Ayahs 26:52–62بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا حکم
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ نکل جاءٰں اور فرمایا آیت ” ان اسر بعبادی لیلا “ (الدخان آیت (23) یعنی میرے بندوں کو رات کو لے کر چل دو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو نکلنے کا حکم فرمایا اور ان کو حکم فرمایا کہ قبط یعنی فرعون کے خاندان والوں عاریتا زبور لے لیں اور حکم فرمایا کوئی بھی اپنے ساتھی کو آواز نہ دے اور صبح تک اپنے گھروں میں چراغ جلائے رکھیں اور جو آدمی ان میں سے نکلے تو اپنے دروازے کے آگے خون لگادے یہاں تک کہ وہ جان لیا جائے کہ وہ نکل چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ان تمام بچوں کو بنی اسرائیل کی طرف نکال دیا جو قبطیوں کے گھروں میں بنی اسرائیل کے پیدا ہوئے تھے اور قبطیوں کے ان تمام بچوں کو قبطیوں کی طرف نکال دیا جو قبطیوں کے بنی اسرائیل کی عورتوں سے پیدا ہوئے تھے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل کھڑے ہوئے جبکہ قبطیوں کو علم نہ تھا اللہ تعالیٰ نے قبطیوں پر موت طاری کردی خاندان میں سے نوجوان مرنے لگا۔ وہ ان کو دفن کرنے لگے اور ان کی تلاش سے غافل ہوگئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) چھ لاکھ بیس ہزار کو لے کر نکلے بیس سال والوں کو ان کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے شمار نہیں کیا گیا اور نہ ساٹھ سال والوں کو ان کی بڑی عمر ہونے کی وجہ سے شمار کیا ان کے درمیان عمرو الوں کو شمار کیا گیا بچوں کے علاوہ فرعون ان کے پیچھے لگا ان کے اگلے حصے پر ہامان امیر تھا دس لاکھ کی فوج میں سات لاکھ گھوڑے تھے ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھا جو پالتو ہو۔ اور اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ’ ’ فارسل فرعون فی المدائن حشرین، ان ہئلاء لشر ذمہ قلیلون “ اور موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ساقہ پر تھے اور ہارون (علیہ السلام) ان کے آگے آگے جار رہے تھے ایک مومن نے موسیٰ سے کہا آپ کو کہاں کا حکم دیا گیا ہے آپ نے فرمایا سمندر کا اس نے اس میں گھسنے کا ارادہ کیا تو موسیٰ نے اس کو روک دیا بنی اسرائیل نے فرعون کی طرف دیکھا کہ وہ ان کے پیچھے آرہا ہے تو انہوں نے کہا اے موسیٰ آیت ” انا لمدرکون “ یعنی ہم تو پکڑے گئے موسیٰ نے فرمایا آیت ’ ’ ان معی ربی سیہدین “ یعنی میرا رب مجھ کو ضرور راستہ دکھائے گا۔ یعنی عنقریب وہ کافی ہوں گے دشمن کی طرف سے۔ ہارون آگے بڑھے اور سمندر میں لاٹھی ماری تو سمندر نے راستہ دینے سے انکار کردیا اور کہا وہ کون جبار ہے جو مجھ کو مار رہا ہے۔ یہاں تک کہ موسیٰ اس کے پاس آئے سمندر کے ابو خالد کی کنیت دی۔ پھر انہوں نے ضرب لگائی۔ آیت ” فانفلق فکان کل فرق کا الطود العظیم “ یعنی سمندر پھٹ گیا پڑے پہاڑ کی طرح بنواسرائیل داخل ہوئے اور سمندر میں بارہ راستے تھے اور ہر راستے میں ایک قبیلہ تھا اور جب راستے دیواروں کے ساتھ جدا ہوگئے اور ہر فرقے نے کہا کہ ہمارے ساتھ مارے گئے جب موسیٰ نے یہ سنا تو اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے ان راستوں کو ان کے لیے پل بنادئیے جو طبقات کی طرح تھے ان کا آخر آدمی ان کے پہلے آدمی کو دیکھ رہا تھا۔ یہاں تک کہ سب پار نکل گئے پھر فرعون اور اس کے ساتھی سمندر سے قریب ہوئے۔ جب فرعون نے سندر کی طرف دیکھا کہ وہ پھٹ گیا ہے کہا تم سمندر کی طرف نہیں دیکھتے ہو کہ وہ پھٹ چکا ہے مجھ سے ڈر گیا ہے یہ میرے لیے کھول دیا گیا یہاں تک کہ میں اپنے دشمنوں کو پالوں گا تو ان کو قتل کردوں گا جب فرعون کے لشکر راستوں کے منہ پر پہنچے تو ان کے گھوڑوں نے سمندر میں گھسنے سے انکار کردیا تو جبرائیل (علیہ السلام) گھوڑی پر سوار ہو کر نیچے اتر گھوڑوں نے گھوڑی کی بو کو سونگھا پھر اس گھوڑی کی پیروی کرتے ہوئے گھوڑے سمندر میں داخل ہوگئے یہاں کہ جب پہلے فوجی نے سمندر سے نکلنے کا ارادہ کیا کہ وہ نکل جائیں اور ان کا آخری آدمی داخل ہو اتو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ ان کو پکڑ لیں تو سمندر ان پر مل گیا جبرئیل (علیہ السلام) اکیلے کافی ہوئے فرعون کے لیے اور فرعون کو سمندر کی تہہ میں غوطہ دینے لگے اس کے منہ کوئی چیز ٹھونس رہے تھے۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان ہؤ لاء لشر ذمۃ قلیلون “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو بتایا گیا کہ بنی اسرائیل جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ دریا کو پار کیا وہ چھ لاکھ جنگجو اور بیس ہزار سے کچھ اوپر اور تھے فرعون ان کے پیچھے لگا دس لاکھ فوج دو لاکھ گھوڑوں کے ساتھ۔
3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ان ہؤلاء لشر ذمۃ قلیلون “ سے مراد ہے کہ بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تھی۔
4۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر (رح) نے ابو عبیدہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
50۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان ہؤلاء لشرذمۃ قلیولن “ سے مراد ہے کہ بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ تھی۔
6۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لشرذمہ “ ‘ سے مراد ہے کہ ایک ٹکڑا یعنی تھوڑی تعداد۔
7۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لشرذمۃ “ سے مراد ہے لوگوں کی ایک جماعت۔
8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی جنہوں نے دریا کو پار کیا تھا بارہ قبیلے تھے اور ہر راستے میں یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بارہ ہزار افراد تھے۔
9۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ آیت ” ان ہؤلاء لشرذمۃ قلیلون “ سے مراد ہے کہ بنی اسرائیل کی تعداد اس دن چھ لاکھ تھی اور فرعون کی تعداد کا شمار ہی نہ تھا۔
10۔ ابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فرعون اللہ کا دشمن تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھیوں کو ستر قائدین کے ساتھ دفن کردیا جب اللہ تعالیٰ نے ان کو غرق کیا ہر قائد کے ساتھ ستر ہزار لشکر تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ستر ہزار تھے جب انہوں نے دریا کو پار کیا۔
11۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کے ہر چار گھروں کو ایک گھر میں جمع کرو پھر بھیڑ کے بچوں کو ذبح کرو پھر اس کے خون ہر دروازہ پر لگاؤعنقریب میں فرشتوں کو حکم دینے والا ہوں کہ جس گھر کے دروازہ پر خون ہو اس میں داخل نہ ہو اور عنقریب فرشتوں سے حکم کروں گا کہ فرعون کے نوجوان کو مارڈالیں جو ان کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں پھر تازہ روٹی پکاؤ کیونکہ وہ جلدی تیار ہوجائے گی تمہارے لیے پھر جاپڑو یہاں تک کہ سمندر پر پنچو ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ تیرے پاس میرا حکم آجائے جب فرعون نے صبح کی تو کہا یہ عمل ہے موسیٰ اور اس کی قوم کا کہ انہوں نے ہمارے نوجوانوں کو قتل کردیا ہے۔
12۔ ابن اسحاق وابن المنذر نے یحییٰ بن عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ بنی اسرائیل کو لے کر چلو اور موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کو اس وقت لے کر چلیں گے جب چاند طلوع ہوگا انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس پر طلوع کو موخر کردیں یہاں تک کہ لوگ کام کاج سے فارغ ہوجائیں جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو فرعون نے لوگوں میں اعلان کرایا کہ یہ چھوٹی سی جماعت ہے آیت ” ان ہؤلاء لشرذمۃ قلیلون “ یہ ایک تھوڑی سی جماعت ہے۔
13۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکلے تو ان کے ساتھ چھ لاکھ بنی اسرائیل تھے ان میں بیس سال سے کم کو اور چالیس سال سے زیادہ کو شمار نہیں کرتے تھے فرعون نے کہا آیت ” ان ہؤلاء لشرذمۃ قلیلون “ یعنی یہ تھوڑی سی جماعت ہے اور فرعون سیاہ رنگ کے گھوڑے پر نکلا اور اس کے ساتھ آٹھ لاکھ کا لشکر سیاہ گھوڑوں پر سوار تھا دوسرے رنگوں کے گھوڑے اس کے علاوہ تھے اور جبرئیل (علیہ السلام) ایک مادہ گھوڑے پر سوار تھے فرعون کا گھوڑا اس کے پیچھے ہوگیا اور میکائیل (علیہ السلام) ان کے پیچھے تھے اور وہ فرماتے تھے کہ اپنے ساتھیوں کو ملا لو یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی بھی دریا میں داخل ہوجائے اور ان کے اول آدمی نے سمندر سے نکلنے کا ارادہ کیا تو سمندر ان پر مل گیا۔
14۔ ابن ابی حاتم نے عمرو بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ بنی اسرائیلکو مصر سے لے جائین تو یہ بات فرعون کو پہنچ گئی اس نے کہا ان لوگوں کو مہت دو یہاں تک کہ جب مرغا بانگ دے وہ اس کے پاس آئے مگر اس رات مرغے نے بانگ ہی نہیں دی موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر چلے گئے جب فرعون نے صبح کی تو ایک بکری لانے کا حکم کیا اس کے پاس لائی گئی اس کو ذبح کرنے کا حکم دیا پھر کہا اس کی کھال کھنیچنے سے پہلے میرے پاس پانچ لاکھ گھوڑے جمع ہوجائیں انہوں نے اس کی طرف جمع کردئیے تو فرعون ان کے پیچھے لگا جب موسیٰ (علیہ السلام) سمندر پر پہنچے ان کے ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی آپ کو کہاں کا حکم دیا گیا ہے فرمایا یہاں سمندر میں۔
15۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا فرعونکے لشکر کا ہر اوال دستہ جن کو اس نے بنی اسرائیل کے پیچھے بھیجا تھا ان کی تعداد چھ لاکھ تھی وہ سب سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے۔
16۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے گھوڑے کی نشانی یہ تھی کہ اس کی کنپٹیوں میں سفید پٹی تھی اور گھڑ سواروں کا دستہ ایک لاکھ گھوڑوں پر مشتمل تھا۔
17۔ ابن ابی حاتم نے کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ آل یعقوب یوسف کی طرف جمع ہوئے اور ان کی تعداد چھیاسی تھی ان کے مرد اور عورتیں تھیں اور جس دن موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو نکالا تو وہ چھ لاکھ سے زائد تھے فرعون ان کی تلاش میں ایک سیاہ گھوڑے پر نکلا آٹھ لاکھ سیاہ گھوڑے کے ساتھ دوسرے رنگوں کے گھوڑے بھی تھے جبکہ شمال کی جانب سے ہوا چلی اور جبرئیل (علیہ السلام) ایک خاکستری گھوڑے پور سوار تھے اور میکائیل (علیہ السلام) ان کو یعنی فرعون کے لشکر کو پیچھے سے دھکیل رہے تھے ان میں سے کوئی لشکر سے الگ ہوتا تھا تو اس کو ملادیتے تھے قوم نے کہا اے اللہ کے رسول ! ہم فرعون سے ذلت اور رسوائی اٹھایا کرتے تھے اب کیسے ہوگا اگر ہم نے ایسا کیا جو ہم کو پناہ کی جگہ پر ملے گی۔ اللہ کے رسول نے فرمایا پناہ کی جگہ دریا ہے۔
18۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وان الجمیع حذرون “ سے مراد ہے قوی اور مضبوط۔
19۔ الفریابی وعبد بن حمید وابنجریر وابن ابی حاتم نے اسود بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو پڑھا اور فرمایا آیت ” وان الجمیع حذرون “ سے مراد ہے قوی اور مضبوط
20۔ عبد بن حمید نے اسود (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت پر آیت ” وانا لجمیع حذرون “ کو پڑھا اور فرمایا اس کا معنی ہے دشمن کو بھگانے والا اور مستعد۔
21۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت ”’ وانا لجمیع حذرون “ اور فرماتے تھے کہ اس کا معنی ہے کہ ہم بہت زیادہ ہتھیار والے ہیں۔
22۔ عبد بن حمید نے عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ عبید نے اس طرح پڑھا آیت ” وانا لجمیع حذرون “
23۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وان الجمیع حذرون “ سے مراد ہے ہتھیار بند۔
24۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وان لمیع حذرون “ سے مراد ہے کہ ہم خفیہ تدبیر کرنے والے اور اسلحہ اور گھوڑوں میں قوی ہیں۔
25۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت ” وانا لجمیع حذرون “
26۔ ابن الانباری فی الوقف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” وانا لجمیع حذرون میں حاذرون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا مکمل ہتھیار والے۔ اس میں نجاشی نے کہا
لمر ابی اتانی حیثا امسی لقد تاذت لہ بہ ابناء بکر
ترجمہ : میرے باپ کی قسم وہ میرے پاس آیا جب شام ہوچکی تھی اس کی وجہ سے بکر کے بیٹے اذیت میں مبتلا ہوئے
خفیفہ فی کتاب حاذرات یقودہم ابو شبل ہزبر
ترجہ : مکمل اسلحہ جمع کرنے میں ہلکے پھلکے ہیں ان کی قیادت ابو شبل ہزر کرتا ہے۔
27۔ عبد بن حید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فاخرجنہم من جنت وعیون، وکنوز مقام کریم “ یعنی دنیا میں وہ جن نعمتوں میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نکالا اور بنی اسرائیل کو ان کا مالک بنادیا۔
28۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ومقام کریم “ سے مراد ہے منبر۔
29۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت ” فاتبعوہم مشرقین “ سے مراد ہے کہ فرعون اور اس کا لشکر ان کے پیچھے لگا جب سورج طلوع ہو۔ آیت ” قال اصحاب موسیٰ انا لمدرکون “ موسیٰ نے فرمایا اور وہ ان سے اللہ کے بارے میں زیادہ جاننے والے تے۔ فرمایا آیت ” کلا ان معی ربی سیہدین۔ ہرگز نہیں میرا رب مجھ کو ضرور راستہ دکھائے گا۔
30۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اسی طرح پڑھا آیت ” فاتبعوہم مشرقین “ مہموز اور الف قطعی کے ساتھ۔
31۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فاتبعوہم مشرقین “ سے مراد ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ رات کو نکلے رات کو چاند گرہن تھا اور زمین پر تاریکی چھاگئی ان کے ساتھیوں نے کہا کہ یوسف ہم کو خبر دیتے تھے کہ ہم عنقریب فرعون سے نجات پائیں گے اور آپ نے ہم سے عہد لیا تھا کہ ہم آپ کی ہڈیاں نکال کر ساتھ لے جائیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس رات آپ کی قبر کے بارے میں پوچھنے لگے۔ آپ نے ایک بڑھیا کو پایا اور اس سے یوسف (علیہ السلام) کی قبر کے بارے میں پوچھا اس بڑھیا نے ایک شر کے ساتھ ہڈیاں نکال دیں اپنے حکم کے ساتھ اس کی شرط یہ تھی کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ مجھ کو سوار کر کے اپنے ساتھ نکال کرلے جاؤ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیوں کو ایک چادر میں رکھ دیا پھر اس بڑھیا کو اس چادر پر اٹھا لیا اور اس کو اپنی گردن پر رکھ لیا اور فرعون کا گھوڑا ایک جماعت میں تھا ان کی لگامیں ان کی نظر میں سبز تھیں۔ فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں سے غافل رہا یہاں تک کہ وہ سب نکل گئے۔
32۔ ابن ابی حاتم نے خالد بن عبد اللہ قشیری (رح) سے روایت کیا کہ آل فرعون کا مومن قوم سے آگے تھا اس نے کہا کہ اے اللہ کے نبی ! آپ کو کہاں کا حکم دیا گیا ہے۔ فرمایا تیرے سامنے عرض کیا میرے سامنے تو سمندر ہے فرمایا اللہ کی قسم نہ میں نے جھوٹ بولا اور نہ میرے ساتھ جھوٹ بولا گیا پھ رکچھ دیر چلا پھر اسی طرح کہا پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اسی طرح جواب دیا جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) قوم سے زیادہ جاننے والے تھے اللہ کے بارے میں۔ فرمایا۔ آیت ” کلا ان معی ربی سیہدین “۔ ہرگز فرعون ہم کو نہیں پائے گا بلاشبہ میرا رب میرے ساتھ ہے عنقریب مجھے راستہ دکھائے گا۔
Ayahs 26:63–681۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کا الطود “ سے مراد ہے جیسے پہاڑ۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کا الطود “ سے مراد ہے جیسے پہاڑ۔
3۔ عبدبن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کہ آیت ” الطود “ سے مراد ہے پہاڑ۔
4۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وازلفنا ثم الاخرین “ سے فرعون کی قوم مراد ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو قریب کیا یہاں تک کہ ان کو دریا میں غرق کردیا۔
5۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت کہے جب سمندر پھٹ گیا تھا میں نے عرض کیا ضرور بتائی فرمایا یہ کلمات تھے۔
اللہم لک الحمد والیک المتکل وبک المستغاث وانت المستعان ولا حول ولا قوۃ الا باللہ
ترجمہ : اے اللہ تیرے لیے سب تعریفیں ہیں اور تجھ پر بھروسہ کرنے والا ہوں اور تجھ سے مدد مانگے والا ہوں اور تو ہی وہ ذات ہے جس سے مدد مانگی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ کسی میں نیکی کرنے کی طاقت ہے اور نہ برائی سے بچنے کی قوت ہے۔ ابن مسعود ؓ عہ نے فرمایا میں نے ان کلمات کو نہیں چھوڑا جب سے میں نے اس کو نبی ﷺ سے سنا۔
6۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن حمزہ بن یوسف عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب دریا پر پہنچے تو ان کلمات کے ساتھ دعا کی۔
یا من کا قبل کل شیء والمکون لکل شیء ولکائن بعد کل شیء اجعل لنا مخرجا
تجرمہ : اے وہ ذات جو ہر چیز سے پہ ہے تھی اور ہر چیز کو وجود میں لانیوالی اور یر چیز کے بعد موجود رہنے والی ہمارے لیے نکلنے کا راستہ بنا دے
تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی آیت ” ان اضرب بعصاک البحر “ کہ سمندر کو اپنی لاٹھی کے ساتھ مارو۔
7۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ سمندر پر سکون تھا کوئی حرکت نہیں کر رہا تھا جب رات ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو لاٹھی ماری تو اس میں اتار چڑھاؤ آگیا۔
8۔ ابن ای حاتم نے قیس بن عباد (رح) سے روایت کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر دریا پر پہنچے تو بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا کہاں ہے جو تو نے ہم سے وعدہ کیا تھا یہ سمندر ہمارے سامنے ہ اور یہ فرعون اور اس کا لشکر ہمارے پیچھے سے ہم پر رات کیے ہوئے ہے موسیٰ نے سمندر سے فرمایا اے ابو خالد پھٹ جا اس نے کہا میں ہرگز نہیں پھٹوں گا تیرے لیے اے موسیٰ میں تجھ سے پہلے پیدا کیا گیا ہوں اور پیدائش کے لحاظ سے تجھ سے زیادہ مضبوط ہوں۔ تو اللہ کی طرف سے آواز دی گئی۔ آیت ” ان اضرب بعصاک البحر “
رومی بادشاہ کے چار سوالات
9۔ ابو العباس محمد بن اسحاق السراج نے اپنی تاریخ میں وابن عبدالبر نے تمہید میں یوسف بن مہران کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ روم کے بادشاہ نے حضرت معاویہ ؓ کی طرف خط لکھا اور ان سے افضل کلام کے بارے میں پوچھا کہ وہ کون سے ہیں پھر دوسری، تیسری، اور چوتھی درجہ والی کلام کونسی ہے۔ اور اللہ کے زندیک مخلوق میں سے سب سے زیادہ عزت والی کونسی ہے اور نبیوں میں سب سے زیادہ عزت والے نبی کون سے ہیں اور مخلوق میں سے چار کے بارے میں جنہوں نے رحم میں حرکت نہیں کی اور اس قبر کے بارے میں جو اپنے ساتھی کو لے کر چل پڑی اور مجرہ کے بارے میں اور قوس کے بارے میں اور اس مکان کے بارے میں کہ جس میں سورج نہ طلوع ہوا اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ جب معاویہ نے خط کو پڑھا تو فرمایا اللہ اس کو رسوا کرے مجھے تو یہ بھی علم نہیں کہ یہاں کیا ہے ان سے کہا گیا ابن عباس کی طرف لکھو اور ان سے سوال کرو۔ چناچہ معاویہ ؓ نے ابن عباس کی طرف لکھا اور ان سے یہ سو الا پوچھے ابن بع اس نے ان کی طرف یہ بات لکھی کہ افضل الکلام لا الہ الا اللہ ہے اور یہ کلمہ اخلاص ہے کوئی عمل اس کے بغیر قبول نہیں ہوتا اور اس کے بعد سبحان اللہ وبحمدہ ہے جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے اور اس کے الحمد للہ ہے جو شکر کا کلمہ ہے اور اسکے بعد اللہ اکبر ہے جو نمازوں اور رکوع اور سجود کو شروع کرنے کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والی مخلوق حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بندیوں میں سب سے زیادہ عزت والی حضرت مریم ہیں وہ چار افراد جو رحم میں نہیں سئے وہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا اور وہ مینڈھا جو حضرت اسماعیل کی جگہ فدیہ میں دیا گیا۔ اور موسیٰ کی لاٹھی جس کو آپ نے پھینکا تو وہ سانپ بن گیا اور وہ قبر جو اپنے ساتھی کو لے کے ساتھ چلنے لگی وہ مچھلی جب اس نے یونس (علیہ السلام) کو نگل لیا اور مجرہ آسمان کا دروازہ ہے اور قوس زمین والوں کے لیے امان نوح (علیہ السلام) کی قوم کے غرق ہونے کے بعد اور وہ مکان جس میں سورج اس سے پہلے طلوع ہوا تھا اور نہ اس کے بعد یہ وہجگہ ہے جہاں بنی اسرائیل کے لیے سمندر پھٹ گیا تھا۔
جب ان پر یہ خط پڑھا گیا تو انہوں نے روم کے بادشاہ کو بھیج دیا اس نے کہا یقینی بات ہے کہ میں جانتا ہوں کہ معاویہ کو اس کا علم علم نہیں تھا نبوت کے خاندان کا فرد ہی ان کا صحیح جواب دے سکتا ہے۔
10۔ سعید بن منصور وابن جریر نے عبداللہ بن شداد بن ہاد (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس آئے اور ان پر اون کا ایک جبہ تھا اور ان کے پاس ایک لاٹھی تھی تو فرعون ہنس پڑا موسیٰ نے لاٹھی کو ڈال دیا تو وہ اس کی طرف چلنے لگا گویا کہ وہ بختی اونٹ ہے جس میں نیزوں کی طرح کوئی چیزیں جھوم رہی ہیں فرعون نے پیچھے ہٹنا شروع کیا اور وہ اپنے پلنگ پر بیٹھا ہوا تھا فرعون نے کہا اس کو پکڑ اور میں مسلمان ہوتا ہوں سانپ اسی حال میں لوٹ آیا جیسے وہ تھا اور فرعون پھر کافر ہوگیا موسیٰ کو حکم ملا کہ سمندر کی طرف چلیں اور موسیٰ (علیہ السلام) چھ لاکھ افراد کے ساتھ چلے جب سمندر پر پہنچے تو سمندر کو حکم دیا گیا جب موسیٰ اپنی لاٹھی کو ماریں تو ان کے لیے پھٹ جانا موسیٰ نے اپنی لاٹھی سے سمندر کو ماراتو وہ سمندر بارہ راستوں میں سپھت گیا ہر قبیلہ کے لیے ان میں سے ایک راستہ بن گیا اور ان کے لیے سمندر میں روشندان بنا دئیے گئے ان کا بعض بعض کو دیکھ رہا تھا۔
فرعون آٹھ لاکھ لشکر کے ساتھ روانہ ہوا یہاں تک کہ سمندر پر آگیا جب اس نے سمندر کو دیکھا تو ڈر گیا اور اپنے گھوڑے پر تھا ایک فرشتہ گھوڑ پر اس کے سامنے آیا فرعون اپنے گھوڑے کو قابو نہیں کرسکا یہاں تک کہ اسے سمندر میں ڈال دیا بنی اسرائیل میں سے آخر آدم نکل گیا۔ یعنی سمندر کے پار ہوگیا۔ فرعون کے ساتھی بھی داخل ہوگئے یہاں تک کہ سب سمندر میں پہنچ گئے تو سمندر ان پر مل گیا اور فرعون اپنے ساتھیوں سمیت غرق ہوگیا۔
فرعون کے لشکر کی تعداد دس لاکھ
11۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف وحی کی راتوں رت میرے بندوں کو لے کر نکل جا اور تم پیچھا کیے جاؤ گے موسیٰ رات کو ہی بنی اسرائیل کو لے کر چل دئیے فرعون دس لاکھ گھوڑوں کے ساتھ ان کے پیچھے لگا جبکہ گھوڑیاں اس کے علاوہ تھیں جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کی تعداد چھ لاکھ تھی جب اس کو فرعون نے دیکھا تو کہنے لگا آیت ” ان ہؤلاء لشر ذمۃ قلیلون، وانہم لنا لغائظون “ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر چلتے رہے یہ ان تک کہ وہ سمندر تک جا پہنچے انہوں نے یچھے مڑ کر دیکھا تو اچانک وہ فرعون کے گھوڑوں کے غبار میں ہیں اور کہنے لگے اے موسیٰ آیت ” اوذینا من قبل ان تاتینا ومن بعد مائتنا “ یعنی تیرے آنے سے پہلے بھی ہمیں تکلیفیں دی گئیں اور تیرے آنے کے بعد بھی یہ سمندر ہمارے سامنے ہے اور یہ فرعون اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہم پر چھایا جارہا ہے۔ موسیٰ نے فرمایا آیت ” عسی ربکم ان یہلک عدوکم ویستخلفکم فی الارض فینظر کیف تعملون “ (الاعراف آیت 19) یعنی عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور تم کو خلیفہ بنادے گا زمین میں اور وہ دیکھے گا کس طرح تم عمل کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی کے ساتھ سمندر کو مارو اور سمندر کی طرف وحی بھیجی کہ موسیٰ کی بات کو سن اور اطاعت کر جب وہ تجھ کو ماریں سمندر سمٹ گیا اور اس پر کپکپی طاری تھی۔ اور وہ نہیں جانتا تھا کہ کس جانب سے مارا جائے گا۔
یوشع نے موسیٰ سے فرمایا آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے ؟ موسیٰ نے فرمایا میں حکم دیا گیا ہوں کہ میں سمندر کو ماروں یوشع نے کہا پھر مارئیے اس کو موسیٰ نے اپنی لاٹھی کے ساتھ سمندر کو مارا تو وہ پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے ہر راستہ بڑے پہاڑ کی طرح تھا ہر قبیلہ کے لیے اس میں ایک راستہ تھا کہ وہ اس میں چل رہے تھے جب وہ راستے بن گئے اس کے بعض نے بعض سے کہا ہم کو کیا ہوا کہ ہم نے اپنے ساتھیوں کو نہیں دیکھا تو انہوں نے موسیٰ سے کہا ہم اپنے ساتھیوں کو نہیں دیکھتے، موسیٰ نے فرمایا چلنے دو بلاشبہ وہ تمہارے راستوں کی طرح ایک راستہ پر ہیں انہوں نے کہا ہم ہرگز تسلیم نہیں کریں گے جب تک ہم ان کو نہ دیکھیں گے موسیٰ نے فرمایا اے اللہ میری مدد فرما ان کی بری عادتوں کے خلاف اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ وہ انی لاٹھی کے ساتھ یہ کہو اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کرو اور اس کو سمندر پر گھماؤموسی نے اپنے لاٹھی کو دیواروں پر اس طرح اٹھایا تو اس میں روشندان بن گئے اور اسکا بعض بعض کی طرف دیکھنے لگا وہ چلتے رہے یہاں تک کہ سمندر سے باہر ہوگئے
جب موسیٰ (علیہ السلام) کا آخری آدمی پار ہوگیا تو فرعون دریا پر پہنچا اور اس کے ساتھی بھی اور فرعون سیاہ گھوڑے پر تھا جب وہ سمندر پر آیا تو اس کا گھوڑا اس میں گھسنے سے ڈر گیا تو جبرئیل (علیہ السلام) گھوڑی پر سوار ہو کر اس کے سامنے آگئے جب گھوڑے نے اس کو دیکھ اتو اس گھوڑی کے پیچھے داخل ہوگیا۔ اور موسیٰ سے کہا گیا آیت ” واترک البحر رہوا۔ (الدخان آیت 24) یعنی سمندر کو اپنی حالت پر چھوڑد و فرعون اور اس کی قوم دریا میں داخل ہوگئی جب فرعون کی قوم کا آخری آدمی داخل ہوگیا اور موسیٰ کی قوم کا آخری آدمی پار ہوگیا تو سمندر مل گیا فرعون اور اس کی قوم پر اور وہ غرق ہوگئے۔
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب رات کو بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو فرعون کو یہ بات پہنچی تو اس نے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم کیا بکری کو ذبح کردیا گیا پھر اس نے کہا اس کی کھال کھینچنے سے فارغ نہ ہوں یہاں تک کہ قبط میں سے چھ لاکھ جمع ہوجائیں موسیٰ چلے یہاں تک کہ سمندر پر پہنچے اور اس سے کہا پھٹ جا سمندر نے ان سے کہا آپ نے مجھ سے بہت زیادہ چیز کا مطالبہ کیا اور کہا میں آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کسی کے لیے پھٹا ہوں ؟ اور موسیٰ کے ساتھ ان کے گھوڑے پر ایک اور آدمی سوار تھا اس نے پوچھا اے اللہ کے نبی ! ان لوگوں کو آپ نے کہاں کا حکم دیا ہے فرمایا میں نہیں حکم دیا مگر اسی جگہ کا اس نے اپنے گھوڑے کو دریا میں گھسا دیا اس نے پانی کو چھو پھر وہ باہر نکل آیا اور کہا اے اللہ کے نبی ان کے بارے میں آپ کو کیا حکم دی گیا ہے ؟ فرمایا مجھے اس سمت کا حکم دیا گیا تھا فرمایا نہ میں نے جھوٹ بولا اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف وحی فرمائی کہ سمندر کو انی لاٹھی کے ساستھ مارو۔ موسیٰ نے اپنی لاٹھی کے ساتھ اس کو مارا تو وہ پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے ہر قبیلہ کے لیے ایک راستہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے جب موسیٰ کے ساتھ سمندر سے نکل گئے اور فرعون کے ساتھی اس میں داخل ہوگئے تو سمندر ان پر مل گیا۔ اور ان کو غرق کردیا۔
13۔ عبد بن حمید والفریابی وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ارادہ کیا کہ بنی اسرائیل کو لے جائیں تو راستہ بھول گئے۔ بنی اسرائیل کو فرمایا یہ کیا ہے ؟ بنی اسرائیل کے علماء نے ان سے کہا یوسف (علیہ السلام) کو جب موت حاضر ہوئی تو ہم سے ایک وعدہ کیا تھا کہ تم مصر سے نہیں نکلوگے یہاں تک کہ ہم آپ کو ساتھ لے جائیں گے موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا تم میں سے کوئی جانتا ہے کہ ان کی قبر کہاں ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہم نہیں جانتے ان کی قبر کی جگہ کو مگر بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا جانتی ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو بلا بھیجا اور اس سے فرمایا ہم کو یوسف (علیہ السلام) کی قبربتادو۔ اس نے کہا میں نہیں بتاؤں گی یہاں تک کہ تم میری شرط کو پورانہ کر گے پوچھا تیری شرط کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں تیرے ساتھ جنت میں رہوں گی گو کہ شرط تو ان کو ناگوار گزری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اس کی بات مان لیں وہ بڑھیا ان کے لیے گئی پانی کے تالاب کی طرف جبکہ پانی سے آواز آرہی تھی عورت نے لوگوں سے کہا اس سے پانی نکالوں انہوں نے ایسا ہی کیا اس نے کہا یہاں سے گڑھا کھودو انہوں نے گڑھا کھودا اور یوسف کی قبر کو نکالا جب انہوں نے نے یوسف (علیہ السلام) کے تابوت کو باہر نکالا تو راستہ دن کی طرح روشن ہوگیا۔
14۔ ابن عبدالحکم فی فتوح مصرف سماک بن حرب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر رات کو چکلے تو ان کو بادل نے ڈھانک لیا جو ان کے اور راستے کے درمیان حائل وگیا کہ وہ راستہ کو نہ دیکھیں موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ تم ہرگز اس راستے کو عبور نہیں کرسکتے جب تک آپ کے ساتھ یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیاں نہ ہوں گی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وہ کہاں ہیں تو انہوں نے کہا اس کی بیٹی ایک بوڑی عورت ہے جس کی آنکھیں جا چکی تھی ہم نے اس کو گھر میں چھوڑ ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) لوٹے جب اس بڑھیا نے ان کی آہٹ کو سنا تو کہنے لگی موسیٰ ہیں فرمایا موسیٰ ہوں کہنے لگی آپ کیا چھوڑ کر آئے ہو (یعنی کیا حکم دیا گیا) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیوں اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے کہنے لگی تم نہیں ڈھونڈ سکتے جب تک میں تمہارے ساتھ نہ ہوں موسیٰ نے فرمایا یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیوں کے بارے میں مجھ کو بتاؤ کہنے لگی میں ہرگز ایسا نہیں کروں گی مگر یہ کہ آپ مجھ کو وہ نہ دیں گے جس کا میں آپ سے سوال کروں موسیٰ نے فرمایا تیرے لیے وہ ہے جو تو سوال کرے گی کہنے لگی میرا ہاتھ پکڑیے انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تو وہ نیل کے کنارے ایک ستون کی طرف پہنچی اس کی جڑ میں لوہے کا ایک صندوق تھا جس میں میخیں لگی ہوئی تھٰں اور اس میں زنجیر تھی۔ کہنے لگی ہم نے اس کو اس جانب دفن کیا تھا یہ جانب سرسبز ہوگئی اور دوسری جانب خشک ہوگئی جب ہم نے یہ دیکھا تو ہم نے ان کی ہڈیوں کو جمع کیا تھ ان لوہے کے ایک صندوق میں رکھا اور نیل کے وسط میں پھینکا تو نیل کی دونوں جانب سرسبز شاداب ہوگئیں پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے صندوق کو اپنی گردن پر رکھ دیا اور اس بڑھیاکا ہاتھ پکڑا اور اس کو لشکر تک لے آئے اور اس سے کہا سوال کر جو تو چاہتی ہے کہنے لگی میں آپ سے سوال کرتی ہوں کہ میں اور تو جنت میں ایک ہی درجہ میں ہوں اور لوٹا دیا جائے میری آنکھوں کو اور میری جوانی کو یہاں تک کہ میں جوان ہوجاؤ جیسے میں تھی موسیٰ نے فرمایا تیرے لیے وہ کچھ ہے جو تو نے سوال کیا۔
15۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے وصیت فرمائی اگر کوئی نبی میرے بعد آئے اس کو کہو اس بستی میری میری ہڈیوں کو نکال دے فرعون کے ساتھ جھگڑے کے کے موقعہ پر جو موسیٰ (علیہ السلام) کا معاملہ وہا تو اس بستی سے گزرے جس میں یوسف کی قبر تھی تو انہوں نے ان کی قبر کے بارے میں پوچھا کسی کو نہ پایا جو اس کے خبردے ان سے کہا گیا یہاں ایک بڑھیا ہے یوسف (علیہ السلام) کی قوم میں سے موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پاس آئے اور اس سے کہا کیا تو یوسف (علیہ السلام) کی قبر کا مجھے بتاؤ گی اس نے کہا میں ایسا نہیں کروں گی یہاں تک کہ مجھے میری شرطیں پوری کردے جو میں تجھ پر شرط لگاؤں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اس کی شرطیں پوری کرو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے پوچھا تو کیا چاہتی ہے اس نے کہا میں جنت میں تیری بیوی بننا چاہتی ہوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو قبول کرلیا تو اس عورت نے اس کی قبر کا بتادیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے قبر کو کھودا پھر اپنی چادر کو بچھایا اور یوسف کی ہڈیوں کو نکالا ان کو اپنی چادر کے درمیان رکھا پھر ہڈیوں کو کپڑے میں لپیٹ لیا پھر اس کو اپنے داہنے کندھے پر اٹھالیا فرشتے نے ان سے کہا جو ان کی داہنی طرف ہوتا ہے کیا وزن داہنے کندھے پر اٹھایا جاتا ہے۔ موسیٰ نے فرمایا تو نے سچ کہا وہ بائیں کندھے پر ہوتا ہے اور میں نے اس کو ایسا کیا ہے یوسف (علیہ السلام) کی عظمت کے لیے۔
16۔ ابن عبدالحکیم من طریق الکلبی ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنی موت کے وقت یہ وعدہ لیا تھا کہ ان کی ہڈیوں کو ان کے ساتھ مصر سے نکال لینا انہوں نے کہا جب قوم بنی اسرائیل تیار ہوگئی اور نکل کھڑی ہوئی تو راستہ بھول گئی موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیوں کی وجہ سے تم راستہ گم کربیٹھے۔ کون ان کی قبر بتائے گا ایک بڑھیا نے کہا جس کو شارح بنت یعقوب کہتے تھے کہ میں نے اپنے چچا یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا جب وہ دفن کیے گئے مجھے کیا دو گے اگر میں تجھ کو بتادوں ؟ میں تجھ کو بتادوں ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جو تو چاہے تو اس بوڑھی عورت نے موسیٰ کی رہنمائی کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیوں کو اٹھا لیا پھر اس سے فرمایا تو مجھ کو حکم کر اس بڑھیا نے کہا کہ میں تیرے ساتھ جنت میں ہوجاؤں جہاں تو ہو۔
بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ
17۔ ابن عبدالحکیم من طریق الکلبی ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو رات کو لے چل۔ اور بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے زیورات اور کپڑے مستعار لے لیے تھے کہ ہماری عید ہے ہم عید کو جائیں گے پھر موسیٰ ان کو رات کو لے کر نکلے اور وہ چھ لاکھ اور تین ہزار سے زائد تھے۔
اور یہ فرعون کا قول تھا آیت ” ان ہؤلاء لشرذمۃ قلیلون “ یعنی یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہیں اور فرعون نکلا اور اس کے لشکر کا اگلا حصہ پانچ لاکھ کا تھا دونوں جانب اور درمیان والا لشکر الگ تھا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) سمندر کی طرف پہنتے تو یوشع بن نون اپنے گھوڑے پر آگے بڑھے اور پانی پر چلے دوسرے لوگ بھی تھے اپنے گھوڑوں کے ساتھ گھس گئے اور وہ پانی میں کود پڑے اور فرعون ان کی طلب میں نکلا سورج طلوع ہونے کے بعد اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” فاتبعوہم مشرقین۔ فلما تراء الجمعن قال اصحب موسیٰ انا لمدروکن۔ یعنی ان کے پیچھے لگا سورج نکلنے کے وقت جب دونوں جماعتیں باہم دکھائی دینے لگیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم تک یہ پہنچ گئے یعنی ہم کو یہ پکڑ لیں گے موسیٰ نے اپنے رب سے دعا کی تو ایک غبار موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان چھا گیا۔ اور ان سے کہا گیا اپنی لاٹھی کو سمندروں پر مارو انہوں نے ایسا ہی کیا آیت ” فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم “ یعنی دریا پھٹ گیا گویا ہر حصی ایک بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا ان میں سے بارہ راستے بن گئے انہوں نے کہا ہم ڈرتے ہیں کہ اس میں گھوڑے دنس جائیں گے موسیٰ نے اپنے رب سے دعا فرمائی تو اس پر ہوا چلی تو راستے خشک ہوگئے پھر کہنے لگے ہم ڈرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی غرق ہوجائے اور ہم کو پتہ بھی نہ چلے۔ تو انہوں نے اپنی لاٹھی کے ساتھ پانی کو سوراخ کردیا تو ان کے درمیان روشند ان بن گیا یہاں تک کہ ان کا بعض بعض کو دیکھ رہا تھا پھر وہ داخل ہوئے سمندر میں یہاں تک کہ اس کے پار ہوگئے۔
فرعون بھی چلا یہاں تک کہ اس جگہ پہنچا جہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) نے عبور کیا تھا اور اس کے راستے اسی طرح موجود تھے راستہ بنانے والوں نے فرعون سے کہا کہ موسیٰ نے دریا پر جادو کردیا ہے یہاں تک کہ ایسے ہوگیا جیسے تو دیکھتا ہے اسی کو فرمایا آیت ” واترک البحر رہوا “ (الدخان آیت 43) یعنی اس کو چھوڑد و جیسے وہ ہے یہاں تک کہ ہم ان سے جا ملیں اور سمندر میں تین دن کا فاصلہ ہے اور اس دن فرعون گھوڑے پر تھا جبرئیل (علیہ السلام) ایک گھوڑی لے کر آئے تینتیس فرشتوں کے ساتھ اور لوگوں میں پھیل گئے اور جبرئیل (علیہ السلام) فرعون کے آگے ہوگئے اور فرعون ان کے پیچھے لگ گیا فرشتوں نے لوگوں میں آواز دی بادشاہ کے ساتھ مل جاؤ یہاں تک کہ جب ان کا آخری آدمی بھی داخل ہوگیا اور ان کا اول پار ہو کر نہ نکلا تو سمندران پر مل گیا اور وہ غرق ہوگئے سمندر ملا تو بنواسرائیل نے سمندر کی آواز سنی پوچھا یہ کیا ہوا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا فرعون اور اس کے ساتھ غرق کردئیے گئے بنی اسرائیل ان کو دیکھنے کے لیے لوٹے تو سمندر نے فرعونیوں کو ساحل پر ڈال دیا۔
18۔ ان عبدالحمیم وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جبرئیل (علیہ السلام) بنی اسرائیل اور فرعون والوں کے درمیان تھے تو جبرئیل کہتے تھے تم آہستہ چلو تاکہ تمہارا آخری آدمی بھی تم سے مل جائے۔ بنواسرائیل نے کہا ہم نے اس سے بہتر کوئی ہانکنے والا نہیں دیکھ ار فرعون والوں نے کہا ہم نے اس جیسا لشکر کو ترتیب دینے والا نہیں دیکھا۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل سمندر پر پہنچے آل فرعون کے مومن نے کہا اے اللہ کے نبی آپ کو کہاں کا حکم دیا گیا ہے یہ دریا آپ کے آگے ہے اور ہم کو ڈھانپ لیا فرعون والوں نے پیچھے سے موسیٰ نے فرمایا میں حکم دیا گیا ہوں دریا کا تو آل فرعون کے مومن نے اپنے گھوڑے کو اس سمندر میں ڈال دیا تو سمندر کی موجوں نے اسے لوٹا دیا موسیٰ (علیہ السلام) نہیں جانتے تھے کہ وہ کیسے کریں گے اللہ تعالیٰ نے سمندر کی طرف وحی بھیجی کہ موسیٰ کی اطاعت کر اور اس کی نشانی یہ ہوگی جب وہ تجھ کو لاٹھی کے ساتھ مارے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھ سمندر پر مارو جب انہوں نے اس کو مارا آیت ” فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم۔ یعنی دریا پھٹ گیا اور ہر پھٹن ایک بڑا پہاڑ تھی بنواسرائیل سمندر میں داخل ہوئے اور فرعون والے ان کے پیچھے لگ گئے تو ان پر اللہ تعالیٰ نے سمندر کو ملادیا۔
19۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جبریل (علیہ السلام) فرعون کے غرق کے دن نازل ہوئے اور ان پر کالی پگڑی تھی۔
20۔ الخطیب نے المتفق والمفترق میں ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ ہاتھ پر ہاتھ مارنے لگے اور بنی اسرائیل اور ان کی سرکشی پر تعجب کرنے لگے جب وہ سمندر پر پہنچے اور ان کا دشمن ان تک آپہنچا تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہا ہمارا دشمن آپہنچا ہے آپ کو کیا حکم دیا گیا تھا ؟ فرمایا کہ تم اس جگہ اتر جاؤ میرا رب مجھ کو فتح دے گا اور ان کو شکست دے اور میرے لیے یہ سندر پھاڑ دیا جائے گا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب سمندر پر ضرب لگائی تو سمندر نے یوں آواز لگائی جس طرح جانور ذبح کے وقت آواز نکالتے ہیں پھر دوسری مرتبہ مارا تو وہ پھٹ گیا اور فرمایا یہ میرے رب کی طاقت ہے سمندر کو پار کیا اور نہیں سنا گیا اس قوم کا جو گناہ میں بنی اسرائیل سے بڑھ کر اور بہت جلدی توبہ کرنے والی ہو۔
Ayahs 26:69–77ابراہیم کا اپنے والد سے مکالمہ
1۔ عبد بن حید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فنظل لہا عکفین “ یعنی عبادت کرنے والے آیت ” قال ہل یسمعونکم اذ تدعون “ یعنی کیا تمہارے معبودوں نے تم کو کوئی جواب دیا جب تم ان کو پکارتے ہو۔
2۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یسمعونکم “ یعنی کیا وہ تمہاری آواز کو سنتے ہیں
Ayahs 26:78–851۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی پہلی نعمت اپنے بندے پر اس وقت ہوتی ہے جب اس کو پیدا فرماتا ہے۔
سارہ (علیہا السلام) اپنی بہن تھی
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذی اطمع ان یغفر لی خطیئتی یوم الدین “ یعنی میں طمع رکھتا ہوں اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ میری خطاؤں کو قیامت کے دن بخش دے اس میں ” خطیئتی “ سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ باتیں ہیں جن کا ان آیات میں ذکر کیا ہے فرمایا آیت ” انی سقیم، الصفت “ یعنی میں بیمار ہوں۔ پھر فرمایا آیت ” قال بل فعلہ، کبیرہم ہذا، (الانبیاء آیت 83) یعنی ان کے بڑے نے ایسا کیا پھر فرمایا اپنی بیوی سارہ کے بارے میں کہ وہ میری بہن ہے یہ اس وقت فرمایا جب فرعون نے حضرت سارہ کو پکڑنے کا ارادہ کیا تھا۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والحقنی بالصلحین “ یعنی مجھے جنت والوں کے ساتھ ملا دیجیے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” واجعل لی لسان صدق فی الاٰخرین “ سے مراد ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر ملت ایمان لاتی ہے۔
5۔ ابن ابی الدنیا فی الذکر وابن مردویہ حسن کے طریق سے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا جب فرض نماز کے لیے بندہ وضو کرتا ہے تو اچھی طرح وضو کرتا ہے اپنے گھر کے دروازے سے مسجد کے ارادے سے نکلتا ہے جب باہر نکلتا ہے تو یوں کہتا ہے آیت ” بس اللہ الذی خلقنی المومنین “ اللہ تعالیٰ اس کو اصواب کی طرف ہداتی دیتا ہے ابن مردویہ کے یہ الفاظ ہیں کہ وہ اچھے عمل کی وصیت دیتا ہے اور جو کہتا ہے آیت ” الذی ہو الرحمن الیستین ” تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے کھانوں میں کھلاتا ہے اور اس کو جنت کے پینے میں سے پلاتا ہے اور جو کہتا ہے آیت ” واذا مرضت فہو یشفین “ تو اللہ تعالیٰ اس کو شفا دیتے ہیں اور اس کے مرض کو گناہوں کا کفارہ بنادیتے ہیں اور جو یہ کہتا ہے آیت ” والذی یمیتنی ثم یحیین “ تو اللہ تعالیٰ اس کو نیک بختوں کی زندگی کے ساتھ زندہ رکھتا ہے۔ اور اس کو شہداء کی موت کو عطا فرماتا ہے اور جو کہتا ہے آیت ” والذی اطمع ان یغفرلی کطیئتی یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ اس کی ساری خطاؤ کو معاف فرمایا دیتا ہے اگچرہ اس کی خطائیں سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں اور جو یہ کہتا ہے آیت ” رب ہب لی حکما والحقنی بالصالحین “ تو اللہ تعالیٰ نے اسے حکم فرمایا ہے جو نیک لوگ گزر چلے اور جو باق ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ملا دیتا ہے اور جو یہ کہتے ہیں آیت ” واجعل لی لسان صدق فی الاٰخرین “ تو سفید کاغذوں میں لکھ دیا جاتا ہے کہ فلاں بن فلاں صادقین میں سے ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے صدق کی توفیق عطا فرماتا ہے جو یہ دعا کرتا ہے آیت ” من ورثۃ جنۃ النعیم “ یعنی مجھے جنت کا وارث بنا دیجیے تو اللہ تعالیٰ نے اس کیلیے محلات اور گھر جنت میں بنا دیتا ہے۔ اور حسن اس میں زیادہ فرماتے تھے اے اللہ میرے والدین کو بخش دے جیسے انہوں نے مجھے چھوٹی عمر میں پالا ہے۔
6۔ ابن جریر والحاکم وصححہ عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ کہ ابن جدعان مہمان کو کھانا کھلاتا ہے اور صلہ رحمی کرتا ہے اور ایسا ایسا کرتا ہے کیا اس کو یہ اعمال نفع دیں گے فرمایا نہیں۔ کیونکہ اس نے کسی دن بھی ایسا نہیں کہا آیت ” رب اغفرلی خطیئتی یوم الدین “ اے میرے رب میری خطاؤں کو بخش دیجیے قیامت کے دن۔
Ayahs 26:86–881۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” واغفرلابی “ سے مراد ہے کہ اس پر احسان کیجیے تاکہ وہ اس کے ذریعہ آپ کی مغفرت کا مستحق ہوجائے۔
2۔ عبد بن حمیدوابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” ولا تخزنی یوم یبعثون “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی ایمان والوں میں سے قیامت کے دن اپنے مشرک باپ کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئے گا یہاں تک کہ آگ اس کے ٹکڑے کرچکی ہوگی اور وہ امید رکھے گا کہ اس کو جنت میں داخل کردیا جائے گا تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ جنت میں مشرک داخل نہیں ہوگا وہ کہے گا اے میرے رب میرا باپ اور آپ نے وعدہ کیا تھا کہ تجھ کو رسوا نہ کروں گا راوی نے کہا کہ وہ اسے لگاتار پکڑے رہے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو بری صورت میں بدل دیں گے جو ایک نر بجو کی شکل میں بدبو دار صورت ہوگی۔ جب مومن اس کو اس حالت میں دیکھے گا تو اس سے بیزار ہوجائے گا اور کہے گا یہ میرا باپ نہیں ہے راوی نے کہا ہم دیکھتے ہیں کہ حضور ﷺ کا ارادہ کر رہے تھے مگر اس روز آپ ﷺ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نام نہیں لیا تھا۔
3۔ البخاری والنسائی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ آزار سے قیامت کے دن اس حال میں ملاقات کریں گے کہ آزر کے چہرے پر سیاہی اور گرد ہوگی ابراہیم آزر سے فرمائیں گے کہ کیا میں نے تجھ کو نہ کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر۔ ان کا باپ کہے گا آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا ابراہیم فرمائیں گے اے میرے رب آپ نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں تجھ کو رسوا نہ کروں گا جس دن مخلوق کو زندہ کر کے اٹھایا جائے گا پس باپ کی رسوائی سے بڑھ کر کونسی رسوائی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے کافروں پر جنت کو حرام کردیا ہے پھر کہا جائے گا اے ابراہیم تیرے قدموں کے نیچے کیا ہے (وہ دیکھیں گے) تو اچانک وہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہوگا پھر اس کی ٹانگوں سے پکڑ کر اس کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔
4۔ احمد نے بنو کنانہ کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کے پیچھے فتح مکہ کے دن نماز پڑھی میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ” اللہم لاتخزنی یوم القیامۃ “ (یعنی اے اللہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ فرما)
Ayah 26:891۔ ابن ابی حاتمنے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الا من اتی اللہ بقلب سلیم “ سے مراد ہے کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت ” الا من اتی اللہ بقلب سلیم “ کے بارے میں روایت کیا کہ کہا جاتا ہے کہ وہ دل جو شرک سے سلامت ہو۔
3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الا من اتی اللہ بقلب سلیم “ سے مراد ہے کہ شرک سے سلامت ہو حق کے بارے میں کوئی شک نہ ہو
4۔ عبد بن حمید نے عون (رح) نے فرمایا کہ لوگوں نے ابن سیرین (رح) کے پاس حجاج کا ذکر کیا انہوں نے فرمایا کہ جھے اس کے علاوہ سے زیادہ خوف ہے جو تم حجاج کے بارے میں باتیں کرتے ہو۔ میں نے عرض کیا وہ کیا ہے ؟ فرمایا اگر وہ اللہ سے ملاقات کرے گا قلب سلیم کے ساتھ تو وہ گناہوں کو اس سے بہتر پائے گا میں نے کہا قلب سلیم کیا ہے فرمایا اگر وہ جان لے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔