37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 37:75–101

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور البتہ نوح نے ہم کو (مدد کے لئے) پکارا تو (ہم نے ان کی مدد کی) ہم عمدہ فریاد رس ہیں

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

کہ ہم نے ان کو اور ان کے کنبے کو بڑی بےچینی سے بچالیا

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور اس کی نسل کو باقی رہنے والا بنایا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور آنے والی نسلوں کو نوح پر

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

دُنیا بھر میں سلام بھیجنے والا کردیا،

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

ہم نیکوں کو یوں بدلا دیا کرتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بیشک نوح ہمارے ایماندار بندوں میں سے ہے۔

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو غرق کردیا

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور البتہ نوح کے طریق پر چلنے والوں میں سے ابراہیم بھی تھے،

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جبکہ وہ پاک دل سے اپنے رب کی طرف رجوع ہوئے۔

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب کہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ کیا ہے جس کو تم پوجتے ہو۔

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا خدا کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ کے معبودوں کو چاہ رہے ہو۔

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

تم نے دنیا بھر کے پروردگار کو کیا سمجھ رکھا ہے،

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پھر اس نے ستاروں میں ایک نگاہ کرکے کہہ دیا

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

کہ میں بیمار ہوں۔

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

پھر وہ لوگ ان کو چھوڑ کر چل دیے،

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

پھر ابراہیم ان کے بت خانہ میں جابیٹھے (اور بتوں سے) کہنے لگے تم (اس چڑھاوے کو) کھاتے کیوں نہیں ہو،

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوا جو بولتے بھی نہیں۔

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر تو ابراہیم بڑے زور سے ان کے توڑنے پر پل پڑے،

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

پھر جب بت پرست ابراہیم کے پاس دوڑتے ہوئے آئے۔

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کیا تم اپنے ہاتھ کے تراشے ہوئے بتوں کو پوجتے ہو،

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ اللہ نے تم کو اور تمہارے بنائے ہوئے بتوں کو بنایا ہے۔

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

(بت پرست خجل ہوکر) کہنے لگے ابراہیم کے لیے ایک بھٹی چنو پھر اس کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو ۔

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

پھر انہوں نے ان سے داؤ کرنا چاہا۔ (مگر) ہم نے انہی کو زیر کردیا

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور ابراہیم نے (جبکہ ان کے باپ نے گھر سے نکال دیا تھا) یہ کہا کہ میں خدا کی طرف جاتا ہوں وہ مجھے عنقریب رستہ بتا دے گا۔

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

(اور یہ دعا کی) اے رب ! مجھ کو نیک (فرزند) عطاء کر

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو بردبار لڑکے کی خوش خبری دی۔

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند ایماندار کشتی میں بچ رہے اور پھر اسی کی نسل باقی ہے اور نوح ( علیہ السلام) کو ہمیشہ لوگ نیکی سے یاد کریں گے۔ سلام بھیجیں گے، اسی طرح محمد ﷺ کے زمانہ بعثت میں تمام عالم کفر وبت پرستی اور ہر ایک طرح کی بدکاری سے پر تھا ‘ توہمات باطلہ کی پرستش ہوا کرتی تھی، ان کے علاج کو ایک ایسا زبردست حکیم بھیجا کہ جس کے علاج نے بہت جلد اثر کیا۔ نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم غرق ہوا۔ آنحضرت ﷺ کے عہد میں غرق سے بچاکر منور کردیا گیا۔ نوح ( علیہ السلام) کا فیض کشتی میں سوار ہونے والوں کو پہنچا۔ آپ کا تمام عالم کو۔ اسی طرح آپ کے عہد کے سرکش بھی ہلاک ہوئے اور آپ اور آپ کے تصدیق کرنے والے جلد سرسبز ہوئے۔ نوح ( علیہ السلام) کی کشتی لکڑیوں کی تھی، آپ کی کشتی عترت پاک اور قرآن مجید ہے جو قیامت تک رہے گا۔ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے، جو بوجوہ متعددہ آپ کے حال سے نہایت مناسب ہے اور دونوں قصوں کو ایک اور بھی مناسبت ہے کہ اے قریش اور اے سرکش عرب و نصاریٰ و یہود تم ذرا اپنے جد امجد کو تو دیکھو، یعنی ابراہیم کو کہ وہ کیسے موحد اور بت شکن تھے۔ تم الٹے ان کی اولاد اور متبع کہلاکر بت پرست بن گئے اور یہی الزام تمام عالم پر خدا تعالیٰ کا حضرت نوح ( علیہ السلام) کی نسل ہونے کے سبب سے عائد ہوتا ہے۔ نوح ( علیہ السلام) پہلے تھے اس لیے ان کا قصہ پہلے بیان ہوا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بعد ہوئے ان کا قصہ بعد میں بیان فرمایا کہ ان کی قوم اور ان کا خاندان باپ تک بت پرست تھے اور ستاروں کی بھی پرستش کیا کرتے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کس حجت سے ان کو ملزم کیا، مگر بجائے اس کے کہ خدا پرستی اختیار کرتے، ان کی ایذاء کو درپے ہوگئے۔ آگ میں ڈالنے کا سامان کیا، اللہ نے اس کو بچالیا، اس کے اوپر انہوں نے وہ وطن چھوڑ دیا۔ شام کی طرف آئے پردیس میں آکر انسان کو قوت اعوانیہ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اس لیے نیک اولاد کی دعا کی۔ اللہ نے آپ کو حلیم لڑکے کا مژدہ دیا۔ حلیم کے لفظ میں یہ بات بھی بتلائی گئی کہ وہ جوان بھی ہوگا، یعنی عمر بھی اچھی ہوگی، کس لیے کہ بچے کو حلیم نہیں کہتے۔ آخر خدا تعالیٰ کے فضل سے فرزند ارجمند پیدا ہوا۔
Ayahs 37:102–112

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

پھر جب وہ لڑکا ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے لگا تو ابراہیم نے کہا بیٹا خواب میں دیکھا کہ میں تجھ کو ذبح کرتا ہوں، پھر تو کہہ تیری کیا رائے ہے۔ اس نے کہا ابا جان جو کچھ حکم ہوا ہے اس کو بجا لایئے۔ آپ مجھ کو انشاء اللہ صابر ہی پائیں گے،

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

پھر جب دونوں تیار ہوگئے اور اس کو ابراہیم نے منہ کے بل گرایا

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو آواز دی کہ اے ابراہیم !

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

تونے خواب کو سچ کر دکھایا۔ ہم نیک بختوں کو اسی طرح سے بدلہ دیا کرتے ہیں،

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

البتہ یہ صریح آزمائش ہے

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے بڑی قربانی کو اس کا ذریعہ بنادیا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور ہم نے آنے والی نسلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

(کہ سب خدا پرست کہتے ہیں) ابراہیم پر سلام ہو۔

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم نیک بندوں کو ایسا ہی نیک بدلہ دیا کرتے ہیں،

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

کیونکہ وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے ہے

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو (دوسرے فرزند) اسحاق کی بھی خوشخبری دی کہ وہ نبی (اور) نیک لوگوں میں سے ہوگا

ترکیب : فلما اسلما جو ابہ محذوف ظھر صبر ھما اوصدقھما او نحوہ ھذا عند البصرییں وعند الکوفیین جو ابہ نادیناہ والواو زائدۃ و تلہ صرعہ و اسقطہ فی القاموس تلہ تلامن باب قتل فھو متلول و تلیل صرعہ یقال تللت الرجل اذا القیتہ و التسل الصرع۔ تفسیر : ان آیات میں قابل بحث دو ہی بات ہیں۔ اول یہ کہ یہ بیٹے کے ذبح کرنے کا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح سے پیش آیا ؟ اس کی بابت ہمارے مفسروں کا یہ بیان ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چھیاسی برس کی عمر میں ہاجرہ مصری کے پیٹ سے ان کی بڑی منت والتجا کے بعد پہلوٹھا بیٹا اسماعیل ( علیہ السلام) عطا کیا جس کی نسبت یوں فرماتا ہے اور اسماعیل ( علیہ السلام) کے حق میں میں نے تیری سنی دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھائوں گا اور اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اس سے بڑی قوم بنائوں گا “ (توریت سفر پیدائش 17 باب 20 درس) خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا اور طرح طرح سے امتحان کیا۔ اذ ابتلی ابراہیم ربہ بکلماتٍ فاتمہن سب باتوں میں پورے نکلے۔ ایک بڑی آزمائش یہ تھی کہ خواب میں الہام کے طور پر فرمایا کہ اگر ہماری محبت میں تو صادق ہے تو اپنے پیارے فرزند کی قربانی کر حضرت ( علیہ السلام) نے اس کی تعمیل کی، اس خواب سے جو بیدار ہوئے تو سمجھے کہ امتحان مقصود ہے، خیال کیا کہ اگر یوں ہی بیٹے کو قربانی کرتا ہوں تو خاص اپنے ہی فرض منصبی سے ادا ہوتا ہوں، بیٹے سے بھی پوچھ کر آزمانا چاہیے کہ وہ میرا سچا جانشین ہے کہ نہیں، اگر اس نے بھی اس حکم کو مان لیا تو میرا پورا نمونہ ہے، دونوں خدا تعالیٰ کے عاشقوں میں داخل ہوئے، وہ بھی اس سعادت میں شریک ہو ورنہ خیر میں تو حاضر ہوں اور یہ بھی مصلحت ہوگی کہ کوئی حضرت ( علیہ السلام) پر قتل فرزند کا الزام نہ لگاوے، اس لیے ان سے خواب کا معاملہ بیان کرکے پوچھا۔ فانظر ماذا ترٰی کہ اب تیری کیا مرضی ہے ؟ آخر وہ بھی مقبول کبریا اور ایسے باپ کے خلف الصدق تھے۔ فوراً کہہ دیا : یا ابت افعل ماتؤمر کہ آپ اس حکم کو بجا لایئے میں حاضر ہوں، صبر کروں گا شکوہ بھی زبان پر نہ لائوں گا۔ بیٹے کو ساتھ لے کر قربان گاہ میں ذبح کرنے چلے، وہاں جاکر فرزند دلبند کو ذبح کے لیے زمین پر ڈالا چاہتے تھے کہ چھری پھیردیں، خداوند تعالیٰ نے آواز دی اے ابراہیم ! اے ابراہیم ! بس بس خواب تیرا سچا ہوگیا، تو نے قربانی کردی، اس کے صلہ میں دونوں کو دارین کی سعادت و برکات عطا ہوئیں۔ انا کذلک نجزی المحسنین اور ہم نیکوں اور صادقوں کو یوں ہی بدلہ دیا کرتے ہیں، درحقیقت ان ھذا لہو البلٰوا المبین یہ بڑی ہی آزمائش تھی۔ بیٹا تو بڑی چیز ہے اور وہ بھی بڑھاپے کا بیٹا اور اکلوتا بیٹا اور ایسا لائق اور خوبصورت بیٹا مال و آبرو بھی اس کے لیے قربان کرنا بڑے جوانمردوں کا کام ہے، مگر وہ بھی بڑی سرکار عالی ہے، کسی کی جان اور مال لیتے نہیں، صرف دیکھتے ہیں۔ وفدیناہ بذبح عظیم اس کی جگہ خدا نے ایک مینڈھا موٹا تازہ دکھاکر حکم دیا کہ اس کو ذبح کردو، چناچہ اس کو کیا اور فرزند سلامت آیا، آخرت کے درجات دنیا کی ابد تک نیک نامی ذکر جمیل اس کے بدلہ میں حاصل کیا۔ وترکنا علیہ فی الاخرین سلام علی ابراھیم پچھلی امتوں کے لوگ ہمیشہ ان پر سلام بھیجتے ہیں اور قیامت تک بھیجا کریں گے اور کچھ ان پر موقوف نہیں۔ کذلک نجزی المحسنین ہم ہمیشہ نیکوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔ ایک بیٹے کو ذبح کرنے چلے تھے، اس کو بھی خدا نے سلامت رکھا اور ان کے خلوص کے بدلہ میں وبشرناہ باسحاق نبیًا من الصالحین اور دوسرے بیٹے اسحاق کا مژدہ بھی دیا جو نبی اور نیک بختوں میں سے تھے، چناچہ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) حضرت سارٰی کے پیٹ سے پیدا ہوئے، جس کی نسل سے سینکڑوں بادشاہ اور ہزاروں نبی نکلے اور ان کو خدا نے برکت دی۔ یہ ہے توحید و اخلاص و ایمان کا نتیجہ۔
Ayah 37:113

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق پر برکتیں نازل کیں اور ان دونوں کی اولاد میں سے کچھ نیک بھی ہیں اور کچھ ابراہیم پر صریح ظلم بھی کررہے ہیں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ کے ہم زمانہ لوگوں عرب و یہود و نصاریٰ وغیرہم کو جو ان کی ذریت کہلانے کا فخر حاصل کرتے ہیں۔ یہ سناتا ہے۔ ومن ذریتہما محسن و ظالم لنفسہٖ مبین کہ ان کی نسل کے لوگوں میں سے نیک بھی ہیں، جیسا کہ جناب محمد مصطفیٰ ﷺ اور ان کے پیرو اور ظالم بھی ہیں اور وہ ظلم انہی کے لیے ہے، اس کا وبال انہی پر پڑے گا، بت پرستی، بدکاری کا وہی نتیجہ پاویں گے۔ اس جملہ میں تعریض ہے کہ جو ابراہیم و اسحاق و اسماعیل کے طریقے پر نہیں، وہ ان کی نسل سے ہونے کے فخر کو محض بیکار جانے۔ نہ وہ اس برکت کے وعدہ کا شریک ہے، ان کے بیٹے نے تو باپ کی (راہِ حق میں) یہاں تک اطاعت کی کہ جان دینے پر آمادہ ہوگئے۔ پھر یہ جو ابراہیم (علیہ السلام) کی اتنی بات بھی نہیں مانتے (کہ خدا پرستی اختیار کریں بدکاری کو چھوڑیں، اس کی نسل کے مقدس رسول آخر الزمان ( علیہ السلام) کے کہنے پر چلیں) تو کیسے فرزند ہیں ؟ یہی مقصود ہے، اس قصہ سے دوسری بات قابل بحث یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ان دونوں بیٹوں میں سے کون سے کے لیے ذبح کا حکم ہوا تھا ؟ عمرو علی و عباس بن عبدالمطلب و ابن مسعود و کعب احبارو قتادہ و سعید بن جبیر و مسروق و عکرمہ و زہری و سدی و مقاتل ؓ کہتے ہیں۔ اسحاق ( علیہ السلام) کے ذبح کا حکم ہوا تھا اور یہود و نصاریٰ بھی اسی کے قائل ہیں اور توریت سفر پیدائش کے بائیسویں باب میں بھی یہی ہے۔ اور ابن عباس و ابن عمرو سعید ابن المسیب و حسن بصری و شعبی و مجاہد و کلبی وغیرہم علماء کا ایک جم غفیر یہ کہتا ہے کہ حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کے ذبح کا حکم ہوا تھا۔ مفسرین نے فریقین کے دلائل کو نقل کیا ہے، ابن جریر مفسر نے پہلے قول کی تائید کی ہے اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں دوسرے قول کی بڑی تائید کی ہے۔ فریقین نے دلائل میں قرآن مجید کے قرائن اور احادیث و اقوال سلف کو پیش کیا ہے۔ قرآن مجید کی بابت ہماری یہ رائے ہے کہ ان سے دوسرے قول کی تائید نکلتی ہے۔ جیسا کہ ابھی ہم بیان کریں گے اور احادیث کی بابت ہمارا یہ فیصلہ ہے کہ جہاں تک ہم نے فریقین کی احادیث پیش کردہ پر نظر ڈالی، یہ بات ثابت ہوئی کہ کسی صحیح حدیث میں اس بات کی تصریح نہیں کہ وہ اسماعیل ( علیہ السلام) تھے یا اسحاق علیہ السلام۔ اب ہم وہ دلائل بیان کرتے ہیں کہ جن سے یہ ثابت ہوجاوے کہ حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) ہی مراد ہیں۔ اوّل یہی آیات ثابت کررہی ہیں، کس لیے کہ یہاں یہ ہے۔ وھب لی من الصالحین کہ الٰہی مجھے نیک لڑکا عطا کر جس کے بعد فرمایا فبشرناہ بغلامٍ حلیمٍ کہ ہم نے اس کو حلیم لڑکے کا مژدہ دیا، پھر اسی حلیم لڑکے کا یہ تذکرہ ہے کہ فلما بلغ معہ السعی الخ کہ وہ ہوشیار ہوا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے خواب بیان کیا کہ میں نے تجھ کو خواب میں ذبح ہوتے دیکھا ہے، پھر سب قصّہ اسی غلام حلیم کا ہے اور اس کے بعد فرمایا۔ و بشرناہ باسحاق نبیا من الصالحین کہ ہم نے اسحاق ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے کا مژدہ دیا اور اسحاق کو نبی صالح کے وصف سے یاد کیا، جیسا کہ اس کو حلیم کے وصف سے یاد کیا تھا۔ یہ صاف قرینہ ہے کہ وہ غلام حلیم کوئی اور لڑکا تھا، اسحاق کے سوا ورنہ پھر باردگر اس کے اعادہ کی کیا ضرورت تھی اور یہ سب کے نزدیک مسلم ہے کہ اسحاق ( علیہ السلام) سے پہلے بجز اسماعیل ( علیہ السلام) کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کوئی لڑکا نہ تھا۔ یہی بڑے تھے اور حضرت اسحاق ( علیہ السلام) سے تخمیناً چودہ برس بڑے تھے، ہم اسی پر بس کرتے ہیں۔ فریق ثانی کی طرف سے اس پر ایک بڑا قوی شبہ ہوتا ہے وہ یہ کہ توریت سفر پیدائش کے 22 باب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسماعیل ( علیہ السلام) نہیں بلکہ اسحاق ( علیہ السلام) کے ذبح کا حکم ہوا تھا اور مور یہ پہاڑ پر قربان گاہ میں ذبح کرکے آگ میں جلانے لے گئے تھے، اس کا جواب بہت آسان ہے۔ وہ یہ کہ بارہا دلائل سے ہم ثابت کرچکے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کے پاس جو بالفعل ایک کتاب توریت کے نام سے موجود ہے۔ یہ وہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی توریت نہیں بلکہ ایک مجموعہ ہے، اس کے مضامین و دیگر قصص و حکایات و دستورات کا پھر یہ بھی تحریف سے خالی نہیں ہے، اس کے بھی اہل کتاب کے محققین مقر ہیں، پھر اس کتاب پر خصوصاً ان مواقع میں جہاں بنی اسرائیل کے مقابلہ میں اسماعیل ( علیہ السلام) کی فوقیت ثابت ہو، کسی طرح سے اعتبار نہیں ہوسکتا اور جبکہ ہم بہت سے تاریخی واقعات میں غلطی دیکھتے ہیں، پھر کیونکر وثوق کریں ؟ موابی لوگوں کا بنی اسرائیل سے جھگڑا رہا کرتا تھا، ان کو ولد الحرام بنانے کے لیے توریت میں یہ بھی لکھ مارا کہ لوط ( علیہ السلام) نے شراب پی کر اپنی بیٹیوں سے زنا کیا، اس سے یہ لوگ پیدا ہوئے۔ (معاذ اللہ) اسی طرح حضرت خاتون ہاجرہ کو جو حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی والدہ تھیں۔ لونڈی لکھ دیا، حالانکہ نہ ان کی کہیں بیع ثابت ہے نہ ان کا جہاد میں آنا۔ شاہ مصر نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دیا تھا، ان کی بزرگی کا معتقد ہو کر اور دراصل وہ شاہ مذکور کی بیٹی تھی۔ قدیم زمانہ میں ہند کے راجوں میں بھی یہی دستور تھا، اب اس سے ان کو لونڈی سمجھ لیا، حالانکہ قطورہ لونڈی کی اولاد کے لیے کوئی بھی توریت میں برکت کا وعدہ نہیں اور طرہ یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تجہیز و تکفین میں دونوں بھائی اسماعیل و اسحاق ( علیہ السلام) کا شریک ہونا بھی لکھا ہے۔ اب غور کرو کہ انہیں یہود میں سے ایک فریق سامری ہے، ان کے پاس بھی ایک توریت ہے اور بیت المقدس کے مقابلہ میں انہوں نے بھی اپنی ایک ہیکل تعمیر کی تھی اور اپنی توریت میں اپنی ہی ہیکل کے لیے الفاظ بنائے جس پر وہ یہود کو ملزم کرتے ہیں۔ قرائن کے مطابق یہی ہے کہ یہ ذبح کا واقعہ حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کے ساتھ ہوا تھا، کیونکہ یہ بڑے بیٹے تھے اور برکت کا ان سے وعدہ بھی تھا اور بڑے کا حق ہمیشہ سے ملحوظ رہا ہے اور اس وقت تک یہی بیٹے تھے اور کوئی نہ تھا۔ رہی یہ بات کہ ان کو مکہ میں آکر ذبح کرنا چاہا تھا، سو یہ ظاہر ہے کہ آپ یہیں تشریف لائے تھے اور بارہا آمدورفت رہتی تھی۔ اسماعیل ( علیہ السلام) بھی شام میں آتے جاتے تھے۔ یہ ذبح کا واقعہ بمقام منیٰ مکہ کے پاس ہوا ہے جس کی یادگار قربانی چلی آتی ہے۔ واللہ اعلم۔