Ayah 9:1021 :۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دس آدمی تھے جو غزوہ تبوک میں رسول اللہ (ﷺ) سے پیچھے رہ گئے تھے جب رسول اللہ (ﷺ) واپس تشریف لے آئے تو ان میں سے سات آدمیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا جب نبی کریم (ﷺ) مسجد میں ان کے پاس سے گزرے اور ان کو دیکھ کر فرمایا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا ہے صحابہ کرام ؓ نے فرمایا یہ ابو لبابہ اور ان کے ساتھی ہیں جو آپ سے یارسول اللہ (ﷺ) پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا اور قسم اٹھائی کہ کوئی ان کو نہ کھولے گا یہاں تک کہ نبی کریم (ﷺ) ان کو کھولیں گے اور ان کا عذر قبول فرمائیں گے آپ نے فرمایا میں بھی اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کو نہیں کھولوں گا اور نہ ان کا عذر قبول کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کو کھولیں گے کیوں کہ انہوں نے مجھ سے اعراض کیا اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے سے پیچھے رہ گئے ۔ جب ان کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا ہم اپنے آپ کو نہیں کھولیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ہم کو کھولنے والے ہیں ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت ) نازل فرمائی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا۔ عسی اللہ ان یتوب علیہم “ اور قریب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ قبول ہوجائے اور وہ بہت توبہ قبول کرنے والے اور رحم کرنے والے ہیں جب (یہ آیت) نازل ہوئی تو نبی کریم (ﷺ) نے ان تک یہ آیت پہنچائی ان کو کھول دیا اور ان کا عذر قبول کرلیا وہ مال لے آئے اور کہا یا رسول اللہ یہ ہمارے لئے مال ہیں ہماری طرف سے اس کو صدقہ کردیجئے اور ہمارے لئے استغفار فرمائیے آپ نے فرمایا مجھے تمہارا مال لینے کا حکم نہیں دیا گیا تو اللہ جل شانہ نے یہ نازل فرمایا (آیت) خذ من اموالہم صدقۃ تطھرھم وتزکیہم بھا وصل علیم “ فرمایا کہ ان کے لئے استغفار کیجئے (آگے فرمایا) (آیت) ” ان صلوتک سکن لہم “ یعنی آُ کی دعا ان کے لئے رحمت ہوگی آپ نے ان سے صدقہ لے لیا اور ان کے لئے استغفار فرمایا اور ان میں سے تین آدمی ایسے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں سے نہیں باندھا ان کا معاملہ ایک سال موخر کردیا گیا وہ نہیں جانتے تھے کیا ان کو عذاب دیا جائے گا یا ان کو توبہ قبول کی جائے گی تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت ) ” لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ “ اتاری آیت کے آخر تک پھر فرمایا (آیت) وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ سے لے کر (آیت) ” ثم تاب علیہم لیتوبوا ، ان اللہ ھو التواب الرحیم (118) تک یعنی ” ان استقاموا “ اگر وہ صراط مستقیم پر قائم رہے ۔
2 :۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے بغیر اسی طرح روایت بیان کی ۔
3 :۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اعترفوا بذنوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ابولبابہ تھے جب انہوں نے قریظہ کو کچھ کہا تو ساتھ ہی اپنے گلے کی طرف اشارہ کردیا کہ محمد (ﷺ) تم ذبح کریں گے اگر تم ان کے حکم پر اتر آئے ۔
ابولبابہ ؓ کا اپنے آپ کو ستون سے باندھنا :
4 :۔ البیہقی (رح) نے دلائل میں سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ بنوقریظہ (یہودی) ابو لبابہ کے حلیف تھے انہوں نے اوپر سے جھانک کر ان کی طرف دیکھا اور آپ ان کو رسول اللہ (ﷺ) کے حکم کی طرف دعوت دینے لگے انہوں نے کہا اے ابولبابہ کیا تو ہم کو حکم دیتا ہے کہ ہم نیچے اتر آئیں تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے گلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ذبح کردیئے جاؤ گے رسول اللہ (ﷺ) کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تو خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھ سے غافل ہیں جب تو نے ان کی طرف اس کے ذریعہ اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا پس وہ کچھ وقت تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ (ﷺ) غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے اور یہ تنگی والا جہاد تھا وہ لوگ جو پیچھے رہ گئے (غزوہ تبوک سے ) ابولبابہ بھی ان لوگوں میں سے تھے جب رسول اللہ (ﷺ) (غزوہ سے ) واپس تشریف لائے ابو لبابہ نے آکر سلام کیا آپ نے ان سے منہ پھیرلیا تو ابولبابہ گھبرائے گئے اور تو بہ کے ستون سے اپنے آپ کو باندھ دیا جو ام سلمہ کے دروازہ کے پاس ہے سات دن اور رات شدید گرمی میں اسی حال میں رہے ان دنوں میں کچھ کھایا اور نہ ایک قطرہ تک پیا اور کہا میں اس جگہ پر پڑا رہوں گا یہاں تک کہ اس دنیا سے جدا ہوجاؤں گا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لیں وہ برابر اسی طرح رہے یہاں تک کہ کمزوری کے سبب کسی کی آواز بھی نہیں سن سکتے تھے اور رسول اللہ (ﷺ) انکی طرف صبح اور شام دیکھتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی آواز دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول کرلی رسول اللہ (ﷺ) نے ان کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ ان کو ان کی رسی سے آزاد کردے انہوں نے انکار کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) کے بغیر مجھے کوئی نہ کھولے ۔ رسول اللہ (ﷺ) تشریف لائے اور اپنے ہاتھ مبارک سے ان کو کھولا جب تندرست ہوئے تو ابولبابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ) میں اپنی قوم کا وہ گھر کو دوں گا جس میں مجھ سے یہ غلطی ہوئی اور میں آپ کی طرف منتقل ہونا چاہتا ہوں آپ مجھ کو ٹھکانہ دیجئے اور میں اپنے مال میں سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف صدقہ نکالنا چاہتا ہوں آپ نے فرمایا تجھ سے مال کا تیسرا حصہ کافی ہے ابو لبابہ نے پانی قوم کے گھر سے ہجرت کرلی اور رسول اللہ (ﷺ) کے پاس سکونت اختیار کرلی اور انہوں نے اپنے تہائی مال کا صدقہ کیا پھر توبہ کی پھر اس کے بعد اسلام میں ان سے سوائے نیکی اور خیر کے عمل کے اور کچھ نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
5 :۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) غزوہ تبوک پر تشریف لے گئے تو ابو لبابہ اور ان کے ساتھ دو آدمی پیچھے رہ گئے نبی کریم (ﷺ) سے ( جہاد میں نہ جاسکے ) پھر ابو لبابہ اور ان کے ساتھ دو آدمیوں نے سوچا اور نادم ہوئے اور انہوں نے اپنی ہلاکت کا یقین کرلیا ۔ اور کہنے لگے کہ ہمسائے اور عورتوں کے ساتھ اطمینان اور راحت سے رہ رہے تھے اور رسول اللہ (ﷺ) اور ایمان والے لوگ آپ کے ساتھ جہاد میں مصروف ہیں ۔ اللہ کی قسم ہم اپنے آپ کو ستونوں کے ساتھ ضرور باندھ دیں گے ۔ اور پھر نہیں کھولیں گے یہاں تک کہ رسول اللہ (ﷺ) ہم کو کھولیں گے اور ہمارا عذر قبول فرمائیں گے ابو لبابہ چلے اور انہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا اور ان کے ساتھ دو آدمیوں نے بھی مسجد کے ستونوں سے (اپنے آپ کو ) باندھ دیا اور تین آدمی باقی رہ گئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو نہ باندھا۔ رسول اللہ (ﷺ) جہاد سے واپس تشریف لائے اور آپ سیدھے مسجد میں پہنچے تو ان پر گزرتے ہوئے فرمایا یہ لوگ کون ہیں اپنے آپ کو ستونوں سے باندھنے والے ایک آدمی نے کہا یہ ابولبابہ اور ان کے دوساتھی ہیں جو رسول اللہ (ﷺ) سے پیچھے رہ گئے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ کیا کہ ہم اپنے آپ کو نہ کھولیں گے یہاں تک کہ آپ ان کو نہ کھولیں گے اور ان سے راضی نہ ہوں گے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ کیا کہ ہم اپنے آپ کو نہ کھولیں گے یہاں تک کہ آپ ان کو نہ کھولیں گے اور ان سے راضی نہ ہوں گے اور انہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ہے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ کی قسم میں ان کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ میں ان کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ میں ان کو کھولنے کا حکم نہ دیا جاؤں اور ان کا عذر قبول نہ کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کا عذر قبول نہ فرمائیں گے کیونکہ یہ لوگ پیچھے رہ گئے مسلمانوں سے اور ان کے ساتھ جہاد کرنے سے اعراض کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم “ اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا ضرور ہوگا جب آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (ﷺ) نے ان کو کھولا اور ان کے عذر کو قبول فرمایا ۔ ابو لبابہ اور ان کے ساتھی اپنے مال لے کر آئے اور رسول اللہ (ﷺ) کے پاس آکر کہا ہمارے مالوں کو لے لیجئے اور ہماری طرف سے اس کو صدقہ کردیجئے اور ہمارے لئے رحمت کی دعا کیجئے وہ عرض کرنے لگے کہ ہمارے لئے استغفار کیجئے اور ہم کو پاک کیجئے ۔ آپ نے فرمایا میں اس میں سے کچھ بھی نہیں لوں گا ۔ یہاں تک اس کا حکم نہ کیا جاؤں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ “ راوی نے کہا کہ تین آدمی باقی رہ گئے جنہوں نے ابولبابہ کی مخالفت کی انہوں نے توبہ نہیں کی تھی ۔ اور نہ ہی کسی چیز کا انہوں نے ذکر کیا اور ان کے عذر کے بارے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی ۔ ان پر زمین تنگ ہوگئی کشادہ ہونے کے باوجود ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واخرون مرجون لامر اللہ “ تو ان لوگوں نے کہنا شروع کیا وہ ہلاک ہوگئے جب ان کے لئے عذر نازل نہیں ہوا اور دوسرے لوگوں نے کہنا شروع کیا وہ ہلاک ہوگئے جب ان کے لئے عذر نازل نہیں ہوا اور دوسرے لوگوں نے کہنا شروع کیا تو قریب ہے اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائیں گے ۔ اور وہ انتظار کرنے لگے اللہ کے حکم کا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لقد تاب اللہ علی النبی “ سے لے کر (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ تک یعنی وہ انتظار کررہے تھے اللہ کے حکم کا پس ان پر توبہ کا حکم نازل ہوا اور اس کے ساتھ انہوں نے عمل کیا ۔
6 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آٹھ آدمی تھے جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں کے ساتھ باندھ دیا تھا ان میں سے کردم ، مرداس اور ابولبابہ تھے ۔
7 :۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے قتادہ (رح) نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا۔ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ سات آدمی تھے جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے چار ایسے تھے جنہوں نے کچھ اچھے عمل اور کچھ برے عمل آپس میں ملا دیئے (ان کے نام یہ تھے ) جد بن قیس ، ابولبابہ ، حرام اور اوس یہ سب انصار میں سے تھے ان کی توبہ قبول کی گئی اور یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں کہا گیا (آیت ) ” خذ من اموالہم صدقۃ “
8 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” خلطوا عملا واخر سیئا “ کے بارے میں فرمایا (عمل صالح والے لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ جہاد کیا (آیت) ” واخر سیئا “ جو ان سے پیچھے رہ گئے۔
9 :۔ ابن ابی شیبہ وابن دنیا نے توبہ میں وابن جریر وابن منذر وابو الشیخ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابو عثمان نہدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے قرآن میں کوئی آیت نہیں ہے جو میرے نزدیک اس امت کے لئے اس آیت سے بڑھ کر امید افزاء ہو (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ ۔
اعمال سیئہ سے توبہ کرنا :
10 :۔ ابوالشیخ والبیہقی (رح) نے مطرف (رح) سے روایت کیا کہ میں رات کو اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور قرآن پر غور کررہا تھا تو میں نے اپنے اعمال کو اہل جنت کے اعمال کو اہل جنت کے اعمال پر پیش کیا اچانک ان کے اعمال شدید اور سخت تھے مثلا (آیت) ” کانوا قیلا من الیل ما یہجعون (17) “ (الذریات) اور (آیت) اور ” یبیتون لربہم سجدا و قیام ‘ (64) “ (فرقان آیت 64) اور (آیت) ” امن ھو قانت اناء الیل ساجدا وقائما “ تو میں اپنے آپ کو ان میں سے گمان نہ کرتا پھر میں نے اپنے آپ کو اسآیات پر پیش کیا (آیت) ” ما سلکم فی سقر (42) اور (آیت) ” قالوا لم نک من المصلین (42) “ المدثر) لے کر ”(آیت ) ” نکذب بیوم الدین (46) تک پس میں جھٹلانے والی قوم میں غور وفکر کرتا اور اپنے آپ کو ان میں گمان نہ کرتا پھر اس آیت کا حکم دیا گیا یعنی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ پس میں امید کرسکتا ہوں کہ میں ان میں سے ہوں گا اور اے میرے بھائیو ! تم بھی ان میں سے ہوگے۔
11 :۔ ابو الشیخ وابو المنذر و ابونعیم نے المعرفۃ میں وابن عساکر نے ایک قومی سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ غزوہ تبوک میں چھ آدمی رسول اللہ (ﷺ) سے پیچھے رہ گئے تھے (وہ یہ تھے ) ابو لبابہ اوس بن جزام ، ثعلبہ بن ودیعہ ، کعب بن مالک ، مرارہ بن ربیع اور ھلال بن امیہ (ان میں سے ) ابو لبابہ اوس بن جزام اور ثعلبہ آئے اور انہوں نے اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ دیا اور اپنا مال لے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ اس مال کو لے لیجئے جو ہم آپ سے پیچھے رک گئے اور ان کو چالیس دن مؤخر کردیا گیا وہ باہر نکلے اور انہوں نے اپنے خیمے لگائے اور ان میں سے آپ نے ان کو اپنی عورتوں سے بھی جدا کردیا کوئی مسلمان ان کا دوست نہیں تھا ۔ اور اس میں سے کوئی قریب بھی نہیں ہوا پھر اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ سے لے کر ” التواب الرحیم “ تک ام سلمہ نے کعب کی طرف ایک آدمی بھیجا اور ان کو خوشخبری دی ۔
12 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن شوذب (رح) سے روایت کیا کہ احنف بن قیس نے فرمایا کہ میں نے اپنے آپ کو قرآن پر پیش کیا ۔ میں نے کسی آیت کو نہیں پایا جو میرے نزدیک اس آتی سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو ، یعنی (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا :۔
13 :۔ ابو الشیخ (رح) نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن بصری سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا :۔ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اے مالک انہوں نے توبہ کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے ۔ اور امید ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ واجب ہے (یعنی ثابت ہے )
صحابہ کرام ؓ سے خواب کے متعلق دریافت کرنا :
14 :۔ بخاری ومسلم وترمذی والنسائی وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) اکثر اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کیا تم سے کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ایک صبح کو آپ نے ہم سے فرمایا اس رات دو آنے والے میرے پاس آئے مجھ سے کہا چلئے میں ان کے ساتھ چل پڑا ۔ وہ مجھے مقدس زمین کی طرف لے گئے ہم ایک آدمی پر تھے جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا ایک پتھر لے کر اس پر کھڑا ہوا تھا اچانک وہ پتھر کو اس کے سر پر مارتا ہے تو اس کا سرکچلا جاتا ہے اور پتھر لڑھک کر دور جاگرتا ہے۔ وہ پتھر کے پیچھے جاکر اس کو اٹھاتا ہے اور اس کی طرف واپس آتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس کا سر ٹھیک ہوجاتا ہے جیسے تھا پھر وہ دوبارہ اس کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے جو اس سے پہلی مرتبہ کیا تھا میں نے ان دونوں سے کہا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں ؟ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا چلئے تو ہم چلے اور ایک اپنی گدی بل چت لیٹے ہوئے ایک آدمی کے پاس آئے اور دوسرا آدمی لوہے کی سلاخ لے کر اس پر کھڑا تھا اچانک وہ اس کی ایک جانب سے آکر اس کی باچھیں گدی تک چیر دیتا ہے ۔ اور اس کے نتھنوں کو اس کی گدی تک اور اس کی آنکھوں کو اس کی گدی تک چیر دیتا ہے پھر وہ دوسری جانب پھر آتا ہے اور اس جانب سے بھی اسی طرح کرتا ہے جیسے اس نے پہلی جانب کیا تھا اس جانب سے جب فارغ ہوتا ہے تو پہلی جانب ٹھیک ہوجاتی تھی جیسے تھی پھر وہ اس کی طرف لوٹتا ہے اور اس طرح کرتا ہے جیسے اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا میں نے کہا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں ؟ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے تو ہم چلے اور ہم تنور کی طرح ایک چیز پر آئے اچانک اس میں شور اور آوازیں تھیں ہم نے اس میں جھانکا اچانک اس میں مرد اور عورتیں ننگی تھیں آگ کا شعلہ ان کو نیچے سے بلند ہوتا تھا یہ شعلہ جب ان پر پڑتا تو وہ چیخ و پکار کرتے میں نے کہا یہ کون ہیں ؟ دونوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے ہم چلے اور خون کی طرح ایک سرخ نہر پر آئے اور تیرنے والے آدمی اس میں تیر رہا تھا اور نہر کے کنارہ پر ایک دوسرا آدمی تھا جس کے پاس بہت سے پتھر تھے جب وہ تیرنے والا تیر کر اس کے پاس آتا تھا جس کے پاس پتھر جمع تھے تو وہ اپنا منہ کھولتا تو یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا پھر وہ آدمی چلا جاتا اور تیرنے لگتا پھر اس کی طرف لوٹتا جب کبھی لوٹتا تو اپنا منہ کھول دیتا اور وہ اس میں پتھر ڈال دیتا ۔ میں نے ان دونوں سے کہا یہ دونوں کون ہیں ؟
میرے دونوں ساتھیوں نے کہا آگے چلئے ہم چلے اور ایک بہت ہی بدصورت آدمی کے پاس آئے جس سے بڑھ کر آپ نے انتہائی بدصورت آدمی کو نہیں دیکھا ہوگا اچانک اس کے پاس ایک آگ تھی جس کو وہ سلگاتا کہ اس کے اردگرد دوڑتا تھا ۔ میں نے اس سے کہا یہ کون ہے دونوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے ہم چلے اور ایک گھنے سیاہ باغ پر آئے اس میں ہر جانب بہار کا نور تھا اور اچانک باغ کے راستوں کے درمیان ایک لمبے قد کا آدمی تھا قریب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے سر کی لمبائی آسمان کی طرف بڑھی ہوئی تھی جبکہ اس آدمی کے اردگرد اکثر (چھوٹے ) بچے تھے کہ میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا تھا میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے دونوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے ہم چلے اور ایک بڑے باغ کی طرف پہنچے ۔ اس سے بڑا باغ میں نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ اس سے اچھا دونوں نے مجھ سے کہا اس میں چڑھتے چلو ہم اس میں چڑھے ہم ایک ایسے شہر کی طرف پہنچے جو سونے اور چاندی کی اونٹینوں سے بنایا گیا تھا ہم اس شہر کے دروازہ پر آئے ہم نے کھولنے کو کہا تو ہمارے لئے کھول دیا گیا ہم اس میں داخل ہوئے اور وہاں بہت سے لوگوں سے ہم نے ملاقات کی ان میں کچھ اپنی تخلیق میں اتنے حسین تھے کہ ان سے بڑھ کر حسین تم نے نہیں دیکھے ۔ اور کچھ اتنے بدصورت تھے کہ ان سے بڑھ کر بدصورت تم نے نہیں دیکھے ۔ دونوں نے ان سے فرمایا تم جاؤ اور اس میں نہر میں اپنارنگ صاف کرلو اچانک یہ نہر چوڑائی میں تھی جو جاری تھی اور اس کا پانی دودھ کی طرح سفید تھا وہ لوگ گئے اور اس میں واقع ہوگئے پھر ہماری طرف لوٹ آئے ۔ ان سے ساری بدصورتی چلی گئی اور وہ انتہائی حسین ہوگئے دونوں نے مجھ سے کہا یہ آپ کو محل ہے اور آپ کی منزل ہے میں نے ان سے کہا تم دونوں میں اللہ تعالیٰ برکت دے مجھ کو چھوڑ دو میں اس میں داخل ہوجاؤں دونوں نے کہا ابھی نہیں لیکن تم ضرور اس میں داخل ہوگے۔
جہنم کی خواب میں دیکھنا :
میں نے ان دونوں سے کہا آج کی رات میں نے عجیب و غریب مناظر دیکھے رہیں ۔ وہ کیا ہے جو میں نے دیکھا دونوں نے مجھ سے کہا پہلا آدمی کہ جس پر ایک آدمی آکر اس کا سر کچل دیتا ہے پتھر کے ساتھ وہ آدمی ہے جو قرآن شروع کرتا پھر اسے چھوڑ دیتا تھا اور فرض نماز سے سو جاتا تھا (یعنی نماز نہیں پڑھتا تھا ) اس کے ساتھ قیامت کے دن تک ایسا کیا جاتا رہے گا اور آدمی جو اس کے جبڑے کو گدی تک چیر دیتا تھا اس کے نتھنوں کو اس کی گدی تک اور اس کی آنکھوں کو اس کی گدی تک کیونکہ یہ آدمی صبح سویرے نکل کر جھوٹ بولتا تھا اور اس کا جھوٹ آفاق میں پہنچ جاتا ہے اور اس کے ساتھ اس طرح قیامت کے دن تک کیا جاتا رہے گا اور ننگے مرد اور عورتیں جو سب تنور میں تھے وہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں ہیں اور وہ آدمی جو ایسے آدمی کے پاس آتا ہے جو نہر میں تیرتا ہے اور وہ اس کو پتھر مارتا ہے وہ سود کھانے والا ہے اور روہ بدصورت آدمی جس کے پاس آگ تھی ۔ اس کو سلگاتا تھا وہ داروغہ جہنم مالک تھا اور وہ لمبا آدمی جو باغ میں تھا ۔ وہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) تھے اور وہ لڑکے جو اس کے اردگرد تھے ایسے نومولود بچے تھے جو فطرت پر بھی وفات پاگئے اور وہ قوم جو آدھی ان میں سے خوبصورت تھی اور آدھی ان میں سے بدصورت تھی وہ ایسی قوم ہے جنہوں نے نیک اور برے اعمال ایسے ہی ملا دیئے اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرمایا اور میں جبرئیل اور یہ میکائل ہیں ۔
15 :۔ الخطیب (رح) نے اپنی تاریخ میں ابو موسیؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا میں نے کچھ آدمیوں کو دیکھا کہ ان کی کھالیں آگ کی کینچوں سے کاٹی جارہی تھیں ۔ میں نے کہا یہ کون ہیں ۔ بتایا یہ وہ لوگ ہیں جو ایسی چیزوں کے ساتھ زیب وزینت کرتے تھے جو ان کے لئے حلال نہیں تھی ۔ اور میں نے ایسا بدبودار خیمہ دیکھا جس میں چیخ و پکار تھی ۔ میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ بتایا گیا کہ وہ عورتیں ہیں جو ان کے لئے بناؤ سنگھار کرتی تھیں جو ان کے لئے حلال نہیں تھے ۔ اور میں نے ایک قوم کو دیکھا جو غسل کررہے تھے جنابت کے پانی سے میں نے کہا یہ کون ہیں بتایا یہ وہ قوم ہے جنہوں نے نیک اور برے کو آپس میں ملا دیا ۔
16 :۔ ابن سعد (رح) نے اسود بن قیس عدی (رح) نے روایت کیا کہ حسن بن علی ؓ ایک دن حبیب بن مسلمہ سے ملے اور فرمایا اے حبیب ! اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرمانبرداری کے امور کے سوا کے لئے تجھے رب میسر آگیا ہے ۔ اس نے کہا لیکن میری پہنچ آپ کے باب تک ہے اور وہ ایسے نہیں ہیں فرمایا کیوں نہیں لیکن تو نے معاویہ کی اطاعت کی قلیل زائل ہونے والی دنیا کی شرط پر اگر وہ تیرے دنیوی (رح) معاملات میں تیرے ساتھ کھڑے ہیں وہ یقینی طور پر تو وہ تیرے ساتھ بیٹھے گا ۔ تیرے دین میں اور اگر وہ جو تو نے کیا ہے وہ تیرا کام ہے خیر اور بھلائی کی بات ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” خلطو اعملا صالحا واخر سیئا “ لیکن تو اس طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”(آیت ) ” کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون (14) “
Ayah 9:103خذ من اموالھم صدقۃً ان کے مالوں سے صدقہ لے لو۔ یعنی گناہوں کے کفارہ میں (جو مال وہ دے رہے ہیں) لے لو۔ بعض کے نزدیک صدقہ سے مراد زکوٰۃ ہے۔
تطھرھم (وہ صدقہ) ان کو گناہوں سے پاک کر دے گا ‘ یا تم ان کو مال صدقہ لے کر گناہوں سے پاک کر دو گے۔ پہلی صورت میں تطہر کی ضمیر مؤنث غائب صدقہ کی طرف راجع ہوگی۔ دوسری صورت میں خطاب کا صیغہ ہوگا اور رسول اللہ (ﷺ) کو خطاب ہوگا۔
فتزکیھم بھا اور تم ان کو صدقہ لے کر پاکیزہ و صاف کر دو گے۔ یعنی ان کی نیکیاں بڑھا دو گے اور مخلص اہل ایمان کے درجات پر پہنچا دو گے۔
ابن جریر نے علی بن ابی طلحہ کے طریق سے حضرت ابن عباس کا قول یہی نقل کیا ہے اور حضرت سعید بن جبیر ‘ ضحاک اور زید بن اسلم کے اقوال سے بھی یہی مقدار نقل کی ہے۔ لیکن بغوی نے لکھا ہے کہ عطیہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کے قول میں ستونوں سے خود بندھ جانے والے لوگوں کی تعداد صرف پانچ بیان کی گئی ہے جن میں ابولبابہ بھی تھے۔ اور حضرت سعید بن جبیر و زید بن اسلم کے اقوال میں آٹھ اور قتادہ و ضحاک کے اقوال میں سات بیان کی گئی ہے۔ ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم نے بروایت عوفی ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) (ایک) جہاد پر تشریف لے گئے مگر ابولبابہ اور ان کے ساتھ پانچ دوسرے آدمی پیچھے رہ گئے (جہاد پر نہ جاسکے) پھر ابو لبابہ نے اور پانچ میں سے دو آدمیوں نے غور کیا ‘ پشیمان ہوئے اور ان لوگوں کو اپنی تباہی (یعنی دین کی بربادی) کا یقین ہوگیا۔ کہنے لگے : ہم تو (ٹھنڈے) سایہ میں عورتوں کے ساتھ چین کریں اور رسول اللہ (ﷺ) کے ہمرکاب (دوسرے) مسلمان جہاد میں شریک ہوں (یہ بڑا گناہ ہے) خدا کی قسم ! ہم ستونوں سے خود اپنے کو باندھ دیں گے اور اس وقت تک نہ کھولیں گے جب تک رسول اللہ (ﷺ) خود نہ کھولیں۔ چناچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ تین آدمی رہ گئے جنہوں نے اپنے آپ کو نہیں بندھوایا تھا (الحدیث) ۔
عبد نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت سات آدمیوں کے حق میں نازل ہوئی جن میں سے چار یعنی ابو البابہ ‘ مرداس ‘ اوس اور جذام نے اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ دیا تھا۔
ابن مندہ نے الصحابہ میں اور ابو الشیخ نے بطریق ثوری از اعمش از ابو سفیان ‘ حضرت جابر کا بیان نقل کیا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ (ﷺ) کی ہمرکابی سے رہ گئے تھے ‘ ان میں سے ابو البابہ ‘ اوس بن جذام ‘ ثعلبہ بن ودیعہ ‘ کعب بن مالک ‘ مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے۔ ابو لبابہ اور ثعلبہ (وغیرہ) نے اپنے آپ کو ستونوں سے بندھوا دیا تھا اور (رہائی کے بعد) اپنے مال لا کر خدمت گرامی میں پیش کئے تھے اور عرض کیا تھا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اس کو لے لیجئے ‘ اسی نے ہم کو آپ کے ہمرکاب جانے سے روکا تھا۔ حضور (ﷺ) نے انہی حضرات کے متعلق فرمایا تھا : میں ان کو نہیں کھولوں گا جب تک اللہ ان کو نہ کھلوائے۔ انہی کے متعلق آیت وَاٰخَرُوْنَ اِعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْ الخ نازل ہوئی تھی۔ اس حدیث کی سند قوی ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : تمام روایات حضرت ابو لبابہ کے نام پر متفق ہیں۔ بعض لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ آیت کا نزول صرف ابولبابہ کے حق میں ہوا۔
بغوی نے لکھا ہے : اس میں اختلاف ہے کہ ابو لبابہ کا جرم کونسا تھا جس کے سلسلہ میں یہ آیت اتری۔ مجاہد نے کہا : ابولبابہ نے بنی قریظہ سے کہا کہ اگر ان (یعنی حضرت معاذ) کے فیصلہ کی شرط پر راضی ہو کر تم اپنی گڑھی سے نیچے اترے تو (حلق پر انگلی پھیرتے ہوئے اشارہ کیا کہ یہ ہوجائے گا ‘ یعنی) ذبح کر دئیے جاؤ گے۔ ہم نے یہ قصہ سورة الانفال کی آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَخُوْنُوا اللّٰہَ الخ کی تفسیر کے ذیل میں ذکر کردیا ہے۔ ابن اسحاق اور بیہقی کا بھی یہی خیال ہے کہ حضرت ابو لبابہ کا ستون سے خود بندھنا بنی قریظہ کے واقعہ ہی سے متعلق تھا۔
زہری کا قول ہے کہ آیت کے نزول کا تعلق تبوک کے واقعہ سے ہے۔ میں کہتا ہوں : شاید دونوں قصوروں کی وجہ سے ابولبابہ نے اپنے آپ کو ستون سے باندھا ہو۔ اس کی تائید حضرت ابن عباس اور حضرت سعید بن مسیب کے اقوال مندرجۂ بالا سے ہوتی ہے۔ ابن مردویہ نے واقدی کے سلسلہ والی سند سے حضرت ام سلمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ابولبابہ کی توبہ (قبول ہونے) کی آیت میرے گھر میں اتری تھی۔ سحر کے وقت میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو ہنستے سنا تو عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہنسی کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا : ابولبابہ کی توبہ قبول ہوگئی۔ میں نے عرض کیا : کیا میں ان کو اس کی اطلاع دے دوں ؟ فرمایا : تمہاری مرضی۔ میں نے حجرہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر آواز دی : ابو لبابہ ! تم کو بشارت ہو ‘ اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی۔ یہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آواز سنتے ہی لوگ ابولبابہ کو کھولنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابولبابہ نے کہا : (ابھی نہیں) رسول اللہ (ﷺ) تشریف لے آئیں ‘ وہ ہی مجھے کھولیں گے۔ صبح کو جب حضور (ﷺ) گھر سے برآمد ہوئے تو آپ نے جا کر کھولا اور آیت وَاٰخَرُوْنَ اِعْتَرَفُوْاالخ نازل ہوئی۔
حضرت ام سلمہ کی اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ جس قصور کی معافی نازل ہوئی تھی ‘ وہ وہی قصور تھا جو بنی قریظہ کے متعلق حضرت ابو لبابہ سے صادر ہوگیا تھا ‘ کیونکہ تبوک کا جہاد تو پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد ہوا تھا۔ لہٰذا اولیٰ یہ ہے کہ ستون سے بندش کا واقعہ دونوں قصوں کے نتیجہ میں قرار دیا جائے کیونکہ روایتیں دونوں صحیح ہیں۔
وصل علیھم اور ان کیلئے دعائے مغفرت کرو۔ بغوی نے لکھا ہے کہ صدقہ کا مال لیتے وقت کیا امام پر واجب ہے کہ دینے والے کیلئے دعا کرے ؟ بعض علماء نے نزدیک واجب ہے ‘ بعض کے نزدیک مستحب۔ بعض کے نزدیک واجب زکوٰۃ وصول کرتے وقت تو دعا دینی واجب ہے اور نفل صدقہ کے وصول کرتے وقت مستحب۔ بعض کا قول ہے کہ امام پر واجب ہے۔ مگر فقیر اگر مالدار سے لے تو دینے والے کو دعا دینی مستحب ہے۔
بخاری کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ نے فرمایا (حضرت ابو اوفیٰ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے رسول اللہ (ﷺ) کے دست مبارک پر (تجدید) بیعت کی تھی) کہ رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں جب لوگ صدقہ کا مال پیش کرتے تھے تو حضور (ﷺ) (دعا دیتے اور) فرماتے : اے اللہ ! ان پر رحمت نازل فرما۔ چناچہ میرے باپ نے بھی جب اپنے صدقہ کا مال پیش کیا تو حضور (ﷺ) نے فرمایا : اے اللہ ! آل ابی اوفیٰ پر رحمت نازل فرما۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ لغت میں صلوٰۃ کا معنی ہے : دعاء ‘ رحمت ‘ استغفار اور اللہ کی طرف سے رسول (ﷺ) کی تعریف۔ جب لفظ صلوٰۃ کی نسبت بندوں کی طرف کی جاتی ہے تو دعا اور استغفار ہوتا ہے۔ آیت میں یہی معنی مراد ہے۔ ایک حدیث آتی ہے جس میں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی کھانے کیلئے بلائے تو دعوت قبول کرلینا چاہئے (اور جانا چاہئے) پھر اگر روزہ نہ ہو تو کھا لینا چاہئے اور روزہ دار ہو تو (میزبان کیلئے) صلوٰۃ یعنی دعا کرنا چاہئے۔ رواہ احمد و مسلم وابو داؤد والترمذی عن ابی ہریرۃ۔
حضرت جابر کی روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ (ﷺ) سے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! میرے شوہر کیلئے صلوٰۃ کر دیجئے ‘ یعنی دعائے مغفرت فرما دیجئے۔ حضور (ﷺ) نے دعا کردی۔ اخرجہ احمد۔ اس روایت کی تصحیح ابن حبان نے کی ہے : جب لفظ صلوٰۃ کی نسبت اللہ کی طرف کی جاتی ہے تو رحمت اور پسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔ حضرت ابو اوفیٰ کیلئے رسول اللہ (ﷺ) نے جو دعا کی تھی ‘ اس میں صلوٰۃ سے مراد رحمت ہی ہے۔ ابو داؤد اور نسائی نے حضرت قیس بن سعد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اے اللہ ! اپنی صلوٰۃ اور رحمت سعد بن عبادہ کی آل پر کر دے۔ اس روایت کی سند عمدہ ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ ملائکہ مؤمن کی روح سے کہتے ہیں : تجھ پر اور تیرے بدن پر اللہ کی رحمت ہو۔
احادیث مذکورہ کے الفاظ کی روشنی میں اور لغوی معنی کے پیش نظر یحییٰ بن یحییٰ نے کہا کہ انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے بھی اگر لفظ صلوٰۃ استعمال کرلیا جائے یعنی لفظ صلوٰۃ سے ان کیلئے دعا کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن محدثین اور فقہاء اسلام کی اصطلاح ہے کہ لفظ صلوٰۃ انبیاء کیلئے مخصوص ہے ‘ یا ہمارے نبی (ﷺ) کیلئے خاص ہے اور دوسروں کیلئے اس کا استعمال ذیلی طور پر کیا جاسکتا ہے۔ اسی اصطلاح کی بناء پر امام مالک نے فرمایا : میری رائے میں انبیاء کے سوا دوسروں کے واسطے لفظ صلوٰۃ کا استعمال مکروہ ہے۔ قاضی عیاض نے کہا کہ یہ قول امام مالک اور سفیان کا ہے اور یہی مسلک متکلمین اور فقہاء کا ہے۔ فقہاء اسلام نے کہا : انبیاء کے سوا دوسروں کیلئے رضاءٍ مغفرت اور رحمت وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے جائیں (صلوٰۃ کا لفظ استعمال نہ کیا جائے) انبیاء کے سوا دوسروں کیلئے لفظ صلوٰۃ کا استعمال (خلافت راشدہ اور بنی امیہ کے عہد میں) معروف نہ تھا ‘ بنی ہاشم یعنی خلفاء عباسیہ کے دور میں اس کی ایجاد ہوئی (لہٰذا یہ بدعت ہے) ۔
امام ابوحنیفہ اور ایک جماعت کے علماء کا قول ہے کہ انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے لفظ صلوٰۃ کا استعمال مستقل طور پر (یعنی تنہا غیرانبیاء کیلئے) درست نہیں ‘ ذیلی طور پر (یعنی انبیاء کے بعد اگر دوسروں کا ذکر آیا ہو تو بالتبع) درست ہے ‘ کیونکہ اہل شریعت کی اصطلاح میں انبیاء خصوصاً رسول اللہ (ﷺ) کی عظمت کے اظہار کیلئے لفظ صلوٰۃ خاص کرلیا گیا ہے ‘ لہٰذا انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے اس کا استعمال جائز نہیں۔ اللہ نے فرمایا : لاَ تَجْعَلُوْا دُعَآء الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا۔ اسی بناء پر حضرت ابن عباس نے فرمایا : کسی کی طرف سے سوائے رسول اللہ (ﷺ) کے ‘ کسی اور پر صلوٰۃ بھیجنا (یعنی لفظ صلوٰۃ سے دعا کرنا) مناسب نہیں۔ رواہ ابن ابی شیبۃ من طریق عثمان بن حکیم عن عکرمۃ وہذا سند صحیح۔
بیہقی نے کہا : حضرت ابن عباس کے اس کلام کا یہ مطلب ہے کہ تعظیم کے طور پر انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے لفظ صلوٰۃ نہ ذکر کیا جائے ‘ اگر دعاء کے طور پر ہو تو کوئی حرج نہیں۔ ابن قیم نے کہا : پسندیدہ بات یہ ہے کہ انبیاء ‘ ملائکہ ‘ امہات المؤمنین ‘ آل رسول ‘ ذریات رسول اور تمام اہل طاعت کیلئے بالاجمال (بغیر کسی شخصی تعین اور نام کے) لفظ صلوٰۃ کا استعمال صحیح ہے اور انبیاء کے علاوہ کسی معین شخصیت کیلئے اس کا استعمال مکروہ ہے۔ کسی معین شخصیت کیلئے اگر استعمال کیا جائے گا تو یہ شعار بن جائے گا۔ خصوصاً ایسی صورت میں تو کراہت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب اس لفظ کا (خصوصی) استعمال ایسی شخصیتوں کیلئے کیا جائے جن کے ہم پایہ بلکہ ان سے برتر فضائل رکھنے والے دوسرے افراد ہوں اور ان افضل یا مساوی المرتبہ افراد کیلئے تو لفظ صلوٰۃ استعمال نہ کیا جائے اور دوسروں کیلئے کیا جائے ‘ جیسے رافضی کرتے ہیں۔ کذا قال الحافظ ابن حجر۔
ان صلوتک سکن لھم بیشک تمہاری دعا ان کیلئے رحمت ہے۔ حضرت ابن عباس نے سکَنکا ترجمہ رحمت کیا ہے۔ ابو عبیدہ نے سکون خاطر اور طمانیت قلب ترجمہ کیا ہے ‘ یعنی تمہاری دعا ان کیلئے سکون خاطر اور دل کے ٹھیراؤ کا ذریعہ ہے۔ ان کو اطمینان ہوجائے گا کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔
میں کہتا ہوں : پاک باطن اور صاف قلب رکھنے والوں سے اگر کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو گناہ کی ظلمت ان کے دل پر چھا جاتی ہے اور اندر کچھ تاریکی محسوس ہونے لگتی ہے ‘ لیکن جب اللہ کے رسول (ﷺ) ان کیلئے دعائے مغفرت کردیتے ہیں اور اللہ ان کو معاف کردیتا ہے تو دل کی تاریکی اور گھٹن دور ہوجاتی ہے۔ یا دل کے اندر گناہ کی تاریکی اور گھٹن ایسی ہوتی ہے جیسے معدہ سے بخارات چڑھنے اور اطراف قلب میں جمع ہو کر دل پر دباؤ ڈالنے سے خفقان پیدا ہوجاتا ہے اور جب بخارات کا دباؤ معدہ کی اصلاح سے ختم ہوجاتا ہے تو خفقان جاتا رہتا ہے۔ یہی حالت گناہ سے پیدا ہونے والی تاریکی کی وجہ سے دل کی بےچینی کی ہوتی ہے اور مغفرت کی وجہ سے ان کا زوال ہو کر سکون و اطمینان پیدا ہوجاتا ہے۔ سچ فرمایا ہے کہ اللہ کی یاد سے دلوں کو سکون ہوجاتا ہے۔
وا اللہ سمیع اور اللہ سننے والا ہے ان کے اعتراف قصور اور ان کیلئے رسول اللہ (ﷺ) کی دعا و استغفار کو۔
علیم۔ خوب واقف ہے ان کی ندامت (اور توبہ) سے۔
بغوی نے (آیت ذیل کے سبب نزول کے متعلق) لکھا ہے کہ جب ان حضرات کی توبہ قبول ہوگئی تو وہ لوگ جو (سستی یا کسی اور وجہ سے) تبوک کو نہ گئے تھے اور انہوں نے (گناہ کا علی الاعلان اقرار کر کے) توبہ بھی نہیں کی تھی ‘ کہنے لگے : کل تک تو یہ لوگ ہمارے ساتھ تھے ‘ کوئی ان سے میل جول بھی نہیں رکھتا تھا نہ کوئی ان سے بات کرتا تھا۔ اب یہ نئی بات کیا ہوگئی ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 9:104الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ یاخذ الصدقات کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور ان کے صدقات کو (قبول کے ہاتھوں سے) لے لیتا ہے۔ یعنی اس طرح قبول کرلیتا ہے جیسے کوئی کسی چیز کو معاوضہ ادا کرنے کیلئے لے لیتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو بندہ پاک کمائی سے خیرات کرتا ہے ‘ اور اللہ صرف پاک (کمائی کی خیرات) کو ہی قبول فرماتا ہے اور آسمان کی طرف پاک (کلام ‘ عمل ‘ خیرات) کو ہی عروج نصیب ہوتا ہے تو وہ گویا اس خیرات کو اللہ کے ہاتھ میں رکھتا ہے ‘ اللہ اپنے ہاتھ میں اس کو (اس طرح) بڑھاتا ہے جس طرح تم اپنے بچے کو (اس کی پشت پر ہاتھ پھیر پھیر کر) پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ ایک لقمہ قیامت کے دن بڑے پہاڑ کے برابر ہو کر سامنے آئے گا۔ یہ فرمانے کے بعد حضور (ﷺ) نے آیت اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَأخُذُ الصَّدَقٰتِ تلاوت فرمائی۔ رواہ الشافعی۔
صحیحین کی روایت بھی اسی روایت کی ہم معنی ہے ‘ اس میں اتنا اور ہے کہ جو شخص پاک کمائی سے ایک چھوارے برابر خیرات کرتا ہے اور اللہ پاک کو ہی قبول کرتا ہے تو اللہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو قبول فرما لیتا ہے الخ۔
وان اللہ ھو التواب الرحیم اور اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے۔ یعنی توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرنا اور ان پر مہربانی کرنا اس کی شان ہے۔
Ayah 9:105وقل اور آپ کہہ دیجئے۔ یہ خطاب رسول اللہ (ﷺ) کو ہے ‘ یا سب لوگوں کو۔
اعملوا (جو چاہو) کرو۔
فسیری اللہ عملکم اللہ تمہارے (اچھے برے) عمل کو دیکھ لے گا ‘ اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے۔
ورسولہ والمؤمنون اور اللہ کا رسول اور مسلمان بھی (دیکھ لیں گے) جو چیز تم چھپاؤ گے ‘ اللہ وحی کے ذریعے سے اپنے رسول پر اس کا اظہار کر دے گا اور پھر مسلمان بھی واقف ہوجائیں گے۔
مجاہد نے کہا : یہ دھمکی ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کے دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ اپنے نبی کو اطلاع دے دے گا اور مؤمنوں کی واقفیت اس طرح ہوگی کہ اللہ ان کے دلوں میں اہل صلاح کی محبت پیدا کر دے گا اور جو لوگ مفسد ہوں گے ‘ ان کی نفرت اہل ایمان کے دلوں میں ڈال دے گا۔
وستر دون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون۔ اور ضرور تم کو ایسے کے پاس لے جایا جائے گا جو تمام کھلی اور چھپی چیزوں کا جاننے والا ہے ‘ سو وہ تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتا دے گا۔
Ayah 9:106واخرون مرجون لامر اللہ اما یعذبھم واما یتوب علیھم اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی ہے کہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا۔ یعنی مدینہ کے رہنے والے ان لوگوں میں سے جو تبوک کے جہاد پر نہیں گئے ‘ کچھ اور لوگ ہیں جن کا فیصلہ اللہ کے حکم آنے تک ڈھیل میں پڑا ہوا ہے۔ وہ چاہے تو عذاب دے ‘ اس کو صغیرہ گناہ پر بھی عذاب دینے کا اختیار ہے اور چاہے تو بغیر توبہ کے معاف کر دے ‘ وہ کبیرہ گناہوں کو بھی بغیر توبہ کے معاف کرسکتا ہے ‘ کوئی چیز اس پر لازم نہیں ہے ‘ لہٰذا بندوں کو امید بھی رکھنی چاہئے اور ڈرتے بھی رہنا چاہئے (ا اللہ کو تو کسی کو عذاب دینے یا بخش دینے میں کوئی تردد ہو نہیں سکتا ‘ اس کا علم تو یقینی ہے کہ کس کو معاف کرے گا اور کس کو سزا دے گا ۔ شک تو بندوں کے علم میں ہوتا ہے اور عذاب و مغفرت میں تردد تو بندوں کو ہی ہونا چاہئے ‘ اسلئے آیت میں) لفظ اِمَّا کا استعمال بندوں کے لحاظ سے کیا گیا ہے (یعنی اِمَّاشک و تردد کے موقع پر آتا ہے اور بندوں کو مغفرت و عذاب میں تردد ہو سکتا ہے ‘ اسلئے انہی کے علم کی مناسبت سے لفظ اِمَّا ذکر کیا گیا) ۔
وا اللہ علیم حکیم۔ اور اللہ (ان کے احوال کو) خوب جاننے والا ہے اور (جو سلوک ان سے کرے گا اس کی) مصلحت سے بھی وہی واقف ہے۔ شیخین نے حضرت کعب بن مالک کی روایت سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِسے مراد کعب بن مالک ‘ ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع ہیں۔ یہ ان دس آدمیوں میں سے تھے جو تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے اور مسجد کے ستونوں سے بھی انہوں نے اپنے آپ کو بندھوایا نہ تھا (مگر اپنے جرم کا کھل کر اقرار کرلیا تھا ‘ کوئی بہانہ نہیں کیا تھا) رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں کو حکم دے دیا تھا کہ ان تینوں حضرات سے سلام کلام ترک کردیں۔ ان حضرات نے جب سلوک دیکھا تو خلوص نیت کے ساتھ تائب ہوگئے اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا۔ آخر اللہ نے ان پر رحم کیا (اور ان کا قصور بھی معاف کردیا گیا) ہم ان کا قصہ آگے لکھیں گے۔
محمد بن اسحاق نے حضرت ابو رہم کلثوم بن حصین غفاری کی روایت سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابو رہم ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے حضور (ﷺ) کے دست مبارک پر (تجدید) بیعت کی تھی۔
ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ نیز ابن المنذر نے حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے اور محمد بن عمر نے یزید بن رومان کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ عمرو بن عوف کے قبیلہ نے ایک مسجد تعمیر کی اور رسول اللہ (ﷺ) کے پاس آدمی کو بھیجا کہ آپ (ﷺ) تشریف لا کر اس مسجد میں نماز پڑھیں۔ غنم بن عوف کے قبیلہ نے جب یہ بات دیکھی تو ان کو حسد ہوا اور انہوں نے کہا : ہم بھی ایک مسجد بنائیں گے جیسی انہوں نے بنائی ہے (بات یہ ہوئی تھی کہ) شام کو روانہ ہونے سے پہلے ابو عامر فاسق نے ان سے کہا تھا : تم لوگ ایک مسجد تعمیر کرو اور جتنے اسلحہ ممکن ہوں اس میں (پوشیدہ طور پر) جمع کرلو۔ میں قیصر روم کے پاس جا رہا ہوں ‘ وہاں سے رومیوں کا ایک لشکر لا کر محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کو یہاں سے نکال باہر کر دوں گا۔ ابو عامر فاسق اللہ اور رسول (ﷺ) کے خلاف بغاوت کر کے رسول اللہ (ﷺ) سے لڑنے کے ارادہ سے مدینہ سے گیا تھا ‘ چناچہ یہ لوگ ابو عامر کے آنے (اور رومیوں کا لشکر ساتھ لانے) کے انتظار میں تھے۔ مسجد تیار ہوگئی تو انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ (ﷺ) اس میں نماز پڑھیں تاکہ ان کا جو مقصد تھا یعنی فساد ‘ کفر اور اسلام سے عناد ‘ اس کو کامیاب ہونے کا موقع مل جائے۔ جب رسول اللہ (ﷺ) تبوک کو روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے کہ ان کی طرف سے کچھ لوگوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہم نے ایک مسجد بنائی ہے۔ مقصد تعمیر یہ ہے کہ جو بیمار یا حاجت مند مسجد گرامی میں حاضر نہیں ہو سکتے ‘ یا سخت سردی کی رات ہو ‘ یا بارش کی رات ہو اور لوگ وہاں سے یہاں حاضر نہ ہو سکیں تو وہ اس مسجد میں نماز پڑھ لیں۔ ہماری خواہش ہے کہ حضور (ﷺ) تشریف لا کر اس مسجد میں نماز پڑھیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اب تو میں برسر سفر ہوں اور کام میں مشغول ہوں ‘ جب ہم انشاء اللہ واپس آئیں گے تو تمہاری مسجد میں نماز پڑھیں گے۔ چناچہ آپ جب تبوک سے واپس ہو کر مقام ذی اوان میں اترے تو مندرجۂ ذیل آیت نازل ہوئی۔ یہ مقام مدینہ سے ایک گھنٹہ کی راہ کے فاصلہ پر تھا۔
Ayah 9:107والذین اتخذوا مسجدًا اضرارًا اور بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے (اسلام کو) ضرر پہنچانے کیلئے مسجد بنائی ہے۔ یعنی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کیلئے۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ بارہ آدمیوں نے اس مسجد کی تعمیر کی تھی : (1) قبیلۂ بنی عبید بن زید کا حذام بن خالد ‘ یہ بنی عمرو بن عوف کا ایک فرد تھا (2) قبیلۂ بنی امیہ بن زید کا ثعلبہ بن حاطب (3) بنی صبیعہ بن زید کا معتب بن قشیر (4) حبیبہ بن ازعر اور (5) نبتل بن حارث (6) نجاد بن عثمان اور (7) قبیلۂ بنی عمرو بن عوف کا عباد بن حنیف جو سہل بن حنیف کا بھائی تھا اور (8) حارثہ بن عامر اور اس کے دونوں بیٹے (9) مجمع بن حارثہ اور (10) زید بن حارثہ اور (11) ودیعہ بن ثابت اور ایک اور شخص جس کو (12) بخرج کہا جاتا تھا۔ ان سب نے اس مسجد کی تعمیر مسجد قبا کو ضرر پہنچانے کیلئے کی تھی۔
وکفرًا اور اللہ و رسول کا انکار کرنے کے سبب۔
وتفریقًا بین المؤمنین اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کیلئے۔ مسلمان مسجد قبا میں نماز پڑھتے تھے ‘ مجمع بن حارثہ نماز پڑھتا تھا۔ ان لوگوں نے دوسری مسجد اس غرض سے بنائی کہ (مسجد قبا میں نماز پڑھنے والے) کچھ لوگ اس مسجد میں نماز پڑھنے لگیں اور اس طرح (دین کے نام پر) مسلمانوں کے ٹکڑے ہوجائیں اور اختلاف پیدا ہوجائے۔
وارصادًا لمن حارب اللہ و رسولہ من قبل اور اس شخص کے قیام کا سامان کرنے کیلئے جو پہلے سے ہی اللہ اور اس کے رسول کا مخالف تھا۔
بغوی نے لکھا ہے : مَنْ حَارَبَ اللّٰہَ سے مراد ابو عامر راہب ہے جو حضرت حنظلہ غسیل الملائکہ کا باپ تھا اور قبیلۂ بنی عمرو بن عوف کا ایک فرد تھا۔ اسلام آنے سے پہلے یہ شخص کمبل پوش عیسائی راہب ہوگیا تھا۔ جب رسول اللہ (ﷺ) مدینہ میں تشریف لائے تو ابو عامر نے پوچھا : آپ یہ کیا مذہب لے کر آئے ہیں ؟ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : یہ خالص دین توحید ہے جو ابراہیم کا دین تھا۔ ابو عامر نے کہا : دین حنیفیت پر تو میں ہوں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : تم دین حنیفیت (دین ابراہیمی) پر نہیں ہو۔ ابوعامر نے کہا : کیوں نہیں (میں یقیناً دین ابراہیمی پر ہوں) آپ نے حنیفیت کے اندر دوسری چیزوں کو شامل کرلیا ہے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : میں نے ایسا نہیں کیا ‘ میں تو خالص ‘ نکھری ہوئی ‘ روشن شریعت لے کر آیا ہوں۔ ابو عامر نے کہا : تو ہم میں سے جو جھوٹا ہو ‘ خدا کرے وہ یکہ و تنہا ‘ خانہ بدر ‘ مسافرت کی حالت میں مرے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : اللہ ایسا ہی کرے۔ حضور (ﷺ) نے (بجائے راہب کے) اس کا نام ابو عامر فاسق رکھ دیا۔ احد کی لڑائی کے دن ابو عامر نے رسول اللہ (ﷺ) سے کہا تھا : جو قوم بھی آپ سے لڑے گی ‘ میں اس کے ساتھ مل کر آپ سے لڑوں گا۔ چناچہ جنگ حنین تک وہ برابر رسول اللہ (ﷺ) کے خلاف دوسری قوموں سے مل کر لڑتا رہا۔ ہوازن کی شکست کے بعد شام بھاگ گیا اور منافقوں کو یہ پیام بھیجا گیا کہ تم لوگ تیار رہنا۔ ایک مسجد بنا کر جس قدر اسلحہ ہو سکیں ‘ اس میں جمع رکھنا۔ میں قیصر روم کے پاس جا رہا ہوں ‘ وہاں سے رومیوں کا ایک لشکر لا کر محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کو نکال باہر کر دوں گا۔ ابو عامر کے مشورہ کے موافق ان لوگوں نے مسجد قبا کے برابر ایک مسجد بنا لی۔ مِنْ قَبْلُسے مراد یا تو یہ معنی ہیں کہ مسجد بنانے سے پہلے اس شخص نے اللہ اور رسول (ﷺ) کے خلاف بغاوت اور جنگ کی تھی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تبوک کے جہاد سے غیر حاضر ہونے سے پہلے ہی انہوں نے مسجد بنا لی تھی۔ اوّل مطلب پر مِنْ قَبْلُکا تعلق حارَبَ سے اور دوسری صورت میں اتّخذوا سے ہوگا۔
ولیحلفن ان اردنا الا الحسنٰی اور یہ لوگ قسمیں کھائیں گے کہ سوائے بھلائی کے ہماری اور کچھ نیت نہیں۔
الحسنٰی بھلائی یعنی سخت گرمی اور بارش میں مسلمانوں کا آرام اور جو ضعیف و کمزور رسول اللہ (ﷺ) کی مسجد تک نہ پہنچ سکتے ہوں ‘ ان کیلئے سہولت ہمارے پیش نظر تھی۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عوفی کی سند سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے جب مسجد قبا تعمیر کرائی تو کچھ انصار جن میں سے ایک شخص بخرج بھی تھا ‘ گئے اور انہوں نے مسجد نفاق بنائی۔ رسول اللہ (ﷺ) نے بخرج سے فرمایا : اس سے تیرا مقصد کیا ہے ؟ کہنے لگا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! میرا مقصد تو صرف بھلائی ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
وا اللہ یشھد انھم لکذبون اور اللہ شاہد ہے کہ یہ لوگ اپنے قول و قسم میں جھوٹے ہیں۔