26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 26:123–140

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

قوم عاد نے پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جبکہ ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم نہیں ڈرتے

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

بلاشبہ میں تمہارے لیے امانت والا پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈروا اور میری فرمانبرداری کرو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور میں اس پر تم سے کسی عوض کا سوال نہیں کرتا، میرا ثواب تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

کیا تم ہر اونچے مقام پر کھیل کے طور پر یادگار بناتے ہو

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور بڑے بڑے محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہوگے

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب تم پکڑتے ہو تو بڑے جابرین کی گرفت کرتے ہو

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈروا اور میری فرمانبرداری کرو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس ذات سے ڈرو جس نے ان چیزوں کے ذریعہ تمہاری امداد فرمائی جنہیں تم جانتے ہو

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے چوپائے اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائی

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

باغات اور چشموں سے بھی

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

بیشک میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے نزدیک تو دونوں باتیں برابر ہیں تم نصیحت کرو یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ بنو۔

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی بات نہیں ہے کہ یہ پہلے لوگوں کی عادت ہے

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم عذاب میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے ہود کو جھٹلایا سو ہم نے انہیں ہلاک کردیا بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب عزیز رحیم ہے

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔ 2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔ 5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے ہر کشادہ راستہ دو پہاڑوں کے درمیان آیۃ “ یعنی عمارت آیت ” وتتخذون مصانع “ یعنی حمام کے بروج۔ 6۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” تعبثون “ سے مراد ہے تم کھیلتے ہو۔ 7۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتتخذون مصانع “ سے مراد ہے مضبوط محل اور ہمیشہ رہنے والی عمارتیں۔ 8۔ عبدارلزاق وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتتخذون مصانع “ سے مراد ہے پانی لینے کی جگہ اور فرمایا کہ بعض قرءت میں یوں ہے آیت ” وتتخذون مصانع لعلکم تخلدون “۔ 9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” لعلکم تخلدون “ سے مراد ہے گویا کہ تم ہمیشہ رہوگے۔ 10۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واذا بطشتم بطشتم “ سے مراد ہے جب تم پکڑو تو کوڑے اور تلوار کے ساتھ پکڑو۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بطشتم جبارین “ میں جبارین سے راد ہے طاقتور۔ 12۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بطشتم جبارین “ سے مراد ہے بہت طاقتور۔ 13۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ان ہذا الا خلق الاولین “ سے مراد ہے پہلے لوگوں کا دین۔ 14۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ان ہذا لا خلق الاولین “ سے مراد ہے پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں۔ 15۔ سعید بن منصور ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت ” ان ہذا الا خلق الاولین “ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایسی چیز ہے جس میں انہوں نے ملاوٹ کردی اور دوسرے لفظ میں وہ یوں فرماتے ہیں آیت ” اختلاق الاولی “ 16۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت ” ان ہذا الا خلق الاولین “ سے مراد ہے ان کے جھوٹ،۔ 17۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان ہذا الا خلق الاولین “ سے مراد ہے جھوٹ کی آمیزش۔ 18۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” ان ہذا الا خلق الاولین “ یعنی خاء کے رفع کے ساتھ۔ 19۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے ان ہذا الا خلق الاولین “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ اسی طرح پہلے لوگ پیدا کیے گئے اور اسی طرح ہم لوگ زندگی گزارتے ہیں جیسے انہوں نے زندگی گزاری پھر وہ مرجاتے ہیں ان پر نہ اٹھنا ہے اور نہ حساب ہے آیت ” وما نحن بمعذبین “ یعنی ہم بھی پہلے لوگوں کی طرح سے ہیں ہم اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جیسے انہوں نے زندگی بسر کی پھر ہم مرجائیں گے پھر ہم پر نہ حساب ہوگا اور نہ عذاب اور نہ ہم کو دوبارہ اٹھایا جائے گا۔
Ayahs 26:141–159

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

قوم ثمود نے پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم نہیں ڈرتے

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

بلاشبہ میں تمہارے لیے اللہ کا رسول ہوں امانت دار ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈروا اور میری فرمانبرداری کرو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

اور میں تم سے اس پر کسی عوض کا سوال نہیں کرتا، میرا اجر تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

یہاں جو کچھ ہے کیا تمہیں اسی میں امن وامان کے ساتھ چھوڑے رکھا جائے گا

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

باغیچوں میں اور چشموں میں

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتیوں میں اور کھجوروں میں جن کے گچھے گندھے ہوئے ہیں

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تم پہاڑوں کو تراش کر گھر بنالیتے ہو اتراتے ہوئے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرومیری فرمانبرداری کرو

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی بات نہ مانو جو حد سے آگے بڑھ جانے والے ہیں

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ بس تو ان لوگوں میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہو

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تو ہمارے ہی جیسا ایک آدمی ہے سو تو کوئی نشانی لے آ اگر تو سچوں میں سے ہے

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ اونٹنی ہے پانی پینے کے لیے ایک دن اس کی باری ہے اور ایک مقررہ دن میں پینے کی باری تمہاری ہے

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اور اسے برائی کے ساتھ ہاتھ مت لگاؤ ورنہ تمہیں بڑے دن کا عذاب پکڑ لے گا

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے اس اونٹنی کو کاٹ ڈالا پھر پشیمان ہوئے

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

سو انہیں عذاب نے پکڑ لیا، بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔ 3۔ الفریابی وعبد بن حمید نے یزید بن ابی زیاد سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے پکی کھجور مراد ہے اور دوسرے لفظ میں فرمایا ” المذنب “ کھجور وہ ہے جس کی ایک جانب پک چکی ہے۔ 4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے نرم۔ 5۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے نرم۔ 6۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” ہضیم سے مراد ہے جب کچی کھجور شاخوں پر جا پہنچی ہے تو وہ بڑی ہاجتی ہے۔ اسی کو ہضیم کہتے ہیں۔ 7۔ الفریبای وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ وہ خش ہوجاتی ہے۔ 8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے وہ خوشہ جب اس کو چھواجائے تو اس کے دانے گرنے لگیں۔ 9۔ ابن المنذروابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ جس میں گٹھلی نہ ہو۔ 10۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” وتنحتون “ حاء کے کسرہ کے ساتھ آیت ” والجبال بیوتا فارہین “ الف کے ساتھ۔ 12۔ ابن جریروابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فرہین “ سے مراد ہے فخر سے چلنے والا۔ 13۔ الفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فرہین “ سے مراد ہے ماہر ہیں اس کے تراشنے میں۔ 14۔ عبد بن حمید نے معاویہ بن قرۃ سے روایت کیا کہ آیت ” فرہین “ سے مراد ہے ماہر۔ 15۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فرہین “ سے مراد ہے اترانے والے۔ 16۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت ” فرہین “ سے مراد ہے انتہائی حریص 17۔ عبد بن حمید نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فرہین “ سے مراد ہے تکبر کرنے والے۔ 18۔ الفریابی وعبد بن غحمدی وابن جریر نے عبداللہ بن شدد (رح) سے روایت کیا کہ فرہین سے مرراد ہے کہ وہ تکبر کرتے ہیں۔ 19۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فرہین “ سے مراد ہے اپنے کاموں پر خوش ہوتے ہو۔ 20۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولا تطیعوا امر المسرفین “ سے مراد ہے مشرکین آیت ” انما انت من المسحرین “ سے مراد جادوگر۔ 21۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” انما انت من المسحرین “ سے مراد ہے جادو کیے ہوئے۔ 22۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والخطیب وابن وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” انما انت من المسحرین “ سے مراد ہے بوسیدہ پھر لبید بن ربیعہ کا شعر پڑھا۔ ان تسأ لینا فیم نحن فاننا عصافیر من ہذا الانام المسحر ترجمہ : اگر تو ہم سے سوال کرے کہ ہم کس حالت میں ہیں تو بلاشبہ ہم چریا ہیں ان بوسیدہ مخلوق کی 23۔ ابن الانباری فی الوقف لابتداء ابو صالح مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” من المسحرین “ سے مراد ہے دھوکہ دیا گیا۔ 24۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے پڑھا آیت ” انما انت من المسحرین “ میں حاء مشدد ہے۔ اور فرمایا ” المسحر “ سے مراد ہے ایسی رعیت جس کا کوئی بادشاہ نہ ہو۔ 25۔ ابن ابی الدنیا فی کتاب من عاش بعد الموت وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صالح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی طرف بھیجا وہ لوگ ان پر ایمان لے آئے پھر جب ان کی وفات ہوئی تو ان کی قوم کافر ہوگئی اور اسلام سے پھر گئی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے صالح کو پھر زندہ کردیا اور ان کی طرف بھیج دیا انہوں نے جا کر فرمایا میں صالح ہوں لوگوں نے کہا صالح علیہ تو فوت ہوچکے ہیں اگر تو صالح ہے تو آیت ” فات باٰیۃ ان کنت من الصدقین “ یعنی اگر تو صالح تو کوئی نشانی لے آ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اونٹنی بھیجی انہوں نے اس کو ذبح کر ڈالا اور کافر ہوگئے اور وہ ہلاک کردئیے گئے اس کو ایک جولا ہے نے ذبح کیا جس کو قدار بن سالف کہا جاتا تھا۔ 26۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ رحمۃ اللہ عیلہ سے روایت کیا کہ آیت ہذہ ناقۃ لہا شرب ولکم شرب یوم معلوم “۔ جب اس اونٹنی کے پینے کا دن ہوتا تھا تو اس کا سارا پانی پی جاتی تھی اور جب ان لوگوں کے پینے کا دن ہوتا تھا تو وہ اپنے آپ کو اپنے جانوروں کو اور اپنی زمینوں کو پانی پلاتے تھے 27۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اس اونٹنی کے پینے کا دن ہوتا تھا تو لوگ جتنا چاہتے اونٹنی ان کو دودھ دیتی تھی۔