9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 9:35

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

ان کو جو سونے اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں۔ اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا ، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو

يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ " ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی "۔۔ اب اس کے بعدسامع دیکھتا ہے کہ ان دھاتوں کو کس طرح گرم کیا جاتا ہے۔ اب اگلے منظر میں ہاتھوں میں گرم سلاخیں لیے ہوئے کارندے نظر آتے ہیں۔ سلاخیں تیار ہیں اور دردناک عذاب کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اب ان مجرموں کے ہاتھوں اور چہروں کو داغا جاتا ہے اور جب ان کے چہروں کو اچھی طرح داغ دیا جاتا ہے تو اب ان کے پہلوؤں پر داغ لگائے جاتے ہیں اور جب ان کے پہلو داغ دیے جاتے ہیں تو ان کی پیٹھوں پر داغ دہی کا عمل شروع ہوتا ہے اور جب یہ جسمانی عذاب ختم ہوتا ہے تو اب ان کو سرزنش کی جاتی ہے تاکہ ان کی روحانی تذلیل ہو۔ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لأنْفُسِكُمْ " یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا " یہ تو تم نے لذت کے لیے جمع کیا تھا لیکن یہ اب تمہارے لیے عذاب الیم کا آلہ بن گیا ہے۔ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ " اب اپنی اس سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو " بذاتہ وہی دولت ہے۔ اب دیکھو کہ تمہارے چہروں ، تمہارے پہلوؤں اور تمہاری پیٹھوں کے ساتھ اس کا صرف مس ہی موجب اذیت ہے۔ غرض یہ ایک نہایت خوفناک منظر ہے اور اس میں ہر ہر حرکت کی تفصیلات دی گئی ہیں اور ان تفصیلات سے دوچار ہوں گے احبارو رہبان کی اکثریت۔ پھر وہ لوگ جو بلا ضرور مال و دولت جمع کرتے اور اسے اللہ کی راہ میں کرچ نہیں کرتے۔ یہ بات یہاں پیش نظر رہے کہ یہ آیات غزوہ تبوک کے موقع پر نازل ہوئیں جسے غزوۃ العسرۃ بھی کہا جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں یہاں ہمیں قدرے رکنا چاہیے اور اس پوری بحث کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے اور ذہن میں اس پوزیشن کو مستحضر کرلینا چاہئے جو ان ربانی ہدایات کے مطابق اہل کتاب کی فی الحقیقت ہے کہ ان کے عقائد کیا ہیں ؟ ان کے اخلاف کیا ہیں ان کا طرز عمل کیا ہے ؟ خصوصاً ان اشارات کی روشنی میں جو ہم نے ان آیات کی تشریح کے دوران دیے۔ اہل کتاب کے بارے میں اس شبیہ کو صاف کردینا کہ آیا وہ دین حق پر ہیں ، نہایت ہی ضروری تھا۔ صریحا مشرک لوگ تو بہرحال مشرک ہوتے ہیں اور سب کو نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے عقائد ، اعمال اور مراسم عبودیت کے اعتبار سے نظر آتے ہیں کہ وہ مشرک ہیں لیکن اہل کتاب کے نام سے شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید وہ دیندار ہیں۔ یہ شبہات دور کرنا اس لیے ضروری تھا کہ مسلمان اس جاہلیت کے مقابلے کے لیے اچھی طرح تیار ہوجائیں جہاں تک مشرکین کا تعلق ہے تو ہی بات ہر کسی کو معلوم ہے کہ وہ جاہلیت کے پیرو کار ہیں لیکن اہل کتاب کے بارے میں پوزیشن واضح نہ تھی کیونکہ اہل کتاب کا دعوی یہ تھا کہ وہ پہلے سے مسلمانوں کی طرح ایک دین سماوی کے پیرو ہیں۔ جس طرح آج کے نام نہاد مسلمانوں کی اکثریت دیہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ اس سورت کے آغآز ہی سے مشرکین سے مکمل بائکاٹ اور ان کے مکمل مقابلے کی بات تفصیلاً اس سورت کا موضوع رہی ہے اور ان حالات کا بھی تقاضا تھا جس کی تشریح ہم نے اس سورت کے مقدمے میں کردی ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ إِلا الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (7) كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلا وَلا ذِمَّةً يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَى قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ (8) اشْتَرَوْا بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلا فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (9) لا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلا وَلا ذِمَّةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ (10) ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے ؟ بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا ، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے . مگر ان کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا ؟ وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ پھر اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے۔ بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے۔ کسی مومن کے معاملہ نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا۔ اور زیادہ ہمیشہ انہی کی طرف سے ہوئی ہے۔ أَلا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (13) قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ (14) وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (15): ے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ ان سے لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا اور جسے چاہے گا ، توبہ کی توفیق بھی گا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے۔ مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ أُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں در آں حالیکہ اپنے اوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں۔ ان کے تو سارے اعمال ضاعئ ہوگئے اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الإيمَانِ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ، : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ ناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں۔ مشرکین کے خلاف جہاد کے لیے اٹھنے کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ ان پر تنقید کی جائے اور ان کا کیس بھی سادہ تھا۔ کیونکہ اس وقت اسلامی جماعت کو جس قسم کے حالات درپیش تھے اس میں اسلامی معاشرے کے مد مقابل مشرکین تھے لیکن اہل کتاب کے خلاف جہاد کرنے کے لیے مشرکین سے بھی زیادہ شاید تنقیدی حملے کی ضرورت تھی اور اس بات کی ضرورت تھی کہ اہل کتاب پر اہل کتاب اور اہل دین ہونے کا جو بورڈ لگا ہوا تھا انہیں اس سے محروم کردیا جائے اور ان کی اصل حققت کو ظاہر کیا جائے کہ وہ مشرکین کی طرح مشرکین ہیں اور ان میں اور دوسرے مشرکین میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دوسرے کفار کی طرح وہ بھی کفار ہیں اور کفار و مشرکین دونوں کی طرح یہ بھی دین اسلام کے خلاف شب و روز جنگ میں مصروف ہیں۔ یہ گمراہ ہیں اور لوگوں کے اموال نہایت نہایت ہی باطل طریقوں سے کھاتے ہیں۔ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ چناچہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک موقف نازل فرمایا۔ قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ (29) وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (30) اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لا إِلَهَ إِلا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (31) يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (32) هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (33) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِنَ الأحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (34) يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لأنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ " جنگ کرو ، اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچ اللہ اور اس کے سول نے حرام کیا ہے ، اسے حرام نہیں کرتے۔ اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ بےحقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنی زبان سے نکالتے ہیں۔ ان لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے تے خدا کی مار ان پر ، یہ کہاں سے دھوکہ کھا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ وہ جس کے سوا کوئی مستحق نہیں۔ پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے۔ خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے ، تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو ، اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔ ان اہل کتاب کے اکثر علماء درویشوں کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں " دوسری مکی اور مدنی سورتوں میں ان اہل کتاب کے بارے میں جو دو ٹوک فیصلے کیے گئے ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔ تمام مکی اور مدنی سورتوں میں ان کے بارے میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ یہ لوگ مکمل طور پر کفر اور شرک میں داخل ہوگئے ہیں ہیں اور پوری طرح دین حق سے نکل چکے ہیں۔ انہوں نے اس دین کو پوری طرح چھوڑ دیا ہے جو ان کے نبی ان کے پاس لائے تھے۔ نیز انہوں نے نہ صرف یہ کہ موجودہ دین حق کو قبول نہیں کیا بلکہ وہ اس کی راہ روکنے کے لیے کمر بستہ ہیں۔ لہذا دین جدید کے حوالے سے اپنے موقف کی بنا پر بھی یہ مکمل طور پر کافر اور مشرک ہیں۔ اس سے پہلے آیات گزر چکی ہیں جن میں اہل کتاب کو یہ خطاب کیا گیا تھا کہ وہ دین سماوی اور دین الہی سے مکمل طور پر نکل چکے ہیں۔ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالإنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا فَلا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (68): " صاف صاف کہہ دو کہ " اے اہل کتاب ، تم ہر گز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں " ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے۔ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو " لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم " یقینا تقریبا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ میسح ابن مریم ہے لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ " یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے " لم یکن اذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین منفکین حتی تاتیہم البینۃ " اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے وہ اپنے کفر سے باز آجانے والے نہ تھے ، جب تک کہ ان کے پاس دلیل روشن نہ آجائے " یہ اور اس قسم کی دوسری کثیر آیات جن کو ہم نے اس سے پہلے نقل کیا۔ یہ آیات مکی قرآن میں بھی ہیں اور مدنی میں بھی ہیں اور کافی تعداد میں ہیں۔ صورت حال یہ تھی کہ قرآن کریم نے اہل کتاب کو بعض معاملات میں امتیازی پوزیشن دی تھی۔ مثلاً مسلمانوں پر ان کا کھانا حلال کیا تھا۔ اور ان کی پاک دامن عورتوں کے ساتھ نکاح کو جائز قرار دیا گیا تھا۔ لیکن یہ امتیازی پوزیشن ان کو اس لیے نہ دی گئی تھی کہ وہ دین حق کے کسی حصے پر عمل پیرا تھے۔ بلکہ یہ مراعات ان کو اس لیے دی گئی تھیں کہ اصلاً وہ دین حق کے حامل تھے اور تاریخ طور پر وہ تحریک اسلامی کا حصہ تھے۔ اگرچہ حالا وہ خود اپنے دین پر بھی قائم نہ تھے۔ اس طرح ان کے ساتھ مکالمے میں یہ بات ممکن تھی کہ ہمارا اور تمہارا اصل دین تو ایک ہے۔ لہذا قرآن نے ان کو بت پرستوں اور مشرکوں کے مقابلے میں یہ امتیازی پوزیشن دے دی جبکہ بت پرستوں کے ہاں کوئی ایسا اصول نہ تھا جس کو ہاتھ میں لے کر اسلام ان کے ساتھ کوئی مکالمہ کرسکے۔ رہی یہ بات کہ خود اہل کتاب کی لیڈری کی حقیقت کیا ہے ؟ ان کے عقائد کیا ہیں ؟ ان کی دینی حیثیت کیا ہے ؟ تو اس معاملے میں قرآن کریم نے کوئی اجمال نہیں چھوڑا ، بابل دو ٹؤک بات کی ہے کہ وہ دین سے خارج ہیں۔ انہوں نے اپنے اصل دین عقائد و اعمال کو چھوڑ دیا ہے اور اب ان کے عقائد و اعمال وہ ہیں جو ان کے لیے ان کے احبار اور رہان نے تصنیف کیے ہیں اور ان کو باقاعدہ مجالس عقائد و قانون میں طے کیا گیا ہے اس موضوع پر کلام الہی فیصلہ کن اور واضح ہے۔ اس مقام پر اہمبات یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس دو ٹوک فیصلے کے نتائج سے بحث کریں کہ اہل کتاب کے موجودہ نظریات اور دینی حالت کے ہوتے ہوئے ان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی ؟ یہ عنوان اور بورڈ جو ان پر لگا ہوا ہے ، غلط فہمی کا باعث ہے۔ اس بورڈ کے پیچے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس بورڈ کی وجہ سے ان لوگوں کی جاہلیت کے مقابلے میں اسلامی تحریک سامنے نہیں آتی۔ لہذا اس بات کی اشد ضرور ہے کہ اس بورڈ کو اتار پھینکا جائے اور اس خطاب سے جو غلط فہمی ہوئی اسے اچھی طرح دور کردیا جائے اور ان لوگوں کی اصل حقیقت اور ان کے اصل چہرے سے لوگوں کو شناسا کیا جائے۔ اس سے پہلے ہم اس بات کی طرف اشارہ کر آئے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں اس وقت ایسے حالات پائے جاتے تھے کہ اسلامی معاشرے کے بعض عناصر ان کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے خصوصاً غزوہ تبوک کے وقت بعض مخصوص حالات بھی تے۔ نیز اس وقت عربوں کے دلوں پر روما کا رعب بھی چھایا ہوا تھا ، لیکن جیسا کہ اس سے قبل ہم تفصیلات دے آئے اصل بات یہ تھی کہ بعض مسلمان رومیوں کے ساتھ ایسی ہمہ گیر جنگ کو محض اس لیے سمجھ نہ پائے تھے کہ رومی بہرحال اہل کتاب تھے۔ آج دین کے دشمن جو اس وقت احیاء اسلام کے لیے چلنے والی تحریکات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں ، یہ لوگ ان تحریکات کا مطالعہ نہایت ہی مہارت سے کرتے ہیں ، یہ لوگ ماہر نفسیات ہوتے ہیں ، ان کا اسلامی تحریکات کے بارے میں وسیع مطالعہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ اسلام کے خلاف بھی اگر کوئی اسکیم تیار کرتے ہیں تو اس پر بھی اسلامی بورڈ لگا دیتے ہیں ، یہ لوگ جدید حالات ، نئی تحریکات ، نئے رجحانات اور افکار و تصورات پر اسلامی لیبیل لگاتے ہیں اور اس اسلامی لیبل کے ساتھ وہ عالم اسلام میں حققی اسلامی تحریکات کے خلاف کام کرتے ہیں۔ یہ کاروبار انہوں نے پورے عالم اسلام کے خلاف کام کیا اور اپنے سیاہ چہرے کو کھول کر اسلام پر حملہ آور ہوئے یہ ماضی قریب میں مصطفیٰ کمال کی تحریک تھی جو ترکی میں کھلی بےدینی اور جاہلیت کی شکل میں نمودار ہوئی۔ اس معاملے میں وہ مجبوریوں ہوئے کہ ان کے لیے اسلام اجماعیت کی آخری نشانی یعنی خلافت اسلامیہ رکیہ کو مٹآنا ضروری ہوگیا تھا۔ یہ نظام خلافت بھی در اصل حققی خلافت نہ تھا۔ ایک قسم کا صرف نام اور عنوان ہی تھا۔ لیکن یہ اسلام اجتماعیت کی آخری رسی اور راطہ تھا اور ان کے لیے اس کا توڑنا لازم تھا۔ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے۔ اسلام ایک ایک تار ہو کر ٹوٹ جائے گا۔ اس کا پہلا تار اس کا نظام حکم ہے اور آخری تار صلوۃ ہے۔ یہ عیار دشمنان اسلام جو اہل کتاب میں سے بھی ہیں اور ملحدین اور کافرین کی صورت میں بھی ہیں اور یہ آپس میں بھی کبھی اکٹھے نہیں ہوتے ، یہ آپس میں تب ہی اکٹھے ہوتے ہیں جب ان کو اسلام کے ساتھ کوئی معرکہ درپیش ہوتا ہے دورانیوں کو چھپا کر سر انجام دیتے ہیں۔ اتا ترک کی تحریک کے سوا ان کی تمام تحریکات دوبارہ اسلامی ٹبل اور اسلامی بورڈ کے تحت ہی چل رہی ہیں۔ یہ خفیہ ریشہ دوانیاں در اصل مصطفیٰ کمال کی علانیہ تحریک لادینی کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہیں۔ ان کے ذریعے وہ ایسے حالات کو پیدا کرنا اور قائم رکھنا چاہتے ہیں اور ان اجتماعی حالات کو قائم رکھنے کے لیے وہ اقتصادی اور سیاسی امداد بھی دیتے ہیں۔ ان کے فیہ ادارے اپنے تجربات ، خفیہ رپورٹوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے ایسے اجتماعی حالات کے ممد و معاون ہوتے ہیں۔ اس کام میں وہ تمام وسائل اور تمام مہارتیں صرف کرتے ہیں۔ عالم اسلام میں ایسے حالات قائم رکھنے کے لی ملحد اور اہل کتاب دست بدست ہمقدم ہو کر چلتے ہیں اور ہم سفر ہیں۔ حقیقت ہے کہ اسلام کے خلاف قدیم صلیبی جنگوں کو یہ لوگ نئی شکل اور عنوان کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ جنگ قدیم جنگ سے اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ صلیبی جنگ بہرحال علانیہ تھی اور یہ خفیہ ہے۔ ان سادہ لوح جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں وہ اس عنوان اور لیبل سے خوب دھوکہ کھائے جا رہے ہیں۔ حتی کہ بعض داعیان اسلام بھی اس لیبل سے دھوکہ کھائے ہیں۔ یہ داعی بھی یہ کوشش نہیں کرتے کہ اس ننگی جاہلیت کے چہرے پر سے یہ پردہ اتار پھینکیں۔ بعض داعیان اسلام جو اس حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ بھی یہ جرات نہیں کرتے کہ ان نام نہاد اسلامی عنوانات کے تحت کام کرنے والوں کی حقیقت کو اجاگر کریں۔ حالانکہ اسلامی لیبل کے تحت یہ لوگ کفر اور شرک کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ داعی لوگوں کو صورت حالات کی صیح تصویر نہیں دکھاتے حالانکہ عام لوگ دھوکہ کھا کر ان حالات پر راضی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ دور جدید میں عوام الناس اسلام کی جانب آگے اس لیے نہیں بڑھ رہے کیونکہ وہ موجودہ حالات ہی کو اور موجودہ جاہلیت ہی کو اسلام سمجھتے ہیں۔ اور اس کے باقی رہنے میں کوئی شرعی حرج محسوس نہیں کرتے۔ نہ وہ موجودہ حالات میں زندگی بسر کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں حالانکہ در حققت ہم سب کافرانہ اور مشرکانہ زندگی کے تحت چل رہے ہیں۔ غرض یہ لیبل اسلامی تحریکات کے احساس کی شدت کو کم کردیتا ہے اور ان کے احساسات کو سلا دیتا ہے۔ اسلام کی حققی سمجھ لوگوں میں پھیلنے نہیں دیتا۔ اور اس جاہلیت کے مقابلے میں مسلمانوں کے اٹھنے کی راہ میں بھی حائل ہے حالانکہ جاہلیت اس بات پر تلی ہوئی ہے ہے کہ اسلام کے باقی آثار کو بھی مٹا کر رکھ دے اور اس کی جڑیں بھی اکھاڑ پھینکے جو ابھی تک بچی ہوئی ہیں۔ (تفصیلات کے لیے دیکھئے کتاب جاہلیۃ القرن العشرین ، محمد قطب) اس قسم کے سادہ لوح داعیان اسلام ، میرے خیال میں اسلام کے کھلے دشمنوں کے مقابلے میں ، اسلام کے لیے زیادہ مضر ہیں ، جو ان حالات ، ان تحریکات ، ان رجحانات ان افکار اور ان اقدار پر اسلامی لیبل لگاتے ہیں ، جن کو دشمنان اسلام ، اسلام کی بخ کنی کے لیے رائج کر رہے ہیں۔ جب بھی مسلمان اس دین کی حقیقت اور اس کے بالمقابل جاہلیت کی حقیقت کو سمجھ جاتے ہیں ، اسلام دنیا میں غالب ہوجاتا ہے۔ جب اور جہاں بھی یہ صورت پیدا ہوجائے۔ اسلام کے لیے کبھی یہ امر خطرناک نہیں بنا کہ اس کے دشمن طاقتور ہیں اور تجربہ کار ہیں ، البتہ اسلام کے لی زیادہ خطرہ ، ان نادان دوتوں سے ہوتا ہے جو سادہ اور فریب کھانے والے ہوتے ہیں وہ غیر مضر چیزوں سے تو سختی سے بچتے ہیں لیکن اسلام کے لیبل میں ان کے سامنے جو زہر پیش کیا جاتا ہے اسے آسانی سے نگل جاتے ہیں۔ اور پھر اس لیبل کے تحت وہ اسلام کے خلاف برسر پیکار ہوتے ہیں اور انہیں خبر نہیں ہوتی۔ اس لیے احیائے اسلام کے لیے کام کرنے والوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اقدار جاہلیت کی بوتلوں سے اسلامی لیبل اتار پھینکیں جبکہ یہ اقدار اسلامی لیل اتار پھینکیں جبکہ یہ اقدار اسلامی لیبل کے تحت اسلام کی بیخ کنی کے لیے رائج کی جا رہی ہیں اور یہ عمل پوری دنیا میں رائج ہے۔ کسی اسلامی تحریک کا پہلا اقدام یہ ہونا چاہی کہ وہ جاہلیت کے چہرے سے اس جھوٹے لیبل کو اتار پھینکے۔ اور اس کی اصل حقیقت لوگوں پر کھول دے کہ یہ شرک ہے اور کفر ہے۔ اور واقعات کی ایسی تعبیر کرے جو حقیقت حال سے مطابق ہو۔ وہ اپنا جائزہ بھی اسی طرح لے جس طرح اس کا حال ہے جس طرح قرآن ے اہل کتاب کی حقیقت کو کھول کر بیان کردیا کہ اگرچہ وہ اہل کتاب تھے مگر اب وہ کافر اور مشرک ہیں۔ حالات کی اس حققت کو اسلامی تحریکات اگر اچھی طرح سمجھ لیں تو شاید وہ اپنے آپ کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں کہ وہ کس حد تک اسلامی تحریکات ہیں تاکہ وہ اپنی موجودہ بدحالی ، تکلیفات اور اس عذاب الیم سے نجات پا لیں جس میں وہ خود مبتلا ہیں۔ کسی بھی اسلامی تحریک کے آغاز کے لی دو امور رکاوٹ بنا کرتے ہیں ، ایک یہ کہ تحریک اپنے موقف میں غیر ضروری سختی کرے دوسرے یہ کہ وہ ظاہر صورت حال سے دھوکہ کھا جائے اور معاملہ کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہ کرے۔ ان دو غلطیوں کی وجہ سے دشمن کے منصوبے کامیاب ہوتے ہیں ، ان کی سازشوں کو تقویت ملتی ہے۔ کیونکہ دشمن نے اپنا کام جعلی اسلامی لیبل کے تحت شروع کیا ہے ۔ جب سے اسے معلوم ہوا ہے کہ اسلام کی تاریخ جدید میں اتا ترک کا تجربہ بری طرح فیل ہوچکا ہے۔ اس نے اب اسلامی لیبل سے کام شروع کیا ہے۔ ترکی میں اسلام کی نظریاتی علامت نظام خلافت کو ختم کرنے کے بعد لادینیت کے لیبل کے تحت اس کے لی کام کرنا ناممکن ہوگیا تھا۔ زمانہ حال کے ایک مکار صلیبی مصنف ولفرڈ سمتھ اپنی کتاب " اسلام تاریخ جدید مٰں " یہ کوشش کرتے ہیں کہ اتا ترک کی تحریک کو ایک بار پھر اسلام رنگ میں پیش کریں۔ اور اس میں سے علانیہ الحاد کے عناصر کی نفی کردیں۔ اور یہ باور کرائیں کہ اسلام کے احیائے جدد کے باب میں یہ نہایت ہی موزوں اور اچھی تحریک تھی۔ بہت خوب ! ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ دشمنان اسلاب کس انداز اور کس لباس میں آتے ہیں ؟ ۔۔۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں۔ یہی ٹھیک ضابطہ ہے۔ ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ اور مشرکوں سے سب سے مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے

درس نمبر 89 ایک نظر میں سیاق کلام اپنے منطقی انداز میں ، رومیوں اور شمالی عرب میں ان کے حلیف نصرانی قبائل کے خلاف جنگ کی تیاریوں کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ تیاریاں اور لشکر کشی بظاہر رجب کے مہینے میں ہو رہی تھی۔ لیکن در اصل یوں نہ تھا۔ اصل حقیقت یہ تھی کہ اس سال ماہ رجب اپنی حقیقی جگہ پر نہ تھا۔ اور یہ اس لیے کہ انہوں نے حساب و کتاب کے لیے النسی کا جو نظام رجاری کر رکھا تھا (تفصیلات آگے آرہی ہیں) تو اس کے مطابق ماہ ذوالحجہ اپنی جگہ پر نہ تھا۔ یہ ذوالقعدہ کی جگہ تھا اور رجب جمادی الاخری کی جگہ آ رہا تھا اور اس اضطراب کا اصل راز یہ تھا کہ جاہلیت کا نظام خود اپنے اصول و قواعد کی پابندی بھی نہ کرتا تھا۔ وہ قانون اور اصولوں کا احترام محض ظاہر داری کے طور پر کرتا تھا۔ ہر جاہلی نظام میں چونکہ حلال و حرام کے حدود وقیود خود انسان ہی مقرر کرتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنے بنائے ہوئے حدود میں تاویلات کرکے خود حدود شکنی کا فریضۃ بھی سر انجام دیتے ہیں۔ اس کی کہانی یوں ہے کہ اللہ نے تو چار مہینوں کو حرام قرار دیا تھا۔ ان میں تین ملے ہوئے تھے یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا منفرد تھا یعنی رجب۔ یہ تحریم حج کے مشہور مہینوں میں تھی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے تھی۔ اگرچہ عربوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین میں بےحد تحریف کردی تھی اور جو دین صیح بھی تھا ، اس سے انہوں نے انحراف کرلیا تھا لیکن حرام چار مہینوں کی حرمت کو وہ بہرحال حضور کے دور تک ملحوظ رکھتے تھے۔ اس لیے کہ ان کا تعلق موسم حج سے تھا اور ججازیوں کی معاشی زندگی کا تو دار و مدار ہی ان مہینوں پر تھا۔ خصوصا اہل مکہ کے سکان کا۔ کیونکہ موسم حج میں تجارت کی کامیاب کا دارومدار ہی اس پر تھا کہ لوگوں کی نقل و حرکت آزادانہ طور پر جاری رہے اور تجارت ہوتی رہے۔ اس کے بعد یوں ہوا کہ بعض عربی قبائل کی ذاتی ضروریات کا ٹکراؤ اس تحریم سے ہوا ، اور ان کی خواہشات نے بھی اپنا اثر دکھانا شروع کیا اور ایسے لوگ پیدا ہوگئے جنہوں نے ان لوگوں کو باور کرایا کہ حرام مہینوں کے اندر اپنی خواہشات کے مطابق تقدیم و تاخیر کی جاسکتی ہے۔ اس طرح کہ کسی مہینے کو کسی سال میں مقدم کردیا جائے اور کسی سال میں موخر کردیاجائے۔ مہینوں کی تعداد و چار ہی رہے لیکن ان مہینوں کے نام بدل دیے جائیں۔ اس طرح وہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری بھی کردیں اور اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کو حلال بھی کردیں۔ لہذا جب 9 ہجری کا سال آیا تو اس میں ماہ رجب حقیقی رجب نہ تھا۔ سی طرح ماہ ذوالحجہ بھی حققی ذوالحجہ نہ تھا۔ رجب در اصل جمادی الاخری تھا اور ذوالحجہ در اصل ذیقعدہ تھا اور فی الحقیقت یہ لشکر کشی در حقیقت تو جمادی الاخری میں تھی لیکن نام کے اعتبار سے یہ رجب میں تھی اور یہ ان لوگوں کے نسیئ کے تصرفات کی وجہ سے ایسا تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان احکامات کی وجہ سے عمل نسیئ کو آئندہ کے لیے موقوف قرار دے دیا۔ اور اس بات کی وضاحت کی اس عمل نسیئ کے ذریعے یہ لوگ چونکہ خود مہینوں کو حال قرار دتے ہی یا حرام قرار دیتے ہیں یا حرام قرار دیتے ہیں اور یہ عمل چونکہ اصول دین کے خلاف ہے۔ کیونکہ دین کا یہ اصل الاصول ہے کہ حلال و حرام کے حدود کا عین صرف اللہ تعالیٰ کرسکتا ہے۔ یہ اللہ کا مخصوص حق ہے۔ اور اس حق اور اختیار کو اللہ کے اذن کے بغیر استعمال کرنا کفر اور شرک ہے۔ بلکہ یہ عمل کفر کے میدان میں آخری حدود تک بڑھ جانے کے مترادف ہے۔ اس طرح ان آیات کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے خلجان کو دور کردیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ اصول بھی واضح کردیا گیا کہ اسلام نظام زندگی میں حرام و حلال کے تعین کا اختیار صرف اور صرف اللہ کو ہے۔ اور اس عقیدے کا تعلق اس عظیم حقیقت سے ہے جو اس پوری کائنات کے ناموس کے اندر پوشیدہ حقیقت سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے اندر ودیعت کی ہے اور تخلیق کے پہلے دن سے۔ اس طرح اللہ کی جانب سے لوگوں کے لیے قانون سازی در اصل اس اصول پر مبنی ہے جو اللہ نے اس کائنات کے لیے ودیعت کیا ہے اس لیے لوگوں کے لیے کسی شخص کی جانب سے قانون سازی کا کام کرنا گویا کفر میں اغے بڑھنا ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنا ہے۔ آیات کے اس حصے میں اس حقیقت کو بھی دوبارہ ذہن نشین کرانا مطلوب ہے۔ جو ان آیات سے متصلا پہلے بھی بیان کی گئی ہیں۔ وہ یہ کہ اہل کتاب بھی مشرکین ہیں اور دشمنی اور جہاد کے زاویہ سے وہ مشرکین کے محاذ میں شامل ہیں اور حکم یہ ہے کہ ان سب کے ساتھ جنگ کی جائے یعنی مشرکین اور اہل کتاب دونوں کے ساتھ۔ اس لیے کہ یہ سب کے سب اہل اسلام کے خلاف جہاد اور جنگ کرتے ہیں اور پوری اسلامی تاریخ سے ان کا یہ طرز عمل پایہ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے اور قرآن کے الفاظ تو اس معاملے میں بالکل واضح ہیں کہ اہل کتاب اور مشرکین دونوں کا مشترکہ ہدف یہی ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر وقت برسر پیکار رہتے ہیں۔ اور جب بھی ان کا سامنا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے تو وہ اپنے درمیان کی عداوتوں کو بھول جاتے ہی ، چاہے یہ اختلافات باہم عداوتوں کے حوالے سے ہوں یا عقائد و نظریات کے حوالے سے ہوں چناچہ اسلام کی راہ روکنے کے لیے پھر ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی اور وہ اسلام کی بیخ کنی کے لیے متحد اور متفق ہوجاتے ہیں۔ یہ حقیقت کہ اہل کتاب دوسرے مشرکوں کی طرح مشرک ہیں اور یہ کہ وہ مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کی طرح لڑتے ہیں۔ اس بات کی متقاضی ہے کہ مسلمان بھی ان تمام مشرکوں کے خلاف لڑیں چاہے ان کا تعلق مشرکین اہل کتاب سے ہو یا مشرکین عرب سے ہو۔ اور دوسری یہ کہ نسیئ کا عمل کفر کی ایڈوانس شکل ہے کیونکہ ایک غلط کام ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں اللہ کے اختیار قانون سازی پر دست درازی بھی ہے اس لیے یہ سادہ کفر سے زیادہ کفر ہے۔ یہی وہ مناسبت ہے جس کی وجہ سے سابقہ مضمون کے ساتھ ان آیات کا تعلق پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ سابقہ آیات میں ان رکاوٹوں کا ذ کر تھا جو جہاد کے لیے نکلنے میں حائل ہوتی ہیں اور ظاہر ہے کہ جہاد اہل کتاب اور مشرکین دونوں کے خلاف تھا۔ درس نمبر 89 تشریح آیات 36 ۔۔۔ تا۔۔۔ 37 اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ : " حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں۔ یہی ٹھیک ضابطہ ہے۔ " یہ آیت زمانے کو اس معیار اور قانون کی طرف لوٹا دتی ہے اور زمانے کا دوران اس نظام کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق کی ہے یعنی زمانے کا تعین تخلیق کائنات کے مطابق ہوگا۔ اس آیت میں اسی طرح بھی بھی اشارہ ہے کہ اس کائنات میں زمانے کا ایک نہایت ہی مستحکم دور کام کرتا ہے اور اس دوران میں سال کو بارہ مہینوں کے اندر تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مستحکم دوران میں کمی و بیشی نہیں پیدا کی جاسکتی۔ اور یہ دوران زمان اور حولان حول میں نہایت ہی منضبط ہے اور یہ اس قانون قدرت کے مطابق ہے جس کے تحت اس کائنات کی تخلیق ہوئی ہے۔ یہ نظام اور ضابطہ یا ناموس یا قدر اس دقیق اور مستحکم ہے کہ اس میں کوئی کمی و بیشی نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ زمانے کا دوران نہایت ہی دقیق معیار کے مطابق سر انجام پاتا ہے۔ اور آغاز تخلیق کائنات سے اس ضابطے کو جاری وساری کیا گیا ہے اور یہ کبھی موقوف نہیں ہوا ہے۔ زمان و مکان کے قانون حرکت کے اس استحکام کو یہاں اس لیے لایا گیا ہے کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ حرام و حلال کے حدود وقیوم کا تعین کائنات کے اس مستحکم اصول پر مبنی ہے ۔ لہذا حلال و حرام کا تعین محض وقتی خواہشات اور میلانات کی اساس پر نہیں ہوسکتا۔ نہ اس کی حرکت میں تقدیم و تاخیر کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ نہایت ہی غیر معمولی امر ہے۔ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ " یہی ٹھیک ضابطہ ہے " پس یہ دین اس کائنات کے مضبوط ضابطے کے مطابق ہے اور کائنات کا مضبوط ضابطہ وہ ہے جس کے مطابق یہ کائنا روز اول سے چل رہی ہے جب سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ یہ ایک مختصر آیت ہے لیکن اس میں معانی و مدلولات کا ایک لامتناہی سلسلہ رکھ دیا گیا ہے۔ یہ معانی پے در پے چلے آ رہے ہیں۔ بعض ، بعض کے لیے شریح اور توسیع کا سامان فراہم کرتے ہیں ۔ بعض کی وجہ سے دوسرے مطالب قوی ہوتے ہیں۔ وہ تمام علمی اور سائنسی اکتشافات اس کے مفہوم میں داخل ہیں جو جدید انسان اس دنیا میں سائنس کے ذریعے سامنے لاتا ہے اور مسلسل تجربات کرکے مزید حقائق کو سامنے لا رہا ہے۔ اس طرح اصول دین اور اصول کائنات کے درمیان مسلسل تطابق کا اظہار ہوتا ہے اور دینی اصودل دور جدید میں اچھی طرح ذہنوں میں بیٹھ رہے ہیں اور اس کے اصول اور اس کی بنیادیں مضبوط ہو رہی ہیں۔ یہ تمام مدلولات صرف 12 الفاط کے ذریعے منضبط کیے گئے ہیں اور یہ الفاظ بھی بظآہر نہایت ہی معمولی اور سادہ ہیں اور عام فہم اور سادہ ہیں۔ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ " ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو " ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو " ان چار مہینوں میں ایک دوسرے کے اوپر ظلم نہ کرو کیونکہ یہ اصول اس اصول سے مربوط ہے جس کے اوپر کائنات کو منظم کیا گیا ہے اور یہ اصول اس اصول سے مربوط ہے جس کے اوپر کائنات کو منظم کیا گیا ہے اور یہ اصول اعظم یہ ہے کہ جس طرح اس کائنات کا قانون ساز اللہ ہے ، اسی طرح لوگوں کے لی بھی ضابطہ بندی کرنے والا اللہ ہے۔ لہذا ان ضوابط کی خلاف ورزی ظلم ہوگا لہذا تم ان حرام مہینوں کو اپنے لیے حلال کرکے امن و سلامتی کے خلاف اقدام مت کرو۔ یہ اللہ کے ارادے اور مشیئت کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ خلاف ورزی ظلم ہے اور یہ ظلم کرکے اپنے آپ کو دنیا و آخرت کے عذاب کے لیے مستحق نہ ٹھہراؤ اور اپنے معاشرے کے اندر قلق و اضطراب نہ پیدا کرو اور اس دنیا کو اس جنگ کا شکار نہ بناؤ جس کا کوئی مقصد نہیں جو امن و سلامتی سے متضاد ہے۔ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَاۗفَّةً ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ : " اور مشرکوں سے سب سے مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے " یعنی حرام مہینوں کے علاوہ دوسرے مہینوں میں الا یہ کہ مشرکین حرام مہینوں میں تم پر حملہ کردیں۔ اگر وہ حرام مہینوں میں تم پر دست درازی کریں تو تم ان مہینوں میں اپنا دفاع کرسکتے ہو کیونکہ اگر یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کردیا جائے و اس طرح اچھے اخلاف کی حامل قوتیں کمزور پوزیشن میں چلی جائیں گی اور انسانی اخلاق کی حامل قوتیں اشرار کا مقابلہ نہ کرسکیں گی اور دنیا میں شر و فساد کا دور دورہ ہوجائے گا اور دنیا پر طوائف الملوکی کا غلبہ ہوجائے گا۔ لہذا حرام مہینوں میں جارحیت کا مقابلہ کرنا بھی در اصل ان مہینوں کی حرمت کو بچانا ہے تاکہ آئندہ ان کا احترام کیا جائے اور کوئی کسی کے خلاف جارحیت کا ارتکاب نہ کرے۔ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً : " اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں " یعنی تم سب ان کے ساتھ لڑو ، بلا استثناء سب کے سب ، اس حکم سے کوئی جماعت بھی مستثنی نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ سب تم سے لڑتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مستثنی نہیں ہے۔ اور وہ بھی تم میں سے کسی مستثنی نہیں کرتے۔ لہذا معرکہ جہاد درحقیقت شرک اور توحید کے نظریات کے درمیان معرکہ ہے۔ یہ ایمان اور کفر اور ہدایت و ضلالت کے درمیان معرکہ آرائی ہے۔ یہ ایسے دو بلاکوں کے درمیان محاذ آرائی ہے جن کے درمیان کسی بھی وقت امن قائم نہیں ہوسکتا ، نہ ان کے درمیان کوئی مکمل اتفاق ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ اختلاف کوئی عارضی اور جزوی اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ دائمی اور بنیادی اختلاف ہے۔ یہ ایسے مصالح اور مفادات کا اختلاف نہیں ہے جن کے درمیان یگانگت پیدا کی جاسکتی ہو۔ نہ زمین کے کسی رقبے پر اختلاف ہے جسے تقسیم کرکے اس کی حد بندی کی جاسکتی ہو ، اگر امتت مسلمہ یہ سمجھے کہ اس کے اور کفار اہل کتاب اور بت پرستوں کے درمیان برپا جنگ اقتصادیات کی جنگ ہے یا کوئی قومی جنگ ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہوگی یا اگر اسے کوئی یہ بات سمجھاتا ہے تو وہ اسے دھوکہ دیتا ہے۔ یہ معرکہ محض وطنی یا پالیسی کا معرکہ نہیں ہے ، یہ تو ایک ہمہ گیر نظریاتی معرکہ ہے۔ اور یہ اس نظام اور دین اسلام اور کفر کے درمیان معرکہ ہے۔ اس ہمہ گیر معرکے کا فیصلہ انصاف اور کچھ لے اور کچھ دے کے اصول پر نہیں ہوسکتا ، نہ مذاکرات کے ذریعے اسے حل کیا جاسکتا ہے۔ اس کا حل تو صرف عمل جہاد میں مضمر ہے۔ مسلسل جدوجہد اور پیہم عمل میں اس کا حل مضمر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ سنت ہے جو کسی طرح بھی نہیں ٹل سکتی۔ یہ وہ نظام اور قانون ہے جس کے اوپر نظام کائنات کھڑآ ہے۔ آسمان و زمین اسی ناموس اکبر کے مطابق قائم اور رواں دواں ہیں۔ دنیا کے ادیان اور نظریات بھی اس ناموس کے مطابق چل رہے ہیں۔ دل اور دماگ کا نظام بھی یہی تکوینی نظام ہے اور یہ اسی روز سے قائم ہے جس روز سے اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق کی ہے۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ " اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے " لہذا کامیابی ان متقین کے لیے لکھ دی گئی ہے جو اللہ کی حدود کا احترام کرتے ہیں ، اللہ جسے حرام قرار دے اسے حرام قرار دیتے ہیں اور اللہ کے قوانین سے انحراف نہیں کرتے۔ لہذا قانون قدرت یہ ہے کہ مسلمان مشرکین خلاف عمل جہاد کو لمحہ بھر کے لیے بھی موقوف نہ کریں ، اس سے انحراف نہ کریں اور اس مسلسل جہاد میں وہ حدود اللہ کو پامال نہ کریں اور حدود اللہ کا احترام کریں اور عمل جہاد کو اس کے پورے قوانین اور آداب کے مطابق جاری رکھیں اور اس جہاد میں ان کے پیش نظر صف رضائے الہی ہو ، دل میں بھی اور علانیہ طور پر بھی۔ اگر وہ ان اصولوں کے مطابق جہاد میں داخل ہوں تو فتح ان کے قدم چومے گی کیونکہ اس صورت میں اللہ ان کے ساتھ ہوگا اور جس کا ساتھی اللہ ہو ، اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

نسیئ تو کفر میں ایک مزید کافرانہ حرکت ہے جس سے یہ کافر لوگ گمراہی میں مبتلا کیے جاتے ہیں۔ کسی سال ایک مہینے کو حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال اس کو حرام کردیتے ہیں تاکہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری بھی کردیں اور اللہ کا حرام کیا ہوا حلال بھی کرلیں ان کے برے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے گئے ہیں اور اللہ منکرین حق کو ہدایت نہیں دیا کرتا

حضرت مجاہد کا کہنا ہے کہ " بنی کنانہ کا ایک شخص اپنے گدھے پر سوار ہوکر ہر سال موسم حج میں آتا ، اور یہ اعلان کرتا : لوگو ! مجھ پر نہ کوئی عیب جوئی کی جاسکتی ہے اور نہ میں ناکام ہوتا ہوں۔ نہ میری بات کو رد کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے محرم کو حرام قرار دیا اور صفر کو موخر کردیا ہے ۔ اس کے بعد وہ دوسرے سال آتا اور یہی بات کہتا۔ ہم نے صفر کو حرام قرار دیا ہے اور محرم کو موخر کردیا ہے اور یہ مطلب ہے۔ لیواطئوا عدۃ ما حرم اللہ : " تاکہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری کردیں " یعنی چار ماہ کی تعداد پوری کردیں۔ اس طرح وہ حلال مہینوں کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیں۔ عبدالرحمن ابن زید ابن اسلم کا کہنا ہے کہ یہ شخص بنی کنانہ میں سے تا اور اس کام ؟ ؟ تھا۔ جاہلیت کا رواج یہ تھا کہ ان میں سے کوئی قبیلہ دوسرے پر حرام مہینوں میں ڈاکہ نہ ڈالتا تھا۔ بعض اوقات ہوتا کہ ایک شخص کے سامنے اس کے باپ کا قاتل آجاتا لیکن وہ اس پر ہاتھ نہ ڈالتا اگر حرام مہینوں کوئی مقاتلہ کے لی دوسروں سے امداد طلب کرتا تو لوگ کہتے ، دیکھتے نہیں حرام مہینہ ہے تو امداد طلب کرنے والا یہ کہتا کہ اسی سال ہم اسے ملتوی کردیں گے۔ چناچہ اس سال محرم کے بجائے دو صفر ہوں گے اور دوسرے سال ہم دو محرم کردیں گے۔ اس طرح وہ لوگ کرلیتے۔ اور اگلے سال وہ سفر کے مہینے کو بھی محرم کی طرح حرام قرار دیتے۔ اس طرح دو مہینے حرام قرار پاتے۔ اس آیت کی تفسیر میں یہی دو اقوال ہیں اور یہی نسیئ کی دو صورتیں رائج تھیں۔ پہلی صورت میں وہ محرم کے بدلے صفر کو رحرام قرار دیتے۔ اور چار کی تعداد پوری کرتے لیکن اللہ نے منصوص طور پر جن مہینوں کو حرام قرار دیا تھا۔ یہ چار بعینہ وہ نہ ہوتے کیونکہ اس میں محرم نہ ہوتا۔ اور دوسری صورت میں ایک سال تین مہینے حرام ہوتے اور دوسرے میں پانچ حرام ہوتے اور اس طرح دو سالوں کی اوسط آٹھ کی تعداد پوری ہوجاتی۔ لیکن اس طرح بھی محرم کا احترام بہرحال ٹوٹ جاتا۔ اور اس کی جگہ صفر حرام ہوجاتا۔ ان دونوں صورتوں میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیا جاتا جو اسلامی شریعت کے خلاف عمل تھا۔ اسے زیادۃ فی الکفر قرار دیا گیا کیونکہ نظریاتی کفر کے ساتھ یہ از خود قانون سازی کرکے کفر کا ارتکاب کیا گیا۔ يُضَلُّ بِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا " جس سے یہ کافر لوگ گمراہی میں مبتلا کیے جاتے ہیں " وہ دھوکہ دیتے ہیں ، دین کو کھیل بناتے ہیں اور نصوص میں تاویل و تحریف کرتے ہیں۔ زُيِّنَ لَهُمْ سُوْۗءُ اَعْمَالِهِمْ " ان کے برے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے گئے ہیں " اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کو برائی اچھائی نظر آتی ہے ، وہ بدزبانی کو زیبائش سمجھتے ہیں۔ اس طرح وہ گمراہی کو گمراہی سمجھتے ہی نہیں اور کفریہ اعمال میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْن : " اور منکرین حق کو اللہ کی ہدایت نہیں دیا کرتا " کیونکہ انہوں نے خود اپنے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں۔ انہوں نے دلائل ہدایت پر غور کرنا ہی چھوڑ دیا۔ لہذا نہوں نے اپنے آپ کو اس بات کا مستحق بنا لیا ہے کہ وہ جس حال میں ہیں ، اللہ انہیں اس میں چھوڑ دے۔ ۔۔۔
Ayah 9:38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے ؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا۔

درس نمبر 90 ایک نظر میں آیات کا یہ حصہ ، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر حکم نفیر عام کے بعد نازل ہوا ہوگا۔ جب حضور کو معلوم ہوا کہ رومی جزیرۃ العرب کے شمالی علاقے شام کی حدود پر جمع ہوگئے ہیں۔ الا یہ کہ ہر قل نے اپنے ساتھیوں اور فوجیوں کو ایک سال کا راشن فراہم کردیا ہے اور ان افواج کے ساتھ قبائل لخم ، جذاب ، عاملہ اور غسان بھی شامل ہوگئے ہیں جو شمالی عربی قبائل تھے۔ ان کے ہر اول دستے مقام بلقا تک آپہنچے ہیں۔ ان حالات میں حضور نے بھی مسلمانوں کو عام لشکر کشی کی تیاری کا حکم دے دیا۔ حضور جب بھی کسی غزوے کے لیے نکلتے تو آپ جنگ چال کے طور پر تیاریوں کا رخ دوسری جانب پھیرتے پتہ نہ ہوتا کہ آپ نشانہ کہاں لگائیں گے مگر آپ نے غزوہ تبوک میں اس اصول کو چھوڑ دیا چونکہ یہ دور کا سفر تھا اور موسم نہایت ہی سخت تھا۔ اس لیے حضور نے اس سفر کی بات صاف صاف بتا دی تھی۔ سخت گرمی پڑھ رہی تھی۔ چھاؤں خوشگوار تھی۔ باغات پک چکے تھے۔ اور لوگوں کے لیے سفر کے مقابلے میں گھروں پر قایم بہت ہی محبوب تھا۔ ان حالات میں اسلامی معاشرے میں ان کمزوریوں کا ظہور ہوا جن کے بارے میں ہم نے اس سورت کے مقدمے میں تفصیلا بتایا ہے۔ ان حالات میں منافقین کے لیے بھی اپنی ذلیلانہ حرکات کے لیے موقع پیدا ہوگئے ، انہوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ گرمی میں لشکر کشی نہ کی جائے۔ انہوں نے طویل سفر کی صعوبتوں کو بیان کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے لوگوں کو رومیوں کی قوت سے بھی خوب ڈرایا۔ اور اس پروپیگنڈے کا اثر بھی اسلام معاشرے پر پڑا۔ چناچہ آیات کے اس حصے میں ان تمام باتوں کے خلاف متنبہ کیا گیا۔ درس نمبر 90 تشریح آیات 38 ۔۔۔ تا۔۔ 41 پیچھے رہ جانے والوں کے لیے یہ آغاز عتاب ہے ، ان کو یہاں سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر انہوں نے جہاد کے معاملے میں سستی کی تو اس کے نتائج سخت ہوں گے۔ اس موقع پر انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ تم حضرت محمد کو اکیلا اور محتاج نہ سمجھو۔ ان کے ساتھ اللہ کی نصرت اور مدد ہر وقت موجود رہتی ہے۔ غار میں اس کے ساتھ تم میں سے کوئی نہ تھا اور تمہارے بغیر بھی اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو بچایا۔ حضور کو تو تمہارے تخلف سے کوئی نقصان ہوگا یا نہ ہوگا ، تمہیں بہرحال گناہ ہوگا اور تم سے ایک بڑی کوتاہی کا صدور ہوجائے گا۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ : " اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے ؟ " یہ سب زمین کے بوجھ ہیں ، زمین کے لالچ ، زمین کے تصورات ، زندگی کے چلے جانے کا خوف ، مال کے نقصان کا خوف ، دنیاوی لذتوں اور مال و متاع کے ضائع ہوجانے کا خوف ، عیاشی آرام اور امن و سکون کے تباہ ہوجانے کا خوف۔ فنا ہونے والی لذتوں ، زندگی کے مکتصر اور عارضی مقاسد اور خود اس کرہ ارض کی مختصر زندگی کے ساتھ چمٹ جانے کی رکاوٹ۔ غرض تمام رکاوٹیں ، خون اور گوشت اور مٹی سے متعلق ہیں۔ اور ان تمام رکاوٹوں کو ایک نہایت ہی زمزمہ زنگیز لفظ اثاقلتم کے ذریعے بتایا گیا۔ اس میں ایک قرات ثقاقلتم بھی آئی ہے لیکن حفص کی عام قراءت نہایت ہی موثر ہے۔ یہ لفظ جس مفہوم کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک جثہ ہے جو زمین پر گرنے کے لیے ڈھیلا پڑ رہا ہے۔ لوگ اسے مشکل سے اوپر کی طرف اٹھانے کی سعی کرتے ہیں لیکن وہ اس قدر بوجھل ہوچکا ہے کہ وہ زمین پر گرجاتا ہے۔ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ : ان الفاظ میں سے اظہار ہوتا ہے کہ زمین اسے اپنی جانب کھینچ رہی ہے لیکن روحانی قوت اور تحریک اور شوق کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اوپر اٹھے جہاد کے لیے اٹھنے کا عمل در اصل اپنے آپ کو اس زمین کی کشش ثقل سے آزاد کرنا ہے۔ زمین کے اندر پائی جانے والی گوشت و پوست کی آلودگیوں سے اپنے آپ کو آزاد کرنے کا عمل ہے۔ انسان کو روحانی دنیا اور بلند مقاصد کی دنیا کی طرف مشتاق کرنے کا عمل ہے۔ انسانی روح کو دنیاوی قید و بند سے آزاد کردینے کا عمل ہے۔ اس عارضی اور مختصر زندگی کو ترک کرکے دائمی اور طویل زندگی میں داخل ہونے کا عمل ہے۔ اَرَضِيْتُمْ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْاٰخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيْلٌ: " کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا " کسی عقیدے اور نظریے کے پیروکار اگر جہاد فی سبیل اللہ سے روکتے ہیں یا اپنے نظریات کی خاطر جنگ نہیں کرتے تو اس کا صرف ایک ہی سبب ہوسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے نظریہ اور عقیدہ کے اندر فتور اور کمزوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں من مات و لم یغزوا ولم یحدث نفسہ بغزو مات علی شعبۃ من شعب نفاق۔ جو شخص مر گیا اور اس نے نہ تو جہاد میں حصہ لیا اور نہ اس کو کبھی اس کا خیال گزرا تو ایسا شخص نفاق کے شعبوں میں سے ایک شعبے پر مرا لہذا نفاق جب کسی عقیدے میں داخل ہوتا ہے تو اسے بلندی اور کمال سے روکتا ہے۔ یہ نفاق ہی ہے جو انسان کو موت سے ڈرا کر ، فقر و فاقے سے ڈرا کر جہاد سے روکتا ہے حالانکہ موت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور رزق ہر شخص کا اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آخرت کے مقابلے میں اس پوری زندگی کا مال و متاع شیئ قلیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگے یہ بیان آتا ہے۔
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

تم نہ اٹھوگے تو خدا تمہیں دردناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا اور تم خدا کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکوگے وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

یہ خطاب ایک متعین واقعہ میں ایک متعین جماعت کو ہے۔ لیکن اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہ ہر صاحب عقیدہ اور نظریہ کے لیے عام ہے۔ یہ عذاب جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے صرف آخرت کا عذاب ہی نہیں ہے۔ یہ دنیاوی عذاب بھی ہے۔ جو لوگ جہد و جہاد سے پہلو تہی کرتے ہیں اور غلبہ و سربلندی کے لیے جہد مسلسل نہیں کرتے وہ محروم رہتے ہیں اور ذلت کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھلائی کے کاموں میں حصہ لینے سے محروم رہتے ہیں۔ اور یہ میدان وہ اپنے دشمنوں کے لیے خالی چھوڑ دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ جہاد فی سبیل اللہ اور اسلام کی راہ میں جدوجہد کی راہ چھوڑ دینے کے نتیجے میں نظریاتی لوگوں کا جانی اور مالی نقصان جہاد و قتال میں حصہ لینے کی صورت میں ہوتا ہے۔ جہاد کا شریفانہ عمل ان سے جس قربانی کا مطالبہ کرتا ، اس کے مقابلے میں ذلت اور پست ہستی ان سے زیادہ قربانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ غرض جس قوم نے بھی جہاد کے عمل کو ترک کیا ، اس کے مقدر میں ذلت لکھ دی جاتی ہے۔ وہ دشمن کے لیے لقمہ تر بن جاتی ہے اور دشمن اسے بڑی آسانی کے ساتھ غلام بنا لیتا ہے۔ ویستبدل قوما غیرکم : " تمہاری جگہ اور گروہ اٹھائے گا " یہ دوسرا گروہ ایسا ہوگا جو اپنے نظریات پر مضبوطی سے قائم ہوگا ، وہ اپنی عزت اور وقات کے لیے قربانی دینے والا ہوگا اور وہ اللہ کے دشمنوں پر سربلندی حاصل کرنے والا ہوگا۔ ولا تضروہ شیئا " تم خدا کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکوگے " پھر تمہاری کوئی حیثیت نہ ہوگی اور نہ صف اول میں تمہاری حیثیت ہوگی اور نہ صف آخر میں۔ واللہ علی کل شیئ قدیر " اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے " وہ اس بات سے عاجز نہیں ہے کہ تمہیں ختم کردے اور تمہاری جگہ دوسری اقوام کو اٹھا لائے اور تمہیں نظر انداز کرکے گوشہ گم نامی میں ڈال دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیاوی مفادات سے بلند ہونا اور نفس انسانی کی کمزوریوں پر قابو پانا ، در اصل مقام شرافت و کرامت کو پانا ہے۔ اس کے نتیجے میں بلند ترین زندگی عطا ہوتی ہے لیکن ذلت کو اختیار کرکے زمین سے چمٹ جانا اور دشمن سے خائف ہونا کرامت اور شریعت اور عظمت کی زندگی کی نفی ہے۔ اور اللہ کے معیار کے مطابق یہ فنا اور ذلت ہے اور روحانی و اقدار کی تباہی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک تاریخی واقعہ کو ذکر کرکے ایک مثال بیان فرماتے ہیں۔ یہ مثال ان کے علم میں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ بعض حساس مواقع پر دست قدر نے کس طرح رسول اللہ اور اسلامی تحریک کی دستگیری فرمائی۔ اس میں افراد تحریک کا وئی دخل نہ تھا۔ یہ خالص غیبی امداد تھی اور مہاجرین و انصار میں سے کوئی ایک شخص بھی اس وقت امداد کے لیے موجود نہ تھا۔
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

تم نے اگر نبی کی مدد نہ کی تو کچھ پروا نہیں ، اللہ اس کی مدد اس وقت کرچکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا ، جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا ، جب وہ دونوں غار میں تھے ، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ " غم نہ ، اللہ ہمارے ساتھ ہے " اس وقت اللہ نے اس پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کو بول نیچا کردیا اور اللہ کا بول تو اونچا ہی ہے ، اللہ زبردست اور دانا و بینا ہے

جب حضرت محمد ﷺ کے بارے میں قریش کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ سرکش قوتوں کو جب کامیابی نصیب نہیں ہوتی تو ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوجاتا ہے اور وہ تشدد پر اتر آتی ہیں۔ چناچہ قریش نے بھی حضور کے خلاف تشدد کی سازشیں شروع کردیں۔ یہ فیصلہ کرلیا گیا کہ حضور کو قتل کرکے ان سے جان چھڑائی جائے اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم کو ان کی خفیہ سازشوں کی بابت اطلاع کردی۔ اور حکم دیا کہ آپ اب مکہ سے نکل جائیں۔ آپ کے ساتھ صرف ابوبکر صدیق رفیق تھے۔ آپ کے پاس نہ تو کوئی لشکر تھا اور نہ سامان جنگ تھا۔ آپ کے دشمن ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اور وہ بہت ہی طاقتور تھے۔ یہاں سیاق کلام میں اس کی نہایت ہی خبوصورت منظر کشی کی گئی ہے۔ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ " جب وہ دونوں غار میں تھے " اور قوم ان کا پیچھا کر رہی تھی۔ حضرت صدیق سخت گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ اپنی جان کے بارے میں فکر مند نہ تھے۔ ان کو قائد کی فکر تھی کہ وہ ان کے آثار نہ پا لیں اور ان کے حبیب تک رسائی حاصل نہ کرلیں۔ کہتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کی جگہ سے نظر ڈالتا تو ہم اسے اس کے پاؤں کے نیچے نظر آجاتے۔ اس موقع پر حضور کے قلب پر اللہ کی جانب سے سکون و ثابت کی کیفیت نازل ہوچکی تھی۔ آپ نے صدیق اکبر کے خوف کو کم کرنے کی کوشش کی اور فرمایا : " ابوبکر تمہارا ان دو آدمیوں کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو " نتیجہ کیا نکلا ؟ حالات ایسے ہیں کہ ایک طرف پوری مادی قوتیں ہیں اور حضور اور ان کے اکیلے ساتھی ہر قسم کی مادی قوتیں ہیں اور حضور اور ان کے اکیلے ساتھ ہر قسم کی مادی قوتوں سے محروم ہیں۔ اب اللہ کی افواج میدان میں آتی ہیں۔ ان میں سے کوئی فوج اور کوئی قوت نظر نہیں آتی۔ اس منصوبے میں کفار کو بری طرح شکست ہوتی ہے اور وہ ذلیل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ و جعل کلمۃ الذین کفرو السفلی " اور الللہ نے کافروں کا بول نیچا کردیا " اور اللہ کا کلمہ اپنی جگہ سر بلند رہا جیسا کہ وہ ہمیشہ سر بلند رہتا ہے ، قوی ہوتا ہے اور اسے نفوذ حاصل ہوتا ہے۔ و کلمۃ اللہ ہی العلیا۔ بعض قراءتوں کے مطابق۔ وکلمۃَ اللہ نصب کے ساتھ بھی آیا ہے لیکن وکلمۃُ اللہ رفع کے ساتھ زیادہ قوی ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے بات زور دار ہوجاتی ہے کیونکہ اس میں تاکید اور دوام کا مفہوم ہوتا ہے۔ یعنی وکلمۃ اللہ کا مزاج اور اس کی حقیقی پوزیشن ہی یہ ہے کہ وہ سربلند ہوتا ہے۔ اس کی سربلندی کسی ایک واقعہ اور حادثہ میں محدود نہیں ہے۔ اللہ عزیز ہے اور اس کے دوست کبھی ذلیل نہیں ہوتے اور وہ بہت بڑا حلیم ہے۔ اس لیے وہ اپنے دوستوں کے لیے کامیاب پالیسی وضع فرماتا ہے اور اس نے ان کے مقدر میں کامیابی لکھ دی ہے۔ یہ ایک مثال تھی کہ کس طرح اللہ نے اپنے رسول اور اپنے کلمات کو کامیابی عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ ایسی مثالیں دہرا سکتا ہے لیکن اس قسم کی امداد صرف ان لوگوں کو پہنچ سکتی ہے جو سستی نہیں کرتے اور بیکار نہیں بیٹھے۔ اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو اللہ دوسرے گروہ پیدا کرسکتا ہے۔ یہ ایک واقعی اور عملی مثال تھی اور اس کو سمجھانے کے لیے کسی بڑی دلیل اور منطقی استدلال کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس مثال کی فضا میں اور اس گہرے تاثر کی حالت میں اب اللہ تعالیٰ حکم فرماتے ہیں کہ تمام مسلمان اس مہم میں نکل کھڑے ہوں ، کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لائیں ، کوئی عذر ان کی راہ میں حائل نہ ہو ، نکل کھڑے ہوں اگر وہ دنیا میں کامرانی اور فتح مندی چاہتے ہیں اور آخرت میں دائمی فلاح چاہتے ہیں۔