37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 37:114–122

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ہارون پر (بار بار) احسان کیا

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو بڑی مصیبت سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اور ان کی مدد کی پھر تو وہی غالب رہے

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

اور ان دونوں کو واضح کتاب دی

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

(توریت) اور ان کو سیدھا راستہ دکھایا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور ان کے لیے آیندہ نسلوں میں یہ باقی رکھا

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

(کہ لوگ کہتے ہیں) موسیٰ اور ہارون پر سلام

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

اور ہم نیکوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں،

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

کیونکہ وہ دونوں ہمارے ایماندار بندوں میں سے ہیں

حضرت موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) کا قصہ : یہ تیسرا قصہ حضرت موسیٰ و ہارون علی نبینا و علیھما السلام کا ہے جو آنحضرت ﷺ کے حال سے نہایت مناسبت رکھتا ہے، اس جگہ ان دونوں بھائیوں کی نسبت صرف یہی مقصود تھا کہ ان دونوں کو اور ان کی برکت سے ان کی قوم کو بڑی مصیبت سے رہائی دی۔ شاہ مصر کی قید اور سخت تکلیف میں مبتلا تھے اور نہ صرف بلا سے بچایا بلکہ فرعونیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کرکے غالب کردیا کہ ان کا داؤ نہ چلا، صاف ملک مصر سے مصریوں کا مال و زیورات لے کر نکل آئے اور اے عرب ! تمہاری بہتری بھی محمد ﷺ کی اتباع میں ہے، تم بھی انہی کی برکت سے ملکوں کے مالک ہوجاؤ گے اور ان دونوں کو روشن کتاب یعنی توریت دی تھی، جس طرح محمد ﷺ کو قرآن دیا اور ان کو راہ راست کی ہدایت کی جس طرح کہ حضرت کو اور دنیا میں ابد تک ان کا ذکر جمیل باقی چھوڑا پچھلی امتیں ان پر سلام بھیجتی ہیں اور نیکوں کا یہی بدلہ ہوا کرتا ہے۔
Ayahs 37:123–132

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

(اے نبی ! ) اور بیشک الیاس بھی رسولوں میں سے ہیں،

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے۔

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑتے ہو۔

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

اللہ کو جو کہ تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب ہے۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس کو جھٹلایا تو وہ عذاب میں گرفتار کئے گئے،

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

مگر اللہ کے خالص بندے (محفوظ رہے)

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور پچھلی امتوں میں ہم نے ان پر یہ چھوڑا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

کہ الیاس پر سلام ہو۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم نیکوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں،

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

کیونکہ وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے ہیں۔

الیاس کا قصہ : وان الیاس لمن المرسلین یہ چوتھا قصہ حضرت الیاس ( علیہ السلام) کا ہے۔ کتاب السلاطین کے سترہویں باب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جلعاء شہر کے رہنے والے تھے جو ملک شام میں ہے اور اخی اب بادشاہ بنی اسرائیل والی شہر سمرون کے عہد میں تھے۔ حضرت مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً نو سو دس برس پیشتر، یہ یا ہو نبی کے بعد مبعوث ہوئے تھے۔ دوسری کتاب السلاطین کے پہلے باب میں یہ ہے۔ اخیزماہ اخی آب کے بیٹے نے چند قاصد بھیجے کہ جاؤ عقرون کے معبود لعل زبوب سے پوچھو کہ میں اس بیماری سے چنگا ہوں گا کہ نہیں اس دم خدا نے حضرت الیاس ( علیہ السلام) کو حکم بھیجا کہ ان قاصدوں سے کہہ دے کہ تو نے خدا کو چھوڑ کر بعل سے پوچھا تو اپنے بستر پر مرے گا، قاصد بادشاہ پاس آئے اور کہا ایک شخص نے ہمیں یہ کہہ کر واپس بھیجا ہے، بادشاہ نے اس کی شکل پوچھی تو انہوں نے کہا کہ وہ بہت بالوں والا آدمی تھا اور چمڑے کے تسمے سے اپنی کمر کسے ہوئے تب اس نے کہا وہ تسیمی ایلیاہ تھا۔ ان حضرت نے اخی آب کے عہد میں ایک سخت قحط پڑنے کی خبر بھی دی تھی اور ان کو وادی کریب میں رہنے کا حکم ہوا تھا جو یرون ندی کے سامنے ہے اور صبح و شام کوئی ان کے لیے گوشت و روٹی لاتے تھے اور نالہ کا پانی پیتے تھے، جب نالہ بھی خشک ہوا تو ان کو حکم ہوا کہ اٹھ اور شہر صیدا کے ساریث کو جا وہاں ایک بیوہ تیری پرورش کرے گی۔ سو یہ آئے اور بیوہ سے کھانے پینے کو کچھ مانگا، اس نے کہا مٹکے میں تھوڑا سا آٹا اور لوٹے میں کچھ تیل ہے جس سے ایک ٹکیا تلی جاسکتی ہے۔ آپ نے فرمایا، میرے پاس لا وہ لائی آپ کی برکت سے قحط کے دنوں تک وہ آٹا اور تیل کم نہ ہوا، پھر اس بیوہ کا بیٹا مرگیا تھا، ان کی دعا سے زندہ ہوا (کتاب السلاطین 17۔ باب) اخی آب شاہ سمرون نے سینکڑوں نبی قتل کروا ڈالے تھے، عبد یاہ دیوان نیک تھا، صرف اس نے چند کو بچایا۔ ایلیاس کی تلاش تھی خدا کا حکم ہوا کہ اخی آب سے مل۔ یہ ملے اور باہم گفتگو ہوئی، آخر ان میں اور بعل کے کئی سو پجاریوں میں امتحان کی ٹھہری کہ دیکھیں کس کا معبود قدرت دکھاتا ہے ؟ آخر حضرت ایلیاہ ( علیہ السلام) غالب آئے۔ یہ معرکہ کرمل پہاڑ کی چوٹی پر گزرا تھا اور ان پجاریوں کو ایلیاہ نے وادی قیسون میں لاکر قتل کیا اور بارش کی دعا مانگی۔ خدا تعالیٰ نے قحط دور کیا، مگر اس پر بھی ایزبل اس شاہ کے شریر اور بت پرست وزیر نے ایلیاہ ( علیہ السلام) کی ہلاکت کا قصد کیا۔ ایلیاہ وہاں سے بیرسیع آئے، پھر وہاں سے جنگل میں چلے گئے، پھر حورب پہاڑ کے کسی غار میں میں جاچھپے، وہاں کچھ دنوں کے بعد ان کو حکم ہوا کہ دمشق کو جا اور حزئیل کو ممسوح کر کہ وہ ارآم کا بادشاہ ہو وے اور نمسی کے بیٹے یا ہو کو ممسوح کر کہ اسرائیل کا بادشاہ ہو وے اور سقط کے بیٹے السیع کو ممسوح کر کہ تیری جگہ نبی ہو وے، چناچہ ایسا ہی کیا۔ پھر الیسع کو ساتھ لے کر یرون پار اترے اور باتیں کرتے جاتے تھے کہ ایک آتشی رتھ آتشین گھوڑے جوتے ہوئے نمودار ہوا، اس میں ہو کر ایلیاہ ( علیہ السلام) آسمان پر چلے گئے۔ (2 کتاب السلاطین، 2 باب) ان کو ایلیاہ بھی کہتے ہیں اور الیاس ( علیہ السلام) بھی اور عرب کے لوگ الیاسین بھی کہہ دیتے ہیں، جیسا کہ کوہ سینا، کوہ سینین، بعض کہتے ہیں جب ان کے اتباع کا لحاظ کرتے ہیں تو الیاسین کہتے ہیں ورنہ الیاس۔ اس زمانہ میں بعل 1 ؎ ایک بت تھا، کسی عورت یا کسی اور چیز کے نام کا بہت لوگ اسی کی پرستش کیا کرتے تھے، اسرائیل کا بےایمان بادشاہ بھی اسی بلا میں گرفتار تھا۔ بعلبک شہر جو اب تک موجود ہے، اسی کے نام سے نامزد ہے۔ 1 ؎ یہ بائیس ہاتھ کا بت سونے کا یا کسی عمدہ دھات کا تھا۔ چار سو پچاس پجاری تھے۔ جو نبی کلاتے تھے لوگوں کو غیب کی خبریں دیا کرتے تھے خلقت ان سے مدد مانگنے آتی تھی نذریں چڑھاتی تھی ایک بڑی پر تکلف درگاہ بنا رکھی تھی اور اس کی تعظیم ادب کے قاعدے مقرر کر رکھے تھے یہ بدبخت مجاور نئی نئی اس کرامات و حکایات لوگوں کو سناتے تھے کہ فلاں کی یہ مراد بعل نے وہی فلاں نے نذرانہ ادا نہ کیا تھا اس کو یوں برباد کیا سجدہ کیا کرتے تھے اس کے آگے قربانی ہوتی تھی باجے بجا کرتے تھے ایک عجب ٹھاٹھ بنا رکھا تھا جو حضرت الیاس ( علیہ السلام) کے ہاتھ سے مدھم ہوگیا۔ 12 منہ
Ayahs 37:133–138

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور البتہ لوط بھی رسولوں میں سے ہے،

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

جبکہ ہم نے اس کو اوراس کے سب کنبہ کو بچالیا،

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی،

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر اور سب کو ہم نے ہلاک کردیا

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور البتہ تم ان کی بستیوں پر سے صبح ہوتے

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو بھی گزرتے ہو، پھر کیوں نہیں سمجھتے

وان لوطا لمن المرسلین یہ پانچواں قصہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے، بحیرہ مردار کے پاس چند بستیاں تھیں۔ سدوم عمورہ وغیرہ وہاں حضرت رہتے تھے، ان لوگوں کو بدفعلی کی عادت تھی، لڑکوں کے ساتھ لواطت کیا کرتے تھے۔ حضرت نے بہت کچھ سمجھایا۔ آخر نہ مانا خدا نے ان کو ہلاک کیا۔ لوط اور اس کا خاندان بجز بیوی کے سب بچے باقی سب برباد ہوگئے، وہ بستیاں الٹی گئیں۔ وانکم لتمرون قریش شام کے ملک میں تجارت کے لیے آیا جایا کرتے تھے، یہ الٹی ہوئی بستیاں ان کو رستے میں ملتی تھیں، کبھی قافلہ کو رات وہاں پڑتی تھی، کبھی صبح ہوتے قافلہ وہاں سے نکلتا تھا۔ یہ ہیں معنی مصبحین و بالیل کے فرماتا ہے۔ افلا تعقلون تم پھر بھی عبرت نہیں کرتے۔ پیغمبر کی مخالفت سے باز نہیں آتے۔
Ayahs 37:139–148

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور البتہ یونس رسولوں میں سے ہے،

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جبکہ وہ بھاگ کر بھری کشتی کی طرف آیا،

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

پھر ان کے نام کا قرعہ نکلا تو دریا میں پھینک دیے گئے۔

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

پھر ان کو مچھلی نگل گئی اور وہ بہت ہی شرمندہ تھے،

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

پھر اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو اس کے پیٹ میں حشر تک پڑے رہتے۔

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو چٹیل میدان میں لاڈالا

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور وہ بیمار تھے اور اس پر ہم نے کدو کا ایک پیڑ اگادیا

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اور اس کو لاکھ آدمیوں بلکہ اس سے بھی زیادہ کی طرف بھیجا۔

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

پھر وہ ایمان لائے تو ان کو ایک وقت تک رسایا بسایا۔

وان یونس یہ چھٹا قصہ حضرت یونس ( علیہ السلام) کا ہے جس کا مفصل بیان ہم سورة یونس میں کر آئے ہیں۔ یہ حضرت بھی بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ عبرانی میں ان کو یونہ کہتے ہیں۔ متی ان کے والد کا نام ہے۔ مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً آٹھ سو باسٹھ برس آگے ان کو حکم ہوا کہ شہر نینوہ میں جاکر منادی کرے۔ انہوں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ حلیم و غفار ہے جس عذاب کا میں ان سے وعدہ کروں گا، اس کے موافق شاید ان پر بلا نہ پہنچے، میں جھوٹا پڑوں اس لیے وہاں سے بھاگ کر شہر ترسیس کو چلے اور یافہ سے جو جہاز ترسیس جانے کو تھا، اس میں سوار ہوگئے۔ راستہ میں سخت طوفان آیا، قرعہ ڈالا گیا کہ کس کے سبب سے یہ بلا آئی ہے ؟ انہی کا نام نکلا۔ ملاحوں نے ان کو سمندر میں ڈال دیا، مچھلی نے لقمہ کرلیا، اس کے پیٹ میں جاکر خدا تعالیٰ سے دعا کی اور تسبیح و تقدیس کی جس کے سبب ان کو مچھلی نے کنارہ پر اگل دیا، اگر یہ دعا و تسبیح نہ کرتے، وہیں مر کر 1 ؎ رہ جاتے، قیامت تک سمندر ہی میں رہتے۔ مچھلی کے اندر تین رات دن رہنے سے بیمار ہوگئے تھے، بدن کی کھال گل گئی تھی، خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس پر چھائوں کرنے کو کدو کی قسم سے ایک پیڑ اگایا، یقطین بفعیل من قطن بالمکان اذقام بہ والاکثر علی انھا کانت الدباء غطتہ با ور اقھا عن الذباب (بیضاوی) پھر ان کو حکم ہوا کہ اٹھ اس بڑے شہر نینوہ کو جا اور وہاں اس بات کی منادی کر جس کا میں تجھے حکم دیتا ہوں، تب یونس ( علیہ السلام) نینوہ 2 ؎ گئے۔ نینوہ کا احاطہ یا شہر پناہ تین دن کی راہ تھی، اس میں لاکھ آدمی 3 ؎ سے زیادہ رہتے تھے۔ ماتہ 4 ؎ الف اویزیدون یہ تخمینہ دیکھنے والے کے محاورہ کے مطابق ہے کہ اس کو دیکھنے والا یہ خیال کرتا تھا، ورنہ خدا کو اصلی تعداد معلوم تھی اور ہے۔ شہر میں جاکر وعظ کیا اور بت پرستی کی سزا میں عذاب الٰہی نازل ہونے کی خبر دی، لوگوں نے اور وہاں کے بادشاہ نے توبہ کی اور سب نے روزہ رکھا۔ یہاں تک کہ حیوان کے بچوں کو بھی کھانے پینے سے باز رکھا اور سب گریہ وزاری میں مصروف ہوگئے۔ خدا نے عذاب ٹال دیا، مگر یونس ( علیہ السلام) سخت رنجیدہ ہوئے کہ میں لوگوں کی نظروں میں جھوٹا ٹھہرا اور عرض کی کہ خداوندا میں تجھے پہلے ہی سے جانتا تھا کہ تو رحیم و کریم ہے۔ غصہ کرنے میں بڑا دھیما ہے، اس لیے میں نینوہ آنا پسند نہیں کرتا تھا اور ترسیس کو بھاگا تھا۔ یونس ( علیہ السلام) شہر کے باہر ایک جھونپڑی بناکر شہر کا حال دیکھنے کے لیے بیٹھ گئے، ان پر سایہ کرنے کو ایک ارنڈی کا پیڑ اگا۔ اگلے دن اس کو کیڑے نے کاٹ دیا، وہ سوکھ گیا جس سے یونس ( علیہ السلام) کو رنج ہوا۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا، تجھے ایک درخت پر رحم آیا جو تیری محنت سے نہ پیدا ہوا تھا، پھر میں ایسے شہر پر کیوں رحم نہ کرتا ؟ یہ بھاگنا اور نینوہ آنے سے انکار کرنا اور عذاب نہ آنے سے رنجیدہ ہونا خدا تعالیٰ اور اس کے نبی میں راز و نیاز کی باتیں ہیں۔ یہ معصیت نہیں۔ اگر یہ گناہ ہے تو انہی کی شان کے خلاف بات ہونے کے لحاظ سے گناہ ہے۔ جس پر وہ استغفار کرتے اور معانی چاہتے تھے۔ قانون شریعت کے برخلافی کے گناہ نہ تھے۔ فساھم المساہمتہ الاقتراع قرعہ انداختن، المدحضین المغلوبین یقال و حضت حجتہ و اوحضھا اللہ و اصلہ الزلق من مقام الظفر، ملیم نادم، شرمندۃ من الملامۃ العراء الصحراء میدان جنگل چٹیل، بحر روم کا کنارہ جہاں بجز ریت کے اور کچھ نہیں تھا۔ 1 ؎ اے لصاء بطن الحوت لہ قبرا ای یوم البعث 12 منہ 2 ؎ شہر موصل کے قریب یہ شہر آباد تھا۔ 12 منہ 3 ؎ ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ کتاب یونہ باب 5 درس 11 ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے او یزیدون کے معنی پوچھے آپ نے فرمایا بیس ہزار (ترمذی) بعض روایات میں آیا ہے تیس ہزار ایک لاکھ۔ 12 منہ 4 ؎ بعض کہتے ہیں ار بمعنی و یعنی لاکھ اور اس سے زیادہ۔ 12 منہ