں کہ فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں، وغیرہ پاک ہے الا عباد اللہ المخلصین استثناء منقطع ہے۔ یہ معنی لیکن اللہ کے مخلص یعنی خاص اور خالص بندے ایسی باتیں نہیں بناتے، اس کے بعد کفار کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ فانکم وماتعبدون ما انتم علیہ بفاتنین کہ تم اور تمہارے معبود کہ جن کو تم خیر و شر کا مالک جان کر پوجتے ہو، ان بےہودہ باتوں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے، مگر اسی کو کہ جس کی تقدیر میں دوزخ لکھا ہے۔ فاتینن مضلین یقال فتنت الرجل و افتنۃ و یقال فتنۃ علی الشیء و بالشیء یقال فتن فلان علی فلان امر اتہ ای افسدھا علیہ فالفتنۃ ھھنا بمعنی الاضلال والافساد، صال جمہور نے بکسر لام پڑھا ہے، کیونکہ ناقص اور مضاف ہے، ی التقاء ساکنین کی وجہ سے حذف ہوگئی۔
Ayahs 37:164–166

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:164 in the Quran reader

(فرشتے کہتے ہیں) اور ہم میں سے ایسا کوئی بھی نہیں کہ جس کے لیے ایک درجہ معین نہ ہو

وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ Open ayah 37:165 in the Quran reader

اور ہم ہی ہیں جو عبادت کے لیے صف بستہ کھڑے رہتے ہیں

وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ Open ayah 37:166 in the Quran reader

اور ہم اس کی تسبیح کیا کرتے ہیں

اس کے بعد خدا تعالیٰ ملائکہ کے وہ صفات ان کی زبانی اقرار کے موافق بیان فرماتا ہے کہ جن سے ان کا بندہ اور اس کی مخلوق ہونا ثابت ہوجاوے اور مشرکین کا خیال رد ہوجاوے فقال (1) وما منا الا لہ مقام معلوم۔ (2) وانا لحن الصافون، (3) وانا لنحن المسبحون یہ تین صفت ملائکہ کی ہیں کہ وہ یہ تین باتیں آپ کہتے ہیں، ان کا اقرار کرتے ہیں۔ پہلی صفت یہ کہ ہر ایک فرشتہ کا ایک درجہ معین ہے، اس سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ عام ہے کہ وہ درجہ تصرفات عالم سفلی و علوی کا ہو یا عبادت و تقرب کا ہو جو کام جس کو اور جو مرتبہ جس کو دیا گیا ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کرسکتا۔ دوسری صفت کے یہ معنی ہیں کہ ملائکہ حکمِ الٰہی بجالانے کے لیے یا عبادت کے لیے ہر گھڑی صف بستہ کھڑے رہتے ہیں، کسی بات میں کچھ بھی سرتابی نہیں کرسکتے۔ پھر جب ان کا یہ حال ہے تو وہ بیٹی اور بیٹے کیونکر ہوئے ؟ اور کسی کو بغیر حکم الٰہی کے کیا نفع و نقصان دے سکتے ہیں ؟ تیسری صفت کے یہ معنی ہیں کہ ملائکہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کیا کرتے ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ کہتے ہیں۔ تسبیح کے معنی ہیں، اللہ تعالیٰ کا بری باتوں سے پاک ہونا بیان کرنا اور دل میں اس کا عقیدہ رکھنا۔ اگر ان تینوں صفتوں کو ملایا جاوے تو یہ معنی پیدا ہوتے ہیں کہ ہر ایک فرشتہ کے لیے بارگاہِ رب العزت میں ایک مقام معین ہے، اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا، اسی حد پر صف باندھے ہوئے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں۔ وانا لنحن کلمات حصر اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ ملائکہ کی تسبیح و تہلیل عبادت و معرفت کے مقابلہ میں بندوں کی معرفت و عبادت محدود بلکہ کالعدم ہے۔ (تفسیر کبیر)
Ayahs 37:167–173

وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:167 in the Quran reader

اور البتہ عرب کے کافر کہا کرتے تھے

لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:168 in the Quran reader

کہ اگر ہمارے پاس پہلے لوگوں کا کوئی تذکرہ ہوتا

لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:169 in the Quran reader

تو ہم اللہ کے خالص بندے ہوجاتے۔

فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 37:170 in the Quran reader

پھر وہ اس سے منکر ہوگئے، پھر ابھی معلوم کرلیں گے

وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 37:171 in the Quran reader

اور البتہ ہمارے بندوں کے لیے ہمارا حکم پہلے سے ہوچکا ہے

اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۪ Open ayah 37:172 in the Quran reader

کہ انہی کی مدد کی جاوے گی

وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 37:173 in the Quran reader

اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔

وان کانوا لیقولون الخ مشرکین کے خیالات باطلہ کا رد کرکے ان کی نبی ( علیہ السلام) کے مبعوث ہونے سے پہلے جو تمنا تھی، اس کو بیان کرکے ان کو نادم کرتا ہے کہ پہلے تو وہ یہود و نصاریٰ کی سرکشی و ہلاکت کا حال سن کر یہ کہتے تھے کہ اگر پہلوں کی کتابوں میں کی کوئی کتاب تورات و انجیل جیسی ہمارے پاس ہوتی تو ہم بھی اللہ کے خالص بندے ہوجاتے، اس پر خوب عمل کرتے، پھر جب وہ کتاب یعنی قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ ان کے پاس آئے تو اس کے منکر ہوگئے، اب اس انکار کا نتیجہ ان کو بہت جلد معلوم ہوجاوے گا، جو کچھ ہم نے رسولوں کی معرفت فرمایا ہے۔ وہ سچ ہو کر رہے گا اور ہمارا گروہ غالب رہے گا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے۔
Ayahs 37:174–179

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:174 in the Quran reader

پھر آپ ان سے ایک وقت تک منہ موڑے رہو

وَّ اَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:175 in the Quran reader

اور ان کو دیکھتے رہو۔ سو وہ خود بھی دیکھ لیں گے۔

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 37:176 in the Quran reader

پھر کیا وہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی کررہے ہیں،

فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 37:177 in the Quran reader

پھر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا تو جن کو ڈر سنایا جاچکا ہے ان کی کیا ہی منحوس صبح ہوگی

وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:178 in the Quran reader

اور ان سے ایک وقت تک منہ موڑے رہئے

وَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:179 in the Quran reader

اور دیکھتے رہئے سو وہ بھی دیکھ لیں گے (کیا نتیجہ ملتا ہے) ۔

فتول عنہم حتی حین وہ کس لیے عذاب کی جلدی کرتے ہیں اور ہمارا عذاب جب کسی قوم پر آتا ہے تو ان کا برا دن اور ان کی صبح بری صبح ہوتی ہے۔ اے محمد ﷺ تو تھوڑے زمانہ تک ان سے اعراض کر اور صبر کر اور دیکھتا رہ وہ آپ دیکھ لیں گے، اس میں فتح بدر و دیگر فتوحات کی طرف بھی اشارہ ہے اور نیز مرنے کے بعد جو کچھ بلا پیش آنے والی ہے اس کی طرف بھی۔
Ayahs 37:180–182

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ Open ayah 37:180 in the Quran reader

آپ کا رب جو رب العزت ہے جو کچھ وہ کہتے ہیں ان سے پاک ہے

وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ Open ayah 37:181 in the Quran reader

اور رسولوں پر سلام

وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 37:182 in the Quran reader

اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہان کا رب ہے۔

اس کے بعد خدا تعالیٰ سورة کو کن عمدہ مطالب کی طرف اشارہ کرکے تمام کرتا ہے۔ فقال سبحان ربک رب العزت عما یصفون۔ وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین، عاقل کے لیے تین باتوں کی معرفت اور علم اعلیٰ درجہ کا کام ہے۔ (1) خدا تعالیٰ اور اس کے صفات کا جاننا حتی المقدور اور اس کے صفات تین قسم کے ہیں۔ اول تمام عیوب و نقص سے اس کو پاک جاننا اس کے لیے لفظ سبحان آیا۔ دوم اس کے لائق صفات الوہیۃ سے واقف ہونا اس کے لیے ربک رب العزۃ آیا۔ ربوبیت ‘ حکمت و رحمت ‘ علم وقدرت پر دال ہے۔ عزۃ کمال قدرت و جبروت پر۔ سوم یہ کہ وہ اپنی خدائی میں شریک ہونے سے پاک ہے، اس کے لیے عما یصفون آیا۔ (2) یہ کہ دنیا میں کن لوگوں کا طریقہ ایسا ہے کہ جس کے اختیار کرنے سے سعادت دارین حاصل ہو اور سلامتی اور ذکر جمیل کے قابل ٹھہرے ؟ سو وہ رسولوں کا طریقہ ہے، اس کی طرف وسلام علی المرسلین میں اشارہ ہوا کہ ان پر سلامتی ہے۔ (3) مرنے کے بعد کیا ہوگا اور کیا پیش آوے گا ؟ اس بات کی طرف الحمد للہ رب العالمین میں اشارہ کیا کہ جو شخص ہر ایک ستائش کے قابل ہے اور وہ تمام عالم کا مربی اور خیر محض ہے، مرنے کے بعد رسولوں کے مطیع کو اس کی ربوبیت و رحمت حیات ابدی و سرور سرمدی عطا کرے گی۔ الٰہی ہم کو بھی نصیب کر۔