20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 20:116–122

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے لئے سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا اس نے انکار کردیا۔

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

سو ہم نے کہا اے آدم بلاشبہ یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے سو یہ ہرگز دونوں کو جنت سے نہ نکال دے سو تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارے لئے یہاں یہ بات ہے کہ تم اس میں نہ بھوکے رہوگے اور نہ ننگے رہو گے۔

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور نہ یہاں تم پیاسے رہوگے اور نہ تمہیں دھوپ لگے گی۔

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

شیطان نے ان کی طرف وسوسہ ڈالا وہ کہنے لگا کہ اے آدم کیا میں تمہیں ہمیشگی والا درخت اور ایسی بادشاہی نہ بتادوں جس میں کبھی ضعف نہ آئے۔

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

سو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا سو ان کی شرم کی جگہیں ایک دوسرے کے سامنے کھل گئیں اور وہ دونوں اپنے ا وپر جنت کے پتے چپکانے لگے، اور آدم نے اپنے رب کی نافر مانی کی سو وہ غلطی میں پڑگئے۔

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر ان کے رب نے انہیں چن لیا سو ان کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں ہدایت پر قائم رکھا۔

1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے (آیت) ” فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی “ کے بارے میں روایت کیا کہ میری مراد سے دنیا کی مشقت ہے پاس ابن آدم دنیا کی مشقت اور تکلیف کو اٹھاتا ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے نے سفیان عینہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ” فتشقیان “ نہیں فرمایا (بلکہ فتشقی فرمایا) اس لئے کہ بیوی آپ کے حکم میں داخل تھی پس آپ کی بیوی اور آپ کی تمام اولاد مراد ہے جیسا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا ہے لیکن اس سے مراد ساری امت ہے۔ (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم “ اور یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک، تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم (1) قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم “ (التحریم آیت 2) ۔ 3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابونعیم نے حلیۃ میں اور ابن عساکر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ آدم جب زمین کی طرف اتارے گئے تو ایک چتکبرابیل آپ کے پاس آیا تھا ان سے کہا گیا اس پر کام کرو تو آپ اس سے ہل چلاتے تھے اور پیشانی سے پسینہ پونچھتے تھے اور فرماتے تھے یہ وہ ہے جو مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے (آیت) ” فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی “ پھر آواز دی حواء کو اے حواء ! کیا تو نے اس میں عمل کیا ؟ بنی آدم میں سے جو بھی عمل کرتا ہے بیل پر تو وہ کہتا ہے حواء ان پر داخل ہوگئی آدم (علیہ السلام) کی طرف سے۔ جنت کی خصوصیات : 4:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) وانک لا تظموا فیھا ولا تضحی “ کے بارے میں روایت کیا کہ یعنی آپ کو نہ پیاس لگے گی اور نہ گرمی پہنچے گی۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاتظموا “ یعنی نہ تو پیاسا ہوگا (آیت) ” ولا تضحی “ اور نہ تجھ کو گرمی پہنچے گی۔ 6:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق (رح) نے اللہ تعالیٰ نے اس قول (آیت) وانک لا تظموا فیھا ولا تضحی “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس کا معنی ہے کہ دھوپ کی شدت سے پسینہ نہیں آئے گا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : رأت رجلا أما اذا الشمس عارضت فیضحی واما بالعشی فیخصر : ترجمہ : اس نے ایک آدمی کو دیکھا جب اسے سورج کی دھوپ لگتی ہے تو اسے پسینہ آجاتا ہے اور جب شام ہوتی ہے تو سردی لگ جاتی ہے۔ 7:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تضحی “ سے مراد ہے کہ تجھ کو سورج کی گرمی نہیں پہنچے گی۔ 8:۔ احمد، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے کہ ایک شہسوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے گا تو اس کو طے نہیں کرسکے گا اور یہ شجرۃ الخلد یعنی خلد کا درخت ہے۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو کیسے بھکایا : 9:۔ عبدالرزاق عبد بن حمید حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور اس کی بیوی کو جنت میں ٹھہرایا اور اس کو ایک درخت سے منع فرمایا تو آدم (علیہ السلام) نے اس کی ٹہنیوں کو دیکھا کہ وہ آپ میں ملی ہوئی ہیں اور اس کا ایک پھل ہے جس کو فرشتے کھاتے ہیں تاکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں اور یہ وہی پھل تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور اس کی بیوی کو منع کیا تھا جب ابلیس نے ان دونوں کو نیچے اتارنے کا ارادہ کیا تو سانپ کے منہ میں داخل ہوگیا اور سانپ کی چار ٹانگیں تھیں گویا کہ وہ بختی اونٹ ہے اللہ تعالیٰ نے اسے خوبصورت جانور بنایا تھا جب سانپ جنت میں داخل ہوا تو ابلیس اس کے منہ میں سے باہر نکل آیا اور اس درخت میں سے لے لیا جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور اس کی بیوی سے منع کیا تھا اور اس کو حوا کے پاس لے آیا اور کہا اس درخت کی طرف دیکھ کتنی اچھی خوشبو ہے کتنا اچھا اس کا ذائقہ ہے اور کتنا اچھا اس کا رنگ ہے ؟ حوا نے اس کو لے کر کھالیا پھر اس کو لے کر آدم (علیہ السلام) کے پاس گئی اور کہنے لگی اس درخت کی طرف دیکھ کتنی اچھی اس کی خوشبو ہے کتنا اچھا اس کا ذائقہ ہے کتنا اچھا اس کا رنگ ہے آدم (علیہ السلام) نے بھی اس سے کھالیا (آیت) ” فبدت لھما سواتھما “ (یعنی ان کی شرم گاہیں ظاہر ہوگئیں) آدم (علیہ السلام) (شرم کے مارے) درخت کے اندر داخل ہوگئے ان کے رب نے آواز دی تو کہاں ہے ؟ـ جواب دیا میرے رب میں یہاں ہوں۔ فرمایا کیا تو باہر نہیں نکلے گا ؟ عرض کیا اے میرے رب میں آپ سے شرم کرتا ہوں فرمایا زمین کی طرف نیچے اترجاؤ پھر فرمایا اے حواء تو نے میرے بندے کو دھوکا دیا تو نہیں اٹھائے گی کسی حمل کو مگر مشقت کے ساتھ اور جب تو اس بچے کو جننے کا ارادہ کرے گی جو تیرے پیٹ میں ہوگا تو کئی مرتبہ تو موت کے قریب ہوگی اور سانپ سے فرمایا تو نے اس ملعون کو اپنے پیٹ میں داخل کیا یہاں تک کہ اس نے میرے بندے کو دھوکہ دیا تو بھی ملعون ہے تیرے پاوں تیرے پیٹ میں ہوجائیں اور تیرا رزق صرف مٹی ہوگا تو دشمن ہوگا بنی آدم کا اور وہ تیرے دشمن ہوں گے جہاں تو ان میں سے کسی ایک کو ملے گا تو اس کی ایڑی کو ڈس لے اور ان میں سے کوئی تجھ سے ملے گا تو کچلے گا تیرے سر کو وہب ؓ سے پوچھا گیا کیا فرشتے اس درخت کا پھل کھاتے ہیں ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ کرتے ہیں جو چاہتے ہیں۔ 10:۔ حکیم ترمذی نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ سب سانپوں کو قتل کرو سوائے جان سانپ کے جو گویا سرمہ کی سلائی کی طرح ہوتا ہے کیونکہ وہ ان کا جن ہے وہ تم میں سے کسی کو تکلیف نہیں دے گا جو اسے قتل کرے خواہ ہو کافر ہو یا مسلمان ہو۔ 11:۔ بیہقی نے شعب میں ابوعبداللہ المغربی (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے آدم (علیہ السلام) کی شان کے بارے میں غور وفکر کیا اور عرض کیا اے میرے رب آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور اپنی روح میں سے اس کی روح کو پھونکا اور اپنے فرشتوں سے اس کو سجدہ کرایا پھر ایک لغزش کی وجہ سے ان کو لوگوں کے منہ بھر دیئے یہاں تک کہ وہ کہنے لگے (آیت) ” وعصی ادم ربہ فغوی “ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اے ابراہیم کیا جو جانتا ہے کہ حبیب کی مخالفت حبیب (یعنی اللہ تعالیٰ ) پر بہت سخت ہوتی ہے۔
Ayahs 20:123–126

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تم میں بعض بعض کے دشمن ہوں گے سو اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو سو جس نے میری ہدایت کا اتباع کیا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ شقی ہوگا۔

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جس شخص نے میری نصحیت سے عراض کیا سو اس کے لئے تنگی کا جینا ہوگا اور ہم اسے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھائیں گے کہ وہ اندھا ہوگا

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا کہ اے میرے رب مجھے آپ نے اندھا کرکے کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دیکھنے والا تھا

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات پہنچی تھیں سو تو انہیں بھول گیا اور آج تو بھلا دیا جائے گا۔

1:۔ طبرانی خطیب نے المتفق والمفترق میں اور ابن مردویہ نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح پڑھا (آیت) ” فمن اتبع ھدای “ قرآن کریم کی پیروی گمراہی سے بچاتی ہے : 2:۔ ابن ابی شیبہ، طبرانی، ابونعیم نے حلیہ میں اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب کا اتباع کیا اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں گمراہی سے ہدایت دیں گے اور قیامت کے دن اس کو برے حساب سے بچائیں گے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فمن اتبع ھدای فلا یضل ولا یشقی۔ “ 3:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شبیہ، عبد بن حمید، محمد بن نصر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، حاکم اور بیہقی نے شعب میں طرق سے (حاکم نے صحیح کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن کی تابعداری کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دنیا میں گمراہ ہونے سے یا آخرت میں بدبخت ہونے سے بچائیں گے پھر یہ (آیت) ” فمن اتبع ھدای فلا یضل ولا یشقی “ پڑھی فرمایا قرآن کا اتباع کرنے والے دنیا میں گمراہ نہیں کرے گا اور نہ آخرت میں بدبخت ہوگا۔ 4:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، مسدد نے مسند میں عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، حاکم اور بیہقی نے کتاب عذاب القبر میں (حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابوسعید خدری ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ (آیت) ” معیشۃ ضنکا “ سے مراد ہے قبر کا عذاب اور عبدالرزاق کے الفاظ یوں ہیں فرمایا اس پر قبر تنگ کردی جائے گی یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر ادھر ہوجائیں گی اور ابن ابی حاتم کے لفظ میں ہے کہ قبر کے ملنے سے (پسلیاں ادھر ادھر ہوجائیں گی ) ۔ 5:۔ بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” معیشۃ ضنکا “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ اس پر ننانوے اژدھے مسلط کردے گا جو اس کو قبر میں نوچیں گے۔ 6:۔ بزار اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فان لہ معیشۃ ضنکا “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ننانوے سانپ مسلط کردے گا جو قیامت کے قائم ہونے تک اس کا گوشت نوچتے رہیں گے۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ، بزار، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور حاکم نے دوسری سند سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” فان لہ معیشۃ ضنکا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے قبر کا عذاب مراد ہے۔ 8:۔ ابن ابی الدنیا نے ذکر الموت میں حکیم، ترمذی، ابو یعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن اپنی قبر میں گویا سبز باغ میں ہوتا ہے اور اس کی قبر اس کے لئے ستر ہاتھ کھل جاتی ہے اور روشن ہوجاتی ہے یہاں تک کہ چودھویں رات کے چاند کی طرح (روشن) ہوجاتی ہے کیا تم جانتے ہو کہ یہ (آیت) ” فان لہ معیشۃ ضنکا “ کس کے بارے میں نازل ہوئی ؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا (اس سے مراد ہے) کافر کا عذاب اس کی قبر میں اس پر ننانوے اژدھے مسلط ہوں گے کیا تم جانتے ہو تنین سے کیا مراد ہے ؟ (اس سے مراد ہیں) ننانوے سانپ ہر سانپ کے سات سر ہیں جو اس کے جسم کو کاٹتے اور ڈستے اور پھونکتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا اس دنتک جس میں لوگ اٹھائے جائیں گے (یعنی قیامت کے دن تک) 9:۔ ابن ابی حاتم طبرانی اور بیہقی نے کتاب عذاب القبر میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب میں تم کو کوئی حدیث بیان کرتا ہوں تو میں تم کو اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں بتاتا ہوں مومن جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو اس میں اس کو بٹلادیا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے تیرا رب کون ہے ؟ تیرا دین کیا ہے ؟ تیرا نبی کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ اس کو (جواب دینے میں) ثابت قدمی عطا فرمائے گا اور وہ کہے گا میرا رب اللہ ہے میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں تو اس کو قبرکو کشادہ کردیا جاتا ہے پھر اسے اس میں آرام و راحت عطا کردی جاتی ہے پھر عبداللہ ؓ نے یہ (آیت) ” یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ (ابراہیم آیت 27) پڑھی اور جب کافر مرتا ہے تو اس کو قبر میں بٹھا کر اس سے کہا جاتا ہے تیرا رب کون ہے ؟ تیرا دین کیا ہے ؟ تیرے نبی کون ہیں ؟ وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا تو اس پر قبر تنگ کردی جاتی ہے اور اس میں عذاب دیا جاتا ہے پھر یہ (آیت) ” ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا “ پڑھی۔ 10:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” معیشۃ ضنکا “ سے مراد ہے شقاء (یعنی مشقت ) ۔ 11:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” معیشۃ ضنکا “ سے مراد ہے دوزخ میں کافر پر شدت ہوگی۔ 12:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” معیشۃ ضنکا “ کے بارے میں بتائیے کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ” الضنک “ سے مراد ہے ہر طرف سے شدت پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : والخیل قدلحقت بنافی مارق ضنک نواحیۃ شدید المقدم : ترجمہ : اور گھوڑا ہم سے ملا پار ہونے والی ایسی جگہ میں کہ جس کے گوشے بہت تنگ تھے اور اگلے حصے بہت سخت تھے (اور شعر میں ضنک شدت اور تنگی کے معنی میں ہے) 13:۔ ھناد، عبد بن حمید، ابن منذر، طبرانی اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فان لہ معیشۃ ضنکا “ سے قبرکا عذاب مراد ہے۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 15:۔ عبد بن حمید اور بیہقی نے ابو صالح اور ربیع رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 16:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” المعیشۃ ضنکا “ سے مراد ہے خصم۔ 17:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” فان لہ معیشۃ ضنکا “ کے بارے میں فرمایا کہ تھوڑا ہو یا زیادہ پھر وہ اس میں میری اطاعت نہیں کرے تو اس میں کوئی خیر نہیں ہے معشیت میں ضنک (یعنی تنگی) ہے۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فان لہ معیشۃ ضنکا “ سے مراد ہے تنگی۔ 19:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” معیشۃ ضنکا “ یعنی معیشت میں تنگی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر وسعت فرماتے ہیں (اس طرح پر) کہ اس کی روزی کو حرام میں سے کردیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ میں بھی اس کی وجہ سے تنگی فرماتے ہیں۔ گناہوں کی نحوست سے دنیوی زندگی تنگ ہوجاتی ہے : 20:۔ ابن ابی حاتم نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” معیشۃ ضنکا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے رزق کو حرام میں منتقل فرمادیتے ہیں وہ حرام کھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ مرجاتا ہے پھر اس پر (حرام کھانے کا) عذاب ہوگا۔ 21:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے (آیت) ” معیشۃ ضنکا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے برا عمل اور ناپاک رزق۔ 22:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” معیشۃ ضنکا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد دوزخ کے کانٹے زقوم دوزخیوں کے جسم سے بہنے والی پیپ اور خار دار جھاڑی ہے قبر میں دنیا میں کوئی معیشت نہیں مگر آخرت میں معیشت اور حیات ہے۔ 23:۔ بہیقی نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” معیشۃ ضنکا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے تنگی کہ اس پر اس کی قبر تنگ کردی جائے گئی۔ 24:۔ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فان لہ معیشۃ ضنکا “ سے مراد رزق میں تنگی (آیت ) ’ ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی “ یعنی ہم اسے قیامت کے دن حجت سے اندھا کرکے اٹھائیں گے (آیت) ” قال رب لم حشرتنی اعمی وقد کنت بصیرا “ وہ کہے گا کہ میں دنیا میں دیکھنے والا تھا (آیت) ” قال کذلک اتتک ایتنا فنسیتھا وکذلک الیوم تنسی “ یعنی اسے آگ میں چھوڑ دیا جائے گا۔ 25:۔ ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے (آیت ) ’ ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کے لئے کوئی حجت نہ ہوگی۔ 26:۔ ھناد عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ (آیت ) ’ ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی “ کے بارے میں فرمایا کہ سوائے جہنم کے اسے کچھ بھی نظر نہ آئے گا اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ وہ نہیں دیکھے گا مگر آگ کو۔ 27:۔ ھناد نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لم حشرتنی اعمی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے کوئی حجت نہ ہوگی۔ 28:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) (آیت ) ’ اتتک ایتنا فنسیتھا “ کے بارے میں فرمایا کہ تو نے ہماری آیات پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا (دنیا میں) ّ (آیت) ” وکذلک الیوم تنسی “ اسی طرح آگ میں ڈال کر ہم تجھ کو بھول جائیں گے۔ (واللہ اعلم )
Ayahs 20:127–131

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح اسے سزا دیں گے جو حد سے گزر جائے گا اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے، اور یہ واقعی بات ہے کہ آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے اور بڑا دیرپا ہے

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

کیا انہیں اس چیز نے ہدایت نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی جماعتوں کو ہلاک کردیا یہ لوگ ان کے رہنے کی جگہوں میں چلتے پھرتے ہیں بلاشبہ اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور اگر آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے ایک بات فرمائی ہوئی نہ ہوتی۔ اور اجل مقرر نہ ہوتی تو لازمی طور پر عذاب آجاتا۔

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

سو آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور سورج کے نکلنے اور سورج چھپنے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح میں مشغول رہئے اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح پڑھیے اور ان کے اطراف میں بھی تاکہ آپ خوش ہوجائیں۔

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور آپ ہرگز ان چیزوں کی طرف اپنی آنکھیں نہ بڑھائیں جن سے ہم نے کفار کے مختلف گروہوں کو ان کی آزمائش کے لئے متمتع کر رکھا ہے جو ان کی بیویاں ہیں اور دنیاوی زندگی کی رونق ہے، اور آپ کے رب کا رزق بہتر ہے اور بہت دیرپا ہے۔

1:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک نجزی من اسرف “ سے مراد ہے جس نے شرک کیا۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افلم یھدلہم “ سے مراد ہے کیا ہم نے ان کے لئے واضح نہیں کردیا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افلم یھدلہم “ یعنی کیا ہم نے ان کے لئے بیان نہیں کیا (آیت) ” کم اھلکنا قبلھم من القرون یمشون فی مسکنہم “ جیسے قوم ثمود اور عاد اور جو ہلاک کئے گئے دوسری امتوں میں سے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی “ فرمایا اس کلام کی تقدیر اس طرح سے ہے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما “ (یعنی اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات طے شدہ) نہ ہوتی اور عذاب کی ایک میعاد متعین نہ ہوتی تو عذاب لازمی طور پر ہوجاتا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے اگر تمہارے رب کی طرف سے ان کے انجام کا فیصلہ ہوجاتا تو ان پر عذاب نازل ہوجاتا لیکن ہم نے انکو مہلت دی بدر کے دن تک اور وہ لازمی نتیجہ ہوتی اور اس کی تفسیر یہ ہے کہ (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی “ البتہ یہ قطعی فیصلہ ہوجاتا (اور لازمی طر پر عذاب آجاتا) فرماتے ہیں لیکن اس کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ 5:۔ ابن منذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ایک مدت مقرر ہوئی اور ایک بات تیرے رب کی طرف سے طے شدہ ہے (آیت) ” لکان لزاما واجل مسمی “ فرمایا کہ دنیا کی مدت مقرر ہے۔ 6:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لکان لزاما “ سے مراد ہے موت۔ 7:۔ عبدالرزاق، فریابی، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ وسبح بحمدہ ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا “ سے فرض نمازوں کے اوقات ہیں۔ 8:۔ عبدالرزاق، ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ وسبح بحمدہ ربک قبل طلوع الشمس “ سے فجر کی نماز مراد ہے ” وقبل غروبھا “ یعنی عصر کی نماز ” ومن انآئ الیل “ یعنی مغرب اور عشاء کی نماز ” و اطراف النہار “ یعنی ظہر کی نماز۔ 9:۔ طبرانی ابن مردویہ اور ابن عساکر نے جریر (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ’ ’ وسبح بحمدہ ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا “ میں ” قبل طلوع الشمس “ سے مراد ہے صبح کی نماز اور ” وقبل غروبھا “ سے عصر کی نماز مراد ہے۔ 10:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت ) ’ ’ وسبح بحمدہ ربک قبل طلوع الشمس ” وقبل غروبھا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ نماز کے فرض ہونے سے پہلے کا (حکم) ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا : 11:۔ احمد، بخاری، مسلم، ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابن حبان، اور ابن مردویہ نے جریر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ تم عنقریب اپنے رب کو دیکھو گے جیسے تم اس چاند کو دیکھتے ہو اس کے دیکھنے میں تم کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اگر تم طاقت رکھتے ہو اس بات کی کہ تم مغلوب نہ ہوجاؤ نماز پڑھنے پر سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے تو ایسا کرلو (یعنی نماز پڑھ لو) پھر یہ (آیت ) ’ ’ وسبح بحمدہ ربک قبل طلوع الشمس ’ وقبل غروبھا “ پڑھی۔ 12:۔ ابن ابی شیبہ، مسلم، ابوداود اور نسائی نے عمارہ بن رومیہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہرگز آگ میں وہ شخص داخل نہ ہوگا جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی۔ 13:۔ حاکم نے فضالہ بن وھب لیثی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا عصرین کی حفاظت کرو، میں نے عرض کیا عصرین کیا ہیں ؟ فرمایا وہ نماز ہے جو سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے کے وقت۔ 14:۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن انآئ الیل فسبح و اطراف النھار “ سے مراد ہے صبح کی نماز کے بعد اور سورج کے غروب ہونے کے وقت۔ 15:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لعلک ترضی “ سے مراد ہے وہ ثواب کہ جو اللہ تعالیٰ اس پر آپ کو زائد عطا فرمائے گا اور آپ اس سے خوش ہوجائیں گے۔ 16:۔ عبد بن حمید ابو عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لعلک ترضی ‘ تاء کے ساتھ پڑھا۔ 17:۔ ابن ابی شیبہ، ابن راھویہ، بزار، ابویعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، خرائطی نے مکارم الاخلاق میں اور ابو نعیم نے معرفہ میں ابو رافع ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک مہمان آیا لیکن آپ کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جو اس کے لائق اور مناسب ہو مجھے آپ نے یہود کے ایک آدمی کے پاس بھیجا کہ وہ ہم کو آٹا بیچ دے یا ہم قرض دے دے آٹا رجب کے چاند تک اس نے کہا قرض نہ دوں گا مگر رہن کے بدلے میں۔ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور ان کو خبر دی آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں آسمان میں امین ہوں اور زمین میں بھی امین ہوں اگر وہ مجھے قرض دے دے یا ادھار دے دے تو میں ضرور اس کو ادا کردوں گا میری لوہے کی ذرع لے جاؤ میں ابھی لے کر نہ گیا تھا کہ یہ آیت (آیت) ” ولا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منہم “ نازل ہوئی گویا کہ تسلی پا رہے ہیں دنیا میں۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تمدن عینیک “ سے رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی دی جارہی ہے۔ دنیا کی عیش و عشرت سے دل نہ لگانا : 19:۔ ابن ابی حاتم نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے تم پر جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے دنیا کی زیب وزینت کے دروازے کھول دے گا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! (آیت) ” زھرۃ الحیوۃ الدنیا “ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا زمین کی برکتیں۔ 20:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” زھرۃ الحیوۃ الدنیا “ سے مراد ہے دنیا کی زندگی کی زینت (آیت) ” لنفتنہم فیہ “ تاکہ ہم ان کو اس میں آزمائیں گے (آیت) ” ورزق ربک خیروابقی “ یعنی جن ظاہری نعمتوں سے یہ لطف اندوز ہورہے ہیں اس کی نسبت جو تمہارے رب کی عطا اور بخشش ہے وہ بہتر اور دائمی ہے۔ 21:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” ورزق ربک خیروابقی “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے جنت کا رزق مراد ہے۔ 22:۔ مرہبی نے فضل العلم میں زیاد الصدی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص علم کو طلب کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے رزق کا کفیل ہوتا ہے۔ 23:۔ مرہبی نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے علم کے طلب کرنے میں صبح کی تو اس پر فرشتے سایہ کرتے ہیں اور اس کی روزی میں برکت دی جاتی ہے اور اس کے رزق میں کمی نہیں ہوتی اور اس پر برکتیں ہوتی ہیں۔
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور آپ اپنے گھرو الوں کو نماز کا حکم کیجئے اور خود بھی اس کی پابندی کیجئے ہم آپ سے رزق نہیں چاہتے ہم آپکو رزق دیں گے اور بہت انجام پرہیزگاری کا ہے۔

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وامر اھلک بالصلوۃ “ یعنی اپنی قوم کو نماز کا حکم کیجئے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا نسئلک رزقا “ سے مراد ہے کہ ہم آپ کو تکلیف نہیں دیتے (رزق کے) طلب کرنے کی۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ جبکہ وہ اہل دنیا کے پاس جاتے تو ان کی دنیا کو ایک نظر دیکھتے جب اپنے اہل کی طرف لوٹتے تو گھر میں داخل ہو کر یہ پڑھتے (آیت) ” ولا تمدن عینیک “ سے لے کر ” نحن نرزقک “ تک پھر گھر والوں کو فرماتے نماز نماز (یعنی نماز پڑھو) اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ 4:۔ ابن مردویہ ابن عساکر اور ابن نجار نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت) ” وامر اھلک بالصلوۃ “ نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ صبح کی نماز (کے وقت) حضرت علی ؓ کے دروازہ پر آٹھ ماہ (مہینے) تک آتے رہے اور فرماتے الصلاۃ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے (آیت) ” انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا “ (الاحزاب آیت : 33) 5:۔ احمد نے زہد میں ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں ثابت ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ اپنے اہل و عیال کو نماز کے لئے بلاتے تھے جب آپ کے اہل و عیال کو بھوک پہنچتی تھی تو فرماتے نماز پڑھو نماز پڑھو ثابت ؓ نے کہا کہ انبیاء پر جب کوئی پریشانی آتی تھی تو نماز کی پناہ لیتے تھے۔ نماز سے پریشانیاں دور ہوتی ہیں : 6:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں اور عبد بن حمید نے معمر (رح) سے اور انہوں نے قریش کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اپنے ا ہل و عیال کو نماز کا حکم فرماتے تھے جب آپ کے ا ہل و عیال کو رزق کی تنگی پیش آتی تھی پھر یہ (آیت) ” وامر اھلک بالصلوۃ “ آپ نے پڑھی۔ 7:۔ ابوعبید سعید بن منصور، ابن منذر، طبرانی نے اوسط میں ابونعیم نے حلیہ میں بیہقی نے شعب میں سند صحیح کے ساتھ عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے اہل و عیال پر جب کوئی شدت یا تنگی آتی تھی تو آپ ان کو نماز کا حکم فرماتے اور آپ نے یہ (آیت) ” وامر اھلک بالصلوۃ “ تلاوت فرمائی۔ 8:۔ مالک اور بیہقی نے اسلم سے روایت کیا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ رات کو نماز پڑھتے تھے جب تک اللہ تعالیٰ چاہتے نماز پڑھیں یہاں تک کہ جب آخری رات ہوتی تھی تو اپنے اہل و عیال کو نماز کے لئے جگاتے تھے اور ان سے فرماتے تھے نماز نماز اور یہ آیت (آیت) ” وامر اھلک بالصلوۃ “ پڑھتے تھے۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ نے ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ابی ؓ نے فرمایا جب کوئی تم سے دنیا کی زیب وزینت اور اس کی چمک میں سے کوئی چیز دیکھے تو اپنے اہل و عیال کے پاس آئے اور ان کو نماز کا حکم کرے اور چاہئے کہ اس پر خود بھی صبر کرے (یعنی پابندی کرے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے فرمایا (آیت) ” ولا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجامنہم “ اور آیت کے آخر تک پڑھا۔ 10:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والعاقبۃ للتقوی “ سے جنت مراد ہے۔
Ayahs 20:133–135

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا کہ یہ شخص ہمارے پاس اپنے رب کی نشانی کیوں نہیں لاتا، کیا ان کے پاس پرانی کتابوں کا مضمون نہیں پہنچا

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم اس سے پہلے انہیں عذاب کے ذریعہ ہلاک کردیتے تو یہ کہتے کہ اے ہمارے رب آپ نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا جس کا ہم ذلیل ورسوا ہونے سے پہلے اتباع کرلیتے۔

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے سب انتظار کرنے والے ہیں سو تم بھی انتظار کرو۔ سو عنقریب جان لوگے سیدھے راستے والا اور ہدایت یافتہ کون ہے۔

1:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اولم تاتہم بینۃ مافی الصحف الاولی “ سے مراد ہے تورات اور انجیل۔ 2:ـ۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ ہلاک ہونے والا دو پیغمبروں کی آمد کے درمیانی زمانہ میں اور دیوانہ کم عقل اور پیدا ہونے والا بچہ کہے گا اے میرے رب میرے پاس کتاب اور رسول کیوں نہیں آیا اور یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولو انا اھلکنہم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لولا ارسلت الینا رسولا “ (الآیۃ) 3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الصراط السوی “ سے مراد ہے انصاف۔ الحمد اللہ سورة طہ مکمل ہوئی :