26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 26:160–175

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

لوط کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایاّ

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جبکہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا کہ تم نہیں ڈرتے

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں بلاشبہ تمہارے لیے اللہ کا رسول ہوں امانت دار ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور میں تم سے اس پر کسی عوض کا سوال نہیں کرتا، میرا اجر تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تمام دنیا جہان والوں میں سے تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہارے رب نے جو تمہارے لیے ببیاں پیدا فرمائی ہیں ان کو چھوڑتے ہو بلکہ تم حد سے آگے بڑھ جانے والے لوگ ہو

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ اے لوط اگر تم باز نہ آئے تو تم ضرور نکال دئیے جانے والے لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

لوط نے کہا کہ میں تمہارے کام سے بغض رکھنے والوں میں سے ہوں۔

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے میرے رب مجھے اور میرے گھروالوں کو ان کے کاموں سے نجات دیجیے

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

سو ہم نے لوط کو اور اس کے تمام گھروالوں کو نجات دیدی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

سوائے ایک بڑھیا کے، وہ باقی رہ جانے والوں میں سے تھی

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر خاص قسم کی بارش برسادی سو کیا ہی بری بارش تھی جو ان لوگوں پر برسائی گئی جن کو ڈرایا گیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے

قوم لوط کا تذکرہ۔ 1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم نے چھوڑدیا ہے عورتوں کے سامنے سے اپنی خواہش کو پوری کرنے کو اور مردوں اور عورتوں کی پشت کی طرف خواہش پوری کرنے لگے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ماخلق لکم ربکم من ازواجکم “ سے مراد ہے کہ حصہ جو تمہارے لیے من اس تھا یعنی قبل اس کو تم نے چھوڑ دیا۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربم من ازواجکم “ کے بارے میں فرمایا کہ تم نے عورتوں کے اگلے حصہ کو چھوڑ دیا اور مردوں کی دبر میں خواہش پوری کرنے لگے۔ 4۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ بل انتم قوم عدون “ سے مراد ہے حد سے تجاوز کرنے والے 5۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ سے قراءت میں یوں تھا آیت ” وواعدنا ان یومئذ اجمعین الا عجوزا فی الغبرین “ 6۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا عجوزا فی الغبرین “ سے لوط (علیہ السلام) کی بیوی مراد ہے جو عذاب میں ٹھہری رہی۔ 7۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” فی الغبری “ کے بارے میں بتائیے فرمایا باقی رہنے والے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے عبید بن ابرص کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ ذہبوا وخلفنی المخلف فیہم فکاننی فی الغابری غریب ترجمہ وہ چلے گئے اور چھوڑنے والے نے مجھے ان میں چھوڑدیا کہ میں باقی رہنے والوں میں اجنبی ہوں۔
Ayahs 26:176–191

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

ایکہ والوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جبکہ ان سے شعیب نے کہا کیا تم نہیں ڈرتے

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے لیے رسول امین ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈروا اور میری فرمانبرداری کرو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور تم سے اس پر کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا میرا ثواب تو بس رب العالمین ہی کے ذمہ ہے

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

تم پورا ناپا کرو اور نقصان میں ڈالنے والے مت بنو۔

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور ٹھیک طرح سے وزن کیا کرو

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر مت دیا کرو اور زمین میں فساد کرنے والے نہ بنو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس ذات سے ڈروجس نے تم کو اور تمام اگلی مخلوقات کو پیدا فرمایا

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

ان لوگوں کے کہا بات یہی ہے کہ تو ان لوگوں میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہو

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تو ہمارے ہی جیس ایک آدمی ہے اور بیشک ہم تجھے جھوٹوں ہی میں سے خیال کرتے ہیں

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

سو اگر تو سچوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادے

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

شعیب نے کہا کہ تم جو کام کرتے ہو انہیں میرا رب خوب جانتا ہے

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے انہیں جھٹلایا لہٰذا ان لوگوں کو سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا، بےوہ بڑے دن کا عذاب تھا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے۔

1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” لی کہ “ سے مراد ہے ” الایکۃ “ 2۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” کذب اصحب الئیکۃ المرسلین، کے بارے میں روایت کیا یہ لوغ غیضہ والے تھے سمندر کے ساحل سے مدین تک رہائش پذیر تھے اور تحقیق ہلاک کیے گئے ان برے اعمال کی وجہ سے و وہ کرتے تھے اور ایکہ والے شرک کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مدین والوں کے طریقے اپنا لیے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آیت ” انی لکم رسول امین، فاتقوا اللہ واطیعون، (یعنی میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈروا اور میری اطاعت کرو آیت ” وما اسئلکم “ (یعنی میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا اس چیز پر کہ جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں “ آیت ” ان اجری الا علی رب العالمین “ کیونکہ میرا اجر ” رب العالمین “ کے ذمہ ہے آیت ” واتقوا الذی خلقکم والجبلۃ اور اس ذات سے ڈروا جس نے تم کو اور پہلے لوگوں کو پیدا فرمایا آیت الاولین۔ یعنی پہلے لوگوں کو جو نگاہوں کی وجہ سے ہلاک کردئیے گئے اور ان جیسے اعمال کر کے تم ہلاک ہوجاؤ۔ آیت ” قالوا انما انت من المسحرین “ انہوں نے کہا تو بھی بوسیدہ ہونے والوں میں سے ہے۔ آیت ” وما انت الا بشر مثلنا وان نظنک لمن الکذبین (یعنی نہیں ہے تو مگر ان کی طرح اور ہم تجھ کو جھوٹوں میں سے شمار کرتے ہیں آیت ” فاسقط علینا کسفا من السماء “ یعنی ہم پر کوئی ٹکڑا آسمان سے گرادے آیت ” فاخذہم عذاب یوم الظلۃ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جہنم سے گرم ہوا بھیج دی وہ سات دن تک ان پر چلتی رہی یہاں تک کہ گرمی نے ان کو پکادیا ان کے گھروں کو گرم کردیا، چشموں اور کنوؤں میں پانی جوش مارنے لگا۔ گرمی سے وہ لگ نکلے اپنے گھروں سے اپنے سے محلوں سے بھاگتے ہوئے۔ اور گرم ہوا ان کے ساتھ تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر سورج کو مسلط کردیا اس نے ان کو ڈھانک لیا یہاں تک کہ اس میں ان کی کھونپڑیاں ابلنے لگیں اور اللہ تعالیٰ نے نیچے سے ان پر سخت گرمی مسلط کردی یہاں تک کہ گوشت ان کے پاؤں پر گرپڑے پھر ان کے لیے ایک سایہ پیدا کردیا جیسے سیاہ بادل جب اس کو دیکھا تو اس سے سایہ حاصل کرنے کے لیے جلدی کرنے لگے یہاں تک کہ جب سارے اس کے نیچے اکٹھے ہوگئے تو ان کے عذاب نے ڈھانک لیا اور وہ ہلاک کردیے گئے اور اللہ تعالیٰ نے شعیب اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دی۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والجبلۃ الاولین “ سے مراد ہے پہلی مخلوق۔ 4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والجبلۃ الاولین “ سے مراد ہے پہلی مخلوق۔ 5۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فاسقط علینا کسفا من السماء “ یعنی ٹکڑا آسمان سے۔ 6۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ مدین والے تین قسم کا عذاب دئیے گئے ان کو ایک زلزلے نے پکڑ لیا جبکہ وہ گھروں میں موجود تھے یہاں تک کہ وہ اپنے گھروں سے نکل آئے جب وہ اس سے نکلے تو ان کو شدید خوف نے آلیا وہ گھروں میں داخل ہونے سے ڈر گئے کہ کہیں ان پر گھر گر نہ پڑیں اللہ تعالیٰ نے اس پر سایہ بھیج دیا ایک آدمی اس کے نیچے داخل ہوا تو اس نے کہا میں نے تو آج کے دن کی طرح پاکیزہ اور ٹھنڈا سایہ نہیں دیکھا اے لوگوآجاؤ اس سائے کے نیچے سب لوگ داخل ہوگئے تو ان کے درمیان ایک خوفناک آواز آئی تو سب کے سب مرگئے۔ 7۔ ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اصحب الا یکۃ “ سے مراد ہے درخت والے اور وہ قوم شعیب ہے اور اصحاب الرس سے کنویں والے مراد ہیں یہ بی شعیب کی قوم تھی۔ قوم شعیب پر عذاب کا ذکر 8۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے شعیب (علیہ السلام) کو ایکۃ والوں کی طرف بھیجا ایکہ سے مراد جنگل ہے انہوں نے ان کو جھٹلایا تو ان کو سایہ کے دن کے عذاب نے پکڑ لیا راوی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا۔ ان کو ایسی گرمی نے ڈھانک لیا جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے تھے پھر انہوں نے پانی اور دوسری چیزوں سے ٹھنڈک حاصل کرلی جن پر وہ قدرت رکھتے تھے اس درمیان کے وہ اسی حالت میں تھے اچانک ایک بادل ان کے لیے اوپر اٹھایا گیا جس میں ٹھنڈی پاکیزہ ہواتھی۔ جب انہوں نے اس کی ٹھنڈک کو پایا تو وہ سب کے سب بادل کی طرف چلے وہ اس کے پاس آئے تاکہ وہ اس سے ٹھنڈک حاصل کریں اور وہ ہر چیز سے باہر نکل آئے جس میں وہ تھے جب سارے کے سارے اس کے نیچے جمع ہوگئے تو ان کو عذاب نے ڈھانک لیا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ آیت ” فاخذہم عذاب یوم الظلۃ “ کہ ان کو عذاب نے پکڑ لیا سایہ کے دن۔ 9۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے گرمی کو شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر مسلط کردیا سات دن اور راتیں یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے سائے اور پانی کی ٹھنڈک سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکتے تھے۔ پھر ان کے لیے ایک بادل کھلے میدان میں بلند کیا گیا اور انہوں نے اس کے نیچے آرام پایا۔ تو ان کے بعض نے بعض کو پکارنا شروع کیا یہاں تک کہ سب جمع ہوگئے سا سائے کے نیچے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر آگ کو بھڑکا دیا اسی کو فرمایا آیت ” فاخذہم عذاب یوم الظلہ “ یعنی ان کو پکڑ لیا عذاب نے سایہ کے دن۔ حرارت و گرمی کا عذاب 10۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے آیت ” فاخذہم عذاب یوم الظلۃ “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت حرار اور رات کی گرمی کو بھیج دیا جس نے ان کی سانسوں کو پکڑ لیا اور وہ گھروں کے تہہ خانوں میں داخل ہوگئے تو یہ عذاب ان کے گھروں کے تہہ خانوں میں داخل ہوگیا۔ عذاب نے ان کی سانسوں کو پکڑلیاوہ گھروں سے بھاگتے ہوئے کھلے میدان کی طرف نکل گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بادل کو بھیج دیا جس نے ان کو سورج کی گرمی سے سایہ کردیا تو انہوں نے اس سایہ کی ٹھنڈک اور راحت کو پایا تو ان کے بعض نے بعض کو پکارا یہاں تک کہ جب سب اس کے نیچے جمع ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر آگ کو گرادیا اسی کو فرمایا ” عذاب یوم الظلۃ “ 11۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے آیت ” فاخذہم عذاب یوم الظلۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر گرمی کو مسلط کردیا سات دن کہ کوئی سایہ ان کے لیے نہیں تھا۔ اور اس میں سے کوئی چیز بھی ان کو نفع نہ دیتی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک بادل کو بھیجا تو وہ لوگ اس کی طرف آگئے کہ اس کے سائے میں آرام کی تلاش کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس بادل کو ان پر عذاب کا باعث بنادیا کہ برسناے والی آگ نے ان کو جلادیا۔ ان پر آگ کو بھیجا گیا جو بھڑک اٹھی اور ان کو کھاگئی یہی عذاب ” یوم الظلۃ “ ہے۔ 12۔ عبد بن حمید نے علقمہ (رح) سے آیت ” فاخذہم عذاب یوم الظلۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو ایسی گرمی پہنچی یہاں تک کہ ان کے گھروں میں اتنا پریشان کردیا کہ وہ باہر نکل آئے پھر ان کے لیے بادل کو بلند کیا گیا وہ لوگ اس کی طرف چلے جب اس کا سایہ لینے لگے تو ان پر عذاب بھیج دیا گیا اس طرح پر کہ ان میں سے کوئی بھی نہ بچا۔ 13۔ الحاکم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو دراہم کاٹنے سے منع کرتے تھے تو انہوں نے نہ مانا آیت ” فاخذہم عذاب یوم الظلۃ “ یعنی ان کو سائے کے دن عذاب نے پکڑ لیا) یہاں تک کہ جب سب سایہ میں جمع ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے سائے کو ہٹا دیا اور ان پر سورج کر گرم دیا سو ہو لگ جل گئے جیسے مکڑی دیگچی میں جل جاتی ہے۔ 14۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم نے مجاہدر حمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت ” فاخذہم عذاب یوم الظلۃ “ سے مراد ہے کہ عذب کا سایہ ان پر آگیا۔ 15۔ الفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ علماء میں سے جو تجھ کو بیان کرے کہ ” عذاب یوم الظلۃ “ کیا ہے تو فرمایا اس سے مراد ہے کہ ان شدید گرمی نے آلیا۔ اور ان کو ان کے گھروں سے پریشانی کے عالم میں باہر نکال دیا۔ ان کے لیے ایک بادل تیار کیا گیا تو وہ سب لوگ اس بادل کے پاس آئے تو اس میں ایک چیخ ماری گئی جس سے وہ سب ہلاک ہوگئے واللہ اعلم۔