9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 9:64–66

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

یہ منافق ڈر رہے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کے دلون کے بھید کھول کر رکھ دے۔ اے نبی ان سے کہو " اور مذاق اڑاؤ، اللہ اس چیز کو کھول دینے والا ہے جس کے کھل جانے سے تم ڈرتے ہو "

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے ، تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ ان سے کہو " کیا تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی ؟

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

اب عذرات نہ تراشو۔ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔ اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر بھی دیا تو دوسرے گروہ کو تو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے

یحذر المنافقون ۔۔۔ کانوا مجرمین (آیت 64 تا 66) یہ آیات تمام منافقین کے عمومی رویے پر تبصرہ ہے کہ وہ اس بات سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں جو کھوٹ ہے اس کے بارے میں کہیں آیات نازل نہ ہوجائیں۔ اور ان کی دلی کیفیات کا انکشاف نہ ہوجائے۔ ان کے راز لوگوں پر کھل نہ جائیں۔ اس موضوع پر کئی روایات میں متعدد واقعات متعین طور پر بھی نقل ہوئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول یہ خاص واقعات ہیں۔ ابو معشر مدینی نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ منافقین میں سے ایک شخص نے یہ کہا کہ میرے خیال میں ہم سے جو لوگ زیادہ قرآن پڑھتے ہیں وہ ہم سے پیٹ کے بارے میں زیادہ لالچی ہیں اور بات میں ہم سے زیادہ جھوٹے ہیں اور جنگ کے وقت بزدل ہیں (ان کا تبصرہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جو قاری قرآن تھے) یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی۔ تو یہ منافق رسول اللہ کے پاس پہنچا۔ اس وقت رسول اللہ سفر پر روانہ ہونے کے لیے ناقہ پر سوار ہوگے تھے۔ اس منافق نے کہا رسول خدا ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ تو حضور نے فرمایا کیا تم اللہ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کی بابت گپ شپ لگا رہے تھے۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں قل اباللہ تا کانوا مجرمین اس شخص کے پاؤں پتھر پر رگڑے جا رہے تھے اور رسول اللہ اس کی طرف دیکھ بھی نہ رہے تھے اور یہ شخص رسول اللہ کی تلوار کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ محمد ابن اسحاق نے یہ نقل کیا ہے کہ منافقین کی ایک جماعت تھی جن میں ودیعہ ابن ثابت بنی امیہ کے بھائی ، ولد زید ولد عمرو ، ولد عوف تھے اور ایک شخص مخشی ابن حمیر بھی تھا جو اشجع قبیلے کا فرد تھا اور اشجع بنی سلمہ کا حلیف تھا۔ یہ جماعت حضور کے ساتھ تبوک کی طرف جا رہی تھی۔ ان میں سے بعض نے دوسروں سے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ رومی اس طرح لڑتے ہیں جس طرح عرب عربوں کے ساتھ لڑتے ہیں ؟ خدا کی قسم ہم تو دیکھتے ہیں کہ کل ہم رسیوں میں بندھے ہوں گے۔ یہ لوگ اہل ایمان کے اندر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کہتے تھے۔ اس موقع پر مخشی ابن حمیر نے کہا خدا کی قسم میں تو اپنے لی یہ سزا تجویز کرتا ہوں کہ ہم میں ہر شخص کو سو کوڑے مارے جائیں مگر ہمارے بارے میں تمہاری ان باتوں کی وجہ سے قرآن مجید نازل نہ ہوجائے ، مجھ تک جو اطلاعات بھی پہنچی ہیں ، ان میں یہ بھی ہے کہ حضور نے عمار ابن یاسر کو حکم دیا کہ ان لوگوں کی مدد کو ہنچو یہ تو جہنم رسید ہوگئے ہیں۔ اور ان سے پوچھو کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ اگر وہ انکار کردیں تو پھر بتا دو کہ تم نے تو یہ کہا تھا۔ عمار ان تک گئے اور ان سے یہ بات کی۔ یہ لوگ رسول اللہ کے پاس آئے اور معذرت کرنے لگے۔ رسول اللہ اپنی سواری پر بیٹھ چکے تھے اور ودیعہ ابن ثابت پہنچے۔ اس نے سواری کا کجاوا پکڑآ ہوا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ مخشی ابن حمیر نے رسول اللہ سے کہا فعد بی اسمی اور اسم ابی چناچہ اس آیت میں جسے معافی ملی وہ مخشی ابن حمیر تھے۔ بعد اس نے اپنا نام عبدالرحمن رکھ دیا تھا۔ اور اس نے خدا سے سوال کیا تھا کہ وہ خدا کی راہ میں اس طرح شہید ہوں کہ اس کا نام و نشان بھی معلوم نہ ہو۔ چناچہ یمامہ کی جنگ میں وہ شہید ہوا اور اس کا کوئی اتا پتا نہ ملا۔ ابن منذر ، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ غزوہ تبوک کے لیے پا بہ رکاب تھے کہ آپ کے ساتھ ایک گروہ منافقین بھی تھا۔ جنہوں نے کہا : کیا یہ شخص یہ امید لگائے بیٹھا کہ شام کے محلات اور قلعے اس کے لیے کھل جائیں گے۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے حضور کو اس کی اطلاع دے دی تو حضور نے حکم دیا کہ ان لوگوں کی سواریوں کو روک دو ۔ حضور نے ان لوگوں سے جا کر دریافت کیا کہ کیا تم نے یہ کہا ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ہم تو ہنسی مذاق کر رہے تے تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ ہم ہنسی مذاق کر رہے تھے یعنی جن موضوعات پر وہ بات کر رہے تھے ان کا تو تعلق تو اصل ایمان سے تھا اور یہ ایسے مسائل نہ تھے جن کے بارے میں محض گپ شپ کے انداز میں بات کی جائے۔ قل اباللہ وایاتہ ورسولہ کنتم تستہزءون (کیا تم اللہ ، اس کے رسول اور اس کی آیات کے بارے میں ہنسی مذاق کرتے ہو) چونکہ انہوں نے ایک عظیم جرم کا ارتکاب کیا تھا ، اس لیے ان پر کفر کا فتوی صادر ہوا کہ انہوں نے کفریہ کلمات کہے ہیں۔ اور ایمان کے اظہار کے بعد انہوں نے کفر کیا ہے۔ چناچہ ان کو خوفناک انجام سے ڈرایا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ جلدی توبہ کرلیں اور صحیح ایمان لے آئیں تو یہ عذاب ان سے ٹل بھی سکتا ہے۔ لیکن جو لوگ نفاق پر قائم رہے اور بدستور استہزائیہ انداز ان کا باقی رہا تو وہ عذاب کے مستحق ہوں گے کیونکہ انہم کانوا مجرمین (یہ مجرم تھے)
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں۔ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ خیر سے روکتے ہیں۔ یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ یقینا یہ منافق ہی فاسق ہیں

منافقین تصورات ، اعمال اور اقوال پر یہاں تک تبصرہ کرنے کے بعد اب یہاں منافقین کی عمومی حقیقت کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ ان کی وہ عمومی صفات بیان کردی جاتی ہیں جن کی بنا پر وہ مومنین صادقین سے جدا تصورت ہوتے ہیں۔ اور بتایا جاتا ہے کہ ان کے لیے کس قسم کا عذاب انتظار میں ہے۔ منافقین اور منافقات کی اک ہی فطرت اور خمیر ہے۔ ان کا مزاج بھی یکساں ہے۔ ہر زمان و مکان اور ہمیشہ ان کے یہی خدوخال رہے ہیں۔ ان کے اقوال و اعمال اگرچہ مختلف ہیں لیکن وہ ایک ہی مزاج اور ایک ہی سرچشمے سے ماخوذ ہوتے ہیں یعنی کینہ پروری اور بدفطرتی ، خفیہ سازشیں کرنا اور بےجا تنقیدیں کرنا اور کھل کر سامنے آنے سے کترانا اور کھل کر بات کرنے کی جرات نہ کرنا۔ یہ ہیں منافقین کی اصل علامتیں۔ اب ان کا طرز عمل کیا ہے۔ وہ منکر کا حکم دیتے ہیں اور معروف سے روکتے ہیں اور وہ پرلے درجے کے بخیل ہیں۔ اور اگر خرچ کرتے ہیں تو لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور وہ جب امر بالمنکر اور نہی عن المعروف کرتے ہیں۔ تو یہ کام وہ چھپ چھپا کر کرتے ہیں۔ اشاروں کنایوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے اندر اس قدر جراءت نہیں ہے کہ یہ لوگ کھل کر کام کریں یہ کھل کر کام اس وقت کرتے ہیں جب ان کو یقین ہو کہ حالات درست ہیں اور ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے اللہ اور اس کی رضا کو بھلا دیا ہے۔ نسو اللہ لہزا ان کے ہر کام کی غرض وغایت لوگوں کی رضا یا مالی مفاد ہوتا ہے۔ یہ لوگ جب خدا سے نہیں ڈرتے تو پھر یہ زمین کے زور آور لوگوں سے بہت ہی ڈرتے ہیں۔ یہ ان کے سامنے ذلیل ہو کر رہتے ہیں اور ان کی خوشامد کرتے ہیں۔ لہذا اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا فنسیہم لہذا اب ان کا کوئی وزن و اعتبار نہیں ہے۔ یہ دنیا میں لوگوں کے سامنے بھی بےوزن اور بےاعتبار ہوں گے اور آخرت میں بھی اللہ کے ہاں بےوزن اور بےاعتبار ہوں گے۔ کیونکہ دنیا میں لوگ تو جاندار اور زور آور لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں جو صاف صاف بات کرتے ہیں اور علی الاعلان بات کرتے ہیں جو اپنے نظریات پر رہتے ہیں اور جو اپنے نظریات کے معاملے میں لوگوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ اگر جنگ کرتے ہیں تو پھر بھی علانیہ اور اگر صلح کرتے ہیں تو پھر بھی علانیہ۔ یہ لوگ لوگوں کو بھول جاتے ہیں اور لوگوں کے الہہ العالمین کو یاد رکھتے ہیں لہذا وہ حق کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے وار وہ چونکہ اللہ کو یاد کرتے ہیں اس لیے لوگ انہیں یاد کرتے ہیں اور ان کی قدر کرتے ہیں۔ بیشک منافق ہی فاسق ہوتے ہیں ان المنفقین ھم الفسقون لہذا وہ دائرہ ایمان سے خارج ہوتے ہیں۔ یہ اصل راہ سے منحرف ہیں اور اللہ نے ان کے لیے ایسا انجام تجویز کردیا ہے جو کفار کے لیے تجویز ہوا ہے۔
Ayah 9:68

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

ان منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لیے اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، وہی ان کے لیے موزوں ہے۔ ان پر اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے

پس یہ انجام ان کے لیے اور ان کے اس مجرمانہ طرز عمل کے لیے کافی ہے۔ اس انجام اور جہنم کے ساتھ ساتھ ان پر لعنت بھی ہوتی رہے گی اور اس عذاب میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 9:69

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

تم لوگوں کے رنگ ڈھنگ وہی ہیں جو تمہارے پیش رو وں کے تھے۔ وہ تم سے زیادہ زور آور اور تم سے بڑھ کر مال اور اولاد والے تھے۔ پھر انہوں نے دنیا میں اپنے حصہ کے مزے لوٹ لیے اور تم نے بھی اپنے حصے کے مزے اسی طرح لوٹے جیسے انہوں نے لوٹے تھے ، اور ایسی ہی بحثوں میں تم بھی پڑے جیسی بحثوں میں وہ پڑے تھے ، سو ان کا انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت میں ان کا سب کیا دھرا ضائع ہوگیا اور وہی خسارے میں ہیں

منافقوں کا بےعمل ، منحرف اور گمراہ طبقہ انسانی تاریخ میں ہمیشہ رہتا ہے۔ یہ کسی بھی وقت انوکھا نہیں رہا ہے۔ اسلام سے قبل بھی انسانی تاریخ میں اس کے نمونے موجود رہے ہیں اور ادوار سابقہ کے منافقین کا انجام بھی ان کے فسق و فجور کے مطابق ایسا ہی رہا ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کی فطرت میں کجی آجاتی ہے اور وہ صحیح راہ پر نہیں چلتے۔ اس سے قبل جو کافر اور منافق گزرے ہیں وہ حضور کے دور کے منافقین سے زیادہ مادار اور زیادہ افرادی قوت کے مالک تھے۔ لیکن یہ مالی اور افرادی وسائل انہیں نہ بچا سکے۔ قرآن کریم امم سابقہ کے منافقین کی طرف اشارہ کرکے انہیں بتاتا ہے کہ دیکھو تم ان لوگوں ہی کے راستے پر تو چل رہے ہو۔ آخر کیوں تمہارا انجام ان سے مختلف ہوگا۔ قوت کا فتنہ بھی خطرناک فتنہ ہوتا ہے۔ مالی قوت اور افرادی قوت سے انسان فتنے میں پڑجاتا ہے۔ جن لوگوں کا رابطہ بڑی قوت سے ہوتا ہے وہ چھوٹی قوتوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ وہ صرف قوی تر قوت سے ڈرنے والے ہوتے ہیں۔ لہذا وہ سمع و اطاعت اس بڑی قوت کی کرتے ہیں اور اس بڑی قوت کی بات کو اونچا کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر مالی قوت اور افرادی قوت اثر نہیں کرتی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مال و دولت اور انصآر و اولاد دینے والا تو اللہ ہے جو برتر قوت ہے۔ لہذا اگر ان کے پاس نعمت آجائے تو وہ شکر ادا کرنے میں بہت حریص ہوتے ہیں اور وہ مالی قوت اور افرادی قوت کو بھی اللہ کی اطاعت میں کھپا دیتے ہیں اور جن لوگوں کی فطرت میں انحراف ہوتا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ اس قوت کا سرچشمہ کیا ہے۔ تو وہ تکبر ، غرور اور سرکشی اختیار کرلیتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو کھانے پینے تک محدود کردیتے ہیں جس طرح مویشی کھاتے تپیتے ہیں۔ اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : " سو ان کا انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت میں ان کا سب کیا دھرا ضائع ہوگیا اور وہی خسارے میں ہیں " حبط اعمال کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال بنیاد ہی سے باطل ہوگئے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے پودے کے مانند تھے جس کی جڑیں نہ تھیں۔ اس قسم کا پودا نہ سرسبز ہوا ہے اور منہ پھلتا پوھلتا ہے۔ اور ایسا پودا لگانے والے آخر کار گھاٹے میں ہوتے ہیں اور ان کا گھاٹا ہمہ گیر ہوتا ہے۔
Ayah 9:70

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو اپنے پیش روؤں کی تاریخ نہیں پہنچی ؟ نوح کی قوم ، عاد ، ثمود ، ابراہیم کی قوم ، مدین کے لوگ اور وہ بستیاں جنہیں الٹ دیا گیا۔ ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے ، پھر یہ الہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تے

اب منافقین کو چھوڑ کر روئے سخن عام ہوجاتا ہے۔ یہ عام خطاب تعجب کرتے ہوئے کیا جاتا ہے کہ عجیب ہیں یہ لوگ کہ سابقہ لوگوں کے انجام کو دیکھتے ہوئے اور جانتے ہوئے یہ لوگ اس راہ پر بدستور چلتے ہیں۔ یہ لوگ اس دنیا کے مزے لوٹ رہے ہیں اور اس کو اپنی حالت کا اچھی طرح شعور نہی ہے۔ یہ لوگ ہلاکت کی راہ پر مسلسل چل رہ ہی اور کسی نصیحت کو پلے نہیں باندھتے۔ الم یاتھم نبا الذین من قبلہم " کیا ان لوگوں کو اپنے پیش روؤں کی تاریخ نہیں پہنچی ؟ " جو اسی راہ پر چلے جس پر یہ چلتے ہیں۔ ذرا قوم نوح کی تاریخ کو پڑھیں کہ کس طرح انہیں طوفان نے گھیر لیا اور ہلاک کیے گئے اور یہ سخوت خوفناک ہلاکت تھی۔ قوم عاد جسے ایک شدید آندھی نے آ لیا۔ قوم ثمود جسے ایک زبردست چیخ اور آواز نے ہلاک کردیا۔ قوم ابراہیم عع جو بڑے بڑے جباروں پر مشتمل تھی ، اسے ہلاک کرکے اللہ نے حضرت ابراہیم کو معجزانہ طور پر نجات دی۔ اصحاب مدین جن کو شدید زلزلے نے آ لیا۔ اور قوم لوط جن کی نسل کو اللہ نے کاٹ کر رکھ دیا اور چند لوگ ہی اس عذاب سے بچے۔ کیا ان لوگوں کو ان تاریخی واقعات کا علم نہیں ہے۔ ان اقوام کے پاس بھی رسول روشن دلائل دے کر بھیجے گئے تھے۔ لیکن ان اقوام نے ناحق ان کی تکذیب کی اور اللہ نے ان کو پکڑا۔ فما کان اللہ لیظلمہم ولکن کانوا انفسہم یظلمون " پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے "۔ ایک منحرف انسان کو قوت اور اقتدار مزید سرکش بنا دیتا ہے۔ پھر مال و دولت کی وجہ سے ایسے لوگ اندھے ہوجاتے ہیں۔ لہذا ماضی کے تاریخی واقعات صرف ان لوگوں کو فائدے دیتے ہیں۔ لہذا ماضی کے تاریخ واقعات صرف ان لوگوں کو فائدے دیتے ہیں جن کی چشم بصیرت وا ہوتی ہے اور وہ لوگ سنت الہی کو سمجھنے کی استعداد رکھتے ہیں کیونکہ سنت الہی اٹل ہوتی ہے۔ اور ہمیشہ کام کرتی رہتی ہے۔ اور وہ کسی شخص کی کوئی رعایت بھی نہیں کرتے۔ اکثر لوگ جو قوت و اقتدار اور انعام و کرام سے نوازے جاتے ہیں اور ان کو آزماش میں ڈآلا جاتا ہے ، اندھے ہوجاتے ہیں اور ان کی قوت بصارت و بصیرت پر پردے پڑجاتے ہیں اور وہ حقائق کے ادراک سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ دیکھ نہیں سکتے کہ تاریخ میں بڑی بڑی قوتیں کس طرح سرنگوں ہوئیں۔ اکثر لوگ ان باغیوں اور سرکشوں کے انجام پر غور نہیں کرتے۔ جب انسان اپنے آپ کو اس طرح اندھا اور بہرا بنا دے۔ تو پھر وہ اللہ کے عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اب سنت الہیہ اپنا کام کرتی ہے اور مکافات عمل کا اصول سامنے اٹا ہے اور ایسے لوگ اور اقوام پکڑی جاتی ہیں۔ ان کو اپنی قوت پر غرہ ہوتا ہے اور انعامات و عیاشیوں میں سرکش ہوکر غفلت میں ہوتے ہیں اور اچانک اللہ کے گھیرے میں آجاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غفلت ، نادانی اور نابینی مال و دولت کے ساتھ چمٹی رہتی ہے اور اس کا انجام ہر دور میں اچھا نہیں ہوتا اور اس برے انجام سے جو لوگ بچ نکلتے ہیں وہ وہی ہوتے ہیں جن پر اللہ کا خصوصی کرم ہو۔
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حک دیتے اور برائی سے روکتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہوکر رہے گی ، یقیناً اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے

اور کفار و منافقین کا محاذ بالمقابل کیا ہے ، اور اس کا انجام کیا ہوگا یہ مومنین و صادقین ہیں۔ ان کا مزاج منافقین اور کفار سے یکدم مختلف ہے۔ ان کا طرز عمل ان سے بالکل الٹ ہے۔ اور ان کا انجام بھی ان کے انجام سے بالکل مختلف ہے۔ اگر منافقین ایک دوسرے کے دوست ہیں اور ایک ہی فطرت رکھتے ہیں اور ایک ہی مزاج رکھتے ہیں تو مومنین و مومنات بھی ایک ہی مزاج اور ایک ہی نظریات کے قائل ہیں اور ایک دوسرے کے محب اور دوست ہیں۔ لیکن منافقین باوجود ہم طبع اور ہم جنس ہونے کے مومنین اور مومنات کی طرح شیر و شکر نہیں ہیں کیونکہ دوست تو وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو بہادر ہوں ، جو ایک دوسرے کی مدد کو پہنچنے والے ہوں اور باہم معاون و انصار ہوں جبکہ منفاقت کا مزاج ہی ان باتوں سے مختلف ہوتا ہے۔ کیونکہ بہادری کے مقابلے میں منافق بزدل اور ذلیل ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ہمدرد نہیں ہوتے اور نہ ہی باہم جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور نہ باہم معاون و کفیل ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان کے خیالات اور ان کا طرز عمل ایک دوسرے کے ساتھ ملتا جلتا ہوتا ہے۔ قرآن کریم دونوں کے لیے قدرے مختلف اسلوب اختیار کرتا ہے۔ منافقین کے لی صرف یہ لفظ ہیں بعضھم من بعض (وہ ایک دوسرے سے ہیں اور اہل ایمان کے لیے الفاظ ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ بعضھم اولیاء بعض ایک مومن کا مزاج امت مومنہ کا مزاج ہوتا ہے وہ اجتماعی ذہن رکھتا ہے۔ وہ اتحاد ، باہم متکافل اور مددگار ہوتا ہے اور اس کا یہ اتحاد اور باہم نصرت حصول خیر اور دفع شر کے لی ہوتی ہے۔ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۔ مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حک دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ اور یہ مقاصد یعنی خیر کو حاصل کرنا اور شر کی مدافعت کرنا اس قدر اونچے اور مشکل مقاصد ہیں جن کے لیے ایک ایسی جماعت کی ضرورت ہے جو یک جان دو قلب ہو۔ اس کے افراد باہم محبت کرنے والے اور مدد کرنے والے ہوں اور وہ شر کے مقابلے میں ایک صف میں صٖف آرا ہونے والے ہون اور ان میں تفرقہ اور جدائی اور عدم اتفاق کا کوئی عامل موجود نہ ہو۔ اور جب جماعت مسلمہ کے اندر تفرقہ پیدا ہوجائے تو وہاں لازما جماعت کے اندر کوئی ایسا عنصر داخل ہوگا جو اس کے مزاج کے خلاف ہوگا ، جو اس کے نظریات کے ساتھ لگا نہ کھاتا ہوگا اور اسی عنصر کی وجہ سے تفرقہ جماعت کے اندر داخل ہوگا۔ تفرقے کی وجہ سے جماعت کے اندر پھر امراض اور اعراض پیدا ہوں گی اور اب اس کے پیش نظر نہ وہ مقصد رہے گا جو اس کا اصل مقصد ہے اور نہ اس کے اندر امت کی صف اول موجود رہے گی یعنی بعضھم اولیاء بعض۔ غرض اس صفت کی وجہ سے یعنی سٖت ولایت ہی کی وجہ سے جماعت مسلمہ اپنا فرض امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ادا کرتی ہے اور وہ دنیا کے اندر اعلائے کلمۃ الہ کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ و یقیموں الصلوۃ۔ اقامت صلوۃ اس کی علامت ہوتی ہے۔ و یوتون الزکوۃ ادائے زکوۃ وہ فریضہ ہے جو افراد جماعت کو باہم مربوط کرتا ہے اور اس کے ذریعے افراد جماعت کے اندر روحانی اور جسمانی رابطے پیدا ہوتے ہیں اور وہ اپنے نصب العین کی طرف بڑھتے ہیں۔ و یطیعون اللہ و رسولہ " وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں " اور یہ ہے ایک مومن کا اصلی ہدف۔ لہذا حکم الہی اور حکم رسول کے سوا ان کے لیے کوئی اور حکم قانون نہیں ہوتا۔ اور اللہ کی شریعت اور رسول کی سنت کے سوا ان کے لیے کوئی دستور نہیں ہوتا۔ اور اللہ اور رسول کے دین کے سوا ان کے لیے کوئی اور نظام نہیں ہوتا اور جب کسی قضیے کا فیصلہ اللہ اور رسول اللہ کردیں تو وہ چون و چرا نہیں کرتے۔ ان کے سامنے ایک ہی راہ ، راہ مستقیم ہوتی ہے اور وہ ادھر ادھر کی پگڈنڈیوں کی طرف نہیں لپکتے۔ اولئک سیرحمہم اللہ " یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہوگی " اور یہ رحمت صرف عالم آخرت تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس رحمت کا آغآز اس جہاں سے ہی ہوجاتا ہے اور یہ رحمت اس فرد پر بھی ہوتی جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضۃ سر انجام دیتا ہے اور نماز کی اقامت اور زکوۃ کی ادائیگی کرتا ہے۔ اور ایسے افراد سے جو جماعت تشکیل پاتی ہے اس پر بھی رحمت کی بارش ہوتی ہے۔ یہ رحمت اطمینان قلوب کی شکل میں بھی ہوتی ہے ، تعلق باللہ کی شکل میں بھی ہوتی اور حادثات اور فتنوں سے بچانے کی شکل میں بھی ہوتی ہے اور جماعت کی اصلاح ، اس کی ثابت قدمی اور اطمینان اور اس کے افراد کے درمیان باہم محبت اور تکافل کی شکل میں بھی ہوتی ہے اور جذبہ اخلاص اور رضائے الہی پیدا ہوجانے کی صورت میں بھی ہوتی ہے۔ مومنین کی یہ چار صٖات منافقین کی چار صٖات کے بالمقابل ہیں۔ مومنین کی صفات امر بالمعروف ، نہی عن المنکر ، ادائے صلوۃ ، اداء زکوۃ ہیں اور منافقین کی صٖات نہی عن المعروف ، امر بالمنکر اللہ کو بھلانا اور بخل کرنا۔ نتیج یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی جانب سے مومنین پر نزول رحمت ہوتا ہے اور۔ اور منافقین کے لیے اس کے بدلے میں لعنت ہوتی ہی اور ان صفات کے نتیجے ہی میں اللہ نے مومنین کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ انہیں فتح و نصرت اور زمین کے اوپر اقتدار و برتری ملے گی اور اس طرح وہ پوری انسانیت کے صالح اور مصلح نگران ہوں۔ ان اللہ عزیز حکیم " یقینا الہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے "۔ وہ اس پر قادر ہے کہ جماعت مومنین کو ایک دوسرے کا دوست بنائے اور ان کو اعزاز بخشے اور وہ پھر اللہ کے احکام و فرائض ادا کریں۔ اور وہ حکیم ہے اور اپنی حکمت کے ذریعے اس جماعت کی نصرت کرتا ہے اور اسے اعزاز دیتا ہے تاکہ یہ جماعت برسر اقتدار آ کر زمین میں اصلاح کا کام کرے اور لوگوں کے درمیان اللہ کے کلمے کی حفاظت کرے۔ ایک طرف جہنم کا عذاب منافقین اور کافرین کے انتظار میں ہے۔ اور اللہ کی جانب سے لعنت و ملامت ان کے گھات میں بیٹھی ہے۔ اور یہ وعید بھی ان کے لیے سوہان روح ہے کہ اللہ ان کو نسیا منسیا کردے گا تو دوسری جانب اہل ایمان کے لیے خوشیوں کے سامان ہیں اور یہ دائمی خوشیاں ان کے انتظار میں ہیں۔
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوگی۔ یہی بڑی کامیابی

یہ لوگ ان جنات میں باعز طور پر رہیں گے۔ لیکن ان کے لیے ان اعلی رہائش گاہوں سے بھی بڑآ انعام اللہ کی رضا مندی ہے اور جنت اپنی تمام آسائشوں کے ساتھ اس بڑے انعام کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ اور یہ خوشی یعنی رضائے الہی کی خوشی سب سے بڑی خوش ہے۔ اللہ کے ساتھ رابطے کا اعلی مقام انسان کو اس وقت ملتا ہے کہ جب وہ اللہ اپنی آنکھوں سے نظر آئے یعنی حالت شہود۔ اس مقام میں انسان دنیا کی کثافتوں ، اس کی پریشانیوں اور اس کی دلچسپیوں سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس مقام میں انسان کے دل کی گہرائیوں سے ایک روشنی نکلتی ہے۔ انسانی آنکھیں اس نور کو نہیں دیکھ سکتیں اور یہ نور ، نور الہی ہوتا ہے اور اس کا تعلق روح اللہ سے ہوتا ہے۔ یہ مقام انسانوں میں سے نہایت ہی قلیل تعداد کو نصیب ہوتا ہے۔ اس مقام کا ایک لحظہ اور ایک چمک ہی پوری زندگی کے مال و متاع سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ جبکہ اللہ کی رضا مندی کا مقام تو اس سے بھی بلند مقام ہے اور اس میں انسان کی روح کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے اور انسان تسلسل کے ساتھ اس کا شعور اپنے اندر پاتا ہے۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے نبی کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔ آخر کار ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بدترین جائے قرار ہے

رسول اللہ ﷺ نے منافقین کے ساتھ بہت نرمی کا سلوک کیا۔ ایک عرصے تک آپ ان سے صرف نظر کرتے رہے اور چشم پوشی فرمائی۔ لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔ خوش اخلاقی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ خداوند قدوس کی طرف سے اب حکم آ اجتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اپنے رویے میں اب ذرا سنجیدگی پیدا کریں۔ اور اب ان کے ساتھ وہ سلوک اختیار کیا جائے جو کفار کے ساتھ ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ اب جہاد کا اطلاق دونوں پر کیا جائے اور ان کے ساتھ ایسا سخت رویہ اختیار کیا جائے جس میں کوئی نرمی نہ ہو۔ تحریک اسلامی کو کئی مرحل درپیش ہوتے ہیں۔ بعض مواقع پر نرمی ضروری ہوتی ہے اور بعض حالات میں سکتی مفید ہوتی ہے۔ جب نرمی کا دور ختم ہوا اور سختی کا تقاضا ہو تو سختی ضروری ہے۔ صبر بھی ایک دور کے لیے ہوتا ہے جس صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو پھر سختی کا دور شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ تحریک کو مختلف حالات درپیش ہوتے ہیں اور مختلف حالات کے مختلف تقاضے ہوتے ہیں۔ نرمی اور مہلت پر مہلت دیے چلے جانے سے بعض اوقات حالات اور خراب ہوتے ہیں۔ منافقین کے ساتھ سختی اور جہاد کے بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف رائے واقعہ ہوا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ ان کے ساتھ سختی کی جائے جس طرح حضرت علی سے روایت ہے اور ابن جریر نے اسے ترجیح دی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ان کو معاشرے میں ننگا کردیا جائے اور ان کے ساتھ رویے میں سختی کی جائے جیسا کہ حضرت ابن عباس سے نقل ہے کہ حضور نے کسی منافق کو قتل نہیں کیا۔
Ayah 9:74

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی ، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے۔ وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے۔ یہ ان کا سارا غصہ اسی بات پر ہے تاکہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیا ہے ! اب اگر یہ اپنی اس روش سے باز آئیں تو انہی کے لی بہتر ہے ، اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو نہایت دردناک سزا دے گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، اور زمین میں کوئی نہیں جو ان کا حمایتی اور مددگار ہو

یہ آیت منافقین کی عمومی حالت کو ریکارڈ کرتی ہے۔ ان کا عمومی موقف کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ہر وقت رسول اللہ اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف رہتے تھے لیکن بعض روایات میں ان آیات کے نزول کا ایک خاص سبب اور واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ قتادہ نے کہا ہے کہ یہ عبداللہ ابن ابی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک جہنی اور انصاری کے درمیان جنگ ہوگئی اور جہنی نے انصاری پر غلبہ حاصل کرلیا۔ اس پر عبداللہ نے انصاریوں سے کہا کہ تم اپنے بھائی کی مدد نہیں کرتے ہو۔ خدا کی قسم ہماری اور محمد کی مثال اس طرح ہے جس طرح کسی نے کہا ہے کہ اپنے کتے کو خوب موٹا کرو تاکہ تمہیں کاٹے۔ اس نے اس پر مزید یہ بھی کہا کہ ہمیں مدینہ کی طرف لوٹنے دیں ، وہاں ہم میں سے معزز لوگ ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے۔ یہ بات کسی مسلمان نے رسول اللہ تک پہنچا دی۔ حضور نے عبداللہ سے دریافت کیا تو وہ قسمیں کھانے لگا کہ اس نے یہ بات نہیں کہی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ایک درخت کی چھاؤں میں بیٹھے تے تو آپ نے فرمایا " تمہارے پاس ایک شخص آے گا اور وہ تمہیں شیطان جیسی نظروں سے دیکھے گا۔ جب وہ آئے تو اس سے کوئی شخص بات نہ کرے۔ چناچہ تھوڑی دیر بعد ایک شخص نیلی آنکھوں والا سامنے آیا۔ اسے رسول اللہ نے بلایا اور کہا تم اور تمہارے ساتھی کس پر چلتے ہو۔ یہ شخص گیا اور اپنے ساتھیوں کو بلا کر لایا اور سب قسمیں کھانے لگے کہ ہم نے یہ باتیں نہیں کی ہیں۔ چناچہ حضور نے ان سے درگزر فرما دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یحلفون باللہ ما قالوا۔ عروہ ابن الزبیر وغیرہ سے روایت ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت جلاس ابن الصامت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کا ایک پروردہ تھا جو اس کی بیوی کا بیٹآ تھا۔ اس کا نام عمیر ابن سعد تھا۔ جلاس نے کہا کہ اگر محمد پر جو کلام نازل ہوا ہے یہ برحق ہے تو ہم ان گدھوں سے زیادہ بد تر ہیں جن پر ہم سوار ہیں۔ اس پر عمیر نے کہا۔ جلاس میں تمام لوگوں کے مقابلے میں تم سے محبت کرتا ہوں اور میرے نزدیک تم بہت بڑے بہادر ہو اور مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ تمہیں کوئی دکھ پہنچے لیکن تم نے اسی بات کہہ دی ہے کہ اگر میں اسے افشا کرتا ہوں تو اس سے مجھے شرمندگی ہوگی اور اگر اسے چھپاتا ہوں تو خود ہلاک ہوتا ہوں۔ ان دونوں صورتوں میں سے ایک میرے لی قابل برداشت ہے۔ چناچہ اس نے رسول اللہ کو اس بات کی اطلاع کردی۔ لیکن جلاس نے اس کا انکار کردیا اور قسم اٹھا لی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس پر جلاس نے کہا میں نے بیشک یہ بات کہی ہے لیکن اللہ نے میرے لی توبہ کی گنجائش رکھ دی ہے۔ اس لیے میں توبہ کرتا ہوں چناچہ اس کی توبہ قبول ہوگئی۔ لیکن یہ تمام روایات قرآن مجید کی عبارت وھمو بما لم ینالوا " اور انہوں نے کچھ کرنے کا ارادہ کیا مگر نہ کرسکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایات پیچیدہ ہیں۔ اور اس سے مراد وہ حادثہ ہے کہ جو غزوہ تبوک سے واپسی پر پیش آیا۔ بعض منافقین اچانک چھپ کر رسول اللہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ ان میں سے ایک روایت یہ جسے ہم یہاں اختیار کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔ امام احمد نے یزد ، ولید ابن عبداللہ ابن جمیع ، ابوطفیل کے ذریعے روایت نقل کی ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ تبوک سے واپس ہو رہے تھے تو حضور نے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کردیں کہ حضور تنگ گھاٹی سے گزرنے والے ہیں۔ لہذا اس راہ پر کوئی نہ گزرے۔ حضور کی سواری کی لگام حضرت حذیفہ کے ہاتھ میں تھی اور حضرت عمار اسے ہانک رہے تھے کہ کچھ لوگ اپنی سواریوں پر نقاب پہنے ہوئے آئے۔ انہوں نے عمار کو دبا لیا۔ یہ حضور کی سواری کو چلا رہے تھے۔ عمار پہنچے اور انہوں نے ان سواریوں کا منہ پھیرلیا۔ رسول اللہ نے حذیفہ سے کہا (روکو روکو) یہاں تک کہ حضور ﷺ اتر گئے اور عمار واپس آگئے تو حضور نے عمار سے پوچھا کیا تم نے ان لوگوں کو پہنچانا۔ انہوں نے کہا میں نے تمام سواریوں کو تو پہچان لیا ہے لیکن لوگ نقاب پوش تھے۔ تو حضور نے فرمایا کہ یہ لوگ رسول اللہ کی سواری کو بگھا کر رسول اللہ کو گرانا چاہتے تھے۔ عمار نے رسول اللہ کے ساتھیوں میں سے ایک ایک سے دریافت کیا کہ عقبہ کے دن سوار کتنے تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ چودہ تھے تو عمار نے کہا کہ اگر تم ان میں سے تھے تو وہ پندرہ تھے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ان میں سے تین آدمیوں کی نشاندہی کی تو انہوں نے قسم اٹھائی کہ ہم نے رسول اللہ کی منادی کا اعلان نہیں سنا۔ اور نہ ہمیں علم ہے کہ لوگ کیا چاہتے تھے۔ اس پر عمار نے کہا باقی 12 افراد اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ برسر پیکار تھے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ حادثہ بتاتا ہے کہ ان لوگوں کے ارادے کیا تھے ؟ بہرحال اس آیت میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہو یا کسی دوسرے واقعہ کی طرف ، بہرحال ابھی تک مسلمانوں میں ایسے کینہ پرور موجود تھے۔ اس لیے آیت میں ان کے رویے پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے۔ وما نقموا الا ان اغنٰھم اللہ و رسولہ من فضلہ " یہ ان کا سارا غصہ اسی بات پر ہے تاکہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیا ہے " غرض اسلام نے ان کے ساتھ کوئی دشمنی نہ کی تھی جس کی وجہ سے وہ اسے یہ بدلہ دینا چاہتے تھے۔ ان کے ساتھ اگر کوئی برائی کی گئی تھی تو صرف یہ تھی اسلام کے بعد ان کو مالدار بنا دیا تھا اور وہ آسودہ حال ہوگئے تھے اور اس آسودہ حالی کی وجہ سے یہ بدمستیاں کر رہے تھے۔ اور اس تعجب اور معنی خیز تعجب کے بعد اور فیصلہ کن بات کی جاتی ہے۔ فان یتوابوا یک خیرا لھم وان یتولوا یعذبھم اللہ عذابا الیما فی الدنیا والاخرۃ وما لھم فی الارض من ولی ولا نصیر " اب اگر یہ اپنی اس روش سے باز آئیں تو انہی کے لی بہتر ہے ، اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو نہایت دردناک سزا دے گا ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، اور زمین میں کوئی نہیں جو ان کا حمایتی اور مددگار ہو " ان حرکات کے باوجود توبہ کا دروازہ پوری طرح کھلا ہے۔ لہذا جو اپنا بھلا چاہتا ہے تو دوڑ کر اندر داخل ہوجائے اور جو بدستور ٹیڑھی راہ پر چلنا چاہے تو انجام واضح ہے۔ دنیا اور آخرت میں اسے دردناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اور اس دنیا میں بھی اس کا کوئی ناصر و مددگار نہ ہوگا۔ لہذا اگر کوئی یہ راستہ اپناتا ہے تو وہی خود ملامت زدہ ہوگا۔
Ayahs 9:75–77

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہم کو نوازا تو ہم خیرات کریں گے اور صالح بن کر رہیں گے

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

مگر جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولتمند کردیا تو وہ بخل پر اتر آئے اور اپنے عہد سے ایسے پھرے کہ انہیں اس کی پروا تک نہیں ہے

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اس بد عہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی ، اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے ، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا ، جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا

سیاق کلام بدستور آگے بڑھ رہا ہے اور منافقین کے خدوخال سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے افعال و اقوال پر تبصرہ ہورہا ہے۔ منافقین میں سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا تھا کہ اگر اللہ نے ان کو مال و دولت سے نوازا تو وہ راہ خدا میں خوب خرچ کریں گے اور اچھے اعمال کریں گے۔ لیکن یہ عہد فقر و فاقہ کے حالات میں تھا۔ اور اس وقت تھا جب کچھ ملنے کی امید تھی لیکن جب اللہ نے ان کی آرزو کو پورا کردیا تو یہ لوگ اپنے وعدوں کو بھول گے۔ ان لوگوں نے بخل اور کنجوسی کو اپنا لیا اور ہاتھ روک لیا۔ بلکہ وفائے عہد سے سرکشی کرنے لگا گویا اس نے کوئی عہد کیا ہی نہیں ہے۔ چناچہ وعدہ خلافی اور پھر جھوٹ کی وجہ سے اللہ نے ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق کو اچھی طرح بٹھا دیا۔ یہ لوگ آخر تک منافق رہے اور برے انجام تک پہنچے۔ نفس انسانی بہت ہی بخیل ہے۔ اس سے صرف وہ لوگ بچ نکلتے ہیں جنہیں اللہ بچاتا ہے۔ صرف وہی لوگ بخل سے بچ سکتے ہیں جن کا دل ایمان سے لبریز ہو۔ وہ دنیاوی ضروریات سے اپنے آپ کو سربلند کردیں۔ اور تمام لالچوں اور مفادات پر لات مار دیں اور ان کی آنکھیں آخرت کے عہد پر ہوں۔ اور رضامندی خالق ان کا نصب العین ہو۔ اور ان کے ایمان کی وجہ سے مطمئن ہوجائیں اور انفاق کی وجہ سے وہ مسکین ہونے سے نہ ڈرتے ہوں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور اللہ کے خزانے میں جو کچھ ہے ، وہ باقی رہنے والا ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جو انسان کو راہ خدا میں خرچ کرنے پر ابھارتا ہے اور انسان خوشی خوشی سے مال خرچ کرتا ہے۔ ایک مومن یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے اگر مال چلا بھی جائے تو بھی آخرت کا اجر اجر عظیم ہے۔ لیکن جب کسی کا دل ایمان سے تہی دامن ہو تو وہ فطرتاً بخیل ہوجاتا ہے جب بھی اسے پکارا جائے کہ راہ خدا میں انفاق کی ضرورت ہے تو وہ فقر کے ڈر کے مارے بخل کرتا ہے اور ہاتھ روک لیتا ہے لیکن اسے کبھی بھی چین وقرار نصیب نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ بےقرار رہتا ہے۔ جو شخص اللہ کے ساتھ عہد کرتا ہے اور پھر اسی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور جو اللہ کے ساتھ جھوٹ کرتا ہے وہ کسی کے ساتھ کبھی سچ نہیں کرسکتا۔ اور اس کا دل نفاق سے پاک نہیں ہوسکتا ، جس کی تین علامات جو رسول نے متعین کی ہیں۔ جب بولے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو توڑ دے۔ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ چناچہ عہد شکنی اور اللہ پر جھوٹ بولنے کا نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں پر نفاق مسلط ہوجائے اور وہ آیت کے فیصلے کے مطابق اس انجام تک پہنچیں۔ فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اس بد عہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی ، اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے ، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا ، جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا
Ayah 9:78

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا یہ لوگ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ کو ان کے مخفی راز اور ان کی پوشیدہ سرگوشیاں تک معلوم ہیں اور وہ تمام غیب کی باتوں سے پوری طرح باخبر ہے

کیا ان کے دعوائے ایمان کے باوجود ان کو اس قدر علم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے دلوں سے خبردار ہے ، ان کے دلوں میں جو خیالات گزرتے ہیں وہ باہم جو گفتگو کرتے ہیں ، جو وہ خفیہ باتیں کرتے ہیں ، ان سے خبردار ہے کیونکہ الل پوشیدہ سے پوشیدہ امور کا بھی عالم ہے۔ دلوں کی نیات سے بھی باخبر ہے۔ ان کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے پھر بھی چھپاتے ہیں۔ اور پھر بھی وعدہ خلافی کرتے ہیں۔ یہ خود ان کے علم کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ ان کے علم کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ نہ کوئی بات چھپاتے اور نہ وعدہ خلافی کرتے اور اللہ پر کوئی جھوٹ نہ باندھتے۔ اس آیت کے نزول کے بارے میں متعدد روایات وارد ہیں۔ ان میں سے ہم ابن جریر کی روایت نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے اور ابن ابو حاتم نے معاون سے نقل کیا ہے انہوں نے ابو امامہ باہلی سے انہوں نے ثعلبہ ابن حاطب انصاری سے کہ انہوں نے حضور سے یہ درخواست کی کہ ان کے حق میں بہت سے مال کی دعا کریں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " ثعلبہ وہ تھوڑا مال جس کی تم شکر گزاری کرسکو۔ اس سے زیادہ بہتر ہے جس کی تم شکر گزاری نہ کرسکو " کہتے ہیں کہ اس نے دوبارہ درخواست کی تو حضور نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم اللہ کے نبی کے مانند ہو۔ خدا کی قسم اگر میں چاہتا کہ میرے لیے پہاڑ سونے چاندی کے ہوجائیں تو ہوجاتے۔ اس نے پھر درخواست کی کہ خدا کی قسم اگر آپ نے میرے حق میں دعا کی اور اللہ نے مجھے مال کثیر دے دیا تو میں اس سے میں سے ہر صاحب حق کو حق دوں گا۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا " اے اللہ ثعلبہ کو مال دے دے " کہتے ہیں کہ اس نے بکریاں پالنا شروع کیں اور وہ کیڑے مکورؤں کی طرح بڑھنے لگیں۔ یہاں تک کہ مدینہ میں ان کا سمانا مشکل ہوگیا۔ چناچہ وہ مدینہ سے ہٹ کر ایک وادی میں چلا گیا اور ظہر و عصر کی نماز باجماعت پڑھتا اور باقی نمازیں ترک ہوگئیں۔ اس کے بعد اس کے مال میں اور اضافہ ہوگیا اور وہ اس قدر دور چلا گیا کہ صرف جمعے کی نماز کو حاضر ہوتا۔ یہ مال اس طرح بڑھتا رہا جس طرح کیڑے بڑھتے ہیں یہاں تک کہ جمعے کی نماز بھی چھوٹ گئی۔ اب وہ ان سواروں سے راستے میں ملتا جو جمعہ پڑھنے جاتے تھے تاکہ حالات دریافت کرے۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا کہ " ثعلبہ کا کیا ہوا ؟ " حضور کو بتایا گیا کہ اس نے بکریاں پا لیں۔ مدینہ میں ان کا سمانا مشکل ہوا اور اس طرح وہ دور چلا گیا اور اس کے حالات انہوں نے بتائے۔ حضور نے فرمایا ثعلبہ ہلاک ہوا ، ثعلبہ ہلاک ہوا ، ثعلبہ ہلاک ہوا۔ اس کے بعد اللہ کا یہ حکم نازل ہوا خذ من اموالھم صدقۃ (ان کے اموال سے زکوۃ وصول کرو) اور زکوۃ ک احکام نازل ہوئے۔ تو حضور نے زکوۃ کی وصولی کے لی دو مسلمان بھیجے۔ ایک جھینہ سے تھا اور دوسرا سلیم سے۔ آپ نے ان کو تحریری احکام دیے کہ وہ مسلمانوں سے کس حساب سے زکوۃ وصول کریں گے اور خصوصاً فرمایا کہ ثعلبہ اور فلاں کے پاس ہوتے ہوئے جاؤ (یہ فلاں بنو سلیم کا ایک شخص تھا) اور ان سے زکوۃ وصول کرو۔ یہ لوگ پہلے ثعلبہ کے پاس آئے اور اس سے زکوۃ کا مطالبہ کیا اور رسول اللہ ﷺ کا حکم پڑھ کر سنایا تو ثعلبہ نے کہا یہ تو فقط جزیہ ہے۔ اگر نہیں تو جزیہ کی بہن ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کیا ہے۔ تم جاؤ اور دوسرے لوگوں سے فارغ ہو کر میرے پاس آؤ۔ دوسرے شخص سلیمی نے یہ حکم سنا تو اس نے اپنے اونٹوں میں سے بہت اچھے اونٹ زکوۃ کے لیے علیحدہ کیے اور رسول اللہ کے تحصیلداروں کا انتظار کیا۔ جب انہوں نے ان اونٹوں کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ تم پر اس قسم کے اچھے اونٹؤں کی زکوۃ واجب نہیں ہے اس لیے ہم ان کو وصول نہیں کرسکتے۔ اس شخص نے کہا تم لوگ ان اونٹوں کو وصول کرلو۔ میں بطیب خاطر یہ دے رہا ہوں۔ یہ ان کے لیے ہیں۔ چناچہ انہوں نے اونٹ لے لیے اور دوسرے لوگوں سے وصولی کرتے ہوئے دوبارہ پھر ثعلبہ کے پاس آئے۔ اس نے کہا تم اپنا حکم مجھے دکھاؤ۔ اس نے رسول اللہ کا حکم پڑھا تو پھر کہا کہ یہ تو جزیہ ہے یا جزیہ کی بہن ہے۔ تم جاؤ میں سوچ کر فیصلہ کروں گا۔ یہ لوگ رسول اللہ کے پاس آئے اور جب حضور نے ان کو دیکھا تو فرمایا " وہ ہلاک ہوگیا " حضور نے ان کی بات سے پہلے ہی بتا دیا اور سلیمی نے برکت کی دعا فرمائی۔ ان لوگوں نے حضور کو ثعلبہ اور سلیمی دونوں کی روائیداد سنائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ومنھم من عاھد اللہ اس وقت رسول اللہ کے پاس ثعلبہ کے رشتہ داروں میں سے ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے یہ سب کچھ سن لیا۔ وہ مدینہ سے چلا۔ اس سے ملا۔ اسے کہا ثعلبہ تم تباہ ہوجاؤ۔ تمہارے بارے میں تو یہ آیات نازل ہوگئی ہیں۔ ثعلبہ حضور کے پاس آیا اور درخواست کی کہ میری زکوۃ قبول کریں۔ تو حضور نے فرمایا مجھے تو اللہ نے آپ کی زکوۃ لینے سے منع کردیا ہے۔ ثعلبہ اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا گتو حضور نے فرمایا یہ تو تمہارا اپنا کرنا ہے۔ میں نے تو تمہیں مشورہ دیا تھا مگر تم نے میری بات نہ مانی۔ جب رسول اللہ نے اس سے زکوۃ لینے سے انکار کردیا تو وہ اپنی رہائش گاہ کی طرف واپس ہوا۔ تو حضور فوت ہوگئے اور اس سے زکوۃ وصول نہ کی۔ پھر حضرت ابوبکر کا دور آیا تو ثعلبہ نے ان سے درخواست کی کہ تم رسول اللہ کے ساتھ میرے تعلق سے بھی واقف ہو اور انصار میں میرا جو مقام ہے اس سے بھی واقف ہو ، میری زکوۃ وصول کیجئے۔ اس پر ابوبکر نے فرمایا چونکہ حضور نے آپ کی زکوۃ کو قبول نہیں فرمایا اس لیے میں نہیں لے سکتا۔ چناچہ حضرت ابوبکر نے زندگی بھر ان سے زکوۃ نہ لی۔ پھر ان کے بعد حضرت عمر خلیفہ بنے اور ان کے پاس بھی ثعلبہ زکوۃ لے کر آئے اور درخواست کی امیر المومنین میری زکوۃ قبول فرمائیں تو انہوں نے فرمایا کہ رسول نے قبول نہ کی ، حضرت ابوبکر نے قبول نہ کی میں کیسے قبول کرسکتا ہوں۔ چناچہ وہ بھی فوت ہوئے اور ثعلبہ سے زکوۃ نہ لی۔ جب حضرت ثمانہ خلیفہ بنے تو ان کے پاس ثعلبہ آئے تو ان سے بھی درخواست کی کہ میری زکوۃ وصول کریں۔ چناچہ انہوں نے بھی یہی کہا کہ رسول اللہ نے قبول نہ کی ابوبکر نے قبول نہ کی ، عمر نے قبول نہ کی کیا میں اسے لوں ؟ چناچہ انہوں نے بھی وصول نہ کی۔ چناچہ حضرت عثمان کے زمانہ میں خلافت میں وہ فوت ہوگیا۔ ان آیات کے نزول کا تعلق اس واقعہ کے ساتھ ہو یا کسی دوسرے واقعہ کے ساتھ ، آیت بہرحال عام ہے اور ایک عام حالت کی نشاندہی کر رہی ہے۔ یہ آیت ایک ایک شخص کی نفسیاتی تصویر کشی کرتی ہے جو بےیقینی کی کیفیت سے دوچار ہو اور ان کے دل و دماغ میں ابھی تک ایمان متمکن نہ ہوا ہو۔ اگر ان آیات کا شان نزول یہی ہو تو پھر ہم یہ کہیں گے کہ رسول اللہ ﷺ کو چونکہ علم تھا کہ ثعلبہ قیام تک منافق رہے گا اس لیے اس کی جانب سے زکوۃ کو قبول نہ کیا گیا اور اس کے ساتھ عام شرعی اصول کے مطابق معاملہ نہ فرمایا۔ عام شرعی اصول یہ ہے کہ منافقین کے ساتھ ان کے ظاہر کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔ ثعلبہ کے معاملے میں چونکہ اللہ کی جانب سے حضور کو خصوصی معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ اس لیے ان کے ساتھ حضور نے سخت تادیبی معاملہ کیا تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔ چناچہ ان کو مرتد بھی قرار نہ دیا گیا تاکہ انہیں ارتداد کی سزا دی جائے اور مسلمان تصور کرکے ان سے زکوۃ بھی قبول نہ کی گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ازروئے شریعت منافقی پر زکوۃ واجب نہیں ہے ، کیونکہ شریعت ان لوگوں کے ساتھ ان کے ظاہر کے مطابق معاملہ کرتی ہے ، کیونکہ زیر نظر معاملے میں ایک نبی کو خصوصی علم تھا۔ اس پر کوئی دوسرا شخص قیاس کرکے ایسا طرز عمل اختیار نہیں کرسکتا۔ ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دور اول کے مسلمان زکوۃ کو کن نظروں سے دیکھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان پر اللہ کی جانب سے ایک رحمت ہے۔ جو شخص اس کے ادا کرنے سے محروم ہوا یا اج سکی طرف سے قبول نہ کی گئی وہ گویا عظیم بھلائی سے محروم رہا وہ اس قدر محروم اور گھاٹے میں رہا کہ اس پر رحم کیا جانے لگا۔ قرون اولیٰ کے مسلمان اس آیت کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ خذ من اموالھم صدقۃ تطھرھم و تزکیھم بھا ان کے اموال سے زکوۃ وصول کرو جو تم ان کی تطہیر کرتے ہو اور جس کے ذریعے تم ان کا تزکیہ کرتے ہو۔ ان کے نزدیک زکوۃ ایک غنیمت تھی ٹیکس نہیں تھا جس سے ان کا تاوان ہوتا۔ لہذا جو مال فرض اللہ کی جانب سے عاید ہوتا ہے اور اس سے اللہ کی رضا مندی مطلوب ہوتی ہے اس میں اور اس مالی فریضے میں جو لوگوں پر بطور جبر عاید ہوتا ہے ، بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔
Ayah 9:79

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

(وہ خوب جانتا ہے ان کنجوس دولت مندوں کو) جو برضا ورغبت دینے والے اہل ایمان کی مالی قربانیون پر باتیں چھانٹتے ہیں ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس (راہ خدا میں دینے کے لیے) اس کے سوا کچھ نہیں ہے جو وہ اپنے اوپر مشقت برداشت کرکے دیتے ہیں۔ اللہ ان مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے دردناک سزا ہے

منافقین زکوۃ کے بارے میں کیا تصورات رکھتے تھے اور سچے اہل ایمان زکوۃ و صدقات کے بارے میں کیا سوچتے تھے۔ ان دونوں تصورات کی ایک جھلکی ملاحظہ ہو۔ منافقین مخلص اور غریب اہل ایمان کے انفاق کا مذاق اڑاتے تھے تھے۔ اس آیت ۔۔ الذین یلمزون المطوعین الخ کے نزول کا بھی ایک خاص قصہ ہے۔ جس سے اظہار ہوتا ہے کہ منافقین کی بگڑی ہوئی طبیعت انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں کیا سوچتی تھی ؟ ابن جریر نے بواسطہ یحییٰ ابن کثیر اور سعید ابن قتادہ اور ابن ابی حاتم ، حکم ابن ابان سے ، عکرمہ سے نقل کیا ہے (روایت کے الفاظ مختلف ہیں) کہتے ہیں کہ حضور نے تبوک کے موقعہ پر چندے کے لیے لوگوں کو آمادہ کیا۔ عبدالرحمن ابن عوف نے چار ہزار دیے۔ انہوں نے کہا حضور مری کل جائیدادا آٹھ ہزار ہے اس میں سے نصٖ لایا ہوں۔ نصف چھوڑ رکھا ہے تو حضور نے فرمایا اللہ اس میں بھی برکت دے جو تونے دیا اور اس میں بھی برکت دے جو پس اندا ا کردیا ہے۔ ابوعقیل ایک صاع کھجوریں لائے اور کہا رسول خدا میں دو صاع کھجور کما کر لایا ہوں۔ ایک صاع میں اللہ کو قرض دیتا ہوں اور ایک اپنے بچوں کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ ان دونوں کے ساتھ منافقین نے مذاق کیا۔ عبدالرحمن ابن عوف کے بارے میں کہا کہ اس نے دکھاوے کے لیے اتنا مال دیا اور ابوعقیل کے بارے میں کہا ہی اللہ اور سول کو ایک صاع کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے ابو عقیل کے بارے میں کہا کہ یہ شخص خواہ مخواہ اپنے آپ کو یاد کرانا چاہتا ہے ، حالانکہ اس جنے ساری رات مزدوری کی اور دو صاع کمائے تھے اور ایک صاع حضور کے سامنے پیش فرمایا۔ منافقین اہل ایمان کے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے تھے حالانکہ وہ دل و جان سے فدا ہو رہے تھے اور بطیب خاطر خرچ کر رہے تھے اور جس کے مقدر میں جس قدر تھا وہ جہد میں حصے کے طر پر فنڈ میں دیتے تھے لیکن منافقین کی سمجھ میں مسلمانوں کا اخلاص اور ان کے پاکیزہ جذبات نہ آتے تھے۔ ان کے دل بجھے ہوئے تھے اس لیے وہ مسلمانوں کے حساس دلوں کا ادراک نہ کرسکتے تھے۔ وہ مسلمانوں کی بےتابی کو نہ پا سکتے تھے جو وہ راہ خدا میں انفاق کے لیے دکھا رہے تھے۔ وہ داعیہ ایمانی کے نتیجے میں تھوڑا یا بہت ملا کر پیش کرتے تھے اور یہ لوگ داعیہ ایمانی سے محروم تھے۔ چناچہ وہ اس کے سوا اور کہہ کیا سکتے تھے کہ اگر زیادہ دیا جائے تو ریاکار ہے اور اگر قلیل دیا جائے تو نام لکھوا رہا ہے۔ اگر کوئی زیادہ دیتا تو وہ بھی مجرم اور اگر کوئی تھوڑا دیتا تو بھی مجرم۔ لہذا ان کی اس تنقید کو صالح ذہن قبول ہی نہ کرتا تھا۔ اس لیے کہ وہ ذاتی طور پر جہاد سے پیچھے رہنے والے تھے ، پشت کی طرف سے نقب لگانے والے تے اور ایک پیشہ جہاد میں دینے کے لی تیار نہ تھے۔ وہ اگر کچھ دیتے بھی تو محض ظاہر داری کے قیام کے لیے اور بری نیت سے اور حقیر اور ذلیل اسباب کی وجہ سے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو خوب جواب دیتا ہے سخر اللہ منھم ولھم عذاب الیم اللہ ان مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔ کس قدر ہولناک انجام ہے یہ۔ اور کس قدر ہولناک مذاق ہوگا خالق کی جانب سے۔ ایک طرف ایک چھوٹی سی جماعت ، ضعیف و ناتواں ، ذلیل اور فانی اور اس کے مقابلے میں خالق کائنات اور اس کا دردناک عذاب کس قدر خوفناک عذاب کے لیے یہ ضعیف و ناتواں انسان اپنے آپ کو پیش کرتا ہے۔
Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

اے نبی تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو ، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کرنے کی درخواست کروگے تو اللہ انہیں ہرگز معاف نہ کرے گا۔ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے ، اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھاتا

یہ منافقین جو مخلص اور رضاکار مومنین کا مذاق اڑاتے تھے ، کہ یہ لوگ اس کا کیوں مال لٹاتے ہیں ان کا انجام یہ ہے کہ خود حضور کے جانب سے طلب مغفرت بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگی۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی شفقت کی وجہ سے ان خطاکاروں کے لی بھی مغفرت طلب کرتے تھے شاید کہ اللہ معاف کردے۔ لیکن ان لوگوں کے بارے میں اللہ نے صاف صاف بتا دیا کہ ان منافقین کا انجام طے شدہ ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ان لوگوں نے صیح راہ سے انحراف کرلیا ہے ، لہذا ان کا اب اچھے انجام تک پہنچنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کے دل اس قدر فاسد ہوچکے ہیں کہ ان کی اصلاح ممکن ہی نہیں ہے۔ لہذا حضور کو کہا جاتا ہے کہ اب اگر ستر مرتبہ بھی طلب مغفرت کریں ، کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ستر مرتبہ سے مراد کوئی متعین عدو نہیں ہے۔ اس سے مراد کثرت ہوتی ہے یعنی اب ان کی مغفرت کی کوئی امید نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ کیونکہ انسانی دل اگر فجور اور فساد کی ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو پھر اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی اور انسان جب گمراہی میں حد سے گزر جائے تو پھر راہ راست پر واپس آنے کی کوئی امید نہیں رہتی۔ اور اللہ تو دلوں کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔
Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جن لوگوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی وہ اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دینے اور گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کریں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ " اس سخت گرمی میں نہ نکلو " ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے ، کاش انہیں اس کا شعور ہوتا

اب سیاق کلام ایک بار پھر ان لوگوں کی طرف پھرجاتا ہے جو رسول اللہ سے پیچھے رہ گئے تھے یعنی غزوہ تبوک کے اہم مرحلے میں۔ یہ لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے ان سے یہ جرم دنیا پرستی کی وجہ سے سرزد ہوا۔ انہوں نے آرام اور راحت کو پسند کیا۔ انہوں نے انفاق فی سبیل اللہ سے پہلو تہی کی۔ کم ہمتی اور بےحمیتی اور بےایمانی اور دلی کمزور نے ان کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ یہ موقف اختیار کریں۔ ان کے لیے جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ بھی نہایت ہی حقارت امیز ہے یعنی یہ کوئی سامان ہے جو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ کو چھوڑ کر اس کے مقابلے میں امن و سکون اور عیش و راحت کو قبول کیا۔ انہوں نے رسول اللہ اور مجاہدین کو اکیلے چھوڑ کر سخت ترین گرمی کی مشقتوں کے لیے چھوڑ دیا اور اس بات کو پسند نہ کیا کہ اپنی جان و مال کے ذریعے اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس " جھلسا دینے والی گرمی میں مت نکلو " یہی اقوال ان تمام لوگوں کے منہ سے نکلتے ہیں جو عیش کوش ہوتے ہیں۔ یہ پست ہمت زنانہ چال والے لوگ ہوتے ہیں اور ان کو کسی صورت میں بھی مرد نہیں کہا جاسکتا۔ یہ لوگ ضعف ہمت کا نمونہ ہیں ۔ یہ کمزور ارادے کے لوگ ہیں۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مشکلات سے گھبراتے ہیں اور جدوجہد سے نفرت کرتے ہیں اور جہد و مشقت کے مقابلے میں ذلت آمیز راحت کو پسند کرتے ہیں۔ اور جہد و مشقت کی باعزت زندگی انہیں گوارا نہیں ہوتی۔ وہ شیر کی زندگی کی مقابلے میں گیدڑ کی زندگی کے خوگر ہوتے ہیں۔ یہ لوگ آگے بڑھنے والی صٖفوں کے پیچھے تھکے ماندے پڑے رہتے ہیں۔ لیکن باہمت لوگوں کی یہ اگلی صفیں پر خطر اور کانٹوں والی راہوں کو چیرتی ہوئی اگے بڑھتی ہیں۔ اس لیے ان کی فطرت زندہ ہوتی ہے اور جانتے ہیں مشکلات کو انگیز کرنا اور آگے ہی بڑھتے چلے جانا انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ پیچھے رہنے اور گھروں میں بیٹھنے کے مقابلے میں ایسے لوگوں کو دشمن کا سامنا کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے۔ فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَكَرِهُوْٓا اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ ۭ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ۭ لَوْ كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ ۔ جن لوگوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی وہ اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دینے اور گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کریں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ " اس سخت گرمی میں نہ نکلو " ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے ، کاش انہیں اس کا شعور ہوتا۔ دنیا میں تو وہ گرمی سے جان بچا کر چھاؤں میں بیٹھ جائیں گے لیکن آخرت کی گرمی کا کیا علاج کریں گے۔ وہاں تو وہ دائما آگ میں رہیں گے۔ اللہ کی جانب سے یہ ایک حقیقت پسندانہ طنز ہے۔ دنیا میں اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنا تو بہت قلیل مدت کی مشقت ہے بمقابلہ جہنم کی گرمی کے جہاں جو بھی جائے گا ایک طویل عرصہ تک رہے گا اور معلوم کہ کس قدر وہاں رہے گا
Ayah 9:82

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

اب چاہئے کہ یہ لوگ ہنسنا کم کریں اور روئیں زیادہ ، اس لیے کہ جو بدی یہ کماتے رہے اس کی جزا ایسی ہی ہے (کہ انہیں اس پر رونا چاہئے)

یہاں اگر کوئی ہنسے گا تو اس کی ہنسی مختصر ہوگی کیونکہ دنیا کی زندگی محدود ہے۔ اور آخرت میں پھر اسے ہمیشہ کے لیے رونا ہوگا۔ اور جیسا کرے گا ویسے بھرے گا۔ یہ نہایت ہی منصفانہ جزا ہے۔ یہ لوگ جنہوں نے جہاد کے مقابلے میں آرام کو پسند کیا اور اپنایا۔ اور مشکل حالات میں قافلہ اسلام سے پیچھے رہ گئے۔ یہ کسی بھی مشکل مہم کے لیے نااہل ثابت ہوچکے ہیں۔ یہ جہاد کے قابل ہی نہیں رہے۔ اس لیے ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی مناسب نہیں ہے۔ لہذا اب کسی بھی موقعہ پر انہیں شریک جہاد کرکے ان کو عزت نہ دی جائے کیونکہ اس اہم موقعہ پر انہوں نے خود اس اعزاز کو لات مار دی۔