Ayah 9:5اب یہا بتایا جاتا ہے کہ مسلمان اس مدت کے اختتام پر کیا اقدامات کریں گے ؟
یہاں لفظ الاشہر الحرام (حرام مہینے) کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں کہ ان سے مراد کون سے مہینے ہیں ؟ عام مشہور حرام مہینے ہیں یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم اور پھر رجب تو پھر چار مہینوں سے مراد تین ماہ اور ذوالحجہ کے باقی بیس دن ہوں گے۔ یہ پچاس دن ہوئے ، یعنی اعلان کے بعد یا اس سے مراد مردت چار ماہ ہے اور اس کا آغاز دس ذوالحجہ سے ہے اور اختتام دس ربیع الاخر تک ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ پہلی مدت ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے عہد توڑا اور دوسری مدت ان لوگوں کے لیے جن کے ساتھ اس سے قبل کوئی معاہدہ ہی نہ تھا۔ یہ ہیں مختلف اقوال۔
میرے نزدیک یہاں جن چار مہینوں کا تذکرہ ہوا ہے اس سے اصطلاحی اشہر حرم مراد نہیں ہیں اور ان چار مہینوں کو اشہر حرم (محترم مہینے) اس لیے کہا گیا ہے کہ ان میں قتل و مقاتلہ حرام قرار دے دیا گیا تھا تاکہ اس عرصے میں مشرکین چل پھر سکیں۔ یہ عام میعاد تھی۔ البتہ جن لوگوں کے معاہدوں میں مدت مقرر تھی اور ان کے لیے مدت تک مہلت دے دی گئی تھی۔۔ چونکہ اللہ نے ان کو چار مہینے آزادی کا اختیار دے دیا تھا۔ اس لیے اس مدت کا آغاز اس کے اعلان سے ہونا چاہیے اور جس نوعیت کا یہ اعلامیہ تھا اس کی نسبت سے یہی راجح ہے کہ اس مدت کا آغاز روز اعلان سے چار ماہ تصور کیا جائے۔
اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس مدت کے خاتمے کے بعد جہاں بھی مشرک ملے ، اسے قتل کردیں یا قید کردیں اور ہر راہ اور گھات پر بیٹھ جائیں تاکہ ان میں سے کوئی بھاگ کر نکلنے نہ پائے ، ماسوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں استثناء وارد ہے۔ اور وہ اس کے سوا کوئی دوسرا سلوک ان کے ساتھ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ مشرکین کو ایک عرصہ تک انجام بد سے ڈرایا گیا اور انہیں مہلت دی گئی۔ اس لیے ان کے خلاف یہ ایکشن نہ اچانک ہے اور نہ ہی غیر منصفانہ ہے۔ جبکہ ان کے ساتھ طے شدہ معاہدے ختم کردیے گئے ہیں۔ اب ان کے لیے کوئی بات غیر متوقع نہیں ہے۔
بہرحال مشرکین کے خلاف یہ ایکشن اس غرض کے لیے نہ تھا کہ ان کو نییست و نابود کردیا جائے بلکہ اس لیے تھا کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: " پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو ۔ اللہ در گزر فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے " اس سے قبل ان کے ساتھ تحریک اسلامی کے 12 سال گزرے تھے اور اس عرصے میں دعوت و تبلیغ کا حق ادا کردیا گیا تھا۔ اس عرصے میں انہوں نے مسلمانوں کو بےپناہ اذیتیں پہنچائیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف لشکر کشیاں کیں اور ان کی حکومت کو ختم کرنے کی کوششیں کیں۔ پھر دین اسلام نے ان کے ساتھ جس قدر نرم رویہ اختیار کیا (اللہ کے رسول نے ان کے ساتھ جس قدر شریفانہ سلوک کیا وہ ایک طویل تاریخ ہے۔ اس کے باوجود اسلام کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں کو جن کی اذیت دی گئی ، جن کے ساتھ جنگ کی گئی اور جن کو ملک سے نکالا گیا اور قتل کیا گیا ایسے مسلمانوں اور نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اگر یہ مشرکین توبہ کرلیں تو ان سے ہاتھ کھینچ لو اگر وہ سچے دل سے اسلام کو قبول کرلیں اور اسلامی شعائر کو قبول کرلیں۔ جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہو کہ وہ سچے دل سے مسلمان ہوگئے ہیں اس لیے کہ اللہ کسی بھی ایسے شخص کو مایوس نہیں کرتا جو سچی توبہ کرکے لوٹ آتا ہے۔ ان اللہ غفور رحیم " بیشک اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے " اس آیت کے بارے میں فقہاء کے درمیان جو فقہی مباحث چلے ہیں ، ہم ان سے کوئی تعرض نہیں کرتے یعنی فان تابوا و اقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ " یعنی اگر توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں " فقہاء نے یہ بحثیں کی ہیں کہ آیا ادائے نماز اور ادائے زکوۃ شروط اسلام میں سے ہیں یا ان کے تارک کو کافر کہا جائے گا ؟ اور کب وہ کافر ہوگا ؟ اور کیا نماز اور زکوۃ ہی کو علامت توبہ سمجھا جائے گا یا دوسرے ارکان اسلام کا مطالبہ بھی ان سے کیا جائے گا
میں سمجھتا ہوں کہ ان سوالات میں سے کسی سوال کے حل کے لیے یہ آیت نازل ہی نہیں ہوئی ہے۔ یہ نص اس وقت مشرکین عرب کے واقعی حالات کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور اس وقت یہ تصور ہی نہ تھا کہ کوئی توبہ کرے تو صرف نماز اور زکوۃ پر عمل پیرا ہو اور دوسرے اعمال کو نظر انداز کردے ، جو توبہ کرتا تھا وہ پورے اسلام میں داخل ہوتا تھا بلکہ اس آیت نے اگرچہ ان دو باتوں کا ذکر کیا ہے لیکن یہ اس لیے کہ اسوقت جو لوگ اسلام میں داخل ہوتے تھے وہ اسلام کی تمام شرائط کے ساتھ اس میں داخل ہوتے تھے۔ اور ان میں سے پہلی شرط یہ ہوتی کہ وہ پوری زندگی میں اللہ کا دین نافذ کریں گے۔ اور محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آئیں۔۔۔ لہذا فقہاء اور مفسرین نے جو بحثیں کی ہیں۔ اس آیت کے وہ پیش نظر نہ تھیں بلکہ یہ ایک عملی کارروائی کے سلسلے میں ہدایت تھی۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ چار ماہ کی مدت کے بعد بھی اسلام رواداری ، سنجیدگی اور واقعیت پسندی کا دامن نہیں چھوڑتا ، جیسا کہ ہم نے کہا اسلام کی یہ جنگ نسل کشی کے لیے نہیں ہے ، بلکہ وہ ہدایت کی ایک مہم ہے۔ وہ مشرکین جو جاہلی سوسائٹی کی صورت میں جتھ بند نہیں ہیں ، افراد کی شکل میں ہیں ، اور وہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے ، ان کے لیے دار الاسلام میں مکمل امن وامان کے حقوق محفوظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ اور مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ آپ ان کو پناہ دیں اور وہ اللہ کے کلام کو سنیں اور سمجھیں اور پھر ان کو ایسے علاقے میں پہنچا دیں جہاں وہ امن سے ہوں۔
Ayah 9:6اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی بےحد خواہش ہے کہ ہر شخص ہدایت پائے اور راہ راست پر آجائے اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص دار الاسلام میں پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دینا دار الاسلام کا فرض ہے ، کیونکہ جب مشرکین دار الاسلام پناہ گیر ہوں گے تو پھر وہ دار الاسلام کے ساتھ جنگ نہ کرسکیں گے۔ لہذا ان کو پناہ دینا اور قرآن سنان اور دین اسلام کے اصولوں سے ان کو شناسا کرنا مفید مطلب ہے۔ ممکن ہے کہ اس طرح ان کے دل کھل جائیں ، وہ ہدایت پا لیں اور قبول کرلیں۔ اگر وہ نہ بھی قبول کریں تب بھی اللہ نے اہالیان دار الاسلام پر یہ فرض کردیا ہے کہ وہ ان کی حفاظت کریں اور ایسے ملک تک پہنچا دیں جہاں وہ امن وامان سے رہ سکیں۔
مشرکین کے لیے دار السلام کی یہ پناہ گاہ در اصل اسلام کے مقامات بلند سے ایک اعلی مقام تھا۔ اور اس کے علاوہ بھی اسلام میں ایک بلند چوٹی سے اگے دوسری بلند چوٹیاں اور رفعتیں نظر آتی ہیں ، اور ان میں سے یہ ایک نہایت ہی بلند مقام ہے کہ ایک مسلمان ایک مشرک کا محافظ ہے۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن کا محافظ ہے۔ جس نے مسلمان اور اسلام کو سخت اذیتیں دی ہیں اور مشکلات میں مبتلا کیا اور یہاں تک کہ حفاظت کی جا رہی ہے کہ وہ دار الاسلام سے باہر کسی مقام پر پہنچ جائے یہ رواداری کا ایک نہایت ہی بلند مقام ہے۔
معلوم ہوا کہ اسلام ہدایت کا نظام ہے اور یہ نسل کشی کا نظام نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلام کے لیے ایک نہایت ہی مامون اور محفوظ مرکز کا بندوبست کرے۔
جو لوگ اسلامی نظام کے نظریہ جہاد پر یہ اعتراضات کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے لوگوں کو زبردستی اسلامی عقائد قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور پھر مسلمانوں میں سے جو لوگ مشتشرقین کے یہ الزامات پڑھتے ہیں تو وہ خائف ہوجاتے ہیں اور ھر ان الزامات کے جواب میں دفاعی انداز اختیار کرتے ہیں اور پھر یہ موقف اختیار کرلیتے ہیں کہ اسلام تو صرف دفاع میں لڑتا ہے اور وہ دفاع بھی اپنی ریاستی حدود کے اندر کرتا ہے۔ ان دونوں طبقات یعنی الزامات لگانے والوں اور ان کا دفاع کرنے والوں کو ذرا اسلام کے اس مقام بلند پر جا کر دنیا پر نظر ڈالنا چاہیے اور پھر دوبارہ اس آیت کو پڑھ کر غور کرنا چاہیے۔ انہیں انسان کی پوری تاریخ پست نظر آئے گی ، تہی دامن نظر آئے گی۔
وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُوْنَ : " اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہئے تاکہ اللہ کا کلام سنے تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ کلام سن لے۔ پھر اسے اس کے مامن تک پہنچا دے۔ یہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے " گویا یہ دین ان لوگوں کے لیے ایک خبرداری ہے جو جانتے نہیں ہیں۔ اور یہ دین ان لوگوں کے لیے جائے پناہ ہے جو پناہ چاہتے ہیں۔ بلکہ ان اعدا کے لیے بھی جنہوں نے اس کے خلاف تلوار اٹھائی ، اس کے خلاف جنگ کی اور اس کے ساتھ عناد رکھا۔ اسلام علم جہاد اس وقت بلند کرتا ہے جب دعوت اسلامی اور عوام الناس کے درمیان مادی قوتیں حائل ہوجاتی ہیں اور ان کے کان تک دعوت پہنچنے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ اور کلام الٰہی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ ہدایت کی راہ روکتی ہیں۔ نیز یہ مادی قوتیں لوگوں کو انسانی کی غلامی اور بندگی سے رہا کرنے کی راہ میں مزاحم ہوتی ہیں اور لوگوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ غیر اللہ کی بندگی کرتی رہیں۔ اور جب ان قوتوں کو توڑ دیا جائے اور یہ رکاوٹیں دعوت اسلامی کی راہ سے دور ہوجائیں تو پھر تمام افراد آزاد ہوجاتے ہیں " اپنی رائے میں آزاد ہیں۔ اسلام پھر انہیں صرف تعلیم دیتا ہے ، نہ مجبور کرتا ہے اور نہ خواہ مخواہ کسی کو قتل کرتا ہے بلکہ ان کو پہنچا دیتا ہے ، ان کی حفاظت کرتا ہے اور پھر ان کو ان کے جائے امن تک پناہ دیتا ہے۔ یہ سلوک باوجود ان کے اس طرز عمل کے ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کا انکار کرتے ہیں۔
اس وقت دنیا میں ایسے نظام اور ایسے طور طریقے رائج ہیں جنہیں خود انسانوں نے تشکیل دیا ہے۔ اگر ان انسان کے بنائے ہوئے نظاموں اور طور طریقوں کی کوئی مخالفت کرے تو اس کی جان محفوظ نہیں رہتی ، نہ اس کا مال محفوظ رہتا ہے ، نہ اس کی عزت محفوظ رہتی ہے اور نہ اس کے دوسرے انسانی حقوق محفوظ رہتے ہیں۔ بعض لوگ عملاً ایسی صورت حال کو دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ور پھر بھی اسلام کے خلاف ان بےبنیاد الزامات اور اتہامات کے جواب میں شف شف کرتے ہیں اور ان کے جواب میں شکست خوردہ ذہنیت ، کمزور موقف اور تلوار اور توپ کے مقابلے میں محض معذرت اور قلم کو کام میں لاتے ہیں اور پھر ہمارے دور جدید ہیں۔
Ayah 9:7سابقہ آیات میں ، اسلامی حکومت اور جزیرۃ العرب کے دوسرے معاشروں اور مشرکین جزیرۃ العرب کے مابین تعلقات کی آخری شکل کو منضبط کیا گیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی حکومت اور ان دوسرے گروپوں کے درمیان معاہدے اور امن کی حالت ختم ہوجائے اور ان میں سے بعض کو چار ماہ کی مہلت دے دی جائے اور بعض کو انتہائے مدت معاہدہ تک کی مہلت دی جائے اور ان حالات میعاد کے ختم ہونے کے بعد تعلقات کی صرف دو صورتیں رہ جائیں یا تو اسلام قبول کرکے نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں یعنی اسلام قبول کرکے تمام فرائض کے پابند ہوجائیں اور قتال ، قیدی اور مورچہ بندی کے لیے تیار ہوجائیں۔
جب صورت حالات ایسی ہوجائے تو پھر اگلی آیات میں بطور استفہام انکار اور سخت الفاظ میں یہ تنبیہ کی جاتی ہے کہ یہ بات اب نہ مناسب ہے اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے کہ کسی مشرک کے ساتھ رسول اللہ کوئی معاہدہ کریں یعنی اصولاً ایسا ہونا ہی نہ چاہیے۔ یہ بات بنیادی طور پر اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔
كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ " ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے ؟ " موجودہ آیات کے اندر استفہام انکاری سے یہ متبادر ہوسکتا تھا کہ پہلی آیات میں جن لوگوں کے معاہدات کے لیے مدت معاہدہ تک مہلت دی گئی تھی ، جنہوں نے معاہدات کی پاسداری کی تھی اور مسلمانوں کے ساتھ کوئی دشمنی نہ کی تھی ، شاید موجودہ آیات اور حکم سے وہ مہلت بھی واپس لے لی گئی ہے اس لیے یہاں بتکرار یہ کہا گیا کہ ایسے لوگوں کی مہلت باقی ہے۔
اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ " بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا ، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے "۔ لیکن اس جدید تاکید میں ایک اضافہ بھی آگیا ہے۔ پہلے حکم میں یہ تھا کہ ان کو مہلت دے دی گئی ہے کیونکہ انہوں ماضی میں نقص عہد نہ کیا تھا۔ یہاں یہ شرط عائد کردی گئی کہ نزول آیت سے لے کر مدت معاہدہ تک بھی وہ عہد کا پاس رکھنے کے پابند ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے بین الاقوامی معاملات کو منضبط کرنے میں بڑی باریکی سے کام لیا ہے۔ محض ضمنی اشارے اور قیاس کے بجائے صریح نص کا لانا ضروری سمجھا گیا۔
اس سورت کے تعارف اور اس سبق کے تعارف میں ہم نے جو کچھ کہا اور نزول سورت کے وقت جو حالات اور جو مظاہر اسلامی معاشرے کے اندر موجود تھے ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہ فیصلہ کن قدم کیوں اٹھایا گیا ، اب یہاں سے آگے کی آیات میں ممان نوں کو تسلی دیتے ہوئے ان کے دلوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات اور تردد اور پریشان کو دور کرتے ہوئے انہی اس حقیقت سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں اور اسلامی نظام کے سلسلے میں خود ان مشرکین کے خیالات اور نیات کیسی ہیں ؟ وہ مسلمانوں کے ساتھ کیے ہوئے کسی عہد کا کوئی پاس نہیں رکھتے۔ اس معاملے میں وہ ہر کارروائی کرنے کو جائز سمجھتے ہیں اور ان معاہدات کی خلاف ورزی کے لیے وہ ہر وقت تیار رہتے ہیں ، وہ کبھی وفا نہیں کرتے ، وہ کبھی اپنے عہد کے مطابق اپنے آپ کو پابند نہیں کرتے اور جب بھی وہ قدرت پائیں وہ مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ سالمیت ، امن کی صورت حال پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ان پر اس سلسلے میں کوئی اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ الا یہ کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔
كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ: " ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے ؟ "۔ مشرکین صرف ایک اللہ کی بندگی نہیں کرتے۔ وہ رسالت محمدی کا اعتراف بھی نہیں کرتے۔ تو کیسے ممکن ہے رسول اللہ کے نزدیک ان کا کوئی عہد ہو۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے جیسے بندوں کی حیثیت کا انکار نہیں کرسکتے ، نہ وہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں کا انکار کرسکتے ہیں لیکن دوسری طرف وہ اپنے خالق اور رازق حقیقی کا انکار کرتے ہیں۔ وہ اللہ اور رسول کے ساتھ عداوت کرتے ہیں لہذا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ کے ہاں ان کا کوئی عہد ہو۔
اس استفہام انکاری میں اس مسئلے کو اٹھایا گیا ہے اور یہ مسئلہ اس قدر اہم ہے کہ یہ اصولاً اس بات ہی کو رد کردیتا ہے کہ کسی مسلمان اور اللہ اور رسول اور مشرک کے درمیان سرے سے کوئی معاہدہ ہو۔ قطع نظر موجودہ معاہدات سے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت تو عملاً مشرکین کے ساتھ معاہدات موجود تھے۔ اور ان میں سے بعض معاہدوں کے بارے میں تو خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو اپنی مدت تک پورا کیا جائے اور مدینہ میں اسلامی مملکت کے قیام کے ساتھ ہی کفار کے ساتھ معاہدات ہوئے تھے۔ یہودیوں کے ساتھ معاہدات ہوئے تھے ، مشرکین کے ساتھ معاہدات ہوئے تھے۔ چھٹی صدی ہجری میں معاہدہ حدیبیہ ہوا تھا اور سابقہ آیات میں ایسے معاہدات کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ اگرچہ ان آیات میں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ اگر خیانت کا اندیشہ ہو تو ان معاہدات کو منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ اگر آیت زیر بحث میں اصولاً اس بات ہی کو مستبعد قرار دیا گیا ہے کہ مشرکین کے ساتھ معاہدہ کیسے ہوسکتا ہے تو پھر ان معاہدات کی اجازت کیوں دی گئی اور یہ معاہدات طے کیوں پا گئے اور پھر ان پر یہ استفہام انکاری کیوں آیا ؟
اگر اسلام کے تحریکی منہاج کو اس طرح سمجھا جائے جس طرح ہم نے سابقہ صفحات کے اندر سمجھانے کی سعی کی ہے۔ اس سورت کے آغاز میں اور سورت انفال کے آغاز میں تو یہ اشکال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ در حقیقت یہ معاہدات ایک متعین وقت میں ، بعض عملی حالات کی وجہ سے طے پائے تھے اور یہ موزوں وقت پر موزوں وسائل جنگ تھے۔ عبوری دور کے لیے تھے۔ آخری اور انتہائی اور فائنل ہدایت بہرحال یہ ہے کہ مشرکین کے ساتھ کوئی عہد نہ ہو اور اللہ اور رسول اللہ کے ہاں اب کوئی عہد مشرکین کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ تحریک اسلامی کا آخری ہدف یہی تھا کہ اسلامی نظام کے سوا کوئی نظام نہ ہو اور اللہ کے ساتھ کرہ ارض پر کوئی شریک نہ ہو لیکن معاہدات عبوری دور کے لیے کیے گئے۔ جہاں تک اسلام کا آخری ہدف ہے تو اس کا اعلان تو اول روز سے کردیا گیا تھا۔ ابتدائی اور عبوری دور کا تقاضا یہ تھا کہ جو مشرک مسلمانوں کے ساتھ نہ لڑتے تھے انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ان سے نمٹا جائے جو لڑتے تھے۔ اور یہ کہ جو لوگ تحریکی ادوار میں سے کسی دور میں دوستی چاہتے ہیں تو ان سے دوستی کی جائے۔ جو معاہدے کرنا چاہئے ان سے معاہدے کیے جائیں جو غیر جانبدار رہنا چاہتے ہیں ان کو رہنے دیا جائے لیکن آخری ہدف تو بہرحال یہ تھا کہ اور اس سے تحریکی حضرات کسی وقت بھی غافل نہیں رہے کہ پورے کرہ ارض اور خصوصاً جزیرۃ العرب سے شرک کا خاتمہ کردیا جائے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ خود مشرکین نے جو معاہدات اہل اسلام سے کیے وہ بھی وقت مقرر کے لیے تھی اور یہ بات لازمی تھی کہ میعاد ختم ہونے کے بعد وہ حملہ آور ہوسکتے تھے۔ وہ کیسے حضور کو چھوڑ سکتے تھے جبکہ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ آپ کے اہداف کیا ہیں ، وہ حضور سے امن کی حالت اس لیے قائم کرتے تھے کہ وہ اس دوران آپ کے خلاف تیاریاں کرلیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دائمی ہدایت تو دے دی تھی اور وہ کسی زمان و مکان کے ساتھ مخصوص نہ تھی۔
ولا یزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم ان استطاعوا " اور وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں اپنے دین سے لوٹا دیں اگر وہ ایسا کرسکیں "۔ یہ ایک دائمی قول ہے ، دائمی نصیحت ہے ، جو کسی زمانے ، کسی معاشرے اور کسی بھی دور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔
اصولاً تمام معاہدات کے انکار کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے معاہدات کو مدت معاہدہ تک باقی رکھا جنہوں نہ تو معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور نہ ہی انہوں نے مسلمانوں کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ لیا تھا ، بشرطیکہ وہ آئندہ بھی ایسا ہی طرز عمل جاری رکھیں ، یہ شرط یہاں نئی عائد کی گئی ہے۔
اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : " بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا ، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے "
یہ لوگ جن کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ جنہوں نے مسجد حرام کے پاس آپ سے معاہدہ کیا ، وہی ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : " بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا ، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے "
اس آیت میں ان کے سوا کوئی اور مراد نہیں ہے جس طرح بعض مفسرین نے سمجھا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر آیت چار میں عمومی براءت سے استثنائی کے لیے ہوا تھا ، اور دوسری مرتبہ ان کا تذکرہ اس لیے ہوا کہ اللہ نے کیف یکون کے ساتھ اصولاً بھی ہر مشرک کے ساتھ معاہدے کی نفی کردی۔ تو دوبارہ استثناء کی گئی کہ اس اصولی آیت سے کہیں سابقہ استثناء کو منسوخ تصور نہ کرلیا جائے۔ یہاں بھی تقویٰ کا ذکر ہوا اور اظہار کیا گیا کہ اللہ متقین کو پسند کرتا ہے اور وہاں بھی ایسا ہی اظہار کیا گیا تھا ، اشارہ یہ مطلوب تھا کہ مضمون ایک ہے ، موضوع آیت وہی ہے جبکہ دوسری آیت میں استثناء میں یہ اضافہ کردیا گیا کہ جس طرح ماضی میں وہ رویہ درست رکھے ہوئے تھے اسی طرح مستقبل میں بھی انہیں اپنا رویہ درست رکھنا ہوگا۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ نہایت ہی باریک قانونی عبارت یعنی (Proviso) ہے اور دونوں آیات کو ملا کر پڑھنے سے یہ لازم آتا ہے کہ جس طرح وہ پہلے وفائے عہد کرتے رہے اسی طرح مہلت تب جاری رہے گی جب وہ آئندہ بھی درست رہیں یعنی دوران مہلت۔
Ayahs 9:8–9اب یہ بات بتائی جاتی ہے کہ اصولاً مشرکین کے ساتھ کے ساتھ اب معاہدے کیوں ممنوع کردیے گئے ؟ اس کے تاریخی اسباب یہاں گنوائے جاتے ہیں۔ عملی ضرورت بتائی جا رہی ہے اور فریقین کے درمیان نظریاتی اور ایمانی جدائیاں اور تضادات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
۔۔۔
مشرکین کے ساتھ اللہ اور رسول اللہ کا کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ وہ تو عہد کرتے بھی اس وقت ہیں جھب وہ تمہارے مقابلے سے عاجز ہوجائیں اور اگر وہ تم پر غالب آجائیں اور فاتح ہوجائیں تو تمہارے ساتھ وہ کام کریں جن کا تم تصور ہی نہیں کرسکتے۔ پھر وہ کسی معاہدے کا بھی خیال نہ رکھیں ، اپنی کسی ذمہ داری کا کوئی پاس نہ رکھیں ، وہ تمہارے خلاف مذموم افعال کے ارتکاب سے بھی نہ ہچکچائیں کیونکہ وہ فطرتاً کسی عہد اور کسی رشتہ داری کا کوئی پاس نہیں رکھتے اور ظلم و زیادتی میں حدیں پار کر جاتے ہیں اور تمہارے معاملے میں تو اپنے ان مذموم افعال کو بھی مذموم نہیں سمجھتے جو عموماً وہ اپنے معاشرے میں بہت ہی مذموم سمجھتے ہیں اور ان کا ارتکاب نہیں کرتے۔ ان کے دل میں تمہارے خلاف اس قدر بغض بھرا ہوا ہے کہ وہ تم پر ہر ظلم کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ قدرت پا لیں اگرچہ معاہدے قائم ہوں۔ یہ نہیں کہ وہ اپنے معاشرے میں بہت ہی مذموم سمجھتے ہیں اور ان کا ارتکاب نہیں کرتے۔ ان کے دل میں تمہارے خلاف اس قدر بغض بھرا ہوا ہے کہ وہ تم پر ہر ظلم کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ قدرت پا لیں اگرچہ معاہدے قائم ہوں۔ یہ نہیں کہ وہ محض معاہدوں کی وجہ سے تمہارے خلاف ایکشن نہیں لیتے بلکہ وہ قدرت ہی نہیں رکھتے۔ آج جبکہ تم طاقتور ہو ، وہ بظاہر تم سے نرم بات کرتے ہیں اور اظہار وفا کرتے ہیں لیکن ان کے دل تمہارے عناد کی وجہ سے کھول رہے ہیں اور وہ عہد پر قائم رہنے کا کوئی داعیہ نہیں رکھتے کیونکہ ان میں نہ وفا داری ہے اور نہ محبت ہے۔ ان کی حالت یہ ہے۔ وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭاِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ پھر اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے۔ بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے۔ ان کے دلوں میں تمہارے خلاف حسد اور کینہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اس کی یہی حقیقی وجہ ہے اور اسی وجہ سے وہ تمہارے ساتھ طے پاجانے والے معاہدات کے معاملے میں وفا کرنے والے نہیں ہیں۔ اور جس وقت بھی وہ قوت محسوس کریں وہ تم سے انتقام لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے۔ اس معاملے میں وہ کوئی خلجان اور کوئی حجرج محسوس نہیں کرتے۔ ان وجوہات سے وہ فاسق قرار پاتے ہیں اور اللہ کی ہدایت سے خارج متصور ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اللہ کی آیات آئیں اور انہوں نے چند ٹکوں کے عوض انہیں پس پشت ڈال دیا۔ یہ دنیا جس میں وہ رہتے ہیں انہیں اس قدر عزیز ہے کہ اس کے مفادات کو آایت الہیہ پر انہوں نے ترجیح دی۔ ان کو یہ خوف دامن گیر تھا کہ اسلام کے اصلاح نظام کی وجہ سے ان کے مفادات پر زد پڑجائے گی۔ یا انہیں کچھ مزید ادائیگیاں کرنی پڑیں گی۔ اس لیے وہ دوسرے لوگوں کو بھی اسلام کی طرف آنے سے روکتے تھے اور خود بھی اس طرف نہ آتے تھے۔ اسی طرح یہ لوگ آئمہ کفر بن گئے تھے۔ اس لیے ان کے اس کرتوت کو اللہ نے اصل برائی یا برائیوں کی جڑ قرار دیا۔ انھم ساء ما کانوا یعملون " بہت برے کرتوت ہیں جو یہ کرتے ہیں " ان لوگوں کے دلوں میں پایا جانے والا بغض اور حقد تمہاری ذات تک محدود نہیں ہے اور ان کا یہ مکروہ منصوبہ صرف تم تک محدود نہیں ہے۔ یہ حسد انہوں نے تمام مومنین کے لیے چھپا رکھا ہے۔ ہر مسلم کے ساتھ وہ یہی مکروہ سلوک کے ساتھ وہ یہی مکروہ سلوک کرتے ہیں در اصل ان کا یہ سلوک تمہاری صفت کے ساتھ ہے یعنی صفت ایمان و اسلام کے ساتھ ، اور صفت ایمان اور اسلام۔ اسلامی تاریخ میں جن لوگوں کے اندر پائی گئی ہے ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا گیا اور اس بات کا اظہار ان ایمان لانے والے جادوگروں نے کیا تھا جو فرعون کے جذبہ انتقام اور غضب کا شکار بن گئے تھے۔ انہوں نے کہا وما تنقم منا الا ان امنا بایات ربنا لما جاء تنا۔ اور تم ہم سے یہ انتقام جو لے رہے ہو تو یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم نے اپنے رب کی آیات کو مان لیا۔ جب وہ ہمارے سامنے آگئیں۔ اور رسول اللہ نے اپنے رب کی ہدایت کے مطابق اہل کتاب سے یہی کہا قل یا اھل الکتب ھل تنقمون منا الا ان امنا باللہ " اے اہل کتاب تم جو ہم سے انتقام لیتے ہو تو یہ صرف اس لیے ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں۔ اور اللہ نے اصحاب الاخدود کے بارے میں یہی کہا تھا ، جب ان کو جلایا گیا تھا۔ وما نقموا منہم الا ان یؤمنوا باللہ العزیز الحمید۔ اور ان لوگوں سے انتقام صرف اس لیے لیا کہ وہ اللہ عزیز وحمید پر ایمان لے آئے تھے۔ غرض مشرکین کی طرف سے انتقام کا سبب ماسوائے صفت ایمان کھے اور کوئی بات نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنان اسلام نے صرف ایمان کی وجہ سے ہر مومن سے دشمنی رکھی اور اس بارے میں کسی عہد و پیمان اور رشتہ داری کا کوئی خیال نہ رکھا۔
Ayah 9:10لا یرقبون فی مومن الا ولا ذمۃ و لا ذمۃ والئک ھم المعتدون " یہ لوگ تمہارے بارے میں کسی قرابت داری اور کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا کو یئ لحاظ نہیں رکھتے اور یہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔ ان کے اندر زیادتی کرنے کی صفت رچی بسی ہے۔ اور اس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایمان کو ناپسند کرتے ہیں۔ ایمان سے لوگوں کو روکتے ہیں اور ایمان کی تحریک کے سامنے دیوار بن رہے ہیں۔ اور وہ ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ مومنین پر وار کرنے کا موقعہ مل جائے۔ اور وہ اہل ایمان سے نہ رشتہ داری کا تعلق رکھتے ہیں اور نہ معاہدے کی پروا کرتے ہیں بشرطیکہ ان کو غلبہ نصیب ہوجائے اور موقع مل جائے اور ان کو یہ خطرہ نہ ہو کہ مسلمان ان پر حملہ کریں گے۔ اور اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں کے اندر قوت نہیں ہے تو یہ ان کے ساتھ کیا کیا کر گزریں۔ صرف موقعہ ہاتھ آنے کی دیر ہے ، پھر نہ حقوق کا پاس ہے نہ رشتہ داری کا لحاظ ہے اور نہ کوئی معاہدہ ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ بڑے سے بڑا فعل کرنے کے لی یہ لوگ تیار ہیں بشرطیکہ خود مامون ہوں۔
Ayahs 9:11–1211 ۔ 12:۔ اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ ان حالات میں اہل ایمان مشرین کے حوالے سے کیا طرز عمل اختیار کریں۔
۔۔۔
مسلمانوں کا مقابلہ ایسے دشمنوں سے ہے جو ہر وقت تاک میں بیٹھا ہے اور وہ مسلمانوں پر بےرحم وار کرنے کے لیے محض اس لیے رکے ہوئے ہوتے ہیں کہ اندر وار کرنے کی سکت نہیں ہوتی۔ یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے ہوتے ہیں یا کسی ذمہ داری کا احساس کرنے والے ہوتے ہیں یا ان پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت و مذمت کا کوئی اثر ہوتا ہے ، نہ وہ کسی رشتہ داری یا تعلق کا خیال رکھتے ہیں۔ دین اور لادینی کی کشمکش کی یہ ایک طویل تاریخ ہے اور یہ تاریخ اسی راہ پر چلتی رہی ہے۔ اس شاہراہ سے اگر کوئی انحراف ہوا ہے تو وہ محض عارضی اسباب کی وجہ سے اور جلدی تاریخ اپنے اسی خط پر رکتی ہے جو مقرر و مرسوم رہا ہے۔
ایک تو ہمارے سامنے یہ عملی تاریخ ہے ، دوسرے یہ کہ اسلام نظام حیات کے اہداف کی نوعیت ہے کہ اس کے پیش نطر لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی غلامی میں دینا ہے ، جبکہ اسلامی نظام حیات کے مقابلے میں تمام جاہلی نظام ہائے حیات کے اہداف یہ ہیں کہ لوگ لوگوں کے غلام رہیں۔ ایسے حالات میں اسلامی نظام حیات کا تحریکی عمل دنیا کو اس طرح خطاب کرتا ہے۔
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ : " پس اگر ہی توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں "
وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ : " اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ (پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے "
پھر صورت یہ ہوگی کہ یا تو وہ اس دین میں داخل ہوجائیں گے جس میں مسلمان داخل ہوئے ہیں اور سابقہ گناہوں سے تائب ہوجائیں گے اور شرک اور ظلم کو چھوڑ دیں گے۔ تو مسلمان ان کے شرک اور ظلم سے صرف نظر کردیں گے۔ اور ان کے درمیان نظریاتی تعلق قائم ہوجائے گا۔ اور یہ جدید مسلمان بھی قدیم مسلمانوں کے بھائی بن جائیں گے اور ان کا تمام ماضی بھلا دیا جائے گا۔ تاریخ سے بھی اور دلوں سے بھی۔ اور یہ کہا کہ و نفصل الایت لقوم یعلمون۔ یعنی ان احکام کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں اور ان کی حکمت تک وہی لوگ رسائی حاصل کرسکتے ہیں جو اہل علم ہوں۔ یا پھر یہ صورت ہوگی کہ وہ دین اسلام سے روگردانی کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اس کا عہد کیا تھا۔ اور دین اسلام پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں تو یہ کفر کے علمبردار ہوں گے۔ اور ان کے دلوں میں نہ ایمان ہوگا نہ ان کے عہد و پیمان کا کوئی اعتبار ہوگا۔ اور اب ہمارے لیے ماسوائے اس کے کہ ان کے ساتھ جنگ شروع کردیں اور کوئی راستہ ہی نہ ہوگا۔ شاید بزور تلوار یہ باز آجائیں۔ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں کہ اسلامی کیمپ کی قوت اور اس کا جنگی غلبہ بعض اوقات لوگوں کو اس بات پر مائل کردیتا ہے کہ وہ سچائی کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ حق غالب ہے لہذا وہ اسے قبول کرلیتے ہیں اور ان کا استدلال یہ ہوتا ہے چونکہ یہ نظام غالب ہے لہذا برحق ہے۔ اور یہ کہ اس کی پشت پر قوت الہیہ ہے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخر کار اللہ اور اس کے رسولوں نے غالب ہونا ہے۔ اس طرح یہ لوگ ذہنا قائل ہو کر ہدایت کو قبول کرلیں گے اور توبہ کرلیں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ جنگ کی وجہ سے ان کا دین زبردستی تبدیل کردیا جائے گا۔ بلکہ وہ اس طرح مطمئن ہوجائیں گے کیونکہ دین اسلام کامیاب شکل میں ان کے سامنے چل رہا ہوگا اور بسا اوقات کسی بات کا عملی تجربہ ایسے ہی نتائج پیدا کرتا ہے۔
۔۔۔۔
اب ہم یہاں اس نکتے کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس پالیسی کا دائرہ عمل کیا ہے ؟ تاریخ کے کس دور میں یہ پالیسی رو بعمل تھی ، کس خاندان میں کس معاشرے میں اسے چلایا گیا۔ آیا یہ پالیسی آغاز اسلام کے زمانے میں جزیرۃ العرب کے باشندوں کے ساتھ مخصوص تھی یا کہ اس کا دائرہ عمل اور میدان نفاذ تاریخ میں اور کسی زمان و مکان میں بھی ہوا ہے۔
ابتدا میں تو یہ آیات جب نازل ہوئی تھیں تو ان کا نفاذ جزیرۃ العرب میں اسلام اور شرک کی کشمکش کے آخری دور میں ہوا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان احکام کا اطلاق پہلے پہل اسی صورت حالات پر ہوا تھا۔ اور ان آیات میں مشرکین سے مراد وہی مشرکین ہیں جن سے حضور کو واسطہ تھا۔
یہ بات تو بالکل برحق ہے کہ تاریخی پس منظر تو یہی تھا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی ان آیات کا آخری دائرہ تھا اور یہ آیات اسی تک محدود ہیں ؟
یہاں مناسب ہے کہ ہم مسلمانوں کے حوالے سے مشرکین کے موقف اور طرز عمل کا تاریخی جائزہ لیں ، تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ ان آیات میں جس پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے اس کے اغراض و مقاصد اور حدود کیا ہیں اور ان کا دائرہ کہاں تک وسیع ہے۔ ہمیں چاہئے کہ تاریخ کے اوراق الٹ کر ذرا دیکھیں۔
جہاں تک جزیرۃ عربیہ کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں فی ظلال القرآن کے اسی حصے میں کافی مواد موجود ہے۔ سیرت کے واقعات مشہور ہیں۔ مکہ میں مشرکین نے دین اسلام کے ساتھ جو سلوک کیا پھر مدینہ طیبہ کی اسلامی حکومت کے خلاف وہ جو کچھ کرتا رہے۔ ایمان لانے والوں پر انہوں نے جس قدر مظالم ڈھائے جن کا تفصیلی تذکرہ ان نصوص کے اندر مفصل آگیا ہے۔
یہ بات بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اسلام اور شرک کی کشمکش اس قدر طویل اور شدید نہیں رہی ہے جس قدر اسلام اور اہل کتاب یہود و نصاری کے درمیان یہ کشمکش شدید رہی ہے۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ مشرکین نے بھی اسلام کے خلاف ہمیشہ وہی موقف اختیار کیا جس کی تصویر ان آیات میں کھینچی گئی ہے :
كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۭ يُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَتَاْبٰي قُلُوْبُهُمْ ۚ وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ. اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭاِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ. لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ ۔ مگر ان کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا ؟ وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ پھر اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے۔ بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے۔ کسی مومن کے معاملہ نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا۔ اور زیادہ ہمیشہ انہی کی طرف سے ہوئی ہے۔
مشرکین اور اہل کتاب کی طرف سے مسلمانوں کے مقابلے میں یہ دائمی اور طے شدہ موقف رہا ہے۔ اہل کتاب نے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا اس کا تذکرہ ہم اس سورت کے دوسرے سبق کے ضمن میں کریں گے اور جہاں تک مشرکین کا تعلق ہے تو وہ مسلمانوں کے مقابلے میں پوری اسلامی تاریخ میں اسی پالیسی پر گامزن رہے۔
اگر ہم اس بات پر غور کریں کہ اسلام حضرت محمد ﷺ کی رسالت سے شروع نہیں ہوا بلکہ دعوت اسلامی کا خاتمہ آپ پر ہوا ہے اور پوری انسانی تاریخ میں مشرکین کا موقف دین رب العالمین کے مقابلے میں ایک ہی رہا ہے تو پوری اسلامی تاریخ کے ڈانڈے ، باہم مل جائیں گے۔ اور اس طرح یہ موقف اچھی طرح سمجھ میں آجائے گا اور یہ اسی طرح ایک حقیقت کی طرح ثابت ہوگا جس طرح ان نصوص میں اسے بیان کیا گیا ہے اور پوری اسلامی اور انسانی تاریخ اس پر گواہ ہوگی۔
مشرکین نے حضرت نوح ، حضرت ھود ، حضرت صالح ، حضرت ابراہیم ، حضرت شعیب ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ علیہم صلوۃ اللہ کے خلاف کیا کارروائیاں کیں ، پھر ان کی امتوں کے ساتھ کیا سلوک وہ کرتے رہے ، اپنے اپنے ادوار میں ، پھر آخر کار مشرکین نے حضرت محمد ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا ، اور آپ کے بعد اہل ایمان کے ساتھ انہوں نے کیا سلوک کیا ، حقیقت یہ کہ انہوں نے مسلمانوں کے حوالے سے کسی رشتہ داری ، اور کسی معاہدے کی کوئی پروا نہیں کی۔ جب بھی انہیں موقعہ ملا اور جب بھی انہوں نے قوت پکڑی انہوں نے دین رب العالمین کے مامن پر حملہ کیا۔
مشرین نے تاتاریوں کی صورت میں مسلمانوں کے خلاف دوسری بار حملہ کیا تھا۔ اس کے حالات و واقعات کو ذرا ذہن میں رکھیے اور آج چودہ سو سال کے بعد تک بھی وہ مسلمانوں کے خلاف کیا کچھ نہیں کر رہے اور زمین کے کس حصے میں نہیں کر رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے حوالے سے کسی رشتے اور کسی معاہدے کا کوئی پاس نہیں رکھتے۔ اور یہ آیات الہیہ دائمی حقیقت سے پردہ کشائی کرتی ہیں۔
جب بت پرستوں نے بغداد پر غلبہ حاصل کیا تو اس وقت جو المیہ پیش آیا تاریخ کی کتابوں میں اس کی بعض جھلکیاں قلم بند ہوچکی ہیں۔ ہم تاریخ ابو الفداء سے کچھ جھلکیاں دیتے ہیں۔ ابو الفداء نے البدایہ والنہایہ میں 656 ھ کے واقعات میں لکھا ہے :
" یہ لوگ اس شہر (بغداد) پر ٹوٹ پڑے جس قدر بچوں ، عورتوں اور مردوں ، بوڑھوں اور معمر افراد کو وہ قتل کرسکتے تھے انہوں نے قتل کیے۔ بہت سے لوگ ڈر کے مارے کنوؤں میں چھپ گئے ، جھاڑیوں میں پناہ گزین ہوگئے ، گندے تالابوں میں۔ یہ لوگ ایک عرصے تک ان جگہوں میں پوشیدہ رہے اور ظاہر نہ ہوئے۔ بعض لوگ دکانوں میں اپنے آپ کو بند کرلیتے تھے ، دروازے بند کردیتے ، تاتاری دروازے توڑتے یا آگ لگا دیتے اور اندر داخل ہوتے ، یہ لوگ چھتوں پر چڑھ جاتے چناچہ مکان کی سطح پر یہ لوگ ان کو قتل کردیتے اور ان کا خون پر نالوں سے بہہ کر گلیوں میں بہتا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مساجد ، مدارس اور سراؤں میں لوگوں کا قتل عام جاری رہا اور ماسوائے اہل ذمہ یہودیوں اور عیسائیوں کے اور کوئی شخص زندہ نہ رہا یا وہ لوگ زندہ رہے جنہوں نے تاتاریوں کی پناہ لے لی یا وہ لوگ زندہ رہے جنہوں نے ابن علقمی وزیر کے ہاں پناہ لی جو رافضی تھا ، بعض تاجروں کو بھی بھاری رشوتوں کے عوض امان مل گئی تھی۔ اس طرح وہ اور ان کی دولت بچ گئی تھی اور اس حادثے کے بعد وہ بغداد جو شہروں کا سرتاج تھا اس طرح ہوگیا کہ گویا وہ ایک ویرانہ ہے ، چند لوگ اس میں رہ گئے۔ وہ بھی حالت خوف میں۔ بھوک اور ذلت اور افلاس میں ڈوبا ہوا۔
" اس واقعہ میں بغداد میں جو مسلمان تہہ تیغ کیے گئے ان کی صحیح تعداد کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ آٹھ لاکھ انسان قتل ہوئے۔ بعض نے یہ تعداد دس لاکھ بتائی ہے اور بعض نے اسے بیس لاکھ بتایا ہے۔ انا اللہ وان الیہ راجعون۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ تاتاری بغداد میں محرم کے آخری دنوں میں داخل ہوئے۔ یہ لوگ پورے چالیس دنوں تک لوگوں کو تہہ تیغ کرتے رہے۔ خلیفہ معتصم امیر المومنین کو بروز منگل 14 صفر قتل کیا گیا۔ یہ سولہ سال کے تھے۔ پھر ان کے دوسرے بیٹے ابوالفضل عبدالرحمن کو قتل کیا گیا۔ یہ تیرہ سال کے تھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے مبارک اور تین بیٹوں فاطمہ ، خدیجہ اور مریم کو قیدی بنا لیا گیا "۔
" دار الخلافہ کے استاذ محی الدین یوسف ابن شیخ الفرج ابن الجوزی کو بھی قتل کیا گیا۔ یہ وزیر کے دشمن تھے۔ ان کے تین بچوں کو بھی قتل کیا گیا جن کے نام عبدالرحمن عبدالکریم اور عبداللہ تھے۔ اور حکومت کے اکابرین کو ایک ایک کرکے قتل کیا گیا۔ جن میں دو یدار صیغر مجاہد الدین ایبک ، شہاب الدین سلیمان شاہ اور اہل سنت کے اکابرین اور شہر کے معززین شامل تھے۔ ان لوگوں کا طریقہ واردات یہ تھا کہ یہ لوگ دار الخلافت سے لوگوں کو ان کے اہل و عیال کے ساتھ بلاتے۔ ان کے ساتھ ان کے بچے اور عورتیں بھی ہوتیں۔ اے مقبرہ خلال کی طرف لے جا جا جاتا۔ المنظرہ کی جانب اور انہیں اس طرح ذبح کیا جاتا جس طرح بکری کو ذبح کیا جاتا ہے۔ ان کی لڑکیوں اور لونڈیوں سے جسے وہ پسند کرتے اسے قیدی بنا لیتے۔ خلیفہ کے مودب اور شیخ الشیوخ صدر الدین علی ابن النیار کو بھی قتل کیا گیا۔ خطباء ائمہ اور حافظین قرآن سب کو قتل کردیا گیا۔
" جب نوشہ دیوار ہوا اور چالیس دن پورے ہوگئے تو بغداد مکمل تباہی سے دو چار ہوچکا تھا۔ پورے شہر میں خال خال لوگ نظر آتے تھے۔ راستوں میں کشتوں کے پشتے لگے ہوئے تھے۔ اس پر بارش ہوگئی۔ لوگوں کے اجسام پھول گئے۔ پورا شہر بدبو اور تعفن میں ڈوب گیا۔ ہوا بدل گئی اور علاقے میں شدید وبا پھیل گئی اور خلق کثیر لقمہ اجل بن گئی۔ پورے علاقے کے عوام وبا اور قحط میں گرفتار ہوگئے۔ تلوار اور طاعون کے ذریعے راہ عدم کو روانہ ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
" اور جب چالیس دنوں کے بعد بغداد میں امان کا اعلان ہوا اور لوگ تہ خانوں ، کمین گاہوں اور قبرستانوں سے نکلے تو وہ ایسے تھے جس طرح مردے قبروں سے نکل آئے ہوں۔ وہ ایک دوسرے کو پہچان نہ سکے یہاں تک کہ باپ نے بیٹوں کو پہچاننے سے انکار کردیا۔ بھائی بھائی کو پہچان نہ سکا۔ لوگوں میں شدید وبا پھیل گئی اور اس طرح وہ بھی اس راہ پر چل بسے جس پر مقتولین گئے تھے " وغیرہ وغیرہ۔
یہ ایک تاریخی واقعہ کی صورت حالات تھی کہ جب مشرکین مسلمانوں پر غالب آگئے تو انہوں نے کسی رشتہ داری اور کسی معاہدے کا کوئی خیال نہ رکھا اور کسی ذمہ داری کا کوئی ثبوت نہ دیا۔ تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ ماضی بعید کی ایک تاریخی صورت حالات تھی اور اس کا ارتکاب مشرکین میں سے صرف تاتاریوں نے کیا۔ اور ان کا خاصہ تھا ؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جدید دور کے واقات بھی اپنے خدوخال کے لحاظ سے اس سے مکتلف نہیں ہیں۔ جب تشکیل پاکستان کے وقت مسلمانوں کا علاقہ ہند سے علیحدہ ہو تو اس وقت کے دلدوز واقعات کسی طرح بھی تباہی بغداد کے واقعات سے کم نہ تھے۔ اس موعہ پر آٹھ ملین مسلمانوں نے ہجرت کی۔ ہندستان کے اطراف و اکناف میں وہاں بسنے والے مسلمانوں پر حملے کیے گئے۔ اس لیے انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر جائیں۔ ان میں سے صرف تین ملین لوگ پاکستان پہنچ سکے اور باقی پانچ ملین کو راستے ہی میں تہہ تیغ کردیا گیا۔ ان پناہ گیروں اور راہ گیر پر حکومت ہند کو معلوم ہندو دستوں نے حملے کیے اور یہ دستے حکومت ہند کے اکابرین کے زیر نگرانی یہ قتل عام کرتے رہے۔ ہجرت کے اس پورے راستے میں ان مسلمانوں کو مویشیوں کی طرح ذبح کیا گیا اور ان کے جسموں کو کھلے پرندوں کے لیے چھوڑ دیا گیا جبکہ قتل کے بعد ان پر بدترین تشدد کیا گیا اور ان لوگوں پر جو مظالم ڈھائے وہ تاتاریوں سے کسی طرح بھی کم نہ تھے۔ اس سے بڑھ کر مظالم اس وقت ہوئے جب ایک ریل گاری پر ہوئے جو ہندوستان سے مسلمان مہاجر ملازمین کو لے کر پاکستان جا رہی تھی۔ یہ لیاقت نہرو معاہدے کے تحت ان ملازمین کو لے جا رہی تھی جنہوں نے پاکستان جانا پسند کیا تھا۔ اس گاڑی پر پچاس ہزار افراد سوار تھے۔ اور جب یہ گاڑی بعض حدود (پنجاب کے علاقے) تک پہنچی تو تجربہ کار ہندوسکھ دستے اس پر حملہ آور ہوئے اور جب وہ پاکستان پہنچی تو اس کے اندر لاشوں اور کٹے ہوئے اعضاء کے سوا کچھ نہ تھا۔ اللہ نے کیا خوب کہا ہے کیف و ان یظھروا علیکم لا یرقبوا فیکم الا ولا ذمہ " یہ کیسے ہوسکتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جب غالب ہوجائیں تو وہ تمہارے بارے میں کسی رشتہ داری اور ذمہ داری کا کوئی لحاظ نہ رکھیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق اور مختلف صورتوں میں یہ قتل عام ہوتا ہی رہتا ہے۔ اس زمانے میں فسادات پنجاب اس کی واضح مثال تھے۔ "
اس کے بعد تاتاریوں کے خلفاء نے کمیونسٹ روس اور کمیونسٹ چین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا انہوں نے ان علاقوں میں صرف پچیس سال کے عرصے میں 26 ملین مسلمانوں کو نیست و نابود کیا۔ گویا وہ ایک سال میں روس لاکھ مسلمانوں کو قتل کرتے رہے۔ اور یہ عمل ابھی تک جای ہے۔ اور مظالم و تشدد کے وہ واقعات اس کے علاوہ ہیں جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں چین میں اس قسم کے واقعات رونما ہوئے جن کے سامنے تاتاریوں کے مظالم بھی ماند پڑجاتے ہیں۔ مسلمانوں کے ایک لیڈر کو پکڑ کر لایا گیا۔ شارع عام پر ایک گڑھا کھودا گیا اور مسلمانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ انسانی غلاظت کو ٹوکریوں میں لے کر آئیں۔ ان علاقوں میں یہ رواج ہے کہ کھاد بنانے کے لیے لوگوں سے غلاظت اور کوڑا کرکٹ جمع کرایا جاتا ہے اور اس کے بدلے ان کو روٹی دی جاتی ہے تاکہ اس سے کھاد تیار کی جاسکے۔ غرض ان لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ یہ غلاظت اس مسلم لیڈر پر پھینکیں۔ یہ عمل تین تک جاری رہا یہاں تک کہ اس طرح اس کی موت واقع ہوگئی۔
کمیونسٹ یوگوسلاویہ میں بھی مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا اور جب دوسری عالمی جنگ کے بعد وہاں کمیونسٹ نظام جاری ہوا تو کئی ملین مسلمانوں کو نیست و نابود کردیا گیا۔ یہاں تک کہ بعض مقامات پر مسلمان مردوں اور عورتوں کو قیمہ بنانے کے کارخانوں میں پھینکا گیا تاکہ دوسری جانب سے ہڈیا اور گوشت بر آمد ہو اور یہ عمل ابھی تک جاری ہے۔
یوگو سلاویہ میں جو کچھ ہو رہا ہے ، مسلمانوں کے خلاف تمام اشتراکی ممالک میں یہ عمل رات دن جاری ہے۔ ابھی تک اور اس دور جدید میں یہ ہو رہا ہے۔ اور اس سے باری تعالیٰ کے اس قول کی تصدیق ہوتی ہے كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً : " یہ کیسے ہوسکتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جب غالب ہوجائیں تو وہ تمہارے بارے میں کسی رشتہ داری اور ذمہ داری کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔ جزیرۃ العرب میں یہ نہ تو کوئی وقتی صورت حالات تھی اور نہ عارضی۔ نہ بغداد میں یہ کوئی وقت حادثہ یا حالت تھی۔ یہ ایک دائمی اور مستقل طرز عمل ہے۔ جب بھی اہل شرک کسی مومن پر قابو پائیں ایسا مومن جو صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرتا ہو تو ان کا طرز عمل اس مومن کے ساتھ یہی ہوتا ہے ، ہر جگہ اور ہر زمانے میں۔