9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 9:122

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیر مسلمانہ روش سے) پرہیز کرتے۔

وما کان المؤمنون لینفروا کآفۃ اور (ہمیشہ کیلئے) مسلمانوں کو یہ بھی نہ چاہئے کہ جہاد کیلئے سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں۔ یہ نفی بمعنی نہی ہے ‘ یعنی طلب علم کیلئے تمام مسلمان اپنے وطنوں سے نہ نکل پڑیں ‘ اس سے معاشرہ کا بگاڑ اور معاش کا فساد پیدا ہوجائے گا۔ فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طآئفۃ لیتفقھوا فی الدین سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ یہ (باقی ماندہ) لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں۔ یعنی ہر بڑی جماعت مثلاً ایک قبیلہ یا ایک شہر یا ایک بستی میں سے چھوٹا گروہ کیوں طلب علم کیلئے نہیں نکلا کہ تکلیفیں اور مشقتیں اٹھا کر دینی سمجھ حاصل کرتا اور دین کے مسائل سمجھتا۔ صاحب نہایہ نے لکھا ہے : فقہ کا اصلی لغوی معنی ہے سمجھنا۔ اس کا اشتقاق ‘ شق اور فتح (کے مفہوم سے) ہے۔ ” فرقۃ “ سے مراد بڑی جماعت ہے۔ ” طائفۃ “ چھوٹی جماعت۔ قاموس میں ہے : فقہ بکسر فاء کسی چیز کو جاننا سمجھنا۔ چونکہ (تمام علوم میں) علم دین کو فضیلت حاصل ہے ‘ اسلئے فقہ کا لفظ (اصطلاح میں) علم دین کیلئے مخصوص کرلیا گیا۔ بعض نے کہا : معلوم کے ذریعے سے نامعلوم کو حاصل کرنا فقہ ہے یعنی علم استدلالی کیلئے یہ لفظ خاص ہے ‘ اس صورت میں لفظ علم عام اور لفظ فقہ خاص ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَمَا لھآؤُلاآءِ الْقَوْمِ لاَ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ حَدِیْثًاان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ بات سمجھ بھی نہیں سکتے۔ یعنی بات کے مضمون کا استنباط نہیں کرتے (بات کے مغز کو نہیں سمجھتے) ۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا : نفس کے ضرر رساں اور فائدہ بخش امور کو جاننا فقہ ہے (خواہ فکر و عقیدہ کے لحاظ سے ہو یا قول و عمل کے اعتبار سے۔ اصول کا علم ہو یا فروع کا) فروع دین کے علم کو خصوصیت کے ساتھ فقہ کہنا اصطلاح جدید ہے (قرن اول میں یہ خصوصیت نہیں تھی) ۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ فقہ کے اندر مقلد کا علم بھی داخل ہے ‘ مجتہد سے یامجتہد کی کتاب سے علم حاصل کرنے سے اس فرض کی ادائیگی ہوجاتی ہے جس کا حکم آیت مندرجہ میں دیا گیا ہے۔ ولینذروا قومھم اذا رجعوآ الیھم لعلھم یحذرون۔ اور (جانے والے) لوگ جب واپس آئیں تو یہ ان کو ڈرائیں تاکہ وہ (ان سے دین کی باتیں سیکھ کر) برے کاموں سے احتیاط رکھیں۔ یعنی جب وہ لوگ اپنے وطن کو لوٹ کر آئیں تو جو لوگ تحصیل علم کیلئے نہیں گئے تھے اور وطن ہی میں مقیم رہے ‘ ان کو واپس آ کر (ا اللہ کے دئیے ہوئے احکام کی مخالفت سے) ڈرائیں (اور ان کو احکام بتائیں) مجاہد نے کہا : کچھ لوگ تبلیغ کرنے اور دعوت ہدایت دینے کیلئے دیہات اور صحراء کی طرف گئے تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا : تم ہمارے پاس (تو تبلیغ کیلئے) آگئے اور اپنے ساتھی (یعنی رسول اللہ (ﷺ) کو چھوڑ کر آگئے۔ یہ بات سن کر ان حضرات کے دلوں میں کچھ احساس ہوا ‘ وہ فوراً دیہات سے لوٹ آئے اور رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ اس پر آیت مذکورۂ بالا نازل ہوئی۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا ہے : سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح انسانوں کی بھی تم کانیں پاؤ گے (خیر و شر کے مختلف معاون ہیں اور مختلف انسان ‘ مختلف معاون کی پیداوار ہیں) پس جو لوگ (طبعاً ) جاہلیت (کے دور) میں بہتر تھے ‘ وہ اسلام میں بھی بہتر ہوں گے بشرطیکہ سمجھ پیدا کرلیں۔ رواہ الشافعی وکذا روی الشیخان فی الصحیحین واحمد عن ابی ہریرہ۔ طبرانی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : آدمی (بس) دو ہیں : عالم اور متعلم ‘ ان کے سوا باقی (آدمیوں) میں کوئی خیر نہیں۔ آیت دلالت کر رہی ہے کہ خبر آحاد (شرعی) حجت ہے (یعنی کسی مسئلہ کو جاننے کیلئے خبر آحاد کو بشرطیکہ وہ قابل وثوق روایت سے پہنچی ہو ‘ ماننا ضروری ہے) کیونکہ آیت میں ” کل فرقۃ “ کا لفظ عام ہے جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اگر کسی بستی میں تین ہی آدمی ہوں تو ان میں سے بھی کسی ایک کو علم حاصل کرنے کیلئے جانا اور سیکھ کر واپس آ کر دوسروں کو بتانا ضروری ہے۔ اگر تواتر کے بغیر کوئی خبر قابل تسلیم نہ ہو تو کلِّ فرقۃٍکے لفظ کا کوئی معنی نہیں ہوگا۔ فقہ کا کچھ حصہ تو فرض عین ہے کچھ فرض کفایہ۔ صحیح عقائد اور ضروری اعمال جیسے طہارت ‘ نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ ‘ حج اور تمام فرائض کا علم فرض عین ہے۔ عبادات کے علاوہ وہ معاملات جو سامنے آتے رہتے ہیں اور جن سے واسطہ پڑتا رہتا ہے ‘ ان کو جاننا بھی فرض عین ہے مثلاً تاجروں کیلئے بیع صحیح ‘ بیع فاسد ‘ سود وغیرہ کے احکام جاننا لازم ہے۔ جو ٹھیکہ یا مزدوری یا نوکری وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں ‘ ان کیلئے ان کے احکام کو حاصل کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : علم کی طلب ہر مسلمان مرد پر فرض ہے۔ یہ حدیث حضرت انس کی روایت سے ابن عدی اور بیہقی نے اور حضرت امام حسن بن علی کی روایت سے خطیب نے اور طبرانی نے صغیر میں ‘ نیز طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس کی روایت سے اور الکبیر میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے اور خطیب نے حضرت علی کی روایت سے اور طبرانی نے الاوسط میں ‘ نیز بیہقی نے حضرت ابو سعید کی روایت سے بیان کی ہے۔ حضرت انس کی روایت میں حسب نقل ابن عبدالبر اتنا زائد بھی آیا ہے کہ طالب علم کیلئے ہر چیز دعائے مغفرت کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر کے اندر مچھلیاں بھی (دعائے مغفرت کرتی ہیں) ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں : اور اللہ مصیبت زدوں کی فریاد رسی کو پسند فرماتا ہے۔ فرض کفایہ یہ ہے کہ ہر موضوع کے مسائل سے واقفیت حاصل کی جائے یہاں تک کہ فتویٰ دینے کے مقام پر پہنچ جائے۔ اگر کسی شہر کا کوئی آدمی ایسا عالم نہ ہوگا اور ایک شخص بھی اس درجہ پر فائز نہ ہوگا اور سب بیٹھ رہیں گے تو سب گناہ گار ہوں گے اور اگر ایک بھی تکمیل علمی کیلئے تیار ہوجائے گا تو سب کے سر سے فرض ساقط ہوجائے گا اور سب پر اس کی تقلید لازم ہوگی۔ جو واقعات پیش آئیں ‘ ان کے فیصلے کیلئے اس عالم کی طرف سب بسعی والے رجوع کریں۔ تحصیل علم ہر نفلی عبادت سے افضل ہے۔ حضرت ابن عباس کی روایت سے مؤلف سند الفردوس نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : علم کی طلب اللہ کے نزدیک نماز ‘ روزہ ‘ حج اور راہ خدا میں جہاد کرنے سے افضل ہے۔ یہ بھی حضرت ابن عباس کی روایت میں آیا ہے کہ ایک گھڑی علم کی تحصیل ایک رات کے قیام (نماز) سے اور ایک دن علم کی طلب تین دن کے روزے رکھنے سے افضل ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ آدمی پر۔ بلاشبہ اللہ (رحمت کرتا ہے) اور اللہ کے فرشتے اور آسمانوں والے اور زمینوں والے یہاں تک کہ سوراخوں کے اندر چیونٹیاں اور پانی کے اندر مچھلیاں اس شخص کیلئے دعائے رحمت کرتی ہیں جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔ رواہ الترمذی بسند صحیح عن ابی امامۃ۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ہزار عابدوں سے ایک عالم ‘ شیطان پر زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ یہ بھی رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر تین اعمال (کا فائدہ جاری رہتا ہے) صدقہ جاریہ ‘ یا وہ عمل جس سے لوگ نفع حاصل کریں ‘ یا نیک اولاد جو اس کیلئے دعا کرے۔ علم لدنی جس کے حامل صوفیہ کرام ہوتے ہیں ‘ فرض عین ہے کیونکہ اس باطنی علم کے دو مقصد ہوتے ہیں : (1) اللہ کے سوا ہر چیز کی رغبت کو دل سے نکال دینا ‘ ہر دم اللہ کے سامنے اپنے کو حاضر سمجھنا۔ خود پسندی ‘ غرور ‘ حسد ‘ دنیا کی محبت ‘ عبادات میں سستی ‘ خواہشات نفس ‘ ریاکاری ‘ شہرت طلبی اور دوسرے اخلاقی باطنی عیوب سے نفس کو پاک رکھنا۔ (2) گناہوں سے توبہ ‘ رضا بالقضاء ‘ مصائب پر صبر ‘ نعمتوں کا شکر اور دوسرے اچھے خصائل و مکارم اخلاق سے اپنے نفس کو آراستہ کرنا۔ اور ظاہر ہے کہ ہر شخص کیلئے ان ممنوعات سے پرہیز اور فرائض کی پابندی سے زیادہ اہم اور ضروری ہے جن کا تعلق اعضاء جسمانی سے ہے۔ اگر اخلاص اور نیت کی صحت نہ ہو تو نماز ‘ روزہ اور دوسری عبادتیں ناقابل اعتبار ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : اللہ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص ہو اور محض خوشنودی خدا حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ہو۔ رواہ النسائی عن ابی امامۃ۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں پر نظر نہیں کرتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ جس چیز پر فرض عین کا مدار ہو وہ خود فرض عین ہوگی ‘ لہٰذا علم لدنی جس کے حامل صوفیۂ کرام ہیں ‘ فرض عین ہے۔ آیت کے نزول کا ایک اور سبب بھی بیان کیا گیا ہے۔ بغوی نے بروایت کلبی اور ابن ابی حاتم نے بروایت عکرمہ و عبد اللہ بن عمیر حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب غزوۂ تبوک کے سلسلہ میں منافقوں کے عیوب اللہ نے بیان فرمائے اور آیت اِنْ لاَّ تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اِلْیْمًانازل ہوگئی اور رسول اللہ (ﷺ) جہادی دستے (مختلف اطراف میں) بھیجنے لگے تو سب مسلمان جہاد کو نکلنے لگے اور رسول اللہ (ﷺ) کو تنہا چھوڑ کر جانے لگے۔ عکرمہ کی روایت میں آیا ہے کہ کچھ دیہاتی صحراء نشین جہاد کو نہیں گئے۔ منافق کہنے لگے : یہ بدوی تباہ ہوگئے (انہوں نے حکم جہاد کی پابندی نہیں کی) اس پر آیت مَا کَانَ الْمُوؤمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا (یعنی الی الغزر) کَآفَّۃً فَلَولاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ (یعنی عظیمۃ) طَاءِفَۃٌ (یعنی الی الغزر وبقی طائفۃ مع النبی) لِیَتَفَقُّھُوْا (ای القَْاعِدُوْنَ ) فِی الدِّیْنِ (ای القراٰن والسنن والفرائض والاحکام) نازل ہوئی۔ مطلب یہ کہ تمام مسلمانوں کو جہاد پر نہ چلا جانا چاہئے بلکہ بڑے گروہ میں سے ایک چھوٹی جماعت کو جہاد پر جانا لازم ہے اور ایک جماعت کو رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں قرآن ‘ سنت ‘ فرائض اور احکام سیکھنے کیلئے رہنا چاہئے تاکہ فوجی دستے جب واپس آئیں تو ان کو یہ لوگ بتا سکیں کہ ان کے جانے کے بعد کیا احکام نازل ہوئے۔ چناچہ (اس آیت کے نزول کے بعد) ایسا ہی ہونے لگا۔ کچھ جماعتیں رسول اللہ (ﷺ) کے پاس رکی رہتیں اور کچھ دستے چلے جاتے ‘ اس طرح دینی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے پاتا۔ دینی تفقہ جہاد اکبر ہے۔ بعثت کی اصل غرض ہی یہ ہے کہ دلائل کے ساتھ اسلامی احکام کو پیش کیا جائے (تلوار سے جہاد کا درجہ تو دفاعی ہے ‘ تبلیغی جہاد کا درجہ اعلیٰ ہے) اسی لئے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ علماء انبیاء کے جانشین ہیں۔ اس شان نزول اور اس مطلب کی صورت میں لِیَتَفَقَّھُوْا اور لِیَنْذِرُوْا کی ضمیریں ان لوگوں کی طرف راجع ہوں گی جو جہادی دستوں کی روانگی کے بعد تحصیل علم کیلئے رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور رَجْعُوْا کی ضمیر جہاد پر جانے والے دستوں کی طرف راجع ہوگی۔ سیوطی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت کا حکم اس صورت کیلئے مخصوص ہوگا جب (بغیر رسول اللہ (ﷺ) کے) جہاد پر مسلمانوں کے دستے گئے ہوں اور ترک جہاد کی ممانعت کا حکم اس صورت میں ہوگا جب رسول اللہ (ﷺ) خود تشریف لے جائیں۔ حسن کا قول ہے کہ لِیَتَفَقَّھُوْا اور لِیَنْذِرُوْا کی ضمیریں ان مسلمانوں کے دستوں کی طرف راجع ہیں جو جہاد پر گئے ہوں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ایک فرقہ (ہر گروہ میں سے) جہاد پر چلا جائے اور دین کی نصرت اور مشرکوں پر غالب ہونے کا خود مشاہدہ کرے اور سمجھے اور پھر جہاد سے واپس آنے کے بعد اپنی قوم کے کافروں کو بتائے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اور مؤمنوں کو فتح عنایت فرمائی اور اس اطلاع دینے کا مقصد یہ ہو کہ ان کی قوم کے کافر رسول اللہ (ﷺ) کا مقابلہ کرنے سے باز رہیں اور ڈرتے رہیں کہ جو دوسرے کافروں کا حال ہوا ‘ رسول اللہ (ﷺ) سے جنگ کر کے ہمارا بھی وہی حال ہوگا۔ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے ‘ اگر ایک جماعت اس فرض کو ادا کر دے گی تو سب کے سروں سے فرض ساقط ہوجائے گا۔ ہاں اگر جہاد کی عام نداء کردی جائے اور سب کو جہاد کیلئے آجانے کا حکم دے دیا گیا ہو تو پھر ہر شخص پر جہاد عینی فرض ہوجاتا ہے۔
Ayah 9:123

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، جنگ کرو ان منکرین حق سے جو تمہارے پاس ہیں۔ اور چاہئے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں ، اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔

یایھا الذین امنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار اے ایمان والو ! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس رہتے ہیں۔ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ کافروں سے جہاد کرنے کا آغاز الاقرب فالاقرب کے طریقے پر کیا جائے۔ سکونت اور نسبی قرابت کے اعتبار سے جو کافر قریب ترین ہوں ‘ ان سے جہا دشروع کیا جائے۔ قریب ترین کافروں کو اصلاح طلبی اور شفقت کا سب سے زیادہ حق ہے ‘ اسی لئے رسول اللہ (ﷺ) کو سب سے پہلے اپنے قریب ترین خاندان والوں کو تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا اور ہجرت کے بعد بنی قریظہ ‘ بنی نضیر اور خیبر کے یہودیوں سے جہاد کرنے کا حکم سب سے پہلے دیا گیا۔ جب عرب سے جہاد ختم ہوگیا اور ضرورت نہ رہی تو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس آیت میں رومیوں سے جہاد کرنے ہی کا حکم دیا گیا ہے۔ رومی شام میں رہتے تھے (اور ایرانی عراق میں) اور عراق کی بہ نسبت شام مدینہ سے قریب تھا۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ (ﷺ) نے تبوک کی طرف رومیوں سے جہاد کرنے کیلئے خروج کیا ‘ جیسا کہ ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد کے قول سے اور ابن جریر نے حضرت سعید بن جبیر کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ اس آیت کے مقتضا کا لحاظ کرتے ہوئے علماء فقہ نے صراحت کی ہے کہ کفار کی سرحد کے قریب جو مسلمان رہتے ہوں ‘ ان پر سرحدی کافروں سے جہاد کرنا واجب ہے۔ اگر وہ کافی نہ ہوں اور زیادہ طاقت کی ضرورت ہو یا وہ سستی کریں اور حکم جہاد کی پرواہ نہ کریں تو ان سرحدی مسلمانوں کے متصل جو مسلمان رہتے ہوں ‘ ان پر سرحدی کافروں سے جہاد کرنا واجب ہوجاتا ہے اور ان میں بھی اگر بقدر ضرورت طاقت نہ ہو یا سستی کی وجہ سے وہ جہاد ترک کر بیٹھیں تو ان سے پیچھے والے مسلمانوں کا وہی فریضہ ہوجاتا ہے جو سستی کرنے والوں کا تھا۔ اسی ترتیب کے ساتھ مشرق و مغرب کے تمام مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت ہوجاتی ہے۔ میّت کی تجہیز و تکفین کا سامان مہیا کرنا اور میّت کی نماز پڑھنے کا بھی یہی حکم ہے۔ ولیْجدوا فیکم غلظۃ اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہئے۔ غلطۃًکا معنی ہے شدت اور اسلام کی حمیت۔ حسن کے نزدیک غلظت سے مراد ہے جہاد پر صبر۔ بظاہر لیجدوا کا صیغہ امر کا ہے جس کی ضمیر کافروں کی طرف راجع ہے اور کفار مامور ہیں ‘ لیکن حقیقت میں امر کا رجوع مسلمانوں کی طرف ہے اور مراد یہ ہے کہ مسلمانو ! تم کافروں کے مقابلہ میں سختی اور شدت اختیار کرو (ان کو تمہارے اندر کوئی نرمی اور بزدلی محسوس نہ ہو) ۔ واعلموا ان اللہ مع المتقین۔ اور جان لو کہ اللہ کی مدد اور نصرت متقیوں کے ساتھ ہے۔ کافروں کے ساتھ نہیں ہے ‘ اسلئے تم ان کی جنگ کی پرواہ نہ کرو (خوف زدہ نہ ہو) ۔
Ayah 9:124

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

'' جب کوئی نئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض لوگ (مذاق کے طور پر مسلمانوں سے) کہ کہو ، تم میں سے کس کے ایمان میں اس سے اضافہ ہوا ؟ '' جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے ایمان میں تو فی الواقع (ہر نازل ہونے والی سورت نے) اضافہ ہی کیا ہے اور وہ اس سے دلشاد ہیں ،

واذا مآ انزلت سورق فمنھم من یقول ایکم زادتہ ھذٓہ ایمانًا فاما الذین امنوا فزادتھم ایمانًا اور جب کوئی (جدید) سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافق (غرباء مسلمین سے بطور تمسخر) کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں ترقی دی ؟ سو (سنو ! ) جو لوگ ایماندار ہیں ‘ اس سورت نے ان کے ایمان میں ترقی دی ہے۔ یعنی جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو منافقوں میں سے کچھ لوگ اپنے بھائی بندوں سے بطور مذاق کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان و یقین میں اضافہ کیا۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا : ایمانداروں کے ایمان کو نازل شدہ سورت بڑھاتی ہے۔ سورت کے اندر جو اعجاز بیان ہوتا ہے ‘ اس سے مؤمنوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور نازل شدہ سورت پر ان کو یقین ہوجاتا ہے ‘ اسلئے سابق ایمان کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے (پہلے اسی حصہ پر ان کا ایمان تھا جو نازل ہوچکا تھا ‘ پھر سورت جدیدہ پر بھی ان کا ایمان ہوجاتا ہے اور جو کچھ سورت میں علمی اور اعجازی حصہ ہوتا ہے ‘ وہ بھی ان کو حاصل ہوجاتا ہے۔ اس طرح ایمان بڑھ جاتا ہے) ۔ وھم یستبشرون۔ اور وہ (سورت کے نزول سے) خوش ہو رہے ہیں کیونکہ سورت کی وجہ سے ان کے علم و کمال میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کے درجات اونچے ہوجاتے ہیں۔
Ayah 9:125

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

البتہ جن لوگوں کے دلوں کو (نفاق) کا روگ لگا ہوا تھا ان کی سابق نجاست پر (ہر نئی سورت نے) ایک اور نجاست کا اضافہ کردیا اور وہ مرتے دم تک کفر ہی میں مبتلا رہے۔

واما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسًا الی رجسھم وماتوا وھم کافرون۔ اور جن کے دلوں میں (نفاق کا) آزار ہے ‘ اس سورت نے ان میں ان کی (پہلی) گندگی کے ساتھ اور نئی گندگی بڑھا دی اور وہ حالت کفر میں مر گئے۔ مرض سے مراد ہے شک و نفاق۔ رجس گندگی ‘ مراد کفر۔ یعنی پہلے وہ سابق میں نازل شدہ آیات دسور کے منکر تھے ‘ اب اس جدید سورت کے بھی منکر ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کفر بالائے کفر ہوجاتا ہے۔ کفر کی حالت پر مرنے کی صراحت اسلئے فرمائی کہ ایمان ایک خداداد چیز ہے۔ آیات کا کام ایمان بخشی نہیں۔ اللہ ایمان نہ دے تو آیات غیر مفید ہوتی ہیں۔ مجاہد نے کہا : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے (یعنی ایمان مرکب ہے ‘ اس کے اجزاء میں کمی بیشی ہوتی ہے) حضرت عمر اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایک یا دو آدمیوں کا ہاتھ پکڑ کر فرماتے تھے : آؤ ‘ ہم اپنا ایمان بڑھائیں (یعنی اگر کوئی جدید آیت یا سورت نازل ہوئی ہو تو اس کو چل کر سنیں تاکہ ہماے ایمان میں اضافہ ہو) حضرت علی نے فرمایا : دل کے اندر ایمان ایک سفید نقطہ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے ‘ جتنا ایمان بڑھتا ہے ‘ اتنی ہی سفیدی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ پورا دل سفید ہوجاتا ہے اور نفاق دل میں سیاہ نقطہ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ‘ پھر جتنا نفاق بڑھتا ہے ‘ سیاہی بھی بڑھتی ہے یہاں تک کہ پورا دل کالا ہوجاتا ہے۔ خدا کی قسم ! اگر تم مؤمن کا دل چیر کر دیکھو گے تو اس کو سفید پاؤ گے اور اگر منافق کا دل چیر کر دیکھو گے تو اس کو سیاہ پاؤ گے۔
Ayah 9:126

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں ؟ مگر اس پر بھی توبہ کرتے ہیں نہ کوئی سبق لیتے ہیں۔

اولایرون انھم یفتنون فی کل عامر مرۃ او مرتین ثم لا یتوبون ولا ھم یذکرون۔ اور کیا ان کو نہیں دکھائی دیتا کہ ہر سال ایک یا دو بار وہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی باز نہیں آتے اور نہ وہ کچھ سمجھتے ہیں (کہ آئندہ باز آنے کی امید ہو) ۔ یعنی طرح طرح کے امراض اور مصائب بھیج کر ان کی آزمائش کی جاتی ہے۔ مجاہد نے کہا : قحط اور شدت میں مبتلا کر کے آزمائش کی جاتی ہے۔ قتادہ نے کہا : رسول اللہ (ﷺ) کی ہمرکابی میں جہاد کو جاتے ہیں اور جو صداقت کی نشانیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں ‘ ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مقاتل بن جان نے کہا : ان کے نفاق کو ظاہر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی رسوائی ہوتی ہے۔ عکرمہ نے کہا : منافقت کرتے ہیں ‘ پھر ایمان لے آتے ہیں ‘ پھر منافق ہوجاتے ہیں۔ یمان نے کہا : عہد شکنی کرتے ہیں۔ پھر توبہ نہیں کرتے یعنی عہد شکنی سے ‘ گناہوں سے اور نفاق سے جو مصائب کے آنے اور رسوائیاں ہونے کا سبب ہے۔ اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں اس بات سے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر سے نصرت کا اور مسلمانوں سے فتح کا جو وعدہ کیا تھا ‘ اس کو کس طرح پورا کیا۔
Ayahs 9:127–129

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں کہ کہیں تم کو کوئی دیکھ تو نہیں رہا ہے ، پھر چپکے سے نکل بھاگتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیئے ہیں کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

دیکھو ! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے ، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے ، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے ، ایمان والوں کے لئے وہ شفیق اور رحیم ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبی ، ان سے کہ دو کہ '' میرے لئے اللہ بس کرتا ہے ، کوئی معبود نہیں مگر وہ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا ''۔

واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔ ھل یراں کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔ ثم انصرفوا پھر (یعنی اس سورت نازلہ پر ایمان لانے سے) پھرگئے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اس مقام سے جہاں بیٹھے سورت سن رہے تھے ‘ یعنی مجلس رسول اللہ (ﷺ) سے پھرگئے۔ بیٹھے رہنے میں ان کو رسوائی کا اندیشہ تھا۔ صرف اللہ قلوبھم اللہ نے ان کے دلوں کو (ایمان سے) پھیر دیا۔ ابو اسحاق نے کہا : اللہ نے ان کے کرتوت کی سزا میں ان کو گمراہ کردیا۔ یہ جملہ (بجائے خبریہ ہونے کے) بددعائیہ بھی ہو سکتا ہے (مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں کو ایمان سے پھر دے ‘ رہاسہا شائبۂ ایمان بھی ان کے دلوں سے جاتا رہے) ۔ بانھم قوم لا یفقھون اس سبب سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (اپنی بدفہمی اور غلط تدبر کی وجہ سے حق کو) نہیں سمجھتے۔