Ayah 9:108لا تقسم فیہ ابدًا آپ (نماز کیلئے) اس میں کبھی نہ کھڑے ہوں۔ حضرت ابن عباس نے تفسیری مطلب یہی فرمایا۔
ابن النجار نے کہا : منافقوں نے یہ مسجد قبا والی مسجد کے مقابلہ میں بنائی تھی۔ سب وہاں جمع ہوتے اور رسول اللہ (ﷺ) کی برائی کرتے اور آپ کا مذاق بناتے تھے۔ جب (تبوک سے واپسی میں) رسول اللہ (ﷺ) مقام ذی اوان میں تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن اسحاق نے بسلسلۂ زہری حضرت ابو رہم کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے بنی سالم بن عوف کے مالک بن دخشم کو اور قبیلۂ عاصم بن عدی کے معن بن عدی کو طلب فرمایا۔ بغوی نے مالک بن دخشم کے ساتھ عامر بن اسکن اور حضرت حمزہ کے قاتل وحشی کا بھی ذکر کیا ہے ‘ عاصم کا ذکر نہیں کیا اور ذہبی نے التجرید میں سوید بن عباس انصاری کا نام بھی بیان کیا ہے اور فرمایا : حق ناشناس لوگوں کی بنائی ہوئی اس مسجد کو جا کر ڈھا دو اور جلادو۔ حسب الحکم یہ حضرات تیزی کے ساتھ چلے گئے اور سالم بن عوف کے محلہ میں پہنچ کر مالک نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا : آپ لوگ میرا انتظار کریں ‘ میں آتا ہوں۔ یہ کہہ کر اپنے گھر جا کر کھجور کی کچھ خشک ٹہنیاں لے کر ان میں آگ لگائی ‘ پھر سب حضرات دوڑ کر مغرب و عشاء کے درمیان مسجد میں پہنچے ‘ اس وقت مسجد والے مسجد میں موجود تھے۔ ان حضرات نے مسجد کو آگ لگا دی اور ڈھا کر زمین کے برابر کردیا۔ اہل مسجد ادھر ادھر منتشر ہوگئے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے حکم دیا : اس جگہ کوڑا گھر بنا دیا جائے جہاں مرد اور جانور اور غلاظتیں ڈالی جائیں۔ ابو عامر فاسق ملک شام میں یکہ و تنہا ‘ خانہ برباد ‘ مسافت کی حالت میں مر گیا۔
محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے عاصم بن عدی کو پیشکش کی کہ اس مسجد کے مقام پر وہ اپنا مکان بنا لیں۔ حضرت عاصم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اس مسجد کے بارے میں اللہ نے جو حکم نازل فرمایا ہے ۔ اس کے بعد تو میں اس میں مکان نہیں بنا سکتا۔ البتہ ثابت بن اقرم کو یہ جگہ عنایت فرما دیجئے ‘ ان کے پاس کوئی مکان نہیں ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ثابت کو وہ جگہ عطا فرما دی لیکن اس مکان میں ثابت کا کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔ نہ کسی کبوتر نے وہاں بچہ نکالا نہ کسی مرغی نے انڈے سیئے (یعنی انڈوں پر بیٹھ کر بچہ نہیں نکالا) ۔
بغوی نے بیان کیا : روایت میں آیا ہے کہ بنی عمرو بن عوف جنہوں نے مسجد قبا بنائی تھی ‘ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ مجمع بن حارثہ کو ان کی مسجد میں امام بنا دیں۔ حضرت عمر نے انکار کردیا اور فرمایا : (اس کی) آنکھ ٹھنڈی نہ ہو ‘ کیا یہ مسجد ضرار میں امام نہ تھا ؟ حضرت مجمع نے عرض کیا : امیر المؤمنین ! میرے خلاف فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کیجئے۔ میں نے مسجد ضرار میں نماز ضرور پڑھی تھی لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ ان لوگوں کی نیت کیا ہے۔ اگر مجھے ان کا مخفی ارادہ معلوم ہوتا تو میں وہاں نماز نہیں پڑھتا۔ میں لڑکا تھا مگر قرآن پڑھا ہو اور وہ لوگ بوڑھے تھے مگر ناخواندہ ‘ اسلئے میں نے نماز پڑھا دی۔ میں یہ ہی خیال کرتا تھا کہ تعمیر مسجد سے ان کی غرض حصول ثواب ہے ‘ ان کے دلوں کے خیالات کا مجھے علم نہ تھا۔ حضرت عمر نے حضرت مجمع کے اس عذر کو قبول فرما لیا اور ان کے بیان کی تصدیق کی اور ان کو مسجد قبا میں نماز پڑھانے کا حکم دے دیا۔
لمسجد اسس علی التقویٰ من اول یوم احق ان تقوم فیہ پہلے دن سے جس مسجد کی بنیاد تقوے پر رکھی گئی اس میں نماز پڑھنی بلاشبہ تمہارے لئے زیادہ مناسب ہے۔ پہلے دن سے مراد ہے تعمیر و تاسیس کا پہلا دن ‘ یا ہجرت کے بعد رسول اللہ (ﷺ) کے مدینہ میں فروکش ہونے کا پہلا دن۔ کذا قال السہیلی۔ حضرت ابن عمر ‘ حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوسعید خدری نے فرمایا : لَمَسْجِدٌسے مراد مسجد نبوی ہے ‘ یعنی مدینہ والی مسجد۔ امام احمد ‘ ابن ابی شیبہ ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابو یعلی ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابو الشیخ ‘ حاکم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے (دلائل میں) ذکر کیا کہ حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا : میں امہات المؤمنین میں سے کسی کے گھر رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! وہ کونسی مسجد ہے (جس کے متعلق فرمایا گیا ہے) کہ اس کی تاسیس تقوے پر کی گئی ہے ؟ حضور (ﷺ) نے ایک مٹھی کنکریاں لے کر زمین پر ماریں اور فرمایا : یہ ہی تمہاری مسجد مدینہ کی مسجد۔
طبرانی اور ضیاء مقدسی نے المختارہ میں حضرت زید بن ثابث کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سے اس مسجد کے متعلق دریافت کیا گیا جس کی بناء تقوے پر رکھی گئی تھی ‘ فرمایا : وہ میری یہ ہی مسجد ہے۔
ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عمر سے دریافت کیا گیا : جس مسجد کی تاسیس تقوے پر ہوئی ‘ وہ کونسی مسجد ہے : فرمایا : رسول اللہ (ﷺ) کی مسجد۔
مسجد نبوی کی فضیلت میں وہ حدیث آئی ہے جس کو شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے (یا یوں ترجمہ کیا جائے کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگا اور میرا منبر میرے حوض پر ہوگا۔ وا اللہ اعلم۔ بغوی کی روایت میں بجائے گھر کے قبر کا لفظ آیا ہے۔
شیخین اور احمد اور نسائی نے حضرت عبد اللہ بن زید مازنی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ایک باغ ہے جنت کے باغوں میں سے۔ ترمذی نے بھی حضرت علی کی روایت سے یہی بیان کیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں میں سوائے مسجد حرام (کعبہ) کے ‘ ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ مسجد اُسِّس علی التقوٰی مسجد قبا ہے۔ عطیہ کی روایت میں حضرت ابن عباس کا یہی قول آیا ہے۔ حضرت عروہ بن زبیر ‘ حضرت سعید بن جبیر اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے مسجد قبا کی تاسیس کی تھی۔ ہجرت کر کے جب حضور (ﷺ) مدینہ کو آئے تو جتنے بھی دنوں یعنی پیر سے جمعہ تک قبا میں قیام فرمایا اور اس عرصہ میں یہاں نماز پڑھی۔ ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابو الشیخ نے ضحاک کی روایت سے یہی بیان کیا ہے۔
بخاری نے عبد اللہ بن دینار کی وساطت سے حضرت ابن عمر کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) ہر شنبہ کو پیدل یا سوار ہو کر مسجد قبا کو تشریف لے جاتے تھے۔ حضرت ابن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ نافع نے حضرت ابن عمر کا قول اتنا زائد نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ داؤدی ‘ سہیلی اور حافظ ابن حجر نے کہا : یہ (تفسیری) اختلاف نہیں ہے کیونکہ دونوں میں سے ہر مسجد کی تاسیس تقوے پر ہوئی تھی۔
میں کہتا ہوں : مراد یہ ہے کہ مورد نزول گو خاص ہو مگر اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے اور مسجدٌ نکرہ موصوفہ ہے ‘ اس کی صفت اُسِّس علی التقوٰی ہے اور یہ بھی صفت عام ہے لیکن آیت کی رفتار بتا رہی ہے کہ آیت میں مسجد قبا مراد ہے اور اسی کے متعلق آیت کا نزول ہوا کیونکہ مسجد ضرار کی تعمیر مسجد قبا کو نقصان پہنچانے کیلئے ہی کی گئی تھی۔ پھر بعد والی آیت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے ‘ فرمایا ہے :
فیہ رجال یحبون ان یتطھروا وا اللہ یحب المتطھرین اس میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں۔ اور اللہ خوب پاک ہونے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ خوب پاک ہونے سے مراد ہے ناپاکی ‘ جنابت ‘ نجاست (غلاظت) گناہ اور برے خصائل سے پاک ہونا۔ بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ آیت فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْااہل قبا کے حق میں نازل ہوئی۔ یہ لوگ پانی سے استنجا کرتے تھے تو ان کی بابت یہ آیت نازل ہوئی۔ ترمذی کی بھی یہی روایت ہے۔
ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (ﷺ) مہاجرین کو ساتھ لے کر پیدل روانہ ہوئے اور مسجد قبا کے دروازے پر پہنچ کر کھڑے ہوگئے۔ اندر انصار بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : کیا تم لوگ مؤمن ہو ؟ انصار خاموش رہے۔ حضور (ﷺ) نے پھر یہی فرمایا ‘ اس پر حضرت عمر نے عرض کیا : یہ یقیناً مؤمن ہیں اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں۔ فرمایا : کیا تم قضاء (خداوندی) پر راضی ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : کیا تم مصیبت پر صبر کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : کیا تم راحت پر شکر کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : قسم ہے مالک کعبہ کی ! تم مؤمن ہو۔ پھر آپ (ان کے پاس) بیٹھ گئے اور فرمایا : اے گروہ انصار ! اللہ نے تمہاری تعریف فرمائی ہے۔ تم وضو اور رفع حاجت کے وقت کیا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! رفع حاجت کے بعد ہم تین پتھروں کا استعمال کرتے ہیں اور پتھروں کے بعد پانی کا استعمال کرتے ہیں۔ اس پر حضور (ﷺ) نے آیت فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا تلاوت فرمائی۔
ابن خزیمہ نے صحیح میں حضرت عویمر بن ساعدہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) اہل قبا کے پاس مسجد قبا میں تشریف لے گئے اور فرمایا : تمہاری مسجد کے قصہ میں تمہاری پاکی کی اللہ نے بہت اچھی تعریف کی ہے۔ تم لوگ طہارت کیسے کرتے ہو (جس کی اللہ نے تعریف کی ہے) انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اللہ کی قسم ‘ اور کچھ تو ہمیں معلوم نہیں ‘ صرف اتنی بات تھی کہ ہمارے پڑوس میں جو یہودی رہتے تھے ‘ وہ رفع حاجت کے بعد پانی سے استنجا کرتے تھے سو ہم نے بھی پانی سے استنجا کرنا شروع کردیا۔ دوسری روایت میں آیا کہ ہم پتھروں کے استعمال کے بعد پانی سے استنجا کرتے ہیں۔ فرمایا : وہ یہی ہے ‘ تم ایسا ضرور کیا کرو۔
عمر بن شیبہ نے اخبار المدینہ میں ولید بن ابی المنذر کی وساطت سے یحییٰ بن سہل انصاری کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت سہل انصاری نے فرمایا : یہ آیت اہل قبا کے حق میں نازل ہوئی جو رفع حاجت کے بعد پانی سے استنجا کرتے تھے۔
ابن جریر نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ اہل قبا میں سے کچھ لوگوں نے پانی سے طہارت کرنے کی ایجاد کی۔ ان ہی کے متعلق آیت فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا نازل ہوئی۔
Ayah 9:109افمن اسس بنیانہ علی تقوی من اللہ ورضوان خیر ام من اسس بنیانہ علی شفاجرف ھارٍ فانھا ربہ فی نار جھنم پھر کیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت (مسجد) کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی یا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی (غار) کے کنارے پر جو کہ گرنے ہی کو ہو ‘ رکھی پھر وہ عمارت اپنے بنانے والے کو لے کر دوزخ کی آگ میں گر پڑی۔
اَفَمَنْ میں سوال تقریری ہے اور جواب چونکہ واضح تھا ‘ اسلئے اس کو ذکر نہیں کیا۔ بُنْیَانَہٗ سے مراد ہے اپنے دین کی بنیاد یا اپنی عمارت کی بنیاد۔ عَلی اتقوٰی یعنی اللہ کے خوف اور اللہ کی رضا جوئی کی مضبوط دیواروں اور بنیادوں پر۔ عَلٰی شفاجُرُفٍ یعنی کمزور ترین بنیادوں اور ضعیف ترین دیواروں پر۔ شفا ۔ شفیر ۔ جرف سب کا معنی ہے کنارہ ‘ یعنی کسی وادی اور نالہ کا وہ کنارہ جس کے اندر سیلاب کی وجہ سے خلا پیدا ہوگیا ہو اور کنارے کی نوک باہر کو نکل آئی ہو۔ ہَارٍپھٹا ہوا جو گرنے کے قریب ہو۔ ہَارٍکی اصل ھَوِرٌ اور بقول بغوی ہائرتھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لفظ ہار یَھَارٌسے مشتق ہے۔ ہارَکا معنی ہے : گر گیا ‘ ڈھ گیا۔ اس جگہ ہارٍ سے مراد ہے : وہ کنارہ جو گر پڑنے کے قریب ہو۔
مطلب یہ ہے کہ جس نے مضبوط بنیادوں پر یعنی اللہ کے خوف اور رضا جوئی پر اپنی عمارت کی تاسیس کی ‘ وہ بہتر ہے یا وہ شخص بہتر ہے جس نے کمزور ترین بنیادوں پر یعنی باطل اور نفاق پر اپنی عمارت اٹھائی۔ تقویٰ کی ضد شرک و نفاق ہے ‘ اسلئے شفاجُرُفٍ سے بطور کنایہ شریک و نفاق مراد ہے۔ فَانْھَارَ بِہٖ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی ان کا نفاق ان کو جہنم میں لے گیا۔ بغوی نے کہا : مراد یہ ہے کہ اس مسجد کی بناء نقصان رسانی کیلئے ایسی ہے جیسے جہنم کے آخری کنارہ (کڑاڑہ) پر تعمیر کی گئی ہو کہ کنارہ ڈھ کر اوپر عمارت بنانے والوں کو جہنم میں لے گرے گا۔
محمد بن یوسف صالحی نے ابن عطیہ کا قول نقل کیا ہے ‘ مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے فرمایا : وہ مسجد جس کی بناء و تاسیس تقویٰ پر قرار دی گئی ہے ‘ اس سے مراد رسول اللہ (ﷺ) کی مسجد ہے اور اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ میں بینانِ سے مراد مسجد قبا ہے اور اَمْ مَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَاجُرُفٍ میں بنیانٍ سے مراد بالاجماع مسجد ضرار ہے۔
وا اللہ لا یھدی القوم الظالمین۔ اور اللہ ایسے ظالموں (کافروں) کو ہدایت نہیں فرماتا ‘ یعنی صلاح و نجات کا راستہ نہیں بتاتا۔
ابن المنذر نے حضرت سعید بن جبیر اور قتادہ اور جریج کا قول نقل کیا ہے ‘ نیز ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ کی روایت بیان کی ہے۔ ان تینوں حضرات کا بیان ہے : ہم سے ذکر کیا گیا کہ مسجد ضرار میں جب ایک جگہ کھو دی گئی تو لوگوں نے وہاں سے دھواں نکلتا دیکھا۔ بغوی نے حضرت جابر بن عبد اللہ کا بیان نقل کیا ہے ‘ آپ نے فرمایا : میں نے مسجد ضرار سے دھواں نکلتے دیکھا۔
Ayah 9:110لا یزال بینانھم الذی بنوا ریبۃ فی قلوبھم وہ عمارت جو انہوں نے بنائی ‘ ہمیشہ ان کے دلوں میں (کانٹا بن کر) کھٹکتی رہے گی۔ ریبۃً سے مراد ہے : شک و نفاق ‘ یعنی یہ عمارت ان کے دلوں میں شک و نفاق کے ترقی کرنے کا سبب بنی رہے گی اور وہ برابر یہی خیال کرتے رہیں گے کہ ہم نے یہ بھلائی کا کام کیا ‘ جیسے حضرت موسیٰ کی قوم کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ گئی تھی (اسی طرح اس مسجد ضرار کی محبت ان منافقوں کے دلوں میں جم گئی ہے) حضرت ابن عباس نے یہی تفسیر فرمائی ہے۔ کلبی نے ریبۃً کا ترجمہ کیا : حسرت و پشیمانی ‘ کیونکہ ان لوگوں کو اس مسجد کی تعمیر پر پشیمانی ہوگئی تھی۔ سدی نے ریبۃً کا معنی کیا : غیظاً ‘ یعنی اس عمارت کو ڈھا دینا ہمیشہ ان کے دلوں کے اندر غصہ اور غضب کو بھڑکاتا رہے گا۔
الا ان تقطع قلوبھم ہاں ان کے دل پارہ پارہ ہوجائیں (تو شک و نفاق ان کے دلوں سے ختم ہوجائے گا) یعنی نفاق برابر ہر وقت ان کے دلوں میں جما رہے گا ‘ مگر اس وقت ختم ہوگا کہ ان کے دل ہی پھٹ جائیں اور ایسا وقت آجائے کہ ان کے دلوں میں جاننے کی صلاحیت ہی نہ رہے۔ بعض علماء نے کہا : دلوں کے پارہ پارہ ہونے سے مراد ہے : منافقوں کا قتل ہونا ‘ یا قبر میں چلا جانا ‘ یا دوزخ میں پہنچ جانا۔ ضحاک اور قتادہ نے کہا : مرتے دم تک یہ شک میں پڑے رہیں گے ‘ مر جائیں گے تو شک دور ہوگا اور حقیقت کا یقین ہوگا۔
وا اللہ علیم حکیم۔ اور اللہ (ان کی نیتوں کو) جاننے والا ہے (اور مسجد ضرار کو گرا دینے کا جو حکم اس نے دیا ‘ اس کی مصلحت سے واقف ہے) ۔
اہل سیر نے بیان کیا ہے کہ بعثت کے گیا رھویں سال حج کے زمانہ میں رسول اللہ (ﷺ) باہر نکلے ‘ یعنی مکہ سے برآمد ہوئے اور قبائل عرب پر اپنی نبوت پیش کی۔ ایک روز گھاٹی کے پاس تھے کہ قبیلۂ خزرج کی ایک جماعت سے ملاقات ہوگئی۔ حضور (ﷺ) نے پوچھا : آپ لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : خزرج کے لوگ ہیں۔ فرمایا : کیا (کچھ دیر) بیٹھ سکتے ہو ‘ میں تم سے کچھ بات کروں گا۔ خزرجیوں نے جواب دیا : بیشک۔ چناچہ حضور (ﷺ) کے ساتھ سب بیٹھ گئے۔ آپ نے ان کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی ‘ اسلام پیش کیا اور قرآن پڑھ کر سنایا۔
اللہ کی قدرت کہ یہودی ان لوگوں کے ساتھ ان بستیوں میں رہتے تھے اور اہل کتاب تھے۔ اوس و خررج تعداد میں یہودیوں سے زائد تھے مگر سب بت پرست تھے۔ یہودیوں سے جب ان لوگوں کا کچھ جھگڑا ہوا تھا تو یہودی کہتے تھے : ایک نبی کی بعثت اب ہونے ہی والی ہے ‘ اس کی بعثت کا زمانہ قریب آپہنچا ہے۔ ہم اس کے ساتھ مل کر تم کو قتل کریں گے۔
جب رسول اللہ (ﷺ) نے ان لوگوں سے بات کی تو وہ آپ کے اوصاف کو پہچان گئے (کیونکہ یہودیوں کی زبانی آنے والے پیغمبر کے اوصاف کا ان کو علم پہلے ہی سے تھا) اور آپس میں کہنے لگے : دیکھو ! یہودی ان کے پاس تم سے پہلے نہ پہنچنے پائیں۔ چناچہ سب نے رسول اللہ (ﷺ) کی دعوت کو قبول کرلیا اور قبیلۂ خزرج کے چھ آدمی مسلمان ہوگئے : اسعد بن زرارہ ‘ عوف بن حارث جن کی والدہ کا نام عفراء تھا ‘ رافع بن مالک ‘ قطبہ بن عامر بن جدیدہ ‘ عقبہ بن عامر بن نابی ‘ جابر بن عبد اللہ بن رباب۔ بعض روایات میں جابر کی جگہ عبادہ بن صامت کا نام آیا ہے۔ بعض نے سات آدمیوں کے مسلمان ہونے کی صراحت کی ہے ‘ گویا جابر اور عبادہ دونوں کو جمع کیا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : کیا تم میری پشت پناہی کرو گے کہ میں اپنے رب کا پیام پہنچا سکوں۔ ان لوگوں نے عرض کیا : (یا رسول اللہ (ﷺ) ! ) پچھلے سال ہی جنگ بعاث ہمارے آپس میں ہوچکی ہے ‘ اس روز ہم نے آپس میں خوب کشت و خون کیا تھا ۔ اگر ایسی حالت میں آپ ہمارے ہاں تشریف لائیں گے تو ہماری پوری جماعت آپ کے ساتھ نہ ہو سکے گی۔ اب تو آپ ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم لوگ اپنے قبائل میں لوٹ کر چلے جائیں ‘ ممکن ہے کہ اللہ ہماری باہم صلح کرا دے اور ہم ان لوگوں کو اسی چیز کی دعوت دیں جس چیز کی طرف آپ نے ہم کو بلایا ہے۔ امید ہے کہ اس وقت اللہ سب کو آپ کی حمایت کرنے پر متفق کر دے گا اور اگر سب آپ کے پیرو ہوگئے تو پھر کوئی آپ کے خلاف نہ جائے گا۔ آئندہ سال حج کے زمانہ میں ہم آپ سے پھر ملیں گے۔ اس گفتگو کے بعد یہ حضرات مدینہ کو لوٹ گئے اور مدینہ کو واپس ہونے کے بعد انصاریوں کے ہر گھر میں رسول اللہ (ﷺ) کا تذکرہ پھیل گیا ‘ کوئی گھر ایسا نہ رہا جس میں آپ کا ذکر نہ ہوتا۔ پھر اگلے سال یعنی بعثت کے بارہویں برس بارہ یا گیارہ آدمیوں نے آ کر گھاٹی میں رسول اللہ (ﷺ) سے ملاقات کی۔ یہ گھاٹی دوسری گھاٹی تھی۔ ان بارہ میں پانچ تو جابر کے علاوہ وہی تھے جن کا ذکر اوپر کردیا گیا ہے اور سات یہ تھے : عوف بن حارث کا بھائی معاذ بن حارث ‘ ذکوان ‘ عبادہ بن صامت ‘ یزید بن ثعلبہ ‘ عباس بن عبادہ بن فضلہ۔ یہ پانچوں خزرجی تھے اور دو شخص قبیلۂ اوس کے تھے : بنی الاشہل کا ابو الہثیم بن تیہان اور عویمر بن ساعدہ۔
سورة ممتحنہ میں) عورتوں کی بیعت کی جو تفصیل مذکور ہے ‘ اسی اقرار کے ساتھ ان سب نے بیعت کی یعنی یہ کہا کہ ہم شرک نہیں کریں گے ‘ چوری نہیں کریں گے الخ۔ جب سب مسلمان ہوگئے تو مدینہ کو لوٹ گئے۔ مدینہ پہنچ کر اسعد بن زرارہ ان تمام لوگوں کو مدینہ میں جمع کرنے لگے جو مسلمان ہوتے گئے۔ قبائل اوس و خزرج نے رسول اللہ (ﷺ) کو عرضداشت بھیجی کہ اب کوئی ایسا آدمی ہمارے پاس بھیج دیجئے جو ہم کو قرآن پڑھا دے۔ حضور (ﷺ) نے حضرت مصعب بن عمیر کو بھیج دیا۔ اس وقت تک مدینہ میں چالیس مسلمان تھے ‘ حضرت مصعب کی کوشش سے بہت لوگ مسلمان ہوگئے۔ سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر بھی مسلمان ہوگئے اور ان دونوں بزرگوں کے مسلمان ہونے سے بنی عبدالاشہل کے تمام آدمی کیا مرد کیا عورتیں ‘ سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ پھر بعثت کے تیرہویں سال تیسری گھاٹی کے موقع پر ایام تشریق میں مدینہ والے حاضر ہوئے اور ستر یا تہتر مردوں اور دو عورتوں نے بیعت کی۔ حاکم نے پچھتر آدمی ہونے کی صراحت کی ہے۔
ابن جریر نے بروایت محمد بن کعب قرظی ‘ نیز بغوی نے ذکر کیا ہے کہ عبد اللہ بن رواحہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! آپ جو چاہیں اپنے رب کے اور اپنے لئے ہم سے شرطیں لے لیجئے (ہم سب کچھ ماننے کو تیار ہیں) حضور (ﷺ) نے فرمایا : میں اپنے رب کے متعلق تو یہ شرط پیش کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرنا ‘ کسی چیز کو اس کا شریک نہ قرار دینا (یعنی کسی چیز کی پوجا نہ کرنا) اور اپنے لئے یہ شرط پیش کرتا ہوں کہ جس چیز سے تم اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرو ‘ اس سے میری بھی حفاظت کرنا (یعنی اپنی جان و مال کی طرح میری حفاظت کرنا) انصار نے کہا : اگر ہم نے ایسا کرلیا تو ہم کو کیا ملے گا ؟ فرمایا : جنت۔ انصار نے کہا : یہ نفع کا سودا ہے ‘ اب ہم اس سودے کو نہ پھیریں گے نہ پھیرنے دیں گے (یا نہ پھیرنے کی خواہش کریں گے) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 9:111ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ بلاشبہ اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال (اس وعدہ پر) خرید لئے ہیں کہ ان کیلئے (اس کے عوض) جنت ہے۔ جان و مال خرچ کرنے کے عوض عطائے جنت کو اللہ نے خرید وفروخت قرار دیا۔ اہل سیر نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اللہ (ﷺ) کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ مارا ‘ وہ براء بن معرور یا ابوالہثیم یا اسعد تھے اور یہ شرط کی کہ جس (مصیبت) سے وہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے ‘ اس سے رسول اللہ (ﷺ) کی بھی حفاظت کریں گے اور ہر گورے کالے (یعنی تمام انسانوں) کے مقابل آپ کی حمایت کریں گے۔ سب سے پہلے قتال و جہاد کے بارے میں یہی آیت نازل ہوئی ‘ اس کے بعد اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ الخ۔
جب گھاٹی کی رات کو ان حضرات کی یہ بیعت ختم ہوگئی اور کفار قریش سے چھپا کر یہ بیعت ہوئی تھی تو اس کے بعد رسول اللہ نے اپنے ساتھیوں کو مکہ چھوڑ کر مدینہ کو چلے جانے کا حکم دے دیا اور خود مکہ میں ٹھہر کر (ا اللہ کی طرف سے) اجازت ملنے کا انتظار کرتے رہے۔
تیسری گھاٹی کی بیعت سے ایک سال پہلے حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد جو حبشہ سے آئے تھے اور مکہ والوں نے ان کو بڑی تکلیفیں دی تھیں ‘ جب ان کو انصار کے مسلمان ہوجانے کی اطلاع ملی تو مدینہ کو ہجرت کر گئے۔ آپ کا نمبر مدنی مہاجرین میں سب سے پہلا تھا ‘ پھر حضرت عامر بن ربیعہ اور ان کی بیوی لیلیٰ نے ہجرت کی ‘ پھر حضرت عبد اللہ بن حجش نے ‘ پھر پے در پے دوسرے مسلمانوں نے ‘ پھر حضرت عمر بن خطاب اور آپ کے بھائی زید نے اور بیس سواروں کے ساتھ عباس بن ربیعہ نے۔ ان سب نے (مدینہ میں پہنچ کر) حوالی مدینہ میں پڑاؤ کیا۔ پھر حضرت عثمان بن عفان نے ہجرت کی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بارہا حضور (ﷺ) سے ہجرت کی درخواست کی مگر حضور (ﷺ) فرماتے رہے : جلدی نہ کرو ‘ شاید اللہ کسی کو تمہارا ساتھی کر دے۔ خیال یہ تھا کہ شاید رسول اللہ (ﷺ) بھی ان کے ساتھ ہی ہجرت کریں۔ اس کے بعد چوپال میں قریش کا اجتماع ہوا (اور رسول اللہ (ﷺ) کو شہید کردینے کی انہوں نے خفیہ سازش کی) سورة الانفال میں قریش کی سازش کا اور رسول اللہ (ﷺ) کے ہجرت کرنے کا بیان آچکا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔
یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں۔ یہ کلام ابتدائی ہے ‘ اس میں خریدنے کی غرض کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ یقاتلون (اگرچہ مضارع کا صیغہ ہے مگر) امر کے معنی میں ہے (یعنی لڑو ‘ مارو اور مارے جاؤ) ۔
وعدا علیہ حقًا اللہ نے (اس) خرید پر (جنت دینے کا) سچا پکا وعدہ کرلیا ہے۔ علیہ کی ضمیر شرائ کی طرف لوٹ رہی ہے اور وعدًا فعل محذوف کا مفعول مطلق (برائے تاکید) ہے۔ حقًّا ‘ وعدًاکی صفت ہے یا یہ بھی فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔
فی التورٰۃ والانجیل والقران توریت اور انجیل اور قرآن میں۔ توریت و انجیل میں وعدہ کرنے کی صراحت بتا رہی ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی جہاد پر مامور کیا گیا تھا اور اس کے بدلہ میں ان سے جنت کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ومن اوفٰی بعھدہ من اللہ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور کون ہے ؟ (استفہام انکاری ہے)
یعنی کوئی نہیں ہے۔ وعدہ کی خلاف ورزی بری ہے اور اللہ سے اس کا صدور ناممکن ہے۔ وعدہ کی وفا کرم ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی کریم نہیں۔ نفی کو بصورت استفہام ذکر کرنے میں پرزور طور پر وفائے عہد کا اظہار کیا ہے اور تاکیدی طرز کلام کے ساتھ وعدۂ الٰہی کے حق ہونے کی صراحت ہے۔
فاستبشروا ببیعکم الذی بالعتم بہ پس تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے اللہ سے معاملہ ٹھہرایا ہے ‘ خوشی مناؤ۔
پس تم خوب خوش ہوجاؤ ‘ خوشیاں مناؤ۔ یہ جہاد کرنے والے مؤمنوں کو خطاب ہے۔ پہلے ان کا ذکر غائبانہ تھا ‘ اب مخاطب بنایا گیا۔ بشارت کی وجہ یہ ہے کہ زوال پذیر ‘ حقیر چیز کو دے کر انہوں نے لازوال ‘ اعلیٰ نعمت کو لے لیا۔ اس سے بڑھ کر فائدہ کا سودا اور کیا ہو سکتا ہے۔
حضرت عمر نے فرمایا : اللہ نے تجھ سے خریدو فروخت کی اور دونوں سودوں کا فائدہ تیرے ہی لئے کردیا۔ قتادہ نے کہا : اللہ نے ان کو قیمت دی اور بہت زیادہ دی۔ حسن نے کہا : سنو فائدہ رساں تجارت کا پیام جس میں اللہ نے ہر مؤمن کے ساتھ خریدو فروخت کر کے اس کو فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ بھی حسن بصری کا قول ہے کہ اللہ نے تجھے دنیا عطا کی ‘ تو کچھ دنیا دے کر جنت خرید لے۔
وذلک ھو الفوز العظیم۔ اور یہ (فروخت) ہی بڑی کامیابی ہے جس کا حصول انتہائی مقصد ہے۔
Ayah 9:112التآئبون (شرک سے) توبہ کرنے والے یعنی وہ لوگ جنہوں نے شرک سے توبہ کرلی اور نفاق سے پاک ہوگئے۔
التائبون خبر ہے ‘ مبتداء محذوف ہے یعنی وہ توبہ کرنے والے ہیں۔ یعنی جن لوگوں نے رسول اللہ (ﷺ) سے بیعت کرلی اور تمام احکام کی تعمیل کا عہد کرلیا ‘ وہ ان تمام اوصاف کے حامل ہیں ‘ جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ التائبون مبتداء ہو اور بعد کو ذکر ہونے والے اصاف خبر ہوں یعنی حقیقت میں کفر کرنے والے اوصاف کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خبر محذوف ہو یعنی توبہ کرنے والے جنتی ہیں ‘ خواہ انہوں نے اس وقت جہاد میں شرکت نہ کی ہو مگر ان کے اندر عداوت وعناد کا جذبہ نہ ہو اور یہ ارادہ نہ ہو کہ جب اللہ جہاد کی طاقت دے گا تب بھی جہاد نہیں کریں گے۔ زجاج نے کہا : گویا (اس صورت میں) جنت کا وعدہ تمام مؤمنوں سے ہوگا ‘ جیسے اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے : وَکُلاَّ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی اور سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔
العٰبدون (شرک جلی و خفی کو چھوڑ کر فقط اللہ کی) عبادت کرنے والے۔
الحامدون (دکھ سکھ میں اللہ کی) تعریف کرنے والے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : بہت زیادہ ثنائے خدا کرنے والوں کو جو دکھ سکھ میں (یعنی راحت ہو یا تکلیف ‘ ہر حال میں) اللہ کی تعریف کرتے ہیں ‘ سب سے پہلے جنت کی طرف بلایا جائے گا۔ رواہ الطبرانی ‘ والحاکم ‘ والبیہقی فی شعب الایمان بسند صحیح عن ابن عباس۔
السآئحون روزے رکھنے والے۔ ابن جریر نے حضرت عبید بن عمر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سے السائحون کا معنی دریافت کیا گیا۔ فرمایا : روزے رکھنے والے۔ بغوی نے حضرت ابن مسعود کا بھی یہی قول بیان کیا ہے۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ کا موقوف قول نقل کیا ہے کہ اس آیت میں سیاحت (کا معنی) روزے رکھنا ہے۔
سفیان بن عیینہ نے فرمایا : روزے دار کو سائح اسلئے کہا جاتا ہے کہ وہ تمام لذتیں ‘ کھانا ‘ پینا اور قربت صنفی کرنا ترک کردیتا ہے (جیسے مسافر ان لذتوں سے محروم ہوجاتا ہے) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : آدم زاد کے ہر نیک عمل کا اجر دس گنے سے سات سو گنے تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزہ کے ‘ جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دوں گا۔ بندہ میرے لئے اپنی خواہش صنفی اور کھانا ترک کرتا ہے (الحدیث ) متفق علیہ۔
عطاء نے کہا : السائحون سے مراد غازی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ جیسا کہ ابن ماجہ ‘ حاکم اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئے۔ فرمایا : میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔
عکرمہ نے کہا : سیاحت کرنے والوں سے مراد طالب علم ہیں جو علم کی طلب میں ملکوں میں پھرتے ہیں۔ حضرت ابو درداء کا بیان ہے : میں نے خود سنا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) فرما رہے تھے : جو طلب علم کی راہ میں چلتا ہے ‘ اللہ اس کو جنت کے راستہ پر چلائے جائے گا اور فرشتے طالب علم کیلئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور عالم کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ وہ (ملائکہ) جو آسمانوں میں ہیں اور وہ (ملائکہ اور انس و جن) جو زمین میں ہیں اور پانی کے اندر مچھلیاں۔ عالم کی برتری عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی فضیلت دوسرے ستاروں پر۔ علماء ‘ انبیاء کے (علم کے) وارث ہیں اور انبیاء نے کوئی درہم و دینار میراث میں نہیں چھوڑا بلکہ علم کی میراث چھوڑی ۔ اب جو اس ترکہ کا وارث ہوا ‘ وہ بڑا خوش نصیب ہوا۔ رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ وابو داؤد۔
الراکعون الساجدون رکوع کرنے والے ‘ سجدہ کرنے والے یعنی نماز پڑھنے والے۔ نماز پڑھنے والوں کا ذکر دو لفظوں سے کیا الرّاکعون الساجدون ہر ایک سے نماز پڑھنے والے مراد ہیں (تو گویا نماز پڑھنے والوں کا ذکر دو بار کیا) تکرار ذکر دلالت کر رہی ہے کہ نماز تمام عبادتوں پر فضیلت رکھتی ہے۔ حضرت ابن مسعود کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ (ﷺ) سے پوچھا : کونسا عمل اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے ؟ فرمایا : وقت پر نماز۔ میں نے عرض کیا : اس کے بعد کونسا ؟ فرمایا : ماں باپ کی فرمانبرداری کرنی۔ میں نے عرض کیا : اس کے بعد کونسا ؟ فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد۔ صحیح بخاری و مسلم۔ ابو نعیم نے فضل بن دکین کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : نماز دین کا ستون ہے۔
ابن عساکر نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ حضور (ﷺ) نے فرمایا : نماز مؤمن کا نور ہے۔ قضاعی نے حضرت علی کی روایت سے بیان کیا کہ حضور (ﷺ) نے فرمایا : ہر تقویٰ والے کیلئے نماز (ا اللہ کے) قرب کا ذریعہ ہے۔ مسلم ‘ ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب سے سب حالتوں سے زیادہ قریب ہوتا ہے ‘ پس تم دعا زیادہ کیا کرو۔
الاٰمرون بالمعروف بھلائی کا حکم دینے والے ‘ یعنی ایمان اور اطاعت کا حکم دینے والے۔
والناھون عن المنکر اور برے کاموں سے ‘ یعنی شرک اور گناہ سے روکنے والے۔ بعض علماء نے کہا : المعروف سے مراد سنت اور المنکر سے مراد بدعت ہے۔ دونوں کے درمیان حرف عطف (واؤ) کا ذکر کرنا اس امر پر دلالت کر رہا ہے کہ ان دونوں اوصاف کا مجموعہ ایک ہی خصلت ہے۔
والحفظون لحدود اللہ اور اللہ کی بندشوں کی پابندی رکھنے والے۔ یعنی اللہ کے وہ ضوابط و قوانین جو بندہ اور خدا کے درمیان اللہ نے قائم کیے ہیں ‘ ان کی نگہداشت کرنے والے۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ الحافظون کو مستقل طور پر حرف عطف (واؤ) کے ساتھ ذکر کرنے سے اس امر پر تنبیہ کی گئی ہے کہ پہلے جن اعلیٰ خصائل کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے ‘ ان کا اجمالی مجموعہ حفظ حدود اللہ ہے۔ وہ تفصیل تھی ‘ یہ اجمال ہے۔
میں کہتا ہوں : شاید یہ وجہ بھی ہے کہ گزشتہ کلام میں جن صفات حمیدہ کا ذکر کیا گیا ہے ‘ ان کی حدبندی اس فقرہ میں کردی گئی ہے تاکہ اپنی طرف سے ان میں کچھ زیادتی بھی نہ کی جائے ‘ نہ رہبانیت ہو ‘ نہ ظاہری شکل اور باطنی معنی میں کوئی کمی کی جائے۔ گویا مذکورۂ بالا اوصاف کا مجموعہ ہوا ضوابط و قوانین کی تعمیل اور حفاظت حدود کا معنی ہوا اخلاص اور حضور کامل کیونکہ حدود کی پابندی قلبی حضور کامل کے بغیر ممکن نہیں۔ اور اخلاص و حضور قلب دل والوں کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے
وبشر المؤمنین۔ اور ایمان والوں کو بشارت دے دو ۔ یعنی ان لوگوں کو بشارت دے دو جن کے اندر صفات مندرجۂ بالا موجود ہیں۔ اَلْمُؤْمِنِیْنَ کے لفظ سے اس طرح اشارہ ہے کہ ایمان کا تقاضا صفات مذکورہ ہیں اور مؤمن کامل وہی ہوتا ہے جو صفات مذکورہ کا حامل ہو۔
کس بات کی بشارت دے دو ‘ اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ نعمت جس کی بشارت دینے کا حکم دیا جا رہا ہے ‘ اتنی عظیم الشان ہے جو نہ بیان کی جاسکتی ہے ‘ نہ کسی کے دماغ میں اس کا تصور آسکتا ہے ‘ نہ کسی نے اس کو سنا ہے۔ وا اللہ اعلم
شیخین نے صحیحین میں حضرت سعید بن مسیب کے باپ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ابو طالب کے مرنے کے وقت رسول اللہ (ﷺ) ان کے پاس تشریف لائے۔ ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو وہاں موجود پایا۔ آپ نے ابو طالب سے فرمایا : چچا ! لا الٰہ الا اللہ ایک بار کہہ دیجئے تاکہ اللہ کے سامنے میں آپ کی طرف سے اس کو دلیل کے طور پر پیش کرسکوں۔ ابو جہل اور عبد اللہ بولے : ابو طالب ! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے ؟ رسول اللہ (ﷺ) (بار بار) کلمۂ توحید پیش کرتے رہے اور ابوجہل و عبد اللہ اپنی بات برابر کہتے رہے۔ آخر ابو طالب نے کہا : عبدالمطلب کے مذہب پر۔ ایک روایت میں اتنا اور بھی آیا ہے کہ ابو طالب نے لا الٰہ الا اللہ کہنے سے انکار کردیا تو رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : وا اللہ ! جب تک مجھے ممانعت نہیں کردی جائے گی ‘ میں آپ کی مغفرت کیلئے دعا کرتا رہوں گا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 9:113ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ماتبین لھم انھم اصحب الجحیم پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکوں کیلئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں ‘ اس امر کے ظاہر ہونے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ زندہ مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت جائز ہے کیونکہ ایسی دعاء کا معنی ہے مشرکوں کو توفیق ایمان ملنے کی درخواست (اور اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ مستحسن ہے) مسلم نے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے چچا سے فرمایا تھا : لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجئے ‘ میں قیامت کے دن آپ کیلئے اس کی شہادت دوں گا۔ چچا نے کہا : اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ قریش عار دلائیں گے اور کہیں گے کہ ابو طالب نے ڈر کر ایسا اقرار کرلیا تو میں یہ کلمہ کہہ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔ اس پر اللہ نے آیت اِنَّکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ اَجْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھدِیْ مَنْ یَّشَاء نازل فرمائی۔
بخاری نے حضرت ابو سعید خدری کا قول نقل کیا ہے ‘ حضرت ابو سعید نے فرمایا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے چچا کا تذکرہ آنے کے وقت فرمایا : شاید قیامت کے دن ان کو میری شفاعت (کچھ) فائدہ پہنچائے اور ان کو ٹخنوں ٹخنوں تک آگ میں کردیا جائے جس سے ان کا دماغ ابلنے لگے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ آیت مندرجۂ بالا مکہ میں ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔
ترمذی اور حاکم نے بیان کیا اور ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا بھی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : میں نے ایک شخص کو اپنے مشرک ماں باپ کیلئے دعائے مغفرت کرتے سنا تو میں نے کہا : کیا تو اپنے ماں باپ کیلئے دعائے مغفرت کر رہا ہے باوجودیکہ وہ مشرک تھے ؟ اس نے جواب دیا : حضرت ابراہیم نے بھی تو اپنے مشرک باپ کیلئے دعائے مغفرت کی تھی۔ میں نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں کیا۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ الخ نازل ہوئی۔
ممکن ہے یہ قصہ بھی ابو طالب کی موت کے واقعہ ہی کے زمانہ میں ہوا ہو (اور دونوں واقعات آیت مذکورہ کے نزول کا سبب ہوں) ۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول رسول اللہ (ﷺ) کی والدہ آمنہ بی بی کے متعلق ہوا تھا۔ ان روایات میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے ‘ نہ اس قابل ہے کہ جو قوی روایت ہم نے اوپر ذکر کی ہے (جس میں آیت کا نزول ابو طالب کے متعلق بیان کیا گیا ہے) اس کے مقابلہ میں پیش کی جاسکے ‘ اسلئے ایسی روایات کو قبول نہ کرنا ضروری ہے۔
حاکم نے اور بیہقی نے دلائل میں ایوب بن ہانی کے طریق سے بروایت مسروق ‘ حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ (ﷺ) قبرستان تشریف لے گئے ‘ ہم بھی ساتھ گئے۔ آپ نے ہم کو بیٹھ جانے کا حکم دیا ‘ ہم بیٹھ گئے۔ آپ قبروں کو پھلانگتے ہوئے ایک قبر کے پاس پہنچے اور دیر تک کچھ چپکے چپکے قبر سے فرمایا ‘ پھر روتے ہوئے اٹھ گئے۔ آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے۔ پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت عمر سامنے آگئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! آپ کو کس بات سے رونا آگیا ؟ ہم بھی آپ کے رونے کی وجہ سے رونے لگے اور گھبرا گئے۔ حضور (ﷺ) تشریف لے آئے اور ہمارے پاس بیٹھ کر فرمایا : میرے رونے کی وجہ سے تم لوگ گھبرا گئے۔ ہم نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : جس قبر سے تم نے مجھے چپکے چپکے کچھ کہتے دیکھا تھا ‘ وہ (میری والدہ) آمنہ بنت وہب کی قبر ہے۔ میں نے اس کی زیارت کرنے کی اللہ سے اجازت مانگی تھی ‘ اللہ نے اجازت دے دی۔ پھر میں نے ان کیلئے دعائے مغفرت کرنے کی اللہ سے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہیں ملی اور مجھ پر مَا کَان للنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے دو آیات نازل ہوئیں۔ اس کی وجہ سے مجھ پر وہ رقت طاری ہوئی جو ماں کی وجہ سے اولاد پر طاری ہوتی ہے ‘ اسی بات نے مجھے رلایا۔
حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ‘ لیکن ذہبی نے شرح مستدرک میں اس پر گرفت کی ہے اور لکھا ہے کہ ایوب بن ہانی کو ابن معین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
طبرانی اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) غزوۂ تبوک سے واپس آگئے اور عمرہ کرنے روانہ ہوئے اور عسفان کی گھاٹی سے نیچے اترے تو اپنی والدہ کی قبر پر جا کر فروکش ہوئے۔ اس سے آگے وہی بیان ہے جو حضرت ابن مسعود کی روایت میں آیا ہے۔ سیوطی نے کہا : اس حدیث کی سند ضعیف ہے ‘ ناقابل اعتماد۔
بغوی نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت بریدہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) (فتح کے بعد) مکہ میں تشریف لائے تو اپنی والدہ آمنہ کی قبر پر پہنچ کر اس انتظار میں کھڑے ہوگئے کہ آپ کو (ا اللہ کی طرف سے) اجازت مل جائے تو والدہ کیلئے دعائے مغفرت کریں یہاں تک کہ سورج میں گرمی آگئی۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ الخ نازل ہوئی۔
ابن سعد اور ابن شاہین نے یہ حدیث حضرت بریدہ کے ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) نے مکہ فتح کرلیا تو اپنی والدہ کی قبر پر گئے اور جا کر بیٹھ گئے۔ ابن جریر نے حضرت بریدہ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے جو بغوی نے نقل کئے ہیں۔ ابن سعد نے طبقات میں اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد صراحت کی ہے کہ یہ غلط ہے۔ حضرت آمنہ کی قبر ابواء میں ہے ‘ مکہ میں نہیں ہے۔
امام احمد اور ابن مردویہ نے حضرت بریدہ کا بیان اس طرح نقل کیا ہے : میں رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ تھا۔ مجھے عسفان پر ٹھہرنا پڑا۔ حضور (ﷺ) نے (وہاں) اپنی والدہ کی قبر دیکھی ‘ فوراً وضو کیا ‘ نماز پڑھی اور رونے لگے۔ پھر فرمایا : میں نے اپنے رب سے ان کیلئے شفاعت کرنے کی اجازت مانگی تھی مگر مجھے ممانعت کردی گئی۔ پھر اللہ نے نازل فرمایا : مَا کَان للنَّبِیِّ الخ ۔ سیوطی نے کہا : اس حدیث کے تمام طرق (روایت) مجروح ہیں۔
حافظ ابن حجر نے بخاری کی شرح میں لکھا ہے : جو شخص حضرت ابن مسعود والی حدیث کو صحیح کہتا ہے ‘ وہ اس کو صحیح لذاتہٖ نہیں کہتا بلکہ اسلئے صحیح کہتا ہے کہ ان طریقوں سے اس کی روایت کی گئی ہے ‘ مگر میں نے ان طریقوں پر غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ تمام طرق روایت مجروح ہیں۔ اس کے علاوہ اس حدیث کے معلول ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ صحیحین کی اس روایت کے خلاف ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس آیت کا نزول مکہ میں ابو طالب کے انتقال کے موقع پر ہوا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا تھا : میں اپنے باپ کیلئے مغفرت کی دعا اسی طرح کروں گا جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کیلئے کی تھی۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ الخ نازل ہوئی۔ یہ روایت مرسل ہے ‘ صحیح نہیں ہے ‘ ضعیف ہے ‘ صحیحین کی روایت کے خلاف ہے۔
لہٰذا اس آیت کو دلیل بنا کر حضور (ﷺ) کے والدین کو مشرک قرار دینا درست نہیں ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کے والدین کو مؤمن ثابت کرنے کیلئے سیوطی نے چند رسائل لکھے ہیں ‘ بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) تک آپ (ﷺ) کے تمام آباء و اجداد و امہات کے ایمان کو ثابت کیا ہے۔ میں نے ان سب کا خلاصہ کر کے اس موضوع پر ایک رسالہ تقدیس آباء النبی (ﷺ) تالیف کردیا ہے۔ اس جگہ اس موضوع پر زیادہ تفصیل سے بحث کرنے کی گنجائش نہیں۔
ایک شبہ : صحیحین کی حدیث میں ابو طالب کے انتقال کے وقت ابو جہل کا ابو طالب سے یہ کہنا کہ کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے پھرجائیں گے اور ابو طالب کا آخری جواب یہ دینا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں ‘ بتا رہا ہے کہ عبدالمطلب مشرک تھے (پھر حضور (ﷺ) کے تمام آباؤ اجداد کا موحد ہونا کہاں سے ثابت ہوا) ۔
جواب : اس حدیث سے یہ نہیں نکلتا کہ عبدالمطلب مشرک تھے ‘ عبدالمطلب یقینامؤمن تھے۔ ابن سعد نے طبقات میں اپنی خصوصی سندوں سے بیان کیا ہے کہ عبدالمطلب نے رسول اللہ (ﷺ) کی کھلائی ام ایمن سے کہا : اے برکت ! میرے بیٹے کی طرف سے غفلت نہ کر ‘ میں نے بیری کے درخت کے پاس اس کو دیکھا تھا۔ اور اہل کتاب کہتے ہیں کہ میرا یہ بیٹا اس امت کا پیغمبر ہے۔ بات یہ ہے کہ عبدالمطلب دور جاہلیت میں تھے ‘ آسمانی شریعتوں سے ناواقف تھے۔ وہ زمانہ فترت کا تھا اور فترت کے زمانہ میں صرف توحید کا اقرار کافی ہے (فترت اس مدت کو کہتے ہیں جس میں گزشتہ پیغمبر کی شریعت مٹ چکی ہو ‘ کالعدم ہو ‘ اصل شریعت گم ہوچکی ہو اور نیا پیغمبر ابھی آیا نہ ہو) تمام شرائع سے عبدالمطلب کی ناواقفیت ابوجہل کو معلوم تھی ‘ اس کی وجہ سے اس کو اور ابو طالب کو یہ خیال قائم کرنے کا موقع ملا کہ عبدالمطلب کے مذہب کے خلاف محمد رسول اللہ (ﷺ) کوئی نیا مذہب پیش کر رہے ہیں اور ان کا جدید دین عبدالمطلب کے دین سے ٹکراتا ہے ‘ اسلئے ابو طالب نے کہہ دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔
Ayah 9:114وما کان استغفار ابرھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ اور حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے باپ سے اس کا وعدہ کرلیا تھا۔
حضرت ابراہیم کے بات سے مراد آزر ہے۔ آزر آپ کا چچا تھا ‘ باپ کا نام تارخ تھا۔ اس کی پوری تفصیل سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔
بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ وَعَدَ کی ضمیر بات کی طرف راجع ہے اور ایَّاہُ سے مراد حضرت ابراہیم ہیں ‘ یعنی باپ نے حضرت ابراہیم سے مسلمان ہونے کا وعدہ کرلیا تھا ‘ اس پر حضرت ابراہیم نے فرمایا : میں آپ کیلئے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا ‘ جبکہ آپ مسلمان ہوجائیں گے۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک وَعَدَ کا فاعل حضرت ابراہیم ہیں اور ایَّاہُ سے مراد حضرت ابراہیم کا باپ (ہم نے ترجمہ اسی قول کے موافق کیا ہے (یعنی حضرت ابراہیم نے باپ کے مسلمان ہوجانے کی امید میں یہ وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارے لئے دعائے مغفرت کروں گا۔ اس تفسیر کی تائید اس امر سے ہوتی ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے : قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبِرٰھِیْمَ ....... لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَتک۔ اس آیت میں حضرت ابراہیم کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے مگر حضرت ابراہیم نے جو باپ کیلئے دعائے مغفرت کی تھی اس کو عمومی حکم اتباع سے مستثنیٰ کردیا ‘ یعنی اس میں حضرت ابراہیم کی پیروی نہ کی جائے۔ اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ حضرت ابراہیم کا باپ مشرک تھا اور باوجود اس کے مشرک ہونے کے محض اس کے مسلمان ہوجانے کی امید پر حضرت ابراہیم نے اس سے وعدہ کرلیا تھا کہ میں تیرے لئے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا۔ صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اولاد آدم (علیہ السلام) کے جتنے قرون (صدیاں) گذرے ان سب میں سے بہترین دور میں میں مبعوث ہوا (یعنی میرے آباؤ اجداد بہترین قرون میں قرن در قرن گذرتے گئے۔ آخری قرن جو سب سے بہتر قرن ہے ‘ میری بعثت کا قرن ہے) اس حدیث کے صحیح ہوتے ہوئے کیسے کہا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کے سلسلۂ آباؤ اجداد میں کوئی کافر گذرا ہے۔
فلما تبین لہ ان عدو اللہ تبرا منہ (باپ کے کفر کی حالت پر مرنے سے یا اللہ کی طرف سے اطلاع ملنے کی وجہ سے کہ وہ کافر مرے گا) جب حضرت ابراہیم پر کھل گیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے باپ سے بیزار ہوجانے کا اظہار کیا اور دعائے مغفرت قطع کردی۔
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت کا تعلق آخرت سے ہے ‘ یعنی آخرت میں جب حضرت ابراہیم پر واضح ہوجائے گا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوجائیں گے۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : قیامت کے دن حضرت ابراہیم کی ملاقات ان کے باپ آزر سے ہوگی۔ آزر کا چہرہ اس وقت دھنوالا ‘ پژمردہ ‘ خاک آلود ہوگا۔ حضرت ابراہیم اس سے کہیں گے : کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ میری ہدایت کے خلاف نہ کر۔ باپ جواب دے گا : آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت ابراہیم (بارگاہ الٰہی میں) عرض کریں گے : اے میرے مالک ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جس روز لوگوں کو (قبروں سے) اٹھایا جائے گا اس روز تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور کونسی رسوائی ہوگی جو میرے باپ کی حالت ہے۔ اللہ فرمائے گا : میں نے کافروں کیلئے جنت حرام کردی ہے۔ پھر حکم ہوگا : ابراہیم ! اپنے قدموں کے نیچے دیکھو۔ حضرت ابراہیم اپنے قدموں کی طرف دیکھیں گے تو ان کو (گندگی یا کیچڑ میں) لتھڑا ہوا ایک پشمی بجو نظر آئے گا ‘ پھر اس کو ٹانگوں سے پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک روایت میں اتنا اور بھی آیا ہے کہ حضرت ابراہیم اس سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
ان ابرھیم لاواہ حلیم۔ واقعی ابراہیم رحیم المزاج ‘ حلیم الطبع تھے۔ حضرت کعب احبار نے کہا : اوَّاہٌ وہ شخص ہے جو اللہ کے خوف کی وجہ سے بہت زیادہ آہیں کھینچے (آہ آہ کرے) حضرت ابراہیم اپنی زندگی میں دوزخ کے خوف سے بکثرت آہیں بھرتے تھے۔ بعض نے کہا کہ گناہوں کی وجہ سے آہیں بھرنے والے کو اوَّاہٌ کہا جاتا ہے۔ مآل اور حاصل دونوں قولوں کا ایک ہی ہے (کہ بکثرت آہیں کھینچنے والے کو اوَّاہٌ کہا جاتا ہے ‘ خواہ اللہ کے خوف اور دوزخ کے ڈر سے ہو یا اپنے گناہوں کے اندیشہ سے۔ عطاء نے کہا : اوَّاہٌ سے وہ شخص ہے جو دوزخ سے ڈرتا ہو اور جو امور اللہ کو پسند نہیں ‘ ان سے تائب ہو۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : اوَّاہٌ سے مراد ہے بکثرت دعا کرنے والا۔ حضرت ابن عباس نے تشریح کی : مؤمن بکثرت توبہ کرنے والا اوَّاہٌ ہے۔ حسن اور قتادہ نے کہا : اوَّاہٌ وہ شخص ہے جو اللہ کے بندوں پر شفت و مہربانی کرے۔ مجاہد نے کہا : صاحب یقین مراد ہے۔ عکرمہ نے کہا : یہ لفظ حبشی زبان کا ہے ‘ حبشی زبان میں اوَّاہٌ کا معنی ہے یقین رکھنے والا۔ عقبہ بن عامر نے کہا : اوَّاہٌ سے مراد ہے بہت زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا۔ حضرت سعید بن جبیر کے نزدیک بہت زیادہ سیاحت کرنے والا اوَّاہٌ ہے۔ ایک روایت میں حضرت سعید بن جبیر کا قول آیا ہے کہ اوَّاہٌ سے مراد ہے معلم خیر۔ نخعی نے کہا : اوَّاہٌ کا معنی ہے دانشمند۔ قاموس میں ہے : اوَّاہٌ یقین کرنے والا ‘ یا دعا کرنے والا ‘ یا مہربانی کرنے والا ‘ یا دانشمند ‘ یا ایمان رکھنے والا۔ یہ آخری معنی حبشی زبان میں ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : اوَّاہٌ سے وہ شخص مراد ہے جو خوف سے آہ آہ کرنے والا ‘ یقین کی وجہ سے گڑگڑانے والا اور طاعت کا التزام کرنے والا ہو۔ زجاج نے کہا : ابوعبیدہ کا قول ان تمام معانی کو جامع ہے جو اوَّاہٌ کے بیان کئے جاتے ہیں۔ حلیم کا معنی ہے دوسروں کی ضرر رساں حرکتوں سے درگذر کرنے والا (بردبار) حضرت ابراہیم حلیم تھے ‘ باوجودیکہ باپ نے ان سے کہا تھا کہ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر ہلاک کر دوں گا ‘ لیکن حضرت ابراہیم نے فرمایا : آپ کو (دوزخ سے) سلامتی نصیب ہو ‘ میں اپنے رب سے آپ کیلئے دعائے مغفرت کروں گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حلیم کا معنی ہے سردار۔ قاموس میں ہے : حلم کا معنی ہے تحمل اور دانائی۔ حلیم (صفت مشبہ کا صیغہ) حلم سے ہی بنا ہے۔ حضرت ابراہیم کو جس بات نے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنے پر آمادہ کیا اس (علت استغفار) کو یہ جملہ واضح کر رہا ہے (یعنی حضرت ابراہیم اواہ و حلیم تھے ‘ اسلئے انہوں نے باپ کیلئے دعائے مغفرت کی) مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ کچھ لوگ (اپنے اپنے قبائل سے) خدمت گرامی میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے۔ اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی ‘ نہ بیت المقدس کو چھوڑ کر کعبے کی طرف رخ موڑنے کا حکم نازل ہوا تھا۔ یہ لوگ مسلمان ہو کر اسی حالت میں اپنے گھروں کو چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد حرمت شراب اور تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا ‘ مگر ان کو اس کی اطلاع نہیں پہنچی۔ کچھ مدت کے بعد جب پھر مدینہ آئے اور شراب کی حرمت اور تحویل قبلہ کا ان کو علم ہوا تو انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! آپ جس دین پر تھے (اس درمیانی مدت میں) ہمارا مسلک اس سے الگ رہا۔ ہم اس مدت میں شرابیں پیتے اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے (اسلئے) ہم گمراہ رہے (اب ہمارا کیا ہوگا) اس پر اللہ نے آیت ذیل نازل فرمائی :
Ayah 9:115وما کان اللہ لیضل قومًا بعد اذھدھم حتی یبین لھم ما یتقون اور ہدایت یاب کردینے کے بعد اللہ کسی قوم کو اس وقت تک گمراہ نہیں قرار دیتا جب تک وہ چیزیں ان کو نہ بتا دے جن سے ان کو پرہیز رکھنا چاہئے۔ یعنی اسلام کی ہدایت دینے کے بعد اللہ کسی قوم کو گمراہ نہیں قرار دیتا اور نہ ان کا کسی فعل پر مؤاخذہ کرے گا تاوقتیکہ ان کے سامنے کھول کر وہ امور نہ بیان کر دے جن سے ان کو بچنا لازم ہے اور جن کو آئندہ اختیار کرنے کے بعد وہ گمراہ قرار پانے کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
بعض علماء نے کہا : رسول اللہ (ﷺ) نے جو اپنے چچا کے متعلق فرمایا تھا کہ جب تک مجھے ممانعت نہ ہوجائے میں آپ کیلئے دعائے مغفرت کرتا رہوں گا۔ اس آیت میں رسول اللہ (ﷺ) کیلئے قول مذکور کا عذر بیان فرما دیا (کہ یہ قول رسول اور وعدۂ استغفار ممانعت دعا سے پہلے تھا ‘ اسلئے ناقابل مؤاخذہ ہے) یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممانعت سے پہلے جن لوگوں نے اپنے مشرک آباؤ اجداد کیلئے دعائے مغفرت کی تھی ان کو اس آیت میں معذور ‘ ناقابل مؤاخذہ قرار دینا مقصود ہے۔ مجاہد نے کہا : آیت میں مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت کرنے والے مؤمنوں کا حکم تو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے لیکن حکم عام ہے (قبل از نزول حکم) ہر معصیت وطاعت کو شامل ہے (یعنی نزول حکم سے پہلے کا کوئی فعل قابل مؤاخذہ نہیں۔ یہ ضابطہ عمومی ہے ‘ مشرکوں کیلئے قبل از ممانعت دعائے مغفرت کرنے کی ہی اس میں خصوصیت نہیں ہے) ۔
ان اللہ بکل شیء علیم۔ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ یعنی کس نے ناواقفیت اور عدم علم کی وجہ سے ایسا کیا اور کس نے سرکشی اور تمرد کے جذبہ کے زیر اثر کیا ‘ کون گمراہ قرار دیئے جانے کا مستحق ہے اور کون اس کا مستحق نہیں ہے ‘ اللہ ان باتوں کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 9:116ان اللہ لہ ملک السموت والارض یحي ویمیت وما لکم من دون اللہ من ولی ولانصیر۔ بلاشبہ آسمانوں کی اور زمین کی حکومت اللہ ہی کی ہے ‘ وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔ (اے لوگو ! ) اللہ کے سوا نہ کوئی تمہارا حامی ہے کہ اللہ سے تم کو بچا سکے نہ کوئی مددگار کہ اللہ کے بھیجے ہوئے ضرر کو روک سکے ‘ اسلئے تمہارے لئے جائز نہیں کہ مشرکوں سے (قلبی) دوستی کرو اور ان کیلئے مغفرت کی دعائیں کرو خواہ وہ تمہارے قرابتدار ہی ہوں۔ تمہارے لئے اللہ کی دوستی اور مدد کافی ہے۔