26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 26:10–51

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور جب آپ کے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم قوم یعنی فرعون کے پاس چلے جاؤ

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

کیا یہ لوگ ڈرتے نہیں ہیں

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا سینہ تنگ ہونے لگتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی لہٰذا ہارون کو بھی پیغمبر بنا دیجیے

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور مجھ پر ان لوگوں کا جرم ہے لہٰذا میں اس بات سے ڈرتا ہے کہ مجھے قتل کرڈالیں

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہرگز ایسا نہیں ہوگا سو تم دونوں ہماری آیات لے کر جاؤ بیشک ہم تمہارے ساتھی ہیں سننے والے ہیں

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

سو تم فرعون کے پاس جاؤ اور یوں کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے پیغمبر ہیں

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

یہ کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے اپنے پاس رکھ کر اس وقت نہیں پالا جب تو نو مولود تھا اور تو ہمارے اندر اپنی عمر کے برسہا برس رہا ہے

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تو نے وہ کام کیا جو تو نے کیا اور تو ناشکروں میں سے ہے

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا یہ فعل میں نے اس وقت کیا تھا جبکہ میں چوک جانے والوں میں سے تھا

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

سو میں تمہارے یہاں سے فرار ہوگیا جب مجھے تمہاری طرف سے ڈر لگا، سو میرے رب نے مجھے دانشمندی عطا فرمائی اور مجھے پیغمبروں میں شامل فرمادیا

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور وہ جو تو مجھ پر اپنا احسان جتلا رہا ہے سو اس کی وجہ یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعوان نے کہا اور رب العالمین کون ہے ؟

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا کہ رب العالمین وہی ہے جو آسمانوں کا اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون اپنے آس پاس کے بیٹھنے والوں سے کہنے لگا کیا تم سنتے نہیں ؟

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ وہ تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی رب ہے

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ بلاشبہ تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ وہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے اگر تم سمجھتے ہو

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تو نے میرے علاوہ کوئی معبود بنایا تو میں ضرور تجھے قیدیوں میں شامل کردوں گا

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح دلیل پیش کردوں

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے تو دلیل پیش کردے

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

اس پر موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا سو وہ اچانک واضح طور پر اژدھا بن گیا

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ نکالا سو وہ اچانک دیکھنے والوں کے لیے سفید ہوگیا تھا

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

قوم کے سردار جو فرعون کے آس پاس موجود تھے ان سے فرعون نے کہا کہ بلاشبہ یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم لوگوں کو تمہارے سرزمین سے نکال دے سو بتاؤ تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ اس شخص کو اور اس کے بھائی کو مہلت دو اور شہروں میں اپنے کارندوں کو بھیج دو جن کا یہ کام ہو کہ لوگوں کو جمع کریں

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

تمہارے پاس ہر بڑے ماہر جادوگر کو لے آئیں

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

سو ایک مقررہ دن کے خاص وقت پر جادوگر جمع کیے گئے

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم جمع ہونے والے ہو

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

شاید ہم جادگروں کی راہ کو قبول کرلیں اگر وہ غالب ہوجائیں گے

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

جب جادوگر آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم غالب ہوگئے تو کیا یقینی طور پر ہمیں کوئی بڑا انعام ملے گا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں اور اس میں شک نہیں کہ اس صورت میں تم مقرب لوگوں میں داخل ہوجاؤ گے

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ تم ڈال دو جو کچھ ڈالنے والے ہو

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور فرعون کی عزت کی قسم کھا کر بولے کہ بلاشبہ ہم ہی غالب ہوں گے

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

سو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا سو اچانک وہ ان لوگوں کے بنائے ہوئے دھندے کو نگلنے لگا

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

پھر جادوگر سجدے میں ڈال دئیے گئے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

کہنے لگے ہم رب العالمین پر ایمان لائے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا کیا تم اس پر اس سے پہلے ایمان لے کر آئے کہ میں تمہیں اجازت دوں بیشک بات یہ ہے کہ یہ تم سب کا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے سو یہ ضروری بات ہے کہ تم عنقریب جان لوگے میں ضرورضرور تمہارے ہاتھوں کو اور پاؤں کو مخالف جانب سے کاٹ دوں گا اور ضرور ضرور تمہیں سولی پر لٹکادوں گا

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ کوئی حرج نہیں بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطاؤ کو اس وجہ سے بخش دے گا کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو پالا یہاں تک کہ آپ جوان بن گئے آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ یعنی ایک انسان کو تو نے قتل کیا جو تو نے قتل کیا آیت ” وانت من الکافرین “ فرمایا اللہ کے نبی اس سے بری ہیں آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی میں سے فرمایا بعض قرائت اذا کی بجائے اذان وانا من الجہلین ‘ یعنی کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جس سے ناواقف تھے آپ نے اس کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت وانت من الکفرین “ یعنی فرعون نے موسیٰ پر احسان جتایا کہ اس نے ان کو پالا تھا اور کہتا تھا کہ تو نے میری نعمت کی ناشکری کی۔ 5۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتلک نعمۃ تمنہا علی ان عبدت بنی اسرائیل سے مراد ہے کہ تو ان پر غلبہ پاچکا ہے۔ 6۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت وانت من الکفرین “ یعنی فرعون نے کہا تو نے نعمت کی ناشکری اور فرعون نہیں جانتا تھا کہ ناشکری کیا ہوتی ہے آیت ” قال فعلتہا اذا وانا من الضالین “ موسیٰ نے فرمایا کہ میں نادانوں میں سے تھا۔ 7۔ ابو عبید وابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود کی قرات میں یوں ہے آیت فعلتہا اذا وانا من الجہلین “ میں اذا کی بجائے اذن ہے۔ 8۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فوہب لی ربی حکما “ میں حکم سے مراد نبوت ہے 9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتلک نعمۃ تمنہا علی “ سے مراد ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے فرمایا کیا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور وہ آزاد تھے تو ان پر غالب آگیا اور ان کو غلام بنا لیا۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قال فرعون وما رب العالمین “ سے لے کر آیت ” ان کنتم تعقلون “ تک کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ اس نے یہ اضافہ مجبور ہو کر کیا۔ 11۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فالقی عصاہ فاذا ہی ثعبان مبین “ یعنی اس کے لیے سانپ کی صورت ظار ہوگئی آیت ’‘ ونزع یدہ “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان سے نکالا آیت ” فاذاہی بیضاء “ یعنی وہ چمک رہا تھا آیت ” لنظرین “ یعنی دیکھنے والا اسے دیکھ رہا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی والدہ کے پاس مہمان بننا 12۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بیوی کو لے کر مصر کی طرف چلے یہاں تک کہ ان کے پاس رات کو آئے اور اپنی ماں کے مہمان بنے اور وہ رات کی وجہ سے ان کو نہیں پہچانتے تھے۔ موسیٰ اور اس کی بیوی گھر کی ایک جانب میں اتر گئے ہارون آئے جب اپنے مہمان کو دیکھا تو اس کے بارے میں اپنی ماں سے پوچھا اس نے بتایا کہ وہ مہمان ہیں حضرت ہارون (علیہ السلام) نے مہمان کو دعوت دی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ کھانا کھایا جب دونوں نے اکٹھے آپس میں باتیں کیوں تو ہارون نے ان سے پوچھا آپ کون ہیں فرمایا میں موسیٰ ہوں پھر دونوں ایک دوسرے کے لیے اٹھے اور معانقہ کیا جب دونوں کا تعارف ہوگیا تو موسیٰ نے ان سے فرمایا اے ہارون میرے ساتھ فرعون کی طرف چلوکیون کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے ہارون نے فرمایا میں نے اللہ کے حکم کو سنا اور اطاعت کی یہ سن کر ان کی ماں کھڑی ہوگئی اور چیخنے لگی اور کہنے لگی میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ تم دونوں فرعون کی طرف نہ جاؤ وہ تم دونوں کو قتل کردے گا۔ دونوں نے انکار کیا اور رات کو اس کی طرف چل دئیے دونوں دروازہ پر آئے اور اس کو مارا یعنی کھٹکھٹایا فرعون اور چوکیدار گھبرا گئے فرعون نے کہا کون ہے جو میرا اس وقت دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے ؟ چوکیدار کے پاس آئے اور ان سے بات کی موسیٰ نے اس سے فرمایا آیت ” انا رسول رب العالمین “ چوکیدار گھبرا گیا فرعون کے پاس آیا اور اسکو خبردی کہ یہاں ایک انسان ہے جو جنون ہے اور وہ گمان کرتا ہے کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں اس نے کہا اس کو اندر لے آؤ موسیٰ (علیہ السلام) اندر گئے اور فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ آیت ” قال فرعون وما رب العالمین “ یعنی فرعون نے کہا رب العالمین کیا ہے ؟ فرمایا ” آیت ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ہدی (طہ : 50) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا پھر اس کو راستہ دکھایا فرعون نے کہا آیت ” ان کنت جئت باٰیۃ فات بہا ان کنت من الصدقین، اگر تو کوئی نشانی لایا ہے تو اس کو لے آ اگر تو سچوں میں سے ہے آیت ” فالقی عصاہ فاذا ہی ثعبان مبین (العارف آیت) ثعبان نر سانپوں میں سے ایک سانب ہے جو اپنے منہ کو کھولے ہوئے تھا اس کا نیچے والا جبڑا زمین میں اور اوپر والا جبڑا دیوار پر تھا پھر وہ سانپ فرعون کی طرف جانے لگا تاکہ اس کو پکڑے جب اس نے آتے ہوئے دیکھا تو خوف زدہ ہوگیا اور اچھلا اور اسے حدث لاحق ہوئی اور اس سے ہلوے وہ ہوا خارج نہیں کرتا تھا اور چیخنے لگا کہ اے موسیٰ اس کو پکڑ میں تیرے اوپر ایمان لاؤں گا۔ اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دوں گا موسیٰ نے اس کو پکڑ لیا تو وہ لاٹھی بن گیا۔ جادوگروں نے آپ میں سرگوشی کی اور کہا، آیت ” ان ہذا لسحر علیم یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحرہ (طہ آیت 63) یعنی یہ دونوں جادوگر ہیں یہ ارادہ کرتے ہیں کہ تم کو تمہاری زمین سے جادو کے زریعہ نکال دیں موسیٰ اور جادوگروں کے امیر آپس میں ملے موسیٰ نے اس سے فرمایا تو مجھ کو بتا اگر میں کل تم پر غالب آجاؤں تو مجھ پر ایمان لائے گا اور تو گواہی دے گا کہ جو میں لایا ہوں وہ حق ہے جادو گر نے کہا کل کو ہم ضرور ایسا جادو لائیں گے کہ کوئی چیز اس پر غالب نہ آسکے گی اور اللہ کی قسم اگر تو مجھ پر غالب آگیا تو میں ضرور تیرے اوپر ایمان لاؤں گا اور ضرور میں گواہی دوں گا کہ تو حق پر ہے اور فرعون ان دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ 13۔ ابن جریر نے ابن زید ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وقیل للناس ہل انتم مجتمعون “ یعنی یہ لوگ اسکندریہ میں تھے اور یہ بات بھی کی جاتی تھی کہ اس سانپ کی دم اس دن بحیرہ کی دوسری جانب پہنچی تھی راوی نے کہا کہ وہ لوگ شکست کھاگئے اور فرعون سرنگوں ہوگیا تو سانپ نے فرعون کا ارادہ کیا فرون نے کہا اے موسیٰ اس کو پکڑ اور فرعون اس روز لوگوں کی نسبت سانپ سے زیادہ قریب تھا وہ زمین پر کوئی چیز نہیں رکھتا تھا کہ وہ اس روز اس کے نیچے پاخانہ کردیتا سانپ سبز قبہ میں چھوڑا گیا تھا۔ 14۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وقالوا بعذۃ فرعون انا لنحن الغلبون۔ انہوں نے یہ قسم اٹھائی مگر اللہ تعالیٰ کو فرعون سے زیادہ غالب پایا۔ 15۔ ابن ابی حاتم نے بشر بن منصور (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جب ان میں سے بعض نے کہا آیت ” وقالو ا بعزۃ فرعون “ یعنی انہوں نے کہا فرعون کی عزت کے ساتھ ہم ہی غالب ہوں گے فرشتوں نے کہا کعبہ کے رب کی قسم آج فرعون کی ہلاکت ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم میرے خلاف قسمیں اٹھاتے ہو میں نے ان کو چالیس سال مہلت دی ہے۔ 16۔ ابن جریر نے ابن زید ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” لاصبر “ یعنی جو تو کہتا ہے کہ ہم کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اگر تو ہمارے ساتھ وہ سلوک اور ہم کو سولی پر لٹکائے آیت ” انا الی ربنا منقلبون “ یعنی یہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں اور وہ ہم کو ان اعمال پر بدلہ دے گا جو تو نے ہم کو سزا دی اور ہم نے اس پر صبر کیا اور ہمارا ثابت رہنا اس کی توحید پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے سے براءت کا اظہار کرنے پر اور اللہ تعالیٰ کا فرمان آیت ” ان کنا اول المومنین “ یعنی وہ جادوگر اس دن ان لوگوں میں سے پہلے تھے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کو دیکھ کر ایمان لائے۔