Ayahs 26:192–2131۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔
3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس پر پہنچنے میں دیر لگائے۔
اپنی روزی پوری کرنے سے پہلے موت نہیں آئے گی
4۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو نہیں ہے کوئی چیز جو تم کو جنت سے قریب کردے اور تم کو دوزخ سے دور کردے سوائے ان چیزوں کے جن کا میں نے تم کو حکم دیا ہے اور نہیں کوئی چیز جو تم کو دوزخ سے قریب کردے اور تم کو جنت سے دور کردے مگر جن چیزوں سے میں نے تم کو منع کیا ہے اور بلاشبہ الروح الامین یعنی جبرئیل نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ کوئی نفس نہیں مرے گا جب تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کردے سو تم اللہ سے ڈروا اور رزق کے حصول میں اچھی طرح طلب کرو اور رزق ملنے میں دیر لگ جانا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کو اللہ کی نافرمانی کے ساتھ طلب کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی اطاعت کے ساتھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
5۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بلسان عربی مبین۔ سے مراد ہے قریش کی زبان میں نازل کیا اگر یہ قرآن غیر عربی میں ہوتا تو وہ لوگ اس کو نہ سمجھ سکتے
6۔ ابن النجار نے اپنی تاریخ میں بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت “ بلسان عربی مبین “ سے مراد قبیلہ بنو جرہم کی زبان ہے
7۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے بریدہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
ابن مردویہ عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ قریش کی ایک جماعت مکہ والوں میں سے کسی کام سے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس آئی ان کو پایا کہ وہ تورت پڑھ رہے تھے قریشیوں نے کہا ہم اس سے کیا فائدہ پائیں گے جو تمہاری یہ تورات پڑھے گا۔ یہ لوگ تو ہم پر محمد ﷺ اور ان کے اصحاب سے بھی زیادہ سخت ہیں یہودیوں نے کہا ان لوگوں سے ہم بری ہیں یہ لوگ تو تورات اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں کو جھٹلاتے ہیں وہ تو صرف دنیا کے سامان کا ارادہ کرتے ہیں قریشیوں نے کہا جب تم ان سے ملاقات کرو تو ان کو خاموش کردو منافقوں نے کہا اسے تو ان جیسا ایک انسان تعلیم دیتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے لے کر آیت ” وانہ لفی زبر الاولین “ تک یعنی نبی ﷺ کا اور آپ کی صفت اور آپ کی تعریف اور اللہ کا حکم پہلی کتابوں میں موجود ہے۔
8۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لفی زبر الاولین “ بلاشبہ یہ ان کتابوں میں ہے جو پہلے رسولوں پر اتاری گئیں۔
9۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لفی زبر الاولین “ یعنی پہلی کتابوں میں آیت ” اولم یکن لہ اٰیۃ ان یعلمہ علمٰؤ بنی اسرائیل “ میں بنی اسرائیل سے مراد یہود و نصاری ہیں وہ جانتے تھے کہ محمد ﷺ کو اپنے پاس تورات میں اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے تھے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔
10۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” اولم یکن لہم اٰیۃ “ یاء کے ساتھ۔
11۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اولم یکن لہم اٰیۃ ان یعلمہ علمؤ بنی اسرائیل “ میں علماء اسرائیل سے مراد عبداللہ بن سلام ؓ اور دوسرے علماء ہیں۔
12 ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن سلام بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھے اور وہ ان کے نیک لوگوں میں سے تھے وہ محمد ﷺ کی کتاب پر ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے فرمایا آیت ” اولم یکن لہم ایۃ ان یعلمہ علمؤ بنی اسرائیل (یعنی کیا ان کے یہ نشان کافی نہیں کہ علماء بنی اسرائیل رسول اللہ کو ان کی صافات تورات میں پڑھ کر جانتے ہیں۔
13۔ ابن ابی حاتم نے مبشر بن عبیداللہ القرشی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اولم یکن لہم اٰیۃُ “ یعنی کیا ان کے لیے قرآن نشانی نہیں ہے ؟
14۔ ابن سعد وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عطیہ عوفی (رح) سے آیت ” اولم یکن لہم اٰیۃ “ یعنی کیا ان کے لیے قرآن نشانی نہیں ہے ؟
14۔ ابن سعد وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عطیہ عوفی (رح) سے آیت ” اولم یکن لہم اٰیۃ ان یعلمہ علمؤ بنی اسرائیل کے بارے میں روایت کیا کہ یہ پانچ علماء تھے اسد اسید ابن یامین ثعلبہ اور عبداللہ بن سلام ؓ ۔
15۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولو نزلنہ علی بعض الاعجمین “ یعنی اگر اللہ تعالیٰ اس قرآن کو عجمی زبان میں نازل کرتے تو عرب کے لوگ سب سے زیادہ خسارہ پانے والے ہوتے وہ اس کو نہ سمجھتے اور وہ اس کو نہ جانتے کہ یہ کیا زبان ہے۔
16۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولو نزلنہ علی بعض الاعجمین “ سے مراد ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کو کسی عجمی زبان میں نازل فرماتا تو یہ عربی لوگ لوگوں میں سب سے زیادہ خسارے والے ہوتے کیونکہ وہ عجمی زبان کو نہ پہچانتے۔
17۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولو نزلنہ علی بعض الاعجمین “ سے مراد ہے کہ فارس کے لوگ۔
18۔ عبدبن حمید وابن جریر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” کذلک سلکنہ “ یعنی شرک کو ہم نے رکھ دیا ہے آیت ” فی قلوب المجرمین “ (مجرمین کے دلوں میں۔
19۔ ابن ابی حاتم نے ابو جہضم (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کو دیکھا گیا گویا کہ آپ حیران ہیں اور صحابہ ؓ نے اس بارے میں آپ سے پوچھا آپ نے فرمایا اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ میں اپنے دشمن ایلون کو دیکھا کہ وہ میرے بعد میری امت کو حکم دے گا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت ” افرء یت ان تعنہم سنین۔ ثم جاء ہم ماکانوا یوعدون۔ ما اغنی عنہم ما کانوا یمتعون۔ تو آپ کا دل خوش ہوگیا۔
20۔ عبد بن حمید نے سلیمان بن عبدالملک (رح) سے روایت کیا کہ وہ ہر جمعہ کے خطبہ میں اس کو کہنا نہیں چھوڑتے تھے کہ بلاشبہ دنیا والے اس دنیا میں ایک خوف میں ہیں اور نہیں انجام تک پہنچی ان کے لیے کوئی نیت اور نہیں اطمینان پکڑا ان گھر، یہاں تک آئے گا اللہ تعالیٰ کا حکم اور وہ اس پر ہوں گے نہیں ہمیشہ ہوں گی اس کی نعمتیں۔ اور نہ امن میں ہوں گے۔ بہت مال و دولت کے ڈھیروں سے اور باقی نہ رہے گی اس میں کوئی چیز پھر یہ آیات تلاوت فرمائی آیت ” افرء یت ان متعنہم سنین۔ ثم جاء ہم ماکانوا یوعدون۔ ما اغنی عنہم ماکانوا یمتعون۔
21۔ ابن جریروابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وما اہلکنا من قرۃ الا لہا منذرون “ میں منذورن سے مراد رسول ہیں۔
اللہ کی نافرمانی پر عذاب آتا ہے
22۔ عبدالرزاق وعبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وما اہلکنا من قریۃ الا لہا منذرون “ یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی بستی کو عذاب کے ساتھ ہلاک نہیں کیا مگر بعد اس کے کہ ان کے پاس رسول آئے اور دلیل آئی اور بیان آیا اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ کی حجت ہے مکمل طریقے پر ذکری سے مراد ہے ان کے لیے یاد دہانی ہے اور نصیحت ہے اور حجت ہے اللہ کے لیے آیت “ وما کنا ظلمین “ یعنی ہم نہیں ہیں ان کو عذاب دینے والے مگر بعد گواہی اور حجت کے اور بعد عذر کے یہاں تک کہ ہم نے رسولوں کو بھیجا اور ہم نے کتابوں کو نازل کیا آیت ” وما ینبغی لہم وما یستطیعون۔ یعنی وہ اس پر قادر نہیں ہیں اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں آیت ” انہم عن السمع لمعزولون۔ بیشک وہ آسمان سے کوئی چیز سننے سے روک دئیے گئے۔
23۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وما تنزلت بہ الشیٰطین “ یعنی انہوں نے گمان کیا کہ شیاطین اسے رسول اللہ ﷺ پر نازل کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دی کہ وہ اس پر قادر نہیں ہیں اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں اور ان کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ اس کے ساتھ اتریں اور وہ اس کام سے روک دئیے گئے ہیں۔
Ayah 26:2141۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان وفی الدلائل ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کے عام وخاص کو بلایا اور فرمایا اے قریش کی جماعت اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ میں تمہارے لیے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں اے ابن کعب بن لؤی کی جماعت اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ میں تماہرے لیے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں اے بنو قصی کی جماعت اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ میں تمہارے لیے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ اے بنو عبدالمطلب اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ میں تمہارے لیے نفع اور نقصان کو مالک نہیں ہوں اے فاطمہ بنت محمد ﷺ اپنے آپ کو آگ سے بچا میں تیرے لیے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں خبردار بلاشبہ تم کو رشتہ داری حاصل ہے میں اس کو تر کرتا رہوں گا۔ اس کی تری کے ساتھ (یعنی جوڑتا رہوں گا)
2۔ احمد ومسلم والترمذی وابن جریر وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فاطمہ ! محمد ﷺ کی بیٹے اے صفیہ عبدالمطلب کی بیٹے اے عبدالمطلب کی اولاد میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مقابلہ میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میرے مال میں سے مجھ سے سوال کرو جو تم چاہو۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن مردویہ نے عروہ (رح) سے مرسلا اسی طرح روایت کیا۔
4۔ مسدد وامسلم والنسائی وابن جریر والبغوی فی معجمہ والباوردی والطحاوی وابو عوانہ وابن قانع والطبرانی وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل قبیصہ بن مخارق اور زفیر بن عمرو (رح) دونوں سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ پہاڑ کی چوٹی پر تشریف لے گئے تو اس کے بلند پتھر پر ثرھے اور فرمایا اے بنو عبد مناف میں تم کو ڈرانے والا ہوں بلاشبہ میری اور تمہاری مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے دشمن کو دیکھا اور جو گھر جانا چاہتا ہے تو اسے ڈرہوتا ہے دشمن اس کے گھروالوں تک اس سے پہلے پہنچ جائے گا تو وہ چیخنا شروع کردیتا ہے یا صباحاہ یاصباحاہ تم پر حملہ ہوگیا تم پر حملہ ہوگیا۔
5 عبد بن حمید والترمذی وابن جریر وابن مردویہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں رکھا اور اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے فرمایا اے بنو عبد مناف۔ یا صباحاہ۔ (یعنی دشمن صبح کو آپہنچا)
خاندان والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانا
6۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ رو دئے پھر اپنے اہل و عیال کو جمع کرتے ہوئے فرمایا اے بنو عبدمناف ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ اے بنو عبدالمطلب اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ اے بنوہاشم اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ پھر فاطمہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا اے فاطمہ محمد کی بیٹی اپنے آپ کو آگ سے بچا میں تم کو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی چیز کا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا سوائے اس کے کہ تم رشتہ داری حاصل ہے میں اس کو تر کرتا رہوں گا۔ اس کی تری کے ساتھ یعنی اس کو جوڑتا رہوں گا۔
7۔ ابن مردویہ نے براء ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” وانذر عشیرتک الاقربگین “ نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے۔ اور آواز دی یا صباحاہ وہ لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے ان کو ڈراتے ہوئے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں اے فاطمہ محمد کی بیٹی اپنے آپ کو آگ سے بچا میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی چیز کا مالک نہیں ہو۔
8۔ ابن مردویہ نے زبیر بن عوام ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی تو آپ نے ابو قبیس پہاڑ پر کھڑے ہو کر زور سے آواز دی اے آل عبد مناف بلاشبہ میں تم کو ڈرانے والا ہوں آپ کے پاس قریش جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے ان کو خبردار کیا اور ڈرایا۔
9۔ ابن مردویہ نے عدی بن حاتم (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے قریش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ سے مراد ہے میری قوم۔
10۔ عبد بن حمید وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے قریش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ سے مراد ہے میری قوم۔
10۔ عبد بن حمید وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی تو آپ نے ایک ایک قبیلہ کر کے دعوت دینا شروع کی۔
11۔ سعید بن منذور والبخاری وابن مردویہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں یعنی ان میں سے مخلص لوگوں کو ڈرائیں نبی اکرم ﷺ نکلے یہاں تک کہ صفا پر چرھ کر آوا زلگائی یا صباحاہ لوگوں کہا یہ کون آواز دے رہا ہے دوسرے لوگوں نے کہا یہ محمد ﷺ ہیں تو وہ لوگ آپ کی طرف اکٹھے ہوگئے اگر کوئی آدمی نہ آسکا تو اس نے اپنا آدمی بھیج دیا تاکہ دیکھے وہ کیا بات ہے ابولہت اور قریش کے لوگ بھی آئے آپ نے فرمایا تم مجھ کو بتاؤ اگر میں تم کو خبردوں کہ ایک گھڑ سوار دستہ وادی میں رادہ کرتا ہے کہ تم پر حملہ کردے کیا تممیری تصدیق کرو گے انہوں نے کہا ہاں ہم نے تجھ پر سچ کا تجربہ کیا ہے پھر آپ نے فرمایا میں تم کو اپنے آگے سخت عذاب ڈراتا ہوں ابولہب نے کہا ہلاکت ہو تیرے لیے سارادن کیا تو نے اسی لیے ہم کو جمع کیا تھا اسی پر آیت ” تبت یدا ابی لہب وتب “ نازل ہوئی۔
12۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے وانذر عشیرتک الاقربین “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی اکرم ﷺ نے صفا پر آواز دی ان میں سے ایک ایک قبیلہ کا نام لے کر ان کو اللہ کی طرف بلایا اس بارے میں مشرکین نے کہا یقینی بات ہے کہ اس آدمی (یعنی محمد ﷺ نے چیخنے چلاتے ہوئے رات گذاری اور حسن ؓ نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے گھروالوں کو اپنی موت سے پہلے جمع فرمایا اور کہا خبردار میرا عمل میرے لیے اور تمہارا عمل تمہارے لیے ہے۔ خبردار ! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تم کو کسی چیز کا فائدہ نہیں دے سکتا خبردار ! بلاشبہ میرے دوست تم میں سے متقی لوگ ہیں خبردار میں تم کو نہ جانوں کہ تم رشتہ داری پر دنیا اٹھائے ہوئے آؤ جبکہ لوگ آخرت لے کر آئیں اے صفیہ عبدالمطلب کی بیٹی اے فاطمہ محمد ﷺ کی بیٹی دونوں عمل کرتی رہو کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہارے ذرا بھی کام نہیں آؤں گا۔
قیامت کے روز نسب کام نہیں آئے گا
13۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابنو ہاشم اور صفیہ رسول اللہ کی پھوپھی، میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہارے ذرا بھی کام نہیں آؤں گا تم اس بات سے بچو کہ لوگ آخرت کو اٹھائے ہوئے آئیں اور تم دنیا کو اٹھائے ہوئے آؤ اور تم میرے حوض پر آؤ گے جو دائیں بائیں سخت ہے۔ تو تم میں سے ایک کہنے وال اک ہے گا یا رسول اللہ میں فلاں بن فلاں ہوں میں حسب کو پہچانوں گا اور وصف کا انکار کروں گا سو تم اس بات سے بچو کہ تم میں سے کوئی قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ وہ اپنی پیٹھ پر سرکش گھوڑے کو اٹھائے ہوئے ہو یا ایسا اونٹ اٹھائے ہوئے جو بلبلا رہا ہوگا یا ایسی بکری اٹھائے ہو جو منمنا رہی ہوگی یو جو چمڑے کو اٹھائے ہوئے ہو تو وہ مجھ سے دور کر دئیے جائیں گے اور مجھ سے کہا جائے کہ آپ نہیں جانتے ہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا نئے کاموں کو نکالا اور اپنے نفس کو پاکیزہ رکھو اور بچو تم اس بات سے کہ میرے بعد تم الٹے پاؤں مڑ جاؤ یعنی کفر و شرک اختیار کرلو۔ عکرمہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس وقت فرمایا جب اللہ نے آپ پر یہ آیت اتاری آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “۔
14۔ الطبرانی وابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے بنو ہاشم کو جمع فرمایا اور ان کو گھر میں بٹھایا پھر ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے بنو ہاشم اپنی جانوں کو آگ سے بچاؤ اور اپنی گردنوں کے چھڑانے میں کوشش کرو اور اپنے آپ کو اللہ کی پکڑ سے بچاؤ کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تم کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ پھر آپ نے اپنے گھروالوں پر توجہ فرمائی اور فرمایا اے عائشہ ابوبکر کی بیٹی اے حفصہ عمر کی بیٹی، اے ام سلمہ اے فاطمہ محمد ﷺ کی بیٹی اے زبیر کی ماں رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی، اپنی جانوں کو اللہ کی پکڑ سے بچاؤ اور اپنی گردنوں کے چھڑانے میں کوشش کرو میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں نہ کسی چیز سے بچا سکتا ہوں اور نہ نفع دے سکتا ہوں عائشہ ؓ رونے لگیں اور عرض کیا کیا وہ دن ایسا ہوگا کہ آپ ہمارے ذرا بھی کام نہیں آئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں تین جگہوں میں میں کسی کے کام نہیں آؤں گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ” ونضع الموازین القسط لیوم القیمۃ “ (الانبیاء آیت 47) اس وقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذرا بھی کام نہیں آؤں گا اور میں مالک نہیں ہوں گا تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ بھی اور روشنی کے وقت اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے اس کے لیے اس کا نور پورا کردیں گے اور جس کو چاہیں گے اوندھے منہ اس کو اندھیروں میں گرادیں گے کہ اسے وہاں غم میں مبتلا رکھے تو میں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں گا اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اور نہ ہی اس کے مقابلہ میں تم کو کچھ فائدہ پہنچاؤں گا پل صراط سے گھبراتے وقت اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے اس کو سلامت رکھیں گے اور جس کو چاہیں گے اس کو پار کردیں گے اور جس کو چاہیں گے اس کو اوندھے منہ جہنم میں گرادیں گے۔
عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ ہم موازین کو جانتے ہیں کہ وہ دو پلڑے ہوں گے اس کے دائیں پلڑے پر کوئی چیز رکھی جاتی ہے تو اس میں ایک پلڑا بھاری ہوجاتا ہے اور دوسر ہلکا ہوجاتا ہے اور ہم نے روشنی اور اندھیرے کو پہچان لیا لیکن پل صراط کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ راستہ ہے جنت اور دوزخ کے درمیان اس پر سے لوگ گزریں گے اور یہ تلوار کی دھار جیسا ہوگ اور فرشتے اس کو گھیرے ہوئے ہوں گے دائیں اور بائیں ان کو آنکڑوں کے ساتھ اچک لیں گے اور وہ لوہے کے آنکڑے سعدان کے کانٹے جیسے ہوں گے اور وہ زبان سے کہہ رہے ہوں گے۔ اے میرے رب مجھے سلام رکھیے۔ مجھے سلامت رکھیے۔ آیت ” وافئدتہم ہواء “ (یعنی ان کے دل اڑے ہوں گے اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے سلامت رکھیں گے اور جس کو چاہیں گے الٹے منہ جہنم میں گرادیں گے۔
15۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم والبیقی فی الدلائل من طرق حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا اے علی اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈڑاؤں تو میرے دل میں تنگی محسوس ہوتی میں پہچان گیا کہ جب بھی میں اس کا آغاز کروں گا تو ان کی طرف سے ایسا طرز عمل دیکھوں گا جو مجھے ناپسند ہوگا۔ علی ؓ اس حکم پر خاموش رہے یہاں تک کہ جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا اے محمد اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ کا رب آپ کو عذاب دے گا پھر فرمایا اے علی میرے لیے ایک صالح کھانا تیار کر اور اس پر ایک بکری کی ٹانگ بھون کر رکھ دے اور ہمارے لیے دودھ کے ایک بڑے پیالے کا انتظام کر میرے لیے جمع کرو بن عبدالمطلب کو یہاں تک کہ وہ اس کو کھالیں اور میں ان سے گفتگو کروں جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے میں نے ایسا ہی کیا جو آپ نے مجھے حکم فرمایا پھر میں نے عبدالمطلب کو دعوت دی ان دنوں وہ چالیس آدمی تھے ایک زائدیا ایک کم ان میں آپ کے چچا ابو طالب حمزہ اور عباس اور ابولہب بھی تھے۔
جب یہ لوگ آپ کی طرف اکٹھے ہوئے تو آپ نے مجھے کھانا لانے کو کہا جو میں نے ان کے لیے تیار کیا تھا میں اس کو لے آیا جب میں نے اس کو رکھا تو نبی ﷺ نے گوشت میں سے کچھ حصہ تناول فرمایا اور اس کو اپنے دانتوں مبارک کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کیا پھر اس کو ڈال دیا پیالے کے کناروں پر پھر ان سے فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ کھاؤ قوم نے کھایا یہاں تک کہ اسے اس وقت چھوڑا جب برتن میں ان کی انگلیوں کے نشانات دکھائی دے رہے تھے۔ اللہ کی قسم ایک آدمی اتنا کھا رہا تھا جو سب کے لیے رکھا گیا تھا فرمایا اے علی قوم کو پلاؤ تو میں ان کے پاس دودھ کے پیالے کو لایا انہوں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ سب سیراب ہوگئے اور اللہ کی قسم ان میں سے ہر ایک آدمی اسی طرح پیتا تھا جب نبی ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ ان سے بات کریں تو ابولہب نے بات کرنے میں جلدی کی اور کہا تم پر تمہارے ساتھی (یعنی محمد ﷺ نے جادو کردیا ہے تو قوم متفرق ہوگئی اور نبی ﷺ نے ان سے بات نہ کی جب اگلا دن آیا تو فرمایا اے علی جو تو نے بات سنی ہے اس کی طرف وہ مجھ سے سبقت لے گیا میری بات کرنے سے پہلے ہی قوم متفرق ہوگئی سو ہمارے لیے دوبارہ کھانا اور پینا تیار کرو جو تو نے گزشتہ کل تیار کیا تھا پھر ان کو میرے لیے جمع کرو میں نے ایسا ہی کیا پھر ان کو جمع کیا پھر آپ نے مجھ سے کھانا طلب فرمایا تو میں نے کھانا پیش کردیا اور میں نے ایسا ہی کیا جیسے کل کیا تھا انہوں نے کھایا اور پیا یہاں تک کہ سیراب ہوگئے یہاں تک کہ اٹھ کر جانے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا اے بنو عبدالمطلب اللہ کی قسم میں عربوں میں سے کسی ایسے آدمی کو نہیں جانتا جو اپنی قوم کے پاس ایسی چیز لایا ہو جو اس سے افضل ہو جو میں تمہارے پاس لایا ہوں بلاشبہ میں تمہارے پاس دنیا وآخرت کی خیر لایا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو اس کی طرف بلاؤں سو کون تم میں سے اس کام پر میری مدد کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا جبکہ میں سب سے کم عمر لڑکا تھا میں اس کام کے لیے حاضر ہوں۔ لوگ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
16۔ ابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے نے فرمایا کہ جب یہ آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے بنو عبدالمطلب کو جمع فرمایا اور وہ ان دنوں چالیس افراد تھے ان میں سے دس افراد دو سال کا بچھڑا کھاجاتے تھے اور دودھ کا بڑا پیالہ پیتے تھے حضرت علی ؓ نے ان کے لیے وہ کھانا تیار کیا پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردی آپ نے اس میں سے ایک ٹکڑ لیا اور اس کو کھایا پھر اسے کھانے کے برتن کے کناروں پر رکھ دیا پھر فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ قریب ہوجاؤ قوم کے لوگ دس دس کی قطار میں کھانے کے قریب ہوگئے انہوں نے کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے پھر آپ نے دودھ کو طلب فرمایا آپ نے ایک گھونٹ اس میں سے پیا پھر ان کو دیتے ہوئے فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ پیو انہوں نے پیا یہاں تک کہ سب سیراب ہوگئے ان کے آخر سے (یعنی سب نے پیٹ بھر کر پی لیا) ایک آدمی نے ان کی باتوں کو کاٹتے ہوئے کہا کہ اس آدمی کی طرح تم پر کسی نے جادو نہیں کیا نبی ﷺ اس دن بھی خاموش رہے اور کوئی بات نہیں کی۔ اگلے دن پھر آپ نے ان کو اسی قسم کے کھانے اور پینے پر دعوت دی پھر ان سے گفتگو کرنے میں جلدی کی اور فرمایا اے بنوا عبدالمطلب بلاشبہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمہارے لیے نذیر اور بشیر بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میں تمہارے پاس وہ چیز لایا ہوں کہ اس جیسی چیز کوئی تمہارے پاس نہیں لایا میں تمہارے پاس دنیا اور آخرت کی خیر کو لایا ہوں تم اسلام لے آؤ سلامت ہوجاؤ گے اور تم اطاعت کرو تو ہدایت پاجاؤ گے۔
17۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ آیت ” وانذری عشیرت الاقربین “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حکم فرمایا کہ اپنی قوم کو ڈرائیے اور اپنے اہل و عیال اور اپنے خاندان سے اس کام کلو شروع کیجیے اور ابن عباس ؓ نے یہ آیت پڑھی آیت ” وکذب بہ قومک وہو الحق “ (یعنی اس کو تیری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سچا ہے) (الانعام آیت 66)
18۔ ابن جریر نے عمرو بن مرہ (رح) سے روایت ہے کہ وہ اس آیت کو یوں پڑھتے تھے آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین ورھطک منہم المخلصین “۔
19۔ ابن مردویہ وابن عساکر والدیلمی عبدالواحد الدمشقی (رح) نے بیان فرمایا کہ میں نے ابو درداء ؓ کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو حدیث پڑھاتے تھے اور ان کو فتوی دیا کرتے تھے اور ان کی اولاد اور ان کے گھر والے گھر کی ایک جانب میں بیٹھتے ہوئے آپس میں باتیں کرتے رہتے تھے ان سے کہا گیا اے ابودرداء ؓ ! کیا وجہ ہے کہ لوگ اس میں علم بھی رغبت کررہے ہیں جو آپ کے پاس ہے اور آپ کے گھروالے غافل بیٹھے ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انبیاء کے متعلق لوگوں میں سب دور رہنے والے اور ان پر زیادہ سختی کرنے والے اس کے قریبی رشتہ دار ہوں گے۔ اس لیے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ آیت کے آخرتک پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عالم کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ الگ رہنے والے اس کے گھروالے ہوں گے یہاں تک کہ وہ ان سے جدا ہوجاتا ہے اور وہ عالم اپنے اہل و عیال اور پڑوسی کے حق میں سفارش کرتا ہے۔ جب وہ فوت ہوجاتا ہے تو ایسے لوگوں سے الگ ہوجاتا ہے جو سرکش شیاطین ہوتے ہیں جن کی تعداد ربیعہ اور مضر قبیلوں کی تعداد سے زیادہ ہوتی ہے وہ اس کے بارے میں ہی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ سو ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے کثرت کے ساتھ پناہ مانگا کرو۔
20۔ ابن عساکر نے محمد بن جحادہ (رح) سے روایت کیا کہ کعب ؓ ابو مسلم خولانی سے ملے اور کہا کہ تجھے کیسے بزرگی ملی اپنی قوم پر تو کعب نے فرمایا میں ان پر معزز ہوں ابو مسلم نے کہا میں تورات میں اس کے علاوہ بات دیکھی جو آپ فرماتے ہیں پوچھا وہ کیا ہے کہا کہ میں نے تورات میں پایا کہ کسی قوم میں کوئی حکیم یعنی دانا نہیں ہوتا مگر اس کی اس سے اعراض کرتی ہے پھر اس سے زیادہ قریبی رشتہ دار اور پھر اس سے زیادہ قریبی رشتہ دار عراض کرتے ہیں اور اس کے حسب نسب میں کوئی کمزوری ہو تو اس کو عار دلاتے ہیں اور اگر اس نے کسی وقت میں کوئی گناہ کیا ہوگا تو اس سکو اس کے ذریعہ عار دلاتے ہیں۔
21۔ البیہقی فی الدلائل کعب ؓ سے روایت کیا کہ کہ انہوں نے ابو مسلم (رح) سے کہا تو اپنی قوم کو اپنے لیے کیسے پاتا ہے ابو مسلم نے کہا وہ میری عزت کرتے ہیں اور میری اطات کرتے ہیں اور کہا کہ تورات اس بارے میں میری تصدیق نہیں کرتی کیونکہ قوم میں کوئی دانا نہیں ہوتا مگر اس پر وہ لوگ بغاوت کرتے ہیں اور اس پر حسد کرتے ہیں۔
Ayahs 26:215–2171۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب آیت ” وانذر عشیرت الاقربین “ نازل ہوئی تو آپ نے اپنے گھروالوں اور اپنے خاندان والوں سے اسکام کا آغاز فرمایا تو یہ کام مسلمانوں پر بھاری گزرا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی آیت ” واخفض جناحک لمن اتبعک من المومنین۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت ” واخفض جناحک لمن اتبعک “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے لیے فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ شفقت سے پیش آؤ اور فرمایا آیت ” فان عصوک فقل انی بریء مما تعملون “ (یعنی اگر وہ تیری نافرمانی کریں تو فرمادیجیے کہ میں بری ہوں ان کاموں سے جو تم کرتے ہو ان کو اس کام کا حکم دیا گیا پھر اس کو منسوخ کردیا گیا۔ پھر ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا۔
Ayahs 26:218–2201۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یراک حین تقوم “ (یعنی وہ تم کو دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو) نماز کے لیے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یراک حین تقوم “ (یعنی جب تم کھڑے ہوتے ہو) اپنے بستر سے یا اپنی مجلس سے۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یرک حین تقوم “ (یعنی وہ تم کو دیکھتا ہے) جہاں بھی تو ہوتا ہے۔
4۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یرک حین تقوم “ (یعنی جب تو کھڑا ہوتا ہے) اپنی نماز میں آیت ” الذی یرک حین تقوم “ یعنی جیسے انبیاء چلتے پھرتے تھے تجھ سے پہلے (اسی طرح آپ کے چلنے پھرنے کو بھی اللہ تعالیٰ دیکھ رہے ہیں )
ہر حالت پر اللہ تعالیٰ کی نظر
5۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یرک حین تقوم وتقلبک فی السجدین سے مراد ہے کہ آپ کا قیام کرنا آپ کو رکوع کرنا اور آپ کا سجدے کرنا اور آپ کا بیٹھنا اللہ تعالیٰ دیکھ رہے ہیں۔
6۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یرک حین تقوم “ یعنی وہ آپ کو دیکھتا ہے آپ کے کھڑے ہونے کو اور بیٹھنے کو آپ کے سارے احوال کو آیت ” وتقلبک فی السجدین یعنی آپ کا قیام کرنا آپ کا رکوع کرنا آپ کے سجدے کرنا اور آپ کا بیٹھنا
7۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سیر وایت کیا کہ آیت ” الذی یرک حین تقوم “ یعنی وہ آپ کو دیکھتا ہے آپ کے کھڑے ہونے کو اور آپ کے بیٹھنے کو اور آپ کی ساری حالتوں کو آیت ” وتقلبک فی السجدین “ سے مراد ہے کہ وہ آپ کو دیکھتا ہے نماز میں اکیلے اور آپ کو دیکھتا ہے سارے لوگوں میں یعنی جماعت میں الفریابی نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
8۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتقلبک فی السجدین “ سے مراد ہے کہ وہ آپ کو دیکھتا ہے جب آپ سجدہ کرنے والوں میں اٹھٹھتے ہیں۔
9۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ” الذی یرک حین تقوم۔ وتقلبک فی السجدین “ کے کے بارے میں روایت کیا کہ وہ دیکھتا ہے آپ کے قیام کو آپ کے رکوع کو اور آپ کے سجدوں کو۔ 10۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وتقلبک فی السجدین “ سے مراد ہے کہ وہ آپ کو دیکھتا ہے کہ آپ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ قیام کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔
11۔ سفیان بن عیینہ والفریابی والحمیدی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل مجاہد (رح) سے آیت ” وتقلبک فی السجدین “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو آپ پیچھے بھی اسی طرح دیکھتے تھے جیسے آپ اپنے سامنے دیکھتے تھے۔
12۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ” وتقلبک فی اسلجدین “ کے بارے میں فرمایا کہ نبی ﷺ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو آپ پیچھے بھی اسی طرح دیکھتے تھے جیسے آپ اپنے سامنے دیکھتے تھے۔
13۔ مالک و سعید بن منصور البخاری ومسلم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ میری توجہ اس طرحہے۔ اللہ کی قسم ! مجھ پر پوشیدہ نہیں رہتا تمہارا خشوع اور تمہارا رکوع اور بلاشبہ میں تم کو اپنی پیٹھ پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
14۔ ابن ابی عمر فی مسندہ والبزار وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتقلبک فی السجدین “ سے مراد ہے کہ آپ کو ایک نبی سے دوسرے نبی کی طرف منتقل ہوتے دیکھا یہاں تک کہ آپ کو نبی کی حیثیت سے پیدا کیا گیا۔
15۔ سفیان بن عیینہ والفریابی وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتقلبک فی السجدین “ سے مراد ہے کہ آپ کو ایک نبی سے دوسرے نبی کی طرف منتقل ہوتے دیکھا یہاں تک کہ آپ کو نبی کی حیثیت سے پیدا کیا گیا۔
16۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم فی الدلائل ابن عباس ؓ سے آیت ” وتقلبک فی السجدین “ کے بارے میں فرمایا کہ نبی ﷺ برابر انبیاء کی پشتوں سے منتقل ہوتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی والدہ نے آپ کو جنا۔
17۔ ابن مردویہ وابو نعیم فی الدلائل ابن عباس ؓ سے روایت کیا میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کہاں تھے جب آدم جنت میں تھے تو آپ نے تبسم فرمایا یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں پھر آپ نے فمرایا کہ میں ان کی پشت میں تھا جب آدم (علیہ السلام) زمین کی طرف اترے تو میں ان کی پشت میں تھا اور مجھے کشتی میں سوار کیا گیا اس حال میں کہ میں نوح (علیہ السلام) کی پشت میں تھا اور میں آگ میں ڈالا گیا اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی پشت میں ہوتے ہوئے اور میرے ماں باپ نے کبھی بھی بدکاری نہیں کی اللہ تعالیٰ بابر مجھے پاکیزہ پشتوں سے منتقل فرماتے رہے پاک صاف مہذب رحموں کی طرف جب بھی دو قبیلے تھے میں ان میں سے بہتر میں موجود ہوتا اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ مجھ سے وعدہ لیا اور اسلام کے ساتھ مجھے ہدایت دی تورات اور انجیل میں میرے ذکر کو بیان کیا اور میر صفت کے ذریعے ہر چیز کو کھول دیا۔ زمین کے مشرق میں اور اس کے مغرب میں اور اپنی کتاب مجھ کو سکھائی اور مجھ کو اپنے آسمان میں بلدن کی اور میرا نام مشتق کیا اپنے ناموں میں سے وہ عرش والا محمود ہے اور میں محمد ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھ وعدہ کیا کہ وہ مجھ سے محبت کریں گے حوض کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ نے مجھ کو کوثر عطا فرمایا اور میں پہلا سفارش کرنے والا ہوں گا اور میں پہلا ہوں جس کی سفارش قبول کی جائے گی اللہ تعالیٰ نے مجھے میر امت کے بہترین زمانے میں پیدا کیا اور میری امت حمد کرنے والی ہے جو نیک کاموں کا حکم کرتی ہے اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
Ayahs 26:221–2231۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے سعید بن وہب (رح) سے روایت کیا کہ میں عبداللہ بن زبیر ؓ کے پاس تھا ان سے عرض کیا کہ مختار یہ گمان کرتا ہے کہ اس کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ ابن الزبیر نے فرمایا وہ سچ کہتا ہے پھر یہ آیت ” ہل انبیئکم علی من تنزل الشیطین، تنزل علی کل افاک اثیم۔ تلاوت فرمائی (یعنی کیا میں تم کو نہ بتاؤ کہ شیاطین کسی پر اترتے ہیں وہ اترتے ہیں ہر بڑے دروغ گو پکے گنہگار پر)
2۔ الفریابیو عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” علی کل افاک اثیم “ سے مراد ہے لوگوں میں سے بہت جھوٹ بولنے والا وہ ہے آیت ” یلقون السمع “ یعنی جیسے وہ سنتا ہے جو شیطان اسے القا کرتا ہے آیت ” علی کل افاک “ لوگوں میں سے سب سے زیادہ جھوت بولنے والے پر۔
جنات کا کاہنوں کے پاس آنا
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت ” علی کل افاک اثیم میں افاک سے مراد ہے بہت جھوٹ بولنے والا اوہ کاہن ہوتے ہیں جو غیب کی خبریں بتاتے ہیں جن چرا لیتے ہیں سننے کو یعنی کبھی جن اوپر آسمان پر جاکر فرشتوں کی باتوں کو سن لیتے۔ پھر اس سنی ہوئی باتوں کو وہ انسانو میں سے اپنے دوستوں کے پاس لے آتے ہیں آیت ” یلقون السمع و اکثر ہم کذبون “ یعنی شیاطین آسمان کی طرف چڑھ جاتے تھے اور فرشتوں کی باتوں کو سن لیتے تھے پھر وہ کاہنوں کی طرف لے آتے اور ان کو بتادیتے جو بات آسمان کی سے سنتے وہ تو درست ہوتی اور اس میں اور جھوٹ ملادیتے تو وہ جھوٹ ہا۔
4۔ البخاری ومسلم وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں نے نبی ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ کئی چیز نہیں ہے تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ کبھی وہ ایسی چیز ہم کو بیان کرتے ہیں جو درست ہوتی ہے تو آپ نے فرمایا وہ سچی بات ہوتی ہے جو جن اچک لیتا ہے اور اس کو اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتا ہے پھر کاہن لوگ اس میں سو جھوٹ ملادیتے ہیں۔
5۔ البخاری وابن المنذر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے بادلوں میں زمین کے متعلق باتیں کرتے ہیں شیطان کوئی بات سن لیتا ہے۔ تو اس کو کاہن کے کان میں قر قر کر کے ڈال دیتا ہے جیسے بوتل میں کوئی چیز ڈالی جائے تو وہ قرقر کرتی ہے۔ پھر وہ اس ایک بات کے ساتھ سو جھوٹ کو ملادیتے ہیں۔