26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 26:90–93

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور متقیوں کے لیے جنت قریب کردی جائے گی

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور گمراہوں کے لیے دوزخ ظاہر کردی جائے گی

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا کہ اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کہاں ہیں

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچاؤ کرسکتے ہیں

1۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وازلفت الجنۃ للمتقین “ سے مراد ہے کہ جنت قریب کردی جائے گی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ نے نبی ح کعب کی بیوی کے بیٹے سے روایت کیا کہ جنت کو قریب کردیا جائے گا پھر اس کو آراستہ کیا جائے گا پھر وہ دیکھیں گے اس کی طرف اللہ کی مخلوق میں سے خواہ مسلمان ہو خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو مگر دو آدمی نہ دیکھیں گے وہ آدمی جس نے قتل کیا ہوگا کسی مومن کا جان بوجھ کر اور ایک وہ آدمی جس نے کسی ذمی کو قتل کیا ہوگا جان بوجھ کر۔
Ayahs 26:94–98

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پس وہ اور سب گمراہ لوگ اس میں اوندھے منہ ڈال دئیے جائیں گے

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور ابلیس کے لشکر سب بھی

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

اور وہ لوگ دوزخ میں ہوتے ہوئے آپس میں جھگڑیں گے

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

اللہ کی قسم اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم صریح گمراہی میں تھے

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جبکہ ہم تمہیں رب العالمین کے برابر مانتے تھے

1۔ ابن جریر وابن المنذنر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فکبکبوا فیہا “ یعنی وہ جہنم میں جمع کیے جائیں گے آیت ” ہم والغاوٗن “ سے مراد ہے عرب کے مشرکین اور ان کے معبود باطلہ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فکبکو فیہا “ سے مراد ہے کہ وہ پھینکے جائیں گے۔ 3۔ الفریابی وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فکبکبوا فیہا “ یعنی آگ میں ڈالے جائیں گے۔” ہم “ یعنی معبود باطل ” والغاون “ یعنی قریش کے مشرکین آیت ” وجنود ابلیس “ سے مراد ہے ابلیس کی اولاد۔ 4۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والغاوٗن “ سے مراد ہے شیاطین۔ 5۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ قیامت کے دن پل صراط سے گزریں گے اور صراط پھسلنے کی جگہ اور پاؤں کو لڑکھڑانے والی ہے وہ جھک جائے گی کچلنے والوں کے ساتھ اور آگ ان میں سے پکڑ لے گی جب جہنم کی ناپسندیدہ آواز نکلے گی تو وہ برف کی طرح کوئی چیز ٹپکائے گی اس درمیان کہ وہ اسی حال میں ہوں گے اچانک ان کے پاس رحمن کی طرف سے آواز آئے گی اے میرے بندو دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھ ؟ تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے رب آپ جانتے ہیں کہ ہم خاص آپ ہی کی عبادت کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان کو ایسی آواز کے ساتھ جواب دیں گے کہ ایسی آواز مخلوق نے کبھی نہیں سنی میرے بندو ! مجھ پر حق ہے کہ میں آج کے دن اپنے سوا تم کو کسی کے سپرد نہ کروں میں تم کو معاف کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا ہوں پھر فرشتے کھڑے ہوجائیں گے اس کے پاس سفارش کے لیے وہ اس جگہ سے الگ ہوجائیں گے جو لوگ نیچے آگ میں ہوں گے کہیں گے آیت ” فما لنا من شافعین، ولا صدیق حمیم، فلا ان لنا کرۃ فنکون من المومنین۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آیت ” فکبکبوا فیہا ہم والغاوٗن “ کے بارے میں ابن عباس نے فرمایا میری امت اٹھائی جائے گی قیامت کے دن اس درمیان کہ وہ کھڑے ہوں گے اچانک ان کے پاس ایک آواز دینے والا اللہ کی طرف سے آئے گا کہ ناحق خون بہانے والے الگ ہوجائیں تو ان کو علیحدہ کردیا جائے گا ایک ایلی جگہ پر ان سے خون کا ایک سیلاب بہہ پڑے گا۔ ا پھر ایک پکارنے والا ان سے کہے گا اس خون کو ان کے جسموں میں لوٹادو وہ لوگ کہیں گے ہم کس طرح ان کے جسموں میں لوٹائیں ؟ پھر وہ کہے گا ان کو آگ کی طرف اکٹھا کردو اس درمیان کہ وہ گھسیٹے جائیں گے آگ کی طرف اچانک ایک آواز دینے والا آواز دے گا اور کہے گا کہ بلاشبہ ایک قوم ہے جو لا الہ الا اللہ کہتے تھے تو ان کو ایسی جگہ پر کھڑا کردیا جائے گا جہاں وہ جہنم کی تپش کو پائیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی امت کے حساب سے فارغ ہوجائے گا پھر ان لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ آیت ” ہم والغاوٗدن “ یعنی ان کے معبود باطل اور گمراہ ہونے والے آیت ” وجنود ابلیس اجمعون “ اور ابلیس کا لشکر سب کے سب ڈالے جائیں گے۔ تین مقام پر کوئی کسی کے کام نہ آئے گا 7۔ ابو الشیخ وابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ وہ دن ایسا ہوگا کہ اس میں ہماری طرف سے اللہ کے مقابلہ میں کوئی چیز کام نہیں آئے گی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں تین جگہوں پر کوئی کام نہ آئے گا میزان کے پاس روشنی اور اندھیرے کے وقت اور پل صراط کے پاس اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے سلامت رکھیں گے اور اس کو پار کردیں گے اور جس کو چاہیں گے اس کو اوندھے منہ آگ میں گرادیں گے۔ عائشہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! صراط کیا ہے ؟ فرمایا کہ جنت اور جہنم کے درمیان ایک راستہ ہے اس پر لوگ گزریں گے وہ استرے کی دھار کی طرح تیز ہے اور فرشتے صف باندھے ہوئے دائیں اور بائیں کھڑے ہوں گے ان کو اچک رہے ہوں گے آنکڑوں کے ساتھ آنکڑے سعد ان کے کانٹوں جیسے ہوں گے اور وہ کہتے ہوں گے اے اللہ مجھے سلامت رکھیے مجھے سلامت رکھیے آیت ” وافئدتہم ہواء “ یعنی ان کے دل اڑے ہوئے ہوں گے جس کو اللہ تعالیٰ چاہیں گے اس کو سلامت رکھیں گے اور جس کو چاہیں گے اس کو اوندھے منہ آگ میں گرادیں گے۔
Ayahs 26:99–104

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہمیں گمراہ نہیں مگر مجرموں نے

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

سو ہمارے لیے نہ سفارش کرنے والے ہیں

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی مخلص دوست ہے

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

سو کیا اچھا ہوتا کہ ہم کو پھر واپس ہونا نصیب ہوجاتا سو ہم اہل ایمان میں سے ہوجاتے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ کا رب عزت والا ہے رحم والا ہے

1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فما لنا من شافعین “ سے مراد کہ نہ آسمان والوں میں سے کوئی ہماری سفارش کرنے والا اور آیت ” ولا صدیق حمیم “ اور نہ زمین والوں میں سے کوئی غمخوار دوست ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولا صدیق حمیم “ سے مراد ہے کوئی دوست شفقت کرنے والا نہیں ہے جو سفارش کرے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فلو ان لنا کرۃ “ یعنی اگر ہمارے لیے لوٹنا ہوتا دنیا کی طرف آیت ” فنکون من المؤمنین “ تو ہم ایمان والے ہوتے یہاں تک کہ ہمارے لیے بھی سفارش حلال ہوجاتی جیسے ان مومنین کے لیے حلال ہوئی واللہ اعلم۔
Ayahs 26:105–122

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جبکہ ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کیا تم نہیں ڈرتے

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

بلاشبہ میں تمہارے لیے امانت والا پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈروا اور میری فرمانبرداری کرو۔

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں اس پر تم سے کسی عوض کا سوال نہیں کرتا، میرا ثواب تو بس رب العالیمین کے ذمہ ہے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈروا اور میری فرمانبرداری کرو

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

ان لوگوں نے جواب دیا کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں حالانکہ تیرے پیچھے رذیل ترین لوگ لگے ہوئے ہیں

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ مجھے ان کے کاموں کے جاننے کی کیا ضرورت ہے

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان سے حساب لینا تو میرے رب ہی کا کام ہے، کاش تم سمجھ رکھتے

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں ایمان والوں کو دور کرنے والا نہیں ہوں

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو بس واضح طور پر ڈرانے وال اہوں

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

ان لوگوں نے جواب دیا کہ اے نوح اگر تو باز نہ آیا تو ان لوگوں میں سے ہوجائے گا جنہیں سنگسار کردیا جاتا ہے

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

نوح نے عرض کیا کہ اے میرے رب بلاشبہ میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

سو آپ میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرمادیجیے اور مجھے جو ایمان والے میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے دیجیے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

سو ہم نے نوح کو اور اس کے ساتھیوں کو جو بھری ہوئی کشتی میں تھے نجات دیدی

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر ہم نے اسکے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور بلاشبہ تیرا رب عزیز ہے رحیم ہے

قوم نوح کا تذکرہ 1۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قالوا انومن لک “ یعنی کیا ہم تیری تصدیق کریں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ یعنی تیری تابعداری کی ہے گھٹیا لوگوں نے یعنی جولا ہوں نے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے نیچے درجے کے کمینے لوگ 4۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے جولا ہے۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان حسابہم الا علی ربی “ یعنی اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ 6۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لئن لم تنتہ ینوح لتکونن من المرجومین “ یعنی پتھروں کے ساتھ تم پر بارش نہ کیا جائے۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لتکونن من المرجومین “ یعنی تم کو ضرور گالیاں دی جائیں گے۔ 8،۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فافتح بینی وبینہم فتحا “ سے مراد ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرمادیجیے۔ ابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 9۔ الطستی نے حضرت ابن عباس رضی الہ عنہما سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق (رح) نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” فی الفلک المشحون “ کے بارے میں بتائیے کہ اس سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے بھری ہوئی کشتی پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ہاں کیا تو نے عبد بن ابرص کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ شحنا ارضہم بالخیل حتی ترکناہم اذال من الصراط ترجمہ : ہم نے بھردیا ان کی زمین کو گھوڑوں سے یہاں تک کہ ہم نے ان کو راستہ سے زیادہ تر دیل سے چھوڑا۔ 10۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم سعید بن جبیر کے طریق سے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ فی الفلک المشحون “ سے مراد ہے بھری ہوئی کشتی۔ 12۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ فی الفلک المشحون “ سے مراد ہے وہ کشتی جو سامان سے بھری ہوئی ہو۔ 13۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فی الفلک المشحون “ سے مراد ہے سامان سے بھری ہوئی۔ 14۔ عبدبن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فی الفلک المشحون “ سے مراد ہے کہ سامان سے بھری ہوئی۔ 15۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی الفلک المشحون “ سے مراد ہے بوجھل 16۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فی الفلک المشحون “ سے مراد ہے نوح (علیہ السلام) کی کشتی۔